The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 30 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صدا بصحرا………. پاک امریکاتعلقات کا نیا موڑ………… ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضیؔ

پاک امریکا تعلقات گزشتہ 67سالوں میں 20 دفعہ نئے موڑ پر آگئے اب اکیسویں بار نیا موڑ آگیا ہے وائٹ ہاوس اور پینٹا گان کی طرف سے دھمکی دی گئی ہے کہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کا سلسلہ بند کرو بھارت کی بالادستی قبول کرو فلسطینیوں کی حمایت سے توبہ کرو ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا اس میں شک کی کنجائش نہیں کہ عالمی تاریخ میں امریکا سے بُرا کوئی نہیں جرمن چانسلر بسمارک نے 1872میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا کہ سنبھل جاؤ دنیا کی قیادت کرنے کے لیئے تیار ہو جاؤ ورنہ ایسی قوم منظر عام پر آئے گی جس کے باپ کا شجرہ نہیں ہوگا جس کی تاریخ نہیں ہوگی 1945ء میں اقوام متحدہ بننے کے بعد امریکا کو ویٹو پاور دے دیا گیا تو بسمارک کی پیش گوئی حرف بحرف درست ثابت ہوئی یہ وہی قوم ہے جس کی طرف جرمنی کے عظیم دانشور ٗ مورّخ اور فلاسفر نے اپنی حکمرانی کے دوران اشارہ کیا تھا 1951میں پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنی بیگم کو شاپنگ کرانے کے شوق میں ماسکو کی دورے کی دعوت کو ٹھکرا کر امریکا کا دورہ کیا تو سید سبط حسن نے اس پر بڑاجامع اور پر مغز تبصرہ کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ جاگیر دار طبقہ پاکستان کو خوشحال دیکھنا نہیں چاہتا اس لیئے ہمیں امریکی ببول کی گرفت میں لا رہا ہے۔ علی سردار جعفری نے بھی خوبصورت مثال دی انہوں نے لکھا تھا کہ سانپ جس درخت کے ساتھ لپٹ جاتاہے وہ درخت سوکھ کر کانٹا بن جاتا ہے امریکا کی مثال سانپ جیسی ہے گزشتہ 67سالوں میں پاکستان نے امریکا کے ساتھ یک طرفہ دوستی نبھائی ہے 67سالوں میں امریکی امداد سے پاکستان میں ایک کلومیٹر سڑک نہیں بنی، ایک ڈسپنسری تعمیر نہیں ہوئی، ایک پرائمری سکول نہیں بنی ہمیں سٹیل ملز کا تحفہ سویت یونین نے دیا، دفاعی پیداوار میں خود کفالت کے لئے ٹیکسلا، کا مرہ اور واہ کینٹ میں ٹینک ، جہاز اور اسلحہ کی فیکٹریاں پیپلز ری پبلک آف چائنہ نے تعمیر کرکے ٹیکنالوجی کے ساتھ دیدی، امریکہ نے 26فیصد سے لیکر 37فیصد تک کا قرضہ دیا۔ سود کے ساتھ اصل زر وصول کیا اور پاکستان کو ایک دن بھی سر اٹھانے نہیں دیا۔ گذشتہ 67 سالوں میں پاکستان نے 40مواقع پر امریکہ کی مدد کی۔ کوریا کی جنگ، ویت نام کی جنگ ، چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات، 1978ء میں افغانستان کے اندر امریکی مداخلت اور پھر 2001ء میں افغانستان پر امریکہ کے فوجی حملے میں بھی پاکستان کا تعاون امریکہ کو حاصل رہا۔ پاکستان نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری مگر امریکہ کو مایوس نہیں کیا۔1965ء کی جنگ میں سویت یونین نے پاکستان کی مدد کی۔ معاہدۂ تاشقند کی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے مگر پاکستان نے 1970ء میں امریکہ کو چین تک جانے کا راستہ دے کرسویت یونین کے ساتھ بے وفائی کی۔ 1971ء کی جنگ میں سویت یونین نے ہم سے بدلہ لے لیا۔ امریکہ کو ساتھ دینا چاہیئے تھا لیکن امریکہ نے بھارت کا ساتھ دیا۔ اس بات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ امریکہ نے 16دسمبر کو بھارت کے ذریعے مغربی پاکستان پر قبضے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ عوامی جمہوریہ چین کی فوری مداخلت اور دھمکی کام آگئی۔مغربی پاکستان امریکہ سے بچ گیا ۔ یکم جنوری 1972ء کے بعد امریکہ کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات ختم ہونے چاہیئے تھے۔ امریکہ کے دھوکے اور فریب سے باہر نکلنے کا یہ زرّین موقع تھا مگر یہ موقع ہماری قیادت نے کھودیا ۔ قدرت اللہ شہاب اور جنرل گل حسن کی یاد داشتوں سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے ۔ آج میرے سامنے تین قومی اخبارات ہیں ان اخبارات نے امریکی سی آئی اے کے موجودہ سربراہ مائیک پومپیوکے بیان کو دو کالمی اور تین کالمی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اردو اخبارات نے اس کے بیان کو مخصوص انداز میں ’’ ہرزہ سرائی‘‘ کا نام دیا ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے ہرزہ سرائی نہیں۔ امریکی سی آئی اے کے سربراہ نے دھمکی دی ہے کہ ’’ ہم نے پاکستان کو آخری موقع دیا ہے اس کے بعد حملہ ہوگا۔ اس دھمکی میں انہوں نے امریکی امداد سے دہشت گردی کرنے والے ایک افغان گروپ کا نام لیکر مطالبہ کیا ہے کہ اس گروپ کی حمایت نہ کرو۔ مذکورہ گروپ کو آپ حقانی کا نام دیں یا کوئی اور نام دیں۔ پاکستان اس نام سے ناواقف تھا دہشت گردی سے بھی ناواقف تھا۔ اپریل1978ء میں سی آئی اے حکام نے دہشت گردی کی بنیاد رکھی اور مختلف ناموں سے گروپ تشکیل د یکر وائٹ ہاؤس میں ان کو دعوتوں پر بلایا۔ پاکستان سے ان کو راستہ دینے اورپناہ دینے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے امریکہ کو خوش کرنے کے لئے ان کو پناہ بھی دے دی راستہ بھی دیا۔ اب وہ حالت ہے جس کے بارے میں ضرب المثل مشہور ہے ’’کوئلے کی دلالی میں منہ کالا‘‘ پاک امریکہ تعلقات کے نئے موڑ پر ہماری عسکری اور سیاسی قیادت کو آخری فیصلہ کرکے امریکہ کے ساتھ تمام تعلقات ختم کردینے چاہیءں۔ شاعر نے سچ کہا ہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے ہم

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
4482

سوشل میڈیا کے نام نہاد دانشوروں کے نام………حمید الرحمن سُرُورؔ

قارئین ! اس موقع پر جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں اس کے اظہار کے لئے ایک شعر سے کام لوں گا، لکھنو کے ایک مشاعرہ میں جو نوابی عہد میں ہوا کرتا تھا اور جس میں لکھنو کے بڑے بڑے شعراء اور اساتذہ موجود تھے، ایک کمسن شاعر نے اپنی غزل کا یہ شعر پڑھا اور مشاعرہ میں دھوم مچ گئی، مطلع یہ تھا ؂
دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
جب سے لے کر آ ج تک مختلف مواقع پر یہ شعر کئی حالات و واقعات کی بہترین اور مختصراََ منظر کشی کرنے کے لئے استعمال ہوتی آرہی ہے۔ آپ دیکھیے کہ آج ہمارے معاشرے کا نقشہ ایسا ہی ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ زبان و ادب کو جتنا نقصان نام نہاد ادیبوں اور شاعروں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا، سیاسی نظام کو جتنا نقصان نام نہاد سیاست دانوں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا، مذہب کو جتنا نقصان نام نہاد مذہبی الم برداروں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا، معاشرتی اقدارکاجتنا قلع قمع نام نہاد اخلاقیات کے معاشرتی ٹھیکیداروں نے کیا کسی اور نے نہیں کیا، علم و تعلیم اور تربیت کے نظام کو جتنا نقصان جعلی عالموں اورعلم و تربیت سے محروم افلاطونوں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ آج سوشل میڈیا ایسے ہی ہزاروں نام نہاد دانشوروں، سیاست دانوں، ادیبوں، فنکاروں، موسیقاروں،شاعروں، اخلاقیات کا پرچار کرنے والوں ، مذہب اور عقائد کا خود ساختہ تشریح کرنے والوں الغرض مختلف اُمور کے سماجی ٹھیکیداروں سے بھری پڑی ہے۔ اور یہ نام نہاد دانشور ہر قسم کے سیلف میڈ جعلی منجن پر معاشرتی نمائندگی کا لیبل لگا کر بیچتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ سوشل میڈیا جو مغرب میں آج علم و تحقیق اور معلومات کو انسانوں تک باہم پہنچا کر انسانوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے اورمعاشرے کو آگے لے جانے میں کردار ادا کر رہی ہمارے معاشرے میں مزید معاشرتی زوال ، انتشار، سیاسی تناؤ، مذہبی عدم برداشت ، معاشرتی جرائم اور کردار کشی کا زریعہ بنتی جارہی ہے۔ان نام نہاد دانشوروں اور پڑھے لکھے جاہلوں کی شوشل میڈیا پر موجودگی سے گزشتہ دنوں چترال کی پُر امن ، پُر خلوص اور ہم آہنگی پر استوار معاشرتی نظام کو بھی کافی نقصان پہنچا ۔ کچھ افراد نے سوشل میڈیا پر اسلامی، شرعی اور ملکی قوانین سے متصادم پوسٹ اور کمنٹس کیے جن میں سے کچھ قانون کی گرفت میں بھی آگئے ہیں لیکن اس کے فوراََ بعد یہ جعلی دانشور سوشل میڈیا پر آکر محاظ سنبھالتے ہوئے اپنے ذاتی فرسودہ، متنازعہ اور قابل مذمت افکارکے ساتھ ان باتوں کی بے جا تشریح، وضاحت اور پرچار کرنے لگے جس کی وجہ سے حسبِ معمول کچھ جذباتی لوگوں نے اس فعل کو Generalize کرکے سب سے پہلے اسلامی عقائد سے متصادم اور متنازعہ پوسٹ کرنے والے یہ چند افراد جس بیک گراونڈ سے ، جس علاقے اور جس کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے اُن پر بھی سوشل میڈیا میں ذمہ داری عائد کرکے اُن سب پر غصہ نکالنے لگے۔ لیکن باعلم ،حقیقی دانشور ، حقیقی تعلیم و تربیت اور اسلامی افکار و اقدار سے روشناس لوگ جانتے ہیں کہ گستاخانہ اور متنازعہ بیانات دینے والے اور اس فعل کے ردِعمل میں حد سے تجاوز کرنے والے ، اس انفرادی جرم کو Generalize کرکے سوشل میڈیا پر فرقہ ورانہ اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے یہ چند افراد چترال کے دونوں مسالک اور فرقوں کے عقائد کی تشریح کے ذمہ دار یا نمائندہ جماعت نہیں ہیں۔ بحیثیت مسلمان جس طرح کے متنازعہ جملے سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملے اُس کی جتنی سرزنش اور مذمت کی جائے کم ہے، اور ان بیانات سے دین اسلام پر عقیدہ رکھنے والے ہر مسلمان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں چاہے وہ کسی بھی فرقے اور مسلک سے تعلق کیوں نہیں رکھتے ہوں ۔ جہاں سوشل میڈیا پر گستاخانہ اور متنازعہ بیانات دینے والوں نے اسلامی اور قانونی اعتبار سے جرم کا ارتکاب کیا ہے وہیں ان کے ساتھ ساتھ کسی حد تک کچھ ذمہ داری چندسیاسی افلاطونوں اور نام نہاد دانشوروں پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے متواتر ایسے پوسٹز پر لوگوں کو Engage رکھا اور Ultimately کچھ جاہلوں نے ان پوسٹز پر آکر ایسے کمنٹس کیے جو اشتعال انگیز اور معاشرتی خلفشار میں مزید اضافے کا باعث بنے۔ دین اسلام کا کوئی بھی فرقہ اسلام کے بُنیادی عقائد میں رتی برابر بھی لچک کا مظاہرہ نہیں کر سکتی، ذاتی طور پرمیں نے خود ایسے کئی متنازعہ پوسٹ اور کمنٹس سوشل میڈیا پر دیکھے جو انتہائی قابل مذمت، قابل سزا اور اشتعال ا نگیز تھے؛ لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ گنتی کے چند افراد کسی بھی پورے اسلامی فرقے کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ پوسٹ اور کمنٹس سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں۔ ان واقعات کے بعد کچھ نام نہاد دانشور اب تک روزانہ سوشل میڈیا میں اس واقعے کی مذمت کرنے اور اپنے اپنے مسلکوں کی تشریح بیان کرنے میں مصروفِ عمل ہیں اور اُن کا یہ عمل بجائے اس تناؤ کو کم کرنے کے اس میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
میری گزارش ہے اُن نام نہاد دانشوروں سے کہ خُدارا ہوش کے ناخن لیں، آپ کو یہ اتھارٹی کس نے دی ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر کسی بھی مسلک کی نمائندگی کا رول ادا کریں، آپ کو کس نے یہ سند دی ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر افلاطون بن کر کسی بھی فرقے ، مسلک ، قوم یا نظریے اور عقائد کی تشریح اور نمائندگی کریں۔ آپ آگ کو بجھانے کی کوشش میں آگ کے شعلوں کو ہوا دیتے جارہے ہیں، آپ غیر ضروری طور پر اپنے خیالات کو دانشور ی کا لیبل چپکا کر مارکیٹ میں بیچ رہے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ کہ جو جو لوگ سوشل پیڈیا پر گستاخانہ اور متنازعہ پوسٹ کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں اُن کی سرزنش اور پُر زور مذمت ہم سب نے کرنی ہے،لیکن سوشل میڈیا میں ہی عدالت لگا کر سوشل میڈیا میں سزا سُنا کر کیا ہم اسے عظیم کارنامہ تصور کر لیں؟ ۔ مُجھے یقین ہے کہ سب سے پہلے بحیثیت مسلمان ایسے افراد کے اپنے خاندان والوں نے ان کے اس فعل کی مذمت کی ہوگی، جس مسلک، جس معاشرے اور جس علاقے سے بھی ان کا تعلق ہے وہ لوگ بھی اس ناقابل برداشت فعل کی مذمت کر رہے ہیں، لیکن لفظی مذمتیں اور سوشل میڈیا پر آپس میں دست و گریبان ہونا مسلے کا حل نہیں بلکہ مزید مسائل کا سبب ہے۔اصل ذمہ داری ملکی قانونی اور شرعی اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جلد سے جلد قوانین کے حساب سے قرار واقعی سزا دیں تاکہ یہ معاملہ پورے علاقے کے امن کوخطرے میں ڈالنے کا باعث نہ بنے۔ لیکن سوشل میڈیا کے نام نہاد دانشوروں ، سیاسی اداکاروں اور موقع پرست عناصر کو اس حساس نوعیت کے موضوعات پر مناظرہ کرنے سے باز آجانا چاہیے جو اس ساری صورت حال میں امن و امان کی بحالی میں کردار ادا کرنے کے چکر میں مزید اشتعال انگیزی ، مزید عدم برداشت اور غلط فہمیوں میں اضافہ کرنے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ابتدائی طور پر جس فرد نے اشتعال انگیز کمنٹس پوسٹ کیے تھے اُس کی مذمت چترال کے ہر فرد نے کی ہے، اگر یہ سب ناکافی ہے تو اسمائیلی کمونٹی اور سنی کمیونٹی کے ذمہ دا ر اداروں کو باقائدہ Officially مذمتی اور مطالباتی قرارداد جاری کر دینا چاہیے کیونکہ ان افراد نے کسی ایک فرقے کے جذبات اور عقائد کو مجروح کرنے کی کوشش نہیں کی ہے، بلکہ تمام مسلمانوں کے ایمان کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے، اور اسلامی ، شرعی اور ملکی قوانین کے ساتھ ساتھ یہ گستاخانہ بیانات اسماعیلی فرقے کے Official آئین کی بھی خلاف ورزی ہیں جو کہ پاکستان کے سپریم کورٹ سمیت باقی متعلقہ فورمز پر جمع ہے۔ مگر ذاتی حیثیت میں جس طرح سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے، تبصروں، تجزیوں، تشریحوں کی دُکان چمکائی جارہی ہے وہ ایک غیر سنجیدہ ، غیر ضروری ، اور نقصان دہ عمل ہے ۔خُدا را اس سے باز رہنے کی کوشش کریں، اگر سوشل میڈیا کے افلاطون کے طور پر کچھ لوگوں نے اپنے منجن بیچنے ہی ہیں تو باقی سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی، ادبی، یا کسی اور نوعیت کے منجن بیچ سکتے ہیں لیکن اس طرح کے غیرذمہ درانہ پوسٹ کرکے چترال میں ہمارے معاشرتی امن و امان کو ٹھیس پہنچانے کا باعث نہ بنیں۔
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
3163