The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 3 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

آئندہ انتخابات کیلئے چترال میں پولنگ عملے کی تربیت کا آغاز کردیا گیا ۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر

Posted on

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) الیکشن کمیشن آف پاکستان کے زیر انتظام آئندہ عام انتخابات 2018ء کیلئے پولنگ عملے کی تربیت کا باقاعدہ آغا ز گزشتہ دن گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج آف منیجمنٹ سائنسز چترال میں ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر چترال عنایت الرحمن نے چترال ٹائمزسے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ ٹریننگ 23اپریل سے 25اپریل تک چترال میں ، 26اپریل سے 28اپریل تک گورنمنٹ ہائی سکول بونی اور 30اپریل سے یکم مئی ریجنل انسٹی ٹیوت فار ٹیچرز ایجوکیشن (رائیٹ ) دروش میں ہوگا۔
انھوں نے مذید بتایا کہ اس دوران 1274مرد وخواتین اسسٹنٹ پریزائڈنگ آفیسرز اور 784مرد و خواتین پولنگ آفیسرز کو ان کے ذمہ داریوں سے متعلق تربیت دی جائیگی۔ اس موقع پر انھوں نے پولنگ عملے کو بروقت پہنچ کر متعلقہ سنٹرز میں تربیت لینے ک ہدایت کی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9130

چترال کے یوٹیلٹی سٹورز میں آئل ، گھی اور چینی ناپید، ضلعی انتظامیہ اور ایم این اے نوٹس لیں

Posted on

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے تمام یوٹیلٹی سٹورز میں گزشتہ تین مہینوں سے کوکنگ آئل ، گھی اور چینی دستیاب نہیں۔ جس کی وجہ سے چترال کے عوام انتہائی مشکلات کا شکا رہیں۔گزشتہ سال سپریم کورٹ کی طرف سے غیر معیاری اور ناقص گھی اور آئل کی فروخت پر پابندی کے بعد یوٹیلٹی سٹورکارپوریشن کو مختلف کمپنیوں کی معیاری گھی اور آئل کے فروخت کی اجازت مل چکی تھی ۔ مگر تاحال یوٹیلٹی سٹور ز پر گھی ہے اور نہ آئل ۔ ذرائع کے مطابق یوٹیلٹی سٹور ز کارپوریشن آف پاکستان کے آربوں روپے حکومت پر قرض ہیں جو گزشتہ سالوں رمضان المبارک کے مہینے سبسیڈی کے مد میں عوام کو ریلیف دلوانے کے بعد کارپوریشن کو ادائیگی نہیں ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے کارپوریشن پر مختلف کمپنیوں کی خطیر رقم واجب الادا ہیں اور وہ مذید سامان کارپوریشن کو دینے سے گریزان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چترال کے تمام یوٹیلٹی سٹوروں پر اہلکارہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ یہ تین بنیادی اشیاء ضروریہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے سٹور وں پر باقی سامان کی فروخت بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ جس کی وجہ سے کارپوریشن کو بھی ماہانہ لاکھوں روپے کا نقصان اُٹھانا پڑرہا ہے ۔ چند مہینے پہلے چترال ٹاون میں ایک سپر یوٹیلٹی سٹور کا افتتاح بدست ایم این اے چترال ہوا تھا اور لوگوں کو خوشخبری سنادی گئی تھی کہ ایک چھت کے نیچے تمام اشیاء ضروریہ دستیاب ہونگے مگر وہاں پر بھی وہی حال ہے جو باقی سٹوروں پر ہے۔
چترال کے مختلف مکاتب فکر نے ضلعی انتظامیہ ،وفاقی حکومت اور خصوصی طور پر ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین سے مطالبہ کیاہے کہ چترال کے یوٹیلٹی سٹوروں پر گھی ، کوکنگ آئل اور چینی کی دسیتابی کو یقینی بنایا جائے ۔تاکہ ان سٹوروں کی افادیت میں اضافہ ہونے کے ساتھ عوام کو بھی ریلیف مل سکے ۔
انھوں نے مذید کہا ہے کہ چترال میں ناقص اور غیر معیاری اشیا ء خوردنی خصوصا آئل اور گھی کی بھر مار ہونے کی وجہ سے چترال کے عوام میں ہارٹ آٹیک ، کینسر اور دوسری بیماریوں کا شکار ہوکر روزانہ کئی افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے گزشتہ سال ناقص گھی اور آئل کی فروخت کا نوٹس لیکر باقاعدہ لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے کے بعد چند کمپنیوں کی پراڈکٹ فروخت کرنے کی اجازت یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان کو دی تھی ۔ جس کے بعد عوام تاحال معیاری گھی اور آئل کی آمد کا انتظار کررہے ہیں ۔
utility store chitral

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9120

پبلک سروس کمیشن نے مختلف مضامین کے لئے 5 مئی سے قابلیت ٹیسٹ کے شیڈول کااعلان کردیا

Posted on

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )‌ خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن نے مختلف مضامین کے لئے 5 مئی سے 12 جون2018 تک قابلیت ٹیسٹ کے شیڈول کااعلان کردیا۔ مذکورہ ٹیسٹ 5 مئی سے 12 مئی 2018 تک شام کے اوقات 2 بجے اور14 مئی سے 12 جون تک صبح کے اوقات 10 بجے خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ہال ’’اے‘‘ اور ’’بی ‘‘ اور ذوالفقار علی بھٹو پوسٹ گریجویٹ پیرا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ دوران پور نزدنادرن بائی پاس پشاور میں منعقد کئے جائینگے۔ امتحانی ہا ل وررول نمبر ز کی تفصیلات خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹ www.kppsc.gov.pk پرااپ لو ڈ کئے جائینگے ۔تمام امیدواران کو امتحان / ٹیسٹ کے انعقاد سے پہلے اپنے رول نمبرز سلپس امتحانی ہال کے ساتھ ویب سائٹ سے ڈاون لوڈ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کسی بھی امیدوار کو انفرادی طور پر داخلہ لیٹر/ رول نمبر سلپ جاری نہیں کئے جائینگے۔ اگر کسی امیدوار کو اپنے امتحان / ٹیسٹ سے متعلق معلومات ویب سائٹ ،ایس ایم ایس اورای میل کے ذریعے فراہم نہ کی گئی ہو یاموصول نہ ہو تو وہ امتحان/ ٹیسٹ کے انعقادسے پہلے کمپیوٹر سیکشن سے درج ذیل نمبرات پر 9213563,091-9212976,091-9214131,9212897,9213750 (ایکسٹینشن نمبر1082 ) 091-9212688 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ امتحانی ہال میں موبائل فون یادوسری الیکٹرانک آلات لے جانا اوراستعمال کرنا سختی سے ممنوع ہے۔ اگر کوئی امیدوار مذکورہ آلات کے ساتھ پکڑا گیا تو اسکے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائیگی۔ کسی بھی حالت میں امتحانی ہال کی تبدیلی کی اجازت نہیں ہوگی۔اس امر کااعلان ڈائریکٹرامتحانات خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کیاگیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9118

چترال میں ایک اور حوا کی بیٹی نے خود کشی کر لی

Posted on

چترال (ارشاد اللہ شاد) چترال میں ایک اور حوا کی بیٹی نے خود کشی کر لی، تفصیلات کے مطابق جغور چترال کی رہایشی مسمات ام سلمہ دختر اولاد حسین نے مبینہ طورپر زہر کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔متوفی کو زہر کھانے کے فورا بعد ہسپتال پہنچا دیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔خود کشی کی وجہ فلحال معلوم نہ ہو سکی ۔تا ہم پولیس تفتیش کررہی ہے. یہاں یہ بات قابل زکر ہے چترال ضلع میں خود کشی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے گزشتہ چھ مہینوں کے دوران بیس سے زیادہ خود کشی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد نوجوان لڑکیوں کی ہے۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9113

ایم پی اے فوزیہ پر الزام کی سخت مذمت کرتے ہیں..بدیع الرحمن صدر تحفظ پاکستان

Posted on

چترال( چترال ٹائمز رپورٹ)میں محترمہ فوزیہ بی بی پر تحرک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے لگاۓ گے الزام کی سخت مذمت کرتاہون۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھئ مسلمان اللہ پاک کے کلام کو اٹھاکر جھوٹ نہیں بول سکتا. عمران خان کو چاھۓ کہ وہ اس پر نظر ثانی کرے۔ ان خیالات کا اظہار تحریک تحفظ پاکستان کے ضلعی صدربدیع الرحمن نے ایک اخباری بیان میں‌کیا ہے. انھوں نے کہا ہے کہ پی پی پی کی طرف فوزیہ بی بی کوجو دعوت دی گئی ہے اگر اس دعوت قبول کر تی ہے تو یہ ان کی سب سے بڑی غلطی ہو گی۔اس طرح ان پر جو الزام یا شک ہے وہ مزید پختہ ہو جائے گی۔ انھوں نے بی بی فوزیہ کو دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تحریک تحفظ پاکستان کے پلیٹ سے ایسے ہونہار دختر چترال کو خوش آمدید کہتے ہیں۔انشااللہ ہم ان کو وہ عزت دیئنگے جو ان کا حق ہے۔ انھوں نے مذید کہا ہے کہ اس سال پورے پاکستان سے الیکشن لڑنے کی تیاری ہے .ہمیں اپنے تمام چترال کے بہن بھائیوں سے گزارش ہے ۔کہ ہمیں سپورٹ کریں۔ انشااللہ اپنی بساط سے بڑھ کر ملک و قوم کی خدمت کریں گے۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9109

مدرسہ جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ میں حفاظ کرام کی دستار بندی کے موقع پر تقریب

Posted on

چترال ( محکم الدین ) ممتاز عالم دین اورشیخ الحدیث مولانا عبد الرحیم نے کہا ہے ۔ کہ مدارس دین اسلام اور زندگی کے محافظ ہیں ، اس لئے جہاں بھی مدرسہ قائم ہو ، علاقے کے لوگ اپنے لئے نیک بختی سمجھیں ، مدارس دین سیکھنے کیلئے ہیں ، یہ دُنیاوی مفادات حاصل کرنے کے لئے نہیں ہیں ۔ مدارس کی بنیاد رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھی ۔ اس لئے اسلام کے پیرو کار مدارس کے قیام میں بھر پور تعاون کریں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز مدرسہ جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ چترال میں حفاظ کرام کی دستار بندی اور وفاق المدارس کے امتحانات سے فارغ ہونے والے طلباء کی رخصتی کے موقع پر منعقد ہونے والے ایک بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں امیر جمیعت العلماء اسلام قاری عبدالرحمن قریشی ، ضلع نائب ناظم چترال مولانا عبدالشکور ،علماء ، عمائدین علاقہ طلباء و اُن کے والدین اور دینی مدارس سے محبت کرنے والوں کی جم غفیر نے شرکت کی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اسلام کی عمارت تعلیم و تعلم پر کھڑی ہے ۔ اور نبی پاک نے اسی بنیاد پر مکہ مکرمہ میں دار ارقم اور مدینہ منورہ میں مدرسہ صفحہ کی بنیاد رکھی ۔ اسلام کا پہلا بول اقرا ء سے شروع ہوتی ہے ۔ جو کہ دین اسلام میں علم کی اہمیت کو اُجاگر کرتا ہے ۔ اور جب تک مدارس زندہ رہیں گے ، مسلمانوں کے ایمان اور اُن کی زندگیاں محفوظ رہیں گی ۔ اس سے پہلے مدرسے کے طلباء نے کئی موضوعات پر تقاریر کیں ۔ جن میں طالب علم محمد مصطفی نے اسلام امن و سلامتی کا مظہر ہے ، اسرار الدین نے سیرت رسول پاک ،سمیع الحق نے دینی مدارس اور اُن کی اہمیت ، عارف اللہ اسلام اور سائنس ، حذیفہ خلیق نے میڈیا کا منفی اور مثبت کردار ،ضیاء الدین نے علماء دیوبند کی دینی خدمات اور مجیب الرحمن نے آزادی پاکستان میں علماء کا کردار کے موضوع پر انتہائی دلنشین انداز میں تقاریر کیں ۔ اور کہا ۔ کہ علماء نے ہر میدان میں مسلمان قوم کی رہنمائی اور اسلام کے تحفظ کیلئے اہم کردار ادا کیا ۔ خصو صا ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں کی گئیں ۔ اُن کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے علماء دیو بند کا کردار رو ز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ مقررین نے پاکستان کی میڈیا کی اصلاح پر زور دیا ۔ اور کہا ۔ کہ موجودہ میڈیا اغیار کی زبان بول رہا ہے ۔ اور اُن کی نمایندگی کر رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے فحاشی و عریانی اور بے دینی کو ترویج مل رہی ہے ۔ خصوصا سوشل میڈیا میں شعائر اسلام کا مذاق اُڑایا جارہا ہے ۔ اور توہین رسالت کو ہوا دی دی جارہی ہے ۔ جو کہ انتہائی افسوسناک اور خطرناک ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ 9/11کے واقعے کے بعد میڈیا کو ہتھیار کے طور پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اور مدارس کے خلاف پروپگنڈا سر فہرست ہے ۔ جس سے معاشرے ایک حصہ بغیر کسی تحقیق کے اُن کا ہمنو ا بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ علماء پر یہ الزام لگایا جارہا ہے ۔ کہ علماء بچیوں کی تعلیم کے مخالف ہیں ۔ جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ امسال 23ہزار علماء اور عالمات فارغ التحصیل ہوئے ہیں ۔ جن میں عالمات کی تعداد 13ہزار ہے ۔ اور ان تمام طلباء و طالبات کو مفت کھانا ، مفت رہائش اور مفت تعلیم مہیا کی جارہی ہے ۔ اور یکسان نصاب کے تحت اُنہیں پڑھایا جاتا ہے ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں سکول و کالجوں میں تعلیم کاروبار بن چکی ہے ۔ جو کہ متوسط لوگوں کی دسترس سے باہر ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے محرک مدارس ہر گز نہیں ہیں ۔ ایک سازش کے تحت بعض اسلام دشمن اور سماج دشمن عناصر کے ذریعے مدارس کو بد نام کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ حقیقت میں تمام مدارس امن و سلامتی اور خیر خواہی پر یقین رکھتے ہیں ۔ تقریب میں 19حفاظ کرام کی دستار بندی کی گئی ۔ جن میں محمد وسیم الدین ، محمد اسحاق برغوزی ، مفتاح الرحمن نعیم اللہ شیشی کوہ ،رفیق اللہ مستوج ،ثناء اللہ موری لشٹ ، محمد وقاص تریچ ، معاذ الدین درخناندہ ایون ، محمد سعد ایون ، عباد اللہ افضل اللہ تورکہو ، عبد الغفور دنین ، شاہ فہد اویر، عبدالحق رفیع الدین کُشم ، فیضان احمد واجب الرحمن ریحانکوٹ ، امداد الحق منصور رحیم ہون چترال شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ وفاق المدارس کے طلباء میں اسناد تقسیم کئے گئے ۔
madrasa rehankot dastar bandi2

madrasa rehankot dastar bandi

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9104

دنیا کی نظر سی پیک پر……….سونیا کریم برچہ

گوادر پورٹ پاکستان اور دنیا کی مشہور بندرگاہ جو عربین سی صوبہ بلوچستان پاکستان میں واقع ھے .گوادر پورٹ کو ١٩٥٤ میں پہلی مرتبہ بندرگاہ کے طور پر دیکھا گیا. مگر اس وقت اس پر کام نہیں ہو سکا تھا. ٢٠٠٧ میں اس کی تعمیر کے منصوبے کا کام شروع کروایا گیا. ٢٠١٥ میں یہ علان کیا گیا تھا کے کہ شمالی پاکستان اور مغربی چین کو گوادر سے ملا یا جائے. سی پیک منصوبے کے تحت ایک روڈ بنایا گیا جو گوادر پورٹ سے شروع ہوتا ہوا پنجاب سے ہو کر فاٹا جائے گا اور وہاں سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے ہوتا ہوا چین کے صوبےزھنجیانگ اور کاشغر تک اختتام پذیر ہوگا . اس روٹ کو سی -پیک کا نام دیا گیا. یعنی( پاکستان، چائنا اکنامک کوریڈور). میڈل ایسٹ کا نقشہ دیکھئے تو ان میں وہ ممالک،جن میں تیل بہت زیادہ پایا جاتا ھے اور وہ ساری دنیا کو تیل مہیا کرتے ہیں.جن میں ایران ،عراق اور سعودی عرب ھے . یہ ممالک ( او پی ای سی ) کا حصہ ھے یعنی (آرگنائزیشن اف پٹرولیم اکسپورٹنگ کونٹریز ).وہ ممالک جن میں تیل کے زیادہ ذخائر موجود ہیں ان سے تیل بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان، بھارت ،چین ،جاپان اور دیگرممالک کو سپلائی کیا جاتا ھے .یہ تیل گوادر پورٹ کے قریب سے ہوتا ہوا دنیا کے تقریبا ایک تھائی تیل دنیا کے مختلف ممالک کو سپلائی کیا جاتا ھے .گوادر پورٹ تکمیل کے بعد تیل کی اس سپلائی کو کنٹرول کر سکتا ھے . پاکستان میں تیل گوادر کے ہی راستے سے آ رہا ھے .گوادر پورٹ پاکستان کے لئے انتہائی اہم ھے.چین کل 130 ملین ڈالرز کی لاگت سے گوادر پورٹ کو سی-پیک کے ذریعے کاشغر سے کیوں ملانا چاہتا ھے؟
چین بھی تیل عرب ممالک سے خریدتا ھے . یہ تیل مختلف ممالک سے ہوتا ہوا عربین سی ،انڈین اشن اور پھر یہاں سے گزرتا ہوا اسٹیٹ اف ملاکا، پھر جنوبی چین کو عبور کرتا ہوا ھونگ کونگ پہنچتا ھے پھر شنگائی اور تیآنجن پورٹ تک پہنچتا ھے .چین کی تیل کی سپلائی کو چائنا ساؤتھ سی، سے گزرنا پڑتا ھے .ساؤتھ چائنا سی پر بہت سے ممالک اپنا حق جتاتے ہیں جن میں چین،ویتنام ،انڈونیشیا،ملائیشا ، تائیوان اور فلپائن شامل ھے.ہر ملک اپنے طور پر قبضہ جمانا چاہتا ھے .کیوں کی یہ اہم ٹریک ھے. اس لئے کوئی بھی ملک اس کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا ،جب کی چین نے اعلان کر دیا ھے کہ یہ علاقہ ہمارا ھے اور دوسرے ممالک اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے راضی ہی نہیں ہیں.مختصر یہ کہ جنوبی چین سی کے ساتھ منسلک جزیروں پر مشتمل یہ تمام ممالک اپنی فوج کو تعینات کر رہے ہیں اور وہاں تعمیرات بھی کر رہے ہیں. دوسری طرف امریکا ،چین کو دبانے کے لئے ویتنام،فلپائن،جاپان اور بھارت جیسے ممالک جو کی چین کےدشمن ھے ،ان کو ٹیکنالوجی اور دیگر ملیٹریہارڈویئر فراہم کرتا ھے.جن سے یہ ممالک اپنی فوجی طاقت بڑھا رہے ہیں .یہ چین کے لئے پریشان کن بات ھے اور جلد ہی بڑی جنگ کی طرف اشارہ ھے. جس کا ایک اور مقصد بھی ھے وہ یہ کہ ساؤتھ چائنا سی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا کیوں کہ یہ جاپان کا اہم ترین روٹ بھی ھے جس پر چائنا اور جاپان دونوں قبضہ کرنا چاھتے ہیں. دونوں،چین اور جاپان ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہیں .اگر چین اس پر قبضہ کرتا ھے تو جاپان کی سپلائی کاٹ سکتا ھے اور اگر جاپان اس پر قبضہ کرتا ھے تو چین کی سپلائی کاٹ سکتا ھے .چین سی – پیک کے ذریعے اپنی سپلائی شروع کروا کے اپنے دشمن ممالک کو منہ توڑ جواب دینا چاہتا ھے اور چین سی- پیک کے ذریعے بہت ہی کم فاصلے سے دنیا کے دوسرے ممالک سے تجارت بھی کر سکتا ھے اور پھر اپنے ملک کی آبادی کی زیادتی بھی کم کر پا ئگا، کیوں کہ کاشت کار ویسٹ پارٹ میں ہیں اور جب یہاں تجارت بڑے گی تو ایسٹ پارٹ سے ویسٹ پارٹ کی طرف رخ کریںگے کیوں کہ ویسٹ پارٹ میں آبادی بہت کم ھے. چین گوادر پورٹ کے ذریعے اپنے دشمن ممالک کا ٹریک روٹ بھی قابو کر پایئے گا اور پاکستان کو سی – پیک سے ملک میں خوشحالی آیئے گی اور پاکستان چین کے علاوہ روس کا بھی ٹریک روٹ بنے گا، کیوں کہ روس سی پیک کا حصہ ھے .اس سے چین کے صوبےزھجیانگ سے راستہ لے کر روس سے جوڑے گا . سی پیک سے پاکستان میں بےروزگاری کم ہوگی،معشیت مضبوط ہوگی اور دہشتگردی بھی کم ہوگی .اس وجہ سے بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جو کہ سی پیک کوختم کروانا چاھتے ہیں اور اس منصوبے کے خلاف ہیں. اس منصوبے کو روکنے کے لئے بہت سے حربے آزما رہے ہیں جو کہ ناکام رہے ہیں.سی پیک کی سکورٹی کے لئے پاکستان آرمی اور چین کی آرمی مل کر کام کرینگیں.انے اور جانے والے گاڑیوں اور بحری جہازوں کو مکمل سیکورٹی فراہم کریںگےاور سی پیک میں بنائے جانے والے راستے اور اس پورے منصوبے میں پاکستان آرمی کا کردار انتہائی اہم رہا ھے .سی پیک پایہ تکمیل کی طرف رواں دواں ہے،جس سے نہ صرف بلوچستان اور گلگت بلتستان ترقی کریں ینگے بلکہ پورا پاکستان ترقی کرےگا. (انشاالله). پاکستان زندہ باد.
( سونیا کریم برچہ -جناح یونیورسٹی کراچی ).

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9098

پیما نے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کا طریقہ کا ر مسترد کردیا،احتجاجاََ سکول دو دن بند رہیں گے

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز) نجی سکولوں کی تنظیم پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن منیجمنٹ ایسوسی ایشن(پیما) نے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پسرا) کے طریقہ کار کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے بھر پو ر مخالفت کا اعلان کردیا اور احتجاج کے طور پر پیر سے دودنوں کے لئے سکولوں کو احتجاجاً بند کردیا۔ چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیما کے صدر وجیہ الدین ، جنرل سیکرٹری محمد اسماعیل ، فنانس سیکرٹری رحمت اللہ راجہ، سردار احمد ،مسرور علی شاہ، عتیق الرحمن اور دوسروں نے کہاکہ حکومت نے محکمہ تعلیم کے این جی اوز کے حوالے کرنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے تعلیم دشمن اقدامات کرنا شروع کردیا ہے اور پرائیویٹ سکولوں کی حوصلہ شکنی اور ان کی انتظامیہ کو بے جا تنگ کرنے کا وطیرہ اپنا یا ہوا ہے اور انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کو ان پر مسلط کرنے کا غیر دانشمندانہ فیصلہ کردیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ضلعے کی سطح پر سکروٹنی کمیٹی میں آئی ایم یو کی ڈی ایم او کو سربراہ بنانے کی بجائے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر کو سربراہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم یو کے ذریعے حکومت نے اپنے ادارے ٹھیک نہ کرسکے تو اب اس کا رخ پرائیویٹ اداروں کی طرف موڑ دیا ہے تعلیمی اداروں کی سکروٹنی اور ان کے ان کے انتظام وانصرام کے معاملے کو تعلیم سے متعلق لوگوں کی بجائے بیوروکریسی کے حوالے کرنا سراسر تعلیم دشمنی ہے جسے پرائیویٹ تعلیمی ادارے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہاکہ غیر ملکی این جی اوز کی پالیسیاں ہم پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے اور پرائیویٹ سکولوں کے انتظامیہ کو بے جا تنگ کرکے انہیں احتجاج پر اکساکر امن وامان کا مسئلہ پیدا نہ کرے۔ پریس کانفرنس میں ضلع بھر سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہاں کثیر تعداد میں موجود تھے۔
PEIMA Chitral press confrence2

PEIMA Chitral press confrence23

پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک(PEN)کا پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ۔
دریں اثنا پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک اور جائنٹ ایکشن کونسل کی اپیل پر پورے صوبے میں تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔صوبے کے مختلف شہروں میں تعلیمی اداروں کے سربراہان نے احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت سے غلط اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے اپیل پر پشاور میں رنگ روڈ پشاور سے پشاور کے مختلف ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا ایک احتجاجی قافلہ صوبائی نائب صدر پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک فضل اللہ داودزئی اور ضلع پشاور کے صدر شبیر احمد کی قیادت میں پشاور پریس کلب پہنچا۔اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہم دراصل معیاری تعلیم بچاو تحریک چلا رہے ہیں۔حکومت اپنی 45% فیصد شراکت دار کو اعتماد میں نہیں لے رہی ،حکومت اپنی بنائی گئی ریگولیٹری اتھارٹی صوبائی اسمبلی سے پاس شدہ ایکٹ پر عمل درآمدنہیں کر رہی ہے ۔مقررین نے کہا کہ ہم DEO ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس IMU کو مسترد کرتے ہیں،حکومت نجی سیکٹر کو اعتماد میں لیکر قانون سازی کرے۔پشاور کے علاوہ صوبے کے دوسرے اضلاع میں بھی پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
pen protest

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , , , , ,
9087

گلگت و مضافات میں غریب اور مستحق افراد میں وزیر اعظم ہیلتھ کارڈ ز تقسیم

Posted on

گلگت ( چترال ٹائمز رپورٹ ) پاکستان مسلم لیگ ” ن” خواتین ونگ گلگت بلتستان کی سینئر نائب صدر رانی صنم فریاد ؔ نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف ہمارے قائد ہیں ۔ دنیا کی کوئی طاقت ہو یا سازش ہمارے دلوں سے قائد عوام کی محبت ختم نہیں کرسکتی ۔ مخالفین ہمیشہ ہم پر طنزکرتے ہیں کہ اس پارٹی نے کیا دیا ۔ ہمیں حکومتی مراعات اور عہدوں سے کوئی غرض نہیں ہے اور غریب عوام کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اس کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ اپنے قائد کے مشن کے مطابق سماجی خدمات جاری رکھنے کا بیڑہ اُٹھائے رکھا ہے اور اس مشن کو مرتے دم تک جاری و ساری رکھیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے گلگت و مضافات میں غریب اور مستحق افراد میں ہیلتھ کارڈز تقسیم کرتے ہوئے مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے کیا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اب تک 23 سو سے زائد غریب گھرانوں کو ہیلتھ کارڈز پہنچایا ہے جبکہ درجنوں خواتین کے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مسائل حل کئے ہیں ۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سال 2009 ؁ء کے سروے کے مطابق حق دار قرار دیے جانے کے باوجود اب بھی سینکڑوں انتہائی غریب خواتین کو بے نظیرانکم سپورٹ کارڈ (اے ٹی ایم کارڈز) نہیں دئیے گئے ہیں ۔ حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ بعض لوگوں نے اس ادارے کو سیاسی اکھاڑہ بنایا ہوا ہے۔ صحت حفاظت کارڈز کے جتنے بھی بینی فشرزہیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈ کے مستحق ہیں جس کا تمام ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے مگر حکومتی ذمہ داروں اور منتخب عوامی نمائندوں کے نوٹسز میں لانے کے باوجود اس اہم مسلے پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے اور یوں سینکڑوں انتہائی غریب خواتین اس حق سے محروم ہیں ۔ رانی صنم فریاد ؔ نے مذید کہا کہ ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ کوئی ہمارے خلاف سازشوں میں کس حد تک جاتا ہے ۔ ہم نے اس سے پہلے بھی ہر سازش پر خواہ وہ اندرونی ہو یا بیرونی حوصلہ نہیں ہارا ہے ۔ ہمارا اصل مشن قائد عوام میاں نواز شریف ہیں اس کے لیے خود کو تو قربان کرسکتے ہیں مگر نظریہ شہید نہیں کرسکتے ۔ گزشتہ تین سالوں سے غریب لوگوں کو ہیلتھ کارڈز پہنچانے کی خدمات انجام دے رہے ہیں اور آئندہ بھی اس سماجی خدمت کو جاری رکھیں گے ۔ یہ جو ہیلتھ کارڈز دیئے جارہے ہیں یہ قائد عوام میاں محمد نواز شریف کا تحفہ ہے ۔ ہمارا قائد غریب عوام کے دلوں کی دھڑکن بن چکے ہیں اور ملک بھر کا ہر غریب ان سے خو ش ہے ۔ جب اللہ کے بندے کسی سے خوش ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان سے خوش ہوتا ہے اور جن سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اس کا کوئی کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ۔
gilgit pmln health card distribution

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , ,
9083

انجمن کشمیری بازارگلگت کے کابینہ کی تقریب حلف برداری

Posted on

گلگت( چترال ٹائمز رپورٹ) انجمن کشمیری بازارگلگت کی نئی کابینہ جو متفقہ طور پر سلیکشن کے ذریعے وجود میں آئی کی حلف برداری کی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ان کے علاوہ مرکزی انجمن تاجران کے سابق صدور جاوید خان و حاجی جمعہ خان اور موجودہ صدر محمد ابراہیم نے شرکت کی۔تقریب میں مرکزی انجمن تاجران کے وارڈ صدور صاحبان اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔کشمیری بازار کی نئی کابینہ جس میں سرپرست اعلیٰ عجب گل اور صدر عبدالسلیم جنرل سیکریٹری چوہدری محمد رفیق ، ڈپٹی جنرل سیکریٹری عبدالغنی سیکریٹری نشرو اشاعت طاہر الدین، سیکریٹری مالیات شاہد نواز کی حلف برادری ہوئی۔ مرکزی انجمن تاجران کے فنانس سیکریٹری منہاج الدین نے کشمیری بازار کی نئی کابینہ سے حلف لیا ، حلف برداری کے بعد مہمان خصوصی جعفر اللہ خان نے اپنے دست مبارک سے ہار پہنائے۔صدرعبد السلیم کشمیری بازار نے سپاسنامہ پیش کیا مقررین نے دل کھول کر داد دی، صدر کے بعد انجمن تاجران کے مرکزی صد محمد ابراہیم اور مرکزی انجمن تاجران کے صدر حاجی جمعہ خان نے بھی خطاب کیا ۔ بعدازاں مرکزی انجمن تاجران کے سابقہ سیکریٹری مالیات و صدر مرکزی ٹیلرز ایسوسی ایشن محمد رمضان نے اپنے خیالات و نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ بلدیہ کے سابق ممبر اور موجودہ پیپلز پارٹی کے رہنما اشفاق افضل نے بھی کشمیری بازار کے تاجران کی حوصلہ افزائی کی۔
آخر میں ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی جعفر اللہ خان نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اور بازار کا تفصیلی دورہ کیا ۔ تقریب حلف برداری کے تمام انتظامات فنانس سیکریٹری شاہد نواز اور دیگر ساتھیوں نے خوش اسلوبی سے انجام دیئے۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , ,
9081

عشریت میں گیارہ سالہ بچی کے ساتھ مبینہ ذیادتی کے مرتکب ملزم گرفتار، پولیس کے سامنے اقرار جرم کرلیا

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال پولیس نے عشریت گاؤں میں گیارہ سالہ بچی کے ساتھ مبینہ ذیادتی کے ملزم مقبول احمد ولد دلارام خان کو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر گرفتار کرلیا ۔ مقامی میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے ایس پی انوسٹی گیشن چترال طارق کریم نے کہاکہ ڈی پی اوچترال (ر)کیپٹن منصورآمان کی خصوصی ہدایت پرچترال پولیس نے ملزم کو متعدد مقامات پرچھاپے مارنے کے بعد گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی جوکو وقوعہ کے بعد فرار ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ملزم نے مقامی سرکاری سکول میں پانچویں جماعت کی طالبہ کو سکول سے گھر جاتے ہوئے اغوا کرکے قریبی جنگل میں لے جاکر ذیادتی کانشانہ بنانے کے بعد فرار ہوگئے تھے۔ ایس پی نے مزید بتایاکہ بچی جب کافی دیر تک گھر نہیں پہنچی تو والدین نے انکی کی تلاش شروع کی اور انکو بے ہوشی کی حالت میں قریبی جنگل میں پایا۔ بچی کو بے ہوشی کی حالت میں فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دروش لایا گیا جہاں اس کی میڈیکل معائنہ کیا گیا۔ طارق کریم کا کہنا ہے کہ ملزم نے پولیس کے سامنے اقرار جرم بھی کرلی ہے جبکہ میڈیکل رپورٹ کا ا نتظار ہے۔ ملزم کو کسی بھی وقت عدالت میں پیش کرنے کے بعد اس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیاجائے گا۔ انھوں نے عشریت پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔ اس موقع پرایڈیشنل ایس پی نور جمال، ایس ڈی پی او دروش اقبال کریم ، ایس ایچ او عشریت عبدالمظفر شاہ، انسپکٹر انوسٹی گیش مبارک خان اور دوسروں‌کے علاوہ ڈسٹرکٹ چائلد پروٹیکشن آفیسرعمران بھی اس موقع پر موجود تھے. انھوں بتایا کہ ملزم کے خلاف چائڈ پروٹیکشن قوانین کے مطابق سخت سے سخت کاروائی عمل میں‌ لانے کے لئے تمام قانونی پہلوں کو بروئے کار لایا جائیگا.
Chitral Accuesed in custody of Chitral police pic by Saif ur Rehman Aziz3
Chitral SP investigation Tariq Karim talking to media after arrest accused Maqbol Ahmad pic by Saif ur Rehman Azizi2
Chitral Accuesed in custody of Chitral police pic by Saif ur Rehman Aziz

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9073

صدا بصحرا………… چیک پوسٹ اور بے صبری……….. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

چیک پوسٹ انگریزی ترکیب ہے ۔ اس کا اردو متبادل چونگی تھا ۔ راستے میں ایسا مقام جہاں مسافروں کی تلاشی لیکر کسی سے محصول لیا جاتا ہے۔ کسی کوآگے جانے کی اجازت نہیں ملتی۔ کوئی یفت خواں طے کرکے منزل مقصود کی طرف روانہ ہوجاتاہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی کو اب 40سال ہوگئے ہیں ۔ اس خانہ جنگی کے نتیجے میں پاکستان عمومی طور پر اور خیبر پختونخوا خصوصی طور پر دہشت گردی کا نشانہ بن گیا۔ دہشت گردوں کو روکنے کیلئے چیک پوسٹ قائم کئے گئے۔ سول حکومت کی درخواست پر چیک پوسٹوں کا انتظام پاک فوج کے ہاتھ میں دیدیا گیا۔ اگرچہ ان چیک پوسٹوں کی وجہ سے امن قائم کرنے میں مدد ملی مگر ایک نہ ایک دن چیک پوسٹوں کا انتظام سول انتظامیہ کو سونپ دینا تھا ۔ جنرل باجوہ نے اس کام کی ابتدا ملاکنڈ ڈویژن سے کی ہے۔ ہمارے گروپ نے چترال سے پشاور تک ایک ہفتے کا سفر کیا۔ چترال ٹاؤن سے درگئی تک چیک پوسٹوں پر دو گھنٹے رکنا پڑتاتھا ۔ صرف 4مقامات پر ڈرائیور کا شناختی کارڈ چیک کیا گیا۔ مسافروں سے مختصر پوچھ گچھ ہوئی ۔ اس عمل میں کل ملا کر 10منٹ کا وقت لگا۔ کوئی لمبی قطار دیکھنے میں نہیں آئی۔ کسی بھی مقام پر عزت نفس کے مجروح ہونے کااحساس نہیں ہوا۔ ہم لوگ فطری طور پر بے صبر واقع ہوئے ہیں ۔ ہم سے صبر نہیں ہوتا۔ جس طرح دہشت گردی کے دوران چیک پوسٹوں پر بے صبری دکھاتے تھے ۔ اسی طرح پشاور شہر میں میٹرو بس کی شاہراہ کے تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹریفک کے متبادل نظام کو بھی ہم قبول نہیں کرتے۔ ہر کوئی شکایت کرتا ہے کہ ٹریفک کا نظام برباد ہوا۔ فارسی میں ایک شعر ہے ؂
ہر بنائے کہنہ راکباداں کنند
پیش ازاں بنائے را ویراں کنند
جس عمارت کی جگہ نئی عمارت بنانی ہو، پہلے پرانی عمارت کو گرانے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اردو میں حفیظ جالندھری کا مشہور مصرعہ ہے ۔
’’ بستی بسانا کھیل نہیں،بستے بستے بستی ہے‘‘انگریزی میں ایک ڈرامے کا کردار کہتا ہے ’’ روم کا شہر ایک دن میں تعمیر نہیں ہوا تھا‘‘ پشاور کے میٹرو بس کا نام بڑا مشکل ہے۔پشاور کے باسی اس کا کوئی آسان سا نام خود رکھ لینگے۔ لوگوں نے بہت سے مشکل ناموں کا آسان اور عام فہم متبادل ڈھونڈلیا ہے ۔ مثلاََ جوڈیشیل کمپلیکس کیلئے کچہری کالفظ استعمال ہوتا ہے۔ حیات محمد خان شیر پاؤ ٹیچنگ ہسپتال کو شیر پاؤ ہسپتال کہا جاتا ہے۔ اس طرح ’’ پشاور سسٹین ایبل بس ر یپڈ ٹرانزٹ کو ریڈور پراجیکٹ‘‘ کو بھی کوئی آسان اور عام فہم نام دیا جائے گا۔ پشاور شہر کی قدیم تہذیب کے حوالے سے ارزان میٹرو، خیبر میٹرو، قصہ خوانی لائن ، کوچوان میٹرو، زرکہ میٹرواور مَکیز بس بھی کہہ سکتے ہیں۔ احمد خان کی آواز میں ایک ٹپہ مشہور ہے ؂
سر سالو پہ سر کہ پہ مکیز باندی روانہ شہ
بیاد ڈیرہ نازہ لکہ زاکہ خرامانہ شہ
میرے محبوب ! سُرخ چادر سر پہ رکھو اور نازک قدموں کے ساتھ آگے بڑھو، پھر نازو ادا دکھاتے ہوئے چکور کی طرح تیز رفتاری دکھاؤ۔ پشاور کے عوام کے لئے موجودہ حکومت کا یہ بہترین تحفہ ہے۔ اگر 2014ء میں اس پرکام شروع ہوجاتا تو 2017ء کے وسط تک مکمل ہوچکا ہوتا۔یہ ایک طرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گا۔ دوسری طرف سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔ نیز پشاور کے شہریوں کو پرانے ویگنوں، ٹیکسیوں ، رکشوں اور دیگر مہنگے یا نامناسب سواریوں سے نجات دلائے گا۔ آپ تصور کریں 2020ء میں منصوبہ مکمل ہوا تو پشاور کے شہری حاجی کیمپ سے وی آئی پی بس میں 30روپے کرایہ دیکر کارخانہ مارکیٹ تک جائیں گے۔ خیبر روڈ ، شعبہ ، ڈبگری، صدر ،تہکال اور دیگر سٹاپوں پر اترنے اور سوار ہونے کا لطف آئے گا۔ پشاور کو اسلام آباد ، لاہور، بنکاک ، لندن اور بیجنگ ، فرینکفرٹ یا ماسکو کی طرح صاف ستھری ، آسان ، ارزان اور بہترین بسوں میں سفر کرنے والوں کا شہر بنادیاجائے گا۔ پشاور کے باسی کسی اور شہر میں جاکر افسوس نہیں کریں گے کہ کاش ہمارے شہر میں بھی یہ سروس ہوتی۔ اس سروس کو حاصل کرنے کیلئے ڈھائی تین سالوں کی تکلیف یا مشقت اور زحمت کوئی بڑی قیمت نہیں ۔ پشاور کا ایک مسئلہ شاید کسی نے اب تک جنرل باجوہ کی نوٹس میں نہیں لایاہوگا۔ 10سال پہلے کسی آفیسر نے حکم دیا ہوگا کہ ’’ پیلے رنگ کی ٹیکسی میں دہشت گردوں کے آنے کا اندیشہ ہے۔ ان کو صدر اور یونیورسٹی میں آنے مت دو ۔‘‘ 10سال گذر گئے ۔ اس حکم پر عمل ہورہا ہے۔ردہشت گردوں کو بھی اس حکم کا پتہ ہے۔ اب سفید ، کالا، سرخ یا سبز اور بھورا رنگ ہو تو ٹیکسی چیک پوسٹ سے آگے جاسکتی ہے۔ رنگ پیلا ہو تو نہیں جاسکتی چاہے اس کے اندر خاتون بیٹھی ہو ، بیمار ہو یاجانا پہچانا معروف شخص ہو۔ جنرل باجوہ کو اس طرف بھی توجہ دینی ہوگی کہ دہشت گردی کو رنگ کے ساتھ کس طرح جوڑا جاسکتا ہے ؟ ؂
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9072

نیب خیبر پختونخوا نے متعدد محکمہ جات کے اہلکاروں کے خلاف انکوائری کی منظوری دیدی

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا کے ریجنل بورڈ کا اجلاس پشاور میں منعقدہوا۔فرمان اللہ خان ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو، خیبر پختونخوا کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں ڈائریکٹرز، ایڈیشنل ڈائریکٹرز،DPGA ،کیس آفیسر، سینئر قانونی مشیر کے علاوہ متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں مختلف عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے احکامات جاری کیے گئے۔اجلاس میں محکمہ ٹوراِزم کارپوریشن خیبر پختونخوا کے ملازمین کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کی منظوری دے دی۔ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کر تے ہوئے محکمہ ٹوراِزم کارپوریشن خیبر پختونخوامیں غیر قانونی بھرتیاں کی۔

اجلاس میں دوسری انکوائری ڈسڑکٹ ایجوکیشن آفیسر (زنانہ)ڈی آئی خان کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی منظوری دی۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کر تے ہوئے ڈسڑک ایجوکیشن آفیسر (زنانہ)ڈی آئی خا ن میں مختلف Cadre کی غیر قانونی بھرتیاں کی۔
اجلاس میںAdministrative Officer ، ٹی ایم اے نوشہرہ کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کی منظوری دی۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کر تے ہوئے غیر قانونی بھرتیاں کی اور Tax Collections کے مختلف ٹھیکے اپنے فرنٹ مین کو دئیے۔
علاوہ ازیں اجلاس میں عمر حیات، Senior Auditor ، ڈسٹرک اکاؤنٹس آفیسرضلع شانگلہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے پر ضمنی ریفرنس کی منظوری دی۔

ڈی جی نیب نے عہد کیا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال چےئرمین نیب کی فراہم کر دہ احکامات کی روشنی میں بدعنوانی کے روک تھام کے لئے نیب کے پی، صوبے سے کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اُ کھاڑنے کے لئے پر عزم ہے۔ اور قانون کے مطابق بلا امتیاز احتساب کو یقینی بنانے کے لئے کو شاں ہے۔ کیونکہ یہ صرف ہماری اخلاق اور سماجی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ ہماری والی نسلوں کی روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , , , , , ,
9067

صوبائی حکومت 2015 کے بجٹ میں اعلان کردہ الاؤنس میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے.تنظیم اساتذہ

پشاور( چترال ٹائمز رپورٹ)خیبر پختونخوا کی حکومت 2015 ؁ء کے بجٹ میں اعلان کردہ تعلیمی اداروں کے سربراہان کیلئے چار الاؤنس میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے ۔ایم فل الاؤنس کوبڑھا کر 10 ہزار روپیہ ماہوار کر دیا جائے اور اس کا اطلاق ایم ایس ڈگری کے حامل ملازمین پر بھی کیا جائے ۔محکمہ صحت اور عدلیہ کی طرح معماران قوم کیلئے 10ہزار روپیہ ماہوار تدریسی الاؤنس کا اجراء کیا جائے ۔پسماندہ اضلاع کے ہارڈ ایریا الاؤنس میں مقامی ملازمین کو بھی شامل کردیا جائے یہ مطالبہ تنظیم اساتذہ پاکستان صو بہ خیبر پختونخوا کے صو بائی ذمہ داران خیر اللہ حواری ،شمشاد خان جھگڑا ،عبید اللہ ،مصباح السلام عا بد ،میاں ضیاء الرحمن ،سید محمد شاہ باچا اور سکندر خان یوسفزئی نے مشترکہ جاری کردہ پریس ریلیز میں کیا ہے ۔انہوں نے مذید کہا ہے کہ تمام ایڈھاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں شامل کرکے تنخواہوں اور پنشن میں 100%اضافہ کیا جائے ۔ہاؤس رینٹ ہر جگہ 50%دیا جائے ۔TA DAمیں 100%اضافہ کیا جائے تمام الاؤنسسزجاری تنخواہ پر دئیے جائیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , , , , , ,
9065

شام میں امریکی اتحاد یوں کے تین بنیادی اہداف………. قادر خان یوسف زئی

انبیا ء اکرام کی سرزمین مملکت شام اس وقت عالمی قوتوں کی طاقت کا جنگی اکھاڑہ بن چکا ہے۔ امریکا کے صدر ٹرمپ نے شامی افواج کے مقامات پر حملے شروع کردیئے ہیں۔ برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسامے کا کہناتھا کہ ’’ شام پر حملے کے علاوہ کوئی متبادل راستہ نہیں تھا ۔‘‘ برطانیہ کے نزدیک شام پر حملہ جائز و قانونی تھا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکراں نے شام کے خلاف امریکا و برطانیہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور شام میں فرانسیسی طیں نے بھی حملہ کیا ۔فرانس کے نزدیک حملے کا مقصد شام کے کیمیائی ہتھیاروں کوکی پیداوار کو نشانہ بنانا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولن برگ نے بھی شام پر حملے کی حمایت کا اعلان کیا ۔ کینیڈا ، ترکی اور اسرائیل نے بھی صدر بشار الاسد کے خلاف حملے کا خیر مقدم کیا ہے۔ روس ، ایران نے حملوں کی شدید مذمت کی اور اس کا ردعمل علاقائی سطح پر سنگین نتائج بتائے ہیں۔ امریکا اور روس کے درمیان بدترین تعلقات میں مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔ روس ،بشار الاسد کا اور امریکا ،بشار الاسد مخالف قوتوں کا کھل کر ساتھ دے رہے ہیں ۔ سات برس سے جاری جنگ میں اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو وہ صرف شام کے نہتے و بے بس عوام ہیں ۔ خانہ جنگی سے سرزمین شام کھنڈرات کا ڈھیر بن چکی ہے ۔ سوا 2کروڑ آبادی رکھنے والے اس ملک میں زندگی اپنی جان کی بازی ہار چکی ہے۔ انسانی زندگی کا دارو مدار صرف اور صرف عالمی قوتوں کی جانب سے بمباری روکنے پر ہی موقوف ہوچکا ہے۔لاکھوں شہریوں کی ہجرت ، نقل مکانی اور بربادی کو تمام دنیا خاموشی سے دیکھتی رہی ہے ۔ شامی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر استعماری قوتیں اپنی طاقت آزمائی کررہی ہیں۔2011میں لاکھوں مظاہرین کی جانب سے بشار الاسد کے خلاف احتجاج کا ایک سلسلہ شروع ہوا ، جسے بزور طاقت کچلنے کا اعلان کرتے ہوئے بشار نواز قوتوں نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔2011ء میں تیونس میں محمدبو عزیزی کی خود سوزی کے گرد بننے والی تحریک نے جلد ہی پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیاتھا۔ اس تحریک نے بڑھتے ہوئے برسوں سے رائج آمریتوں کا خاتمہ کیا، وہیں پر اس عرب انقلاب نے پوری دنیا پر اہم انقلابی نقوش چھوڑے۔ شام میں بھی عرب بہار نے برسوں سے سطح کے نیچے موجودمروجہ نظام کے خلاف نفرت کو لاوے کی طرح سامنے لانے کا کام کیا۔ فروری 2011ء میں السذاجتہ أبازیدنامی نوجوان نے اپنے سکول کی دیوار پر، ’ڈاکٹر بشار الاسد اب تمہاری باری ہے‘ لکھا۔ اس جرم کی پاداش میں أبا زید کو حکومتی اہلکاروں نے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے خلاف مارچ 2011ء میں شام کے جنوبی شہر ڈیرہ میں جمہوریت کے حامیوں نے احتجاج کیا۔ اس پر حکومت نے سختی سے نپٹتے ہوئے احتجاج کو پرتشدد طریقے سے منتشر کر دیا۔ اس ریاستی جبر نے عوامی لاوے کو پھاڑ کر ایک انقلاب کا آغاز کیا۔ بظاہر احتجاجوں کے مطالبات زیادہ تر سیاسی نوعیت کے تھے لیکن جوں جوں تحریک آگے بڑھتی گئی تو معاشی و سماجی مطالبات کے ساتھ پورے نظامِ کو چیلنج کرنے لگ گئی۔بتدریج مملکت شام کے مختلف حصوں میں جنگجو ملیشیاؤں نے مسلح مزاحمت شروع کردی اور عالمی استعماری قوتوں نے شام کے مسئلے کا حل نکالنے کے بجائے وہاں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کو ترجیح دی ۔ شام میں جاری جنگ کی وجہ سے ترکی میں 25لاکھ سے زائد شامی باشندے پناہ لے چکے ہیں ۔ 827طویل سرحد کی وجہ سے ترکی براہ راست متاثر ہونا شروع ہوا۔عالمی طے شدہ ایجنڈے کے تحت شام کے شہر عفرین کے کردوں کو ترکی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ امریکا نے ترکی کے خلاف کرد باغیوں کی حمایت شروع کردی جس کی وجہ سے ترکی نے ’’ زیتون کی شاخ‘‘ نامی آپریشن کرکے عفرین میں اپنی فوجیں داخل کردیں ۔ امریکا کردوں کی 30ہزار فوج بنانے کا اعلان کرچکا تھا ۔ اس سے قبل ترکی میں امریکی حمایت یافتہ ترکی لیڈر نے بغاوت کردی تھی جسے طیب اردوغان نے عوام کے ساتھ ملکر ناکام بنا دیا تھا۔امریکا ، اسرائیل کی طرز پر ترکی ، عراق ، شام اور ایران کے ترک علاقوں پر مشتمل ایک نئی اور آزاد مملکت کا قیام چاہتا ہے۔ تاکہ اسرائیل مخالف قوتوں کے خلاف کرد حکومت کو استعمال کیا جاسکے ۔ شام کی جنگ میں اب تک ساڑھے 4 لاکھ شامی باشندے ہلاک ہوچکے ہیں ، جبکہ10 لاکھ سے زائد زخمی اور 12ملین سے زائد نقل مکانی پر مجبور ہوچکی ہے۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 70فیصد آبادی پینے کے پانی کی سہولت سے محروم ہیں ، ہر تین میں سے ایک فرد بنیادری خوراک کی عدم دستیابی و کمی کا شکار ہے ہر چوتھا شامی غربت کی اتھا گہرائی میں عبرت کی تصویر بنا ہوا ہے ۔ علان معالجے کے سہولیات میسر نہ آنے کی وجہ سے قابل علاج امراض بھی ناقابل علاج بن چکے ہیں اور انسانیت جنگی بربریت کا نشانہ بن رہی ہے۔
امریکا اور روس نے شام کی سرزمین پر بڑی جنگ لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے پہلا بڑا فضائی حملہ کرچکاہے ۔ اس کی وجہ روس اور شامی اتحاد جنگجوؤں کی جانب سے بشار مخالف گروپ پر ایک مرتبہ پھر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا جانا بتایاگیا ہے۔ جس کی زد میں عام شہری اور بچوں کی بڑی تعداد بھی آئی ہے ۔ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں ہلاکتوں کے حوالے معروضات کے علاوہ شام میں بمباریوں سے انسانی ہلاکتوں کا ذکر نظر اندازنہیں کیا جاسکتا کیونکہ جس طریقے سے نہتے ، بے گناہ انسانوں پر بمباریاں کیں گئیں اس کی مذمت کے لئے تو اقوام متحدہ کے پاس بھی الفاظ ختم ہوچکے تھے ۔ اس کا اندازہ بین الاقوامی چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) کے شام کے مشرقی علاقے غوطہ میں بمباری کے نتیجے میں بچوں کے جاں بحق ہونے پر بہ طور احتجاج خالی اعلامیہ سے کیا جاسکتا ہے جس کے آغاز پر مضمون کی جگہ پر یہ سطر تحریر کی گئی ہے کہ ’کوئی الفاظ ان جاں بحق بچوں، ان کے ماں باپ اور پیاروں کو انصاف نہیں دلا سکتے‘۔ اس کے بعد پورا صفحہ خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ خالی اعلامیہ یونیسیف کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے اور نشریاتی اداروں کو جاری کرتے ہوئے اعلامیہ کے ساتھ ایک یادداشت بھی منسلک کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شام میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں پر خالی اعلامیہ جاری کیا جا رہا ہے کیوں کہ کسی لغت میں وہ الفاظ موجود نہیں جو ایسے سانحات اور مظالم کو بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ گیرٹ کیپیلیرے نے بین الااقوامی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران سب سے زیادہ نقصان بچوں کی ہلاکتوں کی صورت میں سامنے آتا ہے کیوں اس طرح ہمارا مستقبل منوں مٹی تلے دب جاتا ہے، ہمیں ایسے الفاظ نہیں مل رہے ہیں جو ان کرب ناک سانحات کا احاطہ کرسکتے ہوں۔
ماہرین کے مطابق اس تنازعے کا کوئی بھی فریق فوجی اعتبار سے کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسد غالباً اس بات کا مکمل تہیہ کیے ہوئے ہیں کہ مغربی دنیا کی طرف سے تمام تر دھمکیوں کے باوجود وہ اقتدار نہیں چھوڑیں گے۔ باغیوں کو بھی یقین ہے کہ یہ تنازعہ پُر امن طریقے سے حل نہیں ہونے والا۔ اثر و رسوخ کے لیے ہونے والی کشمکش میں نہ تو عالمی طاقتیں اور نہ ہی علاقائی طاقتیں اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں۔ جبکہ روس نے حملے کی تحقیقات کے لئے سلامتی کونسل کی قرار داد کو بھی روس نے ویٹو کردیا ہے۔قرار داد کے حق میں 12ممالک نے ووٹ دیا تھا ۔ قرار داد فرانس کی جانب سے پیش کی گئی تھی ۔ جس پر برطانیہ ، امریکا ، کویت ، سویڈن ، پولینڈ ، پیرو ، نیدر لینڈز اور آئیوری کوسٹ نے بھی دستخط کئے تھے۔ بولیویا نے روس کا ساتھ دیا جبکہ چین نے اپنا ووٹ استعمال نہیں کیا۔ قرار داد ویٹو کرنے کے بعد ایک اور قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی جسے روس کی حمایت حاصل تھی لیکن 7ممالک کی مخالفت کے سبب قرارداد مسترد ہوگئی ۔ قرارداد کی منظوری کے لئے کم ازکم 9ووٹ درکار ہوتے ہیں ۔ نئی قرار داد کے حق میں چین نے بھی اپنا ووٹ استعمال کیا تھا ۔ روس اب تک شام کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی12قراردادوں کا ویٹو کرچکا ہے۔جس کی وجہ سے شام کے خلاف عسکری کاروائی ممکن نہیں ہوپاتی۔برطانیہ اور مغربی بلاک کی جانب سے ڈبل ایجنٹ سرگئی کے خلاف اعصاب شکن زہریلی گیس کے استعمال سے سرد جنگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جب برطانیہ سمیت امریکا و اتحادیوں نے روس کے سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا تھا۔ جوابی طور پر روس نے بھی امریکی سفارت کاروں کو اپنے ملک سے بیدخل کرنے کے احکامات دے دیئے تھے ۔ یہ سرد جنگ مزید کشیدہ ہوتی چلی گئی اور روس کے تجارتی اتحادی چین کے خلاف امریکا نے تجارتی جنگ کا آغاز کرتے ہوئے بھاری ٹیکس لگا دیئے جس پر چین نے بھی امریکی درآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کردیئے ۔ امریکا چین کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو سہ نہیں سکا اور امریکی صدر ٹرمپ نے تسلیم کرلیا کہ وہ چین کے مقابلے میں تجارتی جنگ ہار چکے ہیں۔ اب امریکا نے دوما میں زہریلی گیس حملے کو جواز بناتے ہوئے شام پر حملے کو یقینی بنا دیا ہے۔ فرانس اور برطانیہ بھی شام پر حملے کی حمایت میں ہیں اور عالمی منظر نامے میں واضح نظر آرہا ہے کہ عراق ، افغانستان کے بعد اب امریکا شام کی سرزمین پر قبضے کے لئے پَر تول رہا ہے ۔ امریکی حملے سے قبل یورپی ادارے ’’ یورو کنٹرول‘‘ نے فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشرقی بحیرہ روم سے گذرنے والی اپنی پروازوں کے حوالے سے احتیاط کریں کیونکہ اگلے 72گھنٹوں میں شام پر فضائی حملہ کیا جاسکتا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ لاطینی امریکی خطے کا پہلے سے طے شدہ اپنا دورہ بھی منسوخ کردیا تھا۔امر یکا عرب ممالک سے مطالبہ کرچکا تھا کہ اس جنگ میں اٹھنے والے اخراجات برداشت کریں ۔ کیونکہ اس جنگ سے امریکا کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد کے حالیہ امریکی دورے و ملاقات کے دوران بھی شامی جنگ کے اخراجات کا معاملہ اٹھایا گیا تھا جس میں چار ارب ڈالر سعودی عرب سے طلب کئے گئے تھے ۔ اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے میں امریکی اتحادیوں کو سات برسوں میں کامیابی نہیں مل سکی ہے اس لئے اب اس بات کی زیادہ کوشش کی جائے گی کہ کسی طرح بشار الاسد کو جانی نقصان پہنچایا جاسکے ۔ امریکی حملوں میں نئے اسمارٹ میزائل کے ا ستعمال کئے جانے کا امکان ظاہر کیا جا چکا ہے ۔گو کہ امریکی تمام میزائل GBSٹیکنالوجی سے لیس ہیں جو کسی بھی ہدف کو درست نشانہ لگا سکتے ہیں ۔ لیکن روس کے پاس بھی جدید ترین دفاعی نظام موجود ہے جو امریکی حملے کو روکنے کے علاوہ جوابی حملے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ امریکا ، برطانیہ اور فرانس کے فضائی حملوں کے جواب میں ایس ۔400 دفاعی نظام استعمال نہ کئے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ، اطلاعات کے مطابق سوویت یونین کا 30 برس پرانا دفاعی ائیر بیس نظام استعمال کیا گیا تھا ۔ گو کہ روس نے حال ہی میں اپنے نئے دفاعی نظام میں ایسے میزائل متعارف کرائے تھے جو امریکا سمیت پوری دنیا میں کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ لبنان میں تعینات روسی سفیر نے امریکی دہمکی پر واضح بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان میزائلوں کو تباہ کردیا جائے گا اور ان جگہوں پر بھی حملہ کیا جائے گا جہاں سے یہ میزائل داغے جائیں گے۔ دونوں عالمی قوتوں کے درمیان طاقت کے نئے مظاہرے اور جنگ سے خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی اور اس کے براہ راست اثرات عرب مسلم ممالک پر پڑیں گے ۔ اسرائیل بھی اس جنگ میں ایران کے خلاف براہ راست حصہ لینے کے لئے تیار ہے۔ گزشتہ دنوں شامی ائیر بیس پر اسرائیلی طیاروں نے بھی بمباری کی تھی جس میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکت بھی سامنے آئی تھی۔
شام کی جنگ کے حوالے سے تین اہداف سامنے آچکے ہیں ۔ جس میں سب سے پہلے بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کرنا ہے ،جس میں سات برس گذر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کو بھی کامیابی نہیں مل سکی ہے جب سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر بشار الاسد کو مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا ۔ اسی طرح شام کی جنگ کا دوسرا ہدف ، مملکت کی تقسیم ہے ۔ جس میں بھی ابھی تک کامیابی نہیں ہوسکی ہے۔ اسرائیل و امریکا کی یہ خواہش ہے کہ شام تقسیم ہوجائے ، اس سلسلے میں امریکا شامی کردوں کی حمایت کرتے ہوئے 30ہزار کرد ملیشیا بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ جس کی ترکی نے شدید مذمت کی تھی ۔ عفرین پر ترک کاحملہ اسی سلسلے کی کڑی تھی جس میں کرد ریاست بننے کو روکا جاسکے۔ تاکہ شام ، عراق اور ایران کے علاقوں میں پھیلے ہوئے کردوں کو آزاد ریاست میں اسرائیل طرز پر بنایا جاسکے۔شام کی جنگ کا ایک اہم ہدف ایران اور ایران نواز تنظیم حزب اللہ کو کمزور کرنا رہا ہے ۔ لیکن شامی جنگ میں جس طرح ایران اور حزب اللہ نے خود کو مضبوط کیا وہ اسرائیل کے لئے پریشان کن ثابت ہو رہا ہے۔ گو کہ اس حوالے سے ایران کا کردار کافی متنازعہ رہا ہے جس میں اجرت پر پرائیوٹ ملیشیا بنا کر شام میں بشار الاسدحکومت کی مدد کی گئی ۔ لیکن اسرائیل اور امریکا حزب اللہ کو کمزور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے اور اسرائیل حزب اللہ کو اپنے وجود کے لئے سب سے بڑا سمجھتا ہے۔اس تمام مظہر میں اقوام عالم اس بات کو فراموش کررہی ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں شکست خوردہ اسلامک اسٹیٹ کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع مل رہا ہے ۔ عراق و شام میں داعش کو شکست کے بعد دوبارہ سنبھلنے کے لئے مہلت درکار تھی جو اب انہیں شام میں عالمی قوتوں کے درمیان جنگ و جھڑپوں کی صورت میں میسرآرہا ہے۔ داعش کے شکست خوردہ عناصر افغانستان میں جمع ہو رہے ہیں اور افغانستان میں منظم ہو رہے ہیں ۔ خیال یہی کیا جارہا ہے کہ عالمی قوتوں کے درمیان محاذ آرائی کا براہ راست فائدہ داعش کو بھی پہنچے گا اور عالمی دہشت گرد تنظیم ایک مرتبہ پھر اس قابل ہوجائے گی جس میں اپنے سابق مفتوحہ شہروں پر پیش قدمی کرسکتی ہے۔ اس کے لئے فی الوقت افغانستان کومرکزی ہیڈ کوارٹر کی حیثیت دے دی گئی جہاں مفرور شکست خوردہ داعشی جمع ہو رہے ہیں اور ان کی تعداد ہزاروں میں بڑھ چکی ہے ۔ افغانستان میں کمزور حکومتی رٹ کے بدولت داعش کا فتنہ بہت جلد زور پکڑ سکتا ہے اور اس کی ذمے دار عالمی قوتیں ہونگی۔
امریکا سمیت کسی بھی مغربی بلاک کو مسلم اکثریتی ممالک سے کوئی انسانی ہمدردی نہیں ہے ۔ بلکہ عرب ممالک کے قدرتی خزانوں پر اُن کی ہمیشہ نظر رہی ہے ۔ بد قسمتی سے عرب ممالک کے درمیان اختلافات کا فائدہ مکمل طور پر یہود، ہنود و نصاریٰ اٹھا رہے ہیں۔ قدرتی وسائل و خزانوں کا منہ مسلم دشمن قوتوں کے لئے کھلا ہوا ہے ۔ جو مسلم ممالک کے درمیان نا اتفاقی دور کرنے کے بجائے انتشار اور افراتفری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔عرب و عجم کے درمیان سینکڑوں برس کی خلیج ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے اور ریاستوں کی فروعی پالیسیوں کی وجہ سے عام نہتے انسان ہی جنگ کے ایندھن کا حصہ بن رہے ہیں۔مسلم اکثریتی ممالک کے اجتماعی عالمی تنظیم باہمی اختلافات کو دور کرنے میں بھی ناکام نظر آتی ہے ۔ دوسری جانب مسلم اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھی مسلم اکثریتی ممالک کا اتحادغیر فعال نظر آتا ہے ۔ مسلم ممالک اندرونی انتشار اور عالمی پراکسی جنگ کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔ بد قسمتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی ماضی میں ہونے والی جنگوں سے مسلم اکثریتی ممالک سبق کیوں نہیں حاصل کرتے۔عوامی رائے یہی سامنے آئی ہے کہ مسلم حکمرانوں کی نا اتفاقی کی وجہ سے امت مسلمہ پر کڑا وقت آیا ہوا ہے ۔ غیر مسلم قوتیں مسلم امہ کو مزید برباد کررہی ہیں ، رہی سہی کسر ہم مسلمانوں کا آپس میں بدست و گریباں ہونا ہے ۔ داخلی انتشاروں اور افرا تفری کی وجہ سے اقوام عالم میں کوئی ایسا ملک نظر نہیں آتا جو مسلم ممالک کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ ہو ۔ تقریباََ تمام مسلم ممالک داخلی و خارجی مسائل کا شکار ہیں۔ عالمی استعماری قوتوں نے مسلم ممالک کو مفلوج اور غیر فعال بنا رکھا ہے ۔ مسلم امہ کی طاقت کا سرچشمہ ایک مضبوط رسی ہوا کرتی تھی لیکن اب مسلمان اب چھوٹے چھوٹے حصوں میں بٹ کر رہ گئے ہیں۔استعماری قوتوں کا دجالی تکون مسلم ممالک کو ہر طرف جکڑ چکا ہے ۔ اس شکنجے سے خود کو آزاد کرنے والی مملکتوں پر ایسی سازشوں کا انبار لاد دیا جاتا ہے کہ وہ اجتماعی مقاصد سے دور ہوجاتی ہیں اور محدود پیمانے پراپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہوجاتی ہیں ۔ ہمیں امت واحدہ کے تصور کو اپنانے کی ضرورت ہے ۔ جب تک ہم امت واحدہ کے درست تصور کے ساتھ عالمگیر سطح پر ابھر کر اپنی ملت کی قیادت نہیں کرتے اُس وقت تک ہمارے مسائل کا حل ہنود ، یہود و نصاریٰ اور ان کے حلیفوں کے پاس نہیں نکل سکتا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9063

چترال کے خواتین پاکستان پیپلزپارٹی کے ممبر شپ کیمپین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔۔ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

Posted on

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ)پی پی پی چترال خواتین ونگ کے ضلعی صدرناہیدہ سیف ایڈوکیٹ نے ایک اخباری بیان میں کہاہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے نظریاتی کارکن پارٹی کو فعال کرنے اور دوبارہ اپنی پوزیشن پر لانے کے لیے کوشاں ہیں یہ پارٹی وفاداروں اور قربانی دینے والوں کی پارٹی ہے کارکنوں کی جدوجہد کئی سالوں پر محیط ہے ۔یہ پارٹی ضمیر فروشی اور کرپٹ مافیا کو مسترد کرتی ہے جس کے بارے میں واضح پیغام پارٹی چیئرمین نے پہلے ہی دی ہوئی ہے کچھ عناصر پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور پارٹی کے نظریاتی کارکنوں میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے اور پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات پر چترال میں خواتین ممبر شپ کیمپین کا انعقاد کرتے ہوئے خواتین پر زور دیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ممبر شپ کیمپین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی خواتین کے حقوق کا ضامن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کبھی بھی کرپٹ مافیا کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کرپشن کے خلاف زیرو ٹولیرنس پالیسی ہے یہ وہ پارٹی ہے جس کے قائدین نے غلط کو غلط کہنے کے پاداش میں اپنی جانیں تک گنوا بیٹھے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے مخلص کارکن پارٹی کے نظریات اور پارٹی کی پالیسی کے ساتھ کھڑے ہیں اور آنے والے الیکشن میں کرپشن سے پاک خوشحال پاکستان کے لیے عوام پیپلزپارٹی کا ساتھ دے گی۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9060

AKRSPکے زیراہتمام تعمیر شدہ ہائیڈروپاور پراجیکٹ پاؤریارخون کا بدست سوئس ایمبسیڈرافتتاح

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) پاکستان میں سویٹزرلینڈ کے سفیر تھامس کولے ( Thames Kolay)نے کہا ہے کہ چترال اور سوئزلینڈ کی جعرافیائی حالات اور خدوخال ایک جیسے ہیں جہاں رہنے والے لوگ فطرت کے ذیادہ قریب تر ہوتے ہیں اور فطرت ان کو زندگی گزارنے اور سخت سے سخت حالات کے مطابق اپنی زندگی میں مطابقت پیدا کرنا سیکھا دی ہے جوکہ محنت اور آپس میں اتحاد واتفاق کا راستہ ہے اور چترال کے عوام بھی سخت محنت کے جذبے سے سرشار ہیں۔ اتوار کے روز چترال شہر سے دو سو کلومیٹر دور یارخون وادی کے گاؤں پاؤر میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (اے کے آرایس پی ) کے زیر اہتمام سویس ایجنسی فار ڈویلپمنٹ اینڈ کواپریشن (ایس ڈی سی ) کی مالی اغانت سے پایہ تکمیل کو پہنچنے والی 800کلوواٹ ہائیڈروپاور پراجیکٹ کی افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس علاقے میں بجلی کی آمد کے بعد معیارزندگی میں تبدیلی آئے گی اور یہ دراصل ان کی سخت محنت کا ثمر ہے جوکہ اس منصوبے کی تکمیل کے لئے کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال سیاحوں کے لئے جنت ہے اور سیاحوں کو یہاں فروع دینے اور سیاحوں کی دلچسپی کو یہاں مرکوز کرنے کے لئے یہاں کے عوام کو بالکل اسی جذبے سے کام کرنا ہوگا جس جذبے سے انہوں نے بجلی گھر کی تعمیر کے لئے کرچکے ہیں۔ انہوں نے ترقی کے عمل میں خواتین کی بھرپور شرکت کی داد دیتے ہوئے اسے مستقبل میں ترقی کے لئے ایک ذریعہ قرار دیا۔ اس سے قبل انہوں نے آغا خان فاونڈیشن پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو افیسر اختر اقبال کے ساتھ افتتاحی تختی کی نقاب کشائی اور بٹن دباکر بجلی کا بلب روشن کرکے ہائیڈرو پاؤر اسٹیشن کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر اے کے آیس پی کے جنرل منیجر مظفر الدین، ریجنل پروگرام منیجر سردار ایوب، ایس ڈی سی کے ڈپٹی ہیڈ ڈینیل اور پروگرام افیسر ثنا عمر اور علاقے کے معززین بھی موجود تھے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں اختر اقبال نے چترال اور پاکستان کی شمالی علاقہ جات میں ترقی کے حوالے سے ایس ڈی سی اور سویس حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ اے کے ایف کے ساتھ ان کا تعاون تین عشروں پر محیط ہے اور چترال کے دور دراز اس وادی میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی بجلی گھر کی تعمیر بھی ان کی مالی معاونت سے ممکن ہوا۔ انہوں نے کہاکہ اے کے آر ایس پی نے اب تک اس ضلعے میں دو سو سے ذیادہ پن بجلی گھر تعمیر کرکے دیہات میں رہنے والوں کو بجلی فراہم کی ہے کیونکہ بجلی کی فراہمی سے ترقی کے دوسرے شعبوں پر اس کا براہ راست اثر پڑتا ہے ۔ اس موقع پر بجلی گھر سے پیدا ہونے والی بجلی کی تقسیم کا انتظام و انصرام کرنے والا ادارہ یادگار یوٹیلیٹی سروس کے چیرمین شیرولی خان اسیر نے کہاکہ بجلی کے صارفین پری پیڈ سمارٹ کارڈ کے ذریعے بلوں کی ادائیگی کررہے ہیں اور بجلی کی فراہمی سے یہاں زندگی کے ہر شعبے میں مثبت تبدیلی آنے والی ہے ۔ بعدازاں مقامی فنکاروں نے اپنے فن موسیقی کا مظاہرہ کرکے مہمانوں کو محظوظ کیا۔ اے کے آرایس پی کے سینئر اسٹاف امتیاز احمد کے علاوہ یوٹیلیٹی سروس منیجر مہربان خان، شفیق اللہ خان، عطاء الرحمن اور دوسرے بھی موجود تھے۔ ایڈیشنل ایس پی چترال نورجمال بھی اس موقع پر موجود تھے۔

akrsp mhp yarkhoon innuguration 1 akrsp mhp yarkhoon innuguration 2 akrsp mhp yarkhoon innuguration 4 akrsp mhp yarkhoon innuguration 5akrsp bijli ghar iftitah ban chitral 4akrsp bijli ghar iftitah ban chitral 2

akrsp bijli ghar iftitah ban chitral 3

akrsp bijli ghar iftitah ban chitral 5

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , ,
9041

لواری ٹنل کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھا جائے، چترالی مسافروں کی تذلیل کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔۔چترالی

Posted on

پشاور( چترال ٹائمز رپورٹ)لواری ٹنل کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھا جائے کام کے بہانے چترالی مسافروں کی تذلیل کا سلسلہ ہنوز جاری ہے بچے ، بوڑھے، خواتین اور مریض اب بھی کئی کئی گھنٹے لواری ٹنل کے دونوں اطراف انتظار پر مجبور ہیں وفاقی حکومت اور این ایچ اے اس تکلیف دہ معاملہ کا فوری نوٹس لیں اور عوام کے لئے سہولت کا فوری بند و بست کریں ان خیالا ت کااظہار سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے جمعیت علما ء اسلام چترال کے وفد سے المرکز الاسلامی حدیقۃ العلوم پشاور میں بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔وفد کی قیادت مولانا محمد مراد تحصیل موڑ کہوکے امیر کر رہے تھے وفد میں مولانا شیر کریم شاہ ، مولانا عمر فیضی اور دیگر ساتھی بھی موجود تھے ۔وفد سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا چترالی نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کو چترال میں بالعموم اور اپر چترال میں بالخصوص ایک مضبوط قوت بنایا جائے گا اور الیکشن 2018 ؁ء کیلئے دونوں دینی جماعتوں کو مکمل متحد کیا جائے گا تاکہ سازشی عناصر کسی بھی سازش اور متحدہ مجلس عمل کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کا مؤثر جواب دیا جاسکے تاکہ الیکشن 2018 ؁ء میں چترال کی دونوں سیٹوں سے کامیابی یقینی ہو انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل چترال کی تمام سیٹوں سے بھر پور کامیابی حاصل کرے گی اور صوبہ میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت بنے گی انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے بحال ہونے سے سیکولر طبقہ کی نیندیں اڑ گئی ہیں متحدہ مجلس عمل کی بحالی پر سب سے زیادہ تکلیف سیکولر طبقہ کو ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسلام آباد کو اسلام اور نفاذ شریعت کیلئے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسلام آباد سے فحاشی اور شراب خوری اور ظلم کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ سیکولر طبقہ اسلام آباد کو اپنے باپ کی جاگیر بنا ئے ہوئے ہے اب اسلام آباد کو اس دین بیزار طبقہ سے آزاد کرنا متحدہ مجلس عمل کا منشور ہے ۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9035

ضروری اعلان، کٹے ہوئے ہونٹ اور تلوکے مفت اپریشن کیا جائیگا۔۔ڈاکٹر عبد المجید

Posted on

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) پشاور کے معروف پلاسٹک سرجن ڈاکٹر عبد المجید(ایف سی پی ایس) نے ان تمام لوگوں کیلئے مفت اپریشن کا اعلان کیا ہے جن کے ہونٹ یا تلو پیدائشی طور پر کٹے ہوئے ہو۔ چترال ٹائمز سے گفتگوکرتے ہوئےانھوں نے بتایا کہ خصوصی طور پر باجوڑ ، دیر، تمرگرہ اور چترال کے لوگوں کو ان کے دہلیز پر مفت اپریشن اور علاج کیا جائیگا۔ تاکہ ان کو دوردراز کے علاقوں کا سفر کرنا نہ پڑے۔ خواہشمند حضرات درجہ ذیل ایڈریس پر رابطہ کرسکتے ہیں۔
free surgery

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , , ,
9027

ایم پی اےبی بی فوزیہ پر الزام بے بنیاد اور من گھڑت ہے….. ترجمان پی پی پی

Posted on

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز)پاکستان پیپلز پارٹی ضلع چترال کے ترجمان سیکرٹری اطلاعات قاضی فیصل نے ایک اخباری بیان میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چترالی قوم اپنی ایمانداری اور وفاداری کی وجہ سے پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں مانے جاتے ہیں، جو الزام ایم پی اے فوزیہ بی بی لگائی گئی ہے وہ بے بنیاد اور منگھڑت ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ فوزیہ بی بی کے قرآن پاک پر ہاتھ رکھکر قسم کھانے کے بعد اس میں کوئی گنجائش نہیں رہی کہ اُس پر شک کرسکیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہم ایم پی اے فوزیہ بی بی کے ساتھ ہر فورم پرکھڑے ہیں اور اس گہری سازش کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور فوزیہ بی بی کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی چترال اپنی بہن کے عزت کے لیے ہر حد تک جائینگے۔اُنہوں نے کہا کہ چترالی قوم کی دل آزاری پر عمران خان اور پرویز خٹک کا مذمت کرتے ہیں اور فوزیہ بی بی کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پی پی پی میں شمولیت اختیار کریں،چترالی خواتین،ماؤں اوربہنوں کی عزت اور ابرؤ کی پاسبان رہی ہے اور رہے گی۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9025

ادیب اور جشن قاق لشٹ……………شمس الرحمن تاجک

ہماری ایک مقامی ادیب سے دوستی ہے کچھ دن پہلے ان کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ ان کے چھ سال کے بیٹے سے پوچھا۔ بیٹا ادیب کیسے ہوتے ہیں۔ فوراً جواب آیا کہ ’’جن کے جوتوں کے تلوے پھٹے ہوئے ہوں وہ ادیب ہوتے ہیں‘‘۔ جواب حیرت انگیز تھاگومگو کی کیفیت میں دوسرا سوال کرنے سے پہلے ہی بچے نے تفصیل بھی بتادی کہ ’’ میرے ابو ادیب ہیں ان کے جتنے دوست آتے ہیں سب کے جوتوں کے تلوے پھٹے ہوتے ہیں۔ آج آپ آئے ہیں آپ کے جوتوں کے تلوے بھی پھٹے ہوئے ہیں، یقیناًآپ بھی ادیب ہوں گے‘‘۔ ہم نے عرض کیا کہ بیٹا اللہ نہ کرے یہ بیماری ہمیں بھی لگ جائے۔ بس جوتوں پر کبھی غور نہیں کیا۔یہ بچگانہ تجزیہ ہمارے لئے بالکل نیا تھا ہم ’’چاک گریبان ‘‘ ادیبوں سے آگاہ تھے۔ ’’پھٹے تلوے‘‘ والے ادیب ہمارے لئے بھی نئے ہی تھے۔ بچے کے اس تجزیے سے ہم اتنے زیادہ متاثر ہوئے کہ واپسی پر سیدھے بازار گئے، ادھار پر نئے جوتے لئے تاکہ کوئی ہمیں ادیب نہ سمجھے۔کیونکہ ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں عام افراد اور عوام کے حقوق کے لئے بات کرنے والا ادیب اور دانشور طبقہ ’’بھونکتا‘‘ ہے جبکہ ذاتی مفادات کے حصول کے لئے جھوٹ بولنے والا شخص ’’فرماتا‘‘ ہے۔ہم کم از کم ہوش و حواس میں رہتے ہوئے بھونکنے والوں میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

غالباًاس معاشرتی رویے کا اثر تھا کہ امسال ہونے والے ’’جشن قاق لشٹ‘‘ کے موقع پر ادیبوں کو اس خالصتاً عام لوگوں کی محفل سے دور رکھا گیاتاکہ ان کے غیر انسانی فعل سے عام عوام کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ حالانکہ اس جشن کو شروع کرنے کا سہرا ان ہی پاگل لوگوں کے سر جاتا ہے۔انتہائیبے سروسامانی کے عالم میں یہ جشن شروع کیا گیا تھا ۔ ذاتی خرچے پر قاق لشٹ کے ہر کونے میں جشن برپا کرنا ایسے ہی پاگل لوگوں کا جنون ہوسکتا ہے۔ ہوش مند لوگ ایسے جشن برپا کرنے لگیں تو دنیا گلزار نہ بن جائے۔ یہ پاگل لوگ کتنے سالوں کی محنت اور ذاتی وسائل سے آخر کار چترال کے لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ ہر علاقے کی ایک ثقافت ہوتی ہے اور ثقافت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ ایک وقفے کے بعد ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے۔ تاکہ معدوم ہوتی ثقافت کو بحال رکھا جاسکے۔ بچوں کو بتایا جاسکے کہ ان کے اباؤ اجداد کس طرح زندگی گزارتے تھے۔ ان کا سفر کہاں سے شروع ہوا تھااب وہ کہاں پر ہیں ۔یہ پاگل لوگ اس جشن کے وارث ہیں آپ وارثوں کو زبردستی ان کے گھر سے باہر کیوں نکال رہے ہیں۔ ان پاگلوں کو ’’بی بی شیرین‘‘ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے یہ ’’خوش بیگم‘‘ کے ساتھ خوش ہیں۔ یہ لوگ جو قاق لشٹ کے لق دق بیابان میں جمع ہوتے ہیں ۔ ان کو ذاکر زخمیؔ اچھے لگتے ہیں، افضل اللہ افضلؔ کی دھن سے ان کو دلچسپی ہے۔ امین الرحمن چغتائی ان کا غالبؔ ہے، مولا نگاہ نگاہؔ کو سن کر مہینوں ہنسنا چاہتے ہیں،سعادت حسین مخفی ان کو سعادت حسن منٹو سے زیادہ پیارے ہیں،ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ان کے لئے کیا ہیں اس کا آپ کو اندازہ نہیں۔ ان کے علاوہ چترال کے ہزاروں ایسے فرزند وہ بھی صلاحیتوں سے مالامال فرزندموجود ہیں جوچترال کے لوگوں کے لئے قاق لشٹ کو گل و گلزار بنادیتے ہیں۔ پھر بھی آپ بضد ہیں کہ آپ ہمیں ’’بی بی شیرین‘‘ ہی سنائیں گے اور ہم آ پ کے دھن پر ناچ سکتے ہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے وزیرستان میں امن تو قائم ہوگیا ہے کیونکہ نہ وہاں ’’بی بی شیرین‘‘ والی کسی ثقافتی شو کا انعقاد کریں اور کسی چترالی کو میزبان بنائیں۔ کتنی عزت افزائی ہوگی۔

کہتے ہیں کہ ادیب لوگ معاشرے کے نبض شناس ہوا کرتے ہیں۔ اتنے تلخ تجربات کے بعد بھی ایسا کہنا جہالت کی نشانی ہے یہاں گردن سے ذبح کرنے کا رواج ہے نبض کون دیکھتا ہے۔ ویسے ہمیں اس پر سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔چترالی ثقافت کے نام پر منعقد ہونے والے جشن قاق لشٹ میں گیت اردو، پنجابی ،پشتو اور سرائیکی ساتھ میں خٹک ڈانس ہوتو ہمیں دو چار سال بعدکسی خٹک، کسی چوہدری یا پھر کسی مالک یا میاں کے اس دعوے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ اصل میں قاق لشٹ کی زمین ان کے اباؤ اجداد کی میراث ہے۔ یہ جو میں بھونک رہا ہوں میں قسم کھانے کو تیار ہوں کہ نہ تو میں ادیب ہوں اور نہ ہی دانشور۔ نہ ہی مجھے قاق لشٹ یا گرین لشٹ سے کوئی دلچسپی ہے۔ وہ ایک زمانے میں شندور میں بھی چترالی ثقافت کا بول بالا تھا جب وہاں پر چترال کی ثقافت کو سائیڈ لائن لگانے کا کام شروع ہوا۔ تو ادیب لوگ اس وقت بھی بھونکتے رہے کسی نے نہیں سنی ۔اب شندور میں چترال کا صرف ڈھول رہ گیا ہے ۔ امسال قوی امکان ہے کہ وہاں پر نرگس کی اسٹیج پرفارمنس دکھائی جائے گی۔چونکہ چترالی ادیب نرگس کو نچانے کے قابل گانے تخلیق کرنے کی صلاحیت سے یکسر عاری ہیں اس لئے بروقت ان کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ جشن شندور سے اپنے آپ کو دور ہی رکھیں۔
Qaqlasht festival 2nd day 6

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9016

چترال ٹاسک فورس کے زیر اہتمام ارسون میں‌فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد ،

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ ) چترال ٹاسک فورس کے زیر اہتمام چترال کے دورآفتادہ علاقہ ارسون میں‌فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا . جس میں چترال سکاوٹس کے ڈاکٹروں اور سول ڈاکٹروں‌نے مریضوں کا معائنہ کیا اور انھیں چترال ٹاسک فورس کی طرف سے فری میڈیسن دیا. کمانڈنٹ چترال ٹاسک فورس کرنل معین الدین نے فری میڈ یکل کمیمپ کا دورہ کیا اور ارسون کے ستر سے زیادہ مستحق گھرانوں میں‌ مفت راشن اور بچوں میں مٹھائی تقسیم کی .
اس موقع پر 44فرنٹیئیرفورس رجمنٹ کی طرف سے لگائے گئے پھلوں‌کے باغ کا بھی افتتاح کیا . کمانڈنٹ علاقے کے عمائدین سے بھی ملے . ان کے مسائل سنے اور ان کے حل کیلیے ہر ممکن کوشسش اور تعاون کی یقین دہانی کی . علاقے کے عوام نے کمانڈنٹ چترال ٹاسک فورس کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا .
chitral task force Ursoon free medical camp 27

chitral task force Ursoon free medical camp 25

chitral task force Ursoon free medical camp 23

chitral task force Ursoon free medical camp 22
chitral task force Ursoon free medical camp 8

chitral task force Ursoon free medical camp 10

chitral task force Ursoon free medical camp 19

chitral task force Ursoon free medical camp 20
chitral task force Ursoon free medical camp 18

chitral task force Ursoon free medical camp 15

chitral task force Ursoon free medical camp 14

chitral task force Ursoon free medical camp 12

chitral task force Ursoon free medical camp 2

chitral task force Ursoon free medical camp 3

chitral task force Ursoon free medical camp 4

chitral task force Ursoon free medical camp 6

chitral task force Ursoon free medical camp 7

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
8994

فوزیہ بے قصور ہے ……………..محکم الدین ایونی

تحریک انصاف نے پانچ سال پہلے چترال کی ایک چھوٹی سی این جی او میں کام کرنے والی بی بی فوزیہ کو جب خواتین کی مخصوص نشست کیلئے نامزد کرکے صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر بیٹھایا ۔ تو ہر ایک چترالی نہ صرف تحریک انصاف کی اس فراخدلانہ عنایت پر حیرت زدہ تھا ۔ بلکہ اس کی تعریف کرنے پر مجبور تھا ۔ لیکن پانچ سال گزرنے کے بعد جس غیر شائستہ ، غیر سیاسی اور غیر اخلاقی طریقے سے اُسی خاتون کے سیاسی کرئیر کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ وہ نہ صرف قابل مذمت ہے ۔ بلکہ ناقابل قبول بھی ہے ۔ میڈیا پر تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے اعلان کے حوالے سے دیگر متاثر ممبران اسمبلی کے حلقوں کے لوگ جس رائے کا اظہار کریں ۔ وہ یقیناًاُن کی صوابدید پر ہے ،لیکن چترال کے اہل دانش کا کہنا ہے کہ بی بی فوزیہ جیسی ایک پاکدامن خاتون پر ووٹ بیچنے کا الزام لگا کر پورے چترال کی شرافت ، دیانتداری اور ایمانداری پر جو کالی ضرب لگائی گئی ہے ۔ وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ اور چترال کے لوگوں کیلئے یہ عمل سبکی اور شرمندگی کے ساتھ ساتھ ناقابل برداشت ہے ۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو پارٹی سربراہ کی حیثیت سے فیصلے کرنے کا اختیار ہے ۔ لیکن جس طریقے سے ممبران اسمبلی پر الزامات لگا کر بغیر صفائی کا موقع فراہم کرنے کے اُن کا میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا ۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے ۔ کہ انتہائی مہارت کے ساتھ سازش تیار کی گئی اور تحقیقات کی آڑ میں اُن افراد کو پارٹی سے باہر نکالنے کی راہ ہموار کی گئی ۔ جو موجودہ وزیر اعلی کی راہ میں رکاوٹ تھے ، جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا ۔ کہ تحقیقات کے بعد اُن کو شو کاز نوٹس دیے جاتے اور تسلی بخش جواب نہ دینے کی صورت میں پارٹی اصولوں کے مطابق کاروائی کی جاتی ، اُس کے بعد اُن کے نام میڈیا کے سامنے پیش کئے جاتے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ کہ ہمارے ملک میں ہارس ٹریڈنگ کا لفظ نیا نہیں ہے ۔ سینٹ کے انتخابات جب بھی ہوئے ، پیسے کا بے دریغ استعمال ہوا ۔ اور ہر ممبر نے اس پر ہاتھ صاف کیا ۔ اب کے بار پاکستان تحریک انصاف کے ممبران جس طرح بکے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ کہ اس پارٹی میں بھی نظریہ کم اور پیسہ زیادہ چلتا ہے ۔ اس کے باوجود عمران خان کی طرف سے اپنے ممبران کا احتساب ایک اچھا قدم ہے ۔ لیکن جو طریقہ اپنایا گیا ۔ اُسے ہرگز صحیح نہیں کہا جا سکتا ۔ جس میں ملزموں کو سزا پہلے سنائی گئی اور شو کاز نوٹس بعد میں دی جارہی ہے ۔ اگر کوئی بندہ قصور وار نہیں ہے ۔ تو میڈیا میں اُن پر الزام لگانے کے بعد وہ اپنی بے گناہی کے بارے میں کس کس کو قائل کر سکتا ہے ۔ جبکہ اُس کی تذلیل پوری قوم کے سامنے پہلے کی گئی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف چترال کی ایم پی اے بی بی فوزیہ جو اس الزام کی زد میں آچکی ہیں ۔ کی طرف سے پشاور پریس کلب میں میڈیا کے سامنے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کے بعد اُن کی بے گناہی ثابت ہوتی ہے ۔ اور اس بات کو تقویت ملتی ہے ۔ کہ اُنہیں ایک سازش کے تحت شامل کیا گیا ہے ، کیونکہ خان صاحب اُن کی بطور ممبر صوبائی اسمبلی نمایندگی سے مطمئن تھے ۔ اور چترال سمیت کئی مقامات پر عمران خان نے بی بی فوزیہ کے بطور ممبر صو بائی اسمبلی کردار کی بہت تعریف کی ۔ اور دوسری خواتین ممبران کو بھی اُس کی تقلید کی ہدایت کی ۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے ۔ جو صوبائی سطح پر پارٹی کے بعض ہائی اتھارٹیز کو پسند نہیں تھی ۔ اور اُن کو ووٹ بیچنے والوں میں شامل کرکے اُس کے مستقبل کا راستہ روکا گیا ۔ اورخان صاحب کی طرف سے فوزیہ بی بی کیلئے اعلان کردہ جنرل سیٹ کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی ۔ فوزیہ بی بی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے عزم کا اظہار کر چکی ہے ۔ وہ عدالت جانے کیلئے تیار ہے ۔ الیکشن کمیشن میں بھی اس حوالے سے اپنی درخواست دے چکی ہے ۔ اور سب سے بڑی عدالت جس پر تمام مسلمانوں کا ایمان ہے ۔ قرآن پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے اپنی بے گناہی کا ثبوت دیا ہے ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , ,
8989

پی ٹی آئی کی سولو فلائیٹ……………….محمد شریف شکیب

موجودہ صوبائی حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے میں ایک مہینہ رہ گیا ہے۔ 29مئی کو عبوری حکومت قائم ہوگی جو آئندہ نوے روز کے اندر انتخابات کروا کے اقتدار اگلی منتخب حکومت کے سپرد کرے گی۔تمام پارٹیاں انتخابات کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہیں۔ جلسہ عام برپا کئے جارہے ہیں شمولیتی تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔تاکہ اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرکے ووٹرز کو مرغوب کیا جاسکے۔دوسری جانب حکمران جماعت تحریک انصاف نے اپنے ہی بیس ارکان اسمبلی کو سینٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے کے الزام میں پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ بنی گالا میں پارٹی قیادت کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے ووٹ بیچنے والے ارکان کے نام گنوائے ۔انہیں اظہاروجوہ کے نوٹس بھجوانے اور نوٹس کا جواب نہ دینے پر ان کے اثاثوں کی چھان بین کے لئے قومی احتساب بیورو سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس تاریخ کو کس کس ممبر نے کتنے کتنے پیسے لئے۔ان کا کہنا تھا کہ بیس ایم پی ایز کو پارٹی سے نکالنے کا نقصان برداشت کرسکتے ہیں لیکن ضمیر فروشی برداشت نہیں کرسکتے۔کرپشن کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی بلاشبہ قابل تحسین بھی ہے اور دوسری جماعتوں کے لئے قابل تقلید بھی۔ سیاسی مفادات اور مصلحت پر شفافیت کو ترجیح دینے کی ہماری سیاسی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم کپتان نے اتنا بڑا فیصلہ کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مسلمہ طریقہ کار یہ ہے کہ جن لوگوں پر ووٹ بیچنے کا الزام ہے۔ ان سے انفرادی طور پر پوچھ گچھ ہونی چاہئے اور تسلی نہ ہونے پر ان کوشوکاز نوٹس جاری کرنا چاہئے اگر وہ پھر بھی قیادت کو مطمئن نہ کرسکیں تو ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے۔ ایک ملزم کو بھی پہلے تفتیش کے مرحلے سے گذارا جاتا ہے۔ اس کا ریمانڈ لیا جاتا ہے۔ عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ وہاں سے الزام ثابت ہوجائے تو وہ مجرم اور سزاوار ٹھہرتا ہے۔ سزا پہلے دے کر تفتیش بعد میں کرنے والی بات کچھ ہضم نہیں ہورہی۔ سینٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے کے حوالے سے پہلے تیس ارکان کے نام لئے جارہے تھے۔ تاہم ان میں سے دس کو کلین چٹ دیدی گئی۔ جن بیس ارکان کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے ان میں پانچ خواتین،گیارہ پارٹی کے مرد ارکان کے علاوہ دوسری جماعتوں سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے چار ارکان بھی شامل ہیں۔چترال سے خصوصی نشست پر رکن اسمبلی بننے والی فوزیہ بی بی نے پریس کانفرنس میں قرآن پاک پر ہاتھ رکھ اپنی بے گناہی پیش کی۔ جس کی تقلید میں نرگس علی، نگینہ خان اور نسیم حیات نے بھی قرآن پر حلف اٹھا کر بتایا کہ انہوں نے پارٹی سے بے وفائی نہیں کی۔ انہوں نے کہ سوال بھی اٹھایا کہ ان کے پینل سے پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوا ہے جس پینل کا امیدوار شکست کھا گیا اس پینل والوں سے باز پرس کیوں نہیں کی جاتی۔ ان خواتین نے عندیہ دیا کہ پارٹی کی صوبائی قیادت نے اپنے چہیتوں کو بچانے کے لئے ان کی قربانی دی ہے۔ انہوں نے اپنے دامن پر لگنے والا بدنامی کا داغ مٹانے کے لئے عدالتوں میں جانے کا اعلان کیا۔ضمیر فروشی اور کرپشن کا الزام لگنے کے بعد ان ارکان کا سیاسی کیرئر داو پر لگ چکا ہے۔ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانا ان کا حق ہے۔پارٹی کی مرکزی قیادت کو حالات مزید بگڑنے سے پہلے الزامات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانی چاہئے بصورت دیگر پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کرپشن سے اٹے ہمارے سیاسی نظام کی تطہیر کے لئے پی ٹی آئی کی پالیسی اور اقدامات خوش آئند ہیں۔ لیکن اس سولو فلائیٹ سے پورے نظام کو شفاف بنانے میں کئی عشرے لگ سکتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس کام میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ سینٹ الیکشن میں جن لوگوں نے اپنے ووٹ بیچے۔ وہ بلاشبہ قوم کے مجرم ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے ووٹ خریدے وہ بھی توقوم کے مجرم ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، اے این پی، جے یو آئی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، پی ایس پی، مسلم لیگ ق اور دیگر پارلیمانی پارٹیوں کو بھی ووٹ بیچنے اور خریدنے والوں کا محاسبہ کرنا چاہئے۔تیس چالیس پہلے کے مقابلے میں آج حالات مختلف ہیں۔ لوگوں میں سیاسی شعور آچکا ہے۔ میڈیا نے عوام کے سامنے ہر چیز کھول کر رکھ دی ہے۔ دقیانوسی ، مفادات اور مصلحت کی سیاست کو خیرباد کہہ کر اب شفاف جمہوری نظام کے قیام کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , ,
8987

چترال کی خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔۔سلیم خان

چترال(رپورٹ شاہ مراد بیگ)ممبرصوبائی اسمبلی وچیئرمین ڈیڈک چترال سلیم خان گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جغورچترال کاافتتاحی تختی کی نقاب کشائی اور فیتہ کاٹ کرباقاعدہ افتتاح کیا۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے ایم پی اے سلیم خان نے کہاکہ تعلیم کے شعبہ میں انقلابی اقدامات عمل میں لایا جارہا ہے۔گورنمنٹ گرلزہائی سکول جغور اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔مڈل سکول کو ہائی درجہ دینے کا مقصد یہاں کے طالبات اپنے گھرکے دہلیزمیں تعلیم حاصل کر سکیں گیں۔ انہوں نے کہاکہ خواتین اب اپنی روایتی ذمہ داریاں پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ خواتین میں تعلیم حاصل کرنے کا بڑھتا رجحان ہے۔ عورتوں کی تعلیم کی اہمیت کا شعور اب دنیا کے کسی بھی معاشروں میں بھی اجاگر ہونے لگا ہے۔انہوں نے کہاکہ عورت معاشرے کا اہم جز ہے جسے ہر روپ میں اسلام نے اعلیٰ مقام و مرتبہ دیا ہے۔اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جس نے عورتوں کو حقوق دئیے۔اور ان حقوق میں ایک حق تعلیم کا بھی ہے۔تعلیم کے حصول کے لئے خواتین کو یکساں مواقع کی فراہم ہونے چاہئیں۔ تعلیم یافتہ خواتین قومی ترقی کے فروغ میں اہم کردار کی حامل ہیں۔ یہ امر ضروری ہے کہ خواتین تعلیم حاصل کریں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ قومی ترقی کی رفتار تیز ہو کیونکہ تیز رفتار ترقی کیلئے خواتین کو اپنا مو ثر کردار اداکر سکتی ہیں ہے۔سلیم خان نے کہاکہ حالیہ پانچ سال کے اندر2ہائیرسیکنڈری،8ہائی کئی مڈل اورپرائمری سکول بنائیں عوامی مطالبے،علاقے کی پسماندگی اورایک سکول سے درسرے سکول کی فاصلے کومدنظررکھتے ہوئے رکھاہوں۔اپنے دس سالہ دورمیں ترقیاتی کاموں کاجال بچھانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی ۔چترال کے عوام کامشکورہوں کہ انہوں نے کارکردگی کی بنیادپردوسری دفعہ مجھے پرعتمادکرکے ممبرصوبائی اسمبلی منتخب کیا۔اس موقع پرپاکستان پیپلزپارٹی کے ضلعی انفارمیشن سیکرٹری قاضی فیصل ،پی پی پی خواتین ونگ کے ضلعی صدرناہیدہ سیف ایڈوکیٹ،ٹاون کے نائب صدرسفیراللہ ایڈوکیٹ ،سابق چیئرمین پی پی پی جغورمحمدظاہرشاہ،وی سی نائب ناظم جغورشہبازخان،کسان کونسلرمحمدشاقی ،مولانامختاراحمد،نوجوان سوشل ورکروسماجی کارکن گل آغا،کونسلرعبدالعزیزاوردیگرنے ایم پی اے سلیم خان کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہم اہلیان جغور،بکرآباد،چمرکن وادیگرملحقہ دیہات مڈل سکول کوترقی دے کرہائی کادرجہ دینے پرجس محنت اورخلوص سے آپ نے کام کیاانتہائی لائق تحسین ہے ۔انہوں نے کہاکہ سکول کے اب گریڈیشن کی منظوری پرفنڈزکی فراہمی اورپھرتعمیرکے کام کے آغازسے لیکرتکمیل تک واجملہ اسٹاف کی تعیناتی تک ہرمرحلے پرانتہائی اہم کرداراداکیاہے اس پرعلاقے کے عوام آپ کابھرپورشکریہ اداکرتے ہیں۔ تقریب میں جماعت اسلامی اورپی ٹی آئی کے درجنون افرادپی پی پی میں شمولیت اختیارکی۔
ppp chitral saleem khan mpa 1

ppp chitral saleem khan mpa 4

ppp chitral saleem khan mpa 5

ppp chitral saleem khan mpa 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , ,
8978

چترال کی بیٹی پر ووٹ بیجنے کا الزام افسوسنا ک ہے،ہم غریب ضرور ہیں مگر ضمیر فروش نہیں..حاجی ظفر

Posted on

دوبئی ( نمائندہ چترال ٹائمز ) دوبئی میں مقیم چترال کے معروف سماجی شخصیت، اورسیز چترالیز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد ظفر نے گزشتہ دن پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے چترال سے ایم پی اے بی بی فوزیہ پربلا تحقیق ووٹ بیجنے کے الزام پر رد عمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ خان صاحب نے صرف فوزیہ پر نہیں بلکہ پورے چترال کو مورد الزام ٹھرایا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ چترا ل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے حاجی ظفر نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بلا تحقیق چترال کے پاک دامن بیٹی پر جھوٹے الزام لگا کر چترال کے پانچ لاکھ آبادی کو دکھ پہنچا یا ہے ۔ انھوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوزیہ کو جس امیدوار کو ووٹ دینا تھا وہ کامیاب ہوگیا ہے ۔ اور چودہ ایم پی ایز کی پینل میں سے دس ممبران نے ووٹ پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار کو ووٹ دے چکے ہیں جبکہ صرف چار ممبران نے ووٹ کسی دوسرے امیدوار کو دئیے ہیں مگر پی ٹی آئی کے ہائی کمان نے چودہ ممبران کے پینل میں سے آٹھ ممبران کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیاہے ۔ جو کہ تعجب خیز ہے ۔
حاجی ظفر نے بتایا کہ دوبئی میں مقیم چترال کے باسیوں نے پی ٹی آئی کے ہائی کمان کی طرف سے چترال کی بیٹی پر الزام تراشی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے باضابطہ تحقیقات کرنے اور اصل حقائق عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیاہے ۔ انھوں نے کہا کہ چترال کے لوگ غریب ضرور ہیں مگر ضمیر فروش اور احسان فراموش نہیں ۔ پی ٹی آئی کے احسان مند ہیں کہ انھوں نے چترال کی ایک بیٹی کو صوبائی اسمبلی کی نشست نہیں دی ،بلکہ پورے چترال کو عزت دی ہے ۔ مگر اس کے جواب میں چترال کی بیٹی کبھی بھی اپنی ضمیر کو فروخت نہیں کرسکتی ۔ اور نہ وہ پارٹی کے ساتھ اتنی بے وفائی کرسکتی ہے ۔ حاجی ظفر نے چترال کے عوام سے اس گھناونے الزام کے خلاف آواز اُٹھانے اور چترال کے بے گناہ بیٹی پر الزمات لگانے والوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی غیر جانبدار ادارے سے تحقیقات کرائے جائیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے اسکیں ۔انھوں نے مذید کہا کہ چترال کے عوام بھٹو سے لیکر مشرف تک سب کے احسان جتائے ہیں اور کبھی بھی احسان فراموشی نہیں کی ہے۔ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھنا ہر ایک کا آئینی اور جمہوری حق ہے مگر چترال کے خلاف کوئی بلاجواز آواز اُٹھائے تو ان کے خلاف سب کو متحد ہونا پڑے گا۔ تاکہ چترال کے دامن پر بلاتحقیق داغ نہ لگ جائے۔ حاجی ظفر نے چترال کے پی ٹی آئی ذمہ داروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں پارٹی کے اندر اور باہر کے اختلافات اپنی جگہ مگر چترال کے حوالے سے کوئی مسئلہ سامنے آئے تو اس پر سب کو اتحاو اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , , ,
8952

آل پاکستان مسلم لیگ شیشی کوہ ویلی کیلئے کابینہ تشکیل، مقبول احمد صدر مقرر

Posted on

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ) آل پاکستان مسلم لیگ ضلع چترال کے صدر سابق کمشنر سلطان وزیر کے دفتر سے جاری ایک اعلامیہ کے مطابق شیشی کوہ ویلی کیلئے کابینہ اور ممبران کی نوٹفیکشن کی گئی ہے ۔ نوٹیفکشن کے مطابق مقبول احمد کو صدر مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی کابینہ و دیگر ممبران کی تفصیل ذیل ہے ۔

apml chitral notification1
apml chitral notification

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , ,
8947

ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی طرف سے نئے کرائے نامے جاری

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں کمی کے بعد 96.45 روپے فی لیٹر مقرر کرنے پر صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا نے ڈیزل سے چلنے والی مسافر بردار گاڑیوں کے لئے نئے کرائے نامے تیار کئے ہیں، جو فوری طورپر لاگو ہوں گے۔ نئے کرانے ناموں کے مطابق فلائنگ کوچز/منی بسز، 1.11 روپے، اے سی بسز 1.31 روپے، عام بسیں 0.96 پیسے اورلگژری بسز 1.06 روپے فی کلو میٹر فی مسافر کرائے وصول کریں گی۔ تفصیلات کے مطابق پشاور سے کوہاٹ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 72 ۔روپے ،اے سی بسز 85 ۔روپے ،عام بسیں 62 ۔روپے اور لگژری بسیں 69 ۔روپے کرائے چارج کریں گی۔ اسی طرح پشاور سے بنوں کے لئے فلائنگ کوچز 216 ۔روپے اے سی بسیں 255 ۔روپے ،عام بسیں 187 ۔روپے اورلگژری بسیں207 ۔روپے ،پشاور سے ڈی آئی خان کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز373 ۔روپے ،اے سی بسز440 ۔روپے ،عام بسیں 323 ۔روپے اور لگژری بسیں 356 ۔روپے , پشاور سے ہری پور کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز173 ۔روپے ،اے سی بسز204 ۔روپے ،عام بسیں 150 ۔روپے اور لگژری بسیں 165 ۔روپے،پشاور سے ایبٹ آباد کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز214 ۔روپے ،اے سی بسز 253 ۔روپے ،عام بسیں 185 ۔روپے اور لگژری بسیں 205 ۔روپے،پشاور سے مانسہرہ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 241 ۔روپے ،اے سی بسز 284 ۔روپے ،عام بسیں 208 ۔روپے اور لگژری بسیں 230 ۔روپے،پشاور سے مردان کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 64 ۔روپے ،اے سی بسز 76 ۔روپے ،عام بسیں 56 ۔روپے اور لگژری بسیں 61 ۔روپے،پشاور سے ملاکنڈ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 131 ۔روپے ،اے سی بسز 155 ۔روپے ،عام بسیں 113 ۔روپے اور لگژری بسیں 125 ۔روپے،پشاور سے تیمرگرہ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 196 ۔روپے ،اے سی بسز 232 ۔روپے ،عام بسیں 170 ۔روپے اور لگژری بسیں 188 ۔روپے،پشاور سے منگورہ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 191 ۔روپے ،اے سی بسز 225 ۔روپے ،عام بسیں 165۔روپے اور لگژری بسیں 182 ۔روپے،پشاور سے دیر کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 278 ۔روپے ،اے سی بسز328 ۔روپے ،عام بسیں 240۔روپے اور لگژری بسیں 265 ۔روپے،پشاور سے چترال کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 555 ۔روپے ،اے سی بسز 655 ۔روپے ،عام بسیں 480 ۔روپے اور لگژری بسیں 530 ۔روپے اورپشاور سے چارسدہ کے لئے فلائنگ کوچز / منی بسز 30 ۔روپے ،اے سی بسز 35 ۔روپے ،عام بسیں 26 ۔روپے اور لگژری بسیں 29روپے وصول کریں گی۔ دینی مدارس کے طلباء ،تعلیمی اداروں ،نابینا/ معذورافراد اور60 سال سے زائد العمرافراد کے لئے موجودہ 50 فیصد رعایت۔اگر ایئر کنڈیشن بسوں میں ایئرکنڈشن کام نہیں کررہاہوں توڈیلیکس سٹیج کیرج بس کے کرائے وصول کئے جائیں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , , ,
8850

خیبرپختونخوا کے تمام بورڈز کے ملازمین کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )خیبرپختونخوا کے تمام بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ملازمین نے آج سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کے بعد اپنی ہڑتال ختم کرنے کااعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان مذکورہ ملازمین نے سپیکرصوبائی اسمبلی اسد قیصر سے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر تمام بی آئی ایس ایز کے صدور اورملازمین کے نمائندوں نے تنظیم نو (ری سٹرکچرنگ) کے لئے مجوزہ بل کے بارے میں اپنے تحفظات سے متعلق سپیکر کو تفصیلی طورپر آگاہ کیا جس پر سپیکر نے انہیں یقین دلایا کہ جب تک تمام متعلقہ افراد اورسٹیک ہولڈر ز خاص طورپر بورڈ زکے ملازمین کو اعتماد میں نہ لیا جائے اور ان کی مشکلات کا ازالہ نہ کیا جائے اس بل کو کسی صورت بھی اسمبلی میں پیش نہیں کیاجائے گا۔ان بورڈز کے ملازمین کے نمائندوں نے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو مطلع کیا کہ مجوزہ بل جلدی میں بنایا گیا ہے اور اساتذہ ،والدین، طلباء اور نہ ہی ملازمین کو اعتماد میں لیاگیا۔یہی وجہ ہے کہ مجوزہ ری سٹرکچرنگ سے ان بورڈوں کی خودمختاری بری طرح متاثر ہوگی۔ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے انہیں غور سے سنا اور یقین دلایا کہ اس وقت تک کوئی بل پیش نہیں کیا جائیگاجب تک کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشکلات مناسب طورپر حل نہیں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عام حالات میں ایسے بل جائزہ کے لئے سلیکٹیڈ کمیٹی کو بھیج دیئے جاتے ہیں اورپھر اسمبلی میں پیش کیے جاتے ہیں۔ایسا اس لیے کیاجاتا ہے کہ لیجسلیشن کامناسب معائنہ کیاجائے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشکلات کو حل کیا جاسکے ۔تاہم اسد قیصر نے کہا کہ موجودہ کیس میں امتحانات کی تاریخ کا اعلان ہوچکاہے اسلئے انہوں نے یقین دلایا کہ ملازمین کی شکایات کاحل پہلے نکالاجائے گااور پھر اُن کی قسمت کا فیصلہ کیاجائے گا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ چونکہ موجودہ اسمبلی کادور تقریباًختم ہونے والا ہے تاہم مستقبل کی اسمبلی میں بھی ان کی شکایات کا بھر پور خیال رکھا جائے گا۔ تمام بورڈوں کے ملازمین نے سپیکر اسد قیصرکے جذبے کی تعریف کی اور اپنی ہڑتال کے خاتمہ کااعلان کیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , , ,
8845

ہنزہ سٹوڈنٹس فیڈریشن میں نئے عہدیداران کا چناؤ عمل میں لایا گیا

Posted on

گلگت(چترال ٹائمز رپورٹ)ہنزہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سالانہ انتخابات کا انعقاد۔2018-19کیلئے صدر محمد رحیم مقرر ، نائب صدر معین اللہ بیگ ، ایچ۔ایس۔ایف وومن ونگ کی صدر عینی سعید جبکہ ایچ۔ایس۔ایف ڈاٹر ونگ GYFکے چیئرمین صابر اللہ بیگ مقرر ہوگئے ہیں۔ہنزہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سالانہ کنونشن کے دوران نئی کابینہ کیلئے باقاعدہ انتخابات کا انعقاد کیا گیا جس میں چار سو سے زائد طلباء و طالبات نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا اور نئی کابینہ کے چناؤ کے بعد نئی کابینہ سے ان کے عہدوں کا حلف بھی لیا۔دوران کنونشن نئی کابینہ کیلئے باقاعدہ طور پر انتخابات کا انعقاد کیا گیا جس میں ایچ سی ایف کے سینکڑوں طلباء و طالبات نے ممبران نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔الیکشن کمیشن کے فرائض معیز علی اور ان کے ٹیم نے انجام دیا۔
پروگرام کے مہمان خصوصی اکبر شاہ ہاشوان تھے۔تقریب میں یاسین سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ، غذر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔تقریب سے اکبر شاہ ہاشوان، عزیز علی داد ، عمران شمس، شاہانہ شاہ، یونس دلیاب کے علاوہ دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین کاکہنا تھا کہ ہنزہ سٹوڈنٹس فیڈریشن طلباء و طالبات کے مسائل حل کرنے کے علاوہ نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔امید ہے کہ HSFاپنی سابقہ روایات برقرار رکھتے ہوئے یونیورسٹی داخل ہونے والے نئے طلباء و طالبات مثبت انداز میں رہنمائی کرتے ہوئے یونیورسٹی میں داخل ہونے والے نئے طالباء و طالبات کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریگی۔ہنزہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نو منتخب عہدیداران کا کہنا تھا کہ وہ یونیورسٹی میں مثبت سرگرمیاں و طلباء و طالبات کے مسائل حل کرنے کیلئے دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ روابط کو بھی برقرار رکھیں گے تاکہ گلگت بلتستان کے مادر علمی کے۔آئی۔یو میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کو حصول علم میں کسی قسم کی دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
hunza students federation pic2

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged , , , , ,
8842

جشن قاقلشٹ اختتام پذیر،کمشنرملاکنڈ مہمان خصوصی، ثقافت سے وابستہ تنظیمیں‌نظرانداز

چترال ( محکم الدین )چارروزہ کاغلشٹ فیسٹیول اتوارکے روزاختتام پذیرہوا۔ہزاروں افرادنے فیسٹیول کے آخری میچوں میں شرکت کی۔کمشنر ملاکنڈڈویژن سید ظہیر الاسلام شاہ مہمان خصوصی تھے جبکہ ڈپٹی کمشنر چترال ارشادسودھر، تحصیل نائب ناظم مستوج فخرالدین،ممبرتحصیل کونسل سردارحکیم ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال منہاس الدین، اسسٹنٹ ٹو کمشنر پولیٹکل اینڈڈیویلمپنٹ ملاکنڈ عبدالاکرم،اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجدنواز،ڈسٹرکٹ فنانس آفیسرحیات شاہ، اسسٹنٹ کمشنر مستوج اون حیدر گوندل ،پراجیکٹ ڈائریکٹرگولین گول ہائیڈل پاورپراجیکٹ ،چیئرمین کاغلشٹ کمیٹی پرنس سلطان الملک اوردیگرموجودتھے۔جبکہ ہزاروں کی تعدادمیں تماشائیوں نے شرکت کی۔پولوکافائنل میچ ریشن اوربونی کے مابین کھیلاگیاجس میں ریشن وائٹ نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرافی اپنے نام کرلی ،جبکہ فٹبال میں ایون فٹبال کلب نے ینگ اسٹاردروش کوشکست دی،اسی طر ح نشانہ بازی میں کوشٹ کے عبدالباقی ،رسہ کشی میں بونی ،ٹیبل ٹینس میں ہدایت اللہ ،میراتھن میں سمیع اللہ نے کامیابی حاصل کی۔جبکہ ولی بال اورکرکٹ کی ٹیموں کی تعدادزیادہ ہونے کی وجہ سے فائنل میچ اختتام پذیرنہ ہوسکا۔فائنل میچ کے دوران پیرا گلائیڈنگ کامظاہرہ کیاگیااورظاہرالدین بابربہترین پیرا گلائیڈرقرارپائے۔قبل ازین گذشتہ رات کاغلشٹ میں کلچرشوکاانعقادبھی کیاگیاچارروزہ کاغلشٹ فیسٹیول کے دوران دس ہزارفٹ بلندبے آب و گیاہ میدان میں جنگل میں منگل کاسماء رہااورچترال و ملک کے کئی شہروں اوربیرون ملک سے سیاحوں نے اس میں شرکت کی۔تاہم بارش نہ ہونے کے باعث اُڑتی دھول نے جشن کامزہ پھیکاکردیا۔

جشن کاغلشٹ نے جہاں لوگوں کوتفریح مہیاکی وہاں جشن کاغلشٹ کمیٹی کے بنیادی ممبران اورادب وثقافت سے وابستہ لوگوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلچرل شوکے نام پرچترالی ثقافت کاہلیہ بگاڑدیاگیااورچترال کی ثقافت کوغیرچترالیوں کے غیر چترالیوں کے ہاتھوں ہائی جیک کی گی۔اورپیش کردہ کلچرشوکسی بھی طرح چترال کی ثقافت کی عکاسی نہیں کرتی۔انہوں نے کہاکہ انتظامی آفیسران کی طرف سے اس عوامی ثقافتی جشن میں مداخلت اوراس کے ابتدائی محرک ثقافتی اورادبی افراد و تنظیمات کوبائی پاس کرنے سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔اوریہ دانستہ طورپرچترال کی تہذیبی اقدارکوسبوتاژکرنے کی کوشش ہے انہوں نے کہاکہ اس قدیم روایتی جشن کوچترال کے کلچر دوست افرادنے مختلف اداروں کے قلیل مالی تعاون اوراپنی مددآپ کے تحت اس مقام تک پہنچایاکہ یہ کیلنڈرایونٹ بن گیا۔ آج ملکی سیاحتی ادارے اورمختلف کمپنیاں اس کے لئے فنڈزفراہم کرنے لگے ہیں۔اب اُن رضاکاراداروں اورافرادسے جشن کاغلشٹ کے حوالے سے پوچھنابھی گوارانہیں کیاجاتا ۔جشن کاغلشٹ کمیٹی کے چیئرمین پرنس سلطان الملک ، ادبی اورثقافتی انجمن کے صدرذکرمحمدزخمی نے انتظامیہ کے اس رویے کو انتہائی طور پر نامناسب قرار دیا ہے اورکہاہے کہ کہوثقافت پرڈاکہ ڈالنے کی کوشش ہرگزقبول نہیں کیاجائے گا۔

kaghlasht festival concludes in mastuj22335

kaghlasht festival concludes in mastuj223 kaghlasht festival concludes in mastuj122 kaghlasht festival concludes in mastuj22 kaghlasht festival concludes in mastuj12 kaghlasht festival concludes in mastuj2 kaghlasht festival concludes in mastuj1kaghlasht festival concludes in mastuj

kaghlasht festival concludes in mastuj1223

kaghlasht festival concludes in mastuj2233

qaqlasht polo final

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , , ,
8791

ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یکسان نصاب تعلیم رائج کیا جائے….تنظیم اساتذہ خیبر پختونخوا

Posted on

پشاور( چترال ٹائمز رپورٹ)نصاب سازی کا اختیار قومی وحدت کی خاطر دوبارہ مرکز کے کنٹرول میں دیا جائے اورملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم،یکساں نظام امتحانات ،یکساں ذریعہ تعلیم ،اردو کا نفاذ اور عربی کو انٹرتک لازمی مضمون کا درجہ دیا جائے ۔ یہ مطالبہ تنظیم اساتذہ پاکستان صو بہ خیبر پختونخواکے صو بائی ذمہ دارا ن خیر اللہ حواری،پروفیسر ڈاکٹر محمد روؤف،ڈاکٹر محمد ناصر،میاں ضیاء الرحمن،شمشاد خان جھگڑا ،عبید اللہ،مصباح الاسلام عابد،سکندر خان یوسفزئی اور سید محمد شاہ باچانے اپنے ایک مشترکہ جاری کردہ پریس ریلیز میں کیا ہے ۔
انہوں نے مذید کہا ہے کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ارباب اقتدار پاکستان کے اساسی نظریے سے ہم آہنگ نظام تعلیم دینے میں بری طرح ناکام ہوئے جس کے نتیجے میں ملک کے اندر افرا تفری،بد امنیاور ہر شعبہ زندگی میں کرپشن کو فروغ ملا ۔پاکستان کے نظریاتی محاذوں
کو مضبوط بنانے کیلئے نظام تعلیم میں کلیدی کردار کے حامل معماران قوم کے دکھوں کا مداوا کیا جائے ۔تا کہ وہ کلاس روم کے مورچوں میں یکسوئی کے ساتھ اسلام اور پاکستان کے پاسبان تیار کر سکیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , ,
8787

امریکا کی افغانستان میں مقدس مقامات پر بمباریاں……… پیامبر…..قادر خان یوسف زئی

امریکا کی جانب سے افغانستان میں خون کی ہولی میں بھارت کی شمولیت نے مسلمانوں کے لئے مزید مشکلات پیدا کردی ہیں ۔ قندوز آرچی میں’ عمریہ ہاشمیہ‘ مدرسے پر افغان سیکورٹی فورسز نے امریکا اور بھارت کے ساتھ ملکر جس طرح معصوم بچوں اور عام شہریو ں کو جانی نقصان پہنچایا ہے ایسی بربریت کی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی ۔ امریکا نے نئی اسٹریجی کے تحت اپنی مذموم کاروائیوں کے لئے سوشل میڈیا کا بھی استعمال کرنا شروع کردیا ہے جس میں جعلی تصاویر جاری کردی جاتی ہیں ۔ نام نہاد لبرل و سیکولرز اور اسلام دشمن عناصر’ ہمدردی ‘کی آڑ میں بڑی چالاکی سے ان جعلی تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے منفی پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں کہ فلاں تصویر تو سانحے سے قبل کی ہے ۔ یہ تو فلاں کے سوشل اکاؤنٹ پر پہلے سے موجود تھی ۔ یہ واقعہ مشکوک نظر آتا ہے ۔عام شہری نہیں افغان طالبان تھے ۔ بمباریاں تو ہوتی ہیں تو اس میں عام شہری کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔ فلاں فلاں واقعے میں بھی تو عام شہری ہلاک ہوئے تھے ۔ فلاں بازار ، فلاں علاقے ، فلاں سانحے میں بھی تو عام شہری ہلاک ہوئے اُن کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ یہ وہ عام سوالات ہیں جب سوشل میڈیا میں پھیلائے جاتے ہیں تو عام فرد اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ کیونکہ سوشل میڈیا کا استعمال اس قدر بے ہنگم ہوگیا ہے کہ بغیر تصدیق کسی کے بھی اکاؤنٹ سے کوئی بھی خبر پھیلانے میں لمحہ نہیں لگتا۔ افسوس کا مقام تو یہ تھا کہ قندوز جیسے عظیم سانحے کے بعدالم ناک تصاویر اور ویڈیوز پر بھی سوالیہ نشان اٹھائے گئے کہ اتنے جلدی یہ تصاویر کہاں سے آگئی ۔ اس ڈیجیٹل دورمیں جب کہ ایک فرد کے ہاتھ میں پوری دنیا(موبائل فون، انٹرنیٹ) سمٹ آئی ہو ۔ ایساسوال کرنا انتہائی احمقانہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک افغان چینل نے واقعے سے قبل ایک جعلی فضائی ویڈیو میں ثابت کرنے کی کوشش کی کہ افغان طالبان موجود تھے ۔ دنیا جانتی ہے کہ مذکورہ علاقہ امارات اسلامیہ کے زیر انتظام ہے ۔ افغانستان میں اس وقت امارات اسلامیہ کے خلاف سی آئی اے( امریکا) ، نیٹو ، این ڈی اے( افغان سیکورٹی فورسز) ، را ، (بھارت)موساد( سرائیل) ، ایم آئی 6( برطانیہ ) اور سب سے بڑھ کر شمالی اتحاد و حکومت کے جنگجو گروپس اور عالمی دہشت گرد تنظیم داعش مسلسل حملے کررہی ہے ۔کیا ان حالات میں مذہبی تقریب میں انتظامیہ کسی حفاظت کے لئے اہتمام نہیں کرے گی ۔ واضح ر ہے کہ جعلی تصاویر و واقعات کی غلط منظر کشی کی روایت کابل حکومت نے شروع کی ۔ کئی بار کابل حکومت کی ان منفی کوششوں کو امارات اسلامیہ نے غلط ثابت بھی کیا ۔ کئی مثالوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے سب سے بڑی مثال تو خود مغربی میڈیا نے بیان کرتے ہوئے کابل حکومت کا تمسخر اڑایا تھا۔ جب کابل کے صدر اشرف غنی اور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے24اکتوبر2017کو امریکی فوجی اڈے بگرام ائیر بیس کے بنکر میں ملاقات کی لیکن سرکاری طور پر کابل انتظامیہ نے تصاویر جاری کیں کہ یہ ملاقات صدارتی محل میں ہوئی تھی ۔ لیکن جھوٹ کا ڈھول اُس وقت پھٹا جب امریکی میڈیا نے( جو اس وقت امریکی ؑ عہدے دارکے ساتھ تھا ) ملاقات کی اصل تصاویر شائع کردیں۔ جس کے بعد غنی حکومت کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس قبل بھی کئی مرتبہ کابل حکومت جعلی تصاویر کے منفی پروپیگنڈے کا سہارا لے چکی ہے ۔ 21اپریل2016کے ایک واقعے کی مثال دینا چاہوں گا ۔ جس میں کابل حکومت نے جعلسازی کی انتہا کردی تھی ۔ کابل شہر میں امارات اسلامیہ کی جانب سے این ڈی اے ( نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف اینٹلی جنس) کے مرکز پر حملے میں کابل دوہری انتظامیہ کے افغان سیکورٹی اہلکار ، اعلی و ادنیٰ عہدوں پر فائز خفیہ ادارے سے منسلک افراد ہلاک و ززخمی ہوئے ہیں ،واقعہ2016ماہ اپریل میں واقع پزیر ہوا تھا لیکن کابل دوہری انتظامیہ نے عوامی اذہان کو افغان طالبان سے بدظن کرنے کیلئے مختلف النوع تصاویر کو اکھٹے کرکے سوشل میڈیا اور دیگر ابلاغی ذرائع میں پھیلا کر انھیں افغان طالبان سے منسوب کردیا تھا ۔ یہ تمام عمل جعلی اور پر فریب عمل قرار دیا گیا تھا ۔ افغان طالبان کے مرکزی ترجمان اس سے پہلے بھی اعلامیہ جاری کرچکے تھے کہ حملہ اُس جگہ کیا جاتا ہے جہاں عام شہری کی رسائی ممکن ہی نہیں ہوتی ۔ سخت سیکورٹی کے حامل علاقے میں بچوں ، خواتین اور عام شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کے کابل دوہری انتظامیہ کے دعوے کو کئی بار ا فغان طالبان پہلے بھی رد کرچکے ہیں۔ افغان حکومت کے زیر اثر بعض افغان میڈیا اور دیگر ابلاغی ذرائع میں ایسی تصاویر خبر کے ساتھ لگائی گئیں جن کا مذکورہ حملے سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ چند تصاویر کے ساتھ تفصیل بھی دی گئی مثلاََایک تصویر یکم فروری2016کابل کے دہمزنگ کے علاقے میں نظم عامہ کے مرکز پر ہونے والے دہماکے کی تھی یہ تصویر اے پی کے نامہ نگار نے کھینچی تھی لیکن اس تصویر کو افغان میڈیا اور دیگر ابلاغی ذرائع نے اپریل2016 حملے کی تصویر ظاہر کی اسی طرح ایک تصویر 2011کی تھی جو اہل تشیع کے محرم الحرم کے ماتمی جلوس کے دہماکے کے وقت لی گئی تھی ، ایک تصویر2008ء میں کابل میں بھارتی سفارت خانے کے قریب دہماکے کی تھی۔افغان میڈیا ذرائع ابلاغ کے بعض اداروں نے جلد بازی میں مصر 2013کو صدر مرسی کے حامیوں پر عبدالفتاح کی سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے کی جانے والے فائرنگ سے شہید ہونے والی بچے کے جسد خاکی کے پاس ان کی ماں کی روتی تصویر کو بھی تازہ کابل حملے کی تصویر ظاہر کردی بلکہ دسمبر2014میں پاکستانی شہر پشاور میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حملے میں جاں بحق ہونے والے طالب علم کی لاش کے پاس کھڑی ماں کی روتی تصویر کو کابل حملے کے شہری نقصان ظاہر کیا گیا اور تو اور ابلاغی ذرائع نے پانی کو فوٹو شاپ کے ذریعے خون آلود اور شام کی خانہ جنگی میں بشار الاسد کی افواج کی جانب سے کی جانے والی 2012میں ذخمی ہونے والی بچی اور اپریل2007میں عراق بم دہماکے میں زخمی ہونے والے دو بچوں کی تصاویر بھی یہ لکھ شائع کردی کہ افغان طالبان کی جانب سے این ڈی اے ( نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف اینٹلی جنس کے مرکز پر حملے میں سویلین زخمی ہوئے ہیں یہ تمام تصاویر جب و اصل سیاق و سباق کے ساتھ جاری ہوئی تو کابل دوہری حکومت کی نا اہلی سے پردہ اٹھا گیا تھا۔ جس طرح افغانستان کی حکومت ہر معاملے کی طرح اس دہماکے میں بھی پاکستان کو ملوث کرنے کے جھوٹے الزامات لگاتی ہوئے شرم محسوس نہیں کرتی وہی ہتھکنڈا مارات اسلامیہ پر آزمانے کی کوشش کی اور کابل حملے کے بعد قندوز سانحے میں اٖٖفغان سیکورٹی فورسز کی ناکامی کو چھپانے کیلئے عام شہریوں و افغان طالبان کو نقصان پہنچانے کا بھونڈا طریقہ اختیار کیا گیا ۔

رمدرسہ ’ عمریہ ہاشمیہ ‘ پر بزدلانہ حملہ پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ بلکہ افغانستان میں امریکی و افغان سیکورٹی فورسز نے مدارس و مساجد کو شہید کرنا وتیرہ بنا ہوا ہے ۔اس کی چند مثالیں ذیل سطور میں دی جا رہی ہیں ۔ تاکہ عام قاری سمجھ سکے کہ امریکا ، کٹھ پتلی حکومت اور بھارت کا یہ گٹھ جوڑ کسی امن مشن سے نہیں جڑا ہوا بلکہ ان کا مشترکہ مقصد مسلم نسل کشی اور اسلامی شعائر و مذہبی مقدس مقامات کو نشانہ بنانا ہے اور جب اس پر احتجاج کیا جائے تو جعلی و منفی بے بنیاد پروپیگنڈے کرکے مسلم امہ اور دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی جائے۔افغانستان کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کی نئی جنگی حکمت عملی کے اعلان کے بعد افغان شہریوں کے گھروں، دکانوں، فصلات، مساجد، مدارس، اسکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر امریکی فوجیوں کے چھاپوں، بمباریوں اور حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں شہریوں کو وسیع پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ ان کے گھر تباہ کیے جا رہے ہیں۔خاص طور پر دینی مدارس، مساجد اور علمائے کرام پر قابض امریکی اور کٹھ تپلی حکومت کے حملوں میں زیادہ شدت آئی ہے۔ افغانستان کے مختلف علاقوں میں دینی مدارس اور مساجد پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ان کو جلا دیا گیا۔ طلباء، علماء اور اساتذہ کو گرفتار یا قتل کیا جا رہا ہے۔

17 نومبر2016 کو صوبہ لوگر کے ضلع چرخ کے علاقے ’’ملا علیم‘‘ گاؤں پر امریکی اور افغان سیکورٹی فورسزنے چھاپہ مارا، جس میں دو مدارس اور گھروں کی تلاشی لی گئی اور مدرسے کے طلباء سمیت پانچ شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا۔20 نومبر کو مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع شیرزاد کے علاقے مرکی خیل پر قابض امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے مل کر چھاپہ مارا۔ جس میں ایک عالمِ دین ’’مولوی شیریندل صاحب‘‘ کو قتل کردیا گیا ۔22 نومبر کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ کے علاقے عمر خیل میں قائم ایک دینی مدرسے پر امریکی اور افغان فورسز نے چھاپہ مارا۔ امریکی فوجیوں نے آٹھ چھوٹے طالب علموں کو ایک دیوار کے نیچے بٹھانے کے بعد ان پر گولیاں برسا دی گئی تھی ۔اسی دن صوبہ پکتیا کے ضلع احمد آباد کے علاقے کامران خیل میں پولیس نے ایک عالمِ دین مولوی حمداللہ کو جاں بحق کردیا۔26 نومبر کو قابض افواج نے صوبہ لغمان کے ضلع قرغی کے علاقے چار باغ اور امبیڑ میں ایک عالمِ دین سمیت پانچ شہریوں کو قتل کیا گیا۔22 اکتوبر کو صوبہ غزنی کے ضلع ناوا کے علاقے تنگی میں حملہ آوروں نے چھاپہ مارا۔ جس میں دو شہریوں حمداللہ اور لطف اللہ اخوندزادہ کوقتل اور خواتین اور بچوں سمیت دس افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔22 اکتوبر کو صوبہ زابل کے ضلع شاجوئی اور ضلع نوبہار کے درمیان لوڑ مرغہ غٹ بٹ خیل کے علاقے میں ایک مسجد پر امریکی طیاروں نے بمباری کی، جس میں تین طالب علم قتل کئے گئے۔ 22 اکتوبر کو امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے صوبہ غزنی کے ضلع ناوہ کے علاقے چادر ماندہ پر چھاپہ مارا اور علاقے کے معزز دینی رہنماء اور روحانی شخصیت قطب اللہ اخوندزادہ سمیت تین افراد کو قتل اور ایک خاتون سمیت ان کے خاندان کے تمام افراد کو حراست میں لے لیا۔11 ستمبر کو صوبہ غزنی کے ضلع قرہ باغ کے علاقے شیر میں پولیس نے فائرنگ کر کے دو طالب علموں کوقتل اور ایک زخمی کر دیا۔15 ستمبر کو صوبہ بغلان کے ضلع برکی میں کٹھ پتلی فوجیوں نے مولوی کمال الدین کے مدرسے پر قبضہ کر کے اس میں مورچے قائم کیے۔ دیواروں کو گولیوں سے سوراخ زدہ کر دیا۔ جس سے مدرسے کی عمارت مخدوش ہو گئی ہے۔17 ستمبر کو صوبہ غزنی کے ضلع دہ یک کے علاقے بالائی میں پولیس نے ایک عالمِ دین مولوی عبدالہادی اخوندزادہ کوقتل اور ان کے بیٹے اور اہلیہ کو زخمی کر دیا۔27 ستمبر کو صوبہ بادغیس کے ضلع درہ بوم کے بازار میں فورسز کے راکٹ حملے میں مقامی مدرسے کے دو طالب علموں کو قتل کیا گیا۔دینی مراکز پر حملوں اور علمائے کرام اور طالب عملوں کی شہادت کے مذکورہ چند اعداد و شمار بطور نمونہ پیش کیے گئے ہیں۔ افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہر روز حملہ آوروں اور کابل حکومت کے چھاپوں، بمباریوں اور حملوں میں نہتے شہریوں کے مکانات تباہ، خواتین اور بچے جاں بحق ہوتے ہیں۔ جب کہ مختلف بہانوں سے بے گناہ اور نہتے شہریوں کو گرفتار کر کے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔کچھ عرصہ پہلے ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے ٹٹنگ میں ایک دینی مدرسہ مسمار کر دیا تھا جس۔ تین طالب علموں جاں بحق اور متعدد طلبہ کو زخمی ہوگئے تھے۔ تقریبا دو ماہ قبل بھی قابض اور کٹھ پتلی فورسز نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ میں ایک مدرسے پر چھاپہ مارا۔ 16 نوجوان طالب علموں کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ جب کہ مختلف علاقوں میں اس طرح کے الم ناک واقعات وقتا فوقتا رونما ہوتے رہتے ہیں۔امریکا کی سرپرستی میں داعش بھی مذہبی مقامات کو نقصان پہنچاتی ہے ۔ داعش کے حوالے سے افغانستان میں دو بڑے اہم واقعات کا ذکر بھی کرتا چلوں ۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں21اکتوبر2017 کوامام زمان مسجد میں داعش کے خودکش بمبار نے گھس کر نمازیوں پر فائرنگ اورپھر خود کو دھماکے سے اڑادیا تھا جس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق اور 45 زخمی ہوگئے تھے۔کابل دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد افغانستان کے صوبے غور کی مسجد میں بھی خودکش حملے کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہو گئے شدت پسند تنظیم داعش نے ان دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔داعش، امریکا ، اسرائیل ، بھارت اور کابل کٹھ پتلی حکومت کا یہ وتیرہ ہے کہ وہ خطے میں امن کا احیا نہیں چاہتے تاکہ خطے میں موجودگی کا جواز برقرار رہے ۔ تین برسوں سے موخر انتخابات اور اکتوبر میں دوبارہ انتخابات کے اعلان کے بعد اس قسم کے واقعات سے کابل حکومت عالمی رائے عامہ اپنے حق میں کرنے کی ناکام کوشش کرتی رہتی ہے۔ لیکن غیر جانب دار میڈیا کابل حکومت کی کارستانیوں کے پول کھولتا رہتا ہے۔ کابل حکومت امن کے قیام کے لئے کھوکھلے دعوے کرتی ہے ، مزاحمت کاروں سے مذاکرات کے لئے ہاتھ پیر جوڑتی ہے ۔ کبھی پاکستان تو کبھی سعودیہ و متحدہ امارات کو اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کرتی ہے ۔ لیکن دوسری جانب اشتعا ل انگیز کاروائیاں کرکے تمام کوششوں کو سبوتاژ کردیتی ہے۔

امارت اسلامیہ نے تمام عالمی غیرجانبدار تنظیموں، اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ قندوز میں رونما ہونے والے جنایت کے بارے میں وسیع اور غیرجانبدار وفود کا انتخاب، انہیں علاقے روانہ کیجیے، تاکہ المیہ کی آزادانہ اور ہمہ پہلو تحقیقات کریں اور یہ ظاہر کریں، کہ حملہ کس پر ہوا ہے اور کن مقاصد کے لیے کیا گیا ہے۔امارت اسلامیہ ایسی وفود کی آمد کے لیے انتظامات کریگی اور علاقے میں ہر قسم کی سیکورٹی کا یقین دلاتی ہے۔ اسی طرح امارت اسلامیہ تمام ذرائع ابلاغ، صحافی حضرات اور محقیقین سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ آزادانہ طور پر علاقے کا دورہ کریں، مذکورہ جگہ کو قریب سے دیکھ لے، عوام اور متاثرین کیساتھ گفتگو کریں اور المیہ کے متعلق مؤثق معلومات جمع کرکے عوام اور دنیا تک پہنچا دیں۔امارات اسلامیہ کی جانب سے متعدد واقعات میں عالمی ذرائع ابلاغ کو کھلی دعوت دی کہ وہ آئیں وہ آزادنہ تحقیقات کریں کہ ظالم کون ہے ، لیکن کابل حکومت کسی بھی واقعے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں سے لیکر مدارس ، اسپتالوں اور عوامی مقامات میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کی کوریج کے لئے میڈیا کی آمد کو یقینی نہیں بناتی اورمیڈیا کو واقعے کی جگہ سے دور رکھا جاتا ہے تاکہ شواہد کو مٹا یا جا سکے ۔ بعد ازاں جعلی تصاویر اور جھوٹے پروپیگنڈوں سے اصل واقعے کو دھندلنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ افغانستان میں میڈیا کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ میڈیا کو کابل دوہری حکومت اور امریکا کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا ہوتا ہے ۔ کابل حکومت کی منشا پر حقائق جاری کرنے والے صحافیوں اور اداروں کو نشانہ بنایا جانا معمول بن چکا ہے۔ اس عالم میں افغانستان کی درست صورتحال کی عکاسی غیر جانب دارانہ ممکن نہیں ہے ۔ تاہم ان تمام نامساعد حالات کے باوجود اصل حقائق عالمی ذرائع ابلاغ میںآ جاتے ہیں۔عالمی ذرائع ابلاغ قندوز آرچی سانحہ کے حوالے سے نہ چاہتے ہوئے بھی اصل حقائق کی منظر کشی پر اس لئے مجبور ہوا کیونکہ واقعے کی موبائل پر بنی ویڈیو سوشل میڈیا کی توسط سے پوری دنیا میں پھیل چکی تھیں۔تاہم اس کے باوجود معصوم ، نہتے حفاظ القرآن بچوں کی مختلف تصاویر کو جعلسازی سے ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس ریاستی دہشت گردی میں بچے نشانہ نہیں بنے ۔ بد قسمتی سے پاکستان میں بھی ایسے احباب کی موثرتعداد ہے جو اس منفی پروپیگنڈے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں ۔ دہشت گردی کا واقعہ کہیں بھی اور کسی بھی جانب سے ہو ، اس کی مذمت احترامِ انسانیت ہے ۔ کسی بے گناہ کی جان کوئی بھی لے اس کو کبھی درست نہیں کہا جاسکتا ۔ نہ ہی اس کے لئے کوئی دلیل دی جاسکتی ہے۔ دہشت گردی میں عام شری اور بے قصور انسانوں کی ہلاکتیں قابل مذمت ہیں ، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب ، رنگ و نسل و فرقے سے کیوں نہ ہو ۔ کسی انسان کو حق نہیں کہ وہ کسی بے گناہ کی جان لے۔

افغانستان میں امارات اسلامیہ اپنی سرزمین پر قابض جارح مملکتوں کے خلاف مزاحمت کررہی ہے ۔ دونوں مسلح گروپوں کے درمیان جھڑپیں و جنگ کا تعلق جارحیت و مزاحمت سے ہے ۔ اس کا عام شہری سے کوئی تعلق نہیں۔ دنیا کا کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ حالتِ جنگ میں ہسپتالوں ، مقدس مقامات ، تعلیمی اداروں سمیت عوامی مقامات میں نہتے اور بے گناہ شہریوں کو نقصان پہنچایا جائے ۔ ہمیں امارات اسلامیہ اور امریکا کے درمیان 17برسوں سے جاری جنگ کو سمجھنا ہوگا کہ امریکا ایک منصوبے کے تحت افغانستان میں داخل ہو اتھا ۔ زمینی جنگ میں امریکا اور اس کے حلیفوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے لیکن امریکا عالمی معاشی جنگ میں افغانستان کو اپنی چھاونی کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ امریکا کو پاکستان اور افغانستان میں امن سے کوئی غرض نہیں ۔ بلکہ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان ، و افغان مزاحمت کار اپنا رخ چین کے صوبے سینانگ کی جانب منتقل کرلیں تاکہ چین کی توجہ و توانائی خانہ جنگی کے خاتمے میں صرف ہوسکے اور معاشی سپر پاور بننے کا خواب پورا نہ ہوسکے۔پاکستا ن ، امریکا کی خواہشات پر پہلے ہی تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ اب پاکستان نے اپنی ڈاکٹرئن تبدیل کی ہے تو امریکا اپنی ضد و جبر چھوڑنے کے لئے کسی صورت تیار نہیں ہورہا ۔ کابل امن پراسس کے چار ادوار ہونے کے بعد اور پھر پاکستان کی جانب سے اعلیٰ عہدے داروں کا افغانستان جانا ، سعودی عرب اور متحدہ امارات کو امن پراسس میں شمولیت کے لئے امریکا کی نام نہاد کوششوں کا پول ایک بار کھل چکا ہے۔کہ امریکا افغانستان میں امن کے نام پر دہشت گردی کررہا ہے۔پاکستانی وزیر اعظم ، صدر اشرف غنی کے دورے پر پھر کابل پہنچے ۔ لیکن جب تک خود کابل حکومت امن کے لئے سنجیدہ نہیں ہوگی ، پاکستا ن کی تمام کوششیں رائیگاں جاتی رہیں گی ۔ یہ غنی حکومت کو سوچنا ہوگا ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
8784

تمام پرائیویٹ سکولز چھٹیوں میں اور ایک سے زیادہ بچوں سے نصف فیس وصول کرینگے…KP-PSRA

Posted on

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخواپرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2017 کی شق 30 ۔ کے تحت KP-PSRA ریگولیشنز 2018کی منظوری دی ہے ان ریگولیشنز کو ویب سائٹ “www.kpese.gov.pk” پر آپ لوڈ بھی کر دیا گیاہے۔ تمام پرائیوٹ سکولوں کی انتظامیہ بشمول مانٹیسوری ، کنڈرگارٹن ، ٹیوشن اکیڈیمی یا سینٹر ، مڈل ، ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں یا اس کے مساوی سطح کا کوئی بھی ادارہ یا پرائیویٹ شعبے میں کسی تعلیمی سسٹم یا میڈیم کے ذریعے تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان ریگولیشنز؍پشاور ہائی کورٹ کے 8 ۔نومبر 2017 کے اعلان کردہ فیصلے پر ان کی حقیقی روح کے مطابق سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے 8 ۔نومبر 2017 کو اعلان کردہ فیصلے کے پیرا۔ 15 ۔ کے مندرجات کا خلاصہ ضروری عملدرآمد کے لئے درج ذیل ہے۔ سالانہ اور ٹیوشن فیس کی مساویانہ پالیسی ، جو KP-PSRA جلدہی تشکیل دے گی، اس وقت تک مذکورہ سالانہ اور ٹیوشن فیس میں کسی بھی اضافے پر مکمل پابندی ہوگی۔ یہ ادارے ، ایک والدین کے دوسرے اور تیسرے بچوں سے نصف ٹیوشن فیس سے زیادہ وصول نہیں کریں گے۔ فیصلے کے مطابق 30 یا زیادہ دنوں کے لئے تعطیلات کے دوران ٹیوشن فیس کی وصولی غیر منطقی ، غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی قرار دی گئی ہے تاہم تنخواہوں ، یوٹیلٹی بلوں اور کرائے وغیرہ کے اخراجات کے پیش نظر مذکورہ انتظامیہ کو سالانہ چارجز کے علاوہ ٹیوشن فیس کی مد میں پچاس فیصد فیس وصول کرنے کی اجازت ہو گی۔ مختلف ذرائع سے یہ بتایا گیا ہے کہ طلباء سے رقم بٹورنے کے لئے بعض اداروں میں بے رحم ڈیلر اور دیگر ملازمین رکھے گئے ہیں جو طلباء سے غیر ضروری رقوم فی طالب علم / فی کس کے حساب سے وصول کرتے ہیں۔ اس لئے اس پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تعطیلات کے دوران طلباء سے ٹرانسپورٹ کے چارجز کی وصولی پر مکمل پابندی ہوگی۔ پشاور ہائی کورٹ نے ٹریفک پولیس ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرائیویٹ ادارو ں کے کسی بھی طالب علم جو کسی پرائیویٹ گاڑی پر لٹک رہا ہو کو اتار کر اس کے کلاس ٹیچر ، سکول پرنسپل اور سکول کے مالک کے خلاف کارروائی کریں۔ اسی طرح کسی سکول کے مقام کے پولیس سٹیشن کا انچارج، متعلقہ سکول انتظامیہ /پرنسپل کے خلاف عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی اور سالانہ فیس اور ٹرانسپورٹ کے سلسلے میں زیادہ رقوم وصولی کے خلاف پرچہ درج کرے گا۔

اس سلسلے میں تمام پرائیویٹ سکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ٹرانسپورٹ سے متعلق طلباء کو مناسب ہدایات اور رہنمائی فراہم کرنے کو یقینی بنائیں۔تمام پرائیویٹ تعلیمی ادارے ، ادارے کی حدود کے اندر کینٹینز سے متعلق خیبر پختونخوا سیف فوڈ اور حلال فوڈ اتھارٹی کے ریگولیشنز پر بھی عمل درآمد کریں گے اور مجاز فوڈ انسپکٹر وغیرہ کی جانب سے ادارے میں خوراک کی اشیاء کا ہر ہفتے معائنہ کیا جائے گاجبکہ طلباء کی باہر سے خوراک کی اشیاء پر مکمل پابندی ہو گی۔اس امر کا اعلان مینجنگ ڈائریکٹر KP-PSRA سید ظفر علی شاہ کی جانب سے کیا گیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , ,
8603

پی کے ون چترال سے سردار احمد خان اے این پی کے امیدوار ہونگے..حیدرہوتی

Posted on

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے چیئر مین پارلیمانی بورڈ اور پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے قومی و صوبائی اسمبلی کے مزید 8حلقوں کیلئے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ، پارلیمانی بورڈ کا اجلاس چیئرمین امیر حیدر خان ہوتی کی زیر صدارت باچا خان مرکز میں منعقد ہوا ، جس میں سیکرٹری سردار حسین بابک اور پارلیمانی بورڈ کے ممبران ایمل ولی خان اور خورشید خٹک نے بھی شرکت کی، بورڈ کے فیصلے کے مطابق این اے29پشاور کیلئے عالمگیر خان خلیل کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا،این اے12بٹگرام سے مصباح اللہ بابر جبکہ این اے7دیر لوئر سے نذیر احمد گجر امیدوار نامزد کر دیئے گئے، صوبائی اسمبلی کے حلقوں پی کے ون چترال سے سردار احمد خان اے این پی کے امیدوار ہونگے ،پی کے11دیر اپر سے راجہ امیر زمان ، پی کے72پشاور سے اشفاق خان خلیل ،پی کے96ڈی آئی خان سے شیر اللہ وزیر اور پی کے97ڈی آئی خان سے تیمور علی خان کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی اور پارٹی کی ذیلی تنظیموں کے تمام عہدیداروں ، کارکنوں ،ادباء اور شعراء کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات کیلئے انتخابی مہم انتہائی مؤثر انداز میں چلائیں اور مدلل و منظم انداز میں تسلسل کے ساتھ پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں ، انہوں نے کہا کہ اس اہم موقع پر سب کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی امیدواروں کی کامیابی یقینی بنانے کیلئے دن رات کام کرنا ہوگا۔
anp amir haider khan meeting

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , ,
8584

داد بیداد ………….ریڈیو کا المیہ…………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جولائی 2018 ء سے ملک کے سرحدات سے ملحق علاقوں میں قائم 14ریڈیو سٹیشنوں کو بند کررہی ہے ان میں سکردو ، گلگت ، چترال ، ڈی آئی خان ، تربت وغیرہ کے براڈ کاسٹنگ ہاؤ س شامل ہیں یہ منصوبہ 2015ء سے بتدریج روبہ عمل آرہا ہے ریڈیو پاکستان کے انجینئرنگ کا شعبہ 2015ء میں بند کر دیا گیاٹرانسمیٹروں کی تبدیلی ، نئے اے ایم ٹرانسمیٹروں کی تنصیب ختم کردی گئی اور فیصلہ کیا گیاکہ جس ریڈیو سٹیشن کا ٹرانسمیٹر خراب ہوگااس کو بند کردیا جائے گا 2016ء میں ایک قدم آگے بڑھ کر ریکارڈنگ کا شعبہ بند کر کے صرف خبروں کی او بی ( OB ) تک محدود کر دیا گیامیوزک ، ڈرامہ اور دیگر پروگراموں کی ریکارڈنگ کا سلسلہ ختم ہوا جنوری 2018ء میں پروگرام کا شعبہ بند کردیا گیا یہ وہ شعبہ تھا جس میں سعادت حسن منٹو ، احمد ندیم قاسمی ، اشفاق احمد، ممتاز مفتی، حفیظ جالندھری ،فارغ نجاری اور ہزاروں دیگر ادیبوں ، براڈ کاسٹروں کو متعارف کرایا ریڈیو پاکستان کے زوال کا سبب یہ ہے کہ ریڈیوپروزیر اعظم کی تصویر نہیں آتی وفاقی حکومت ریڈیو کیلئے مختص فنڈ پرائیوٹ ٹیلی وژن پروگرام اور اینکر پرسن خریدنے پر لگارہی ہے 3کروڑ روپے میں مہینے کا پرائیوٹ پروگرام خریدا جاتا ہے50لاکھ روپے پر اینکر پرسن آتا ہے ریڈیو پاکستان کو بچانے کیلئے بیوروکریسی نے جودلائل دیئے وہ سب رد کردئیے گئے ہیں پہلی دلیل یہ تھی کہ ریڈیو پاکستان اب بھی ملک کے اندر 70فیصد آبادی کا ذریعہ ابلاغ ہے شہروں سے لیکر دیہات تک لوگوں کی اکثریت ریڈیو پرانحصار کرتی ہے دوسری دلیل یہ تھی کہ سرحد پار افغانستان اور بھارت میں بھی ریڈیو سُنا جاتا ہے تیسری دلیل یہ تھی کہ ریڈیو پاکستان کا نام ملک کے اندر اور پڑوسی ممالک میں پاکستان کی بقا اور سلامتی کی علامت ہے 1948ء اور 1965ء کی جنگوں میں ریڈیو پاکستان نے قوم کی ترجمانی کی 1971ء میں بھارت نے مکتی باہنی کو ریڈیو پاکستان کے مقابلے میں ایف ایم ٹرانسمیٹرمہیا کئے جو جنگلوں اورکشتیوں میں چھپائے جاتے تھے اور دشمن کے اعلانات نشر کرتے تھے کارگل کی لڑائی میں دشمن کے ایف ایم چینل پکڑے گئے ریڈیو پاکستان کے گلگت اور سکردو سٹیشنوں نے مثبت کردار ادا کیا سوات کے اندر 2007ء کی بغاوت میں بھارت نے ایف ایم ریڈیو سے کام لیا یہ ایف ایم ٹرانسمیٹر موٹر سائیکل میں نصب تھا جو کبھی مام ڈھیری ، کبھی خوازہ خیلہ ، کبھی شموزی، کبھی چکدرہ پہنچتا تھا ایک ٹرانسمیٹر پکڑا جاتا تو دوسرا ٹرانسمیٹرنمودار ہوتا تھا سوات کی بغاوت میں قیدیوں اور زخمیوں کے ہندو ہونے کی بھی ڈاکٹری تصدیق ہوئی ریڈیو نشریات کی اہمیت کو سوات کے باغیوں نے بار بار منظر عام پر لایا اس وقت افغانستان میں 27ممالک کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کررہی ہیں بھارت کے 12قونصل خانے اس کام میں مصروف ہیں آل انڈیا ریڈیو، وائس آف امریکہ ، ریڈیو کابل اور 43ایم ایف چینل پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلا رہے ہیں پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلارہے ہیں ان کا مقابلہ کر نے کے لئے ریڈیو پاکستان کو طاقتور اے ایم اور ایف ایم ٹرانسمیٹروں کی ضرورت ہے موجودہ ریڈیو سٹیشنوں کی تعداد میں اضافے کی ضرورت ہے نئے میوزک ریکارڈنگز کی ضرورت ہے پروگراموں کے شعبے کو مزید فعال اور منظم کرنے کی ضرورت ہے سرکاری حکام نے ایک اور دلیل یہ بھی دی تھی کہ ریڈیوپاکستان کا نام بھار ت اور دوسرے دشمنوں کو پسند نہیں وہ ریڈیو پاکستان سے خوف زدہ ہیں اسلئے ریڈیو پاکستان کو کمزور کرنے کے پیچھے دشمن کی سازش نظر آتی ہے مگر سیاسی قیادت نے کسی دلیل کے بغیر حکم صادر کیا ہے کہ اعلیٰ سطح پر ریڈیو پاکستان کے شعبہ پروگرام کو ختم کرنے اور 14ریڈیو سٹیشنوں کو بند کرنے کا فیصلہ ہوا ہے محب وطن حلقوں کے سامنے تین آپشن ہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اندر اس فیصلے کے خلاف آواز اُٹھانی چاہیئے ، عدالت سے رجوع کرکے حکم امتناعی حاصل کر نا چاہیئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے درد مندانہ اپیل کرنی چاہیئے کہ ریاست کے مفاد میں ، سرحدی صورت حال کی حساسیت اور ملک کے اندر دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کی نزاکت کو سامنے رکھ کر وفاقی حکومت سے کہا جائے کہ ریڈیو پاکستان مسلح افواج کا ہراول دستہ ہے کشمیر اور سیالکوٹ سے لے کر قصور اور کھوکھرا پار تک شکیل احمد کی آواز اب بھی لوگوں کو یا د ہے چمن سے طورخم تک عبد اللہ جان مغموم المعروف مرچکئے ، شاپسند خان اور اور پائندہ خان کے پروگرام اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں وفاقی حکومت ریڈیو پاکستان کی آواز کو کمزور یا ختم کرنے سے باز رہے وفاقی حکومت کے پاس ریڈیو پاکستان کا شعبہ پروگرام ختم کرنے ، انجینئرنگ کے شعبے کو محدود کرنے اور 14ریڈیو سٹیشنوں کو بند کرنے کیلئے کوئی دلیل نہیں صرف ایک بات کہی جارہی ہے کہ اوپر سے حکم آیا ہے اور اس کا علاج COASکی فوری مداخلت ہے.
ورنہ ریڈیو پاکستان کا المیہ پوری قوم کا المیہ بن جائے گا

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
8567

سرکاری سکولوں‌میں داخلہ مہم شروع، انرولمنٹ کمپین ڈے کےموقع پر اگہی واک اورتقریب

چترال ( محکم الدین ) ڈی ای او چترال احسان الحق نے کہا ہے ۔ کہ ہمیں چترال میں کوالٹی ایجوکیشن کیلئے ہر وہ کوشش کرنی چاہیے ۔ جو ہم سے ہو سکتا ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے خو داچھے نتائج دینے کی کوشش کریں ۔ تعلیم کا مقصد علم حاصل کرنا ہے ،اس کا مقصد روزگار حاصل کرنا ہر گز نہیں ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روزانرولمنٹ کمپین ڈے کے موقع پر گورنمنٹ سنٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال میں ایک بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ جس میں محکمہ تعلیم کے جملہ آفیسران ، ڈپٹی دائریکٹر این سی ایچ ڈی محمدافضل سکولوں کے اساتذہ اور طلباء کی بہت بڑی تعداد موجود تھی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ علم کی افادیت مسلمہ ہے ۔ کیونکہ اللہ کے نبی پر اترنے والی وحی کی پہلی آیت اقراء سے شروع ہوتی ہے ۔اسلام میں مذہبی اور عصری علوم دونوں کی اہمیت ہے ۔ اس لئے آج کی تقریب اُن بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کی کوشش ہے ۔ جو کسی وجہ سے محروم رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جن قوموں نے تعلیم پر توجہ دی ۔ آج وہ پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔ ڈی ای او نے کہا ۔ کہ موجودہ حکومت تعلیم پر بڑے پیمانے پر فنڈ خرچ کر رہی ہے ۔ اور حصول تعلیم میں بہت آسانیاں پیدا کر دی ہیں ۔ اس لئے بچوں اور اُن کے والدین کوعلم کیلئے دیے گئے ان سہولیات سے فائدہ لینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے تین طلبہ نے صوبے میں نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے ۔ جو کہ چترالی طلبہ کی صلاحیتوں اور اساتذہ کی محنت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر این سی ایچ ڈی محمد افضل نے کہا ۔ کہ چترال میں تعلیم کا معیار اگرچہ پہلے سے بہتر ہے تاہم اب بھی مسائل موجود ہیں ۔ جنہیں حل کرنے کیلئے باہم مل جل کر اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔ ڈپٹی ڈی ای او حافظ نوراللہ نے کہا ، کہ سرکاری سکولوں میں اعلی ، باصلاحیت اور تجربہ کار اساتذہ طلبہ کو تعلیم دیتے ہیں ۔ جبکہ سکولوں کی عمارتوں کا معیار بھی پرائیویٹ سکولوں سے بہت بہتر ہے ۔ اس لئے طلبہ کو فوائد حاصل کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ 15فروری کو دروش ، 16کو بونی اور 19اپریل کو گرم چشمہ میں انرولمنٹ کمپین واک ہو گا ۔ تقریب سے پرنسپل سینٹنیل ماڈل ہائی سکول نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ انرولمنٹ زیادہ ہوگی تو بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا ۔ جبکہ ہیڈ ماسٹر جی ایم ایس جغور منیر احمد نے کہا ۔ کہ پرائیویٹ سکولوں میں اخلاقی تربیت کی شدید کمی ہے ۔ اور سرکاری سکولوں میں پرائیویٹ سکولوں کی نسبت معیاری تعلیم دی جاتی ہے ۔ قبل ازین ڈی ای او، ڈپٹی ڈائریکٹر این سی ایچ ڈی، پرنسپل کمال الدین ، صدرآل ٹیچر ایسوسی ایشن اورمحکمہ ایجوکیشن کے ذمہ داروں کی قیادت میں داخلہ مہم کے حوالے سے ایک واک چترال پولوگراؤنڈ سے سینٹنیل ماڈل سکول تک کیا گیا ۔ جس میں مختلف سکولوں کے اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی ۔

chitral school enrolment campaign awarness walk held in Chiral picSaif ur Rehman Aziz

school enrollment campaign chitral 2

school enrollment campaign chitral 1

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , ,
8554

سرمایہ داری نظام کے اجارہ دار مغربی بلاک کی صف بندی…….. پیامبر……. قادر خان یوسف زئی

کروڑوں مسلمانوں سمیت اربوں انسانوں کیخلاف پوری دنیا میں مالیاتی آمریت کی اجارہ داری کیلئے یوروپی یہودی اسرائیل نے مسلمانوں اور دیگر غریب ممالک کو اپنی غلامی اور محتاجی کے چنگل میں پھنسانے اور بین الاقوامی مذموم عزائم کو تقویت دینے کیلئے ایک مربوط اور منظم سازش کے تحت منصوبہ بندی کی ہوئی ہے جس پر متواتر عمل درآمد جاری ہے۔ “انٹرنیشنل کانفرنس برائے گولڈ دینار مالیات جوکوالالمپور کے پُڑا ٹریڈ سینٹر میں مورخہ24 اور25جولائی 2007ء کو منعقد ہوئی تھی ۔ کانفرنس میں ملائیشا کے سابق وزیر اعظم تُن ڈاکٹر مہاتیر محمد نے مالیات کے حوالے سے انتہائی پُر مغز تقریر کی تھی۔جس میں مرکزی خیال یہ تھا کہ” سونے کے دینار کے سکے واپس لائے جائیں اور اس کاغذی مالیاتی نظام کو تبدیل کردیا جائے جو امریکی ڈالر کے پُر فریب تانے بانے سے بندھا ہوا ہے تاکہ مسلمان اپنے آپ کو اس معاشی اور مالیاتی جال سے نکال سکیں”۔یہ نظام خصوصی طور پر ان لوگوں کو نشانہ بناتا ہے جو یہودی و نصاری گٹھ جوڑ کے آگے رکاؤٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ، عنقریب یہ نظام اپنے ارتقائی منازل کو طے کرتے ہوئے اس مقام تک جا پہنچے گا جہاں موجودہ رائج کاغذی نوٹ کا نظام ہے۔برطانیہ اور اس کے حلیف اتحادی ممالک کی جانب سے سخت ردعمل کے جواب میں روس کی جانب سے بھی اپنے ملک سے سفارت کاروں کی بیدخلی کے اقدامات کو بھیعالمی سیاسی منظر نامے پر نظر رکھنے والے موجودہ صورتحال کو ایک نئے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ روس کے خلاف یہ اقدامات دراصل چین کے ساتھ بڑھتی قربت اور ان کے نئے عالمی معاشی کردار کے خلاف کسی متفقہ منصوبہ کا حصہ ہے۔ چین نے تقریباََ40کے قریب ممالک سے ’ کرنسی سواپ‘ نامی معاہدہ کیا ہوا ہے ، پاکستان نے بھی2012 میں اس معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کا اصل مقصد یہ تھا کہ ڈالر کے بجائے یو آن میں باہمی تجارت کی جائے گی۔اس وقت روس اور چین ’ یو آن ‘ تجارت کرتے ہیں ۔ آئی ایم ایف نے برطانوی پاؤنڈ ، جاپانی ین ، امریکی ڈالر اور یورو کے ساتھ ساتھ چینی کرنسی کو بھی انٹرنیشنل ریزرو کرنسی میں شامل کیا ہوا ہے۔ چین اور روس دونوں ممالک مل کر تیزی کے ساتھ عالمی تجارتی منڈی پر اپنا اثر رسوخ قائم کرنے کے لئے ڈالر کے مقابل اُسی ملک کی کرنسی کے تبادلے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں ۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ اس طرح ڈالر کی مانگ اور اہمیت میں کمی واقع ہوجائے گی ۔ اور یہی عمل اگر چینی معاہدے کے مطابق دیگر40کے قریب ممالک نے مکمل طور پر اختیار کرلیا تو مستقبل میں ڈالر کی اجارہ داری ختم ہونے کا یقینی امکان موجود ہے۔ لازمی امر ہے کہ جس طرح ڈالر تجارتی خسارے میں آئے گا اسی طرح پاؤنڈ اور یورو بھی زد میں آئیں گے اس طرح سرمایہ دارانہ نظام کے حامی مغربی بلاک کو معاشی جنگ میں روس اور چین کے عسکری و دفاعی بلاک بننے کے سبب شدید نوعیت کا نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ واضح رہے کہ پاکستانی اسٹیٹ بنک جنوری2018 میں باقاعدہ اجازت دے چکا ہے کہ سرکاری اور نجی طور پر برآمدات ، درآمدات ، سرمایہ کاری اور دو طرفہ تجارت کے لئے چینی کرنسی یو آن استعمال کی جاسکتی ہے۔روس اور چین کے درمیان 2014میں روبل اور یو آن میں تجارتی لین دین کا تبادلہ ہونے کا معاہدہ کیا گیا تھا اس و قت روس اور چین کے درمیان 80ارب ڈالر سے زیادہ تجارت ہوا کرتی تھی۔جو اَب کئی گنا بڑھ چکی ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک کھرب ڈالرز سے زیادہ تجارت بڑھانے پر اتفاق ہواتھا ۔اسی طرح ترکی ، ایران ، ملایشیا ء اور کئی دیگر ممالک بھی مختلف اوقات میں اپنی کرنسی میں ڈالرز کے متبادل تجارتی پالیسی لانے کا کھلا اظہار کرچکے ہیں۔

اپریل1933ء کے ایک واقعے سے یہود ونصاری کے گٹھ جوڑ کی بین الاقوامی سازش سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ اس مالیاتی نظام کے تحت دولت کی قانونی چوری کس طرح کی جاتی ہے۔امریکی حکومت نے ایک قانون لاگو کیا تھاجس کے تحت امریکی شہریوں کیلئے سونے کے سکے ، ان کی خام شکل اور سونے کے سرٹیفیکٹ رکھنا جرم قرار دے دیا گیا ، سونے کے سکوں کو لین دین کیلئے استعمال سے روک دیا گیا اور ان کی قانونی حیثیت کو ختم کردیا گیا ، یوں یہ سکے روپے کی طرح خرید وفروخت میں استعمال نہیں ہوسکتے تھے، امریکی حکومت نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ ایک خاص وقت تک یہ سکے کسی کے پاس نظرآئے تو اس کو دس ہزار ڈالر کا جرمانہ یا چھ مہینے کی قید کی سزا ہوگی ، ان سکوں اور سرٹیفیکیٹوں کے عوض امریکہ کے فیڈرل ریزرو بنک نے جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے ، کاغذی نوٹ (امریکی ڈالر)جاری کردئیے اور ہر ایک اونس کے عوض 20ڈالر کا نوٹ دیا جانے لگا ، گویا ایک اونس سونے کا نعم البدل کاغذی نوٹ میں تبدیل کردیا گیا ، نتیجہ کے طور پر عوم دوڑ پڑی ، قید اور جرمانہ سے بچنے کیلئے اپنے سونے کے سکوں کے عوض ڈالے کے نوٹ تبدیل کروانے لگی ، مگر جو لوگ سمجھ بوجھ رکھتے تھے انھوں نے سونے کو تبدیل کرنے کے بجائے مزید سونا خریدنا شروع کیا ور انہیں سوئس بنکوں میں بھیجتے چلے گئے اور پھر اسی سال برطانیہ نے بھی امریکہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے ملک میں یہی کاروائی کی اور سونے کو تجارتی مقاصد کے استعمال سے روک دیا انہوں نے صرف یہ کیا کہ اپنی کاغذی کرنسی پاؤنڈ اسڑلنگ کو سونے کی ضمانت سے الگ کردیا ، جب امریکہ میں تمام کا تما م سونا کاغذی کرنسی میں تبدیل ہوگیا تو جنوری1934ء میں امریکی حکومت نے اپنی مرضی سے اپنے کاغذی ڈالر کی قیمت میں 41 فیصد کی کمی کردی اور اس کے ساتھ ہی اپنے اس قانون کو جس کے ذریعے سونا رکھنا ممنوع کردیا گیا تھا ، ختم کردیا ، اب امریکی عوام پھر دوڑی کہ اپنے کاغذی نوٹوں کو واپس سونے میں تبدیل کرلے مگر اب ڈالر کی قیمت گرنے کی وجہ سے فی اونس سونے کی قیمت35 ڈالر ہوگئی تھی،اس عمل کے دوران عوام کی41 فیصد لوٹ لی گئی۔ستمبر1931ء میں برطانوی پاؤنڈ کی قیمت 30فیصد گرائی گئی جو 1934ء تک 40فیصد پر پہنچ گئی ، اس کے بعد فرانس نے اپنی فرانک کی قیمت کو 30فیصد گرادیا ، اٹالین لیرا کو 41فیصد اور سوئس فرانک کو 30فیصد تک کم کردیا گیا ، اور تمام یورپی ممالک نے یہ عمل ہر جگہ دوہرایا ، یہاں تک کہ یونان نے اپنی کرنسی کو یک دم59فیصد تک کی کمی کردی ۔ اس پالیسی نے بے روزگاری کو جنم دیا ، پوری دنیا میں تجارت شدید خسارے میں مبتلا ہوگئی ، جس کو اس صدی کی دہائی کا”پستی اور اداسی کا دور” کہا گیا ۔

یہود و نصاری نے ان متفقہ چالوں سے کاغذی نوٹوں کی بنیاد پر ایک عالمی مالیاتی نظام”بریٹن ووڈزمعائدہ “کرلیا جس میں سونے اور ڈالر کے درمیان ایک رابطہ پیدا کرلیا ، جو بظاہر ٹھیک تھا کہ اب کاغذی نوٹ بغیر کسی زر ضمانت کے چھاپے جاسکتے تھے مگر اس کا کاروباری دنیا میں حقیقی طور پر کسی قیمت کا ہونے سے کوئی تعلق نہیں رہا ، لیکن اس معائدے نے1944ء میں آئی ایم ایف کے انعقاد کا راستہ ہموار کردیا ،جس کامقصد خصوصی طور پر اس بے ضمانت کاغذی کرنسی کے نظام کو عالمی مالیاتی نظام پر لاگو کئے رکھنا تھا لیکن1971ء میں یہ سازش بے نقاب ہوئی اور امریکہ اس عالمی معائدہ کی اس شق سے منحرف ہوگیا کہ امریکی ڈالر کو سونے کی ضمانت حاصل ہوگی ۔اس وقت بھی اسلامی دنیا کے معاشی ماہرین خواب غفلت میں ہیں کہ اسلام کے تجارتی نظام ، جس میں اجناس کے بدل میں اجناس اور سونے چاندی کے سکوں کی بنا ء پر کسی یہود و نصاری کی اجارہ داری نہیں تھی ،یکسر تبدیل کرکے اب اس نظام کو الیکڑونک روپیہ کے نظام میں تبدیل کرکے دنیا بھر کے سرمایہ کو یہودی اپنے تصرف میں رکھ کر مسلمانوں اور غریب ممالک پر سرمایہ دارانہ نظام کی ہولناک حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔سودی نظام کے شکار ، پاکستان جیسے غریب ممالک ، ان کے غلام بن کر ان کی منصوبہ سازیوں میں شریک ہونے پر مجبور ہوتے ہیں۔الیکڑونک روپیہ عام ہونے سے غریب انسان کی گردن میں سرمایہ داری کی غلامی کا طوق زندگی بھر کیلئے ڈال دیا جائے گا۔

برطانیہ و اتحادی ممالک کی جانب سے روس کے آڑ میں چین کو عالمی معاشی مارکیٹ میں داخلے سے روکنا امریکا اور حلیف ممالک کی اولّین ترجیح بن چکا ہے۔ امریکا واحد سپر پاور بننے کے زعم میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ ملکر پوری دنیا میں قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک میں خانہ جنگی کرا چکا ہے ۔ ان ممالک کے قدرتی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے ۔ ان حالات میں چین و روس ہی ایسی دنیاوی طاقتیں ہیں جو امریکا اور اس کے حلیف ممالک کو لگام دے سکتے ہیں۔روس بھی جوابی وار میں اُن ممالک کو بیدخل کررہا ہے جن ممالک نے روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کیا ۔ لیکن مغربی بلاک کے اس عمل سے ایک مرتبہ پھر سرد جنگ شروع ہوچکی ہے۔جس کا اختتام اب کسی افغانستان کی جنگ پر نہیں بلکہ بہت بڑی تباہی کے بعد ہی منتج ہوسکے گا۔دیکھنا یہ ہے کہ چین و روس اپنے بلاک میں شامل ہونے والے نئے اتحادیوں کے ساتھ ماضی کے مقابلے میں کتنا توازن رکھتا ہے۔ اگر روس و چین کا جھکاؤ صرف اپنے ملک کے مفادات تک محدود رہتا ہے تو روس کو ماضی کی طرح ایک بار پھر ہزہمیت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تاہم روس کے معاشی حوالے سے کمزور معیشت کا تمام تر دارومدار چین کے عظیم معاشی منصوبے پر ہے ۔ 2014ء میں 160 ارب اور 2015ء میں 180 ارب ڈالر روس سے باہر منتقل کیے گئے تھے۔ بجٹ کاخسارہ 95 ارب ڈالر سے تجاوز اور روسی کرنسی روبل کی قیمت 2014ء کی نسبت 90 فیصد کرچکی تھی۔ روس کی وزارتِ لیبر کے مطابق 2014ء میں 1,58,000 ملازمتیں ختم کی گئیں جبکہ 2015ء کے صرف پہلے دو ماہ میں 1,27,000 ملازمتوں کو ختم کیا گیا۔ روس کی 83 میں سے 63 علاقائی حکومتیں دیوالیے کا شکار اور صوبائی اورمرکزی حکومتوں کا قرضہ 300 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔جب کہ چین کی معیشت مسلسل مضبوط ہو رہی ہے ۔ چین کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت قرار دیا جارہا ہے ۔ چین نے 2016ء میں 6.7فیصد کے حساب سے ترقی کی ہے۔قومی ادارہ برائے اعدادوشمار کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چین کی سالانہ معاشی پیداوار 11ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے جو کہ جی ڈی پی میں ایک فیصد اضافے کے برابر ہے، چینی جی ڈی پی میں ترقی ایک عدد سے ڈبل ڈیجیٹ تک پہنچ چکی ہے، اس کے لئے ملک نے خاصی محنت کی ہے، سرمایہ کاری پرانحصار کم کیا ہے،برآمدات اور کھپت میں اضافہ کیا گیا ہے، سٹیٹ کونسل کے ڈویلپمنٹ ریسرچ سینٹر کے ایک ریسرچر زینگ لی کن کا کہنا ہے کہ اعدادوشمار حقیقی جانچ پڑتال کے بعد حقیقی صورتحال واضح کردیتے ہیں اور چینی معاشی مبصرین کو بھی اس صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔قومی ادارہ اعدادوشمار کے سربراہننگ جز ہی کا کہنا ہے کہ چینی معیشت نئے نارمل سٹیج ذمہ دارانہ پیداوار اور بہتر معاشی ڈھانچے میں میں داخل ہو چکی ہے۔چین کو نئی اکنامک ورلڈ پاور کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ گزشتہ دنوں امریکا میں امریکی صدر ٹرمپ نے چین کی معاشی پالیسیوں کے خلاف لائحہ عمل پر مبنی ایک صدارتی یاد داشت پر دستخط کئے تھے ۔ اپنے صدارتی خطاب میں صدر ٹرمپ چین کی تجارتی پالیسیوں کو غیر منصفانہ تجارت قرار دیا ۔ صدر ٹرمپ نے امریکا کی صورتحال واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں 60ہزار کارخانے بند اور کم ازکم 60لاکھ نوکریاں ختم ہوچکی ہیں ، امریکا کو 504ارب ڈالر کا تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔امریکی صدر اس خسارے کو قابو پانے میں بے بسی کا واضح اظہار کرتے ہیں۔امریکی صدر چین کے ساتھ ہزاروں ارب ڈالر پر میحط انٹلیکچوئل پراپرٹی چوری کے مسائل پر مذاکرات کررہے ہیں۔امریکا چین پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ تجارتی خسارہ100ارب ڈالرز تک لیکر آئے۔ لیکن چین کے عدم تعاون پر امریکا نے 60ارب ڈالرز کی اشیا پر ٹیکس عائد کردیئے ہیں ۔امریکی صدر کی جانب سے ان اقدامات کو چین نے تجارتی جنگ قرار دیا ہے۔

سفیر لائٹزر نے سیکشن 301 کے قانون کے حوالے سے امریکی صدر کی صدارتی یاداشت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ” یہ قانون صدر کو مخصوص حالات میں ہمارے تجارتی شراکت داروں کے غیرمنصفانہ اقدامات، پالیسیوں یا افعال درست کرنے کے لیے ٹھوس طاقت اور اختیار دیتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے میں ٹیکنالوجی پر بات ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی غالباً ہماری معیشت کا سب سے اہم حصہ ہے۔ ہمارے ہاں 44 ملین لوگ اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ کسی ملک کے پاس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایسی صنعت نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی واقعتاً امریکی معاشی مستقبل کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ان مسائل کے ہوتے ہوئے صدر نے‘یوایس ٹی آر’کو ایک جائزہ لینے کے لیے کہا۔ ہم نے ایک جامع جائزہ لیا۔ ہم نے بہت سے لوگوں کی بات سنی۔ ہم نے لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات کا تجزیہ کیا۔ ہم نے بہت سے کاروباری لوگوں سے بات کی۔ جیسا کہ میں نے کہا ہمارے پاس شہادت موجود تھی۔ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ درحقیقت چین نے ٹیکنالوجی کی بزور قوت منتقلی، معاشی قدر سے سے کمتر درجے پر لائسنس کے حصول، ریاستی سرمایہ داری، جس کے تحت وہ امریکہ میں غیرمعاشی انداز میں ٹیکنالوجی خریدتے ہیں اور پھر آن لائن چوری کی پالیسی بنا رکھی ہے۔نتیجتاً صدر نے اس کا تجزیہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں ضروری اشیا پر ٹیرف عائد کرنا ہو گا۔ یہ ہم بعد میں واضح کریں گے کہ ہم نے ان اشیا کا تعین کیسے کیا۔ اس حوالے سے ہمارے پاس 200 صفحات پر مشتمل جائزہ ہے جسے ہم شائع کریں گے۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ہم اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حوالے سے چین کے ساتھ سرمایہ کارانہ پابندیاں عائد کریں گے اور ڈبلیو ٹی او میں اس حوالے سے کیس دائر کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حوالے سے ایک اقدام سے ڈبلیو ٹی او کی خلاف ورزی ہوتی ہے”۔

امریکی صدر کی جانب سے چین کی تجارتی پالیسیوں کے خلاف باقاعدہ مہم اور امریکا سمیت مغربی بلاک کی جانب سے چین کو اکنامک سپر پاور بننے سے روکنے کے لئے سب سے پہلے ضروری تھا کہ روس کو محدود رکھا جائے ۔ گو کہ چین اس وقت دنیا میں سب سے بڑی فوجی طاقت کا درجہ رکھتی ہے لیکن چین ، براہ راست جنگی پالیسی اختیار کرکے اپنے مقاصد سے دور نہیں ہونا چاہتا ۔ اس لئے چین اپنے عظیم معاشی منصوبے کے تحت عمل پیرا ہے ۔چین کے نزدیک اس کے مفادات جنگ سے زیادہ اہم ہیں ، روس چین کا اہم پارٹنر ہے ۔ روس اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی فوجی طاقت کا اظہار عملی شکل میں کررہا ہے ۔ جس سے مغربی بلاک ، خاص کر برطانیہ اور امریکا کو سخت تشویش ہے۔ روس جس طرح عالمی معاملات میں امریکی عزائم کے خلاف اپنا ویٹو پاور استعمال کرتا ہے ۔ اس سے امریکی و اتحادی پریشان نظر آتا ہے ۔امریکا اگر افغانستان میں روس و چین کے بڑھتے کردار کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکا تو پھر ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ پوری دنیا کو اپنے احاطے میں لے سکتا ہے۔ چین کے پاس سستی افرادی قوت اور دنیا میں مہنگی مصنوعات کے مقابلے میں ارزاں اشیاء کی فراہمی سے امریکا ، برطانیہ اور مغربی ممالک کی معیشت کو زبردست جھٹکا لگے گا ۔ جس طرح امریکی صدر نے صدارتی یاد داشت پر دستخط کرتے ہوئے امریکا میں بے روزگاری اور بند کارخانوں کے اعداد و شمار بیان کئے اور ان کی کابینہ کے رکن نے چین کے بڑھتے رسوخ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چین پر پابندیوں لگانے کا عندیہ دیا اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ سرد جنگ کا نہ رکنے والا سلسلہ مزید بڑھے گا ۔ روس ، چین کے معاشی مفادات کا اسٹریجک اتحادی ہے اور چین کے عظیم معاشی منصوبے کا اہم سہرا پاکستان سے جڑا ہے اس لئے امریکا اپنی خارجہ پالیسیوں میں پاکستان کو افغانستان کی جنگ میں الجھا کر چین کا راستہ افغانستان میں روکنا چاہتا ہے۔ روس ، کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے چین مالی امداد میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے جبکہ اس کے سامنے ڈالر کی اجارہ داری بھی حائل نہ ہو اس صورتحال میں مغربی بلاک کی قبل از وقت پیش بندیاں عالمی امن کو خطرات سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی لگتی ہیں۔ عالمی تجارتی جنگ کا آغاز تشویش ناک ہے جس کے نتائج سے دنیا غیر روایتی جنگ میں بھی بدل سکتی ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
8487

قندوز افغانستان میں مدرسے پر امریکی حملے کے خلاف جماعت اسلامی کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) قندوز افغانستان میں مدرسے پر امریکی حملہ اور سو سے زائد حفاظ بچوں کی شہادت پر جماعت اسلامی ضلع چترال نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جوکہ چیو پل سے شروع ہوکر پولو گراونڈ پر احتتام پذیر ہوئی جس کی قیادت ضلع ناظم مغفرت شاہ، امیر ضلع مولانا جمشید احمد، ضلعی جنرل سیکرٹری فضل ربی جان اور دوسروں نے کی۔ریلی کے شرکاء نے امریکہ کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی جبکہ ریلی کے احتتام پر مقرریں نے کہاکہ دنیا کو امن کا سبق دینے والی امریکہ نے خود دہشت گردی کی ایک بدتریں مثال قائم کردی جوکہ اس کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ ہے۔
jamat islami jalsa chiral2

jamat islami jalsa chiral23

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , ,
8485

صدا بصحرا ……….. ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

قندوز، ڈمہ ڈولہ ، آرمی پبلک سکول پشاور ، مناواں پولیس ٹریننگ سکول لاہور اور سلالہ کے شہداء کی طرح دیگر 1485 مقامات پر گذشتہ 40سالوں کے دوران ہمارے شہداء نے جس طرح اپنے خون کا نذرانہ دیا ہے اس کی مثال تاریخ میں اس صورت میں کبھی بھی نہیں ملے گی کہ مرنیوالا بھی مسلمان اور مارنے والا بھی مسلمان ہی ہو۔ واشنگٹن ، تل ابیب اور نئی دہلی کا اس پر کامل اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے اوپر حملوں کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہنا چاہیئے۔ 5 دنوں کے اخبارات ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی خبروں کا جائزہ لیا جائے تو نہایت ڈراؤنی تصویر سامنے آتی ہے امریکی حکومت کہتی ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ نے شام سے امریکی فوجوں کو واپس بلانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے تاہم امریکہ اس کام میں جلد بازی ہر گز نہیں کرے گا۔انقرہ میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے بعد ترک صدر رجب طیب اردگان اور ایرانی صدر روحانی نے اصولی طور پر بیان دیا ہے کہ ہم شام کی آزادی اور خود مختاری کا دفاع کرنے کا عزم پر قائم رہیں گے۔ واشنگٹن کے اہم سرکاری دورے سے واپسی پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز نے ریاض میں پہلے جوا خانے کا افتتاح کیا اور پہلے سینما گھر کے افتتاح کے لئے 18 اپریل کی تاریخ مقرر کی ۔اپنے پالیسی بیان میں سعودی عرب کے مستقبل کے حکمران نے کہا کہ اسرائیل کا دشمن ہمارا بھی دشمن ہے ۔ گویا فلسطینی حریت پسندوں کو دشمن قرار دیا گیا۔ اور اُن کے تمام ہمدردوں کو دشمن قرار دیا گیا۔ ان میں ایران، پاکستان ، شام ، یمن ، ترکی اور وہ تمام ممالک آگئے جو فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں ۔ روس اور چین کا شمار بھی فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کرنے والوں میں ہوتا ہے مرزا غالب نے کہا ؂
حیران ہوں کہ رؤں دل کو یا پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
قندوز کے واقعے کی جو تفصیلات سامنے آگئی ہیں ان میں یہ بات ثبوتوں کے ساتھ لکھی گئی ہے کہ قندوز کے مدرسے پر حملہ کرنے والا جہاز افغان فوج کے زیر استعمال تھا اور اس کا پائلٹ بھی افغانی تھا۔ بمباری کا حکم دینے والے بھی افغانی تھے۔ نیز نقشے میں جو مقام دیا گیا تھا وہ مدرسہ ہی تھا ۔ اور اجتماع کی جو رپورٹ دی گئی تھی وہ بھی دستار بندی کے حوالے سے تھی۔ یعنی حملہ غلط اطلاعات کی بناء پر نہیں ہوا۔ غلط فہمی کے نتیجے میں نہیں ہوا۔ جان بوجھ کر پورے اطمینان قلب کے ساتھ افغانی مسلمانوں نے اللہ کا نام لیکر حفاظ اور علماء پر بمباری کر کے مسجد اور مدرسہ کو خون میں نہلا دیا اس میں امریکہ کا قصور بس اتنا ہے کہ اُس نے افغانیوں پر اعتماد کیا۔ عالم اسلام پر حسب معمول خاموشی چھائی ہے۔ پاکستان میں حسب معمول خاموشی ہے۔ سوشل میڈیا میں یہ بات زیر بحث نہیں کہ افغان فوج نے مدرسے پر حملہ کر کے بے گناہ حفاظ کو کیوں شہید کیا؟ بلکہ زیر بحث بات یہ ہے کہ واقعے کی مذمت میں کون آگے ہے ؟ کو ن پیچھے ہے اور کون لاپتہ ہے؟ گویا سانپ گذر گیا ہم لکیر پیٹنے کا شُغل فرمارہے ہیں ۔ اور پورے خلوص کے ساتھ لکیر پیٹ رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ایک سادہ لوح مسلمان نے سوال اُٹھایا ہے کہ علمائے کرام نے 1978 ء میں سویت یونین کے خلاف جہاد کو فرض قرار دیا تھا۔ قندوز مدرسے پر تازہ ترین حملے کے بعد امریکی حکومت ، امریکی فوج اور افغانستان کی امریکی انتظامیہ کے خلاف جہاد کو فرض کیوں قرار نہیں دیا جاتا ؟ میرے سادہ لوح مسلمان بھائی کو اس بات کی خبر نہیں کہ جہاد فرض ہے۔ جہاد فرض رہے گا۔ تاہم فتویٰ دینے کے لئے کسی محرک کا سامنے آنا ضروری ہے۔ 1978 ء میں نارکو ڈالر آیا۔ دولت کے انبار دکھائے گئے ۔ وسائل ، گاڑیاں ، بینک بیلنس لاکر ہمارے قدموں میں ڈال دیئے گئے ۔ یہ امریکہ، برطانیہ ، جرمنی ، فرانس اور سعودی عرب کی سخاوت تھی ۔ ان کی فیاضی تھی جس کی وجہ سے ہر دو ماہ بعد او آئی سی کے اجلاس ہوتے تھے ۔ جن میں سویت یونین کی مذمت کرکے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی جاتی تھی۔ امریکہ اور سعودی عرب کی جنگی پالیسی کو سراہا جاتا تھا۔ شام پر امریکی حملوں کے خلاف او آئی سی کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا۔ کیونکہ او آئی سی کا کنٹرول امریکہ اور سعودی عرب کے پاس ہے ۔ شام کی خود مختاری ، یمن کی آزاد پالیسی ، ایران اور پاکستان کی ترقی ، فلسطینیوں کی حمایت ، افغانستان میں امن کا قیام ۔ مسلمان ملکوں سے قابض امریکی فوجوں کا انخلا جیسے موضوعات او آئی سی کے ایجنڈے مین جگہ نہیں پاسکتے ۔ غلام قومیں غلام ہوتی ہیں۔ وہ روس اور چین کی طرح آزاد پالیسی نہیں بناسکتیں ۔ روس اور چین سے ہمیں ایک ہی گلہ ہے یہ آزاد ممالک ہمارے صبر کا امتحان کیوں لیتی ہیں ؟ ڈالروں کی بارش بر ساکر امریکہ کے خلاف جہاد کا فتویٰ حاصل کیوں نہیں کرتے ؟ ہمیں جرمِ ضعیفی کی سزا کیوں دیتے ہیں؟ بقول علامہ اقبال ؒ ؂
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , ,
8481