The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 3 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دروش ٹی ایم اے آفس کا بدست فوزیہ افتتاح، جنرل نشست کیلئے فوزیہ کو ٹکٹ دیا جائے۔۔عوام دروش

دروش( جہانزیب سے) پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے اور پارلیمانی سیکریٹری برائے سیاحت بی بی فوزیہ نے دروش میں ٹی ایم اے آفس کا گزشتہ دن باقاعدہ افتتاح کر دیا ۔ایم پی اے بی بی فوزیہ نے کہا ہے کہ پی ٹی ائی حکومت میں میرٹ پر ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں پی ٹی ائی کی مقبولیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔چترال دروش میں میگا پراجیکٹ لاوی ہائیڈو پاؤر پرجیکٹ ،جنجریت کوہ روڈ دروش میں متعدد سکولوں کی اپگریڈیشن ، دروش کو تحصیل کا درجہ اور ٹی ایم اے آفس کا ترجیہی بنیاد پر قیام، ٹی ایچ کیو ہسپتال دروش کی اپگریڈیشن جیسے بڑے بڑے پراجیکٹ شامل ہیں۔

ٹی ایم آفس کا دروش میں قیام کے بعد تحصیل دروش میں صفائی نظام کے ساتھ ساتھ عوام کے دوسرے ضروری کاموں میں بھی آسانی ہوگی۔ مختلف لائن ڈیپاڑمنٹ کے دفاتر بھی دروش میں کھولے جائیں گے۔

پی ٹی ائی تحصیل دروش کے صدر سمیع اللہ سمی نے ابتدائی تقریر میں پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے بی بی فوزیہ اور ضلعی رہنما پی ٹی ائی رضیت با اللہ کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا۔ شیشی کوہ سے زو الفقار نے علاقے کے پسماندگی اور علاقے میں حل طلب کاموں کو ایم پی اے کی نوٹس میں لایا جس میں لاوی ہائیڈو پاؤر پراجیکٹ میں مقامی لوگوں کی بھرتی کیساتھ ساتھ دوسرے اہم ایشو پر ایم پی اے بی بی فوزیہ کو اگاہ کیا گیا۔

اس کے بعد مختلف سیاسی پارٹیز سے تعلق رکھنے والے مقرریں قار ی جمال عبد الناصر،ممبر تحصیل کونسل شیرنذیر،صلاح الدین طوفانؔ ، ممبر تحصیل کونسل قاضی قسور اللہ قریشی ،سابق ڈسٹرکٹ چیرمین الحاج خورشید علی خان، سابق ناظم حیدر عباس، و سی فورم دروش صدر عمران الملک،تجار یونین صدحاجی ر شاد محمد،ڈرائیور یونین کے جنرل سیکٹری فاروق علی شاہ وغیرہ نے بھی پاکستان تحریک انصاف ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ، ایم پی اے فوزیہ اوررضیت با اللہ کے کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیے گئے۔اس موقع پر مقررین نے بی بی فوزیہ کے کارکردگی کو مد نظررکھتے والے پی ٹی ائی چیرمین عمران سے جنرل نشست کیلے بی بی فوزیہ کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

آخر میں ایم پی اے بی بی فوزنہ نے ائی ایس ایف دروش صدر انجینئر اظہار دستگیر اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر جواد کی موجودگی میں ائی ایس ایف ممبر شپ مہم کا بھی باقاعدہ افتتاح کیا۔ جبکہ اس موقع پر یونین کونسل شیشی کوہ کے عمائدین کے ایک بڑے وفد سے ملاقات میں ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بھی کی اور ساتھ ساتھ تحصیل دروش ناظمین فورم عمران الملک کے قیادت میں بی بی فوزیہ سے ملاقات کی۔
bibi fouzia drosh tma office iftitah 1

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , ,
8474

وزیر اعلیٰ کی طرف سے اپر ضلع کا اعلان، چترالیوں‌کے پاوں‌پر کلہاڑی مار دی..مولانا چترالی

Posted on

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ)پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر اعلیٰ نے چترال اور چترالیوں کے پاؤں پر کلہاڑی مار دی ہے پولو گراؤنڈ چترال میں وزیر اعلیٰ کا اعلان چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کر دیا چند دنوں میں نوٹیفیکیشن جاری کر کے بھیج دوں گا نہ ماننے والوں کے منہ پر دے ماریں لیکن افسوس ہے کہ ڈیڑھ ماہ بعد الیکشن کمیشن کے اجلاس میں نئے اضلاع پر پابندی کے بعد وزیر اعلیٰ کو یا د آیا اور آخر کار 28 دسمبر 2017 ؁ ء کیبینیٹ کے اجلاس میں چترالیوں کو لالی پاپ دینے کی ناکام کو شش کی گئی یو ں چترال اور چترالی ایک صوبائی سیٹ سے محروم ہوگئے جو خالصتًا وزیر اعلیٰ کی نااہلی اور صوبائی حکومت کا ہوم ورک نہ کر کے چترال کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ان خیا لا ت کا اظہار جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے نامزد امید وار برائے قومی اسمبلی اور سابق ایم این اے مولانا عبد الاکبر چترالی نے الیکشن کمیشن کے فیصلہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ چترال سے منتخب عوامی نمائندے بالخصوص رکن قومی اسمبلی مردم شماری کے دوران اور مردم شماری کے نتائج آنے کے بعد بھی کوئی کردار ادا نہ کر سکے انہوں نے کہا کہ 2018 ؁ء کے عام انتخابات میں چترالی عوام پی ٹی آئی کو سبق سکھائے گی اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو یاد دلائے گی کہ جھوٹے وعدوں کے کیا نتائج نکلتے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ پی ٹی آئی حکومت نے چترال اور چترالیوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا ہو ا ہے ۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , ,
8469

چترال میں ماہانہ پولیو مہم کا آغاز، چار دن تک جاری رہے گا ، ڈپٹی کمشنر نے قطرے پلاکر مہم کا افتتاح کیا

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال میں ماہانہ پولیو مہم 9اپریل سے شروع ہوکر چار دن تک جاری رہے گا جس کے دوران ضلع کے طول وعرض میں رہائش پذیر 70ہزار سے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائے جائیں گے جس کے لئے 505ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ نگرانی کے لئے 117ایریا انچار ج اور 26یوسی مانیٹرنگ افیسروں کے ساتھ ساتھ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے 70مانیٹرز بھی نگرانی کریں گے۔ مہم کا باقاعدہ آعاز باضابطہ آعاز اتوار کے روز ڈی سی چترال ارشاد سودھر نے اپنے دفتر میں متعدد بچوں کو پولیو کے خلاف قطرے پلاکر کیا جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر اسرار اللہ ، ایڈیشنل ڈی سی مہناس الدین، ڈی او فنانس محمد حیات شاہ، ڈبلیو ایچ او کے پولیوایریڈیکیش افیسر ڈاکٹر کمال بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ای پی آئی کے ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر ڈاکٹر فیاض رومی نے کہا کہ چترال کا افغانستان کے صوبہ کنڑ سے مشترکہ سرحد ہونے کی وجہ سے یہاں وائرس کا خطرہ موجود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چترال کا ضلع 1995ء سے پولیو فری ہے اور اس جان لیوا وائرس سے نمٹنے کے لئے غیر معمولی محنت اور فل پروف انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے اور اس علاقے کی وسعت کی وجہ سے مشکلات کے باوجود یہ کام بطریق احسن انجام دیا جارہا ہے۔
polio campaign chitral

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, مضامینTagged , , , , , ,
8465

چترال کے معروف ادیب و شاعر، گُل مراد خان حسرت کے افسانوں کا مجموعہ “چیلیکیو چھاغ “کی تقریب رونمائی

چترال ( محکم الدین ) چترال کے معروف ادیب و شاعر،ماہر تعلیم ،محقق اور کہنہ مشق قلمکار گُل مراد خان حسرت کے افسانوں کا مجموعہ “چیلیکیو چھاغ “کی تقریب رونمائی انجمن ترقی کھوار چترال کے زیر اہتمام ضلع کونسل ہال چترال میں اتوار کے روز منعقدہوئی ۔ اس پُر وقار تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر شفیق احمد جبکہ صدر محفل کے فرائض ممتاز ادیب و شاعر امین الرحمن چغتائی تھے ۔ چترال کے نا مور علمی وادبی شخصیت پروفیسر اسرارالدین ، مسلم لیگ ن کے رہنما اور شاعر زار عجم خان اعز ازی مہمان کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی ۔ تقریب کی نظامت پروفیسر ظہورالحق دانش نے کی ۔ جبکہ صدر انجمن ترقی کھوار شہزادہ تنویرالملک نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ کتاب پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے فرید احمد رضا ، ظہورالحق دانش ، عنایت اللہ اسیر ، پروفیسر ممتاز حسین ، محمد یوسف شہزاد ،ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ نے کہا ۔ کہ گُل مراد خان حسرت کی یہ کتاب کھوار افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے ۔ اور اس میں جو افسانے پیش کئے گئے ہیں ۔ وہ چترال کے معاشرے کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کھوار شاعری چترال میں اپنے عروج کو پہنچ چکاہے ۔ اور شعراء کے کلام کسی بھی زبان کے اعلی مقام کے حامل شعراء کے کلام سے کم نہیں ۔ لیکن افسانہ نگاری کی طرف چترال کے اُدباء نے بہت کم توجہ دی ۔ اسلئے اس کتاب کو افسانوں کی پہلی کتاب ہونے کا اعزازحاصل ہے ۔ انہوں گل مراد حسرت کی اس شاندار کاؤش کی تعریف کرتے ہوئے اسے چترال میں افسانہ نویسی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ افسانوں میں اصلاحی پہلو نمایاں ہیں ، اور نہایت سادہ اور اعلی الفاظ کا چناؤ کیا گیا ہے ۔ جو کہ قاری کو اپنی طرف مسلسل متوجہ رکھنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ادب برائے ادب کی بجائے ادب برائے زندگی ہونی چاہیے ۔ جس میں خامیوں کی نشاندہی برائے معاشرتی اصلاح کے ہو نہ کہ برائے تنقید ۔ پروفیسر اسرار الدین نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ چترال کی مٹی میں ایک کشش پایا جاتا ہے ۔ جو یہاں آتا ہے ۔ اسی کا ہوکے رہ جاتا ہے ۔ حالانکہ چترال سے بہت خوبصورت علاقے موجود ہیں ۔ لیکن چترال اپنے اندر مختلف النوع مناظر رکھنے اور مختلف کلچر میں رنگین ہونے کی وجہ سے سیاحوں اور ملکی و بیرونی اہل علم دانش کو بہت پسند ہے ۔ انہوں نے انجمن ترقی کھوار کے کردار کی تعریف کی ۔ کہ وہ اپنے محدود وسائل کے باوجود مختلف کتابیں شائع کرنے میں مدد دے کر زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ انجمن کو مالی طور پر مستحکم کرنے کیلئے ضروری ہے ۔ کہ جو کتابیں چھپ جائیں ۔ ممبران اُن کی خریداری کریں ۔ تقریب میں چترال کے پہلے ناول ‘انگریستانو”کے مصنف ظفر اللہ پرواز کی کوششوں کو سراہا گیا ۔ اور اس ناول کو چترال کی ادبی تاریخ کا قیمتی سرمایہ قرار دیا گیا ۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا ۔ کہ غذر کے کھوار بولنے والے بھائیوں نے بھی چترال کے حروف تہجی کو ہی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے غذر کے ایک شاعر کا مجموعہ انجمن ترقی کھوار کے زیر ادارت شائع کرنے اور چترال کے ممتاز ادیب محمد عرفان عرفان کی کتاب “چترال کے لوک گیت “پر بھی خوشی کا اظہار کیا ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ پاکستان کے تمام لکھاری اپنے افسانوں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ اور انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی ناہمواریوں کو اُجاگر کیا ۔ گُل مراد حسرت نے اپنے چند افسانوں کو اکھٹا کرکے قابل تعریف کام کیا ۔ تاہم مزید کام کی ضرورت ہے ۔ مہمان خصوصی پروفیسر شفیق احمد اور صدر محفل امین الرحمن چغتائی نے اپنے خطاب میں چیلیکیو چھاغ کو ایک کامیاب کاوش قرار دیا ۔ اور کہا ، کہ ادب کے بہت سے شخصیات اپنے افسانوں کی بنا پر زندہ ہیں ، جن میں پطرس بخاری ، قدرت اللہ شہاب جیسے نامور ادیب شامل ہیں ۔ انہوں نے انجمن ترقی کھوار کے دامن کو وسیع کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو زبان و ادب کے حلقے میں شامل کرنے ضرورت پر زور دیا ۔ تاہم انجمن کے صدر شہزادہ تنویرالملک کی کوششوں کو سراہا گیا ۔ صدر انجمن نے تقریب میں شرکت پر تمام کا شکریہ ادا کیا ۔ اور انجمن کی کوششوں پر روشنی ڈالی ۔ تقریب کے دوران انصار الہی نے نعت شریف پیش کی ۔ جبکہ افضل اللہ افضل ، فدالرحمن فدا نے نظم اور محمد اسلم شیروانی نے اشور جان پیش کرکے داد وصول کی ۔
صاحب کتاب گل مراد حسرت نے چیلیکیو چھاغ کی رونمائی کیلئے شاندار تقریب منعقد کرنے پر صدر انجمن اور دیگر عہدہ داروں کی تعریف کی . اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا.

afsana gul murad hasrat chitral 11

afsana gul murad hasrat chitral 3

afsana gul murad hasrat chitral 2 afsana gul murad hasrat chitral 4 afsana gul murad hasrat chitral 5 afsana gul murad hasrat chitral 6

afsana gul murad hasrat chitral 1

afsana gul murad hasrat chitral 2
afsana gul murad hasrat chitral 7

afsana gul murad hasrat chitral 8

afsana gul murad hasrat chitral 9

afsana gul murad hasrat chitral 13

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , ,
8448

شہید اسامہ وڑائچ کیرئیر اکیڈمی کے خلاف خفیہ گروپ سرگرم،نوٹس لیا جائیے..فداالرحمن

Posted on

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ ) شہید اسامہ وڑائچ کیرئیر اکیڈمی چترال کے خلاف ایک خفیہ گروپ سرگرم ہو چکا ہے – رات کو آکر اکیڈمی کے اشتہارات پھاڑ دیتے ہیں اور اکیڈمی کے بینرز اٹھا کر لے جاتے ہیں – شہید اسامہ وڑائچ کیرئیر اکیڈمی چترالی قوم کو معیاری تعلیم دینے اور مختلف کیرئیرز کے حوالے سے آگاہی پروگرامات کرا رہا ہے – دو سال کے قلیل عرصے میں اکیڈمی کے سٹوڈنٹس ملک کے مختلف بڑے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو چکے ہیں – جن میں آغا خان میڈیکل کالج، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور، کیڈٹ کالجز شامل ہیں –

یاد رہے کہ یہ اکیڈمی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی زیر نگرانی کام کر رہا ہے – شہید اسامہ وڑائچ کیرئیر اکیڈمی کے کوآرڈینیٹر فدا الرحمن پشاور سے چترال ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی اپنا عظیم مشن جاری رکھے گا -ہمارا مقصد چترال میں معیاری تعلیم مہیا کرنا اور چترالی طالب علموں کو مختلف کیرئیرز کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا اور انکی رہنمائی کرنا ہے -اسامہ وڑائچ کیرئیر اکیڈمی بہت ہی کم عرصے میں ترقی کے منازل طے کر رہا ہے – مخالفین کا اصل مقصد چترالی قوم کو آج کے جدید دور میں پیچھے ہی رکھنا ہے – اکیڈمی کی کامیابی ان کو ہضم نہیں ہو رہی ہے – کافی عرصہ سے یہ گروپ سرگرم ہے -کوآرڈینیٹر فدا الرحمن نے ڈپٹی کمشنر چترال اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چترال سے اس گروپ کے خلاف کاروائی کرنے اور قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے –

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , ,
8445

آج بھی ہو ابراہیم کا ایماں پیدا…………….. محمد شریف شکیب

ایک بین الاقوامی جائزے کے مطابق پاکستانی قوم ایمانداری، دیانت داری اورامانت داری کے اعتبار سے 200ممالک میں 160ویں نمبر پر ہے۔ اگرچہ یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ایمانداری میں 159ممالک ہم سے آگے ہیں لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ 40ممالک ہم سے بھی گئے گذرے ہیں۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہزاروں مدرسے ہیں۔جہاں قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی دین اور اسلام کی باتیں کی جاتی ہیں۔ہزاروں علماء دین کی تشریح کرتے پھیر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں سالانہ تبلیغی اجتماع ہوتا ہے جس میں پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ شرکت کرتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں تبلیغی جماعتیں تشکیل دی جاتی ہیں جو سال بھر ملک کے کونے کونے میں جاکر دین کی باتیں کرتے ہیں اور لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ لاکھوں لوگ ہر سال حج بیت اللہ اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے حجاز مقدس جاتے ہیں۔ ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوتے ہی ملک بھر میں محافل میلاد کا انعقاد شروع ہوتا ہے ۔ لاکھوں لوگ ان اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں۔ تمام عبادت گاہوں میں رمضان المبارک اور ربیع الاول کے علاوہ دیگر مہینوں میں بھی درس اور حفظ قرآن کی محافل و مجالس ہوتی ہیں۔ محرم الحرام میں لاکھوں افرادشہدائے کربلا کی یاد میں عزاداری کرتے ہیں۔ عید اور جمعہ کے اجتماعات میں کروڑوں افراد شرکت کرتے ہیں ان میں بھی خدا اور رسول کی باتیں کی جاتی ہیں۔لاکھوں افراد راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھتے ہیں۔ کروڑوں لوگ درود و سلام کی محافل میں شرکت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارا شمار بے ایمان، دروغ گو، بدعنوان اور بری اقوام میں ہوتا ہے۔اگر ان عبادات ، ذکر و اذکارکے باوجود ہم ایماندار نہیں بنتے تو ان عبادات کا فائدہ؟ظاہر ہے کہ ہم دین کا نام لے کر خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے کیونکہ وہ ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے ۔ وہ ہمارے دلوں کا حال جانتا ہے۔ مذہبی فرائض اور عبادات کے مقاصد بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ بے شک نماز بے حیائی اور منکرات سے روکتی ہے۔اگرپابندی سے نماز پڑھنے کے باوجود ہم بے حیائی سے باز نہیں آتے ۔ تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہم نماز پڑھنے کی پریکٹس تو کرتے ہیں ۔اس کا حق ادا نہیں کرتے۔ روزے کے بارے میں واضح طور پر قرآن کریم میں مذکور ہے کہ تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے کی امتوں پر فرض کئے گئے تھے۔تاکہ تم پرہیز گار بنو۔ جو انسان روزہ رکھنے کے باوجود پرہیزگار نہیں بنتا۔ جھوٹ بولتا ہے۔ مغلظات بکتا ہے۔ کسی کا حق مارتا ہے۔ ظلم سے باز نہیں آتا۔ اپنے گھر والوں، پڑوسیوں اور دیگر متعلقہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتا۔ تو روزے کے نام پر دن بھر بھوکا پیاسا رہ کر خود کو سزا دیتا ہے۔ قربانی کا ذکر قرآن میں واضح ہے کہ تمہاری قربانی کا گوشت یا خون اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچتا۔ بلکہ تمہارا خلوص، نیک نیتی، ایثار کا جذبہ اور قرب الی اللہ کی خواہش اللہ تک پہنچتی ہے۔ اگر قربانی کا مطلب بہت سے جانور خرید کر اپنی دولت کا رعب جمانا ہے۔ اور قربانی کا گوشت فریج اور ڈیپ فریزروں میں بھر کر دعوتیں اڑانا ہے تو وہ انسان اللہ کو نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دیتا ہے۔ ہم اپنے گریبان میں جھانک کر تھوڑی دیر کے لئے سوچیں کہ ہم خدا اور اس کے رسول کی کتنی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔اللہ کی نعمتوں کا کتنا شکر بجالاتے ہیں۔ جن کاموں سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا۔ ان سے خود کو کتنا دور رکھتے ہیں اور جن کاموں کی تلقین کی گئی ان کی بجاآوری پر کتنی توجہ دیتے ہیں۔اور منافق کی جو تین نشانیاں بتائی گئی ہیں کہ بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدے کرے تو اسے توڑ دے اور جب امانت اس کے پاس رکھی جاتے تو اس میں خیانت کرے۔ان میں سے کتنی نشانیاں ہم میں موجود ہیں۔ تو ہمیں اپنے بارے میں فیصلہ کرنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوگی کہ ہم کتنے اچھے مسلمان ہیں۔جب یہ طے ہوا کہ ہم اچھے مسلمان نہیں ہیں۔ تو پھر یہ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ہم پر منصف اور صالح لوگ حکومت کریں گے۔ ہم کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوں گی اور ہم پر رحمتوں کی بارش ہوگی اور فرشتے ہماری مدد کو آئیں گے۔علامہ اقبال نے بھی ہمیں یہی سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ’’ آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایمان پیدا۔۔ آگ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا۔پہلے ہمیں اپنی ذات کو منکرات سے پاک کرنا ہے۔ ہر شہری اپنی اصلاح کرے گا۔ تو محلے، شہر، صوبے اور پھر ملک کی سطح پر اصلاح ہوگی۔ دنیا والے اسلام کو سلامتی کا مذہب اور مسلمانوں کو صالح قوم تسلیم کریں گے۔اور ایمانداری میں ہم دیگر اقوام سے آگے نکل سکتے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
8443

پشاور بورڈ : تمام طلبا و طالبات اپنے سرٹیفیکٹس چترال کیمپ آفس سے فوری وصول کریں ۔۔آمین اللہ

Posted on

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے چترال کیمپ آفس کے انچارچ آمین اللہ نے چترال کے عوام الناس کو اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ یگولر اسٹوڈنٹس سال 2015سے میٹرک اور ایف اے ، ایف ایس سی کے اورجنل اسناد بورڈ آفس سے فوری وصول کریں ۔ چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے تمام سرکاری و نیم سرکاری سکولوں کے پرنسپلز ، ہیڈ ماسٹرز اور طلبا و طالبات کو سرٹیفکیٹس کے وصولی کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دفتر میں پڑے پڑے طلباء طالبات کے قیمتی سرٹیفیکٹس خراب ہونے کا خدشہ ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ پرائیویٹ طلبا و طالبات کے 1995سے 2017سیشن تک اور ریگولر طلباو طالبات کے 2015سے اب تک کے اورجنل سرٹیفکیٹس بورڈ آفس پہنچ چکے ہیں۔ لہذا فوری طور پر ان کی وصولی کو یقینی بنایا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ان سرٹیفکیٹ کیلئے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کیا جائیگا۔ انھوں نے مذید بتایا کہ کیمپ آفس کی طرف سے پہلے بھی کئی دفعہ اشتہار ات اور بینرز کے زریعے طلباو طالبات اور ان کے والدین کو اطلاع دئیے جاچکے ہیں.

chitral BISE camp office 5
chitral BISE camp office 53
chitral BISE camp office 2

chitral BISE camp office 1

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , ,
8430

سیاست میں ہم کہاں آگئے………….ولی اللہ چترالی

سنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں سیاسی بحث ومباحثے کا رواج صرف الیکشن کے دنوں تک محدود ہوتا ہے، اس سےہٹ کر نمائندے اپنا فرض منصبی انجام دیتے ہیں اورعوام اپنے منتخب نمائندوں سے ان کے وضع کردہ منشور کے مطابق اپنا حق طلب کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے ان کے ہاں باتوں سے زیادہ کام کا رواج ہے لیکن ہمارے ہاں معاملہ الٹا ہے۔ الیکشن کے زمانے میں سیاسی بحث و مباحثے ہوتے ہی ہیں اور ہونے بھی چاہئیں لیکن اس کے علاوہ بھی سارا سارا سال سیاست اور گالم گلوچ ایک دوسرے پر بلا جواز تنقید کا سلسلہ تواتر سے جاری رہتا ہے اور پھر یہ رجحان صرف لیڈروں کے مابین ہو تو کسی حد تک سمجھ میں آنے والی بات ہے کیونکہ ان کے درمیان مقابلے کی فضا ہوتی ہے لیکن غضب یہ ہے کہ عام کارکنان جن کا کام صرف ووٹ دینا ہے کے مابین بھی جنگ و جدال کا ماحول گرم رہتا ہے۔ خصوصا سوشل میڈیا کے عام ہونے کے بعد لفظوں کی یہ فضول گولہ باری صبح سے رات گئے تک مختلف محاذوں میں اخلاقی حدود کو پار کرتی نظر آتی ہے حالانکہ ان میں سے اکثر کی حیثیت چاہے وہ جس پارٹی میں بھی ہوں مجھ جیسے ایک روڈ چھاپ کارکن کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ جن کا واحد مصرف صرف جلسہ اور جلوس کی رونقیں بڑھانا ہے۔ اس ساری لفظی جنگ میں جو موضوع زیر بحث نہیں آتا وہ عوام کی فلاح و بہود ہے۔ حالانکہ یہ ساری لڑائی عوام کے نام پہ ہی لڑی جاتی ہے۔

یہ تلخ حقیقت ہمیں پلے باندھنی چاہئے کہ چاہے آپ کا تعلق جس پارٹی سے بھی ہو اگر کل کلان وہ پارٹی بر سر اقتدار آتی ہے تو سب سے پہلے لیڈر، اس کے بچے، عزیز و اقارب، پھر چمچے نوازے جائیں گے اور آپ کو ماسوائے اس جھوٹی خوشی کے کہ میری پارٹی کی حکومت ہے یا کسی وزیر یا ایم این اے کے ساتھ تصویر بنوانے کے اور کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔

کل کی ہی بات ہے یہی میاں نواز شریف صاحب پارلیمنٹ اور اپنے ایم این ایز اور وزیروں تک کو ٹائم دینے کے لئے تیار نہ تھے اور آج جب برے وقت نے لپیٹ میں لے لیا تو آئے دن کارکنوں کے درمیان دکھائی دے رہے ہیں اور پارلیمنٹ کا تقدس بھی انہیں شدت سے یاد آرہا ہے۔

باقی سیاسی رہنمائوں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ عمران خان صاحب کل تک زرداری کو ڈاکو کہتے رہے، پھر ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے لئے انہی “ڈاکو” کو ووٹ دے بیٹھے۔ پی ٹی آئی کے میرے بے چارے دوست اس حرام کے وقت بدلنے کے ساتھ حلال ہونے پر یقینا دل میں شرمندہ تو ہوں گے۔۔۔

اب پیپلز پارٹی کو دیکھ لیجئے۔ یہ پچھلے دس سال سے سندھ میں برسر اقتدار ہے۔ یہ اندرون سندھ کے حالات کیا سدھارتے، کراچی کا بھی کباڑا کر دیا اور ہر ہر محکمے میں کرپشن کی داستانیں قائم کیں لیکن انہیں پنجاب کی فکر کھائی جارہی ہے۔حالانکہ جس بھٹو کی یہ جماعت ہے، ان کی سوچ جمہوریت کے ساتھ کمٹمنٹ میں کھلی کتاب ہے، مگر آج انکے سیاسی جانشین غیر جمہوری قوتوں کی خوشنودی میں پنجاب فتح کرنے چلے ہیں اور مقتدر حلقے بھی ان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہوئے سندھ کے کرپشن کیسز سردخانے منتقلی کا پروگرام بنا چکے ہیں۔

تازہ واقعہ ہے، ہمارے جمعیت کے کچھ ساتھی جماعت اسلامی پر اور جماعت والے کچھ دوست ہم پر بے جا تبرا کرتے نہیں تھکتے تھے لیکن آج متحدہ مجلس عمل کے وجود میں آنے کے بعد وہ ایک جھنڈے تلے ووٹ کے حصول کے لئے جدوجہد کر رہے ہوں گے۔۔۔۔ سو سیاست اپنی جگہ کہ اس کی آنکھ میں حیا نہیں ہوتی لیکن ضمیر کے بوجھ تلے ضرور گھٹن محسوس کر رہے ہوں گے لہذا ندامت اور شرمندگی سے بہتر ہے کہ پہلے ہی الفاظ تول کر بیان کئے جائیں تاکہ کل شرمندگی اور خفت اٹھانا نہ پڑے، لہذا گزارش یہ ہے کہ اپنے موقف کو مہذب انداز میں کھل کر بیان کریں، اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ بھی شائستہ انداز میں اس کا اظہار کریں اور کسی پارٹی سے وابستگی بھی ہے تو ڈنکے کی چوٹ پر اس کا اظہار ہونا چاہئے لیکن اپنے مخالف نظریے والے بھائی اور دوست سے خواہ مخواہ اس حد تک بغض اور مخالفت کا بازار گرم کئے مت رکھیں کہ کل کو یہ لیڈر سیاست اور ملکی مفاد کے نام پر ایک ہی اسٹیج پہ ہاتھوں میں ہاتھ دے کر بیٹھے نظر آئیں تو آپ دوسری پارٹی کے اپنے جیسے کارکن سے جلسہ گاہ کی آخری صف میں بیٹھے ان رہنماوں کی خاطر لڑی جانے والی ماضی کے کسی لڑائی کی وجہ سے آنکھیں چار نہ کر سکیں۔

یہ فضول بحث و مباحثے نوجوانوں میں بکثرت عام ہیں۔ جن کو اس عمر میں اپنے مستقبل کا زاد راہ تیار کرنا ہوتا ہے لیکن وہ اپنے اس کے بجائے بے مقصد بحثوں میں اپنا قیمتی وقت برباد کرتے نظر آتے ہیں اور پھر نہ سوال کا ڈھنگ نہ جواب کا سلیقہ، مخص سنی سنائی باتوں کو لے کر ایک دوسرے کے رہنماؤں پر کیچڑ اچھالنے میں اخلاص کے ساتھ سرگردان نظر آتے ہیں۔

سوال ایشوز پر ہو اور جواب بھی اس زاویے میں آئے تو سننے اور دیکھنے والوں کے علم میں اضافے کا سبب ہوتا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ آپ ایک لیڈر کو چور بولیں، دوسرا جواب میں آپ کے لیڈر کو ڈاکو کہہ دے۔ یہ وقت کے ضیاع کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یاد رکھئے آپ کو بغیر فیس کی اس وکالت سے سوائے کل اپنا وقت برباد کرنے پہ ندامت اور پشیمانی کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔۔۔۔۔۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
8428

قندوزسانحہ……… بھارتی وحشیانہ کاروائی………. پیامبر…….. قادر خان یوسف زئی

معصوم بچوں کی مسکراہٹوں اور اُن سے وابستہ امیدیں کو اگر دیکھنا ہو تو اپنے جگر گوشوں کو اپنی نظروں کے سامنے بیٹھاکر اور اس کے فرشتے جیسے معصوم چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیکر اُس کا ماتھا چومیں تو دل میں اٹھنے والے سمندر کی لہروں سے بڑی شفقت و محبت آپ کی روح میں سر تا پیر دوڑ جائیں گی ۔ میں اس وقت اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کررہاہوں ۔ لیکن سانحہ اتنا بڑا ہے کہ میں اسے دوبارہ بیان کرنے کے لئے دلی تکلیف و ذہنی اذیت سے گذر رہا ہوں ۔گزشتہ دنوں افغانستان میں قندوز کے علاقے دشت آرچی پٹھان آباد ‘ میں امریکا و افغان فورسز و بھارتی ہیلی کاپٹروں نے کے ایک مدرسہ ’ ہاشمیہ عمریہ ‘ پرحملہ کیا ۔جہاں طالب علم ختم بخاری شریف کی تقسیم اسناد کی تقریب میں دستار فضیلت باندھے شریک تھے ۔ 150سے زاید معصوم احفاظ قرآن امریکا ،کابل و بھارت گٹھ جوڑ بربریت کا نشانہ بن گئے ۔ دہل دہلانے والی تصاویر اور ویڈیوز نے ہر انسان دوست کی آنکھوں کو اشکبار کردیا ۔ معصوم بچوں کا صرف یہ قصور تھا کہ یہ طالبان ( مدرسے کے طالب علم ) تھے ۔ جارح کے نزدیک ہر وہ شخص طالبان ہوتا ہے جو مدرسے میں تعلیم حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ سوویت یونین کے خلاف اٹھنے والی مزاحمتی تحریک بھی مدارس کے طلبا ( طالبان) نے اٹھائی تھی یہی وجہ ہے کہ امریکا و بھارت او ر مغربی بلاک کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو طالبائنزیشن سے نتھی کردیا جاتا ہے ۔

پاکستان میں بھی امریکی ڈرون حملوں میں کئی مدارس نشانہ بن چکے ہیں۔2007میں خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ ایجنسی میں ڈماڈولہ کے مقام پر امریکی حملے میں مدرسے کے80طالب علموں کو شہید کردیا گیاتھا۔ 2013میں بھی ہنگو کے ایک مدرسے پر امریکا نے فضائی حملہ کیا ۔ ڈما ڈولہ حملے کا جواز بتایا گیا کہ اس مدرسے میں خود کش حملہ آورو ں کی تربیت کی جا رہی تھی اور یہ مدرسہ خودکش حملہ آوروں کی تربیت گاہ تھا۔ ڈما ڈولہ کے مدرسے میں سینکڑوں خود کش بمباروں کی تیاری کی خبروں پر فرانس سے ڈرون حملوں پر تحقیقات کرنے والی ایک انوسٹی گیشن جرنلسٹ ٹیم پاکستان آئی اور ڈماڈولہ میں مدرسے پر ہونے والے ڈرون حملے کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا ۔ ان کے پاس سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع سے مہیا کردہ کچھ معلومات تھی ۔ ٹیم کے مطابق(جاں بحق) ایس پی چوہدری اسلم نے انہیں بتایا تھا کہ اس مدرسے میں کراچی سے تعلق رکھنے دو ایسے طالب علم بھی تھے جو اس حملے میں زندہ بچ گئے تھے باقی سب مارے گئے تھے ۔ ان بچوں کا تعلق پختون آبادیوں سے بتایا جارہاتھا۔ غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ مختلف اسائمنٹ پر کام کرنے کے تجربے کی بنا پر مجھ سے بھی رابطہ کیا گیا۔ فرنچ صحافیوں نے دو طالب علموں کے نام کے ساتھ مدرسے کا نام بھی بتایا لیکن ان کی معلومات قیاس آرائیوں پر مبنی تھی۔ لیکن میرے لئے یہ انکشاف حیران کن تھا ۔ راقم نے کئی روز کی تحقیق اور چوہدری اسلم سے رابطے و موصولہ معلومات کے بعد بالا آخر ایک بچے کا سراغ لگا لیا ۔پھر اُس بچے کے والد تک پہنچے ، بچے کا والد فٹ بال کوچ تھا۔ جو کراچی کے پوش علاقے میں کوچنگ کیا کرتا تھا ۔ بچے کے والد انٹرویوکے لئے اس شرط پر تیار ہوگئے کہ ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی ۔ ہم نے بھی وعدہ کرلیا ۔کراچی کے پوش علاقے میں بنے بنگلوز کے گیسٹ ہاؤس میں اس بچے سے ملاقات کی اور اس کے والد سے تفصیل سے سوالات پوچھے ۔ ڈرون حملے میں بچ جانے والے بچے نے بتایا کہ اس کے چچا نے والدین کی اجازت کے بغیر اُسے مدرسے میں داخل کرادیا تھا ۔ جہاں حملہ ہوا تو وہ بھی زخمی ہوگیا تھا ۔ زخمی بچے کی نشان دہی پر گرفتار ہوا اس کے خلاف قانونی کاروائی کی گئی اور اسے سزا بھی ملی تھی۔ فرنچ صحافی کے ساتھ راقم مہیا معلومات پر کراچی کے مخصوص مدارس گیا ۔ خاص طور اُن مدارس میں جن پر الزام تھا کہ وہ بچوں کی برین واشنگ کرتے ہیں ۔ ہم کئی بچوں اور ان کے والدین سمیت مدرسے کے اساتذہ سے بھی ملے ، اندرونی و بیرونی کئی مدارس کی تصاویر بھی اجازت و بنا اجازت بھی لیں ، لیکن کسی بھی مدرسے میں ایسے کوئی آثار نظر نہیں آئے کہ ان میں کوئی غیر قانونی طور پر ٹریننگ کیمپ بنا ہوا ہو۔ ساتھی صحافی مایوس تھے کہ انہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے تاہم ڈرون حملے میں بچ جانے والے طالب علم اور اس کے والد کا انٹرویو ان کے لئے کافی اہم تھا ۔

مدارس سے متعلق پھیلائی جانے متعدد افواہوں میں نہ جانے کتنی صداقت ہو ۔ لیکن دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ مدارس دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی نیٹ ورک ہے جہاں بھاری فیسوں کے بجائے صاحب ثروت افراد کی مالی امداد اور بعض مدارس کو حکومت کی جانب سے مالی اعانت ملنے کے سبب لاکھوں بچے ابتدائی تا مکمل دینی و عصری تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بلکہ ایسے کئی بیٹھک مدرسے بھی دیکھے جہاں مدراس کے اساتذہ دینی و عصری تعلیم دیتے اور حکومت سے منظور شدہ این جی اوز انہیں معمولی مالی معاوضہ بھی دیا کرتی۔ ایسے مدارس بھی دیکھے جہاں مولوی حضرات این جی اوز سے تنخواہ لیکر طالب علموں کو دینی و عصری تعلیم مفت فراہم کرتے ۔ جس سے ان کے گھریلو مالی حالات میں تبدیلی بھی آئی۔ عموماََایک مدرسے کے مولوی کی ماہانہ تنخواہ چھ سے پانچ ہزار روپے بتائی جاتی ہے۔ مجبوراََ وہ جمعہ و عیدین کی نماز کے بعد اپنے گھریلو اخراجات چلانے کے لئے نمازیوں سے چندہ اکھٹا کرتا ہے ۔ رمضان میں تراویح پڑھا کر آمدنی حاصل کرتا ہے۔ شہری علاقوں میں تو ہمارے پختون علاقوں کی طرح رواج نہیں ہے کہ جہاں امام مسجد کی دنیاوی ضروریات گاؤں کے رہائشی مل جل کر پورے کرتے ہیں۔ مدارس دنیا کی سب سے بڑی این جی او ہے جہاں لاکھوں طلبا و طالبات دن رات ہوسٹل میں رہتے ہیں اور دینی و عصری تعلیم کا حصول و تکمیل بلا معاوضہ پوری کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں شدت پسندوں نے حملہ کرکے 16دسمبر کو 150کے قریب معصوم بے گناہ طالب علموں کوشہید کرکے اپنی بربریت کا نشانہ بنایا ۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ شدت پسندوں نے متعدد اسکولوں کو بھی بارود خیز مواد مواد سے تباہ کیا ۔ افغانستان کے ایک ایسے اسکول کے پاس صاف پانی میں زہر ملایا دیا تھا جس میں طالبات زیر تعلیم تھیں ۔ زہر خوارنی کے سبب 150معصوم بچیوں کی حالت خراب ہوئی۔ اب تو افغانستان میں کابل فورسز نے خود ایسے سرکاری اسکولوں پر قبضہ کرکے چوکیاں بن لی ہیں جہاں عصری تعلیم دی جاتی تھی ۔ اب اگر ان مورچوں پر مزاحمت کار حملہ کرتے ہیں تو یہ اب سرکاری اسکول نہیں رہے بلکہ کابل و امریکی افواج کی مسلح چیک پوسٹ وچھاؤنی کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ لیکن ان واقعات کو ایسے عناصرسے جوڑ دینا مناسب نہیں ہے جو حقیقی طور پر اسلام کے امن و سلامتی کے پیامبر ہیں۔ قندوز میں نہتے اور بے گناہ احفاظ القرآن معصوم بچوں پر وحشیانہ بمباری کے لئے یہ جواز تراشنا انتہائی گمراہ کن پروپیگنڈا ہے کہ یہاں امارات اسلامیہ کے آئمہ اکرام بھی موجود تھے۔ قندوز میں امریکا، کابل اور بھارتی ہیلی کاپٹرز کے بے رحمانہ حملے میں تادم تحریر ایک بھی ایسا افغان طالبان رہنما زخمی و جاں بحق نہیں سامنے لایا گیا جو امریکی فوج کے نزدیک دستار فضلیت کی تقریب میں شریک تھا ۔ کابل، بھارت اور امریکی حکومت کی جانب سے اس قسم کی کاروائیوں سے افغانستان میں امن کبھی نہیں آسکتا ۔ کیونکہ ردعمل بھی بڑا سخت دیا جاتا ہے ۔

افغانستان میں عام انتخابات گزشتہ تین برسوں سے التوا کا شکار ہیں ۔ کابل حکومت نے اس برس اکتوبر میں عام انتخابات کرانے کا دوبارہ وعدہ کیا ہے ۔ لیکن قرائن و شواہد اظہر من الشمس ہیں کہ کابل حکومت جانتی ہے کہ ماضی کے دھاندلی کی بدترین تاریخ دہرائے جانے والے انتخابات کا انجام کیا ہوا تھا ۔ قیاس یہی کیا جاتا ہے کہ کابل حکومت افغانستان میں امن قائم ہی نہیں کرنا چاہتی اس لئے ازخودمسلسل ایسے واقعات کرائے جاتے ہیں جس سے دنیا میں پیغام جائے کہ افغانستان میں انتخابات کے لئے ماحول سازگار نہیں ۔ کابل حکومت اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لئے اتحادی افواج کو غلط معلومات دینے سے بھی گریز نہیں کرتی ۔ قندوز سانحہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔امریکی صدر نے شام کے حوالے سے اپنی افواج کو شام سے واپس بلانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے کہ شام کی مہنگی جنگ امریکی مفاد میں نہیں ہے ۔ لیکن افغانستان میں جنگ ، امریکی کی تاریخ کی مہنگی ترین لاحاصل جنگ ہونے کے باوجود کیونکر جارح ملک میں مفاد میں ہے اس کا جواب امریکی صدر ٹرمپ سمیت ان کے تمام اتحادیوں کے پاس نہیں ۔ معصوم بچوں کو بربریت کا نشانہ بنا کر کیا افغانستان میں امن کی خواہش اور افغان طالبان کو مذاکرات پر لانے کا ڈھونگ اپنے انجام کو پہنچ سکتا ہے۔یقیناََ نہیں ۔ خاص طور پر بھارت کے ہیلی کاپٹرز نے نہتے مسلم حافظ القرآن بچوں پر بربریت میں حصہ لیکر اپنے انتہا پسند سوچ کو مزید پھیلا دیا ہے جو خطے میں امن کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔یہیں سے واضح ہوجاتا ہے کہ امریکا کیوں چاہتا تھا کہ بھارت افغانستان میں اپنا کردار بڑھائے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
8424

داد بیداد ……… ڈاکٹر محمد نصیر الدین مرحوم ………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

خبر آئی کہ ڈاکٹر محمد نصیر الدین مدینہ منورہ میں وفات پاگئے اور جنت البقیع ان کی آخری آرام گاہ بنی تو ذہن کی سکرین پر اُن کی قابل رشک زندگی اور قابل رشک موت کے مناظر خیالی تصویر کی صورت میں نمودار ہونے لگے لمبا قد، دبلا پتلا جسم ، چہرے پر سدا بہار مسکراہٹ اور بشاشت ، گفتگو میں متانت اور چال ڈھال میں بے مثال شرافت کا نمونہ تھے سکول کی تعلیم میں میٹرک پاس کرکے دارالعلوم میں داخل ہوئے ، مولانا ایوب جان بنوریؒ کے پسندیدہ شاگر د تھے دارالعلوم سرحد سے شہادۃ العالمیہ کی سند لیکر واپس انگریزی تعلیم کی طرف مائل ہوئے، گریجویشن کے بعد یونیورسٹی میں داخل ہوئے پہلے ایم اے اسلامیات کیا پھر عربی میں ایم اے کیا، اس کے بعدفن حدیث میں تخصص کے ساتھ پی ایچ ڈی کیا خیبر پختونخوا کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے معتبر اور بزرگ اساتذہ میں آپ کا شمار ہوتا تھامختلف بورڈوں اور یونیورسٹیوں کے ممتحن تھے ان کی دیانت داری، امانت داری ، صداقت اور راستبازی ضرب المثل کا درجہ رکھنے والی صفات تھیں پروفیسر ڈاکٹر محمد نصیر الدین سابق ریاست کے مردم خیز گاؤں ورکپ تحصیل تورکھو میں 1947ء میں پیدا ہوئے کہا کرتے تھے کہ میری عمر اتنی ہی ہوتی ہے جتنی پاکستان کی عمر ہوتی ہے ان کا کنبہ علمی گھرانوں میں شمار ہوتا تھا ان کے والد الحاج محمد قاضی دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور ریاست چترال میں عہدہ قضا پرفائز تھے چترال خاص کے مقام جنگ بازار میں شاہی قبرستان میں مدفون ہیں بڑے بھائی حاجی محمد عرفان الدین نے درس و تدریس میں عمر گذاری چھوٹے بھائی حاجی محمد ظہیر الدین بابر سول سروس میں گئے ’’ہمہ خانہ آفتاب‘‘ والا محاورہ اس گھرانے پر صادق آتا ہے اُن کے پڑدادا مُلا محمد دین خود عالم تھے اور دادا ملاّ برہان الدین بھی عالم دین تھے ڈاکٹر محمد نصیر الدین کی شادی ایون چترال کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی آپ کے سسر قاضی صاحب نظام کا شمار چترال کے ممتاز علماء میں ہوتا تھا سیاست میں بھی ان کا بلند مقام تھا پاکستان کے ساتھ سابق ریاست چترال کے الحاق اور انضمام کی تحریک میں انہوں نے مولانا نور شاہدینؒ کے شانہ بشانہ کام کیا ان کی بذلہ سنجی، ادب دوستی ، ادب نوازی اور حاضر جوابی کے لطائف و ظرائف اب بھی زبان زدِ عام ہیں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ جن احباب کی رفاقت و صحبت رہی وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ بیحد نفیس طبیعت اور حلیم مزاج کے مالک تھے کالج کی سطح پر سزا کا تصور ذرا کمزور سا ہے اس لئے طلباء سرکشی پر مائل ہوتے ہیں بالائی حکام کا رویہ عموماََ ناموافق ہوتا ہے آپ نے کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں لایا ہشاش بشاش طبیعت کے باوجود آپکا علمی رعب و جلال ایسا تھا کہ طلباء آپ کے اشارے پر اپنی ’’ شرارتیں ‘‘ قربان کرتے تھے ڈائریکٹوریٹ سے آپ کو کبھی شکوہ نہیں رہا کیوں کہ ان کا ہر کام روٹین پر ہواروٹین سے ہٹ کر آپ نے کبھی کچھ نہیں مانگا کالج میں پرنسپلوں کے ساتھ کبھی ان بن نہیں ہوئی کیونکہ ڈیوٹی تدریس کی ہو، ہاسٹل وارڈن کی ہو یا کنٹرولر امتحانات کی ہو، آپ نے پرنسپل کو کچھ کہنے کا موقع نہیں دیااور یہ خوبیاں بہت کم لوگوں میں ہوتی ہیں کالج کی لائبریری ، سٹاف روم اور غلام گردشوں میں سازشیں اور شرارتیں پروان چڑھا کرتی ہیں ڈاکٹر ظہور احمد اعوان، پروفیسر سید تقویم الحق کاکاخیل اور پروفیسر شمشیر نے ایسے بے شمار واقعات کا تذکرہ اپنی کتابوں میں کیا ہے پروفیسر اقبال پراچہ نے بھی اپنی تحریر وں میں ایسے واقعات سے پردہ اُٹھایا ہے مگر ڈاکٹر محمدنصیر الدین نے کبھی اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں ڈالاوہ ’’ غیبت کلب ‘‘ سے دور رہتے تھے ، گپ شب کی مجلس میں کبھی نہیں بیٹھتے تھے البتہ راہ چلتے ، آتے جاتے یا کسی دفتری میٹنگ میں ہلکی پھلکی نوک جھونک سے ضرور لطف اندوز ہوتے نفسیات کی زبان میں ایسی شخصیت کے لئے انٹر و ورٹ (Intro-vert) کی ترکیب استعمال ہوتی ہے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے حیات آباد میں گھر بسا لیا برادر نسبتی صالح نظام کو یہ بستی پسند ہے آپ کے ہم زُلف حاجی مسلم الحق بھی حیات آباد میں تا حیات آباد ہیں عرصہ ایک سال سے آپ کی طبیعت نا ساز تھی ہسپتال سے گھر آنے کے بعد بیماری میں کبھی افاقہ ہوتا کبھی بیماری عود کر آتی پروفیسر حسام الدین ان سے ملنے جاتے تو سارے احباب کا احوال پوچھتے ٹیلیفون پر ان کے ساتھ بات ہوتی تو دیر تک دوستوں کا ذکر کرتے 24 مارچ کو عمرہ کی ادائیگی کے لئے حرمین شریفین کے سفر پر روانہ ہوئے اہلیہ اور منجھلے بیٹے محمد اطہر الدین کو ساتھ لیا ایک ہفتہ بعد مدینہ منورہ سے آپ کی وفات کی خبر آئی اپنی صداقت ، دیانت اور شرافت کی وجہ سے بلا شبہ اس اعزاز کے مستحق تھے کہ جنت البقیع آپ کو اپنی آغوش میں لے لے چنانچہ ایسا ہی ہوا ’’ پہنچی وہیںیہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘ اللہ پاک مرحوم کے درجات کو بلند کرے اور پسماندگان کو صبرجمیل کے ساتھ ترقی ، سرفرازی اور دین و دنیا کی کامیابیاں عطا فرمائے ( آمین) آپ کا بڑا بیٹا میجر محمد مظہر الدین آرمی ایوی ایشن میں ہے منجھلا بیٹا محمد اطہر الدین ، چھوٹا بیٹا محمد اظہر الدین دونوں ابھی تعلیم کے مراحل طے کررہے ہیں صاحبزادی بھی زیر تعلیم ہے پروفیسر ڈاکٹر محمد نصیر الدین اُن خوش قسمت لوگوں میں سے تھے جن کی زندگی نیک نامی سے عبارت تھی اور جن کی موت بھی قابل رشک قرار پائی ؂
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کوویران کر گیا
Doctor Naseeruddin chitral

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
8417

مسلم لیگ (ن) ضلع چترال کیلئے کابینہ تشکیل دیدی گئی

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ضلعی صدر نوید الرحمن چغتائی ایڈوکیٹ نے مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام اور مقامی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد پی ایم ایل (این) چترال کے لئے نئے کابینہ تشکیل دیا ہے۔ جس کے مطابق صفت زرین جنرل سیکرٹری، ساجد اللہ ایڈوکیٹ ایڈیشنل جنرل سیکرٹری، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ سیکرٹری اطلاعات ،زار عجم لال اورشوکت الملک سینئر نائب صدر ہونگے۔ ،حاجی محمد ظفر،راجہ محمد خان،امیر الرحمن چارویلو،معراج علی جان،عصمت اللہ ،ناصر علی شاہ،مولانا عمران احمد،،ظفر اللہ پرواز نائب صدور اور معراج الدین فنانس سیکرٹری مقرر کیے گئے ہیں۔ نئے کابینے کے ممبران اپنے عہدوں کا جلد حلف اُٹھائینگے۔
pmln chitral notification

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , ,
8411

چترال میں‌ریسکیو 1122کی سروس کا آغاز، ایم پی اے فوزیہ نے فتتاح کیا

Posted on

چترال(نمائدہ چترال ٹائمز ) ممبر صوبائی اسمبلی اور پارلیمانی سکریٹری برائے سیاحت بی بی فوزیہ نے کہا ہے کہ قدرتی آفات وحادثات کے مواقع پر متاثرین تک بر وقت پہنچنا اور اُنہیں سہولیات فراہم کرنے میں ریسکیو 1122 کا کردار قابل تعریف ہے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے چترال میں ریسکیو1122کے دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اُنہوں نے کہا کہ سکول،کالج کی سطح پر طلبہ اور طالبات میں قدرتی آفات مثلاًسیلاب،زلزلہ آتشزدگی اور مختلف قسم کے حادثات کے موقع پر حالات سے نمٹنے کے لئے تربیت دینے کی ضرورت ہے۔تاکہ اُنہیں آگہی مل سکے اور ایسے مواقع پر جانی نقصان کم سے کم ہوں۔ُنہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122کے جوان اپنی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر لوگوں کو سہولیات دے رہیں ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ 2015میں جب چترال کا طول و عرص قدرتی آفات کا شکار تھا اُس وقت وزیر اعلٰی KPKپرویز خٹک اور PTIقائد عمران خان نے چترال کا دورہ کرکے بونی کے مقام پر میرے مطالبے پر چترال اور بونی میں ریسکیو 1122کے قیام کا اعلان کیا تھا آج اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے جس پر چترال کے عوام اُن کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس محکمے میں جن چترالی بے روزگار نوجوانوں نے ٹیسٹ انٹرویو دئیے ہیں بہت جلد میرٹ کی بنیاد پر اُن کی بھرتیوں کا عمل شروع ہوگا۔ اسے قبل ریسکیو1122کے ڈائیریکٹر اپریشن محمد آیاز خان نے اپنی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ریسکیو1122کا قیام 2010 ؁کو عمل میں لایا گیا تھا۔ قدرتی آفات،حادثات اور بم دھماکوں میں سب سے پہلے پہنچ جانا اور متاثریں کو سہولیات فراہم کرنا ریسکیو1122کا کارنامہ ہے۔بین الاقوامی سطح پر ہماری خدمات اورکارکردگی کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ ہم نے سکولوں اور کالجوں میں لاکھوں افراد کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے تربیت دی ہے۔اب تک ایک لاکھ پچاس ہزار افراد کو مفت سہولیات پہنچا چکے ہیں۔ریسکیو1122کے اہلکار دن ہو یا رات ہر دم تیار رہتے ہیں اور اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر سات منٹوں کے اندر اندر متاثرہ لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔اس موقع پر تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس اور تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف نے بھی خطاب کیا اُنہوں نے اپنی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ ریسکیو1122میں اب تک مقامی چترالی بے روزگار نوجوانوں کو بھرتی نہ کرنا نہایت آفسوس کا مقام ہے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت رسیکیو 1122کے دفترات کے لئے الگ سے بلڈنگ کا بندوبست کرنے پر زور دیا۔اس سے قبل مہمان خصوصی بی بی فوزیہ نے فیتہ کاٹ کر دفتر کا با قاعدہ افتتاح کیا۔
Rescue Chitral 1122 iftitah fouzia mpa 1

Rescue Chitral 1122 iftitah fouzia mpa 2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , ,
8394

پشا ور چڑ یا گھر وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک کے ایک اور وعدے کی تکمیل….. تحریر: یاسمین ارشد

تحریر: یاسمین ارشد
ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا
تفر یح ایک فطر ی ضر ورت ہے جو روزمر ہ کی سر گر میوں سے تھکے ہو ئے انسا ن کو کا روبا ر زند گی کیلئے پھر سے تا زہ دم کرکے فعا ل کر دار ادا کر نے کے قا بل بنا تی ہے لیکن تفر یح کیلئے مو زوں تفر یحی مقا م کا ہو نا لا زمی ہے جہا ں انسان خو بصو رت اور صحت افزا نظا روں کا مشا ہدہ کر ے، نئے مقا مات دیکھے اور نئے تجر بو ں سے گز رے۔ کچھ تفر یحی مقا ما ت ایسے ہو تے ہیں جہا ں قد رتی منا ظر کی فرا وانی انسا نو ں کو شہر کے شو ر و غل سے دور لے جا کر فطر ت سے قر یب کر دیتی ہے۔ لو گ ایسے مقامات دیکھنے کے آرزو مند ہو تے ہیں اور تجسس کا یہ احسا س انہیں نئے نئے مقا ما ت کی طر ف راغب کرتا ہے جہا ں وہ حسین قدر تی نظاروں سے پو ر ی طر ح لطف اندوز ہو تے ہیں۔

Peshawar zoo chilya ghar kp govt 1
پا کستا ن تحر یک انصا ف کی حکو مت نے صو بہ خیبر پختو نخوا کی بحا لی تر قی اور خصو صا پشا ور کی خو بصو رتی کا تہیہ کر رکھا ہے اور پشا ور میں چڑ یا گھر کے منصو بے کی تکمیل حکو مت کے اس عز م کا عملی ثبو ت ہے۔ صوبا ئی حکو مت نے طو یل عر صے سے تجا ویز کی حد تک محدود چڑ یا گھر کے منصو بے کو عملی شکل دینے کا اعزاز حا صل کر لیا ہے۔ راحت آباد پشاور میں واقع یہ چڑیا گھر اہلیا ن پشا ور کیلئے ایک تحفہ ہے۔ ما حو ل کی آلو دگی سے دور پر سکو ن علا قے میں اس منصو بے کو پشا ور کی تر قی اور مثبت تبد یلی کی سمت خو شگوار قد م قرا ر دیا جا سکتا ہے جس کو وقت کے ساتھ ساتھ تر قی دی جا تی رہے گی۔ تا ریخی دستا ویزات سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کا پہلا چڑ یا گھر چینی حکمرا نوں نے 1100 قبل مسیح میں بنا یا تھا جبکہ پہلا چلتا پھر تا چڑیا گھر بر طا نو ی حکمرا ن ہنر ی اول نے قا ئم کیا تھا بعد ازاں ٹا ور آف لند ن کے نز دیک ایک مستقل چڑ یا گھر قائم کر کے شا ہی مجمو عہ وہا ں منتقل کر دیا گیا۔ یہ چڑ یا گھر 1928 تک مو جو د رہا جس کے بعد ریجنٹس پا رک میں لند ن زو قا ئم کیا گیا جسے بر طا نیہ کا پہلا چڑیا گھر ہو نے کا اعزاز حا صل ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا چڑ یا گھر بر ونکس زو ہے جو نیو یا رک میں واقع ہے جبکہ دنیا کا سب سے بڑا اور انو کھا زوالو جیکل گا رڈن ما لٹازوا لو جیکل گا رڈن ہے، ٹو کیو کا چڑیا گھر ایسا انوکھا چڑیا گھر ہے جہا ں شیر آزادانہ چہل قد می کر تے ہیں جبکہ یہ نظا رہ سفا ری پا رکو ں کے علا وہ کسی اور چڑیا گھر میں نہیں دکھا ئی دیتا۔ جا نو روں میں انسا ن کی دلچسپی اور ان سے تعلق اتنا ہی قد یم ہے جتنی کہ انسا نی تا ریخ ۔ 400 قبل مسیح میں ارسطو نے جا نو روں کے با رے میں تحقیق کی اور حیو ا نا ت پر پہلی انسا ئکلو پیڈیا لکھ کر نہ صر ف انسا نو ں کی جا نو روں میں دلچسپی کا ثبو ت پیش کیا بلکہ آنے والی نسلو ں کے لئے جا نو روں سے متعلق قا بل قد ر تحقیقی مواد اور معلو ما ت فرا ہم کیں۔ پا کستا ن کے شہروں خصو صا اسلا م آبا د، لا ہو ر اور کراچی میں مو جو د چڑیا گھر لو گو ں کی تو جہ کا مر کز ہیں۔ لا ہو ر کا چڑیا گھر 1872 میں پا کستا ن کے صوبہ پنجا ب میں قا ئم کیا گیااور برا عظم ایشیا ء کے بڑے چڑیا گھروں میں اسکا شما ر کیا جا تا ہے جب لا ہو ر کا چڑیا گھر بنا تو لعل

ما ہندارا م نے چڑیا گھر کیلئے پر ند ے فرا ہم کئے۔ جو ں جو ں وقت گزرتا گیا انکی تعداد اور اقسا م میں اضا فہ ہو تا گیا اور اب اس چڑیا گھر میں
پرندوں اور مختلف اقسام کے جانوروں کے علا وہ نباتاتی باغ بھی موجود ہیں۔

Peshawar zoo chilya ghar kp govt 5

دنیا کے اکثر شہروں میں چڑیا گھر مو جو د ہیں جہا ں جا نو روں کی حر کا ت و سکنا ت اور عا دات کا نہا یت قر یب سے مطا لعہ کیا جا تا ہے۔ بچو ں کیلئے چڑیا گھر کی سیر ایک دلچسپ تفر یح ہو تی ہے جس سے وہ بے حد لطف اندوز ہو تے ہیں ۔ آج کے دور کا ہر انسا ن ذہنی دبا ؤ اور تنا و کا شکا ر ہے۔ ایسے میں لو گ چھٹی کے دن اپنی فیملی یا دوست احبا ب کے ہمراہ پر کشش مقا ما ت پر جا کر کچھ وقت سکو ن کے ساتھ گزارنے میں راحت محسو س کر تے ہیں۔ پشاور میں تفر یح کے لئے پا رک تو بہت ہیں جیسے ڈیفنس پا رک، وزیر با غ، چا چا یو نس پا رک، گر یژن پا رک، با غ نا ران، تا تا را پا رک وغیر ہ جو عوام کیلئے دلچسپی کا سا ما ن مہیا کرتے ہیں لیکن پشاور کے با سی چڑیا گھر کی تفر یح سے محروم تھے۔ نو شہر ہ پا رک میں کچھ جا نو راور پر ندے لو گو ں کی دلچسپی کیلئے رکھے گئے ہیں جن کا مقصد تفر یح کو فر وغ دینا ہے لیکن با قا عدہ ایک ایسے چڑیا گھر کی کمی تھی جس میں جا نو ر اور پر ندے آزادانہ گھو م سکیں، لو گ انہیں قر یب سے دیکھیں اور خو شی محسو س کر یں۔

12 فروری 2018 کوخیبر پختو نخوا کے وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک نے بچو ں اور بڑوں کیلئے تفر یح کا احسا س کر تے ہو ئے چڑیا گھر کے منصو بے کا با قا عدہ افتتا ح کیا۔ پشاور میں پلو سی روڈ پر پا کستا ن فا رسٹ انسٹی ٹیو ٹ کی حدود میں واقع چڑیا گھر خیبر پختو نخوا کے عوا م کیلئے بیش بہا تحفہ ہے یہ پا کستا ن کا پہلا چڑیا گھر ہے جسے ایک جا مع پلا ن کے تحت بین ا لا قوامی معیا ر کے مطا بق تعمیرکیا گیا ہے۔ 29 ایکڑ کے وسیع رقبے پر پھیلا ہو ا یہ چڑیا گھر اپنی نو عیت کا ایک منفرد منصوبہ ہے جو لا ہو ر اور اسلا م آبا د میں مو جو د چڑیا گھرو ں سے بھی رقبے کے لحا ظ سے وسیع ہے۔ اس منصو بے کی تخمینہ لا گت 2100 ملین روپے ہے۔ اس کیلئے 270 ملین روپے کے نا یا ب جا نو ر مختلف مما لک سے پہنچنا ابھی با قی ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختو نخوا پر ویز خٹک کی جا نب سے پشاور کی خو بصورتی کو دو با لا کر نے کیلئے یہ چڑیا گھر کا قیا م نہ صرف بچو ں کیلئے خو شی، تفر یح اور مسرت کا با عث بنا ہے بلکہ عوام اور طلبا ء کیلئے جا نو روں سے متعلق تحقیقی مواد اور معلو ما ت کا ذریعہ بھی بنے گا۔ چڑیا گھر کے قیا م سے تفر یحی سہو لیا ت کے علا وہ حیا تیا تی تحقیق کے فروغ میں بھی مدد ملے گی ۔ سیر و تفر یح کیلئے آنے والے لو گو ں کو مزید سہو لیا ت دینے کیلئے اس کے قر یب دو رویہ سڑ ک کی منظو ری دی گئی جس سے آمدورفت میں آسا نی پیدا ہو گئی ہے۔

پشا ور کے چڑیا گھر میں داخل ہو نے کے راستہ کو خوبصو رت جا نو روں کے مجسمو ں سے آراستہ کیا گیا ہے اس کی خو بصو رتی اور دلکشی خصو صاً ننھے بچو ں کو اپنی طر ف کھینچتی ہے اور وہ خو شی سے سر شار ہو کر دوڑتے ہو ئے چڑیا گھر میں داخل ہو تے ہیں۔ یہ نظارہ دیکھ کرصو بہ خیبر پختو نخواکے وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک کے اس شا ہکا ر منصوبے کو داد دینے کو دل چا ہتا ہے کیونکہ پشا ور کے با سیو ں کے لئے خو بصو رت چڑیا گھر کایہ انمول تحفہ ہے جوصو بے کے عوام کیلئے خو شی کی علا مت بن گیا ہے ۔چڑیا گھر میں داخل ہو نے کیلئے خواتین و حضرات کیلئے علیحدہ علیحدہ گیٹ بنا ئے گئے ہیں جن میں خو اتین اور بچو ں کو اندر جا نے میں کسی دشو ار ی کا سا منا نہیں کر نا پڑتا۔ گیٹ کے اندر داخل ہو تے ہی ایک وسیع رقبے پر پھیلا سر سبز و شاداب چڑیا گھر آپ کی خو شی کو دوبا لا کر تا ہے۔ 29 ایکڑ رقبے پر پھیلے چڑیا گھر کا ڈ یڑھ سا ل کے قلیل عر صے میں قیام عزم اور عمل کی منہ بو لتی تصو یر ہے اس کی تزئین و آرائش کے کام کی تکمیل جا ری ہے چڑیا گھر میں جا نو روں اور پر ندوں کیلئے

Peshawar zoo chilya ghar kp govt 8

خو بصورت 10 کیجیز بنا ئے گئے ہیں جن میں مختلف قسم کے جا نو ر جن میں پر ند ے شیر، چیتا، بندر، مار خور، ہر ن، اونٹ، چکو ر، شتر مر غ ، تتلیا ں اور طو طوں کے علاوہ مختلف چرند پر ند قدرتی ماحو ل میں جمع کئے گئے ہیں۔ ان میں زیا دہ تر پا کستا ن کے مختلف شہروں لا ہو ر، چترا ل وغیرہ سے خر یدے گئے ہیں جبکہ زرافہ اور ہاتھی افریقہ سے منگوائے جا رہے ہیں ۔ ان جانوروں اور پرندوں کی تعداد میں اضافے کی بھی توقع ہے۔ اکثر چڑیا گھر وں میں دیکھا جاتا ہے ہے کہ جانور لوہے کے بڑے بڑے پنجرورں میں قید ہوتے ہیں جو بے بسی اور لا چاری کی منہ بولتی تصویر دکھائی دیتے ہیں اس لحاظ سے پشاور کے وسیع رقبے پر بننے والے چڑیا گھرمیں جانوروں اور پرندوں کے آزادانہ گھومنے کیلئے اچھا ماحول فراہم کیاگیا ہے ۔ جانوروں کیلئے پنجرووں کا نقشہ اس طرح تیار کیا گیا ہے ۔ جہاں ان کے آرام کرنے اور چھپنے کی مناسب جگہیں موجود ہیں ۔جانور سارا دن ٹہل ٹہل کر گزارتے ہیں اور جب تھک جاتے ہیں تب انہیں آرام کرنے کیلئے تنہائی درکار ہوتی ہے۔ ایسے میں انہیں جنگل جیسی کسی ایسی جگہ کی تلاش ہوتی ہے جہاں وہ کچھ وقت سکون سے گزار سکیں کیونکہ وہ جنگل میں صاف ستھرے اور خاموش ماحول کے عادی ہوتے ہیں اس لئے انہیں مصنوعی جنگل جیسی سہولیتیں درکار ہوتی ہیں ورنہ بصورت دیگر لوگوں کو پژمردہ جانور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جانوروں اور پرندوں کو پنجروں میں تفریح کا سامان بھی مہیا گیا ہے پشاور کے چڑیا گھر میں بچوں اور بڑوں کی تفریح اور خوراک و طعام کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔ یہاں کیفے ٹیریا، ٹک شاپس،واکنگ ٹریک، چلڈرن پارک بھی بنائے گئے ہیں اور سفاری زو کے نام سے گاڑیاں بھی موجود ہیں جو تفریح کرنے والوں کو آرام وسہولیات فراہم کرینگی۔
چڑیا گھر کی سیر کیلئے آنے والے جب تفریح کرکے تھک جائیں تو تھکاوٹ دور کرنے کیلئے خوبصورت لان بنائے گئے ہیں۔ جہاں بیٹھ کر خوبصورت نظاروں سے لطف اندورز ہو سکتے ہیں اس کے اندر مناسب اور معیاری ریسٹورنٹ موجود ہیں جہاں بازار کی نسبت سستی اور معیاری خوراک کا بھی انتظام کیا گیا ہے جن میں چکن بروسٹ ، برگر، شوارما، پیزہ ، سموسے ، پکوڑے ، دھی بھلے، گول گپے، کول ڈرنکس، منرل واٹر اور چائے وغیرہ شامل ہیں ۔ پینے کے پانی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے اور مختلف جگہوں پر واٹر کولر رکھے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ خواتین حضرات کیلئے مختلف جگہوں پر علیحدہ علیحدہ واش روم بنائے گئے ہیں۔ ایڈمن آفیسر نعمت اللہ صاحب نے راقم کو بتایا کہ چڑیا گھر میں ایمرجنسی کی صورت میں فوری طبی امدادکیلئے کلینک اورمیڈیسن سٹور بھی موجود ہے ۔ انہوں نے مزید بتایاکہ گاڑیوں کی پارکنگ کیلئے ایک پلازہ تعمیر کیا جا رہا ہے جس پر کام جاری ہے۔ چڑیا گھر میں صفائی کا خصوصی خیال رکھاگیا ہے صاف ستھری گزر گاہیں اور صاف شفاف پارک ہیں نعمت اللہ صاحب نے بتایا کہ یہ 2020 تک پوری طرح مکمل ہونے والا منصوبہ ہے اور اس میں اب تک صرف 30 فیصد کام ہوا ہے۔ اسکی تزین و آرائش کا کام ابھی جاری ہے جسمیں وقت کیساتھ ساتھ نکھار آتا رہے گا۔

چڑیا گھر کے اندرواکنگ ٹریک کو دیکھا تو خیال آیا کہ کیا ہی اچھا ہوگا اگر اس ٹریک کی جگہ ایک خوبصورت ندی بنائی جائے راقم تجویز کی صورت میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتی ہے کہ مجوزہ ندی اتنی ہی جگہ گھیر تی ہے جتنی جگہ پر یہ ٹریک بنا ہے۔ اور اس ندی کے دونوں اطراف کو سر سبز و شاداب بنا کر مصنوعی جانوروں ، مصنوعی پرندوں ، درختوں، پھولوں ،، بیل بوٹوں ،

خوبصورت جھاڑیوں ، چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں، خوبصورت پتھروں سے سجایا جائے۔ اس ندی کے کناروں کو ہمارے کلچر کے نمونوں سے آراستہ کیا جائے اسی طرح چھوٹی خوبصورت کشتیوں کو ندی میں چلا کر تفریخ کیلئے اس کودلچسپ بنایا جائے تا کہ وہ نہ صرف ندی کے اجلے پانی میں چلتی ہوئی کشتی کا لطف اٹھائیں بلکہ ارد گرد کے پھیلے ہوئے ان خوبصورت نظاروں کو اور کلچر کے منا ظرے کو دیکھ کر بین الاقوامی سفاری (Safari World )ورلڈ کا مزہ اٹھا سکیں ۔ بنکاک چڑیا گھر کے دورے کے موقع پر وہاں کی سفاری ندی کے منظر نے راقم کو بہت متاثر کیا ۔ جس میں تفریح کے ساتھ بنکاک کی ثقافتی زندگی کی خوبصورت منظر کشی کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کے پنجروں کے اندر درختوں کی شاخوں کو خوبصورت رنگوں سے سجا کر پنجروں میں رکھا جائے۔ پنجروں کے اندر پتھروں سے چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بنائی جائیں اس کے اندر درخت لگائے جائیں اور اسکی زمین کو سر سبز بنایا جائے۔ اس سے اس کی اندرونی خوبصورتی کو چار چاند لگ سکتے ہیں ہر جانور کے پنجرے کے باہر اسکا آرٹیفیشل مجسمہ بنا کر لگایا جائے تا کہ دور سے دیکھ کر معلوم ہو سکے کہ اس میں کون سا جانور یا پرندہ ہے۔

Peshawar zoo chilya ghar kp govt 6

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک عوامی شکایات کو اپنی مصروفیات پر ترجیح دیتے ہیں اور یہ اس کا ثبوت ہے کہ وہ اس عظیم منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے وقتاً فوقتاً چڑیا گھر کے اچانک دورے کرکے منصوبے پر کام کا جائزہ لیتے ہیں اور اس میں مزید بہتری کیلئے ہدایات بھی دیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی خصوصیت ہے کہ وہ طویل المعیاد منصوبوں کو مختصر وقت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کا گربخوبی جانتے ہیں۔

12 فروری 2018 کو اس منصوبے کے افتتاح کے بعد لطف اٹھانے والے شہریوں نے چڑیا گھر کے پرندوں اور جانوروں کی جسطرح پزیرائی کی وہ لطف کی بجائے جانوروں کی ایزا رسانی اور چڑیا گھر انتظامیہ کی پریشانیوں میں بدل گئی۔
کون باشعور انسان ہوگا جو معصوم جانوروں کو کنکریاں اور پتھر مارے اور انہیں خوفزدہ کرے۔مہذب انسان اور ایک اچھے شہری ہونے کے ناطے ہم سبکو جانوروں کی حفاظت اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤکرنا چاہئیے

پاکستان کی سرزمین دلکش مناظر سے آراستہ ہے اور وسیع حیاتیاتی انواع کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے جہاں نگاہوں کو راحتیں بانٹنے میں قدرت اتنی فیاض ہو وہاں مرجھائے ہوئے چہروں پرخوشیاں بکھیرنے میں ہم کیوں بخل سے کام لیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اورصوبائی قیادت خصوصاًوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے وقت کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی تبدیلیوں کے جو وعدے کئے وہ تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مصروف ہیں اور ہماری دعا ہے کہ یہ حکومت جب اپنی مدت پوری کرے تو خیبر پختونخوا ایک ماڈل صوبے کی حیثیت اختیار کرچکا ہو۔آمین

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
8384

انجمن ترقی کھوار، کھواراہل قلم اور مئیر کے اشتراک سے چترال میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا گیا

چترال( محکم الدین ) انجمن ترقی کھوار حلقہ چترال ، کھواراہل قلم اور مئیرتنظیم کے اشتراک سے مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ضلع کونسل ہال چترال میں پروگرام منعقد ہو ا ، جس میں لینڈ سٹلمنٹ آ فیسرسید مظہر علی شاہ مہمان خصوصی اور الخدمت فاؤنڈیشن چترال کے صدر نوید احمد بیگ صدر محفل تھے ۔ جبکہ دیگر اعزازی مہمانوں میں معروف دانشور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ، ممتاز قانو ن دان عبد الولی ایڈوکیٹ ، معروف محقق پروفیسر شمس النظر فاطمی ، ادیب و شاعر ذاکر محمد زخمی اور مسرت بیگ مسرت شامل تھے ۔ حسن بصری حسن نے سٹیج کے فرائض انجام دی ، جبکہ صدر انجمن حلقہ چترال محمد نواز رفیع نے شرکاء کو خوش آمدید کہا ۔ عمران خان گجر نے گجری زبان پر اپنا مقالہ پڑا ۔ اور کہا ۔ کہ پاکستان میں تقریبا پانچ لاکھ لوگ گجری زبان بولتے ہیں۔ اور کئی ممتاز شخصیات جن کا قیام پاکستان میں اہم کردار تھا۔ اس زبان کے بولنے والے تھے ۔ چترال میںیہ دوسری بڑی زبان ہے ۔ جس کے بولنے والے چترال کے تمام علاقوں میں کم یا زیادہ تعداد میں موجود ہیں ۔ عمران کبیر ممبر ڈسٹرکٹ کونسل نے کلاشہ زبان کی اہمیت پر روشنی دالی ۔ اور کہا ۔ کہ یہ زبان تقریبا چھ ہزار سال پرانی ہے ۔ اور اس میں پچاس سے زیادہ آدائیگی کیلئے صوت موجود ہیں ۔ اور چترال کی کئی زبانیں اس کی کوک سے جنم لے چکی ہیں ۔ کالاشوار پر کام ہو رہا ہے ۔ اس پر مزید تحقیق سے کئی انکشافات ہو سکتے ہیں ۔ اور کالاشوارکو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے ۔ ظفر اللہ پرواز نے اس خدشے کا اظہار کیا ۔ کہ کھوار جو گلگت اور چترال بھر میں بولی جاتی ہے ۔ یہ بھی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے ۔ کھوار کو پذیرائی نہیں دی جاتی رہی ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ ممتاز صوفی شاعر بابا سیر نے بھی کھوار سے زیادہ فارسی میں شاعری کی ۔ عبداللہ نے گواربتی زبان اور حمیدالدین نے یدغہ زبان کے حوالے سے اپنے مقالات پڑے ۔ اور دونوں نے کہا ۔ کہ مختلف اداروں کے تعاون سے ان زبانوں کو معدوم ہونے سے بچانے کیلئے جدو جہد جاری ہے ۔ عبدالولی خان ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ۔ کہ کھوار بولنے والے دوسرے لوگوں کے سامنے اپنی زبان بو لنے کو معیوب سمجھتے ہیں ، جبکہ کھوار ایک وسیع اور اپنے اندر دیگر زبانوں کو جذب کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ جو بعض لسانی محققین کے نزدیک زبان کی وسعت کی خوبی قرار دی گئی ہے ۔ انہوں نے فنکاروں کی عزت و تکریم پر زور دیا ۔ ممتاز دانشور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کہا ۔کہ اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو فرشتوں سے اونچا مقام اس لئے دیا ۔ کہ اُنہیں چھ ہزار زبانوں کا علم عطا فرمایا گیا تھا ۔ جو فرشتے نہیں جانتے تھے ۔ اور اللہ نے زبان کو انعام کے طور پر ذکر کیا ہے ، زبان کی اہمیت کا اندازہ اسی سے ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمیں زبانوں کے تحفظ کیلئے حکومت کی طرف دیکھنے کی بجائے خودکام کرنے کیلئے تیار ہونا چاہیے ۔ مہمان خصوصی سید مظہر علی شاہ نے کہا ۔ کہ زبان ہماری شناخت ہے ، اور ہماری زبان اور علاقے کی پہچان یہ ہے ۔ کہ ہمارے پچاس فیصد مسائل چترال کے نام اور زبان کی وجہ سے حل ہوتے ہیں ۔ اور لوگ احترام دیتے ہیں ۔ انہوں نے چترال کی ادبی انجمنوں کی یکجا ہوکر زبان و ادب کی ترقی کیلئے خدمات کی تعریف کی ۔ جبکہ صدر محفل نواید احمد بیگ نے کہا ۔ کہ دنیا میں 5912زبانیں بولی جاتی ہیں ، جن میں سے 516مادری زبانیں دُنیا سے مٹ چکے ہیں اور دنیا میں 36 فیصد زبانیں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بیرونی زبانیں اور کلچر ہماری زبان پر حاوی ہو رہی ہیں ۔ ان کامقابلہ کرنے کیلئے باہمی تعاون اور کام کی اشد ضرورت ہے ۔ اس موقع پر کئی قرادادیں منظور کی گئیں ۔ جن میں صوبائی اسمبلی میں منظور شدہ بل کے تحت بارہویں جماعت تک مادری زبانوں کی تعلیم پر عمل درآمد ، خیبر پختونخوا میں لینگویج پروموشن اتھارٹی کو فعال بنانے ، گورنمنٹ کالاش پرائمری سکولوں میں کالاش اساتذہ کے ذریعے کالاش زبان پڑھانے ، سرکاری سکولوں کی طرح پرائیویٹ سکولوں میں کھوار نصاب پڑھانے اور پاکستان ٹیلی وژن میں کھوار کو بھی موقع دینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ پروگرام کے اختتام پر کلاشوار ، کھوار اور دیگر زبانوں میں کلچر شو پیش کئے گئے ۔
international languages day celebrated in Chitral 3
international languages day celebrated in Chitral 1
international languages day celebrated in Chitral 6 international languages day celebrated in Chitral 7 international languages day celebrated in Chitral 8 international languages day celebrated in Chitral 10 international languages day celebrated in Chitral 9
international languages day celebrated in Chitral 14 international languages day celebrated in Chitral 2 international languages day celebrated in Chitral 5
international languages day celebrated in Chitral 12
Posted in تازہ ترین, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , ,
6679

خواتین بازار کے نام پر چترالی خواتین کو بے توقیر نہیں ہونے دیں گے۔۔۔مولانا چترالی

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )چترال کی ثقافت اسلامی ثقافت ہے چترالی ثقافت میں عورت کو وہ حقوق حاصل ہیں جو اسلام نے بحیثیت خاتون عورت کو دیے ہیں عورت کو مادر پدر آزدی دیکر اور گھسیٹ کر با زاروں کی زینت بنانا مغرب کا ایجنڈا ہے اسلام کا نہیں اسلام عورت کو حیا اور پاک دامنی کا درس دیتا ہے اور ہر وہ کام جو بے حیائی کے زمرہ میں آتا ہے اسلام میں اس کو حرام قرار دیا گیا ہے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت چترال کی خواتین کو بازاروں کی زینت بنانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے ہم کسی بھی صورت خواتین بازار کے نام پر چترالی خواتین کو بے توقیر نہیں ہونے دیں گے اس سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خواتین کیلئے الگ بازار وجود میں نہ آنے دے بصورت دیگر امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گا اور ہم اس کے خلاف بھر پو ر تحریک چلائیں گے ان خیالات کا اظہار امید وار برائے قومی اسمبلی چترال مولانا عبد الاکبر چترالی نے ایک اخباری بیان میں کیا ہے انہوں نے کہا کہ بعض این جی او ز چلانے والے لوگ جو چترالی نہیں ہیں چترال کی ثقافت کو نہ جانتے ہوئے تباہ کرنے پر تُلے ہو ئے ہیں ان لوگوں کو ہر گز یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہماری ثقافت میں مداخلت کر یں ۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , ,
6540

محکمہ معدنیات نے غیرقانونی کان کنی روکنے کی غرض سے صوبے میں پانچ ذیلی دفاترقائم کیے ہیں

خیبر پختونخوا کے محکمہ معدنیات نے صوبے میں غیرقانونی کان کنی روکنے اور معدنی وسائل کے تحفظ کے لیے کڑی نگرانی اور جانچ کی غرض سے صوبے میں پانچ ذیلی دفاتر ایبٹ آباد، کرک،سوات، پشاور اور چترال قائم کیے گئے ہیں جن کی فعال اور بھرپور کارکردگی کی بدولت گزشتہ ایک سال کے دوران خزانے کو دو ارب روپے سے زائد کی آمدن ہوئی ہے۔
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبے میں غیر قانونی کان کنی کے زریعے متاثر یاضائع ہونے والے معدنی وسائل کو روکنے کے لیے محکمہ معدنیات نے مانیٹرنگ کا سخت اور آزادانہ نظام رائج کیا ہے جسے عملاً لاگو کرنے کے لیے پانچ ریجنل دفاترکام کررہے ہیں۔ہر ریجن میں ضلع کی سطح پر کیمپ دفاتر فعال کرکے مانیٹرنگ کو موثر اور مربوط بنایا گیا ہے تاکہ معدنیات کی غیر قانونی کان کنی کی صورت میں خزانے کو ہونے والے نقصانات کا راستہ روکا جائے۔ کیمپ آفس ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہریپور، کوہستان،پشاور، نوشہرہ،بونیر ،شانگلہ،سوات، مالاکنڈ،کوہاٹ، ہنگو،بنوں،ڈی آئی خان اور چترال میں قائم کیے گئے ہیں۔اضلاع کی سطح پر یہ پر دفاتر مکمل جانچ پرکھ اور کڑی نگرانی کرکے ان لیز مالکان کی بھی نشاندہی کررہے ہیں جن کی کارکردگی ناقص ہے اور جو کام کے دوران قواعد وضوابط کو نظرانداز کررہے ہیں۔کان کنی کے لیے درکار چالان پیپرز کی مکمل پڑتال، معدنی کانوں سے نکلنے والے خام مال کی اصل مقدار کا جائزہ کہ کہیں دستاویزات میں ذکرکردہ مقدار سے متجاوز تو نہیں ان امور کی بھی مانیٹرنگ عملہ نگرانی کرے گا۔محکمہ معدنیات کے مطابق مانیٹرنگ کے نظام کی بدولت صوبے کے معدنی وسائل کو تحفظ حاصل ہوگا ساتھ ہی ساتھ رائلٹی کے طریقہ کار کو بھی پرکھا جائے گا ۔محکمہ معدنیا ت کے مانیٹرنگ یونٹس کے قیام کے باعث محکمے کو آمدن کے حصول کے اہداف کو حاصل کرنے میں بھی 100فیصد کامیابی ہوئی ہے۔ محکمے نے گزشتہ برس مختلف مد میں 2ارب دس کروڑ کے ہدف کا تعین کیا تھا تاہم مانیٹرنگ یونٹس کی فعال کارکردگی سے محکمے کو مقررہ ہدف سے بھی زائد آمدن کا حصول ممکن ہوا ہے ۔محکمہ معدنیا ت کے مطابق مانیٹرنگ نظام کی عدم موجودگی کے باعث ماضی میں صوبائی خزانے کو بھاری نقصانات اٹھانے پڑتے تھے جسکاراستہ روک دیا گیا ہے۔محکمے نے مانیٹرنگ عملے کو فعال اور مستعد رکھنے کے لیے گاڑیاں بھی مہیا کی ہیں تاکہ فیلڈ سٹاف باآسانی اپنے فرائض کی انجام دہی کرسکے،اسکے علاوہ نگرانی کو موثر بنانے کے لیے90مزید منرل گارڈز کی تعیناتی بھی کی گئی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , ,
6445

صدا بصحرا …………. ہم مفروضوں پر زندہ ہیں………….. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

دو دن کے اخبارات اور 24گھنٹے کے ٹیلی وژن پروگراموں کو سامنے رکھ کر کوئی بھی محب وطن پاکستانی سوچے تو اس نتیجے پر پہنچے گا کہ ہم مفروضوں پر زندہ ہیں اور مفروضوں پر ہی ہمارا گذر بسر ہورہا ہے مفروضہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔ یہ لفظ اردو میں مستعمل ہے اور انگریزی کے Assumptionکا ہم معنی و مترادف ہے اپنی طرف سے کوئی بات طے کرکے اس پر یقین کرلینا مفروضہ کہلاتا ہے۔ مثلََا مسلمان دنیا کی بڑی طاقت ہیں پوری دنیا مسلمانوں سے ڈرتی ہے یہ ایک مفروضہ ہے۔ مثلََا امریکہ افغانستان میں شکست کھاگیایہ بھی مفروضہ ہے۔ مثلََا چین ہمارا دوست ہے یہ بھی مفروضہ ہے۔ مثلََا پاکستان کی بقا کا راز جمہوریت میں مضمر ہے۔ یہ بھی مفروضہ ہے۔ ایسے ہزاروں مفروضے ہیں جن کی کوئی بنیا د نہیں۔ ہم نے اپنی طرف سے ایک بات طے کی ہے اور اس پر تکیہ کرکے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ان مفروضوں سے جتنی جلدی جان چھڑائی جائے ہمارے حق میں اُتنا ہی بہتر ہوگا۔ پہلا مفروضہ لے لیں مسلمان دنیا کی طاقت کب سے ہوئے؟ مسلمانوں کی حالت گذشتہ ایک ہزار سالوں سے عرب کے زمانہ جاہلیت جیسی ہے ۔ سیرت کی کتابوں میں خاتم النبین محمد مصطفیﷺ کی بعشت سے پہلے عرب دنیا کا جو حال لکھا ہے وہ ایک ہزار سالوں سے مسلمانوں کا حال ہے۔ باہمی جنگ و جدل ، باہمی نفاق، باہمی دشمنی ، شراب خوری ، سود خوری ، جوا بازی، فحاشی اور زمانہ جاہلیت کی دیگر برائیاں مسلمانوں میں اس دور سے بھی زیادہ ہیں اگر امراء شراب و سود خوری میں مبتلا ہیں تو علماء دشمنی ، رقا بت اور انتشار میں مبتلا ہیں ۔ ایسی قوم دنیا میں کسی کو کیا چیلنج دے سکتی ہے؟ دوسرا مفروضہ لے لیں امریکہ افغانستان میں شکست کھا گیا۔ کس طرح شکست کھا گیا؟امریکہ کے اہداف حاصل ہوچکے ہیں اور افغانستان کے ساتھ پاکستان بھی امریکہ کے چنگل میں پھنس چکا ہے۔ امریکہ نے 1978ء میں افغانستان میں قدم رکھا تو اس کے تین بڑے مقاصد تھے ۔ پہلا مقصد یہ تھا کہ جمہوری انقلاب کو ناکام کیا جائے، دوسرا مقصد یہ تھا کہ دہشت گردی کے لئے تربیتی مراکز قائم کئے جائیں اور افغانستان کے ساتھ پاکستان میں بھی دہشت گردی پھیلائی جائے ، تیسرا مقصد یہ تھا کہ افغانستان کو مرکز بناکر روس اور چین کا تعاقب کیا جائے ۔ یہ تینوں اہداف امریکہ نے حاصل کرلئے افغانستان میں اس کے قدم مضبوط ہوچکے ہیں۔ اگلے سو سالوں کے لئے اس نے فوجی اڈہ حاصل کرلیا ہے۔ جن لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ افغانستان کے بعض صوبوں میں صدر اشرف غنی کے مخالفین قابض ہیں اور یہ امریکہ کی شکست ہے تو ایسے احباب کو جان لینا چاہیے کہ القاعدہ، داعش اور امریکی فوج ایک دوسرے سے جدا یا الگ نہیں ۔ تینوں ایک ہیں۔ امریکہ کی ایک باوردی فوج ہے۔ باقی بغیر وردی کے امریکی فوج ہیں اور امریکی مقاصد کے لئے کام کرتی ہیں۔ داعش اور القاعدہ امریکیوں کی جگہ مسلمانوں پر حملے کرتی ہے اور امریکیوں کے لئے راہ ہموار کرتی ہے۔ فوجی اڈے حاصل کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ خانہ جنگی کے تصور کو زندہ رکھتی ہے۔ اس لئے افغانستان میں
ا مریکہ ناکام نہیں۔بلکہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ تیسرا مفروضہ لے لیں ، چین ہمارا دوست ہے۔ہماری دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری ہے۔ اس مفروضے کی حقیقت یہ ہے کہ چین کے اپنے مفادات ہیں ۔ ہماری دوستی چین کے مفادات کے گِرد گھومتی ہے۔ بغیر چینی مفاد کے ہماری دوستی کی کوئی حیثیت نہیں۔ اسی طرح اگلا مفروضہ بھی بے بنیاد ہے۔ بِلا وجہ مفروضہ گھڑ لیا گیا ہے کہ پاکستان کی بقا کا راز جمہوریت میں مضمر ہے ۔ ہماری 70سالہ تاریخ میں بہترین دور ایوب خان کا دور تھا۔اس کے بعد جنرل ضیاء الحق کا دور معاشی ترقی کے لئے شہرت رکھتا ہے۔ ملک کے اندر پریس کی آزادی، میڈیا میں وسعت اور جمہوری و انسانی حقوق کے حوالے سے جنرل مشرف کے دور کو سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ ان کے دور میں سوشل میڈیا آیا ۔ الیکٹرانک میڈیا آیااور پریس آزاد ہوا۔ کسی جمہوری حکومت نے پریس کو آزادی نہیں ۔ ملک میں معاشی ترقی کے وسائل فراہم نہیں کئے۔جمہوریت کا دور انارکی ، انتشار اور ہڑتالوں ، دھرنوں ، جلوسوں کی نذر ہوکر گذر جاتا ہے یہ مفروضہ بھی حقیقت سے بہت دور ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم مفروضوں کو چھوڑ کر حقائق کی دنیا میں قدم رکھیں اور چیزوں کو ان کی حقیقت کے مطابق پرکھ کر رائے قائم کریں۔ ہم اپنے طرز عمل کی اصلاح جتنی جلدی کریں گے اُتنا ہی بہتر ہوگا۔
لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
مگر یہ کہ رفت گیا اور بود تھا
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
6208

ملاوٹ کی وباء …………..محمد شریف شکیب

پشاور میں شیر فروشوں کی شامت آگئی۔ شہر بھر میں دودھ بیچنے والوں کی دکانوں سے بارہ سو نمونے حاصل کرکے لیبارٹری میں ان کا ٹیسٹ کیا گیا تو ساڑھے سات سو سے زیادہ نمونے آلودہ نکلے ۔ ان میں مختلف کیمکل شامل کرنے کی تصدیق ہوگئی۔ ضلعی انتظامیہ نے 70فیصد سے زیادہ دودھ کے نمونے ملاوٹ شدہ ثابت ہونے پر شیرفروشوں کے خلاف مہم تیز کردی ہے ۔ شہر کے مختلف مقامات پر ٹسٹنگ لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ ہو رہی ہے لیکن ملاوٹ کا کاروبار تھمنے میں نہیں آرہا۔دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے گائے بھینسوں کو دودھ کی مقدار بڑھانے والا انجکشن لگانے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔تاہم دودھ میں پانی ملانے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی کوئی کاروائی شروع ہوسکی ہے۔ جو لوگ حرام کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ ان پر قانون کی سختی کے ذریعے قابو پانا کافی مشکل ہوتا ہے۔کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہمارے مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ کیونکہ دولت ہی آج عزت، وقار، دبدبے اوراثرورسوخ کا معیار بن چکا ہے۔دولت ہاتھ میں ہو۔ تو قانون بھی آپ کے گھر کی لونڈی بن جاتی ہے۔ دنیا کی ہر آسائش دولت سے ہی حاصل ہوتی ہے اور ہر خواہش دولت کی چمک سے ہی پوری کی جاسکتی ہے۔ عظمت اور بڑائی کا معیار بھی اب دولت کی ریل پیل، لمبی گاڑیاں، پرشکوہ بنگلے اور زرق برق لباس بن چکے ہیں۔دولت حاصل کرنے کے لئے کوئی دودھ میں کیمیکل اور پانی ملاتا ہے تو کوئی چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے ملاکر بیچتا ہے۔ کوئی مصالحوں میں اینٹیں پیس کر ملاتا ہے تو کوئی آٹے میں برادہ اور چوکر ملاتا ہے۔کچھ عرصہ پہلے دکاندار آپ کو بتاتا تھا کہ اصلی چیز لینی ہے تو پچاس روپے کلو میں ملے گی اگر دو یا تین نمبر کا مال لینا ہے تو وہ سستا مل سکتا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ یہ وضاحت بھی ناپید ہوگئی اور دو نمبر مال بھی ایک نمبر کے بھاو بکنے لگا۔ خریدار کو تو معلوم نہیں ہوتا کہ اپنا اصلی روپیہ دے کر وہ نقلی مال خرید رہا ہے لیکن بیچنے والا بخوبی جانتا ہے لیکن زیادہ منافع حاصل کرنے کا شوق اس کے ضمیر کو تھپکی دے کر سلادیتا ہے کہ ساری دنیا یہی کام کر رہی ہے تم بھی کروگے تو اس میں کیا برائی ہے۔اپنے اساتذہ، بزرگوں اورجید علمائے کرام سے ہم نے یہی سیکھا ہے کہ آپ لاعلمی میں کوئی حرام چیز کھالیتے ہیں تو وہ آپ کے لئے حلال ہوتی ہے۔ لیکن دیکھ بھال کے ، جان بوجھ کے اور سوچ سمجھ کے حرام چیز کو حلال قرار دے کر کھائیں تو حرام خوری کا گناہ سرزد ہوتا ہے۔ اور حرام مال کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ بندہ ایک دفعہ چکھ لے۔ تو اس کا خوگر ہوجاتا ہے۔ جب حرام نوالہ حلق سے اترے تو اس سے پیدا ہونے والا خون بھی آلودہ ہوتا ہے۔بچے بھی جب وہی نوالہ کھاتے ہیں ۔ تو ان کی سرزشت بھی بدل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ماں کی نافرمانی کرتا ہے۔ باپ کے ساتھ لڑ پڑتا ہے۔ والدین کو بوجھ سمجھتا ہے۔ بات بات پر انہیں ٹوکتا ہے۔ نوجوان بے راہروی کا شکار ہورہے ہیں۔ خراب ماحول میں بیٹھتے ہیں۔ خاندان کی بدنامی اور رسوائی کا سبب بن رہے ہیں۔ان تمام خرابیوں اور برائیوں کی جڑ حرام کی کمائی ہے۔ جسے چھپانے کے لئے انسان جھوٹ بولتا ہے۔ جو لوگ حرام کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان کو کام چوری، غیبت، بہتان طرازی، چوری چکاری، رہزنی، بدکاری اور دروغ گوئی گناہ نہیں لگتے۔قصور میں سات سالہ زینب، مردان میں چار سالہ عاصمہ اور چارسدہ میں سریر خان کے ساتھ جو کچھ ہوا۔ یہ سب کچھ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ جرائم دنیا کے ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ غیر اسلامی معاشروں میں جرائم کا ارتکاب ہونا اس وجہ سے تعجب خیز نہیں کہ وہ دینی اور اخلاقی اقدار سے نابلد ہیں ان کے سامنے کوئی رول ماڈل موجود نہیں۔لیکن اسلامی معاشرے میں بسنے والوں کے پاس تو اسوہ حسنہ کی صورت میں زندگی گذارنے کی بہترین مثال موجود ہے۔ اس کے باوجود اگر ہم سے انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے تو یہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ہم راہ راست سے بھٹک چکے ہیں۔حرام اور حلال کا فرق بھلا چکے ہیں۔ تجارت جیسے پیغمبرانہ پیشے سے منسلک ہوکربھی بددیانتی کرتے ہیں۔دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں اپنے حلال رزق کو اپنے ہاتھوں دانستہ طور پر حرام بنا رہے ہیں۔ جب ہمیں خدا کا خوف نہیں، تو قانون سے کیا ڈرنا؟

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
5672

صد ا بصحرا …………دیوانی مقدمات کا عذاب…………. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

دیوانی مقدمات کا عذاب ختم ہونے کے قریب ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت نے دیوانی مقدمات کے فیصلے کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک سال کی مدت مقرر کی ہے اور صوبائی کابینہ نے بل کی منظور ی دی ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد اب سول پروسیجر کوڈ (cpc) میں ترمیم کا بل اسمبلی سے پاس ہوگا اور گور نر کے دستخط کے بعد 1908ء کے قانون کی جگہ نافذ ہوگا۔صوبائی حکومت نے سینئر قانون دانوں ، ججوں اور دیگر ماہرین سے تفصیلی مشاورت کے بعد بل کا مسودہ تیا ر کیا ہے اور 1908ء میں انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون میں 110سال بعد ترمیم کا مسودہ تیا ر کیا ہے۔ اس میں قانونی ، فنی اور تکنیکی طور پر تمام آئینی تقاضوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ 110سال بعد قانون میں ترمیم کی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ایک زندہ مثا ل سے اس کی وضاحت ہوگی۔ سید خان کا مرغا محمد طیب کے گندم کی فصل کے اندر گُھسا اور فصل کو نقصان پہنچایا۔ مقدمہ عدالت میں گیا۔ 18سالوں تک کیس چلتا رہا۔ ایک نیک دل منصف آیا۔ اُس نے فائل پڑھ کر نقصان کا تخمینہ دیکھا تو 5سیر گندم کے نقصان ہونے کا دعویٰ تھا۔منصف نے پوچھا مقدمے پر کتنا خرچہ آیا ہے؟ ایک فریق نے کہا کہ دو لاکھ روپے دوسرے فریق نے کہا تین لاکھ روپے ۔ منصف نے 5سیر گندم کی قیمت اپنی جیب سے ادا کرکے مقدمہ نمٹا دیا۔ دوسری مثال بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔ فارسی مسل کا اردو ترجمہ کرانے کے لئے ایک بڑھیا پریس کلب آئی اور اپنی کہانی یوں سنائی۔میرا شوہر مر گیا، میرے گھر پر غیروں نے قبضہ کیا، سال مجھے یاد نہیں اُس وقت ایک سیر چائے کی قیمت 50روپے تھی۔ گندم کی 100کے جی والی بوری 28روپے میں آتی تھی۔ وکیل کی فیس 10روپے ہوا کرتی تھی۔ جیب کا کرایہ 5روپے مقرر تھا۔ میں اپنی اکلوتی بیٹی کے ساتھ اُس وقت سے در بدر ہوں۔بیٹی کی اولاد اب شادی شدہ ہیں۔میرے شوہر کا گھر غیروں کے قبضے سے مجھے واپس نہیں ملا۔ صحافیوں نے اندازہ لگایا تو یہ 1974ء کا واقعہ معلوم ہوا۔کیونکہ 1974ء سے پہلے اُس کے گاؤ ں میں جیب ایبل سڑک کی سہولت نہیں تھی۔ یہ دیوانی مقدمات کی دو کہانیاں ہیں۔ایسی لاکھوں کہانیاں کچہریوں میں موجود ہیں۔ایک بزرگ سے ہم نے پوچھا 1908ء میں کس طرح فیصلے ہوتے تھے؟ بزرگ نے کہا 1908ء سے 1970ء تک فیصلے کرنے والوں پر دباؤ ہوتا تھا۔ وہ اوپر رپورٹ بھیجتے تھے کہ اس ماہ کتنے مقدمات کے فیصلے ہوئے؟ ان کی تنخواہ ، تبدیلی اور ترقی کا دارومدار اس بات پر ہوتا تھاکہ یہ منصف ایک ماہ میں کتنے مقدمات کے فیصلے دیتا ہے؟1970ء کے بعد اس کی جگہ سیاست نے لے لی، تبدیلی ، ترقی اور دیگر معاملات سیاستدانوں کے ہاتھوں میں گئے۔ ایک منصف مہینے میں 100مقدمات کے فیصلے سناتا ہے۔ دوسرا منصف سال کے12مہینوں میں 20مقدمات کے فیصلے نہیں سناتا۔ دونوں کے مراعات یکساں ہیں۔ خدا بخشے مرحوم فضل حق جب گورنر تھے انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل چترال کے اقلیتی ممبر بشارا خان سے کہا ’’ کوئی خدمت بتاؤ‘‘۔بشارا خان نے فوراََ کہا کہ مجھے مجسٹریٹ یا جج لگاؤ ‘‘۔ فضل حق نے پوچھا تعلیم کتنی ہے؟ بشارا خان نے کہا ’’ سوکھا ان پڑھ ہوں‘‘۔فضل حق نے پوچھا پھر کس طرح مقدمات سنو گے؟کس طرح فیصلے کروگے؟بشارا خان نے کہا ’’ہر پیشی پر تاریخ دے دوں گا‘‘۔110سال بعد صوبائی حکومت نے سول پروسیجر کوڈ میں ترمیم لانے کا فیصلہ کرکے عوام کو دیوانی مقدمات کے عذاب سے نجات دلانے کی طرف انقلابی قدم اُٹھایا ہے۔ اس کے بعد کریمنل پروسیجر کوڈ) crpc) میں ترمیم کے لئے بھی وفاقی حکومت سے رجوع کیا جائے گا۔ قانون میں ترمیم کے ساتھ ججوں اور مجسٹریٹوں کے لئے پراگرس رپورٹ کی شرط بھی ضروری ہے۔ایک آفیسر کے چارج لینے کے دن اسکی عدالت میں 2800مقدمات تھے۔ ایک سال بعد اگر مقدمات کی تعداد ایک ہزار سے کم رہ گئی تو یہ اچھی کارگردگی ہے۔ اگر اس تعداد میں 2000مقدمات کا اضافہ ہوا تو یہ اُس آفیسر کی ناکامی کے مترادف ہوگی۔ ایک اہم پہلو بنچ کے ساتھ بار کے تعاون کا بھی ہے۔ ترمیمی بل کے مسودے میں یہ بات لائی گئی ہے کہ وکیل اگر دو بارمسلسل غیر حاضر رہا تو اس کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا جائے گا۔ تاہم یہ نہیں لکھا گیا کہ وکیل اگر سند، گواہ اور ثبوت لانے میں مسلسل حیلے اور بہانے تلاش کرے ، نئے نئے فریق مقدمے کے اندر شامل کرے یا دیوانی مقدمے کو فوجداری مقدمے میں بدلنے کے لئے تشدد کے حربے اختیار کرے تو جج یا مجسٹریٹ کیسا ردّ عمل دے گا؟کہتے ہیں انصاف کے ترازو کے دو پہیے بنچ اور بار ہیں ۔ انصاف کی فراہمی کیلئے دونوں پہیوں کا درست ہونا لازمی ہے۔یہ عوام کے تحفظات ہیں۔ ان تحفظات کے باوجود یہ امر باعث اطمینان ہے کہ صوبائی کابینہ نے دیوابی قوانین میں ترمیمی بل کے مسودے کی منظوری دی ہے۔
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
4774

دادبیداد…………بد اچھا بدنام بُرا…………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

امریکی حکومت کی ڈپٹی اسسٹنٹ سکرٹری آف سٹیٹ ایلیس ویلز(Elice Wells) نے پاکستان کے دو روزہ دورے کے بعد امریکی سفارت خانہ اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے اپنے دورے کا خلاصہ ایک بامعنی جملے میں بیاں کیا اور کہا’’ دہشت گرد اچھا یا بُرا نہیں ہوتا،وہ صرف دہشت گرد ہوتا ہے‘‘۔اسلام آباد کے سفارتی اور صحافتی حلقوں میں اس پرگرما گرم بحث ہورہی ہے۔ایک طبقے کا یہ خیال ہے کہ ایمبیسڈر ویلز نے بلاسوچے سمجھے یہ بات کہدی۔دوسرے طبقے کا خیال ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر غلط بیان دیا حالانکہ اُس کو اچھی طرح علم ہے کہ دہشت گرد اچھا بھی ہوتا ہے برُا بھی ہوتا ہے۔اردو کا مقولہ ہے’’بد اچھا بدنام بُرا‘‘وائٹ ہاؤس اور پینٹا گان کے ریکارڈ میں1978سے لیکر2001تک کوئی بُرا دہشت گرد نہیں تھا۔1994اور2001کے درمیانی عرصے میں دو بڑے واقعات ہوئے۔ایک واقعہ یہ ہوا کہ افغانستان کے اندر کوکنار کی کاشت ختم کردی گئی،ہیروئیں کی پیداوار بند ہوگئی۔امریکی سفارت کاروں کی آمد کا بڑا ذریعہ بند ہوا،دوسرا بڑا واقعہ یہ ہوا کہ امریکی تیل اور گیس کمپنی کو افغانستان میں کاروبار کی اجازت نہیں ملی۔کاروبار کا یہ دوسرا نقصان تھا۔مگر دونوں ایسی باتیں تھیں کہ ان کا بہانہ کام نہیں دیتا تھا۔ان کا ذکر نہیں ہوسکتا تھا۔اس لئے نیویارک میں ایک بڑی عمارت کو گرایا گیا۔ہٹلر نے جنگ عظیم شروع کرنے کے لئے جرمن پارلیمنٹ کی عمارت کو آگ لگائی تھی امریکیوں نے اپنی جنگ عظیم کی بنیادورلڈ ٹریڈ سنٹر کے کھنڈرات پر رکھی اور اس کو نائن الیون کا نام دیا۔جارج بش نے12ستمبر 2001کو قوم کے خطاب کرکے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کا اعلان کیا۔اُنہوں نے نپے تلے انداز میں کروسیڈ ’’Crusade‘‘ کا نام لیا۔اُس دن کے بعد دہشت گرد کے لئے ’’برے دہشت گرد‘‘ کی ترکیب استعمال ہونے لگی۔جن لوگوں کو وائٹ ہاؤس میں دعوتوں میں بلاتے وقت ’’ ہیرو‘‘کانام دیا جاتا تھا۔ان کے لئے’’برے دہشت گرد‘‘کانام استعمال ہونے لگا۔یہ اس بات کا پہلا ثبوت ہے کہ دہشت گرد اچھا بھی ہوتا ہے بُرا بھی۔اگر آپ کو افیون کاشت کرکے دیدے اگر آپ کو تیل اور گیس کے کاروبار کی اجارہ داری دیدے تو اچھا دہشت گردہے اگر ایسا نہ کریں تو وہ بُرا دہشت گرد ہے۔ہمارے ہاں بسوں میں ایسی تختیاں استعمال ہوتی ہیں جن کے ایک طرف پشاور اور دوسری طرف لاہور لکھا ہوتا ہے پشاور سے روانگی کے وقت’’لاہور‘‘ والی تختی اویزاں کی جاتی ہے،جبکہ لاہور سے روانگی کے وقت پشاور والی تختی اویزاں کی جاتی ہے۔امریکی حکام نے ایک ہی تختی کے طرف’’مجاہد‘‘دوسری طرف ’’دہشت گرد ‘‘لکھا ہواتھا۔اس کی کارکردگی امریکہ کے مفاد میں ہوتو مجاہد کی تختی اویزاں ہوتی تھی خدا نخواستہ امریکہ کے خلاف تو ’’دہشت گرد‘‘والی تختی اویزاں ہوتی تھی۔یہ تاریخ کی لمبی چوڑی کہانی یا فلسفیانہ موشگافی نہیں۔ہماری آنکھوں نے یہ مناظر دیکھے ہوئے ہیں۔یہ سامنے کی باتیں ہی۔زمانہ حال کے حالات ہیں۔جنہیں اخباری زبان میں حالات حاضرہ کہا جاتا ہے۔گذشتہ 40سالوں میں حالات بالکل نہیں بدلے ضیاء الحق کے دورسے مشرف کے دور تک سارے دہشت گرد اچھے تھے۔برُا کوئی نہیں تھا۔مشرف کے دور میں امریکی لغت نے ان کی درجہ بندی کرکے بیک وقت اچھے بُرے دہشت گرد بنائے۔معیار یہ رکھا گیا کہ امریکہ کے مفاد میں کام کرنے والا دہشت گرد اچھا ہے۔امریکی مفاد کے خلاف کام کرنے والا دہشت گرد برُا ہے۔وائٹ ہاؤس اور پینٹاگان کی کتابوں اب بھی یہ ترکیبیں استعمال ہوتی ہیں۔پاکستان پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا اچھا دہشت کہا جاتا ہے۔ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ان کو اسلحہ اور مال ودولت سے نوازا جاتا ہے۔افغانستان کے اندر امریکی کانوائے پر حملہ کرنے والا بُرا دہشت گرد کہلاتا ہے امریکی ریکارڈ میں ملا فضل اللہ اچھا دہشت گرد ہے،حقانی بُرا دہشت گرد ہے۔ہمارا مشورہ ہے کہ امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سکرٹری آف سٹیٹ کو تھوڑی اردو سکھائی جائے اور ان کو بتایا جائے کہ اردو کا مقولہ’’بداچھا بدنام بُرا‘‘ ایسے ہی مواقع پر بولا جاتا ہے۔ہماری ہمدردیاں ایمیسڈر ویلز کے ساتھ ہیں ہماری دعا ہے۔
ہردن ہو تیرا لطف عام اور زیادہ
اللہ کرے زور بیاں اور زیادہ

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
4724

داد بیداد ………… اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا اعزاز………….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا ہے کہ اس نوزائیدہ یونیورسٹی نے گندھارا سٹڈی سنٹر کے نام سے علاقہ کی تاریخ و ثقافت پر تحقیق و تدریس کا نیا شعبہ قائم کیا ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سنٹر کا افتتاح کرنے کے موقع پر سنٹر کی تحقیقی اور تدریسی سرگرمیوں کے لئے 5کروڑ روپے کا خصوصی گرانٹ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سنٹر میں ہونے والا کام دوسری یونیورسٹیوں کیلئے ایک مثال بنے گا ’’خبر‘‘کے لحاظ سے کسی یونیورسٹی میں نئے شعبے کا افتتاح بڑی خبر نہیں بنتی تاہم اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں جس شعبے کا افتتاح ہواہے یہ بڑی خبر ہے جس خطے میں ہم رہتے ہیں یہ خطہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کا سنگم کہلاتا ہے اس خطے میں تاشقند کی یونیورسٹی کو عالمی شہرت حاصل ہے تاجکستان کے شہر خوروگ میں یونیورسٹی آف سنٹرل ایشیا بھی عالمی سطح کی یونیورسٹی ہے اگر انقلابِ ثور کامیاب ہوجاتا تو اب تک کابل کی یونیورسٹی بھی عالمی سطح کی جامعات میں نام پیدا کرنے کے قابل ہوتی پشاور یونیورسٹی کا ایریا سٹڈی سنٹر برائے سنٹرل ایشیا اور قائد اعظم یونیورسٹی کا انسٹٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز عالمی شہرت کے حامل ادارے ہیں پشاور اور خیبر پختونخوا کے علمی،ادبی اور ثقافتی حلقوں کی طرف سے پشاور کی کسی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں گندھارا چئیر یا گندھارا سٹڈی سنٹر کی تجاویز بار بار آرہی تھیں 2005میں گندھارا بندکو بورڈ کے زیراہتمام پہلی عالمی بند کو کانفرنس کی قراردادوں میں اہم قرارداد یہ تھی کہ پشاور کی کسی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں گندھارا چئیر قائم کیا جائے اس کے بعد 6عالمی کانفرنسیں منعقد ہوئیں ہر کانفرنس میں یہ قرارداد دہرائی گئی اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں مروجہ مضامین مثلاََ انگریزی ،اردو، فزکس ،کیمسٹری، اسلامیات ،عربی وغیرہ کے تمام شعبے قائم ہیں گندھارا سٹڈی سنٹر کے نام سے نیا شعبہ قائم کرکے یونیورسٹی انتظامیہ،سینیٹ،سینڈی کیٹ،بورڈ آف ریسرچ اینڈ ایڈوانس سٹڈیز،فیکلٹی اور وائس چانسلر نے انقلابی قدم اٹھایا ہے اس نئے ادارے کا بنیادی کام تحقیق ہے اور گندھارا کے حوالے سے تحقیق کا میدان بیحد وسیع ہے اس کا دائرہ خیبر پختونخوا سے گلگت کشمیر اور پنجاب تک پھیلا ہوا ہے گندھارا تہذیب کے نمونے اور آثار کا جائزہ لیا جائے تو پشاور،چارسدہ،تخت بھائی،چلاس،اٹک اور ٹیکسلاتک اس کا دامن پھیلا ہوا ہے پاکستان سے باہر جاپان،سری لنکا،نیپال،بھوٹان،چین ،کوریا،جاپان اور میانمر تک گندھارا تہذیب کے نقوش پائے جاتے ہیں جاپان اور چین کی یونیورسٹیوں میں اس پر بہت کام ہوا ہے یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں اس حوالے سے بے پناہ دلچسپی پائی جاتی ہے اب تک ہماری طرف سے اس تہذیب پر تحقیقی اور تدریسی کام نہیں ہوا ہم نے بہت زور لگایا تو کسی عجائب گھر سے دوچار نوادرات اور عجائبات کو چوری کرکے امریکہ،برطانیہ،فرانس یا جرمنی میں فروخت کیا اس سے زیادہ حصہ ہم نے کبھی نہیں ڈالا ہمارے ہاں ایسے علمی ادارے ہی نہیں تھے جہاں گندھارا تہذیب پر علمی اور تحقیقی کام کی بنیاد رکھ دی جاتی اس حوالے سے ڈاکٹر احمد حسن دانی کا کام بیحد اہمیت کا حامل ہے مگر اس کام کی بنیاد پر کسی یونیورسٹی میں مستقل شعبہ قائم نہیں ہوا موجودہ دور کے محققین میں ڈاکٹر احسان علی کے کام کو عالمی سطح پر شہرت ملی ہے گندھارا تہذیب کے حوالے سے ان کے جو تحقیقی مقالات شائع ہوئے وہ بیحد اہمیت کے حامل ہیں ان کے زیرسایہ کام کرنے والے محققین کا کام جاری ہے اگر اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے گندھارا سٹڈی سنٹر نے ماضی اور حال کے تمام کاموں کو یکجا کرکے تحقیق و تدریس کا سلسلہ آگے بڑھایا تو یہ علم کے متلاشیوں کے لئے بہت بڑی خدمت ہوگی مجھے آج قائد اعظم کی تقریرکا ایک جملہ یاد آرہا ہے اپریل 1948 میں گورنر جنرل کی حیثیت سے پشاور کا دورہ کرکے بابائے قوم نے خیبر یونین ہال میں اسلامیہ کالج کے اساتذہ اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا’’اس ادارے میں علم کی جو شمع روشن ہوگی اس کی کرنیں پورے وسطی ایشیا کو منور کرینگی‘‘اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حبیب احمد اور ان کے رفقائے کار بلاشبہ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک بڑے کام کا بیڑا اٹھایا چینیوں کا مقولہ ہے کہ ہزار میل کاسفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے یہ سنٹر قائد اعظم کے فرمودات کا عکس اور ہزار میل کے سفر کا پہلا قدم ہے

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , ,
4663

امریکہ برطانیہ تعلقات میں کھنچاؤ ………….ڈاکٹر ساجد خاکوانی

[email protected]
حال ہی میں امریکی صدرکے طے شدہ دورہ برطانیہ کو منسوخ کردیاگیاہے،یہ دورہ اگلے ماہ فروری 2018میں ہوناطے پایا تھالیکن دوروزقبل کے اعلانیے کے مطابق یہ دورہ منسوخ کردیاگیاہے۔اس دورے میں لندن میں امریکی سفارت خانے کی نئی عمارت کاافتتاح ہوناتھا۔اس کے علاوہ برطانوی وزیراعظم سے مزاکرات اور ملکہ برطانیہ کے ساتھ ظہرانے کے اہم پروگرام بھی شامل تھے۔امریکی صدرکی ٹویٹ کے مطابق اس دورے کے منسوخ ہونے کہ وجہ سابقہ امریکی صدر بارک اوباماکی برطانیہ میں امریکی سفارت خانے کی فروخت ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق سابقہ صدر نے سفارت خانے کی گزشتہ عمارت اونے پونے داموں فروخت کردی تھی اور اس کی بجائے ایک خطیررقم سے سفارت خانے کی موجودہ عمارت تیارکی گئی۔صدر ٹرمپ چونکہ اس کاروباری بیع و شراسے مطمئن نہیں اس لیے یہ دورہ منسوخ کردیا۔اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کامنصوبہ 2008ء میں تیارہواتھاجب جارش ڈبلیوبش کے ہاتھ میں امریکہ کی عنان اقتدارتھی۔بہرحال صدر ٹرمپ چونکہ اس کاروباری معاہدے سے مطمئن نہیں ہیں اورسابقہ صدر بارک اوباماسے انہیں شدید اختلاف ہے اس لیے وہ اس نئی عمارت کافیتہ کاٹنے کے روادار بھی نہیں ہوسکتے۔امریکہ وبرطانیہ کی سفارتی تاریخ میں یہ ناخوشگوار فیصلہ شاید اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ بڑی بدتمیزی سے طے شدہ دورہ منسوخ کیاگیااور سفارتی آداب کے عین برخلاف اگلے دورے کی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔برطانوی عہدیدارسے جب پوچھاگیاکہ امریکی سفارت خانے کا افتتاح کیونکرہوگاتواس نے جواب دیاکہ یہ امریکی حکومت کامعاملہ ہے۔

قومی و بین الاقوامی معاملات میں امریکہ کی حالیہ قیادت کے متعدد فیصلوں کو دنیابھرمیں بڑی حیرت و استعجاب کے نظروں سے دیکھاجارہاہے۔عالمی معاملات کے ماہرین امریکی ایوان اقتدارسے برآمدہونے والے فیصلوں کو غیرسنجیدہ قراردیتے ہیں اوران فیصلوں پر انگشت بدنداں رہتے ہیں۔قدرت بعض اوقات بہت جلدبھی انتقام لے لیاکرتی ہے۔امریکی خفیہ ادارے دنیابھرمیں سازشوں کے ذریعے دوسرے ملکوں پرجس طرح کے حکمران مسلط کیاکرتے تھے اب خود ان کے اپنے اندرشاید اسی طرح کاحکمران براجمان ہوچکاہے۔موجودہ امریکی صدر کے بعض رویوں کے پیش نظر تو خود امریکہ کی جامعات سے ان کے ذہنی توازن پربھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔امریکی کرنسی اور امریکی فوج بہرحال دنیاپر بلاشرکت غیرے حکومت کررہے ہیں،ان حالات میں امریکی قیادت کے فیصلے،ان کے بیانات اور ان کی ترجیحات کو پوری دنیامیں طرح طرح کے پیمانوں میں تولا جاتا ہے ۔ذمہ داری کاتقاضاہے کہ دنیاکوساتھ لے کرچلنے والے اپنی حیثیت کو پہچانیں اور بچگانہ رویوں سے پرہیز کریں،لیکن امریکی جیلوں میں قیدیوں پر ہونے والے بے پناہ ظلم و ستم کے باعث اب امریکی عروج کے دن بھی گنے جاچکے ہیں۔برطانیہ نے ہمیشہ امریکہ کاساتھ دیاہے اور ’’عالمی برادری‘‘کے نام پر یہی دونوں ممالک پوری دنیاپر اپنی کاذبانہ ومنافقانہ پالیسیاں بزورقوت مسلط کرتے رہے ہیں۔اب امریکی قیادت نے عالمی ظلم میں شریک اپنے اسی ملک کادورہ منسوخ کردیاہے۔جب کہ موجودہ برطانوی وزیراعظم نے حصول اقتدارکے بعد سب سے پہلے امریکہ کاہی دورہ کیاتھااور امریکی صدر سے ملاقات کی اور انہیں برطانیہ دورے کی دعوت بھی دی تھی۔

برطانوی دارالحکومت لندن کے مسلمان رئیس البلدیہ ’’صادق خان‘‘نے دورے کی منسوخی پر خوشی کااظہارکیاہے اوربہت چھبتاہواتبصرہ بھی کیاہے،انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ’’ شایدامریکی صدر کو لندن کے باسیوں کا پیغام پہنچ گیاہے‘‘۔لندن کا رئیس البلدیہ جوکہ علاقے کے کل شہریوں کانمائندہ ہے نے کھل کر اپنی ناپسندیدگی کااظہارکیاہے کہ یقیناََلندن کے شہری امریکی صدر ٹرمپ کو حد درجہ ناپسند کرتے ہیں اور ان کی دلی خواہش تھی کی امریکی صدر لندن کواپنے پاؤں سے میلا نہ کریں۔رئیس البلدیہ کے مطابق امریکی صدر لندن کے شہریوں کے دل کاحال گویا جان گئے ہیں اور اسی لیے شاید انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کردیاہے۔صادق خان نے یہ بھی بتایا اگلے ماہ امریکی صدر کے دورے کے دوران لندن کے شہری ان کے خلاف ایک خاموش اور پرامن مظاہرہ کرنے کے لیے تیار تھے۔لندن کے عوامی نمائندے نے کھل کر بتایاکہ برطانیہ کے شہری امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلوں اور پالیسیوں کے سخت مخالف ہیں اورانہیں انتہائی ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔جمعۃ المبارک 12جنوری کو دیے گئے بیان میں صادق خان نے کہا برطانوی شہریوں کے مطابق امریکی صدر کے متعدد فیصلے ان کی روایات اورباہمی مفاہمت کے بالکل منافی ہیں۔لندن کے شہریوں کایہ ردعمل گویاپوری دنیاکے لوگوں کی سوچ کی آئینہ داراور نمائندہ ہے کہ امریکی منصوبہ بندیوں کے بارے میں پوری دنیامیں ایک عام نفرین پائی جاتی ہے اور امریکی فوج،امریکی حکومت اور امریکی موجودہ حکمران کو بالعموم حقارت اور ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھاجاتاہے۔

دوسرے ملکوں میں امریکی مداخلت کاایک دلچسپ واقعہ بھی شایدان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی سردمہری کا پس منظرہوسکتاہے۔لندن میں ایک مقام پر جب رئیس البلدیہ نے خطاب کرناتھا توٹرمپ نواز غنڈوں نے جناب صادق خان کوپکڑنے اور گرفتارکرنے کی کوشش کی۔امریکہ باقی ملکوں میں تواس طرح کی بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر بدمعاشی کرتاہی ہے لیکن برطانیہ کے لیے شاید یہ ناقابل برداشت تھا۔ان غنڈوں کو شکایت یھی کہ صادق خان ایک اور موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کودھوکے باز،بے وفا اورظالم کہ کربے عزت کیاہے۔ٹرمپ کے بارے میں ان خیالات کااظہارصادق خان نے شاید اس موقع پر کیاتھا جب امریکی صدر نے مسلمانوں کے بارے میں سخت گیر منصوبوں کااعلان کیاتھا۔ہفتہ 13جنوری2018ء کو جب لندن کے رئیس البلدیہ تقریر کے لیے اپنے مقام پر تشریف لائے توایک غنڈہ ’’ڈیوے رسل‘‘(Davey Russell)اپنے نصف درجن بھرساتھیوں کے ساتھ لکڑی کے ایک چھاتے کے ساتھ نعرے لگاتے ہوئے ان پر لپکے اورانہیں پکڑنے اور گرفتارکرنے کی نازیباکوشش کی۔انہوں نے ہال کے اندر شورمچایا،جب انہیں پکڑنے کی کوشش کی گئی توانہوں نے کہاکہ ہم ٹکٹ لے کرآئے ہیں۔ہنگامہ کرتے ہوئے یہ لوگ اسٹیج تک بھی پہنچ گئے۔ان میں سے ایک غنڈہ صادق خان کی میز کے سامنے جاپہنچااوراپنی پشت سے امریکی پرچم نکال کر صادق خان کے سامنے تان دیا۔اس دوران حاضرین میں سے بھی کچھ لوگ آگے بڑھے اور پھر پولیس نے ان غنڈوں کو باہر نکالاجس کے بعد رئیس البلدیہ نے اپنی تقریر مکمل کی۔رسل نامی اس شخص نے اپنے گروہ کانام بھی بتایا جب کہ اس سے پہلے یہی شخص ’’رسل‘‘ایک ریڈیومیں خلاف اسلام پروگرام کیاکرتاتھا۔رسل نے اخباری نمائندوں کو بتایا بحیثیت مسلمان صادق خان دہشت گرد ہے اور اسے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرنے کاکوئی حق حاصل نہیں ہے۔رسل نے بڑی بدتمیزی سے کہاکہ لندن کے رئیس البلدیہ کواپنی ناک ریاست سے باہر نہیں نکالنی چاہیے اور صرف اپنے شہر کے اندر کے معاملات ہی دیکھنے چاہییں۔

اس دورے کی منسوخی کے اصل محرکات کیاتھے؟؟اس پر سے توتاریخ ہی پردہ اٹھائے گی۔لیکن ایک امریکی عہدیدارنے کہاکہ برطانیہ کی طرف سے مسلسل سردمہری اس دورے کی منسوخی کی وجہ بنی،دیگرتجزیہ نگاروں کی اکثریت کاخیال ہے کہ برطانیہ میں ڈونلڈٹرمپ کی آمدپر امریکہ کے خلاف طے شدہ بڑے پیمانے پر مظاہروں کاخوف امریکی صدرکودامن گیرتھا۔ایک خیال یہ بھی بتایاجاتاہے کہ برطانیہ میں اخباری نمائندوں کے تیزوتندسوالوں کے خوف نے بھی امریکی صدرکوقلعہ بندرہنے پر مجبورکردیاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ایک سال کے دورانیے میں برطانوی حکومت کی طرف سے دی گئی تنہائی کی شکایت بھی موجودہے۔کم و بیش 1.8ملین افرادنے محضرنامے پر دستخط بھی کیے تھے جس میں اس دورے کی منسوخی کامطالبہ درج تھااور بعض اطلاعات کے مطابق پارلیمان میں بھی یہ موضوع گونجتارہا۔بی بی سی کے مطابق اب یہ دورہ اس سال کے آخر تک وقوع پزیر ہوسکتاہے،لیکن ممکن ہے یہ لوگوں کامنہ بندکرنے کے لیے کہاگیاہو۔

مل کرکاروائیاں کرنے والے کتنے ہی ہم آہنگ کیوں نہ ہو تاریخ شاہد ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی ضرورٹوٹتے ہیں۔امریکہ اور برطانیہ نے مل کر دنیاکے امن کوسبوتاژکیاہے۔امن عالم کے نام پر اور پیشگی دفاع کے مفروضوں پر اور دہشت گردی کاشور مچامچاکر اقوام متحدہ کے انگوٹھے لگے کاغذوں کوبنیادبناکر اس وقت مشرق و مغرب میں نیٹوکی افواج نے کشت و خون کابازارگرم کررکھاہے اور کوئی قوم اور کوئی ملک ان کے سودی یاعسکری یاتہذیبی یلغارسے محفوظ نہیں ہے۔ان دونوں ملکوں کے خفیہ اداروں نے دنیابھرمیں اپنے پنجے گاڑ کر حکومتوں کی ناک میں دم کررکھاہے۔ عالم انسانیت ان کے خونین پنجوں میں سسک سسک کر عرصہ حیات پوری کررہاہے۔استعمار کے درمیان یہ دراڑیں اقوام عالم کے لیے گھپ اندھیرے میں روشنی کی پھوٹتی ہوئی ایک خوش آئند کرن ثابت ہوگی۔ان دونوں ممالک کے بل بوتے پر عالم اسلام پر مسلط مصنوعی قیادت بھی بہت جلد کمزوری کاشکارہوچکے گی اوریوں اسلامی نشاۃ ثانیہ کی منزل قریب تر آ لگے گی۔اﷲتعالی نے چاہاتوآنے والا دورامت مسلمہ کی قیادت میں کل انسانیت کے لیے رحمت و برکت اور امن واستحکام کاحامل ہوگا،انشااﷲتعالی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , ,
4659

میرا باپ کم نہ تھا میری ماں سے……….. میاں شفیق

باپ ہندی زبان کا لفظ ہے اور یہ تین الفاظ کا مجموعہ ہے۔ ب سے برکت والا ا سے احساس کرنے والا اور پ سے پیار اور اور محبت ۔ ان تین الفاظ کے مجموعے کا نام باپ ہے۔ باپ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا ہے باپ چاہے کتنا ہی بوڑھا کیوں نا ہو پھر بھی گھر کا سب سے اہم ستون ہوتا ہے۔ عظمت تو ماں کی بھی بہت زیادہ ہے جو کہ اللہ نے خود بیان کی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ نے انسان سے اپنی محبت ثابت کرنے کے لئیے ماں کا انتخاب کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ میں انسان کے ساتھ اس کی ماں سے ستر گنا زیادہ محبت کرتا ہوں۔اگر باپ کی عظمت کا پاس کرتے ہوئے اس کی اطاعت ، فرماں برداری ، خدمت اور تعظیم کر کے اس کی رضا حاصل کی جائے تو اللہ کی طرف سے ہمیں دین و دنیا کی کامیابیاں ، سعادتیں اور جنت جیسی نعمتیں مل سکتی ہیں۔

ماں کی محبت تو اس وقت سے بیان کی جارہی ہے جب سے انسان نے لکھنا سیکھا تھالیکن باپ ایک ایسی ذات ہے جس پر خود باپ نے بھی کھل کر نہیں لکھا۔ لکھتا بھی کیسے کہ باپ کی محبت کا ہر رنگ نرالا ہے ۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اولاد پر ہاتھ اس لیے اٹھاتا ہے کہ کہیں اس کی اولاد خود کو کسی بڑے نقصان میں مبتلا نہ کر لے ۔ اس کی پڑھائی پر سختی برتتا ہے کہ کہیں اس کی اولاد کم علمی کی وجہ سے کسی کی محتاج نہ بن کر رہ جائے۔ . باپ کو اولاد کا دیر سے گھر آنا اس لیے کھٹکتا ہے کہ کہیں اس کی اولاد بری لت میں پڑھ کر اپنا مستقبل خراب نہ کر بیٹھے ۔ غرض کہ پیدائش سے لے کر قبر تک باپ کی زندگی کا محور اس کا بچہ ہی رہتا ہے۔لیکن کبھی کبھی باپ سانسیں لیتے ہوئے بھی مر جاتے ہیں جیسے جیسے اولاد کا اختیار بڑھتا ہے باپ کا اختیار کم ہوتا ہے اور باپ مرنا شروع ہو جاتا ہے اور باپ اس وجہ سے اولاد پر ہاتھ اٹھانا بند کر دیتا ہے کہ اگر اولاد نے پلٹ کر اس کا جواب دے دیا تو وہ کیسے برداشت کرے گا۔

اسلام میں والدین کابہت بڑا مقام اور مرتبہ ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے،’’اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیاکہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔رشتہ داروں ، یتیموں،مسکینوں اورلوگوں سے (ہمیشہ)اچھی بات کہو۔ ‘‘ (سورۃ البقرہ)۔ اسی طرح سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔’’اورآپ کے پروردگارکافرمان ہے کہ اللہ کے سواکسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کیاکرو،اگر تمہارے سامنے اِن میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اْف‘‘تک نہ کہواور نہ انہیں جھڑکو بلکہ ان سے نرمی کے ساتھ بات کرو اور اپنے بازو نہایت عاجزی اورنیازمندی سے ان کے سامنے جھکادو اور( ان کے لئے یوں دعائے رحمت کرو) اے میرے پروردگار!تواِن پر(اس طرح) رحم فرما، جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں(رحمت وشفقت سے) پالا تھا۔‘‘(سورہ بنی اسرائیل) ۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات مبارکہ میں اپنی عبادت کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت واطاعت انتہائی ضروری ہے حتیٰ کہ والدین اولاد پر ظلم وزیادتی بھی کریں تب بھی اولاد کو انہیں جواب دینے کی اجازت نہیں،جھڑکناتو درکنار ،اْن کے سامنے ’اْف‘ تک کہنے کی بھی اجازت نہیں۔ سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو،(تم سب کو )میری ہی طرف لوٹنا ہے اور اگر وہ تْجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک ٹھہرا جس کا تْجھے کچھ علم نہیں تو(اس معصیت میں )ان کی اطاعت ہر گز نہ کرو، (لیکن اس کے باوجود ) دْنیا میں ان سے حسن سلوک کرتے رہو۔ ‘‘ اولاد کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ االلہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی نافرمانی کے سوا والدین کے ہر حکم کی تعمیل کریں۔ اْن کی رائے کو ترجیح دیں۔ خاص طور پر جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو پھر ان کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے ان سے محبت و احترام سے پیش آئیں ۔ اپنی مصروفیات میں سے مناسب و قت اْن کے لیے خاص کردیں۔اْن کی بھر پور خدمت کریں اور ان کی وفات کے بعدان کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت ورحمت کرتے رہیں ، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشادِباری تعالیٰ ہے،’’اور(ان کے حق میں یوں دعائے رحمت کرو ) اے ہمارے رب!ان دونوں پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں(رحمت وشفقت سے) پالا۔‘‘(سورہ بنی اسرائیل) ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لیے ، اپنے والدین اور تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت وبخشش کی دعامانگتے ہیں۔جس کاقرآن پاک نے اس طرح ذکرکیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (بخش دے)اور سب مسلمانوں کو(بخش دے)، جس دن حساب قائم ہوگا۔‘‘(سورہ ابراہیم) ۔ ماں باپ کے انتقال کے بعدبھی ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جس کی کئی صورتوں میں سے ایک دعائے مغفرت کرنابھی شامل ہے جس سے ان کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں بلند فرما دیتا ہے تو وہ بندہ عرض کرتا ہے کہ’’ اے میرے رب! یہ درجہ مجھے کہاں سے ملا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے کہ ،’’تیری اولاد کی دعائے مغفرت کی بدولت (تْجھے یہ بلند درجہ دیا گیا ہے)۔‘‘(مسائل اربعین) ۔ ایک اورحدیث شریف میں ہے کہ ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت کرناان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے تمام اعمال کاسلسلہ ختم ہو جاتا ہے،لیکن تین چیزوں کا نفع اس کو(مرنے کے بعدبھی) پہنچتا رہتا ہے۔۱۔ صدقہ جاریہ، ۲۔ایسا علم جس سے لوگ نفع حاصل کرتے ہوں، ۳۔نیک اولاد جو اس کے لیے دعائے مغفرت ورحمت کرتی ہو۔حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’جو نیک اولاد اپنے ماں باپ کے چہرے کی طرف رحمت (اورمحبت) سے ایک نظر دیکھ لے تو اللہ تعالیٰ (اس کے نامہ اعمال میں ) ایک حج مقبول کا ثواب لکھ دیتا ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا ،اگر وہ ہر روز سو بار دیکھے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، اللہ سب سے بڑا ہے اور(اس کی ذات ) بہت پاک ہے ،(یعنی اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں،وہ سوحج کاثواب بھی عطافرمائے گا۔‘‘(مشکوٰۃ ،البیہقی فی الشعب )۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ،’’ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کے رزق میں اضافہ فرمائے تو اسے چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور (اپنے رشتہ داروں کے ساتھ) صلہ رحمی کرے۔ ‘‘(الحدیث)۔ ایک اور اہم بات یہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اولاد پر اپنے بیوی بچوں کی طرح اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت اور کفالت اور ان کی ضروریاتِ زندگی (کھاناپینا،لباس، علاج )کو پورا کرنا بھی اولادپر فرض ہے ،اس کے ساتھ اْن کی ضروریات کے مطابق مخصوص رقم ہرمہینے اْن کوپیش کی جائے تا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق خرچ کر سکیں۔ حضور سید عالم ﷺ نے والدین کی خدمت و اطاعت کو جہاد ایسی عظیم عبادت وسعادت پر بھی ترجیح دی۔ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ کے پاس جہاد میں شریک ہونے کی غرض سے حاضر ہواتو نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ماں با پ زندہ ہیں؟ ‘‘اس نے کہا ،’’ جی ہاں، زندہ ہیں۔‘‘ آپ ?نے فرمایا،’’جاؤ اور اپنے والدین کی خدمت کرو، یہی تمہار اجہاد ہے۔‘‘(سنن ابن ماجہ،مشکوٰہ المصابیح) ۔ اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک اوراچھانیکی کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔ والدین کے حقوق ادا کرنادر حقیقت اللہ کی تابعداری ہے، پس اس لحاظ سے ان کی خدمت اللہ تعالیٰ کی خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں مضمرہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’وہ شخص ذلیل ورسوا ہوا ،وہ شخص ذلیل ورسوا ہوا ،وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا ۔ عرض کیا،کون یارسول اللہ ﷺ؟آپ ﷺنے فرمایا،’’جس نے اپنے ماں باپ میں دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور پھر (اْن کی خدمت نہ کر کے) دخولِ جنت کا حق دار نہ بن سکا۔ ‘‘(مسلم، مشکوٰۃ)۔ ماں باپ کی خدمت کاثواب جہاد سے بھی بڑھ کر ہے اوراس کااجروثواب حج اور عمرہ کے برابر ہے۔ ماں باپ کے قدموں میں رہنا جنت کی طرف پہنچاتا ہے، اس سے عمراوررزق میں اضافہ ،عبادات اور دعائیں اللہ پاک کی بارگاہ میں ضرورقبول ہوتی ہیں۔ماں باپ کی نافرمانی کرنایا اْنہیں اَذیت وتکلیف دینا گناہِ کبیرہ اور بہت بڑی محرومی ہے۔ماں باپ کے نافرمان کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتااور موت سے پہلے ہی اْسے دنیا میں ذلت و رسوائی اور اپنے کئے کی سزاملتی ہے۔والدین کے حقوق کی ادائیگی کواس طرح ممکن بنایاجاسکتاہے کہ والدین کے ہر نیک حکم کی تعمیل کی جائے۔ اْن کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کی جائے۔ اْن کے آرام وسکون اور خوشیوں کا خیال رکھا جائے۔والدین کا تذکرہ ہمیشہ اچھے الفاظ میں کیاجائے۔

میرے ابو جان انتہائی نرم طبعیت کے مالک اور بہت زیادہ محبت و شفقت کرنے والے تھے وہ ہر بات پیار سے سمجھاتے تھے لیکن ضرورت پڑنے پر سختی بھی برتتے تھے لیکن بہت کم ۔ میں گھر میں سب سے چھوٹا ہوں اس لیے سب کا لاڈلا اور ان کی توجہ کا محور میں ہی تھا ۔ ابو جان مجھ سے بہت محبت کرتے تھے کبھی کسی چیز کی کمی نہیں آنے دی تھی ضرورت سے بڑھ کر پیار کرتے تھے۔ مجھے شہزادوں کی طرح پالا تھا اور ہمیشہ میرے مستقبل کا سوچتے رہے ۔ آخری سانسوں تک ہمارے باپ کا ہم پر اختیار رہا۔ اتنے بڑے ہونے کے باوجود کبھی ابو جان کو یہ احساس نہیں ہونے دیا تھا کہ ہم بڑے ہو گئے ہیں یا ان کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ وہ جب تک زندہ رہے میں خود کمانے کے باوجود اپنا خرچہ ان سے مانگتا تھا۔ رات کو کہیں جانے کو پروگرام ہوتا تو پہلے کتنی دیر ابو کی منتیں کرتا تھا کہ جانے دیں جلدی آ جاؤں گا اور کبھی کبھی تو ماں کی سفارش کروانی پڑتی تھی اور یہ سب کرنا مجھے بھی اچھا لگتا تھا. ابو جان جب تک زندہ رہے تمام گھریلو اور کاروباری معاملات ان کے ہی اختیار میں رہے وہ ہمیشہ ہمارے مستقبل کا سوچتے تھے ۔طبعیت خراب ہونے کے بعد چار دن زندہ رہے ۔ جب بھی بات کرتے تو یہی کہتے بیٹا تنگ نہ ہونا میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے ۔ بس کچھ دنوں تک ٹھیک ہو جاؤں گا اور ہم زاروقطار روتے جاتے تھے ۔ اس کے بعد ابو کو بھر پور خدمت کا یقین دلا کر خدمت جاری رکھتے تھے۔ طبعیت اتنی زیادہ خراب بھی نہیں تھی لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ۔ جس دن اللہ کو پیارے ہوئے تو سارا دن استغفار کا ورد کرتے رہے اور شام کو مغرب کی اذان کے بعد ہمیں روتا ہوا چھوڑ کر جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ ہماری زندگی میں ہماری آنکھوں سے ایک آنسو نکلنے پر تڑپ اٹھنے والے ہزاروں آنسو نکلنے پر بھی خاموش لیٹے رہے۔

ان کی نماز جنازہ ضلع ساہیوال کے امیر سلیم شاکر صاحب نے خود پڑھائی ۔ ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس کی وجہ ان کا ہر ایک سے پیار و محبت والا رویہ تھا ۔ ہر شخص روتا ہوا نظر آیا لیکن کوئی کچھ کر نہں سکتا تھا ۔ اس لیے مجبوراً صبر کرنا پڑا۔ دعا کریں اللہ مجھے بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ وہ میرے لیے اتنا کچھ کر گئے ہیں، اللہ مجھے بھی ان کے لئے کچھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک میرے بابا کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرماے آمین۔
عزیز رکھتا تھا وہ مجھے دل و جاں سے
میرا باپ کم نا تھا میری ماں سے

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
4622

صدا بصحرا ……….یہ علاقہ غیر نہیں ہے…………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

فا ٹا کے حوالے سے دو اہم اقدامات کی خبریں اخبارات کی زینت بنی ہیں ۔قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک وسعت دینے کا بل منظور کیا ہے۔اب سینیٹ سے بل پاس ہوگا اور صدر مملکت کے دستخط کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہوگا۔دوسرا اہم کام یہ ہے کہ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے ٖفاٹا میں باقاعدہ کنٹونمنٹ بنا کر فوج کا گریزن مستقل طور پر فاٹا میں متعین کرنے کا اعلان کیا ہے۔دونوں اہم اقدامات ہیں۔اس وقت وطن عزیز کو اندرونی اور بیرونی محاذ پر کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔اور یہ چیلنج ملکی سلامتی کے حوالے سے ہیں۔فاٹا کے عوام نے گذشتہ 70سالوں میں وطن عزیز پاکستان کا آئین نہیں دیکھا۔ملکی قانون کی عملداری نہیں دیکھی۔200بااثر شخصیات کے ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کیلئے انگریزوں کے بنائے ہوئے 1870کے کالے قانون فرنٹیرکرائمز ریگولیشن کے تحت مخصوص طبقے نے فاٹا کے ایک کروڑ عوام پر حکومت کی اور ملکی آبادی کے سب سے زیادہ غیور اورسب سے زیادہ بہادر عوام کو غلاموں کی طرح ایف۔سی۔آر کی زنجیروں میں بند کئے رکھا ۔جنوبی پنجاب ،سندھ یا بلوچستان کا کوئی سمگلر اگر قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو الزام فاٹا پر آتا ہے۔پشاور ،ڈی آئی خان یا راولپنڈی کا کوئی شہری گاڑیوں کی چوری،اغوا برائے تاوان یا منشیات کا دھندا کرتا ہے تو الزام فاٹا کے سرپرتھوپ دیا جاتا ہے۔اس کو ’’علاقہ غیر‘‘کا غلط نام دیا جاتا ہے۔علاقہ غیر اس علاقے کو کہتے ہیں جو تمہارا نہ ہو جو اپنا نہ ہو،جس کو آپ
اپنائیت(Ownership)دینے سے انکاری ہوں۔یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ آپ باڑہ،جمرود،کلایہ،لنڈی کوتل،خار،یکہ غنڈ،پاڑہ چنار،وانا اور میران شاہ کو علاقہ غیر کا نام دیتے ہیں۔ملکی قانون ،ملکی عدالت،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک وسیع ہوجائے تو ان کے لئے علاقہ غیر کی ترکیب استعمال نہیں ہوگی۔اب ان مقامات کو بھی پشاور،مردان،نوشہرہ،بنوں،ڈی آئی خان اور چارسدہ کی طرح اپنا شہر سمجھا جائے گا۔اب کوئی پولیس اہلکار یا اخبار نویس رپورٹ دیتے ہوئے کبھی نہیں لکھے گا کہ ملزمان نے علاقہ غیر میں پناہ لے رکھی ہے یا علاقہ غیر کی طرف فرار ہوگئے ہیں۔بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اپریل 1948میں خیبر ایجنسی کا تاریخی دورہ کیا اپنے خطاب میں انہوں نے قبائل کو پاکستان کا ’’بازوئے شمشیر زن‘‘کا خطاب دیا۔1948کے جہاد کشمیر میں قبائل نے بابائے قوم کی پیشگوئی کو درست ثابت کیا۔

مہمند،وزیر،محسود،بنگش،آفریدی اور شنواری سمیت دیگر قبائل نے کشمیر کے بڑے حصے کو آزاد کرکے اکھنور کے پل پر قبضہ کیا تھا۔سیز فائر کے بعد قبائل کو واپس بلایا گیا۔آج قبائل کے مستقبل کی بات آتی ہے تو ملک کے اندر سے اس کے خلاف آوازیں اٹھتی ہیں۔قومی اسمبلی میں بھی مٹھی بھر عناصر نے قبائل کے خلاف ایف سی آر کے حق میں آواز اٹھائی مگر ناکام ہوئے۔پڑوس میں بھی اور سمندرپار بھی ایسی طاقتیں موجود ہیں جو قبائل کی محرومیوں سے مزید فوائد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔امریکہ،افغانستان اور بھارت کے خفیہ ادارے فاٹا کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔اگر فاٹا میں عدالتیں آگئیں،پولیس کا نظام آیا،فوجی چھاؤنیاں قائم ہوئیں،ملکی قوانین کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھا دیا گیا تو پاکستان کے دشمنوں کی روزی روٹی بند ہوجائیگی ایف سی آر کے بل بوتے پر فاٹا کے عوام کو غلام رکھنے والے سب بے روزگار ہوجائینگے۔اگر 1978میں فاٹا کے علاقے بندوبستی علاقوں میں شامل ہوتے تو غیر ملکیوں کو فاٹا میں آکر دہشت گردوں کے لئے سرنگیں تعمیر کرنے،دہشت گردی کے اڈے قائم کرنے، عرب،چیچن،ازبک،افغان اور تاجک دہشت گردوں کو فاٹا میں ٹھکانے مہیا کرنے کی کبھی جرأ ت نہ ہوتی۔فرحت اللہ بابر،رستم شاہ مہمند اور شکیل درانی اس بات کے گواہ ہیں کہ 1978میںیورپ اور امریکہ کے سفارتی نمائندوں کیلئے اس وقت کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری یواے جی عیسانی اور سیکٹر کمانڈر بریگیڈئرمناظرنے جو بریفنگ تیار کی تھی اس میں پاک افغان سرحد کو سربمہر کرنے کی تجویز دی گئی تھی جسے عالمی طاقتوں نے مسترد کردیا۔اب حالات آہستہ آہستہ درست سمت کی طرف آرہے ہیں۔پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام آخری مراحل میں ہے۔قبائل علاقوں میں مستقل فوجی چھاؤنیوں کے قیام اور سول عدالتوں کی عملداری کے بعد ہم فخر سے کہ سکیں گے کہ یہ ’’علاقہ غیر‘‘نہیں ہے بلکہ اپنا وطن ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
4614

صدائے بازگشت………پاکستان زندہ باد ……….. تحریر: عنایت اللہ اسیر

چترال کے باشندوں نے 1943ء میں ہی چاند ستارے کا نشان ریاستی جھنڈے کے ساتھ شاہی قلعے پر لہراکر پاکستان کو دل سے قبول کرکے اس میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ جبکہ پاکستان بنا ہی نہیں تھا۔ وہ نشان اب بھی شاہی قلعے پر لگا ہوا ہے مگر ہماری یک طرفہ محبت اخلاص امن شرافت اور پاکستان کے لئے والہانہ قربانی دینے کی جذبات کا جو صلہ ہمیں ملا وہ سب کے سامنے ہے۔ 1948ء میں چترال سکاوٹس اور چترال بارڈر پولیس کے جوانوں نے میجر مطاع الملک اور شہزادہ برہان الدین کی قیادت میں کشمیر کے محاذ پر ہندوستان کے غاصبانہ اور مکارانہ قبضے کے خلاف جس بے دردی ، بے جگری اور بہادری سے لڑے وہ تاریخ کا حصہ ہے اور اگر جنگ بندی نہ کی جاتی تو ہندوستان سے کشمیر کا واحد راستہ بھی کاٹ کر پورے کشمیر کو پاکستان کا بابضاطبہ حصہ بنا کر دم لیتے۔ مگر جنگ بندی کی وجہ سے آزاد کشمیر کا یہ حصہ ہندؤں کے قبضے سے چھڑوایا گیا ورنہ مقبوضہ کشمیر کا کوئی متنازعہ علاقہ ہندوستان کے قبضے میں نہ ہوتا۔ اس کامیاب جنگ کو بے سروسامانی کی حالت میں جیت کر واپس آتے ہوئے جو سلوک چترال کے جوانوں اور افسران سے روا رکھا گیا اور ان کامیاب جنگ جو کمانڈروں کو گلگت سے گرفتار کرکے پشاور جیل میں سالوں رکھا گیا اور ان باڈی گارڈ کی سپاہیوں کو انعامات ، تمغے اور بخشش دینے کی بجائے خالی ہاتھ ان کے گھروں کو بھیجا گیا حالانکہ دیر کے تیار خور سپاہیوں کو بخشش دیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ تمام ریاستوں کو اختیار دے دیا گیا تھا کہ وہ انڈیا اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے اور صوبہ سرحد کے بہت سے علاقوں میں ووٹ بھی کردیا گیا مگر چترال جیسے دورافتادہ علاقے میں فرد واحد بھی ایسا نہیں تھا جسے پاکستان سے الحاق کا مخالف کیا جائے ۔ 1895سے 1924ء تک بیس سال وادی چترال دو ریاستوں میں تقسیم رہا ، ریاست چترال کے والی حکمران اعلیٰ حضرت سر شجاع الملک اور ریاست مستوج کے ولی حکمران مہترجو راجہ بہادر خان رہے ۔ پاکستان سے باضابطہ اعلان کے بعد چترال کو پھر سے دو ضلعوں میں تقسیم کیا گیا ، ضلع چترال ڈپٹی کمشنر شہزادہ شہاب الدین اور ضلع مستوج کا پہلا ڈپٹی کمشنرشہزادہ اسدالرحمن مقرر ہوئے ۔ عجیب اتفاق اور حقیقت ہے کہ چترال کو پھر بھی والیاں ریاست کی نگرانی اور مکمل اختیار میں آزاد ریاست ہی کے طور پر اس کا اپنا وزیر اعظم ، اپنا کمانڈر انچیف ہوا کرتا تھا ۔ پہلا وزیر اعظم جو آخر تک رہے ، مہتر جو دلارم خان اور پہلا کمانڈر انچیف شہزادہ برہان الدین مقرر ہوئے اور چترال دو اضلاع ، چھ گورنریوں اور تحصیلوں میں انتظامی تقسیم رہا۔ ریاست چترال کے تین فل تحصیلیں دروش، چترال اور گرم چشمہ لوٹ کوہ تھے جن کا ڈی۔ سی شہزادہ شہاب الدین اور ضلع مستوج کی تین تحصیلیں مستوج ، تورکھو اور موڑکھو جن کا ڈی۔ سی شہزادہ اسد الرحمن تھے ۔ ہر تحصیل میں ایک اے۔ سی مقرر تھے ، دونوں الگ الگ اضلاع کو ایک پولیٹکل ایجنٹ نگرانی کرتا تھا ۔ 1947سے 1969چترال کے ضلع بننے تک یہی پوزیشن رہا مگر 1969ء میں اٹھ ہزار پا نچ سو کلومیٹر چترال اور سات ہزار کلومیٹر مستوج کو ایک ضلع قرار دے کر چترال کے چھ گورنریوں اور چھ تحصیلو ں کو سب تحصیل قرار دے کر چترال کے ساتھ بے جا ظلم اور ذیادتی کیا گیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ صرف اس لئے کیا گیا کہ چترال کے باشندوں نے چترال کو قانونی ضلع بنانے کی تحریک چلائی اور ضلع بننے پر خوشیاں منائی اور مٹھائی تقسیم ہوئے جس کا بدلہ دو ضلعوں کو ایک ضلع بناکر دیا گیا جس سے اس وقت کے ڈی۔ سی کو اے سی اور اے سی صاحبان کو ای اے سی کی شکل میں سزا دے دی گئی حالانکہ دیر کے نواب کو گرفتار کرکے دیر کو ضلع بنایا گیا ، دیر کو چار صوبائی اور دو قومی اسمبلی کی سیٹیں دے دی گئییں ، دیر کے تمام سڑکوں کو پختہ کیا گیا ۔ آج دیر میں پختہ سڑکوں کی لمبائی آٹھ ہزار کلومیٹر ہے اور دیر کا رقبہ آٹھ ہزار کلومیٹر اور چترال کاچودہ ہزار ہے اور یہاں کی پختہ سڑکوں کی لمبائی 183کلومیٹر ہے۔ 1947سے 2004ء تک لواری ٹنل کے قابل عمل منصوبے کی منصوبہ نہ کی گئی حالا نکہ ملاکنڈ کی پہاڑی کے اندر سے تین کلومیٹر کے سات سرنگین نکالے گئے ۔ ہمارے ساتھ ایجنسی سے ضلعے کی حیثیت حاصل کرنے والے ضلع سوات کو چار اضلاع سوات ، شانگلہ ، بونیر اور کوہستان ، ضلع دیر کو اپر دیر اور لویر دیر کے دو اضلاع میں انتظامی تقسیم کرکے لوگوں کو سہولیات ، تعمیری، صحت اور تعلیم کے میدان میں دے گئے مگر چترال کے دو اضلاع کو ملاکر ایک ضلع بنایا گیا کیونکہ ہم شریف، پرامن ، مہذب ، قانون پسند اور پاکستان سے محبت رکھتے ہیں۔ دیر میں چکدرہ بورڈ ، یونیورسٹی ، ستر کی دہائی میں بنائے گئے ۔ چترال کے چار ہزار طلباء کے لئے اتنے دور افتادہ اور ستر سال تک ملک سے زمینی بارہ مہینہ زمینی راستہ نہ ہونے کے باوجود ایک انٹر اور یونیورسٹی نہیں دی گئی اور طلباء یو ایف ایم کیسز کی پیروی کے لئے اپنے والدین کے ہمراہ یونیورسٹی جانے پر مجبور ہیں کیونکہ ہم پاکستان سے محبت رکھتے ہیں۔ طلبا وطالبات چترال میں ان کا یونیورسٹی ،بورڈ دیر اور مردان میں ابھی تک حالانکہ پانچ سو طلباء یونیورسٹی کے چترال کیمپس میں اور شرینگل میں دو سو طلباء لے دے کے بھی چترال یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے مگر ابھی تک اس کو یونیورسٹی بورڈ کے طور پر سہولت نہیں ملی ہے۔

چترال کے واحد ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کسی ایک شعبے کا بھی اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں، سی ٹی اسکین، ڈائلیسز ، ایکو ، ایم آر آئی ، نیورو اور ہارٹ کے مریضوں کو پشاور سے باہر لے جایاجاتا ہے ۔ اکثر مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں ، کوئی انجینئیرنگ یونیورسٹی، ٹکنیکل و میڈیکل کالج کا وجود اور کیڈٹ کالج کی فکر تک ہمارے حکمرانوں کو قائم کرنے کی نہیں ہے کیونکہ ہم شریف پاکستان اور امن پسند ہیں۔ چترال اپنی جعرافیائی حیثیت میں کراچی، چمن اور خیبر پاس کی طرح ہے۔ ا نٹرنیشنل تجارت سیاحت کے طور پرافغانستان، چمن اور تاجکستان اور سنٹرل ایشیاء کے مختلف ممالک تک مختصر تریں اور آسان ترین سال بھر کی زمینی راستہ فراہم کرتا ہے۔ مگر چترال میں کاربار کرنے والے افغانی اور مہاجر بھائیوں کو رہائش ، کاربار اور محنت مزدوری کے تمام مراعات اور سہولیات موجود ہیں مگر جو کروڑوں روپے وہ ضلع چترال میں محنت مزدوری سے کماتے ہیں، ان کو چترال کے دروش ، گرم چشمہ ، مستوج، ایون اور ارندو کے قریبی بازار وں سے جائز اور قانونی تجارت کا وہ مال جن کی افغانسنتان اور دیگرممالک میں لے جانے پر کسی بارڈر پر پابندی نہیں ہے اور پرمٹ لے کر ٹیکسز ادا کرکے پشاور اور دیگر علاقوں سے جائز تجارت کی اجازت ہے مگر چترال کے بازار سے ان افغانوں کاروباری حضرات اور مزدوروں کو چترال بازار سے فٹ بال، کنگی، پلاسٹک، پائپ، شیشے ، میخ، سینی ٹیشن کے سامان عمارتی سامان وغیرہ خریدکر لے جانے کی اجازت نہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی کرنسی نقد افغانستان لے کر جلا ل آباد سے خریداری ہوتی ہے اور کروڑوں کا سرمایہ افغانستان نقدی کی صورت میں منتقل ہوتا ہے اور چترال بازار میں سامان خریدنا حرام ہے جس سے ہمارے بازار ماند پڑجانے کے ساتھ ہمارے ملک کو زرمبادلہ کا سخت نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ چترال جعرافیائی اہمیت سے پاک وطن کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ 1993ء کا سروے شدہ چترال ، گرم چشمہ، اشکاشم ہائی وے پراجیکٹ کا پی۔سی ون تیار منصوبہ این ایچ اے کی فائلوں میں سڑچکا ہے اور اب دوبارہ سروے کی اشد ضرورت پیدا ہوگئی ہے کیونکہ 23سالوں میں اس سڑک کی لاگت میں سو فیصد اضافہ ہوئی ہے۔ لواری ٹنل کے ساتھ ساتھ چترال سنٹرل ایشیاء راستے کی تعمیر کی اشد ضرور ت ہے تاکہ تیس ارب روپے کی ٹنل پر اخراجات کی واپسی کا ذریعہ بھی پید اکیا جاسکے۔ چترال گرم چشمہ اشکاشم ہائی وے کو فی الحال چین افغانستان اور پاکستان معاہدے سے تعمیر کی امید پیدا ہوگئی ہے کیونکہ افغانستان کو سی پیک کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ قندہار سے گوادر کو راستہ پاکستان دے دے اور چترال گرم چشمہ سے بدخشان تاجکستان کا راستہ افغانستان سے لے کر سنٹرل ایشیاء کے ممالک کی مدد سے سے ایک اور سی پیک سنٹرل ایشیاء اکنامک کوریڈور تعمیر کیا جائے ۔ چترال مستوج یارخون واخان خوروگ ریلوے ٹریک اور شاہراہ کی تعمیر کے لئے بھی این ایچ اے منصوبہ بندی کرے ۔ تاکہ کاشغر، چین ، گلگت ، خنجراب تک افغانستان کو راستہ دیا جاسکے۔ چترال کے اعلان شدہ ضلعے کو ہرحال میں بحال کرکے انتظامی افسران کا تقررکیا جائے اور چترال کے وسیع وعریض مشکل ترین گزرگاہوں پر مشتمل چودہ ہزار 850کلومیٹر پر پھیلے ہوئے علاقے کو اس کی پسماندگی اور دورافتادگی کے پیش نظر اس کے دو صوبائی سیٹوں کو کم نہ کیا جائے بلکہ چترال کی کالاش منفرد تاریخ ، کالاش ثقافت اور مذہبی اقدار کے حامل برادری کو بھی صوبائی اور قومی اسمبلی میں الگ نمائندگی دے کر اس تاریخی indegenous کلچر کی حفاظت کا بھی فکر کرے ۔ الیکشن کمیشن اس بات کا لحاظ رکھے کہ چترال کے باشندے 50ہزار سے ذیادہ کراچی، بیس ہزار لاہور، پچاس ہزار سے ذیادہ پشاور اور کم وبیش 29ہزار ملک کے دیگر شہروں میں محنت مزدوری کے لئے آتے جاتے ہیں اور پھر بیرون ملک چترالیوں کی تعداد کو ملایا جائے تو سب ملاکر تین لاکھ سے ذیادہ افراد ان چترال ڈومیسائل ہولڈروں کو انتخابی فہرست میں شامل ہی نہ کیا گیا ۔ ان سب کا خیال رکھا جائے تو پھر چترال کے سب باشندوں کی تعداد آٹھ لاکھ سے ذیادہ ہوسکتی ہے ۔ لہٰذا چترال کے محب وطن باشندوں کو دو صوبائی سیٹوں سے محروم نہ کیا جائے اور چترال کو ہی ایک قومی اسمبلی کا حلقہ قرار دے کر ہمارے کم کئے ہوئے صوبائی سیٹ کو بحال کیا جائے کیونکہ ہم کٹر پاکستانی، قانون پسند، پرامن ، شریف اور مہذب شہری ہیں ، مراعات میں اضافہ کر نے کی بجائے حاصل مراعات کو بھی ختم کرنے سے مایوسیاں جنم لیتی ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
4610

چترال کے اکثر نوجوان حصول تعلیم کے بعد ملازمتوں کے انتظار میں ٹائم ضائع کررہے ہیں۔ عبد الطیف

چترال ( محکم الدین ) چترال کے تین ماسٹر دگری ہولڈر نوجوانوں نے “کوروم غار “کے نام سے شہریوں کو گھر بیٹھے سودا سلف خریدنے اور گھر تک پہنچانے کی سہولت فراہم کرنے کا آغاز کیا ہے ۔ تینوں نوجوان خالد محمود الیکٹریکل انجینئر ، شفیق اعظم ایم ِ فل بایو ٹیکنالوجی یونیورسٹی آف پنجاب اور رئیس زادہ نور زمان ایم ایس سی پولٹیکل سائنس پر مشتمل تین رکنی ٹیم نے سروس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال کی سطح پر یہ نیا آئیڈیا ہے ۔ لیکن اُنہیں اُمید ہے یہ سروس کامیاب ہو گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گانکورینی سے بکر آباد تک فی الحال یہ سہولت فراہم کی جائے گی ۔ اُس کے بعد اس کو مزید شہروں تک بڑھایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کسی بھی شہری کو بازار سے فوری سودا سلف اور بیس کلو گرام تک سامان گھر پہنچانے کی ضرورت پڑے ۔ تو وہ “کوروم غار KORUMGHAR “کی نمبر پر کال کرکے گھر بیٹھے سامان حاصل کر سکتا ہے ۔ جس کیلئے صرف ایک سو روپے ڈیلیوری سروس ادا کرنا پڑے گا ۔ جو کلائنٹ کے وقت اور پیسے کی بچت کے حساب سے کوئی بڑا معاوضہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ کام ہم نے چترال کے اُن نوجوانوں کو بزنس لائن پر لانے اور مختلف آئیڈیا تخلیق کرکے روزگار کے مواقع مہیا کرنے کے جذبے کے تحت شروع کیا ہے ۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما عبداللطیف نے کہا ۔ کہ ہمارے نوجوان حصول تعلیم کے بعد ملازمتوں کے انتظار میں کچھ نہیں کرتے ۔اور والدین پر بوجھ بنے ہوئے ہیں جبکہ خدا کی دُنیا وسیع ہے ، اور مختلف کام کرکے باعزت روزگار کمایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ آج چترال کی حالت یہ ہے ۔ کہ مقامی نوجوان کام نہ کرنے کے سبب غیر مقامی لوگ کاروبار اور تمام تعمیراتی کام پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ اور روزگار کیلئے عرب ممالک جانے کی بجائے چترال کو ترجیح دیتے ہیں ، لیکن مقامی نوجوان ہاتھ پر ہاتھ دھرے وقت گزار رہے ہیں ۔ تقریب سے پروفیسر ظہورالحق دانش ، الطاف ایم طاہر اور دیگر نے خطاب کیا ۔ اور اس ا مر کا اظہار کیا ۔ کہ یہ چترال کے نوجوانوں کو ان کی تقلید کرتے ہوئے دوسرے مواقع تلاش کرنے چاہیءں ۔ اور دیے سے دیا جلتا رہے ۔ تاکہ چترال معاشی طور پر خوشحال ہو ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم سی پیک کے فوائد کی تو بات کر رہے ہیں ۔ لیکن ہم نے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ تو سی پیک چترال کی تباہی کا سبب بنے گا ۔ اور وسائل پر دوسرے لوگ قابض ہوں گے ۔ پروگرام کے آخر پر افتتاح کیخوشی میں کیک کاٹے گئے ۔ اور شرکاء نے بھر پور تعاون کی یقین دھانی کرائی ۔

Posted in تازہ ترینTagged , , , , ,
4602

عام آدمی کی خبرگیری ………..محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا حکومت نے جاتے جاتے کچھ کام ایسے شروع کئے ہیں جن سے اکثریتی آبادی سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کو فائدہ ہوگا جسے پاکستان کی سیاسی زبان میں عام آدمی کہا جاتا ہے۔ جس کی آبادی ہمارے ملک کی مجموعی آبادی کا نصف سے زیادہ ہے۔ اور معاشیات کی زبان میں اگر ان کا تعارف کرایا جائے تو انہیں غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گذارنے والے لوگ کہا جاسکتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جب بھی بجٹ پیش کرتی ہیں تو یہ دعویٰ ضرور کرتی ہیں کہ حکومت نے آمدنی بڑھانے کے لئے جو ٹیکس لگائے ہیں اس سے ’’ عام آدمی‘‘ متاثر نہیں ہوگا اور ترقیاتی بجٹ کی بدولت عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔ لیکن ہر بجٹ کا فائدہ ہمیشہ بڑے جاگیر داروں، سرمایہ داروں، صنعت کاروں ، تاجروں، برآمدکنندگان ، بینکاروں ، بڑے ٹرانسپورٹروں اور موٹی موٹی تنخواہیں لینے والے لوگوں کو ہی پہنچا ہے۔ بدقسمت عام آدمی 1947میں بھی عام تھا۔آج 2018میں بھی اس کا مقام، حیثیت اور معیار زندگی تبدیل نہیں ہوا۔ہر بجٹ میں محنت کشوں کے لئے کم سے کم اجرت کا تعین کیا جاتا ہے لیکن اس قانون پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے اس کا جائزہ لینے اور فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کی کسی حکومت کو توفیق نہیں ہوئی۔ خیبر پختونخوا حکومت نے بھی وفاق کی تقلید کرتے ہوئے مزدور کی کم سے کم اجرت پندرہ ہزار روپے ماہوار مقرر کی تھی۔ لیکن کارخانے داروں، بھٹہ خشت مالکان، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں سے اس قانون پر عمل درآمد کرانے کی ضرورت ماضی میں کبھی محسوس نہیں کی گئی۔ اس بار صوبائی حکومت نے اپنے قول کو سچ ثابت کرنے کی ٹھان لی ہے۔محکمہ محنت نے کم سے کم اجرت کے قانون پر عمل درآمد کے لئے چار ہزار کے قریب یونٹوں کا معائنہ کیا۔ جن میں فیکٹریاں، بھٹے، بیکریاں ، سٹورز ، تندور، نجی میڈیکل سینٹرز، سیکورٹی ایجنسیاں، موبائل کمپنیاں وغیرہ شامل ہیں۔ اور چھ سو سے زیادہ یونٹوں کے خلاف قانون کی خلاف ورزی پر مقدمات درج کئے گئے۔تاہم کچھ ادارے اب بھی حکومت کی توجہ حاصل نہیں کرسکے۔ یا کسی مصلحت کے تحت ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جارہا۔ ایسے ہی اداروں میں میڈیا ہاوسز اورپرائیویٹ سکولز بھی شامل ہیں۔ جن میں کام کرنے والے محنت کشوں کو کم سے کم اجرت بھی نہیں ملتی۔ وہ برسوں سے کنٹریکٹ پر کام کرتے ہیں۔ سرکاری سکولوں کے میٹرک یا ایف سے پاس پرائمری ٹیچرز کو کم سے کم تیس ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے اس کے باوجود وہ آئے روز احتجاج اور ہڑتالیں کرتے ہیں جبکہ پرائیویٹ سکولوں کی ڈبل ایم اے ، ایم ایس سی پاس اساتذہ کو آٹھ سے دس ہزار روپے اجرت دی جاتی ہے اور انہیں احتجاج کرنے کا حق بھی حاصل نہیں۔تاہم محکمہ صنعت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مالی سال کے اختتام سے پہلے پورے صوبے میں کم سے کم اجرت کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔صوبائی حکومت نے جامع مساجد کے آئمہ کرام کے لئے ماہانہ دس ہزار روپے وظیفے کی منظوری دی ہے جس سے دین کی خدمت کرنے والے ہزاروں افراد مستفید ہوں گے۔ اس پروگرام پر سالانہ تین ارب روپے سے زیادہ خرچ ہوں گے۔ جس میں سے ایک روپیہ بھی کمیشن میں نہیں جائے گا۔ براہ راست عوام مستفید ہوں گے۔ صوبائی حکومت نے ادیبوں، شاعروں، ہنرمندوں، لوگ فن کاروں اور قلم کاروں کے لئے بھی ماہانہ وظائف کا اجراء کیا ہے۔ صوبہ بھر میں پانچ سو افراد کو ماہانہ تیس ہزار روپے کے حساب سے اعزازیہ دیا جائے گا۔ یہ بھی قومی وسائل میں عام لوگوں کو حصہ دینےکی مستحسن کوشش ہے ۔ پشاور بس ٹرانزٹ کوبھی عوامی فلاح و بہبود کا میگا پراجیکٹ کہا جاسکتاہے جس سے بسوں، ویگنوں اور سوزوکیوں میں سفر کرنے والے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ اور انہیں پبلک ٹرانسپورٹ کی کھٹارہ گاڑیوں میں غیر انسانی سلوک سے نجات مل جائے گی اور بہترین سفری سہولیات میسر آئیں گی۔ منصوبے پر 56ارب روپے کی لاگت کا تحمینہ ہے۔تین ارب روپے سے شاہراہوں کے ساتھ بنائے گئے فلاور بیڈز ، پھول، پودے، گھاس اور سجاوٹی سامان بی آر ٹی کی وجہ سے بیکار ہوگئے اور باب پشاور کے نام سے فیز تھری چوک میں جو فلائی اوورپانچ چھ ارب روپے کی لاگت سے بنایا گیا تھا وہ بھی بی آر ٹی فنکشنل ہونے کے بعد بیکار ہوگا اس طرح منصوبے پراصل لاگت 65ارب روپے بھی تجاوز کرجائے گی۔ تاہم یہ بات قابل اطمینان ہے۔ کہ یہ منصوبہ عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ہمارے حکمران عوام کو گروی رکھ کر اربوں ڈالر کا قرضہ مختلف ممالک اور مالیاتی اداروں سے بھاری کمیشن کے عوض لے چکے ہیں۔ اور یہ قرضہ عوام بھاری شرح سود کے ساتھ ناقابل برداشت ٹیکسوں کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کا ہر شہری مقروض ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ان قرضوں سے عام آدمی کو سہولت پہنچانے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایاگیا۔اب حکومت قرضہ لے کر عوام پر خرچ کر رہی ہے تو اس کی ستائش تو بنتی ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
4600

مردم شماری،سیٹ خاتمہ مسترد،چترالیوں نے احتجاجی تحریک کی دھمکی دیدی

Posted on

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے مختلف سیاسی جما عتوں کے قائدین سول سوسائٹی وکلاء تاجرمیڈیا سے وابستہ افراد نے چترال میں مردم شماری کے نتائج اور ضلع کی ایک صوبائی اسمبلی کی سیٹ ختم کرنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ اس سلسلے میں بارہ رکنی سٹرنگ کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو آئندہ کے لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے اقدامات کرے گی اس بات کا فیصلہ پیر کے روز پشاور میں منقدہ اجلاس میں کیا گیا سابق ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی ایم پی اے سلیم خان سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد خان ضلع کونسل نائب ناظم مولانا عبدلشکور چترال جرنلسٹ فورم کے صدر ذوالفقار علی شاہ جنرل سیکرٹری نادرخواجہ محمد وزیر سرفراز شاہ وکلاء تاجر تنظیموکے نمائدوں نے شرکت کی اجلاس میں شرکاء نے مردم شماری میں چترال کی آبادی کو کم ظاہر کرنے اور انتخابی اصلاحات کے نام پر صوبائی اسمبلی کی سیٹ کو ختم کرنے کے فیصلے کی شدید مزمت کرتے ہوئے اسے چترال جیسے پسماندہ ضلع کے خلاف ایک گہری سازش قرار دیا گیا انہوں نے کہا کہ چترال رقبے کو لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے اور انتظامی معاملات کو چلانے میں مشکلات کے باعث ضلع کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا دوسری جانب ایم پی اے کی ایک سیٹ ختم کر کے پسماندہ ضلع کو مزید پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی گی ہے جو ضلع کی عوام کسی صورت میں قبول نہیں کریں گیاانہوں نے واضح کیا کے ضلع کی عوام سیٹ کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھیں گے بلکہ اس مقصد کے لیے انتخابات کے بائیکاٹ پر بھی غور کر سکتے ہیں اجلاس میں مردم شماری کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کو یاداشت پیش کرنے اور عوامی نمائندگی کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کہ خلاف عدالتی جنگ لڑنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ۔اجلاس میں ایک بارہ رکنی سٹرنگ کمیٹی تشکیل دیدی گئی جس میں سرتاج احمد خان ،عبدالاکبر چترالی،سلیم خان ایم پی اے،صادق آمین،محب اللہ ایڈوکیٹ،نادر خواجہ اور دیگر شامل ہونگے کمیٹی جلد از جلد اجلاس بلاکر آئندہ کی لائحہ عمل طے کرنے کا اعلان کرے گی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , ,
4581

صدا بصحرا………. پاک امریکاتعلقات کا نیا موڑ………… ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضیؔ

پاک امریکا تعلقات گزشتہ 67سالوں میں 20 دفعہ نئے موڑ پر آگئے اب اکیسویں بار نیا موڑ آگیا ہے وائٹ ہاوس اور پینٹا گان کی طرف سے دھمکی دی گئی ہے کہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کا سلسلہ بند کرو بھارت کی بالادستی قبول کرو فلسطینیوں کی حمایت سے توبہ کرو ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا اس میں شک کی کنجائش نہیں کہ عالمی تاریخ میں امریکا سے بُرا کوئی نہیں جرمن چانسلر بسمارک نے 1872میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا کہ سنبھل جاؤ دنیا کی قیادت کرنے کے لیئے تیار ہو جاؤ ورنہ ایسی قوم منظر عام پر آئے گی جس کے باپ کا شجرہ نہیں ہوگا جس کی تاریخ نہیں ہوگی 1945ء میں اقوام متحدہ بننے کے بعد امریکا کو ویٹو پاور دے دیا گیا تو بسمارک کی پیش گوئی حرف بحرف درست ثابت ہوئی یہ وہی قوم ہے جس کی طرف جرمنی کے عظیم دانشور ٗ مورّخ اور فلاسفر نے اپنی حکمرانی کے دوران اشارہ کیا تھا 1951میں پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنی بیگم کو شاپنگ کرانے کے شوق میں ماسکو کی دورے کی دعوت کو ٹھکرا کر امریکا کا دورہ کیا تو سید سبط حسن نے اس پر بڑاجامع اور پر مغز تبصرہ کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ جاگیر دار طبقہ پاکستان کو خوشحال دیکھنا نہیں چاہتا اس لیئے ہمیں امریکی ببول کی گرفت میں لا رہا ہے۔ علی سردار جعفری نے بھی خوبصورت مثال دی انہوں نے لکھا تھا کہ سانپ جس درخت کے ساتھ لپٹ جاتاہے وہ درخت سوکھ کر کانٹا بن جاتا ہے امریکا کی مثال سانپ جیسی ہے گزشتہ 67سالوں میں پاکستان نے امریکا کے ساتھ یک طرفہ دوستی نبھائی ہے 67سالوں میں امریکی امداد سے پاکستان میں ایک کلومیٹر سڑک نہیں بنی، ایک ڈسپنسری تعمیر نہیں ہوئی، ایک پرائمری سکول نہیں بنی ہمیں سٹیل ملز کا تحفہ سویت یونین نے دیا، دفاعی پیداوار میں خود کفالت کے لئے ٹیکسلا، کا مرہ اور واہ کینٹ میں ٹینک ، جہاز اور اسلحہ کی فیکٹریاں پیپلز ری پبلک آف چائنہ نے تعمیر کرکے ٹیکنالوجی کے ساتھ دیدی، امریکہ نے 26فیصد سے لیکر 37فیصد تک کا قرضہ دیا۔ سود کے ساتھ اصل زر وصول کیا اور پاکستان کو ایک دن بھی سر اٹھانے نہیں دیا۔ گذشتہ 67 سالوں میں پاکستان نے 40مواقع پر امریکہ کی مدد کی۔ کوریا کی جنگ، ویت نام کی جنگ ، چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات، 1978ء میں افغانستان کے اندر امریکی مداخلت اور پھر 2001ء میں افغانستان پر امریکہ کے فوجی حملے میں بھی پاکستان کا تعاون امریکہ کو حاصل رہا۔ پاکستان نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری مگر امریکہ کو مایوس نہیں کیا۔1965ء کی جنگ میں سویت یونین نے پاکستان کی مدد کی۔ معاہدۂ تاشقند کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے مگر پاکستان نے 1970ء میں امریکہ کو چین تک جانے کا راستہ دے کرسویت یونین کے ساتھ بے وفائی کی۔ 1971ء کی جنگ میں سویت یونین نے ہم سے بدلہ لے لیا۔ امریکہ کو ساتھ دینا چاہیئے تھا لیکن امریکہ نے بھارت کا ساتھ دیا۔ اس بات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ امریکہ نے 16دسمبر کو بھارت کے ذریعے مغربی پاکستان پر قبضے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ عوامی جمہوریہ چین کی فوری مداخلت اور دھمکی کام آگئی۔مغربی پاکستان امریکہ سے بچ گیا ۔ یکم جنوری 1972ء کے بعد امریکہ کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات ختم ہونے چاہیئے تھے۔ امریکہ کے دھوکے اور فریب سے باہر نکلنے کا یہ زرّین موقع تھا مگر یہ موقع ہماری قیادت نے کھودیا ۔ قدرت اللہ شہاب اور جنرل گل حسن کی یاد داشتوں سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے ۔ آج میرے سامنے تین قومی اخبارات ہیں ان اخبارات نے امریکی سی آئی اے کے موجودہ سربراہ مائیک پومپیوکے بیان کو دو کالمی اور تین کالمی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اردو اخبارات نے اس کے بیان کو مخصوص انداز میں ’’ ہرزہ سرائی‘‘ کا نام دیا ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے ہرزہ سرائی نہیں۔ امریکی سی آئی اے کے سربراہ نے دھمکی دی ہے کہ ’’ ہم نے پاکستان کو آخری موقع دیا ہے اس کے بعد حملہ ہوگا۔ اس دھمکی میں انہوں نے امریکی امداد سے دہشت گردی کرنے والے ایک افغان گروپ کا نام لیکر مطالبہ کیا ہے کہ اس گروپ کی حمایت نہ کرو۔ مذکورہ گروپ کو آپ حقانی کا نام دیں یا کوئی اور نام دیں۔ پاکستان اس نام سے ناواقف تھا دہشت گردی سے بھی ناواقف تھا۔ اپریل1978ء میں سی آئی اے حکام نے دہشت گردی کی بنیاد رکھی اور مختلف ناموں سے گروپ تشکیل د یکر وائٹ ہاؤس میں ان کو دعوتوں پر بلایا۔ پاکستان سے ان کو راستہ دینے اورپناہ دینے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے امریکہ کو خوش کرنے کے لئے ان کو پناہ بھی دے دی راستہ بھی دیا۔ اب وہ حالت ہے جس کے بارے میں ضرب المثل مشہور ہے ’’کوئلے کی دلالی میں منہ کالا‘‘ پاک امریکہ تعلقات کے نئے موڑ پر ہماری عسکری اور سیاسی قیادت کو آخری فیصلہ کرکے امریکہ کے ساتھ تمام تعلقات ختم کردینے چاہیءں۔ شاعر نے سچ کہا ہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے ہم

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
4482

داد بیداد ………سابقہ حکومت…………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

ایک واہمہ سا ہے جو سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچا ہے کہتے ہیں کہ کسی کی غیبت کی جارہی ہو تو اُس کے کان گرم ہوجاتے ہیں اگر یہ واہمہ سچ مُچ درست ہے تو پھر ’’ سابقہ حکومت ‘‘ کے کانوں کو ایک لمحے کے لئے بھی ٹھنڈک نصیب نہیں ہوگی گذشتہ 40سالوں سے ہر وزیر ، ہر لیڈر، ہر وزیر اعظم ، ہروزیر اعلیٰ اور ہر گورنر یہی کہتا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا قوم کا ستیا ناس کردیا دانیال عزیز اور شیخ رشید کے بیانات پڑھ لیں شاہ محمود قریشی ، پرویز خٹک ، امیر مقام اور مولانا فضل الرحمن کی تقریریں سن لیجئے سراج الحق ، شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی کے بیانات پر غور فرمائیے میرے پاس ملک کے 113لیڈروں کے دو ہزار تازہ بیانات ہیں جن میں سابقہ حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے اور سابقہ حکومتیں وہی ہیں جن میں یہ سارے لیڈر وزارتوں پر براجماں تھے اور ’’ موجودہ حکومت‘‘ کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے میرے ریکارڈ میں 88لیڈروں کے دو بیانات ہیں ایک بیان میں وہ پیپلز پارٹی کی تعریف کرتے ہیں دوسرے بیان میں مسلم لیگ کی خوبیاں بیان کرتے ہیں ایک بیان میں انہوں نے جنرل ضیاء الحق یا پرویز مشرف کو قوم کا نجات دہندہ ثابت کیا ہے دوسرے بیان میں ان کو ڈکٹیٹر اور تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دیا ہے ’’ جنابِ شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی‘‘ 5جولائی 1977ء کو ہماری ٹیم کارکن صحافیوں پر مشتمل تھی رات 12بجے تک اخبار کے دفتر میں گذر جاتی تھی اس رات 12بجے تک شہ سرخی نہیں ملی جب شہ سرخی ملی تو پتہ چلا کہ ادارتی صفحے پر بھٹو کو تیسری دنیا کا عظیم لیڈر اور فخر ایشیاء ثابت کرنے پر زور قلم صرف کیا گیا ہے حالانکہ صبح کا سورج مرد مومن مرد حق ضیاء الحق کا نام لیکر طلوع ہونے والا تھا چنانچہ 5جولائی کے بعض اخبارات میں اداریہ والا صفحہ سفید کاغذ کی صورت میں شائع ہوا بعض اخبارات نے راتوں رات اپنا قبلہ درست کرلیا اور نیا اداریہ شائع کیا ایک ہی قومی اخبار ایسا تھا جس کا ادارتی صفحہ کسی تبدیلی کے بغیر ہو بہو چھپ کر آیاچیف ایڈیٹر نے اگلے روز ڈیسک والوں کو چائے پلائی اور داد بھی دی، اس اخبار میں بھٹو اور پیپلز پارٹی کے لئے ’’موجودہ حکومت‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے تھے جو 5جولائی کے دن بھٹو کو مری میں نظر بندی کرنے کے بعد آنے والی حکومت پر حرف بحرف درست لگتے تھے جو تعریف 4جولائی والی موجودہ حکومت کی ہورہی تھی وہی تعریف 5جولائی والی ’’ موجودہ حکومت ‘‘ کے لئے بھی قابل قبول تھی تحقیق سے ثابت ہوا کہ چیف ایڈیٹر نے 4دن پہلے کارکن صحافیوں کو زبانی بتا دیا تھا کہ فخر ایشاء کا نام لینا بند کرو پیپلز پارٹی کا نام لینا بند کردو زمین آسمان کے قلابے ملاکر تعریف کرنی ہو تو ’’ موجودہ حکومت‘‘ لکھو یہ سدا بہار ترکیب ہے موجودہ حکومت نہ رہی تب بھی کام آئے گی اور شرمندگی سے بچائے گی اس کا نام ہے ’’ نسخہ ہائے وفا بنام چمچہ گان قدیم‘‘ گذشتہ سال سلطنت شریفیہ کی جگہ خلافت عباسیہ نے لے لی تو بعض اخبارات کو باقاعدہ اپنا قبلہ تبدیل کرنا پڑا تاہم دو چار اخبارات ایسے بھی ہیں جنہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑا یہ وہی ترکیب استعمال کرتے ہیں سیاسی لیڈروں میں مجھے شیخ رشید اور امیر مقام پسند ہیں دونوں کی یہ عادت اچھی ہے کہ سابقہ حکومت کی برائیاں بیان کرتے وقت ان کو پسینہ آجاتا ہے اور بقیہ بیان پسینہ پونچھنے کے بعد جاری رکھتے ہیں یہ ضمیر کے زندہ ہونے کی نشانی ہے ورنہ ایسے لیڈروں کی کمی نہیں جو ہر سابقہ حکومت کے حواریوں میں شامل ہوکر فوائدسمیٹتے رہے اور ’’موجودہ حکومت‘‘ میں شامل ہوتے ہی اپنی عینک ایسی تبدیل کی کہ سارے کیڑے سابقہ حکومت میں نظر آنے لگے ہمارے دوست سید شمس النظر شاہ فاطمی نے ایسے لیڈروں کے لئے ’’موجودہ حکومت‘‘ کی طرح ایک سدا بہار سوال تیا ر کرلیا ہے سوال یہ ہے کہ ’’ وہ کونسی سابقہ حکومت تھی جس میں تم حصہ دار نہیں تھے؟‘‘ یہ سکہ بند سوال ہر ایسے لیڈر سے با آسانی پوچھا جاسکتا ہے جو سارے مسائل کا الزام سابقہ حکومت پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دیتا ہے ایسے لیڈروں کے لئے مرزا غالب کی غزل کا یہ شعر بھی برمحل لگتا ہے
کہاں میخانے کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
4403

دوائے دل…. کوئی نسبت تو ہوئی رحمت عالمؐ سے مجھے!…. مولانا محمد شفیع چترالی

دنیا میں خیر و شر اور حق و باطل کی معرکہ آرائی ابتدائے آفرینش سے جاری ہے اوراللہ کی زمین کسی بھی دور میں ایسے لوگوں سے خالی نہیں رہی جو سچائی کی جنگ لڑتے، حق پر قائم رہتے اور باطل سے دودو ہاتھ کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایسے لوگ بھی روئے زمین پر ہمیشہ وافر مقدار میں پائے جاتے رہے ہیں جو طاغوت پر ایمان رکھتے، کفرو و شرک پر اڑتے اور حق والوں سے ستیزہ کاری کو اپنا شعار بنالیتے ہیں۔ اقبال کا شعر ہے تو بہت مشہور لیکن اس کی معنویت کی گہرائی اسے ہر دم تازہ و تابندہ رکھتی ہے کہ ؂
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفویؐ سے شرار بو لہبی

آج کی دنیا کے منظر نامے ہر اگر ایک نظر دوڑائی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ چراغ مصطفویؐ سے شرار بولہبی کی ستیزہ کاری اس وقت کی سب سے بڑی عالمی حقیقت ہے۔ گزشتہ صدی کے نصف آخر میں مغربی سرمایہ داریت اور روسی اشتراکیت کی کشمکش دنیا کی سب سے بڑی معرکہ آرائی قرار پائی اور دنیا کے خطیر وسائل اس جنگ میں جھونکے گئے جبکہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد رواں صدی کے آغاز سے پہلے ہی یہ بات طے کر لی گئی تھی کہ نئی صدی میں مغربی سرمایہ داریت کا ہدف اسلام کا’’ خطرہ‘‘ ہوگا۔ عالمی طاقتوں نے اس مقصد کے لیے جہاں عراق اور افغانستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں بودے بہانوں سے گرم محاذ کھولے اور لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا، وہیں ساتھ میں نظریاتی جنگ کے لیے ابلاغی ہتھیاروں کو بھر پور طریقے سے بروکار لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام سے متعلق تشکیک پھیلانے اور مسلم معاشروں کو اسلامی تعلیمات سے برگشتہ کرنے کے لیے مختلف حربے بروئے کار لائے جانے لگے۔

ان میں سے سب سے خطرناک حربہ مسلمانوں کی محبتوں اور عقیدتوں کے مرکز و منبع محسن انسانیت حضوررسالت ماٰب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات پر رکیک حملے کرکے امت مسلمہ کے قلب و جگر کو چھلنی کرنے کا حربہ تھا۔ مغرب جانتا ہے کہ حضور خاتم النبیینؐ سے محبت و عقیدت دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے درمیان بائینڈگ فورس ہے اورآپؐ کے ساتھ مسلمانوں کا رشتہ کمزور پڑگیا تو اس کے لیے اپنے عزائم کی تکمیل آسان ہوجائے گی۔ چنانچہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مغربی اخبارات و جرائد میں توہین آمیز خاکے اور مضامین شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور جب مسلمانوں نے اس ناپاک جسارت کے خلاف احتجاج شروع کیا اور عالمی قوتوں سے اس دریدہ دہنی کو روکنے کا مطالبہ کیا تو مسلمانوں کے اس احتجاج کو ’’انتہاپسندی‘‘ جبکہ توہین رسالت کی ناپاک کوششوں کو’’ آزادئ اظہار‘‘ کاحق باور کرانے کی کوشش کی گئی۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق چند مسلماں نوجوانوں نے خاکے شائع کرنے والے جرائد کے دفاتر پر حملے کیے تو باوجود اس کے اسلامی دنیا کے ذمہ دار ممالک اور شخصیات نے ان حملوں کی مذمت کی، اگلے ہی روز 40مغربی ممالک کے سربراہان ہنگامی بنیاد پر جمع ہوکر توہین رسالت کے مجرموں کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور یہ پیغام دے دیا کہ انہیں دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مجروح جذبات و احساسات کی کوئی پروا نہیں ہے اور در حقیقت وہی چراغ مصطفوی کے مقابلے میں شرار بولہبی کو بھڑکانے والے ہیں۔

ان قوتوں نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ پاکستان سمیت ان اسلامی ممالک پر جہاں توہین رسالت جرم ہے، دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ وہ انسداد توہین رسالت کے قوانین کو ختم کرکے ناموس رسالت کے خلاف دریدہ دہنی کے لیے میدان ہموار کریں تاکہ وہ اپنے پیادوں کو اس میدان میں اتار سکیں۔ یہ کوششیں تو زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں تاہم دوسری جانب رواں عشرے کے آغاز پر سوشل میڈیا کی صورت میں مغرب کو ایک نیا ہتھیار میسر آگیا، اس ہتھیار کو استعمال کرنا اس لیے آسان ٹھہرا کہ اس کے ذریعے چھپ کر وار کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ایک وقت ایسا آیا جب پاکستان جیسے ملک میں جہاں98فی صد آبادی مسلمان ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عقیدت بھی رکھتی ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی غلیظ پروپیگنڈے کا آغاز کیا گیا۔ اس پروپیگنڈے نے ہر کلمہ گو پاکستانی کو شدید ذہنی کرب اور اذیت میں مبتلا کردیا، مختلف دینی جماعتوں، عوامی حلقوں اور تمام طبقات نے اپنی اپنی سطح پر اس سلسلے میں احتجاج کیا لیکن افسوس کہ ہمارے حکمرانوں نے اپنی ذمہ داریوں کا بروقت ادراک نہیں کیا اور بہت دنوں تک پاکستانی قوم دکھ اور بے بسی کی کیفیت میں مبتلا رہی۔
مگر یہ اس قو م کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے ایک بیٹے نے باطل کے اس زہریلے وار کا مؤثر جواب دینے کی ٹھانی اور اپنی ایمانی حمیت، قانونی بصیرت اور اپنے منصب کی طاقت کا پورا پورا استعمال کرتے ہوئے شرار بولہبی کی بھڑکوں پر ایسی روک لگادی ہے کہ ان شا ء اللہ یہ اب کم از کم پاکستان میں چراغ مصطفویؐ سے ستیزہ کاری میں کوئی تیزی نہیں دکھاسکیں گی۔

میری مراد عزت ماٰب جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب سے ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر توہین رسالت کے مقدمے میں انتہائی جرأ ت مندانہ اور تاریخی فیصلہ جاری کرکے پوری پاکستانی قوم کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران جس طرح تمام متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران کے ایمان و غیرت کو جھنجھوڑااور سوشل میڈیا پر توہین رسالت کے سدباب کے لیے جو احکامات جاری کیے، اس سے پاکستان کے بیس کروڑ مسلمانوں کو ایک ڈھارس ملی کہ پاکستان کے ریاستی اداروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی بدولت ہم اپنے اداروں پر فخر اور اعتماد کرسکتے ہیں۔

جسٹس شوکت عزیزصدیقی کا یہ فیصلہ اب کتابی شکل میں شائع ہوچکا ہے اورراقم اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے کہ جسٹس صاحب کے دستخط کے ساتھ سے یہ کتاب بندہ کے بھی نظر نواز ہوئی ہے۔ بندہ نے بہت سے پینٹ کورٹ والے حضرات کو علماء وبزرگان دین سے انتہائی عقیدت وانکساری سے ملتے اور ان کی دست بوسی کرتے دیکھا ہے، گزشتہ دنوں اس کے برعکس ایک نجی تقریب میں بڑے بڑے علماء کو پینٹ کورٹ میں ملبوس جسٹس شوکت عزیز سے دینی عقیدت سے ملتے اوران پر عقیدتوں کے پھول نچھاور کرتے دیکھا اور زبان پر بے اختیاریہ آیت آگئی کہ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔

جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا یہ فیصلہ ایک جانب ان کی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ سے بے پناہ محبت و عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس کے ایک لفظ اور پیرے میں حب نبوی کے کوثر و تسنیم کی آب و تاب جھلکتی ہے تو دوسری جانب یہ بین الاقوامی اور ملکی قوانین پر ان کی زبردست دست رس کی بھی گواہی دیتا ہے۔ جسٹس صدیقی نے اپنے اس فیصلے میں جہاں قرآن و سنت کے دلائل و براہین، اسلامی تاریخ اور فقہ کے نظائراور نامور مسلم مفکرین و علماء کی آراء سے انسداد توہین رسالت کے اسلامی احکام کو الم نشرح کردیا ہے، وہیں ساتھ میں اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین، مغربی و یورپی ممالک کے عدالتی فیصلوں اور رائج دساتیر کے نظائر سے ان تمام اشکالات و شبہات کو مدلل اور مسکت جواب دیا ہے جو آزادئ اظہار اور تحفظ افکار کے نام پر پھیلائے جارہے ہیں۔ جسٹس صاحب نے ناقابل تردید دلائل سے ثابت کیا ہے کہ دنیا کے کسی قانون اور ضابطے میں’’ اظہار کی آزادی‘‘ اور’’ اظہار کی ذمہ داری‘‘ کو الگ الگ نہیں کیا گیا۔ جسٹس صاحب کے اس فیصلے پر اگر مختصر تبصرہ کیا جائے تو یہ ناموس رسالت کے تحفظ کے سلسلے میں مسلمانوں کے علمی ورثے کا خلاصہ اور نچوڑ ہے اور اس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ محض ایک تحقیق یا تصنیف نہیں بلکہ باقاعدہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ گویا جسٹس صاحب نے اس مسئلے پر امت مسلمہ کے موقف پر عدالتی مہر ثابت کردی ہے اور اپنے سچے اور کھرے ’’صدیقی ‘‘ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ جسٹس صاحب نے اس فیصلے میں ملک میں توہین رسالت کے سدباب کے لیے بہترین سفارشت پیش کی ہیں، توہین رسالت کے جھوٹے مقدمات قائم کرنے کی روک تھام کے لیے انہوں نے تجاویز دی ہیں جن پر غور کیا جانا چاہیے۔ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے فیصلے کی کتاب پر مختصر اور جامع تقریظ لکھی ہے جبکہ دیگر کئی علماء اور مذہبی رہنماوں کی فیصلے سے متعلق تحریریں کتاب کا حصہ ہیں۔ کتاب میں شامل عرفان صدیقی کی تحریر اور ختم نبوت سے متعلق پارلیمنٹ ذولفقار علی بھٹو کی تقریر بھی پڑھنے کی چیز ہے۔
جسٹس صاحب نے فیصلے کا آغاز قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کے حوالوں اور اختتام علامہ ابن تیمیہؒ کی شہرہ آفاق ’’الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول‘‘ کے اقتباس سے کیا ہے اور آخر میں اپنے جذبات کی ترجمانی ان اشعار سے کی ہے ؂
میں نہ زاہد، نہ مجاہد، نہ مفسر نہ حکیم
میری دولت دل شرمندۂ عصیاں ہی سہی
کوئی نسبت تو ہوئی رحمت عالمؐ سے مجھے
آخری صف کا میں ادنیٰ سا مسلماں ہی سہی

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
4397

ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے زیر اہتمام پوزیشن ہولڈرطلباء و طالبات میں وظائف کے چیک تقسیم

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اپنی محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی ، ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے اور ان کے لئے آگے جانے کے لئے مواقع کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے تاکہ قوم کی مستقبل کو تابناک اور درخشان بنایاجاسکے ۔ منگل کے روز یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات اور میٹرک میں پوزیشن ہولڈروں کو وظائف کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال کے نسل نو میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور اگر ضرورت ہے تو اسے بروئے کار لانے اور اسے جہت فراہم کرنے کی ہے جس سے ضلعی حکومت عہدہ براہونے کی کوشش کررہی ہے اور اس سلسلے میں سول سوسائٹی کو بھی آگے آکر اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ کے کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اس ادارے نے ضلعی حکومت کی کوششوں میں بھر پور مدد فراہم کی ہے اور ضرورت مند طلباء طالبات تک ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی طرف سے وظائف پہنچانے کے لئے تمام دفتری اور ضابطے کی کاروائی سرانجام دی۔ اس سے قبل سوشل ویلفیر افیسر نصرت جبین نے کہاکہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے اے ڈی پی فنڈ سے 19لاکھ روپے ان ہونہار طلباء و طالبات کی وظائف کے لئے منظور کردیا تھا جوکہ ٹیلنٹ رکھنے کے باوجود اعلیٰ تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے تھے اور یہ ضلع ناظم اور ضلعی حکومت کی طرف سے ان کی بہت بڑی حوصلہ افزائی تھی ۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ سماجی بہبود نے تمام طریقہ ہائے کار پورا کرنے کے بعد حقدار طلباء وطالبات کی نامزدگی عمل میں لائی جن کو ضلع ناظم آج چیک دے رہے ہیں۔ انہوں نے ضلع ناظم سے مطالبہ کیا کہ اے ڈی پی فنڈ سے سوشیو سائیکو کونسنلنگ کے لئے مرکز کھولنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ نوجوان خواتین میں بڑھتی ہوئی خودکشی کے رحجان میں کمی لائی جاسکے۔ اس موقع پر نائب ضلع ناظم مولانا عبدالشکور نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہاکہ اس اہمیت کے پیش نظر ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے اس سیکٹر پر بھر پور توجہ دی ہے۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ ، نائب ضلع ناظم مولانا عبدالشکور، ایڈیشنل ڈی سی منہاس الدین، اے سی چترال عبدالاکر م خان ، سوشل ویلفیر افیسر نصرت جبین اور ممبران ضلع کونسل شیراحمد (ارندو) اور رحمت ولی (یارخون) اور چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے بھی طلباء وطالبات میں چیک تقسیم کئے جبکہ غیر حاضر طلباء وطالبات کے چیک ان کے سرپرستوں نے حاصل کیا۔

district nazim chitral distributes cheques among students shokor district nazim chitral distributes cheques among students

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , ,
4271

آل سب انجینئرایسوسی ایشن کااپ گریڈیشن کی منظور ی نہ دینے پر قلم چھوڑ ہرتال کرنے کا اعلان

چترال(بشیر حسین آزاد)مورخہ9 جنوری 2018 کو آل سب انجینئرایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت سید ضیا الرحمن صدر سب انجینئر ایسو سی ایشن ضلع چترال منعقد ہوا۔
اجلاس میں اس بات پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا گیا کہ صوبائی حکومت نے محکموں کے تمام کیڈر کے اپ گریڈیشن کی منظوری دی جبکہ سب انجینئر کے پی کے کی اپ گر یڈیشن کی منظوری تا حال نہیں دی گئی۔
لہذا تمام سب انجینئر ایسوسی ایشن کے متفقہ فیصلے کے مطا بق تمام محکمہ جات کے سب انجینئر آج سے قلم چھوڑ ہرتال کرینگے اور مطالبات کی منظوری تک ہرتال کا سلسلہ جاری رہے گا۔اگر پھر بھی مطالبات منظور نہیں ہوئے تو 15 جنوری 2018سے بنی گالہ میں دھرنادینگے۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged ,
4269

وزیرخارجہ کا معصومانہ مشورہ …….. محمد شریف شکیب

ہمارے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے سماجی رابطوں کی ویپ سائٹ ٹوئیٹر پر امریکہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کو دھمکانے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے تجربے سے استفادہ کرنے کی کوشش کرے تاکہ اس لامتناہی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی امریکی نائب صدر کے بیان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری امن پسندی اور شرافت کو کمزوری سے تعبیر نہ کیا جائے۔ انہوں نے امریکی حکومت کو یہ باور بھی کرانے کی کوشش کی کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ اور ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اس دوران امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیراعزاز چوہدری نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں شہدائے اے پی ایس کی یاد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف تیرہ فوجی آپریشن کئے ہیں۔ اب تک اس جنگ میں چھ ہزار آٹھ سو سیکورٹی اہلکاروں سمیت اکیس ہزار شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری نہیں تھی بلکہ ہم پر مسلط کی گئی۔ دوسروں کی جنگ میں اتنی قربانیاں دینے کے باوجود ان کا اعتراف نہ ہونا افسوس ناک ہے۔ دوسری جانب کابل کے دورے پر آئے ہوئے امریکی نائب وزیرخارجہ نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا سلسلہ بند نہ ہوا۔ تو پاکستان کو بہت کچھ کھونا پڑے گا۔حیرت کی بات ہے کہ امریکی جب بھی افغانستان کے دورے پر آتے ہیں تو بھارت کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان پانامہ، یمن، لبنان، چیک رپبلک یا تبت جیساکوئی چھوٹا موٹا ملک نہیں۔ بلکہ بیس کروڑ کی آبادی اور جوہری طاقت رکھنے والا مضبوط اسلامی ملک ہے۔ پاکستان نے ہی سوویت یونین کو افغان سرزمین پر شکست دینے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ اور اس امریکی جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے چالیس لاکھ افغانیوں کو 38سالوں سے پال رکھا ہے۔جس کی مثال دنیا کا کوئی ملک نہیں دے سکتا۔ نائن الیون کے پراسرار واقعے کی آڑ میں جب امریکہ نے افغانستان میں طالبان حکومت پر یلغار کی ۔توامریکی صدر جارج بش نے یہ اعلان کیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں جو امریکہ کا اتحادی نہیں بنے گا۔اسے دہشت گردوں کا ساتھی تصور کیا جائے گا۔ امریکہ کے شر سے بچنے کے لئے جب تمام بڑے ممالک نے اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا تو پاکستان کو بھی بہ امر مجبوری حامی بھرنی پڑی۔ گذشتہ سولہ سالوں سے جاری اس لامتناہی جنگ میں پاکستان نے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا۔ اور سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھایا۔اس کے باوجود جارج بش اور بارک اوبامہ سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ تک سب ہی پاکستان سے ڈومور کا تقاضا کرتے رہے۔لیکن اب بات تقاضے سے بڑھ کر دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔ جس کا ٹھوس اور ترکی بہ ترکی جواب دینے کا وقت آگیا ہے۔ امریکہ کی معاندانہ اور ناقابل قبول پالیسی کے پیش نظر اب پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے اپنے پاوں نکالنے ہوں گے۔امریکہ کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے نہ صرف برادر ہمسایہ ملک افغانستان ہمارے خلاف ہوگیا ہے بلکہ امریکہ نے دانستہ طور پر بھارت کو افغانستان میں مرکزی کردار دے رکھا ہے ۔مختلف افغان صوبوں میں قائم بھارتی قونصل خانے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے تربیتی مراکز بن چکے ہیں۔ اگر امریکہ کو اپنے دفاع کے لئے سات سمندر پار آکر اٖفغانستان میں فوجی کاروائی کا اختیار حاصل ہے تو ایک ایٹمی قوت رکھنے والے ملک پاکستان کو بھی اپنے دفاع میں کسی بھی ملک میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے تجربے سے سیکھنے کا امریکہ کو مشورہ دینا بچگانہ حرکت ہے۔ بدقسمتی سے ہماری قیادت اپنے سیاسی مفادات اور اقتدار کی خاطر امریکہ کو خوش رکھنے پر مجبور ہے۔ لیکن پاکستان کے بیس کروڑ عوام کو امریکی خوشنودی کی ضرورت نہیں۔ ہم امریکی امداد کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ امریکی امداد سے پاکستانی عوام کو نہیں ۔صرف مفاد پرست ٹولے کو فائدہ ہے۔ اور قومی سلامتی کی قیمت پر قوم اس ٹولے کی غیر ملکی امداد پر مزید عیاشیاں برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
3618

دو اضلاع اور ایک ایم پی اے ……….محمد شریف شکیب

الیکشن کمیشن نے حالیہ مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں آبادی کے لحاظ سے کمی بیشی کے ابتدائی اعدادوشمار جاری کئے ہیں۔جس کے تحت قومی اسمبلی کی نشست کے لئے آبادی کی مطلوبہ شرح سات لاکھ 80ہزار اور صوبائی حلقے کے لئے تین لاکھ آٹھ ہزارمقرر کی گئی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویپ سائٹ پر خیبر پختونخوا اسمبلی کی 99نشستوں میں مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق نشستوں کی تقسیم کا جدول جاری کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق آبادی کم ہونے کی وجہ سے چترال،چارسدہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور صوابی کی ایک ایک صوبائی نشست کم کی جائے گی جبکہ انہی پانچ نشستوں میں سے تین پشاور ایک سوات اور ایک لوئر دیر کو دی جائے گی۔مردم شماری کے ان اعدادوشمار کے مطابق چترال سے قومی اسمبلی کے حلقہ میں ضلع اپردیر کے کچھ علاقے بھی شامل کئے جاسکتے ہیں جبکہ ضلع لوئر اور اپر چترال کو صوبائی اسمبلی کی صرف ایک نشست ملے گی۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان نے ابتدائی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے لئے مردم شماری کی رپورٹ کو اصولی طور پر پیش نظر رکھا جارہا ہے۔ جس پر مشاورت اور بحث و مباحثے کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔محکمہ شماریات کی اس رپورٹ کی بنیاد پر سوشل میڈیا میں طویل بحث چھڑ گئی ہے۔ کوئی اسے تبدیلی لانے والوں کی مہربانی قرار دے رہا ہے تو کوئی چترال کو دو انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرنے کا مذاق اڑا رہا ہے۔ چترال سمیت ملک بھر میں مردم شماری محکمہ شماریات نے کرائی ہے۔ جو وفاقی حکومت کے ماتحت ادارہ ہے۔ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ یا بلوچستان کی حکومت کا ان اعدادوشمار اور حلقہ بندیوں کے فارمولے سے کوئی تعلق نہیں۔ چترال کو صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں دینے کا فیصلہ اس کی پسماندگی اور وسیع رقبے کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ کیونکہ ارندو سے لے کر بروغل تک ساڑھے چودہ ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلی ہوئی آبادی تک کوئی ایک نمائندہ پہنچ سکتا ہے نہ ہی ایک ایم پی اے کے قلیل فنڈز سے اتنے بڑے علاقے کے مسائل میں کمی لائی جاسکتی ہے۔صوبائی حکومت نے چترال کی دورافتادگی، پسماندگی اور انتظامی مسائل کی وجہ سے حال ہی میں اسے دو انتظامی اضلاع لوئر اور اپر چترال میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر محکمہ شماریات کے اعدادوشمار اور الیکشن کمیشن کے فارمولے کے تحت ضلع کی ایک صوبائی نشست ختم کی جاتی ہے تو اسے انتظامی لحاظ سے دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا عوام کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچے گا۔یہاں مردم شماری کے نتائج پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔انیس سال بعد ہونے والی مردم شماری میں بھی ضلع کی آبادی کو صرف چار لاکھ 47ہزار دکھایاگیا ہے۔ جو لوگ ملازمت، تعلیم یا محنت مزدوری کے لئے ضلع یا ملک سے عارضی طور پر باہر گئے ہیں۔ خانہ و مردم شماری میں ان کا شمار ہی نہیں کیا گیا۔اگر حقیقت پسندانہ مردم شماری کرائی جائے تو چترال کی آبادی چھ سے سات لاکھ کے درمیان ہے۔آبادی کی بنیاد پر ہی وسائل کی تقسیم ہوتی ہے۔ چترال، کوہستان، کالام، دیر، بونیر، شانگلہ، بٹگرام جیسے دور افتادہ علاقوں کو پشاور، پنڈی، فیصل آباد، لاہور، کراچی اور حیدر آباد کے ساتھ ترازو میں رکھنا زیادتی ہے۔ اور پھریہ کوئی خدائی حکم تو نہیں کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 99ہی رہے۔ عوامی مفاد اور انتظامی سہولت کے لئے ان کی تعداد بڑھا کر 120بھی تو کی جاسکتی ہے اور قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد بھی آبادی کے لحاظ سے بڑھاناپارلیمنٹ کا اپنا کام ہے۔ چترالی قوم خیبر پختونخوا حکومت سے بجاطور پر یہ توقع رکھتی ہے کہ انتظامی طور پر چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے بعد اگر صوبائی نشستوں کی تعداد بڑھا نا ممکن نہیں تو تعداد کم کرنے کے خلاف اپنی بھرپور آواز اٹھائے گی اورہر ضلع میں کم از کم ایک ایم پی اے کی نشست رکھے گی۔اگر تورغر کی ایک لاکھ ستر ہزار کی آبادی کے لئے ایک نشست مختص کی جاسکتی ہے۔ توساڑھے آٹھ ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ضلع اپر چترال کی ڈھائی لاکھ کی آبادی کو ایک ایم پی اے کی نشست کیوں نہیں مل سکتی۔ چترال سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے منتخب ارکان، سیاسی جماعتوں ، دانشوروں ، ادیبوں ، اساتذہ اور اہل قلم کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
3560

معیار انسانیت………تحریر:اقبال حیاتؔ آف برغذی

گاؤں جاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھے سواریوں میں ملک کی سیاسی صورت حال پر بحث چھڑی ۔ اس سلسلے میں دی جانے والی دلائل پر پارٹی وابستگی کا عنصر غالب تھا۔ اس دوران اس بحث میں بڑھ چڑھ کر بولنے والے دو افراد کا پارہ چڑھ گیا۔ اور ایک دوسرے پر منفی الفاظ کی بوچھاڑ کرنے لگے۔ بغیر چبائے ایک دوسرے کو نگلنے کے دعوے ہونے لگے۔ اپنے اسلاف کی عظمت کے گن گانے اور اپنی اپنی خاندانی وقار اور بڑھائی کے نشتر چلا ئے گئے۔ “پدرم سلطان بود “کے حوالے سے خود کو صاحب عزت اور دوسرے کو ذلیل و خوار کے القابات سے نوازے گئے ۔ اور ساتھ ساتھ ذبان سے ایسے غلیظ الفاظ نکلنے لگے جنکی بنیاد پر دونوں میں سے کسی ایک میں بھی انسانی عظمت کا رنگ نظر نہیں آرہا تھا۔ بہت کچھ سننے کے بعد ایک سفید ریش شخص نے دنوں کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ “تو بھی راجا ۔ تو بھی رانی ۔بس کردو یہ حرام کہانی “۔
اس واقعے کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو علاقے میں عزت کی دعویداری کی بنیاد پر فخرو ناز کا رجحان عام طور پر پایا جاتا ہے۔ اور اپنے ذاتی کردار اور حالت زندگی سے قطع نظر اسلاف اور قومیت کو اس دعویداری کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ عزت ایک ایسی کیفیت کا نام ہے ۔ جسکی خواہش ہر انسان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ اسے انسانی اعزاز کے نام سے موسوم کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ عزت پیشانی پر لکھی ہوئی چیز نہیں ہوتی اور نہ یہ پیسے سے خریدی جاسکتی ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسی انمول نعمت ہے ۔جس کا حصول صرف اخلاقیات کے سکے سے ممکن ہو سکتا ہے۔ حضر علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ انسان دوسروں سے عزت کا تقاضا کرتا ہے۔ حالانکہ عزت اسکے اپنے پاس ہی ہوتی ہے۔ اگر وہ دوسروں کا ادب احترام اور تعظیم و تکریم کرے گا تو ان کی طرف سے بھی اس قسم کا معاملہ سامنے آئے گا۔ اسکے بر عکس اگرانسان انانیت کے گھوڑے پر سوار ہو کر آنکھیں زمین کی طرف لانے سے احترا ز کرے گا ۔ اور ھتک آمیز اور حقارت بھر ہی نظروں سے دوسروں کی طرف دیکھے گا تو اسے عزت نام کے لئے ترسنا ہوگا ۔کھوار کہاوت ہے کہ عزت والے کو گندگی کے ڈھیر میں تلاش کرو۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ انسان جو خود کو سب سے زیادہ حقیر ، کم تر اور ادنیٰ تصور کر ے گا وہ قابل عزت و احترا م ہوگا۔ اور ہر کوئی ایسے انسان کو اپنے دل میں جگہ دینے کے لئے تیار ہوگا۔ اس کے بر عکس بدخو ، بد اخلاق اور خودسر انسان کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
انسانوں کی طرف سے عزت کو خاندانی وقار، جاہ وحشمت ، دولت و ثروت اور اقتدار کے ترازو میں تو لاجاتا ہے ۔ ایسے میں خوف اور لالچ کی بنیاد پر کسی کا احترام کر کے عزت کا مقام دیا جاتا ہے ۔اگر اس معیار کو حقیقی عزت سے تعبیر کیا جائے تو ایسے افراد بھی قابل تکریم ہوتے ہیں جو رب کائنات کی طرف سے معتوب ہوئے ہیں۔ یوں یہ معیار اس اعتبار سے بے وقعت ہوتی ہے۔ اور اسکے برعکس اللہ رب العزت نے انسانوں کی ابتدائے آفزینش کو ایک مرد اور عورت سے قرار دے کر حسب کی بنیاد پر یکسانیت کا تصور دینے کے بعد تقویٰ اور پرہیز گاری کو عزت کا معیار ٹھیراتے ہیں۔ اور عزت لفظ کو ان افراد کے لئے چنا ہے جو احکام خداوندی پر کما حقہ کا ر بند رہ کر زندگی کے شب و روز گزار تے ہوں چاہے وہ مالی لحاظ سے نان جوین کو ترستے ہوں اور سر چھپانے کے لئے چھت بھی میسر نہ ہو۔ اس معیار کے حامل ہونے پر ایک حبشی غلام کو ایسی عزت سے نوازا گیا کہ زمین پر چلتے ہوئے ان کے قدموں کی آہٹ عرش پر سنائی دینے لگی ۔ قیامت تک ان کے اسم گرامی سے موسوم ہونے پر فخر محسوس کیا جائے گا۔ اور اس کے بر عکس فرغون ، قارون ، نمرود او ر ھامان نام سے ہر کوئی نفرت کرے گا۔
عزت پر اگر ایک دفعہ آنچ اور حرف آئے گا تو اس کا ازالہ کرنا مشکل ہوگا۔ کیونکہ یہ ایک ایسا درشہوار ہے۔ جو ٹوٹنے کی صورت میں اپنی حقیقی صفت کھو دیتی ہے۔
بحر حال عزت کی نعمت بھی خدا کی دین ہے۔ جیسے کہ ارشاد ربانی ہے کہ “اللہ رب العزت جس کو چاہے عزت سے نوازتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ذلیل کر تے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
3492

محکمہ تعلیم چترال کے 320 اسامیوں کیلئے دس ہزار سے زائد امیدوارمیدان میں کود پڑے

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز )صوبائی حکومت کی طرف سے محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں مختلف اسامیوں کیلئے پہلی دفعہ بے غیر پروفیشنل ڈگریوں کے حامل امیدواروں سے این ٹی ایس کے زریعے درخواستیں طلب کئے گئے ۔ جس کی وجہ سے ہزاروں امیدوار میدان میں کود پڑے ۔ تاہم جن امیدواروں کی تقرری ہوگی ان کو باقاعدہ پائیٹ یا رائیٹ ادارہ سے مطلوبہ ٹریننگ حاصل کرنا ہوگی۔

محکمہ ایجوکیشن (میل و فیمل) چترال کی طرف سے مشتہر کردہ اسامیوں میں ایس ایس ٹی ،سی ٹی ، ٹی ٹی ،ڈی ایم، قاری ، قاریہ ، اے ٹی ، پی اے ٹی اور پی ٹی سی شامل تھے۔

زرائع کے مطابق میل ایجوکیشن میں کل 179اسامیوں جن میں44ایس ایس ٹی ، ( 12آرٹس اور 32سائنس مضامین) ، جبکہ دیگر اسامیوں میں پی ایس ٹی 62، قاری 8، ٹی ٹی 4، اے ٹی 10، پی ای ٹی 7، ڈی ایم 2، اور سی ٹی کے 42اسامیوں کو ملاکر کل 135اسامیاں مشتہر کئے گئے تھے۔

جبکہ فیمل ایجوکیشن میں ایس ایس ٹی کے 18 اسامیوں کے علاوہ پی ایس ٹی 52، قاریہ ایک ، ٹی ٹی 11، اے ٹی 7، پی ای ٹی 9، ڈی ایم4اورسی ٹی کے 39پوسٹ خالی تھے۔ جن کو ملاکر کل 141اسامیوں کیلئے دخواستیں طلب کئے گئے تھے۔

ان اسامیوں کیلئے روزانہ بینکوں کے سامنے امیدواروں کی لمبی لمبی قطاریں لگی رہتی تھی۔ ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ امیدوار حبیب بینک مین برانچ چترال میں فیس داخل کئے۔ جہاں مقررہ اخری تاریخ20دسمبر تک چار ہزار سے زائد امیدوار فیس جمع کرائے۔ جبکہ دیگر بینکوں میں بھی سینکڑوں امیدواروں کی طرف سے فیس داخل کرنے کی اطلاعات ہیں۔اسی طرح ضلع سے باہر پشاور اور اسلام آباد سمیت دیگر علاقوں سے بھی امیدواروں نے درخواستیں جمع کرنے کے مراحل سے گزرے۔

دریں اثنا مختلف امیدواروں کی طرف سے یہ شکایت بھی سننے کو ملی کہ این ٹی ایس کی طرف سے چار بینکوں کے برانچوں میں درخواست فیس جمع کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ مگر بعض برانچوں نے امیدواروں کو سرے سے ہی واپس کردئیے کہ ان کے پاس یہ سہولت موجود نہیں۔ جس کی وجہ سے بہت سے امیدوار درخواست فیس مقررہ وقت میں جمع کرنے سے قاصر رہے ۔ متاثرہ امیدواروں نے متعلقہ حکام سے مذکورہ بینک برانچوں میں فیس جمع نہ کرنے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ تاکہ آئندہ کو ئی امیدوار ان مواقع سے محروم نہ رہ سکے۔

NTS fee depositors queue at banks 3 NTS fee depositors queue at banks 1

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , ,
3422

بلدیاتی بجٹ کا پنڈورا بکس……….. محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا حکومت نے 75فیصد سے کم ترقیاتی فنڈ استعمال نہ کرنے والے بلدیاتی اداروں کو مزید فنڈ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ بلدیات کے ریکارڈ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران صوبے کی 25ضلعی حکومتوں کے لئے 28ارب روپے سے زیادہ کے ترقیاتی فنڈز مختص کئے گئے تھے ان میں سے اب تک 8ارب تین کروڑ 52لاکھ روپے ضلعی حکومتوں کو جاری کئے جاچکے ہیں۔ لیکن چھ مہینوں کے اندر ضلعی حکومتوں نے صرف ایک ارب 89کروڑ روپے ہی ترقیاتی منصوبوں پرخرچ کیا۔ محکمہ بلدیات کے مطابق صرف دس اضلاع کی مقامی حکومتوں نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 75فیصد تک فنڈز خرچ کیا ہے۔ترقیاتی فنڈز استعمال کرنے میں لکی مروت کی ضلعی حکومت پہلے اور مردان دوسرے نمبر پر رہی ۔جنہوں نے بالترتیب 85فیصد اور80فیصد فنڈز خرچ کئے۔چترال کی ضلعی حکومت 65فیصد ترقیاتی فنڈز خرچ کرکے تیسرے نمبر پر رہی۔ جبکہ پشاور کی ضلعی حکومت اب تک صرف 33فیصد فنڈز خرچ کرچکی ہے۔مجموعی طور پر پورے صوبے میں ضلعی حکومتیں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا صرف 30فیصد فنڈز خرچ کرچکی ہیں۔ وزیربلدیات نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس بار 75فیصد فنڈز بروئے کار لانے والی صرف دس ضلعی حکومتوں کو مزید فنڈز جاری کئے جائیں گے۔ باقی ماندہ چودہ ضلعی حکومتوں کو دستیاب فنڈ خرچ کرنے تک مزید فنڈز نہیں دیئے جائیں گے۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ صوبائی حکومت کو قانون کے مطابق سالانہ ترقیاتی فنڈز کا 30فیصد بلدیاتی اداروں کو دینا ہوتا ہے۔ پہلے سال بلدیاتی اداروں کے لئے 44ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا۔ تاہم فنڈز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پچاس فیصد فنڈز ہی جاری ہوسکے۔ رواں مالی سال ضلعی حکومتوں کے سالانہ ترقیاتی فنڈ میں دس فیصد کی کٹوتی کی گئی ۔رواں سال کے ابتدائی چھ مہینوں میں 37ارب پچاس کروڑروپے کے مجموعی فنڈ میں سے صرف آٹھ ارب تین کروڑ جاری ہوچکے ہیں۔ صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو اپنے طور پر ٹول ٹیکس، محصول اور چنگی وغیرہ کی مد میں اپنے لئے وسائل پیدا کرنے کی ہدایت کی ہے۔اور اے ڈی پی کی کٹوتی کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چھ مہینوں کے اندر 25اضلاع کے بلدیاتی ادارے 8ارب روپے بھی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیوں نہ کرسکے۔ جبکہ دوسری جانب اپوزیشن ممبران کی طرف سے ترقیاتی فنڈز نہ ملنے کی شکایات بھی عام ہیں۔ حال ہی میں ضلع کونسل چترال کی خواتین ارکان نے فنڈز نہ ملنے پر ٹاون ہال کے باہر دھرنا دیا۔ اپرچترال کی ویلج اور تحصیل کونسلوں کی خواتین ممبران نے بھی حکومت کی طرف سے ترقیاتی فنڈز نہ ملنے پر بطور احتجاج اپنی الگ تنظیم بنالی ہے اور امدادی اداروں سے رابطہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔بلدیاتی اداروں کے قیام کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ عوام کے چھوٹے موٹے مسائل ان کی دہلیز پر حل کئے جاسکیں۔ جن میں حفاظتی پشتوں، رابطہ سڑکوں، پلوں، پرائمری سکولوں، ڈسپنسریوں کی تعمیر، گلیوں کی توسیع و مرمت، نکاسی آب اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی شامل ہیں۔خیبر پختونخوا میں سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے۔ منتخب ممبران اور عوام میں بھی کافی جوش و خروش پایا جاتا تھا۔ لیکن جب منتخب کونسلروں کے اعزازیئے، دفاتر، دیگر سہولیات اور ترقیاتی فنڈز کی بات آگئی تو حکومت نے مالی مشکلات کی وجہ سے یہ سب کچھ دینے سے معذوری کا اظہار کیا جس کی وجہ سے بلدیاتی ارکان خصوصا تحصیل، ویلج اور نیبرہڈ کے کونسلرز اپنے سیاسی مستقبل سے مایوس دکھائی دیتے ہیں۔محکمہ بلدیات کے ریکارڈ کے مطابق بعض ضلعی حکومتوں کی ترقی کے شعبے میں کارکردگی کافی مایوس کن رہی ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں مزید فنڈز جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ گویا حکومت چند نااہل افراد کی کوتاہی کی سزا لاکھوں شہریوں کو دینا چاہتی ہے۔ فنڈز روکنا مسئلے کا حل نہیں۔ ترقیاتی فنڈز خرچ نہ کرنے والوں سے باز پرس ہونی چاہئے۔ مروجہ بلدیاتی نظام پہلے سے کافی پیچیدہ ہے جس کی اب تک اکثر منتخب نمائندوں کو بھی سمجھ نہیں آئی۔ اب فنڈز کے معاملے پر حکومت بلدیاتی نظام کو مزید پیچیدہ بنارہی ہے۔ اختیارات و وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی کے قانون کے تحت صوبائی حکومت نے ایم پی ایز کے ترقیاتی فنڈز بلدیاتی اداروں کو دینے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اب تک ایم پی ایز کے پاس بھی فنڈز نہیں اور بلدیاتی ادارے بھی وسائل نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔اس مرحلے پر صوبائی حکومت کی طرف سے بلدیات کے بجٹ میں کمی اور فنڈز کم خرچ کرنے والے اداروں کو مزید فنڈز نہ دینے کے اعلان نے جلتی پر تیل کا کام دیا ہے۔ منتخب ممبران اور عوام پوچھ رہے ہیں کہ اگر وسائل نہیں ہیں تو نمائشی بلدیاتی ادارے کس مرض کی دوا ہیں؟

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
3400

عالمی تنہائی کا حکومتی اعتراف………. محمد شریف شکیب

قومی سلامتی سے متعلق وزیراعظم کے مشیر ناصر جنجوعہ نے اعتراف کیا ہے کہ عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔امریکہ نے کشمیر پر بھارت سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ اور پاکستان کے جوہری پروگرام کو خطرہ قرار دے کر اسے ختم کرنے کے لئے دباو ڈالا جارہا ہے۔ مشیرقومی سلامتی کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں اپنی شکست کا بدلہ پاکستان سے لینا چاہتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی شہ پر بھارت مسلسل پاکستان کو روایتی جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے جس سے جنوبی ایشیاء میں جوہری تصادم کا خطرہ ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر کا یہ بیان حکومتی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہے ۔ اس وقت پاکستان نہ صرف اندرونی طور پر بدامنی، دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری ، غربت کی شرح میں اضافے ، بجٹ خسارے اور افراط زر جیسے مسائل سے دوچار ہے بلکہ اس کے روایتی حلیف ممالک بھی حریفوں کی صف میں جارہے ہیں۔ پڑوسی اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں جبکہ دوسری جانب سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کرنے والا پڑوسی اسلامی ملک ایران بھی بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے۔ اور چاربہا بندرگارہ سے بھارت کو تجارت کی سہولیات مہیا کرنا اس کا تازہ ترین ثبوت ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک بھی امریکی اثرورسوخ کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ سردمہری کا برتاو کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک نے ہمارے ہزاروں محنت کشوں کو مالی بحران کا بہانہ بناکر واپس کردیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں غیر مشروط طور پر شامل ہونے کے باوجود واشنگٹن بھی ہمیں گھاس نہیں ڈال رہا۔ اور امریکی صدر ، ایوان نمائندگان، سینٹ اور وزیر خارجہ تک سب ہی پاکستان سے ڈومور کا تقاضا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے حقانی نیٹ ورک ختم نہ کرنے اور طالبان کی حمایت جاری رکھنے کی صورت میں پاکستان کی مالی امداد بند کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں صاف کہہ دیا ہے کہ امریکہ ہر سال پاکستان کو بھاری امداد دیتا ہے جس کے بدلے میں ہمیں پاکستان سے کیا ملا ہے؟یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکی جنگ میں حلیف اور مددگار بننے کے جرم میں پاکستان کو جانی اور مالی لحاظ سے ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہمارے پچاس ہزار سے زیادہ افسران، جوان، خواتین اور بچے اس بے نتیجہ جنگ کی نذر ہوگئے۔ اربوں ڈالر کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس جنگ میں امریکہ سمیت کسی اتحادی نے پاکستان جتنی قربانی نہیں دی۔ لیکن بدقسمتی سے ہم عالمی برادری کو باور نہیں کراسکے۔ ساڑھے چار سال تک جس ملک کا وزیرخارجہ ہی نہ ہوا۔ اس کو قوموں کی برادری میں تنہائی کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ہم نے عارضی مالی فائدے کو ہی اپنا قومی مفاد قرار دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ جس ریاست کی مالی پوزیشن کمزور ہو۔ اعلیٰ تربیت یافتہ فوج اور بہترین ہتھیار بھی اس کی بقاء اور سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ سابق سوویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے امریکہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے بچھائے گئے قرضوں کے جال سے نکلنے اور خود انحصاری کی منزل تک پہنچنے کے لئے گذشتہ ایک عشرے میں کیا کیا ہے؟زرخیز زمین اور وافر مقدار میں آبی ذخائر ہونے کے باوجود ہم اشیائے خوردونوش یہاں تک کہ آلو، ٹماٹر اور پیاز تک بھارت سے درآمد کرتے ہیں۔اور جب وہ سپلائی روک دیتے ہیں تو ہمارے قیمتیں آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔زرعی، صنعتی، تعلیمی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی اور استحکام کے لئے کونسے بڑے منصوبے شروع کئے گئے؟سیاست دان اپنے کمیشن کے لئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضے ہی لیتے رہے ۔خود تو بیرون ملک بینک بیلنس، اثاثے اور آف شور کمپنیاں بنائیں۔لیکن غریب قوم کا بال بال بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت چار سالوں میں ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لئے ہیں۔ایک مقروض قوم کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے جب باہر سے قرضے لینے پڑیں تو ہم سراٹھاکر کسی سے بات کیسے کرسکتے ہیں ؟اور ہماری بات کا کون اعتبار کرے گا؟اور قوم جب تک سیاسی مداریوں کے نرغے میں رہے گی اور اپنے ضمیر کے فیصلے پر ووٹ کا حق استعمال نہیں کرے گی۔اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
3362

تیسری آنکھ…… خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام کو درپیش مسائل…….حمید الرحمن سُرُورؔ

ادارے کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں !

خیبر پختونخوا میں موثر سیاسی نظام لانے اور عام لوگوں کو بااختیار بنانے کی نیت سے بلدیاتی نظام متعارف کیا گیا تھا۔ لیکن آج تین سال گزرنے کے بعد اگر دیکھا جائے تو بلدیاتی نمائندے اور بلدیاتی ادارے بھی اُنہی مشکلات اور مسائل میں گھرے نظر آتے ہیں جن مسائل کے آگے باقی سیاسی ، سما جی اور قومی ادارے بے بسی کا شکار نظر آتے ہیں اور خدشہ ہے کہ موجودہ بلدیاتی نظام بھی انہی مسائل کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بعد کہیں ناکامی کی موت نہ مرجائے۔ میرا مقصد سیاسی اختلاف یا سیاسی وابستگی میں جانب داری کا مظاہرہ کرکے کسی سیاسی پارٹی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا نہیں ہے ، بلکہ مسائل کی نشاندہی اور ان کی وجہ سے عام عوام کو ہونے والے نقصانات کا ذکر کرنا ہے۔اس بات سے شاید ہر حقیقت پسند فرد اتفاق ٖضرور کرے گا کہ موجودہ بلدیاتی نظام بھی ترقیاتی کاموں میں ہونی والی کرپشن کو کم کرنے میں اب تک کارگار ثابت نہیں ہوئی ہے۔ اور میں ذاتی طور پر اس کا ذمہ دار حکومت سے زیادہ عام عوام کو سمجھتا ہوں جو ہنوز اپنے حقوق اور فرائض سے ناآشنا ہیں ، جو آج بھی ، سرکاری بد انتظامی کو قانون قدرت سمجھ کر تسلیم کرتے ہیں اوراپنے آس پاس اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والی ڈکیتیوں، چوریوں اور بد عنوانیوں پر ایک نظر ڈال کر اپنے آپ سے من ہی من میں یہ کہہ کر گزر جاتے ہیں کہ کونسا میرے جیب میں کسی نے ہاتھ ڈالا ہے، کرنے دو ڈکیتی، کرنے دو چوری اور کرنے دو کرپشن۔

2015 ء کے بلدیاتی الیکشن میں اول تو مجموعی طور پر زیادہ تر ان پڑھ یا بہت ہی کم پڑھے لکھے ، سیاسی وابستی رکھنے والے، نااہل اور سماجی خدمت کے جذبے سے عاری افراد بلدیاتی نمائندہ بن کر سامنے آئے۔ کونسلر کی سطح کے زیادہ تر لوگ تو اس لالچ میں پاتال میں اُترے تھے کہ شاید گورنمنٹ کی طرف سے اُن کو کوئی ماہانہ الاؤنس بھی ملے گی۔مگر جب پتہ چلا کہ گورنمنٹ بالکل نچلی سطح کے لوگوں کو علاقائی نمائندگی اور کچھ محدود اختیارات کے علاوہ کچھ نہیں دے رہی تو اُ ن کا انٹریسٹ لیول کچھ مہینوں میں ہی صفر ہو گیا۔دوسری اُمید اُن کو بلدیاتی فنڈز سے تھی کہ شاید وہ ایمانداری سے ترقیاتی فنڈز کا پیسہ خرچ کرکے اپنے علاقے کے چھوٹے موٹے مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکیں گے اور کچھ نہیں تو لوگوں کی واہ واہ تو ملے گی، اور شاید یہیں سے اُن کے سیاسی کیرئیر کا جہاز اُڑان بھرے۔لیکن یہ اُمید بھی اُس وقت دم توڑ گئی جب اُن کے اپنے بلدیاتی فنڈز بھی ٹھیکیداروں کے زریعے اُن کو الاٹ ہونے کا پتہ چلا اور ٹھیکیدار ان چھوٹے موٹے بلدیاتی فنڈز میں سے بھی دو تہائی حصہ سیدھا سیدھا اپنے جیب میں ڈال کر ایک حصہ اُنہیں بلدیاتی ترقیاتی فنڈ زکے نام پر دینے لگے۔ملک میں رائج فرسودہ ٹھیکیداری نظام کے آگے تمام بلدیاتی نمائندے بے بسی کی تصویر بنے پھر رہے ہیں اور چونکہ یہ بلدیاتی نمائندے صبح و شام عوام کے ساتھ بسر کرتے ہیں اس لیے عوام بھی لگے ہاتھوں اپنا سارا غصہ انہی پر نکال رہی ہے۔ٹھیکیداروں کے کرپشن اور بلدیاتی نمائندوں کی بے بسی کا ماجرہ سمجھنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ زیادہ تر بلدیاتی نمائندے اس جھمیلے سے اتنا تنگ آچکے ہیں کہ پہلی فرصت میں جیب میں رکھے سرکاری مہر سے جان چھڑانے کا سوچ رہے ہیں۔ KPK حکومت نے سال 2016-2017 ء کے لئے ترقیاتی بجٹ میں سے 12 بلین روپے بلدیاتی فنڈز کے لئے مختص کیا تھا اور بلدیاتی اداروں کے زریعے گاؤں کی سطح تک بلدیاتی نمائندوں کو تقسیم کرنے کا پلان بنایا تھا لیکن اس پورے بجٹ میں سے کتنا ٹھیکیداروں اورPublic Procurement Regulatory Authorities کے ملازموں کی جیبوں میں گئی ہوگی یہ اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میرے اپنے گاؤں میں دو بلدیاتی نمائندوں کو ایسے پراجکٹ ملے تھے ۔ ایک کو ٹھیکیدار نے 160,000 منظور شدہ رقم میں سے صرف 55000 روپے ترقیاتی کام کروانے کے لئے ادا کیا اور دوسرے کو200,000 میں سے صرف 80,000 روپے ملے۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا اگر دیکھا جائے تو یہ قصور بلدیاتی نظام کا نہیں نہ صوبائی حکومت کا ہے۔ ٹھیکیدار نا معلوم عرصے سے ایک منظم مافیا گروپ کی شکل میں اس ملک میں ترقیاتی کاموں کا پیسہ مگرمچھ کی طرح کھا رہے ہیں اور اس کرپشن کی شاخیں کئی سرکاری اداروں سے ہو کر صوبائی اور قومی اسمبلیوں تک جا پہنچتی ہیں۔ کرپشن کے لئے راہ ہموار کرنے کی غرض سے بہت سے قومی ادروں کے کام کرنے کے طریقے اوراُن کے قوانین کو اس طرح سے Systematically ڈیذائن کیا جا چُکا ہے کہ کسی بھی ایک ادارے کے لئے کرپشن کے نظام سے بغاوت کرنا انتہائی مشکل ہے۔کرپشن کی جڑیں اتنی مظبوط ہیں کہ ایک ٹہنی کاٹو تو دس اور نکل آتی ہیں۔بڑے بڑے میگا کرپشن ٹھیکیداروں کے زریعے کرائی جاتی ہیں۔ او ر ملک کے چاروں صوبوں میں ٹھیکیداری نظام سے وابستہ تمام ادارے اور افراد اور زیادہ تر علاقائی سیاست داں بھی ان ترقیاتی فنڈز کے شئر ہولڈر ہیں۔ سو فیصد ایمانداری سے پراجکٹ پر کام کروانے والا ٹھیکیدار اگرپراجکٹ کے متعلقہ انجینئر زکو رشوت نہ دے اور اُن کے نخرے برداشت نہ کرے تو کئی سال پراجکٹ فنڈز Approve کروانے کے لئے اُن کے در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اگر کسی علاقے کے لوگ کرپشن کی شکایت کرنے کے لئے متعلقہ اداروں تک اپنی آواز پہنچائیں بھی تو ترقیاتی کاموں کے معائنے کے لئے ایک Monitoring Team بھیجی جاتی ہے، اب Monitoring Team کے ارکان ٹھیکیدار سے مزید الگ سے رشوت کا تقاضا کرتے ہیں ۔

کرپشن کے اس ناسور کا علاج شاید اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ لگتا ہے۔ کئی دہایؤں میں جو نقصان قومی اداروں کو پہنچایا گیا ہے اُس کی تلافی کئی تجربات کے بعد ہی شاید ممکن ہو سکے ۔ ماضی کے سیاست دانوں کی ایک ہی سو چ رہی ہے کہ کسی طرح بھی طرح صوبائی یا قومی اسمبلی تک پہنج جاؤ اور جائز و ناجائز طریقے سے بے تحاشا پیسہ بناؤ ۔ چترال کے ہی ایک ہی عوامی نمائندے کی مثال سامنے ہے کہ کس طرح چند سالوں میں ہی موصوف اربوں کی جائداد کا مالک بن چُکا ہے۔ کس طرح انہی ٹھیکیداروں کے زریعے بغیر ایک ثبوت چھوڑے اربوں کے ترقیاتی فنڈز میں خرد بُرد کر چُکا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی اداروں کا قیام اگرچہ ایک نیک نیتی پر مبنی فیصلہ تھا مگر کچھ قومی اداروں کے فرسودہ نظام کی وجہ سے اور کچھ بلدیاتی نمائندوں کی نااہلی اور اپنے اختیارات سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے وہ اہداف حاصل نہیں ہوئے جن کی توقع کی رہی تھی ۔ ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر حضرات بھی ایمانداری سے اپنے سرکاری فرائض ادا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں، وہ اپنے اپنے علاقے میں ہونے والی ترقیاتی کاموں اور ٹھیکیداروں کے کرپشن پر توجہ دینے کی زحمت کرنے سے کترا رہے ہیں ۔اُن کی بنیادی ذمہ داری میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اس طرح کے سرکاری ترقیاتی کاموں کے معیار کو یقینی بنائیں اور ترقیاتی کاموں میں ہونے والی خرد بُرد کو روکنے کی کوشش کریں لیکن وہ مختلف ذاتی وابسطگیوں کو قومی فریضے سے مقدم رکھ کر بڑی آسانی سے کرپٹ ٹھیکیداروں کی پُشت پناہی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس پورے صورت حال سے یہ بات بھی واضح ہے کہ بحیثیت قوم ہم اخلاقی اقدار کے زوال کی انتہا کو پہنچ چُکے ہیں اور شاید کوئی ماؤزے تنگ ہی آکر ہمارا قبلہ درست کرا سکتا ہے۔ اگر موجودہ خرابیوں کو درست کرنے کی شش کرکے ان بلدیاتی اداروں کو فعال بنایا گیا تو عوام کی حالت سدھارنے میں یہ ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ٹھیکیداری نظام کے متبادل کے طور پر Community Driven Local Development کے قیام کا تجربہ بھی ایک خوش آئند بات ہے جو کہ ااب تک کافی موثر ثابت ہو رہی ہے مگر CDLD میں بھی چند پہلوؤں پر توجہ دینے ضرورت ہے۔ CDLD کے ترقیاتی فنڈز میں بھی کہیں کہیں ادارے کے افراد اور انجئنئر اپنے اختیارات کا فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔KPK میں اگر بلدیاتی نظام کو کامیاب اور موثر بنانا ہے تو گورنمنٹ کو ٹھیکیداری نظام میں انقلابی اصلاحات کرنے ہوں گے، شخصی اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری فرائض سے غفلت روکنے کے لئے انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے اور نچلی سطح کے بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات میں کچھ اور اضافہ کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ بلدیاتی نظام کو کامیاب بنانے کے لئے بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ ساتھ علاقے کی عوام کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا ہو گا۔ اگر کسی علاقے کے ترقیاتی بجٹ میں خوردبرد کی جارہی ہو تو اُس علاقے کے باشندوں پر بھی فرض عائد ہوتی ہے کہ لوکل نمائندوں کا ساتھ دیں اور اس کرپشن کے خلاف آواز اُٹھائیں۔ جب تک عوام خود اپنے حقوق کے لئے اُٹھ کھڑی نہیں ہوگی ، گورنمنٹ چاہے کتنا ہی موثر انتظامی نظام کیوں نہ لے کر آئے کرپشن کا یہ سلسلہ تھمتا ہوا نظر نہیں آرہا۔
[email protected]

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , ,
3224