The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 3 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

جوش نہیں، ہوش سے کام لیں……… محمد شریف شکیب

سپریم کورٹ نے آف شور کمپنی کو اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین کو تاحیات عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیا ہے۔ جبکہ پارٹی کے قائد عمران خان کو کرپشن کے الزامات ثابت نہ ہونے پر بری کردیا۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر ملک میں نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا اے ٹی ایم بند ہوگیا۔ کوئی کہتا ہے کہ جہانگیر ترین نے جہاز کی چابیاں واپس لے لیں اب عمران خان کو پیدل مارچ کرنا پڑے گا۔کسی دل جلے نے پوسٹ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کو مرکزی سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لئے موزوں امیدوار درکار ہیں۔ جہاز یا ہیلی کاپٹر مالکان کو ترجیح دی جائے گی۔مسلم لیگ ن نے عدالتی فیصلے کو محض دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر منصفانہ فیصلہ آتا تو تحریک انصاف رہتی نہ ہی عمران خان سیاسی منظر نامے میں موجود ہوتے۔ لیگی قیادت نے الزام لگایا ہے کہ عدالتوں نے عمران خان کو بچانے کے لئے جہانگیر ترین کو قربانی کا بکرا بنادیا۔ جو پانامہ کیس کے معیار کی نفی ہے۔لیگی رہنماوں نے حنیف عباسی کیس میں عدالتی فیصلے پر عدلیہ اور ججوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران جماعت عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کی مہم سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ سے محاذ آرائی پر ان کے پارٹی قیادت سے اختلافات ہیں جس کی وجہ سے انہیں پارٹی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنی پڑی۔چوہدری نثار کی طرح حکمران جماعت کے سینئر قائدین بھی محاذ آرائی کی سیاست سے نالاں نظر آتے ہیں لیکن میاں برادران اور پارٹی کے جونیئر رہنماوں کا موقف یہ ہے کہ مسلم لیگ کو بچانا ہے تو اینٹ کے بدلے پتھر والی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ اسی دوران سپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کا بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کسی ناگہانی خطرے کی بات کی ہے۔ تاہم وزیراعظم شاہد خاقان نے اسے سپیکر کا وہم قرار دیتے ہوئے ان کے تحفظات دور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ موجودہ حکومت اور اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے میں چند ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ ملک اور جمہوریت کے لئے بہتر یہی ہے کہ منتخب حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے۔ پرامن انتقال اقتدار کا عمل بلاتعطل جاری رہے۔ تاکہ سیاست دانوں اور عوام کی جمہوریت تربیت ہوتی رہے۔ اداروں سے محاذ آرائی کی پالیسی سے کسی جماعت کو وقتی طور پر فائدہ تو پہنچ سکتا ہے لیکن ملک و قوم اور جمہوریت کے لئے محاذ آرائی کا عمل زہرقاتل ہے۔ تیس چالیس سال پہلے کی سیاست اور آج کی سیاست میں بہت فرق ہے۔ عوام اب سیاسی طور پر باشعور ہوچکے ہیں۔ وہ حکومتوں کو کارکردگی کے ترازو میں تولنے لگے ہیں۔سیاسی طور پر شہید ہونے کی پالیسی سیاسی جماعتوں کے لئے مستقل موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کو سیاسی لحاظ سے بالغ ہونے کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ انہیں اپنی صفوں میں جمہوریت لانے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت رواداری، صبر، استقامت ، مفاہمت اورنظام میں تسلسل کی متقاضی ہے۔ کرسی کے حصول کو اپنا مقصد حیات بنانے کے بجائے سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جمہوری قوتوں کے غیر جمہوری طرز عمل کی وجہ سے غیر جمہوری قوتوں کے لئے راستے ہموار ہوتے رہے۔سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے ملک کے حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ ملک کی بقاء اور اداروں کو بچانے کے لئے فوج کو بار بار مداخلت کرنی پڑی۔جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑا۔ سیاست جوش کا نہیں ۔ ہوشمندی کا کھیل ہے۔ تدبر کا عملی مظاہرہ کرنے والے سیاست دان ہی مدبر کہلاتے ہیں۔روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ، امن و امان کی بگڑتی صورتحال ، سیاسی طور پر بحرانی کیفیت اور سرحدوں پر مسلسل کشیدگی کا تقاضا ہے کہ محاذآرائی سے اجتناب کیا جائے اور قومی اتحاد و یک جہتی کو فروغ دیاجائے۔ ملک و قوم کی بقاء پر اپنی سیاسی دکان چمکانے کی قوم اب اجازت نہیں دے گی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , ,
3210

سوشل میڈیا کے نام نہاد دانشوروں کے نام………حمید الرحمن سُرُورؔ

قارئین ! اس موقع پر جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں اس کے اظہار کے لئے ایک شعر سے کام لوں گا، لکھنو کے ایک مشاعرہ میں جو نوابی عہد میں ہوا کرتا تھا اور جس میں لکھنو کے بڑے بڑے شعراء اور اساتذہ موجود تھے، ایک کمسن شاعر نے اپنی غزل کا یہ شعر پڑھا اور مشاعرہ میں دھوم مچ گئی، مطلع یہ تھا ؂
دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
جب سے لے کر آ ج تک مختلف مواقع پر یہ شعر کئی حالات و واقعات کی بہترین اور مختصراََ منظر کشی کرنے کے لئے استعمال ہوتی آرہی ہے۔ آپ دیکھیے کہ آج ہمارے معاشرے کا نقشہ ایسا ہی ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ زبان و ادب کو جتنا نقصان نام نہاد ادیبوں اور شاعروں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا، سیاسی نظام کو جتنا نقصان نام نہاد سیاست دانوں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا، مذہب کو جتنا نقصان نام نہاد مذہبی الم برداروں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا، معاشرتی اقدارکاجتنا قلع قمع نام نہاد اخلاقیات کے معاشرتی ٹھیکیداروں نے کیا کسی اور نے نہیں کیا، علم و تعلیم اور تربیت کے نظام کو جتنا نقصان جعلی عالموں اورعلم و تربیت سے محروم افلاطونوں نے پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ آج سوشل میڈیا ایسے ہی ہزاروں نام نہاد دانشوروں، سیاست دانوں، ادیبوں، فنکاروں، موسیقاروں،شاعروں، اخلاقیات کا پرچار کرنے والوں ، مذہب اور عقائد کا خود ساختہ تشریح کرنے والوں الغرض مختلف اُمور کے سماجی ٹھیکیداروں سے بھری پڑی ہے۔ اور یہ نام نہاد دانشور ہر قسم کے سیلف میڈ جعلی منجن پر معاشرتی نمائندگی کا لیبل لگا کر بیچتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ سوشل میڈیا جو مغرب میں آج علم و تحقیق اور معلومات کو انسانوں تک باہم پہنچا کر انسانوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے اورمعاشرے کو آگے لے جانے میں کردار ادا کر رہی ہمارے معاشرے میں مزید معاشرتی زوال ، انتشار، سیاسی تناؤ، مذہبی عدم برداشت ، معاشرتی جرائم اور کردار کشی کا زریعہ بنتی جارہی ہے۔ان نام نہاد دانشوروں اور پڑھے لکھے جاہلوں کی شوشل میڈیا پر موجودگی سے گزشتہ دنوں چترال کی پُر امن ، پُر خلوص اور ہم آہنگی پر استوار معاشرتی نظام کو بھی کافی نقصان پہنچا ۔ کچھ افراد نے سوشل میڈیا پر اسلامی، شرعی اور ملکی قوانین سے متصادم پوسٹ اور کمنٹس کیے جن میں سے کچھ قانون کی گرفت میں بھی آگئے ہیں لیکن اس کے فوراََ بعد یہ جعلی دانشور سوشل میڈیا پر آکر محاظ سنبھالتے ہوئے اپنے ذاتی فرسودہ، متنازعہ اور قابل مذمت افکارکے ساتھ ان باتوں کی بے جا تشریح، وضاحت اور پرچار کرنے لگے جس کی وجہ سے حسبِ معمول کچھ جذباتی لوگوں نے اس فعل کو Generalize کرکے سب سے پہلے اسلامی عقائد سے متصادم اور متنازعہ پوسٹ کرنے والے یہ چند افراد جس بیک گراونڈ سے ، جس علاقے اور جس کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے اُن پر بھی سوشل میڈیا میں ذمہ داری عائد کرکے اُن سب پر غصہ نکالنے لگے۔ لیکن باعلم ،حقیقی دانشور ، حقیقی تعلیم و تربیت اور اسلامی افکار و اقدار سے روشناس لوگ جانتے ہیں کہ گستاخانہ اور متنازعہ بیانات دینے والے اور اس فعل کے ردِعمل میں حد سے تجاوز کرنے والے ، اس انفرادی جرم کو Generalize کرکے سوشل میڈیا پر فرقہ ورانہ اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے یہ چند افراد چترال کے دونوں مسالک اور فرقوں کے عقائد کی تشریح کے ذمہ دار یا نمائندہ جماعت نہیں ہیں۔ بحیثیت مسلمان جس طرح کے متنازعہ جملے سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملے اُس کی جتنی سرزنش اور مذمت کی جائے کم ہے، اور ان بیانات سے دین اسلام پر عقیدہ رکھنے والے ہر مسلمان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں چاہے وہ کسی بھی فرقے اور مسلک سے تعلق کیوں نہیں رکھتے ہوں ۔ جہاں سوشل میڈیا پر گستاخانہ اور متنازعہ بیانات دینے والوں نے اسلامی اور قانونی اعتبار سے جرم کا ارتکاب کیا ہے وہیں ان کے ساتھ ساتھ کسی حد تک کچھ ذمہ داری چندسیاسی افلاطونوں اور نام نہاد دانشوروں پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے متواتر ایسے پوسٹز پر لوگوں کو Engage رکھا اور Ultimately کچھ جاہلوں نے ان پوسٹز پر آکر ایسے کمنٹس کیے جو اشتعال انگیز اور معاشرتی خلفشار میں مزید اضافے کا باعث بنے۔ دین اسلام کا کوئی بھی فرقہ اسلام کے بُنیادی عقائد میں رتی برابر بھی لچک کا مظاہرہ نہیں کر سکتی، ذاتی طور پرمیں نے خود ایسے کئی متنازعہ پوسٹ اور کمنٹس سوشل میڈیا پر دیکھے جو انتہائی قابل مذمت، قابل سزا اور اشتعال ا نگیز تھے؛ لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ گنتی کے چند افراد کسی بھی پورے اسلامی فرقے کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ پوسٹ اور کمنٹس سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں۔ ان واقعات کے بعد کچھ نام نہاد دانشور اب تک روزانہ سوشل میڈیا میں اس واقعے کی مذمت کرنے اور اپنے اپنے مسلکوں کی تشریح بیان کرنے میں مصروفِ عمل ہیں اور اُن کا یہ عمل بجائے اس تناؤ کو کم کرنے کے اس میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
میری گزارش ہے اُن نام نہاد دانشوروں سے کہ خُدارا ہوش کے ناخن لیں، آپ کو یہ اتھارٹی کس نے دی ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر کسی بھی مسلک کی نمائندگی کا رول ادا کریں، آپ کو کس نے یہ سند دی ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر افلاطون بن کر کسی بھی فرقے ، مسلک ، قوم یا نظریے اور عقائد کی تشریح اور نمائندگی کریں۔ آپ آگ کو بجھانے کی کوشش میں آگ کے شعلوں کو ہوا دیتے جارہے ہیں، آپ غیر ضروری طور پر اپنے خیالات کو دانشور ی کا لیبل چپکا کر مارکیٹ میں بیچ رہے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ کہ جو جو لوگ سوشل پیڈیا پر گستاخانہ اور متنازعہ پوسٹ کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں اُن کی سرزنش اور پُر زور مذمت ہم سب نے کرنی ہے،لیکن سوشل میڈیا میں ہی عدالت لگا کر سوشل میڈیا میں سزا سُنا کر کیا ہم اسے عظیم کارنامہ تصور کر لیں؟ ۔ مُجھے یقین ہے کہ سب سے پہلے بحیثیت مسلمان ایسے افراد کے اپنے خاندان والوں نے ان کے اس فعل کی مذمت کی ہوگی، جس مسلک، جس معاشرے اور جس علاقے سے بھی ان کا تعلق ہے وہ لوگ بھی اس ناقابل برداشت فعل کی مذمت کر رہے ہیں، لیکن لفظی مذمتیں اور سوشل میڈیا پر آپس میں دست و گریبان ہونا مسلے کا حل نہیں بلکہ مزید مسائل کا سبب ہے۔اصل ذمہ داری ملکی قانونی اور شرعی اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جلد سے جلد قوانین کے حساب سے قرار واقعی سزا دیں تاکہ یہ معاملہ پورے علاقے کے امن کوخطرے میں ڈالنے کا باعث نہ بنے۔ لیکن سوشل میڈیا کے نام نہاد دانشوروں ، سیاسی اداکاروں اور موقع پرست عناصر کو اس حساس نوعیت کے موضوعات پر مناظرہ کرنے سے باز آجانا چاہیے جو اس ساری صورت حال میں امن و امان کی بحالی میں کردار ادا کرنے کے چکر میں مزید اشتعال انگیزی ، مزید عدم برداشت اور غلط فہمیوں میں اضافہ کرنے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ابتدائی طور پر جس فرد نے اشتعال انگیز کمنٹس پوسٹ کیے تھے اُس کی مذمت چترال کے ہر فرد نے کی ہے، اگر یہ سب ناکافی ہے تو اسمائیلی کمونٹی اور سنی کمیونٹی کے ذمہ دا ر اداروں کو باقائدہ Officially مذمتی اور مطالباتی قرارداد جاری کر دینا چاہیے کیونکہ ان افراد نے کسی ایک فرقے کے جذبات اور عقائد کو مجروح کرنے کی کوشش نہیں کی ہے، بلکہ تمام مسلمانوں کے ایمان کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے، اور اسلامی ، شرعی اور ملکی قوانین کے ساتھ ساتھ یہ گستاخانہ بیانات اسماعیلی فرقے کے Official آئین کی بھی خلاف ورزی ہیں جو کہ پاکستان کے سپریم کورٹ سمیت باقی متعلقہ فورمز پر جمع ہے۔ مگر ذاتی حیثیت میں جس طرح سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے، تبصروں، تجزیوں، تشریحوں کی دُکان چمکائی جارہی ہے وہ ایک غیر سنجیدہ ، غیر ضروری ، اور نقصان دہ عمل ہے ۔خُدا را اس سے باز رہنے کی کوشش کریں، اگر سوشل میڈیا کے افلاطون کے طور پر کچھ لوگوں نے اپنے منجن بیچنے ہی ہیں تو باقی سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی، ادبی، یا کسی اور نوعیت کے منجن بیچ سکتے ہیں لیکن اس طرح کے غیرذمہ درانہ پوسٹ کرکے چترال میں ہمارے معاشرتی امن و امان کو ٹھیس پہنچانے کا باعث نہ بنیں۔
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
3163

پبلک سروس کمیشن نے محکمہ اعلیٰ تعلیم میں لیکچرر کی تیس و دیگر اسامیوں کی سلیکشن کو حتمی شکل دیدی

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن نے محکمہ اعلیٰ تعلیم میں مرد لیکچرر کمپیوٹر سائنس ( بی پی ایس۔17) کی تیس(30)اسامیوں ، محکمہ مواصلات و تعمیرات میں جونئیر سکیل سٹینو گرافر ( بی پی ایس۔14) کی ایک پوسٹ ، محکمہ آبپاشی میں معذور کوٹے کی ضلعدار ( بی پی ایس۔15) کی ایک پوسٹ ، جونئیر سکیل سٹینو گرافر ( بی پی ایس۔15) کی ایک پوسٹ ، اقلیتی کوٹے میں ضلعدار ( بی پی ایس۔15) کی ایک پوسٹ پر اپنی سلیکشن کو حتمی شکل دے کر اپنی سفارشات متعلقہ محکموں کو 12دسمبر کو بھیج دی ہیں۔ ان امور کا اعلان انچارج میڈیا سیل خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , ,
3122

لواری ٹنل اپروچ روڈ پر مسافروں کو جان کا خطرہ درپیش ہے۔فوری نوٹس لیا جائے۔ ممبران ضلع کونسل

چترال ( محکم الدین ) ضلع کونسل چترال کا تین روزہ بجٹ اجلاس برائے 2017-18دوسرے دن بھی جاری رہا ۔ کنوئنیر ضلع کونسل کی زیر صدارت جب اجلاس کا آغاز ہوا ۔ تو لواری ٹنل روڈ کے حوالے سے ممبر ڈسٹرکٹ کونسل مولانا عبدالرحمن ، رحمت الہی ، غلام مصطفی ایڈوکیٹ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ۔ کہ چھوٹے ٹنل سے چترال کی طرف روڈ کو چترال کے موسمیاتی حالات کے بالکل برعکس تعمیر کیا گیا ہے ۔ جہاں بارش اور برفباری کے دوران بڑے پیمانے پر حادثات کے خطرات ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ابھی سے مسافرگاڑیوں کو چڑھائی چڑھنے اور پشاور سے آنے والی گاڑیوں کو اترنے میں انتہائی تکالیف کا سامنا ہے ۔ اور مسافروں کو ہر لمحہ جان کا خطرہ درپیش ہے ۔ جس کی وجہ سے اکثر مسافر گاڑی سے اُتر کر پیدل چلنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس مقام پر اگر حادثہ ہوا ۔ تو این ایچ اے کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا ۔ اجلاس کے دوران ممبر دسٹرکٹ کونسل رحمت الہی کی طرف سے پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں لواری ٹنل کے افتتاح کے بعد لواری ٹنل میں مسافروں کو انتظار پر مجبور کرنے کو بلا جواز قرار دیا گیا تھا ،اور مسافر گاڑیوں کو بغیر انتظار کے ٹنل سے گزرنے کی اجازت دینے ، کرایوں میں کمی کرنے اور پشاور سے چترال رات کے وقت سفر پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اجلاس میں گولین ہائیڈل پاور سٹیشن کی بجلی کی چترال میں تقسیم کے سلسلے میں بھی متفقہ قرارداد منظور کی گئی اور کہا گیا ۔ کہ سابق وزیر اعظم نے چترال کے مخصوس حالات کے پیش نظر چترال کو 30میگاواٹ بجلی دینے کی منظوری دی ہے ۔ اس لئے متعلقہ ادارہ سابق وزیر اعظم کے اس حکمنامے کے تحت پیداوار شروع ہونے کی صورت میں چترال کو بجلی مہیا کرے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریاض احمد دیوان بیگی نے کہا ۔ کہ یہ نہایت افسوس کا مقام ہے، کہ 2015-16 کے اے ڈی پی سکیم مکمل نہیں ہوئے ۔ کہ 2017-18کے اے ڈی پی پر بات ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جن ٹھیکہ داروں نے اسکیموں کے ٹھیکے لئے اُن کی کارکردگی اب تک صفر ہے ، کرپشن پہلے سے زیادہ ہے تین لاکھ کی سکیم پر ڈیڑھ لاکھ روپے بھی خرچ نہیں ہو رہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ضلع کونسل یہ مسئلہ حل نہیں کر سکتا ۔ تو ہم کسی اور دروازے پر جا کر اس بندر بانٹ رکوانے کی کوشش کریں گے ۔ شیر عزیز بیگ اور عبدالقیوم نے ریاض احمد سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ضلع ناظم ، اور کنوئنیر کی سکیمیں تو منظور ہوتی ہیں ۔ اور دیگر ممبران کی سکیمیں ڈراپ ہوتی ہیں ۔ جو سمجھ سے بالاتر ہیں ۔ اس حوالے سے وضاحت کی جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سابقہ ناقص کار کردگی کے حامل ٹھیکہ داروں کو مزید کام نہ دیا جائے ۔ اور پہلے سے نامکمل کام مکمل کئے جائیں ۔ کنوئنیر نے اس موقع پر وضاحت کی ۔ کہ ٹی ایم اے کی طرف سے ایسے ٹھیکہ داروں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں ۔ پھر بھی انہوں نے توجہ نہیں دی ۔ تو اُن ٹھیکہ داروں کے خلاف لوکل کونسل بورڈ کو ان کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کیلئے لکھا جائے گا ۔ پی ٹی آئی کے رحمت غازی نے کہا ۔ کہ چترال کے مختلف علاقوں میں نوجوان طبقہ مختلف کھیلوں میں ممبران کو بطور مہمان خصوصی بلاتے ہیں ۔ اس لئے ضلع کونسل تمام ممبران کیلئے سپورٹس کی مد میں فنڈ مخصوص کرے ۔ تاکہ ایسے موقعوں پر اُن کو انعامات دیے جاسکیں ۔ مولانا عبدالرحمن نے اس اتفاق کیا ۔ اور کہا ۔ کہ ممبران ڈسٹرکٹ کونسل کے ساکھ اوراستحقاق کو مجروح نہ کیا جائے ۔عبدالطیف نے اجلاس میں انتہائی برہمی کا اظہار کیا ۔ اور کنوئنیر پر ایک شخص کو سپورٹ کرنے کا لزام لگاتے ہوئے کہا ۔ کہ واضح کیا جائے ۔ کہ ضلع ناظم کا صوابدیدی فنڈ کتنا ہے ۔ کونسل میں غیر شفاف طریقے سے کام ہورہے ہیں ۔ بتایا جائے کہ کتنا فنڈ آیا اور کہاں خرچ ہوا ۔ فنانس کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرے تاکہ ممبران کے سامنے واضح ہو کہ کیا ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اداروں کی بہتری کیلئے کچھ بھی نہیں ہو رہا ۔ جبکہ ہر ادرے کی مانٹیرنگ اینڈ ایلیویشن ہونی چاہئے ۔ اجلاس میں دوسرے دن بھی خاتون ممبر حصول بیگم نے زبردست احتجاج کیا ۔ اور کہا کہ وہ دس یونین کونسوں کی واحد خاتون نمایندہ ہیں ۔ لیکن اُن کے ساتھ فنڈ کی تقسیم میں مسلسل امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے ۔ دوسری خواتین کو تقریبا بارہ لاکھ روپے دیے جارہے ہیں ۔ جبکہ اُنہیں آٹھ لاکھ روپے کے سکیم دینے کی بات کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وہ کل سے ضلع کونسل کے سامنے دھرنا دے گی جب تک یہ مسئلہ حل نہیں کیا جاتا ۔ اجلاس سے غلام مصطفی و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ کنوئنیر ضلع کونسل نے اجلاس تیسرے دن تک ملتوی کردیا ۔

district council ijlas chitral

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , , ,
3119

ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان نے بونی اور گرم چشمہ کا دورہ کیا

چترال /گرم چشمہ/بونی (جمشید احمد/نمائندگان چترال ٹائمز ) اسماعیلی  کمیونٹی کے روحانی پیشوا اور 49واں امام ہزہائی نس پرنس کریم آغا خان نے ہفتے کے دن چترال کا دورہ کیا اور گرم چشمہ کے علاوہ بونی کے مقام پر اپنے پیروکاروں سے خطاب کیا جوکہ ہزاروں کی تعداد میں وہاں پر جمع ہوگئے تھے۔ چترال ائر پورٹ پر ایم این اے شہزادہ افتخا رالدین ، ضلع ناظم مغفرت شاہ، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیرالاسلام اور کمانڈنٹ چترال ٹاسک فورس کرنل معین الدین نے ان کا استقبال کیا جبکہ بونی کے مقام پر ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد سودھر نے ان کو خوش آمدید کہا۔دونوں مقامات پر اپنے پیروکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اورامن وامان کو علاقے کی ترقی کے لئے ناگزیر قرار دیا اور کہاکہ اسلام امن ومحبت کا دین ہے اور ہمیں اسے دوسروں تمام چیزوں مقدم رکھنا چاہئے ۔ ہزہائی نس آغاخان کے دیدار عام کے لئے گرم چشمہ کے مقام پر 60ہزار اور بونی کے مقام پر 80ہزار افراد کی گنجائش کے لئے خصوصی طور پر دیدار گاہ تعمیر کئے گئے تھے ۔ درین اثناء چترال میں خراب موسم کے باعث ہزہائی نس کا خصوصی سی 130طیارہ چترال نہ آسکا جس کی وجہ سے ان کی آمد میں تین گھنٹے کی تاخیر ہوئی جب آغاخان فاونڈیشن کے ہیلی کاپٹروں نے انہیں اسلام آباد سے چترال پہنچادیا۔ بعدازاں ہزہائی نس نے چترال میں رات قیام کیا ۔

HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 6 1 HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 4 HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 3 HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 2 HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 1 HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 7 HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 10

HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 15 HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 14 HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 13 HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 12 HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 11

Booni dedar gah for HH Aga khan 5

Booni dedar gah for HH Aga khan 1 Booni dedar gah for HH Aga khan 4 Booni dedar gah for HH Aga khan 44 1

Booni dedar gah for HH Aga khan 3

HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 8 HH Aga Khan Chitral Booni visit pics 9

HH visit chitral 3

HH visit to Chitral 333 HH visit to Chitral 3335 HH visit to Chitral 333555 HH aga khan visit to chitral HH aga khan visit to chitral55 HH aga khan visit to chitral557 HH aga khan visit to chitral5577 HH aga khan visit to chitral55778

HH aga khan visit to chitral arrived airport4 HH aga khan visit to chitral arrived airport47 HH aga khan visit to chitral arrived airport477 HH aga khan visit to chitral arrived airport4775

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , ,
2963

صدا بصحرا ………. سیاحتی مقامات کی نجکاری…………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

خیبر پختونخوا کی حکومت نے سیاحتی مقامات اور ان مقامات پر دستیاب سرکاری سہولیات کی نجکاری کر کے بہت اچھا قدم اُٹھا یا ہے اگلے دوبرسوں میں ہی اس کے مثبت تنائج سامنے آنا شر وع ہو جائینگے ہمارے معاشرے میں ایک پرانی بیماری ہے ہم ہر اچھے کام میں کیڑے نکالنا شروع کردیتے ہیں سیاحتی مقامات اور سہولیات کی نجکاری پر بھی اس طرح کے تبصر ے اخبارات کی زینت بن رہے ہیں خصو صاً سرمایہ کاری کرنے والوں کو ہدف تنقید بنا یا جاتا ہے حالانکہ سیاحت کے فروغ میں دلچسپی رکھنے والوں کی نظر میں یہ بہت مستحسن کام ہے سیاحتی مقامات پر جن سہولیات سے حکومت نے 70 سالوں میں سیاحوح کو فائد ہ نہیں پہنچایا اگلے سال یا ڈیڑ ھ سال میں کیا خاک نتائج دکھا ئے گی سرمایہ کار ان پر سرمایہ لگائے گا تو نتائج بھی دے گا سیاحوں کو بہتر سہولیات ملینگی اور حکومت کو محاصل کی مد میں آمد نی آئے گی خیبر پختونخوا کوقد رت نے فیاضی کے ساتھ نوا زا ہے سوات ،دیر ،چترال ، گلیات اور کاغان کی وادی کو انگریزوں کے زمانے سے سیاحتی مقامات کادرجہ حاصل ہے کُنڈ پارک، بنون، ڈی آئی خان ، کوہاٹ ، تخت بھائی ، چارسد ہ ، اور بے شمار دیگر مقامات ایسے ہیں جنکی اہمیت کااند از ہ تو ہوا ہے مگر ان مقامات کو سیاحوں کے لئے دلکش بنا نے او رسیاحوں کو ان مقامات کی طرف راغب کرنے کی طرف تو جہ دینا حکومت کے لئے ممکن نہیں ہے یہ نجی شعبے کا کام ہے مثلاً اتمان زی میں غنی خان کا گھر دار لامان ایک سیاحتی مقام بن سکتا ہے دنیا بھر سے سیاح غنی خان کا باغ ، اُن کے ہاتھوں سے بنے مجسمے اور ان کا کتب خانہ دیکھنے کے لئے جوق درجوق چارسد ہ کا رُخ کر ینگے 48 کنا ل رقبے پر پھیلا ہوا یہ گھر چین میں کنفیو شس کے مکان انگلینڈ میں شکیسپےئر کے مکان اور جرمنی میں گو ئٹے کے گھر سے زیادہ پر کشش ہے افغانستان ، مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا ء کے علاوہ یورپ او ر امریکہ سے آنے والے سیاحوں کے لئے بھی یہ پر کشش جگہ ہے چارسدہ کا قدیم نام پشکلاوتی تھا یہ گند ھار ا سلطنت کا پایہ تخت رہا ہے ایسے مقامات کو سیاحوں کے لئے کس طرح پرکشش بنا یا جاسکتا ہے اس کا ماڈل عوامی جمہو ریہ چین کی قیادت نے پیش کیا ہے اس ماڈل کو یہاں لایا جاسکتا ہے چین کے شہر شیان (Xian) کے نواح میں تھان سلطنت (Thang dynasty) کے دور کا حمام تھا یہ دسویں صدی عیسوی کی یا د گا ر ہے جو دو کنال زمین پر قائم ہے حمام کے ساتھ حوض بھی ہے تھان سلطنت کے دور میں اس جگہ چینی حروف کو پتھروں پرلکھنے والے کا ریگر رہتے تھے بادشاہ بھی گرمیوں میں سیر کے لئے یہاں آتے تھے چو این لائی نے اس مقام کے ارد گرد 400 کنال زمین کو حمام میں شامل کر کے ’’ سنگی کتبے ‘‘ سٹون ٹیبلٹس( Stone Tablets) کے نام سے اس کو سیاحتی مقام بنا یا جیانگ زی من کے دور میں مارکیٹ اکا نوی آئی تو اسے ایک سر مایہ کار کمپنی کے حوالے کیا گیا اپرایل 1998 ؁ء میں اس کا ٹکٹ 500 ڈالر تھا یہاں سیاحوں کے لئے دن بھر کی مصروفیات کا اہتمام ہے ثقافتی میلہ لگا ہے رنگ بر نگ مصنوعات کے سٹا ل ہیں مقامی کھانوں کے سٹال ہیں بو ٹا نیکل گارڈن ہے مچھلیوں کے تالاب ہیں پرندوں کے لئے الگ گو شہ ہے جہاں پرند ے آزادی سے اڑ تے پھر تے ، جہچہا تے ہیں درختوں کی شاخوں پر بیٹھے طوطے مہمانوں کو نی ہا ؤ (Nihao) یعنی خوش آمدید کہتے ہیں ہم نے باغ میں داخل ہوتے وقت اس کی حقیت معلوم نہیں کی واپسی پر اصغر ندیم سید نے معلوم کر کے ہم سب کو دکھا یا طوطے کے ساتھ ایک لڑکی ڈیوٹی دے رہی تھی جس درخت پر طو طا ہے اُس کے پاس پھول کے پیچھے لڑکی بیٹھ کر چادر کا ڑھ رہی ہے مہمان کو دیکھ کر پہلے لڑکی ’’ نی ہاؤ ‘‘ بولتی ہے اُس کی نقل میں طو طا نی ہاؤ کہتا ہے نئے مہمان کو پر ند ہ نہیں پہچا نتا، لڑکی پہچا نتی ہے یہاں بادشاہ کی جان بچا نے کے لئے کنیز نے اپنی جان دی تھی اُس کنیز کا مجسمہ حمام کے سامنے حوض پر نصب ہے مجسمہ جتنا خوبصورت ہے حوض کے پانی میں اس کا حسن دو بالا ہوجاتا ہے حوض کے دائین طرف چینی زبان کے 6000 حروف پتھر کے کتبوں میں لکھے ہوئے ہیں کا ریگر بیٹھے ہیں اور کام کر رہے ہیں یہ حروف کیر یکٹر (Character) کہلاتے ہیں خیبر پختونخوا کا ضلع بونیر سیاحت میں سوات اور چترال پر سبقت لے جاسکتا ہے ٹانک، ڈی آئی خان ، دیر لوئیر اور صوابی میں دلکش مقامات ہیں چترال کے چار قدیمی قلعے سیاحوں کے لئے پرکشش ہیں نو شہر ہ میں مانکی شریف اور زیارت کا کا صاحب کے اردگرد ایسے دلچسپ مقامات ہیں جنکو سیاحتی سہولیات سے آراستہ کیا جاسکتا ہے مگر اس کے لئے حکومت کو ریگو لیٹری ذمہ داری لیکر سارا کام نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہیے نجی شعبہ آگے آئے گا تو خیبر پختونخوا کو اگلے چند سالوں میں چین ، سو ئٹر زلینڈ،اٹلی اور سپین کے برابر لا کر دکھا ئے گا ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
2798

تھائی لینڈ…………ڈاکٹر ساجد خاکوانی

تھائی لینڈ
(Thailand)
(5دسمبر:قومی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)
ڈاکٹر ساجد خاکوانی
[email protected]

تھائی لینڈ جنوب مشرقی ایشیا کا ملک ہے،اسکے مغرب اور شمال مغرب میں برما کی ریاست ہے،شمال مشرق اور مشرق میں ’’لائس‘‘اور کمبوڈیاکے ممالک ہیں اورجنوب میں سمندری خلیج ہے جسے ’’خلیج تھائی لینڈ‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔خلیج تھائی لینڈ کے ساتھ ہی جنوبی چین کے سمندر اور پھرجزیرہ نما ملائشیا بھی واقع ہیں۔تھائی لینڈ کا کل رقبہ دولاکھ مربع میل سے کچھ کم ہے اور یہ سارا ملک اپنی خلیج کے گرد ایک مدار کی صورت میں واقع ہے۔جغرافیائی طورپرتھائی لینڈ دوہزار میل طویل ساحلی پٹی کا مالک ملک ہے جس کے ایک طرف بحیرہ اندمان ہے اور دوسری طرف خلیج تھائی لینڈ کے ساحل ہیں۔’’بنکاک‘‘اس ملک کا دارالحکومت ہے ،نہروں کے جال نے جہاں اس شہر کاقدرتی حسن دوبالا کیاہے وہاں تیرتے ہوئے بازاروں نے یہاں کی کاروباری زندگی میں بھی اہم کرداراداکیے ہیں۔

تھائی لینڈ کا علاقہ اس لحاظ سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں کے لوگوں نے پہلی دفعہ کانسی کے اوزاروہتھیار استعمال کیے ۔اس سے پہلے انسانوں کے ہاں پتھرکے ہتھیار استعمال ہوتے تھے،پتھرسے کانسی اور پھر کانسی کے بعد ہتھیاروں نے لوہے کالبادہ اوڑھا۔تھائی لینڈ کی تہذیب میں بہت پہلے سے پالتوجانوروں کا رواج رہاہے ،یہاں کے لوگوں نے قبل از تاریخ مچھلیاں پکڑنے اور درختوں کی چھال اور ریشہ دار درختوں سے کپڑا بننے اور چاول کی فصل اگانے کا انتظام کیا۔تھائی لینڈ کے ابتدائی باسیوں نے یہاں ابتدائی طرز کی ریاستیں بھی بنائیں اور دوردورکے فاصلے پر انسانی نفوس کی بستیاں آباد کیں ،خاص طور پر چھٹی سے نویں صدی عیسوی کے دوران میں یہاں کے تہذیب و تمدن نے بہت ترقی کی۔تھائی لینڈ ایشیاکاواحد ملک ہے جس نے غیرملکی غلامی کبھی قبول نہیں کی اور یہاں پر فاتحین تو داخل ہوئے لیکن ’’آقا‘‘کبھی داخل نہ ہو سکے۔1782سے 1932تک یہاں طویل ترین بادشاہت کا دور رہا،تب کے بعد سے سول و فوجی حکمران یہاں کی کرسی اقتدار پر براجمان رہے۔اس دوران ایک مختصر وقت تک اس ملک کا نام ’’سیام‘‘بھی رہا لیکن اسے قبول عام نہ ہونے باعث پھر سے اسے تھائی لینڈ ہی کہا جانے لگا۔تھائی لینڈاپنی تاریخ کے ابتدائی ایام سے آج دن تک کوئی بہت بڑی آبادی کا علاقہ نہیں رہا،ایک سیاح نے ہندوستانی بادشاہ کو تھائی لینڈ کے علاقے کے بارے میں بتایاکہ وہ انسانوں کی بجائے جنگلات اور مچھروں کا بادشاہ ہے۔

تھائی لینڈ میں آبادی کا بتیس فیصد شہروں میں مقیم ہے اور ان میں سے بھی دس فیصد صرف بنکاک شہر کی رونق ہے جس کے باعث ملک یہ سب سے بڑا شہر شہری آبادیوں کے گوناں گوں مسائل میں گھراہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بہترمعاشی مواقع کاحصول دیہاتی آبادی کے بہت بڑے حصے کو شہروں کی طرف کھینچ لایاتھااوربہت سے لوگ تو مستقل طور پر یاعارضی طور ملک چھوڑ کر سمندرپارکی دوسری دنیاؤں میں آباد ہو گئے تھے۔تھائی لینڈ کی چالیس فیصد آبادی ’’تھائی‘‘زبان بولتی ہے اور یہی یہاں کی سرکاری زبان بھی ہے۔یہ زبان تھائی حروف ابجد میں لکھی جاتی ہے اور اس زبان کے ادب کا معلوم تاریخ میں تیرہویں صدی مسیحی سے باقائدہ آغاز ہوتا ہے لیکن اس کے ڈانڈے اس سے قدیم تر ہیں۔تھائی لینڈ میں پڑھے لکھے لوگوں میں انگریزی کا رواج بھی ہے لیکن بہت کم ،انگریزی سے زیادہ چینی زبان یہاں پر مروج ہے جبکہ انگریزی،چینی اور جاپانی زبانیں عام طور پر کاروباری طبقوں میں خط و کتابت کے ذریعے کے طور پر بکثرت استعمال کی جاتی ہیں۔
تھائی لینڈکے لوگوں کی اکثریت بدھ مذہب کی پیروکارہے ،بدھ مت کے اثرات جو سری لنکاکے راستے یہاں تک پہنچے ،تھائی لینڈ کی اکثریت نے انہیں کوقبول کیا ہے ،قیاس ہے کہ بدھ مت کے اس مکتب فکرکو تیرہویں صدی مسیحی میں یہاں قبول عام حاصل ہوا۔اس مکتب فکرکے فلسفوں میں مقامی تمام مذاہب کی نمائندگی شامل ہے یہاں تک کہ ہندومت اور عیسائیت کے کچھ تصورات بھی اس کا حصہ ہیں۔ جبکہ ایک قلیل تعداددیگرمقامی مذاہب

کے ماننے والوں کی بھی ہے جن مین سب سے بڑی اقلیت چینی آبادی اور انکے مذہب کے ماننے والوں کی ہے۔چین سے آئے ہوئے لوگ یہاں کم و بیش چودہ فیصد کی شرح سے آباد ہیں اور انکی تہذیب کے خاطر خواہ اثرات یہاں پر پائے جاتے ہیں۔مسلمانوں کی شرح سات فیصد کے لگ بھگ ہے اور وہ مملکت کے جنوبی صوبوں میں اکثریت سمیت ملک بھر میں تقریباََ ہر جگہ آباد ہیں۔تھائی لینڈ کی چھیانوے فیصد آبادی خواندہ ہے ،حکومت کی طرف سے عوام الناس کے بچوں کے لیے اگرچہ مفت تعلیم کا انتظام ہے لیکن پھر بھی نجی تعلیمی ادارے بھی بکثرت موجود ہیں اوربعض بین الاقوامی اداروں نے بھی یہاں پر اپنے تعلیمی منصوبے شروع کررکھے ہیں۔

تھائی لینڈ کی معیشیت میں زراعت کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔1980کے بعد سے صنعتی ترقی نے زراعت کو بھی اپنے ہم رکاب لے کر ملکی پیداوارکو چارچاند لگادیے۔تاہم ایک امرقابل ذکر ہے کہ زراعت کی ترقی کی نسبت صنعتی ترقی نے قومی پیداوارکے اضافے میں برترکرداراداکیاہے۔سب سے اہم اورنقدآور فصل تو چاول ہی ہے لیکن اس کے علاوہ گنا،مکئی،ربر،سویابین،کھوپرااور دیگر مختلف انواع کے پھل بھی یہاں کی پیداواری فصلیں ہیں۔صنعتی ترقی سے پہلے چاول کی فصل یہاں سے دوسرے ملکوں کو فروخت کی جاتی تھی اور یہ ملکی زرمبادلہ کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔اب بھی اگرچہ چاول بہت بڑی مقدار میں برآمد کیاجاتاہے لیکن بہت سی دیگر زرعی مصنوعات بھی بیرونی آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہیں۔یہاں کے جنگلوں میں بہت سے قیمتی جانور بھی ملتے ہیں،ہاتھی ایک زمانے سے یہاں کی سرزمین پر باربرداری کے لیے استعمال ہوتا ہے اورجنگلوں میں بھی پایاجاتاہے،گینڈا،چیتا،جنگلی بیل،دریائی گھوڑااور لمبے لمبے ہاتھوں والے بندر بھی یہاں کے جنگلات کی خوبصورت آبادیاں ہیں۔پچاس سے زائد نسلوں کے سانپ اور گہرے پانیوں میں مگرمچھ بھی ملتے ہیں۔

تھائی لینڈ کا بادشاہ یہاں کا آئینی حکمران ہے اور افواج کا نگران اعلی بھی۔اس کے باوجود بادشاہ اپنے اختیارار کم ہی استعمال کرتا ہے اوراسکی حیثیت مشاورتی یا اخلاقی دباؤ کی سی ہوتی ہے۔وزیراعظم یہاں کا جمہوری حکمران ہے،انتخابات جیتنے والی سیاسی جماعت ایوان نمائندگان میں سے اپنے کسی رکن کو اس منصب کے لیے نامزد کرتی ہے اور بادشاہ اس کا تقرری کی دستاویزجاری کر کے اس جمہوری فیصلے کی گویا توثیق کر دیتاہے۔وزیراعظم کے اختیارات میں وزراکی کابینہ کی صدارت کرنا شامل ہے جس کی تعداد پنتیس سے زائد نہیں ہوتی۔2007ء کے دستور کے مطابق وزیراعظم چارچارسالوں کی زیادہ سے زیادہ دو مدتوں تک ہی منتخب ہو سکتاہے۔قانون سازی کے لیے جمہوری پارلیمانی ملکوں کی طرح دو ایوان ہیں ،ایوان نمائندگان اور ایوان بالا۔ایوان بالاکے منتخب ارکان چھ سال کی مدت پوری کرتے ہیں جبکہ نامزدارکان صرف تین سالوں کے لیے ہی اپنے فرائض سرانجام دے پاتے ہیں۔ملک کے سب صوبوں کاایک ایک نمائندہ بھی سینٹ میں بیٹھتا ہے جبکہ کچھ بڑے صوبوں کے دو دو نمائبدے بھی سینٹ میں نشست حاصل کرتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق تھائی لینڈ میں آبادی کاکم و بیش8% مسلمان ہیں اوردن بدن ان میں اضافہ دیکھنے میں آرہاہے،مسلمانوں کی زیادہ اکثریت جنوبی تین صوبوں میں پائی جاتی ہے۔یہاں کے مسلمانوں کی اکثریت ’’ملائی ‘‘نسل سے تعلق رکھتی ہے اور یہی زبان ہی بولتی ہے۔اس کی وجہ ملائشیاکاپڑوس ہونے کے ساتھ ساتھ ملائیشیاکے حکمران خاندانوں کااس علاقے پر اقتداربھی ہے۔تھائی لینڈ میں مسلمانوں کی ایک مخصوص تعداد چینی مسلمانوں کی بھی اضافت ہے خاص طورپرجوعلاقے چین سے قریب ہیں وہاں یہ اثرات بہت زیادہ ہیں۔تھائی لینڈ میں اس وقت تقریباََ ساڑھے تین ہزار مساجد ہیں۔’’نیشنل کونسل فارمسلمز‘‘کے پانچ نامزدارکان حکومت کی وزارت تعلیم اور وزارت داخلہ کومسلمانوں کے جملہ معاملات سے آگاہ رکھتے ہیں۔بادشاہ وقت اس کونسل کے سربراہ کابذات خود تقررکرتاہے ۔اسی طرح اس کونسل کی صوبائی شاخیں صوبائی حکومتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہیں،حکومت وقت مسلمانوں کے تعلیمی اداروں ،بڑی مساجد کی تعمیراور حج پرجانے والوں کے اخراجات میں بھی تعاون کرتی ہے۔وہاں کی حکومت نے مسلمان بچوں کے لیے سینکڑوں تعلیمی ادارے ،دکانیں اورایک بنک بھی بنارکھاہے۔تھائی لینڈکے مسلمانوں کو اپنی حکومت سے کچھ شکایات بھی رہتی ہیں،مذکورہ تینوں صوبوں کے مسلمانوں میں ایک عرصے سے احساس محرومی پنپ رہاہے جواب کسی حد تک علیحدگی پسندی کی صورت میں ایک تحریک کی شکل میں بھی ابھررہاہے۔سرکاری فوج نے کچھ عرصہ پہلے کچھ مسلمانوں کاقتل عام بھی کیاتھاجس کے نتیجے میں عالمی سامراج اب اس کوشش میں ہے کہ یہاں بھی ابھرنے والی اسلامی بیداری کی تحریک کونام نہاد’’دہشت گردی‘‘قرار دیاجائے۔’’جماعۃ الالامیہ‘‘یہاں کے مسلمانوں کاایک مشترکہ اور اتفاقی پلیٹ فارم ہے جومسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتاہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
2763

صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی قائم کر دی

Posted on

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا میں عوام کو صاف معیاری اور حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق خوراک اور غذا کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی قائم کردی گئی ہے جو صوبے کے مختلف اضلاع میں کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری میں معیار کی جانچ پرکھ کرے گی۔ کے پی فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا قیام کے پی فوڈ سیفٹی اوینڈ حلال فوڈ اتھارٹی ایکٹ2017کے تحت کیا گیا ہے۔قانون سازی کے مراحل کو مکمل کرنے کے بعدکے پی فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھار ٹی پہلے فیز میں صوبے کے تمام ڈویژن کی سطح پر فعال ہوگئی ہے جبکہ پشاور میں اتھارٹی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل دفترنے ابھی اپنی زمہ داریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ کے مطابق صوبے میں عوام کی جانوں اور صحت کے لیے نقصان کا سبب بننے والی ناقص اور غیر معیاری اشیائے خوراک کی روک تھام کے ساتھ ساتھ اتھارٹی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق غذائی اشیاء کی تیاری پر کڑی نگاہ رکھے گی جبکہ معیار کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو قانون کے دائرے میں بھی لایا جائے گا۔ کے پی فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے فرائض میں اشیائے خورک کی تیاری والے کارخانوں کی کڑی نگرانی بھی شامل ہے تاکہ منافع خور اپنے مقاصد کے لیے عوام کو غیر معیاری اشیاء فروخت نہ کرسکیں۔بازاروں میں بکنے والی اشیائے خوردونوش اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں ملنے والی خوراک کا معیار بھی اتھارٹی وقتاً فوقتاً جانچے گی تاکہ عوام کو ہمیشہ صاف اور معیاری اشیائے خوردونوش میسر ہوں۔کے پی فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ریاض محسود کا کہنا ہے کہ اتھارٹی نے اشیائے خوراک کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے ۔کیٹگری اے میں خوردنی تیل ،بناسپتی گھی،مکھن مارجرین ،فش آئل،مسالحہ جات،اناج دالیں ،مشروبات،منرل واٹر،پھل ،سبزی،اشیائے خوردونوش میں شامل کیے جانے والے دیگر اجزا جبکہ مختلف غذائی اشیاء کو تازہ رکھنے کے لیے درکار کولڈ سٹوریج شامل ہیں۔کیٹیگری بی میں تمام ڈیری پراڈکٹس،ڈیری فارمز،بیکریاں ہوٹل،ڈھابے اور چھوٹے پیمانے پر قائم کھانے پینے کی اشیاء کی فروخت والے مراکز کو رکھا گیا ہے جبکہ کیٹیگری سی میں اشیائے خوردونوش کی تیاری والے تمام چھوٹے بڑے یونٹس کو شامل کیا گیا ہے۔فوڈ اتھارٹی ان تمام اشیاء کو انکے لیے ترتیب دیے گئے معیار کے مطابق جانچ پرکھ کے بعد انھیں لائسنس ایشو کرے گی۔خوراک سے متعلق کسی کاروبار کے اجراء کے لیے درخواست گزار اینڈرائیڈ فون اور ویب اپلیکیشن کے زریعے اتھارٹی سے رابطہ کرسکیں گے،جو اتھارٹی تمام تقاضوں کا جائزہ لینے کے بعد جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔کے پی فوڈ اتھارٹی نے جانچ پڑتال کے کام کی غرض سے تین لیبارٹریاں سائنٹفک،ایپیلٹ اور میڈیکل لیبارٹریاں بھی تشکیل دی ہیں ۔میڈیکل لیبارٹری موقع پر ہی اشیاء کا تجزیہ کرکے معیاری یا ناقص ہونے کاتعین کرے گی۔ معیار ی مصنوعات اور اشیائے خوردونوش کی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی متعلقہ افراد اور مالکان کو نوٹسز جاری کرکے انھیں اتھارٹی کے ساتھ اپنی رجسٹریشن اور لائسنس کے حصول کے لیے پابند بنانئے گی تا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے مرتب کردہ معیار کا نفاذ ممکن بنایا جائے۔معیار کو پس پشت ڈال کر عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جس میں بھاری جرمانے ،مصنوعات اور تمام اشیاء کی ضبطگی ،ہوٹل ،کارکانے یا دیگر مراکز کی بندش کے ساتھ ساتھ عدالتی کارروائی کا سامنا شامل ہے۔ کے پی فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے غذا اور خوراک کے لیے مرتب معیار کے بارے میں آگاہی اجاگر کرنے کے لیے تربیتی پروگرام بھی چلائے جائنگے ۔خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کے پی فوڈ اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد عوام کی بہتر صحت کو یقینی بنانا ہے کیونکہ غیر معیاری کھانا پینا سالانہ ہزاروں افراد کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے ۔c

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , ,
2758

معاشی اور معاشرتی ترقی اورانسانی رویے………..ڈاکٹر ساجد خاکوانی

(5دسمبراقوام متحدہ کا عالمی یوم رضاکاران برائے معاشی و معاشرتی کے موقع پر خصوصی تحریر )
[email protected]

انسان جنم لیتے ہی سب سے پہلے اپنے معاشی مسئلے کا چینخ چینخ کراظہار کرتا ہے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ میں ننگاہوں مجھے کپڑے پہناؤیامیں کسی مذہب میں داخل ہوتا ہوں مجھے کلمہ پڑھاؤیانہ ہی وہ اپنے دوست ،دشمن ،خالق ،مالک اور رازق کے بارے میں استفسار کرتاہے اور نہ ہی وہ اپنی نسل رنگ اور زبان وغیرہ کے بارے میں آگاہی چاہتا ہے بلکہ اسکا سب سے پہلا،سب سے زورآوراور سب سے بنیادی تقاضااسکاپیٹ ہوتا جس کے بھر جانے پر وہ اپنے گردونواح سے بے خبر نیندکی آغوش میں اس طرح پہنچ جاتا ہے کہ پھر معاشی مسئلہ ہی اسے اس نیند سے بیدار کرتا ہے۔معاشرہ وہ ابتدائی آماجگاہ ہے جہاں انسان کا جنم واقع ہوتا ہے ۔انسان نہ ہی انڈے سے نکل کر پانی میں تیرنا شروع کر دیتا ہے اور نہ ہی کسی فارم میں اسکی پیدائش وپرورش کے مراحل طے ہوتے ہیں۔ماں کا پیٹ ایک معاشرتی اختلاط سے بارآور ہوتا ہے ،ماں کی مامتاوہ سب سے پہلا تحفہ ہے جومعاشرے کی طرف سے انسان کو پیداہونے سے قبل ہی میسر آجاتا ہے۔پیدائش کے ساتھ ہی معاشرے کا عطا کردہ خاندان اس انسان زادے کو اپنی محبت ،الفت،پیار اور چاہت کی گھنیری چھاؤں میں لے لیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جانور،پرندے یا مچھلی کا بچہ تو شاید کسی معاشرتی پشتیبانی کے بغیر پل بڑھ سکے لیکن آدم زاد کو ایسی صورت حال میں کوئی خدائی معجزہ ہی حشرات الارض سے بچا سکتاہے۔
گویامعاش اور معاشرہ انسان کی وہ ضرورتیں ہیں جنہیں ذات باری تعالی نے کمال رحمت سے نومولودکی آمد سے قبل ہی پورا کر دیاہے ۔انسانیت ان دونوں عناصر کے بغیر نہ صرف نامکمل ہے بلکہ انسان کا وجودہی انہی دونوں کا مرہون منت ہے۔بچپن

،لڑکپن،آغازشباب،شباب،ادھیڑپن اور پھر بڑھاپے کی تمام منزلوں میں انسان پہلے سے زیادہ اور مزید زیادہ تر ان دونوں عناصر کا محتاج ہوتا چلا جاتا ہے ۔اسے معاشی اور معاشی ترقی کے لیے اپنا انسانی کردارادا کرنا ہے جس کو قدرت الہیہ نے بڑی خوبصورتی سے ماں کی مامتا اور باپ کی شفقت کے استعاروں میں ڈھانپ دیا ہے ۔یہ دونوں کردار ماں اور باپ دراصل سب سے اولین معاشی و معاشرتی رضاکار ہیں۔اﷲ تعالی کاکیا عجیب اورشاندارنظام ہے کہ ناخن سے رسولی تک انسان کے جسم کے ساتھ لگی تکلیف دہ چیز جب کاٹ کر الگ کی جاتی ہے تو انسان اسے بڑی نفرت اور حقارت سے دیکھتا ہے اور اسے دور پھینک دیتا ہے لیکن نو ماہ تک دردپر درد دینے والا نومولود جب اس دنیا میں وارد ہوتا ہے تو ماں اسے سینے لگا کر اپنے شیریں چشموں سے سیراب کرتی ہے۔اگرچہ جانور کے ہاں بھی مامتا کا یہی کردارہے لیکن جانوروں کے ہاں اکثر نسلوں میں باپ کا کوئی کردار نہیں ہوتابلکہ بعض اوقات تو ماں اپنے بچوں کو نرجانور سے چھپاتی پھرتی رہتی ہے۔اسکے مقابلے میں انسان کے ہاں باپ کاکردارنسل کی پرورش پرمحیط ہے،جس کا بہت بڑا حصہ معاش سے تعلق رکھتا ہے یعنی باپ اپنے قبیلے کی معاشی کفالت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

معاشی ترقی اور معاشرتی ترقی کوجدا نہیں کیا جاسکتا،جو معاشرہ معاشرتی ترقی سے ہم آہنگ ہوگا وہیں معاشی ترقی بھی وقوع پزیر ہوگی اور جہاں معاشی ترقی ہو گی وہیں معاشرتی ارتقا بھی جنم لے سکے گا۔انفرادی سطح پر یہ ایسے ہی ہے جیسے پیٹ بھرے گا تو انسان کام کر سکے گا اور اگر انسان کام کرے گا تو پیٹ بھر سکے گا۔معاش کو معاشرے سے اور معاشرے کو معاش سے اسی طرح علیحدہ نہیں کیا جا سکتا جیسے انسان کو اسکے پیٹ سے علیحدہ نہیں کیا سکتا۔اگرمعاشرتی اقدار ڈھیلی پڑجائیں گی تومعاش بری طرح متاثرہوگی اور اسی طرح معاشی اقداراگرزوال پزیر ہوئیں تو معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی چلی جائیں گی۔معاشرتی اور معاشی حقائق کو جاننے کے لیے انسان نے ہر سطح پر بہت کوششیں کی ہیں۔بہت نچلے طبقے میں دووقت کی روٹی اورعزت کی چھت کے حصول کوتما م مسائل کا حل سمجھا جاتا ہے،یوں درجہ بدرجہ ہر سطح پر لوگوں کی فکر ایک بہاؤ کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔انسانی اعلی دماغوں نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے مختلف نظام ہائے فکروعمل بھی پیش کیے ۔سیکولریورپی دانشوروں میں سے کسی نے انسان کو معاشی جانور کہا ہے اور کسی نے معاشرتی جانور اور کسی نے تو جنسی جانور تک بھی کہا ہے اورڈارون کے کیا کہنے جس نے انسان کو جانوروں کی نسل ہی قرار دے دیا۔

سوشلزم ،کیمونزم،فاشزم،کیپٹل ازم اورملوکیت وجمہوریت یہ سب انسانی فکرودانش کے وہ ناکام تجربات ہیں جن کی آزمائش کی بھٹی میں انسان نے اپنی نسلوں کو جھونک دیا ہے،یہاں تک کہ آج پھر انسانیت چھٹی صدی عیسوی کے تباہ کن مقام تک آن پہنچی ہے ،جس پر قرآن مجید نے یوں تبصرہ کیا تھا کہ’’تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے کہ ہم نے تمہیں بچا لیا‘‘ ۔مانی ازم سے عصری مغربی تہذیب تک تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسان جب آسمانی ہدایت سے الگ کر کے اپنی فکر و فلسفے کوبننے لگتا ہے توہمیشہ ٹھوکریں ہی کھاتا ہے۔جبکہ عقل و دانش کی الجھی ہوئی ،گنجلک اورتہہ در تہہ ڈوریوں کوجب آسمان سے جوڑ کر وحی کی تعلیمات میں انکا حل تلاش کیا جائے تو گویاڈورکاایک ایسا سرا ہاتھ لگ جاتا ہے کہ جس سے سارے کے سارے مسائل حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔سودی نظم معیشیت آج اپنے انجام کو پہنچا چاہتاہے،معیارزندگی میں بڑھوتری کی دوڑکے اثرات بدآج عالمی سطح پر آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں،قرض کی مے پراستوار بلندوبالابنکنگ کا نظام ریت کی دیوار ثابت ہوچکا ہے،اشتہاربازی پر مبنی معاشرتی اقتدارکی حقیقت سراب کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوئی اور عورت کواسکے اصلی،حقیقی اور فطری مقام سے گرا کر جس معاشرت کا بیج بویا گیاتھا،خاندانی نظام کی تباہی کی فصل اسکے منطقی نتیجے کے طورپر آج کاٹی جارہی ہے۔
معاشی و معاشرتی ترقی کا انسانی خواب صرف انبیاء علیھم السلام کے طریقے پر ہی پوراہوسکتاہے۔وہ اپناپیغام پیش کرنے کے بعد سب سے پہلے یہی کہتے تھے’’ہم تم سے اس کام کاکوئی اجرنہیں چاہتے‘‘۔یہ معیارنبوت ہے کہ رضاکارانہ طور پر انسانیت کی خدمت کی جائے۔نکاح وہ معاشرتی قدر ہے جس کا تحفظ اور جس کا تسلسل ہی انسانی نسلوں کی بقاکاضامن ہے۔سوال یہ ہے کہ ساری عمر اکٹھی بسر کرنے کی نیت اور ایک خاندان کی پرورش کے ارادے سے ملنے والے مردوعورت کے ہاں ہونے والابچہ اور ہوس نفس اورحیوانی جبلت کی تسکین کی خاطرایک دوسرے کو جھنجھوڑنے اور بھنبھوڑنے کے بعد ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہوجانے والے مردوعورت کاہونے والا بچہ کیا انسانی نفسیات میں یکساں ہوں گے؟ہرگزنہیں،انسانی ساختہ تہذیبیں جو بھی کہیں، انبیاء کی تعلیمات نے ان کے درمیان حلالی اور غیرحلالی کا فرق کیا ہے اور یہ حقیقی و آفاقی فرق ہے۔زکوۃ ،صدقات،عشر،خمس اورفطرانہ و قربانی پر بنیاد کرنے والی معیشیت کبھی بھی سود،ناجائزمنافع خوری،ذخیرہ اندوزی،اشتہاربازی اور نسوانیت کی محتاج معیشیت کے برابر نہیں ہوسکتی۔پہلی قسم کی معیشیت انسان کی اعلی اقدار کی حامل اور انکے رواج کی ضامن ہے جبکہ دوسری قسم کی معیشیت شائلاکی سوچ کی آئینہ داراور انسانی مجبوریوں کو اور ضرورتوں کو بڑھا چڑھاکرانکا استحصال کرنے والی ہے۔قرآن مجید نے واضع طور پر سود کو اﷲ اور اسکے رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ قرار دیاہے کہ یہ دراصل انسانی تباہی کابھیانک،اندوہناک اورہولناک آغازہے۔

انبیاء علیھم السلام اگراس دنیامیں تشریف نہ لاتے توجنگل کا بادشاہ اور درندگی و سفاکی کی علامت شیر،چیتااور بھیڑیا نہ ہوتے بلکہ انسان ہی ہوتا۔اس لیے کہ اکیسویں صدی کی دہلیزپرچکاچوندروشنیوں اور تہذیب و تمدن کے جگمگاتے گہواروں میں پلنے والی اقوام جو انبیاء علیھم السلام کی عطاکردہ معرفت وشعورزندگی سے بے گانہ ولاتعلق ہیں، کشمیر،چیچنیا،بوسینیا،عراق اور افغانستان سمیت پوری دنیامیں ان کے خونی کردار سے جنگل کے ان گوشت نوچنے والے شکاریوں کو بھی شرم آئے،اپنے آپ کو جانوروں کی نسل کہنے والوں نے پوری کوشش کی کہ انسان کے معاشی و معاشرتی نظام کو بھی ہوس نفس سے آلودہ کرکے تو جنگل کے برابر کر دیاجائے۔یہ انبیاء علیھم السلام کاترتیب دیاہوامعاشی و معاشرتی نظام ہے جس میں انسانیت کی نسلیں بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہیں،انسانی رشتے تقدس کی مضبوط ترین تسبیح میں ایک ایک دانے کی طرح پروئے چلے جاتے ہیں اور اعلی اخلاقی اقدارسے مزین انسانیت کے عنوان سے لکھاجانے والا معیشیت کا سبق اپنی ایک ایک سطر پر انسان کو اسکے فرائض و حقوق یاد دلاتا چلا جاتاہے۔انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات اور خاص طور پرمحسن انسانیت ﷺ کی تعلیمات دراصل اﷲ تعالی کی عطا کردہ ہدایت کا نچوڑ ہیں،اورانسانی عقل کسی صورت بھی وحی الہی کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔سورہ قدرکے مضمون کی ایک جہت یہ بھی ہے کہ سارے انسان ایک ہزارراتوں تک بھی اپنی عقل کے گھوڑے دوڑاتے تو ایسا شاندار نظام وضع نہ کرپاتے جتناکہ شاندارنظام اس ایک رات(شب قدر)کی برکت سے عالم انسانیت کو میسرآیا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر کل انسانیت کی معاشی و معاشرتی ترقی درکارہے توبانیان انسانیت علیھم السلام کی تعلیمات ہی اسکاواحد حل ہیں۔اسکے علاوہ کسی بھی طرح کے قسم ہائے قسم کے نظام جو انسانی منڈیوں میں موجود رہے ہیں اور موجود ہیں اور قیامت تک خود روبوٹیوں کی ماننداگتے رہیں گے،کسی خاص طبقے ،نسل،گروہ،قوم یا افراد کے لیے توجزوی طور پر فائدہ مند ہو سکتے ہیں انسانیت کے کل اجتماع کی خاطران کے پاس کوئی پروگرام ناپید ہی رہے گایہاں تک کہ خالق کائنات کی آخری عدالت ان استحصالی طبقوں کو انکے اصل انجام تک پہنچا دے گی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
2744

خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر چترال میں رنگا رنگ تقریب کا اہتمام

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز)ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح چترال میں بھی 3دسمبر خصوصی افرادکی عالمی دن انتہائی جوش خروش سے منایاگیاجس کی مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم جبکہ صدرمحفل ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئرافیسرچترال نصرت جبین تھے۔ اس رنگارنگ پروگرام میں اسپشل ایجوکیشن چترال کے بچوں سمیت دروش سے مروئے تک خصوصی افراد نے شرکت کی۔جنہوں نے پولوگراونڈچترال سے اتالیق پل تک ریلی نکالی۔ چترال پولوگراونڈمیں قومی ترانے کے بعد فٹ بال ،کرکٹ ،رسہ کشی اوردیگرکھیلوں کاانعقادکیاگیا ۔اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم نے پہلی دوسری پوزیشن آنے والی کھلاڑیوں میں انعامات اورٹرافی تقسیم کرنے کے بعدخطاب کرتے ہوئے کہاکہ تین دسمبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں خصوصی افرادکے عالمی دن کے منانے کا مقصد دنیا بھرکے معذور افراد کو درپیش مسائل اجاگر کرنا اور معاشرے میں ان افراد کی افادیت پر زور ڈالنا ہے دنیا بھر میں اس دن کی مناسبت سے مختلف سرکاری و نیم سرکاری، سماجی تنظیموں اور این جی اوز کے زیراہتمام سیمینارز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاکہ لوگوں کو قائل کیا جا سکے کہ وہ معذور افراد کے لئے ہر ممکن مثبت کوششیں بروئے کار لائیں۔انہوں نے کہاکہ اسلام نے معذور افراد کی عزت و تکریم اور ان کا خیال رکھنے کا خصوصی طور پر حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے امت کو یہ تعلیم دی کہ خصوصی افراد دیگر معاشرے کی نسبت زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔ دوسرے افراد کو ان پر ترجیح دیتے ہوئے انہیں نظر انداز نہ کیا جائے۔ بلکہ دوسرے افراد پر انہیں ترجیح دی جائے۔انہوں نے کہاکہ چترال میں خصوصی افرادکے لئے ایجوکیشن کمپلیس کی تعمیرکے لئے سرکاری اورغیرسرکاری اداروں کی طرف سے یقین دہانی کرائی۔اورموسم بہارمیں ان افرادکے لئے ایک اعظیم الشان پروگرام انعقادکرنے کااعلان کیا۔ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئرافیسرچترال نصرت جبین نے ضلعی انتظامیہ کی تعاون کاشکریہ اداکرتے ہوئے اس قسم کی پروگرامات میں تعاون کی درخواست کی۔پروگرام میں ڈی پی ایم، ایس ارایس پی چترال طارق احمد،ڈسٹرکٹ اسپورٹس وسوشل ویلفیئرافیسر بونی تاج الدین ،پرنسپل اسپشل ایجوکیشن چترال سیدنبی حسین شاہ ،عمران خان فاونڈیشن کے ضلعی سربراہ اوردیگرافرادنے کثیرتعدادمیں شرکت کی۔

special Persons day 3rd december chitral222

special Persons day 3rd december chitral1 special Persons day 3rd december chitral2 special Persons day 3rd december chitral22

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , ,
2725

پاکستان میں بڑھتی فرقہ ورانہ انتہا پسندی اور اس کا تدراک!     تحریر: ایمان ملک

گزشتہ تین چار سالوں سے ہمارا ملک مسلسل سیاسی بحران کا شکار ہے اس کی وجہ ہمارے سیاسی قائدین کی غلط ترجیحات ہیں یا ان کی انفرادی وذاتی کوتاہیاں یہ تو معلوم نہیں مگر ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس ساری کشمکش میں ملک کا قومی مفاد بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ کیونکہ بدقسمتی سے ہماری حکومت اپنی پوری مدتِ حکومت کے دوران سنبھل نہیں پائی اور ان چار سالوں میں انہیں اپنی حکومت اور کرسی بچانے کی ہی فکر لاحق رہی۔  کبھی دھاندلی کا شور تھا تو کبھی  پانامہ کا، کبھی بے معنی اور غیر ضروری آئینی ترامیم کا مسئلہ، کبھی جلسے، جلوس اور احتجاج کا شور اور یہاں یہ بات نہایت قابل ذکر ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مسائل حکومت نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار کر پیدا کئے۔ ہمیں اس جمہوری دور میں کہیں بھی کسی بھی ایوانِ اقتدار میں ملکی بہتری اور عوام کی خوشحالی کے لئے مباحثے اور منصوبہ سازی تو درکنار،اس پر بات کرتا بھی کوئی دکھائی نہیں دیا۔ اور نہ ہی ملک میں موجود انسداد دہشت گردی کے سول اداروں کو فعال کرنے اور ان کی استعدادِ کار کو بڑھانے کی غرض سے کبھی بھی کوئی حکمت عملی ترتیب دینے کی کوشش کی گئی۔ بلکہ وہاں بھی دقیانوسی پرچی سسٹم اور سیاسی اقربہ پروری کی روش نے ان قومی اداروں کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا۔

علاوہ ازیں، نازک صورتحال سے نمٹنے کی حکومتی صلاحیتوں کی قلعی تو آئے روز کھل کر ہمارے سامنے آتی ہی رہتی ہے مگر یہ بات سب کے لئے باعثِ تشویش ہے کہ نجانے کیوں جب ہماری سول قیادت کو ہوش کے ناخن لینے کی اشد ضرورت ہوتی ہے تو وہ سلگتی چنگاری کو اپنے کسی نہ کسی ایسے اقدام سے اور ہوا دے دیتی ہےجس کے شعلوں کی لپیٹ میں آکر پورا ریاستی نظام جھلس جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ایسے مواقعوں پر بڑی بڑی بڑکیں مارنے والے ہمارے سیایسی قائدین کی وہ سیاسی بصیرت بھی غائب ہو جاتی ہے جن کا مظاہرہ وہ اپنا گیان بانٹنے کے لئے ہر رات مختلف ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں کرتے ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں سب کو اس بات کا ادراک ہے کہ ہم ابھی بھی حالتِ جنگ میں ہیں اور ہماری ملک کی فوج متعدد محاذوں پر پاکستان کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے محوِ جنگ ہے۔ اوروہ آج بھی اس ہولناک جنگ میں اپنے سپاہیوں اور ہم وطنوں کے جنازے اٹھا رہی ہے جس کی مثال آج ہی پشاور میں زرعی ٹریننگ  انسٹیٹیوٹ کے ہاسٹل میں ہونے والا دہشتگردوں کا حملہ ہے جس میں چھ افراد جاںبحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ پھر بھلا ایسی نازک صورتحال میں ہمارا ملک کسی اندرونی خلفشار کو فروغ دینے کی حماکت کا کیسے متحمل ہو سکتا ہے؟

حال ہی میں حکومت نے جس بری طرح اسلام آباد دھرنے کے نازک معاملے سے نمٹنے اور اپنے شہریوں کےخلاف طاقت کا استعمال کرنے کی ناکام کوشش کی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اور جس کے نتیجے میں صرف چند گھنٹوں کے دوران پورا ملک بند ہو گیا اور تمام صوبوں کا  ملک کے دالحکومت سے فضائی اور زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ اور سونے پر سہاگہ حکومتی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ملک بھر کے تمام چینلز اور سوشل میڈیا پر بھی قدغن لگا دی گئی۔ ایسی صورتحال تو لال مسجد آپریشن کے دوران بھی درپیش نہیں آئی تھی۔ تب بھی تمام چینلز لمحہ با لمحہ ملکی تاریخ کے اس نازک ترین ملٹری آپریشن کی کوریج کرتے رہے تھے۔ پھربھی ایک فوجی آمر کی حکومت نے کسی کو بند نہیں کیا تھا۔

 بلاشبہ حکومت کے اس اقدام سے جہاں ملک میں غیر یقینی کی فضا کو تقویت ملی وہیں بین الاقوامی سطح پر پاکستان پر لوگوں کو ہنسنے کا موقع  بھی خود پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا گیا۔ حکومت کو شاید ابھی تک اپنی اس حالیہ کوتاہی اور نالائقی کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے قومی بیانیے کو  پہنچنے والی زک کا صحیح اندازہ نہیں ہے، جس کے اثرات تجزیہ نگاروں کے مطابق آئیندہ آنے والے چند روز میں وضع ہونا شروع ہونگے۔

ملک کو بدامنی اور فرقہ ورانہ انتہا پسندی کی طرف دھکیلنے کے بعد جب ہماری سول قیادت نے ہار مان لی تب اُسی ادارے نے پاکستان کو اِس بحران سے نکالا جو سیلاب ہو یا زلزلہ، بھل صفائی ہو یا خشک سالی، الیکشن کا انعقاد ہو یا بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی بات، ملک سے مجرمانہ سرگرمیوں کے خاتمے کے لئے چھو ٹو گینگ کے خلاف آپریشن ہو یا کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروئی، غرض ہر مشکل، ہر آفت، ہر مصیبت، میں اپنے ہم وطنوں کی دادرسی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ اس بار بھی اس ادارے نے ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے والی ملک دشمن قوتوں کی سازش کو بر وقت بھانپتے ہوئے، معاملہ فہمی کا ثبوت دیا اور حکومت اور دھرنے والوں کے مابین صلح و صفائی کی راہ اختیار کرتے ہوئے معاملہ رفع دفع کرادیا۔ مگر اس تمام صورتحال کے (پاکستان دشمن) ماسٹر مائنڈز کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی کیو نکہ  ان کے پاکستان میں  فرقہ ورانہ بنیادوں پرانارکی کی فضاء پیدا کرنے کے خوابوں کی راہ میں ایک بار پھر پاک فوج حائل ہو گئی ۔ اس لئے دھرنا ختم ہونے کے فوراً بعد انہی قوتوں کی جانب سے پاک فوج کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ طول پکڑنا شروع ہو گیا۔ حتٰکہ ایک خاتون رکن قومی اسمبلی کی صاحبزادی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کی جانے والی ویڈیو میں پاک فوج کے خلاف نہایت نازیبا اورغیر شائستہ زبان استعمال کی گئی۔ علاوہ ازیں، فرقہ ورانہ انتہا پسندی کی لہر بھی سوشل میڈیا پرزور پکڑ گئی اور الیکڑانک میڈیا پر بھی مختلف لیڈران کی جانب سے مسلکی بیان بازی کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔

پاکستان میں جنم لینے والے اس حالیہ منظرنامے میں جو بات نہایت پریشان کن ہے وہ ہے ہمارے معاشرے میں تیزی سے فروغ پانے والا ‘فرقہ ورانہ’ ماحول۔ تاریخ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جب ہلاکو خان بغداد پر حملہ آور ہوا تو اس سے ایک رات پہلے بھی فرقہ ورانہ بنیادوں پر مسلمانوں کے مابین مناظروں کا سلسلہ جاری تھا ہر کوئی دوسرے کو کافر قرار دینے پر تلا ہوا تھا۔ مگر جب صبح منگول بغداد میں داخل ہوئے تو انہوں نے ہر ایک کو بلا تفریق اور بے دریغ قتل کیا۔ انہوں نے شیعہ، دیوبندی، حنفی، اہل حدیث کسی کو نہیں بخشا اُنہیں ہر کوئی صرف مسلمان نظر آیا۔ مگر تاریخ بھی سکھاتی ہے صرف ان کو جو سیکھنا چاہیں۔

 اس لئے یہ وہ نازک معاملہ ہے جس سے دشمنانِ اسلام اور پاکستان اچھی طرح واقف ہیں کہ وہ اپنے مزموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے، اس فیکٹر(فرقہ واریت) کا استعمال کب،کیسے اور کن کن مواقعوں پر کر سکتے ہیں۔ اس حالیہ صورتحال میں بھی پاکستان کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر منقسم کر کے خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی سازش کی گئی۔ اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے شبے کو ہرگز رد نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے دشمنوں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی بچھائی گئی بساط کو تو پاک فوج نے الٹ دیا ہے، اس لئے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے  لئے اب ہمارے دشمنان یقینی طور پر ‘فرقہ ورانہ انتہا پسندی’ کے ہتھیار کو ہمارے خلاف بروئے کار لا رہے ہیں۔

 دنیا بھر میں ‘دہشت گردی’ کو اب جنگ کی ایک بنیادی حکمت عملی کے طور پر شناخت  مل چکی ہے جس میں روائتی جنگ کی نسبت اس قسم کے حربوں سے اپنے مقاصد کا حصول یقینی بنایا جاتا ہے لہٰذا یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس کے تداراک کے لئے ضروری ہے کہ ہم معاشرے میں برداشت، رواداری اور مسالکی احترام کو فروغ دیں۔ اور حکومتی وزراء مسلکی اور فرقہ ورانہ بیان بازی سے حتی الامکان گریز کریں جو کہ اس وقت جلتی پر تیل ڈالنے کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ نیکٹا کو بھی فی الفور حرکت میں آنا ہو گا اور اسے ترجیح بنیادوں پرسوشل میڈیا پر فرقہ ورانہ انتہا پسندی کی ترویج کرنے والی قوتوں کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کی گرفت میں لانا پڑے گا۔ نیز تمام مکا تبِ فکر کے علماء و مشائغ کے علاوہ میڈیا کو بھی اعتماد میں لینے کے علاوہ حکومت کے پاس اس مرض سے نمٹنے کا کوئی چارہ نہیں، تاکہ وہ اس کڑے وقت میں مذہبی روادای کے فروغ اور مختلف مسالکِ دین کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کے حوالے سے اپنا اپنا کردار ادا کر کے ریاست کا ساتھ دے سکیں۔

ایمان ملک 

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged , ,
2606

چترال کے ایک اور فرزند فیصل صالح حیات کا اعزاز ، پاک آرمی میں کمیشن لینے میں کامیاب

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گرم چشمہ چترال سے تعلق رکھنے والا ایک اور ہونہا ر فرزند چترال فیصل صالح حیات نے آئی ایس ایس بی کا امتحان پاس کرکے پاک آرمی میں کمیشن لینے میں کامیاب ہوگیا ہے۔اور بحیثیت کمیشنڈ آفیسر پاک آرمی جوائن کرکے کاکو ل میں ٹریننگ شروع کردیا ہے۔ فیصل صالح حیات ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول بہمی زار حیات کے فرزند ارجمند ہیں ۔ اور ان کا تعلق میژی گرام موغ گرم چشمہ سے ہے ۔ہونہار طالب علم سماجی شخصیت گل مراد سابق پریذیڈنٹ لوکل کونسل گرام چشمہ کے بھتیجا ہیں۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , ,
2581

سیاسی خطا کار…. پارلیمنٹ سے چترال تک ……….تحریر۔ شہزادہ مبشرالملک

* وجہ کائنات۔
آج محسن کائنات اور وجہ کائنات کی ولادت باسعادت کا عظیم دن ہے اور خوش نصیب لوگ اس دن کی بابرکت لمحات سے جھولیاں بھر رہے ہیں۔ہم اس کے ادنا غلاموں کے غلام کی حیثیت سے تمام اہل ایمان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ جہان سیاسی شخصیات ، مذہبی رہنماوں ، ادکاروں ، فنکاروں اور رشتہ داروں کے یوم ولادت اور برسی منانے کو نہ صرف جائز بلکہ لازمی بنایا جائے وہاں اس ہستی کے لیے اتنا بھی گنجائش نہ رکھا جائے کہ اس کے چاہنے والے ایک دوسرے کو مبارک باد بھی نہ کہہ سکیں تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے۔آپﷺ نے خود اپنی ہستی کے بارے میں فرمایا تھا’’ میں ا’س وقت نبی بنا تھا جب آدم کی روح تخلیق کے مراحل میں تھی۔‘‘ لیکن اسلام کے نام پر بننے اس ملک کی پارلیمنٹ میں آج اس مبارک نام اور مقام کے ساتھ جو ظلم و ذیادتی روا رکھی گئی کیا اس کا ازالہ ممکن ہے؟

* جمہوری جرائم۔
میں ہمیشہ یہ کہتا اور لکھتا آیا ہوں کہ ہمارے ہاں جو ’’ ناجائز جمہوریت‘‘ ہے اس کے ہوتے ہوے اس ملک میں جو اسلام کے نام پہ وجود میں آیا ہے کبھی بھی اسلامی نظام کانافذ نہیں ہوسکتا اور حالیہ پاناما والے معاملے کے بعد ہر چور ،ڈاکو ، منگل باغ کے لیے سب کچھ حلال کرنے کا فارمولا پیش کر کے تمام بدقماش کے لیے اقتدار کے دروازے کھول دیئے گئے ۔اس ننگی جمہوریت سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ … ناموس رسالت کے قانون کا خاتمہ کرے کل کو اذان اور نماز پر پابندی کا بل پاس کرائے اور یہ سارے کالے کرتوت ایک اسلامی سوچ رکھنے کے دعویٰ دار ’’ نوازشریف‘‘ کے دور میں کیوں ہورہے ہیں اپنے پہلے دور میں اس نے شریعت بل کا کھیل کھیلا اور اس حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا دوسری مرتبہ سود کے خاتمے کے خلاف سپرئم کورٹ میں اسٹے لیے رکھا اب کی بار ختم نبوت والے قانون کو چھڑ کر ملک میں انتشار پھلاکر فوج اور عدلیہ کے خلاف گھناونا اور ناقابل معافی جرم کیا جو دیدہ بینا رکھنے والے سب جانتے ہیں اور جو شعور سے بہت دور ہیں ان کی لیے ہدایت کی دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

* اسلامی چھتری۔
لیکن مقام افسوس ہے ان مذہبی پارٹیوں پر جو پارلیمنٹ میں موجود ہوتے ہوئے ’’ سستے سموسے ‘‘ کھاتے ہوئے خواب خر ….گوش کے مزئے لیتے رہے کیا مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق اینڈ کمپنی فقط مراعات اور سہولیات لینے کے لیے خالہ جی کے گھر کی طرح وہاں چلے جاتے ہیں یا ان کی کوئی علاقائی ،ملکی اور دینی ذمہ داریاں بھی ہیں؟ اس خطا کاری پر اگر چہ پورا پارلیمنٹ قصور وار ہے اور قوم کے سامنے جواب دہ بھی وہاں کمیٹی میں موجود تمام پارٹیوں کے نمائدے’’ نااہل لیگ کی نااہلیوں میں برابر کے شریک ہیں ۔اور ان کا یہ جرم قابل معافی بھی نہیں …کاش ہمارے مولویوں اور جماعتیوں میں ’’ شیعوں اور بریلویوں جیسے جذبہ ولولہ اور عقیدت والے لوگ پیدا ہوجاتے ۔

* حریف پر وار ؟
جس طرح ہم اپنے مذہبی رہنماوں سے ان کے کردار کے حوالے سے مایوس ہیں اس کی ایک جھلک چترال میں بھی نہ صرف نظر آتی ہے بلکہ اکثر دیکھنے کو ملتی ہے جو ’’ دین کے دعویٰ داروں ‘‘ کو لوگوں کے سامنے مزید رسوا کرتی ہے۔مولانا عبدا لاکبرچترالی صاحب جو سابق ایم این اے رہ چکے ہیں اور مستقبل کے امیدوار بھی ہیں کے غیر ذمہ دارنہ بیان کے خلاف کئی مرتبہ لوگوں کے احتجاجی خط ، فون، اور میل کیے جن کو میں اس لیے اخبارات کی زینت بنانے سے دور رکھا کہ مولانا صاحب اور یار لوگ اسے اور معانی پہنائیں گے لیکن ایک پیچارے شخص جو مدتوں سے مالی مشکلات اور پرشانیوں کے دلدل میں پھسا ہوا ہے جس کا نام میں ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتا اپنے گاؤں کے مسائل حل کرنے کے لیے بڑی جدجہد کے بعد ایم این اے کے لائے ہوئے فنڈ سے دو لاکھ کا ایک پراجیکٹ لیا اور بڑی محنت اور دوستوں اور رشتہ داروں سے قرض لے کر اس منصوبے کو وقت سے پہلے مکمل کیا اس امید پر کہ بروقت بل مل جائیں گے اور دس بیس ہزار کی بچت بھی ہوگی ۔ لیکن مولانا صاحب کی نامعقول پریس کانفرنس کے طفیل فنڈ لیٹ ہوگئے اور اس بچارے کی زندگی مہینوں سے عذاب بنی ہوئی ہے۔ میں اس کے حال پہ آنسو بہا رہا تھا کہ مجھے چترال کے مختلف علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور بیسیوں اسے واقعات اور افراد سے ملاقات ہوئی جو مولانا کو صلواتیں سنارہے تھے اور موڑکھو میں خود مولانا کے ساتھ کچھ لوگوں کے تلخ و تند مکالمے بھی ہوئے تو حضرت نے فرمایا’’ شہزادہ افتخار میرا حریف ہے اور مجھے اسے نقصان تو پہنچانا ہی ہے ۔چاہیے بعد میں … معافی ہی نہ کیوں مانگنا پڑئے…. مولانا صاحب سے اس حقیر و فقیر کی گزاراش ہوگی علاقے کی بہبود میں … حریفوں … کا دست وبازوبنانا مذہبی لوگوں کے ساتھ بھلے لگتا ہے اور چترال کے مسائل مشکلات آپ مجھ سے ذیادہ جانتے ہیں لہذا خیال کیجیے گا آپ کی ایک غلطی نے ہزاروں لوگوں کے مسائل میں اضافہ کئے اور ان کے پراجیکٹ سرد موسم کی نذر ہوکے التوا کا شکار ہوئے اور اس …. کار خیر… پر جماعت اسلامی اور اسلام کو کتنا … فائدہ ہوا

اس کا جواب آپ ہی دے سکتے ہیں ؟ کل کو اگر آپ دوبارہ منتخب ہوئے اور کوئی اور لیڈر آپ کی ٹانگیں کھنچنے لگے تو عہد گزشتہ کی طرح علاقے کوخالی ڈسک پیٹنے کی آواز ہی سنائی دے گی اور کام نہیں ہوسکیں گے ۔اگر ان پراجیکٹس میں کہیں کاغذی منصوبے ہیں تو ان کی نشاندہی بھی آپ پر فرض ہے ۔میں آپ کی دور زرین میں کئی بار … اویر… شغور چترال … شیشی کوہ واٹر چینلز اور جغور پاور ہاوس کی ناقص منصوبہ بندی اور
مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد پر جی ائی ٹی کا آپ سے مطالبہ کرتا رہا مگر آپ نے کڑوروں روپے کے منصوبوں کی طرح ہماری گزرشات اور آرزوں کو … دریا برد کردیاجس کا آپ جیسے صاحب کردار نمائیدے سے توقع نہ تھی۔

[email protected]

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
2506

12 ربیع الاؤل بروز جمعہ عام تعطیل کا اعلان

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) حکومت خیبر پختونخوا نے ایک سرکاری مراسلے کے ذریعے عوام الناس کی اطلاع کیلئے 12 ربیع الاؤل، یکم دسمبر 2017 (بروز جمعہ) کو صوبہ بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged ,
2481

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی ملتوی پرچوں کی دوبارہ شیڈول جاری کردی گئی۔۔رفیع اللہ

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ ) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ریجنل ڈائریکٹر رفیع اللہ خان کے دفتر سے جاری شدہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے۔ کہ امتحانات بہار 2017سمسٹر کے پرچے جو کہ27/11/17 اور28/11/17کو ملتوی ہوئے تھے۔ان کی دوبارہ شیڈول جاری ہوچکی ہے۔

ملتوی شدہ پرچوں کا نیا شیڈول
میٹرک کے کورس کوڈنمبر219کا دوبارہ پرچہ مورخہ11/12/17کو ہوگا۔
میٹرک کے کورس کوڈنمبر254کا دوبارہ پرچہ مورخہ12/12/17کو ہوگا۔
جبکہ ایف اے،بی اے،ایم اے،ایم ایڈ،بی ایڈ اوراے ڈی ای کے27/11/17کے ملتوی شدہ پرچے دوبارہ12/01/18کو ہونگے
ؤ جبکہ ایف اے،بی اے،ایم اے،ایم ایڈ،بی ایڈ اوراے ڈی ای کے28/11/17کے ملتوی شدہ پرچے دوبارہ15/01/18کو ہونگے
تمام طلباء و طالبات کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اپنے پرچوں کے نئے شیڈول کے مطابق اپنے اپنے سنٹروں میں حاظر ہو جائیں۔اور مزید معلومات کے لئے دفتر کے ساتھ رابطہ رکھیں اور ساتھ ہی ہمارے دفتر کے فیس بک آفیشل پیج کا ملاحظ کریں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, مضامینTagged , , , ,
2478

اخلاقیات پر مبنی نصاب……….. محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا حکومت نے اخلاقیات پر مشتمل مضامین تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اساتذہ کو بھی کلاس میں اخلاقیات پر درس دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جن اخلاقی مضامین کو نصاب میں شامل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے ان میں صحت اور ماحول کی حفاظت، انسان دوستی، صلہ رحمی، کفایت شعاری، امداد باہمی، والدین، خواتین اور بڑوں کا احترام، دیواروں پر لکھائی، گلیوں اور سڑکوں میں کوڑا کرکٹ اور گندگی پھیلانے سے پرہیز، ٹریفک قوانین کی پابندی، غریبوں اور محتاجوں کی مدد، چغل خوری اور تمباکو نوشی سے اجتناب جیسے موضوعات شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے اس حوالے سے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو احکامات جاری کردیئے ہیں۔ 35اخلاقی موضوعات پر لیکچر دینے کا سلسلہ تمام سرکاری سکولوں میں عنقریب شروع کیا جائے گا جبکہ اخلاقیات پر مشتمل مضامین کو اگلے تعلیمی سال سے نصاب میں شامل کئے جانے کا امکان ہے۔بچوں کو پڑھائی جانے والی درسی کتابوں میں جن مضامین کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان کی تلقین دین اسلام نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے کی تھی۔اگر ہم قرآن حکیم اور سیرت طیبہ کا بغور مطالعہ کریں تو یہ ساری تعلیمات وہاں موجود ہیں۔ لیکن ہم نے قرآن کو طاقوں میں سجانے، گھر سے باہر نکلتے وقت چومنے،قسمیں اٹھانے، نماز کی ادائیگی اور رٹ کر امتحانات پاس کرنے تک ہی محدود کردیا ہے۔ قرآن کریم میں واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین، آسمانوں ، سمندروں اور ان میں موجود تمام چیزوں کو انسان کے لئے مسخر کردیا ہے۔ قرآن پاک کی اسی آیت پر تحقیق کرکے اغیار نے خلائی جہاز، راکٹ اور آبدوز بنائے، آسمان کی وسعتوں کو ناپنے اور نئے نئے سیاروں کی تلاش میں نکل پڑے۔ سمندروں کی تہہ میں سرنگیں بنائیں۔اس کی تہہ میں تیل تلاش کیا۔ پہاڑوں کو چیر کر لعل و گہر جمع کئے۔آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہونے لگتی ہیں یہ سارا علم قرآن سے لیا گیا ہے ۔ ہم نے ان تعلیمات کو یکسر بھلادیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ذاتی اور گھریلو استعمال کی معمولی چیزوں سے لے کر دفاعی سامان،تعلیم،صحت،زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کے لئے غیروں کے محتاج ہیں۔جن اخلاقی مضامین کو نصاب میں شامل کرنے کی بات ہورہی ہے۔ وہ ایک مسلمان بچے کو ماں کی گود سے لے کر گھر کی دہلیز پرپہنچنے تک سیکھنا چاہئے۔ والدین کا احترام، بڑوں کی عزت کرنا، سلام میں پہل کرنا، معمول کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا، جھوٹ نہ بولنا، غیبت، چاپلوسی، چغل خوری سے پرہیز کرنا، قانون کی پاسداری، اپنے بدن، لباس اور ماحول کو پاک صاف رکھنا، گندگی پھیلانے سے گریز کرنا اور بری عادتوں سے دور رہنے کی تلقین بچے کو اس وقت سے ہی کی جانی چاہئے جب وہ توتلی زبان میں بول چال شروع کرتا ہے۔ شاعر مشرق نے فرمایا تھا کہ شجر سے پیوستہ رہتے ہوئے بہار آنے کی امید رکھنی چاہئے۔ جب شجر ہی نہیں رہے گا تو کونپلیں ، پتے اور پھول نکلیں گے نہ ہی سایہ ،پھل ایندھن ملے گا۔اخلاقیات پر بچوں کی تربیت کا عمل گھر سے شروع ہونا چاہئے۔ سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایک سال سے پانچ سال تک کی عمر میں بچے جو کچھ سیکھتے ہیں وہ ساری عمر نہیں بھولتے۔کیونکہ بچے کا دماغ کورے کاغذ کی مانند ہے۔ اس میں پہلی تحریر انمٹ ہوتی ہے۔دین اسلام کی طرح سائنس نے بھی ابتدائی عمر میں بچوں کی تعلیم و تربیت ، انہیں اخلاقی اقدار سے روشناس کرانے کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ والدین کا کام بچوں کو کھلانا پلانا اور ان کی فرمائشیں پوری کرنا ہی نہیں۔ بلکہ ان کااصل کام بچوں کو بہترین تربیت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بڑے ہوکر معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔گھر کے ماحول سے نکلنے والا سلجھا ہوا بچہ ہی اچھاطالب علم اور عملی زندگی میں بہتر انسان بن سکتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کو جن گوناگوں مسائل کا سامنا ہے اس کی اہم وجوہات میں دین کو نہ سمجھنا، اسلامی تعلیمات اور اقدار سے دوری اور اخلاقی اصولوں کو پس پشت ڈالنابھی شامل ہے۔اخلاقیات پر مبنی مضامین نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محراب و منبر سے بھی اسلامی اخلاقیات پر درس دینا لازمی قرار دیا جائے۔ تاکہ امت مسلمہ کو اس کے اساس کے قریب لایاجاسکے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
2476

“جستجوئے خیال” …… دشت جنون کے روتے ارواح……. شفیق آحمد شفیق‎‎

جنون پاگل پن کو کہتے ہے۔ اور یہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب آپ کسی تصور یا شئے کو اپنی فطرت میں شامل کرتے ہے، اور اپنی زات کو اس کا ایسا عادی بناتے ہے کہ آپ کے حواس ، ہوش و خرد پہ حاوی ہوجائے ۔ اور جب وہ حاصل نہ ہو، یا آپ نے جو خیال کیا ہو وہ اس مطابق نہ نکلے۔ تو پھر ایک نفسیاتی بیماری لاحق ہوتی ہے ، جس کو پاگل پن کہتے ہیں۔ اور اگر خوبصورت الفاظ مٰیں بولوں تو جنون کہتے ہیں۔ ہمارے سماج میں بھی ایسے افراد بہ درجہ اتم موجود ہے ، بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں سے بڑی پڑی ہے۔ اور الہ دین کا چراغ بھی ان ہی کے ہاتھوں ہے۔ جو کہتے ہیں وہ کر جاتے ہیں۔ خواہ کوئی قانوں و اصول ہی کیوں نہ توڑیں۔ لیکن ان کا ایک ہی نعرہ ہے  ہونا وہی ہے جو میرا جنوں کہتا ہے۔
معاشرہ چونکہ مختلیف سوچ رکھنے والے اور مختلیف ثقافت و تہذیب ، مذہب ، رنگ و نسل ، روایات  کے حامل لوگوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اور بحیثت ایک سماج کہ لوگوں کے ہم ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بغیر زندگی کا پہیہ چلانا مشکل ہو تا ہے۔ لیکن جب بھی ہم دیکھتے ہے، جنون کی آڑ میں روحوں کے ساتھ یہ ظلم و ستم دیکھنے کو ملا جس طرح کفار نے رسول خدا صلم پر ظلم کیا  اور لین دین ، تجارت سب بند کردیا ۔اور رسول خدا صلم کو شعیب ابی طاالب میں پتے کھا کر وقت گزارنا پڑآ۔ اگر کسی نے خیر کی بات کی اور آزادی انسان کی قدر کرتے ہوئے کچھ کہا تو ان کو واصل مرگ کیا گیا ۔  غرض حق و باطل کے معرکے میں لفظوں کی جنگ سے جو راکا وٹیں پیدا ہوئی۔   ایک بے رنگ و دکھ بھری داستا ن رقم کی ۔ جس سے انسان جیسے اعظیم خلقت کی روح متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اس روح پرور سوچ پر بھی دبہ لگا دیا جو اہل فکر کی میراث تھی۔
انسانی وجود اور روح کی ہستی میں دم نہاں کی صورت دو رخی ہے ایک رخ کا تعلق اس جہاں سے دوسرے رخ کا تعلق دوسرے جہاں سے ہے۔ لیکن دونوں جہانوں کا عکس جب ایک آئینے میں دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے  تو پھر وہ رونق کچھ اس طرح سے ختم ہوجاتا ہے۔ کہ پہلے کیلئے دوسرے کو چھوڑو اور دوسرے کیلئے پہلے کو چھوڑو، یا پھر تیسری صورت نکالو، آدمی کو ہی مار ڈالو۔ کیونکہ  آدمی سوچتا ہے۔ اور دشت جنون کے ارواح سوچنے والے کو نہیں چھوڑتے کیونکہ سوچنے سے دنیا کماتے ہو، دنیا پسند ہوجاتے ہو۔۔ وہاں کام کرنے کیلئے اور زریعہ نہیں، صرف جنون کی کمائی ہے۔ روح بغیر کھانے کے صرف کھانے کے خواب دیکھنے سے اپنی بھوک مٹاتے ہیں۔
ایک بہت بڑا ہجوم ہے جو دلوں پہ مہر اور دماغوں میں قلف لگائے ہوئے ہیں۔ اور چل رہے ہیں۔ اور اتنا لمبا سفر طے کیا ہے کہ تاریخ کے اوراق بھی دھنگ رہ جائے۔ لیکن جب حال کی صورت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو کچھ ایسا ہے کہ دل خوں کے آنسو رویے، جان اپنا نوحہ پڑیں، خودی تڑپتے ہوئے مر جائے۔ ہر آنکھ سے آنسو نکلے اور اپنی بے بسی کا نغمہ گاتے ہوئے اپنی بے سبی کیئلے ڈھال بن جا ئے۔
المختصر جب کوئی کام فطرت کے خلاف ہو۔ تو وہ دیر تک نہیں ٹھرتا بلکہ  وقت اپنا رنگ دکھاتا ہے۔ جس فلسفے کے پیچھے من گھڑت داستا ن ہو۔ جو تصور کھوکھلی ہو، جو خواب بے چھین ہو۔ جو زندگی بے قیمت لگیں اور قربانی کا بکرا ہو۔  تو گرچہ یہ بات دل کو لگتی نہیں لیکن جذبوں کو ہلا دیتی ہے۔ کہ دشت جنوں کے روتے ارواح بے یارو مدددگار ہے۔ اور ان کو راستہ نہیں مل رہا ، اگر ملے گا بھی تو وہ دہشت ہے۔ یہ رو رہے ہیں، فریاد کرہے ہیں۔ لہذا  درمیانی راستہ اپنانا چایئے۔ پھر سے دوبارہ احیا کی ضرورت ہے۔ اور صراط مستقیم کی طرف لانے کی ضرورت ہے۔
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
2474

وزیر اعظم کا متوقع دورۂ چترال ………….. تحریر: محکم الدین ایونی

ماہ دسمبر میں وزیر اعظم کے دورۂ چترال کی توقع کی جارہی ہے ۔ گو کہ ابھی تک تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے ۔ تاہم یہ امید کی جا سکتی ہے ۔ کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی چترال کا ضرور دورہ کریں گے ۔ چترال کے عوام کیلئے یہ انتہائی خوشی کا مقام ہے کہ وزیر اعظم اپنے دورۂ چترال کے موقع پر گولین ہائیڈل پراجیکٹ ، گرم چشمہ روڈ ، کالاش ویلیز روڈ ز دروش چترال روڈ اور چترال میں گیس ڈپو کا افتتاح کریں گے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے اپنے قیام کے پہلے ہی روز سے چترال کی طرف بھر پور تو جہ دی ہے ۔ لواری ٹنل کا منصوبہ جو کہ مُردہ ہو چکا تھا ۔ اُسے دوبارہ زندہ کیا ۔ اور وافر مقدار میں فنڈ فراہم کرکے اسے تکمیل تک پہنچا یا ۔ بلکہ اب دیر اور چترال سائڈ پر اپروچ روڈ پر بھی کام انتہائی زور و شور سے جاری ہے ۔ اور لوگوں کو کام ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ اس سے یہ اُمید پیدا ہوتی ہے ۔ کہ جس طرح لواری ٹنل کی تکمیل خواب سے حقیقت کا روپ دھار گیا ۔ اسی طرح بہت کم عرصے میں چترال کے اندر سڑکوں کا جال بھی بچھایا جائے گا۔ اور چترال کے لوگ جو سفری مشکلات سے دوچار ہیں ۔ بہت جلد نجات پائیں گے ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف میں ایک خوبی ہمیشہ سے موجود ہے ۔ کہ وہ سڑکوں کی تعمیر میں شیر شاہ سوری جیسا جذبہ رکھتے ہیں ۔ اور انہوں نے اپنے دور اقتدار میں لوگوں کو آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے پر بھر پور توجہ دی ۔ مسائل کی ترجیح کے لحاظ سے دیکھا جائے ۔ تو چترال جیسے دور دراز ضلع میں محفوظ سڑکوں کی ضرورت پہلی نمبر پر ہے ۔ موجودہ چترال کی غربت کی ایک بہت بڑی وجہ ناقص سڑکیں ہیں ۔ جن کی وجہ سے تجارت سے لے کر تعلیم و صحت اور آمدورفت تک ایسا اضافی بوجھ عوام سہنے پر مجبور ہے ۔ جو اُن کی برداشت سے باہر ہے ۔ دوسرے شہروں کی نسبت چترال کے لوگوں کو دو سو سے پانچ سو گنا اضافی کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ ایسے حالات میں چترال کے اندر سڑکوں کی تعمیر سے معاشی حالات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ جو ٹرالر کراچی ، لاہور سے سامان لوڈ کرکے دیر میں اُنہیں اُتارنے پر مجبور ہیں ، وہ براہ راست چترال پہنچ جائیں گے ۔ اور سامان کے کرایوں میں غیر معمولی کمی واقع ہوگی ۔ جس کا براہ راست فائدہ چترال کے عوام کو ہو گا ۔ وزیر اعظم کے متوقع دورے سے یہ توقع بھی رکھی جا سکتی ہے ۔ کہ زیر تعمیر منصوبوں کے علاوہ بھی چترال کی تعمیر وترقی کیلئے اعلانات کریں گے ۔ گو کہ موجودہ وزیر اعظم کا اپنا منصب سنبھالنے کے بعد چترال کا یہ پہلا دورہ ہے ۔ لیکن اُنہیں چترال آنے سے پہلے ہی چترال کی مشکلات کے بارے میں خاصی معلومات حاصل ہیں ۔ شہزادہ مقصودالملک ایون کے ساتھ اُن کے خصوصی مراسم ہیں ،اور ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین کے ساتھ بھی اُن کا تعلق انتہائی قریبی ہے ۔ اسی طرح چترال کیلئے اُن کا حالیہ متوقع دورہ بھی ایم این اے کی کو ششوں کا نتیجہ ہے ۔ گذشتہ دو سالوں سے بعض مخالف سیاسی پارٹیاں ایم این اے چترال کی طرف سے چترال کی ترقی کے لئے کئے جانے والی کوششوں کی خبروں کو ناقابل یقین قرار دیتے تھے ۔ لیکن دیر آید درست آید کے مصداق یہ بات واضح ہو گئی ہے ۔ کہ وہ عوام کو دھوکا نہیں دے رہے تھے بلکہ عملی طور پر جدو جہد کر رہے تھے ۔ جن کے نتائج لواری ٹنل ، گولین ہائیڈل پراجیکٹ ، گرم چشمہ روڈ ، ایون روڈ ، تورکہو روڈ اور گیس پائپ لائن سمیت کئی منصوبوں کی صورت میں رو بہ عمل ہیں ۔ اور بعض منصوبے اپنے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں ۔ جو ایم این اے کی اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں ۔ اُن کا یہ فیصلہ بھی قابل تحسین ہے ۔ کہ انہوں نے باوجود دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی کے چترال کے مشکلات کو پیش نظر رکھ کر خود کو موجودہ حکومت کے ساتھ ایڈ جسٹ کیا ۔ اور مسائل حل کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ چترال کی تعمیر و ترقی اُن کا مطمع نظر رہا۔ اور چترال کے لوگوں نے اُن پر جو اعتماد کیا تھا، اُن مسائل کے حل کیلئے پارٹی کے خول میں بند رہنے کی بجائے باہر نکل کر وہ کام کئے۔ جو کسی پارٹی کے اپنے ایم این اے بھی نہیں کر سکے ۔ اس لئے ان کاموں کیلئے اُنہیں کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہوگی۔ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نے جاری منصوبوں کے علاوہ بھی چترال کے دیگر مسائل پر بھر پور توجہ دی ۔ 2015کے خوفناک سیلاب اور تباہ کُن زلزلے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے مصیبت کی گھڑی میں وقت ضائع کئے بغیر چترال کا ہنگامی دورہ کیا ۔ متاثرین سے ملے ۔ اور ہر متاثرہ سالم نقصان والے گھر کو دو لاکھ اور جزوی نقصان کے حامل مکانات کیلئے ایک لاکھ روپے کا اعلان کیا ۔ اور وفاق کی طرف سے 2ارب 19کروڑ روپے ضلع چترال کو فوری طور پر ریلیز کئے ۔ اس موقع پر چترال میں دو سو بستروں کے ہسپتال کا اعلان بھی کیا گیا تھا ۔ مگر بد قسمتی سے صوبائی حکومت کی طرف سے زمین کی فراہمی میں عدم تعاون کی وجہ سے یہ منصوبہ کٹائی میں پڑا ہوا ہے ۔ تاہم اس ہسپتال کی تعمیر جدید خطوط کے ساتھ انتہائی ضروری ہے ۔ وزیر اعظم کے متوقع دورے سے پہلے یہ ضروری ہے ۔ کہ چترال کے سیاسی قائدین اپنے سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف باہمی مشاورت سے مشترکہ سپاسنامہ تیار کریں ۔ جس میں سی پیک منصوبہ ، چترال تاجکستان روڈ ، آبی وسائل ، کلائمیٹ چینج ، ماربل سٹی سمیت دیگر مسائل کو شامل کیا جائے ۔ بلکہ شاندار استقبال کرکے مسائل حل کرنے کیلئے موجودہ وزیر اعظم کی خصوصی توجہ حاصل کی جائے ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
2472

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت شوہر…………. تحریر :شاہ روز خان

نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
بے شک تمہارے لئے رسول ﷺ کی زندگی قابلِ تقلید نمونہ ہے۔(القرآن) آپ ﷺ کی زندگی ایک مثالی شوہر کی حیثیت سے قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے مثالی اور بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کے نکاح میں 9 بیویاں آئیں۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ کو زندگی کے ان ادواراور مراحل سے گزار دیا جو مراحل قیامت تک امت مسلمہ کو پیش آنے والے تھے،تاکہ ہر مرحلے کا اسوہ اور نمونہ موجود رہے۔آپ ﷺ کی زندگی بحیثیت شوہر اور رفیقِ حیات ،قابل تقلید اور نمونہ ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے بھلا آدمی وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لئے بھلا ہو۔ایک بار ایک صحابی جو زہد وعبادت میں مشغول رہتے تھے ،اور اپنی اہلیہ سے غافل رہتے تھے ،آپ ﷺ نے اسے بلوایا اور فرمایا:’’ تمہاری رفیقہ حیات کا بھی تم پر حق ہے‘‘۔

بیوی کے حقوق کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں فرمایا:’’جو خود کھاؤاس کو بھی کھلاؤ،جو خود پہنو اس کو بھی پہناؤ،نہ اسے مارو، نہ اسے برا بھلا کہو‘‘۔اسی قسم کی بیویوں کے حقوق کے سلسلے میں کئی روایات موجود ہیں۔آپ ﷺکی سیرت پر نگاہ ڈالنے سے پہلے ایک مثالی شوہر میں کون سے اوصاف ہونے چاہئے ،ہم ایک نظر ا ن اوصاف پر ڈال لیتے ہیں ۔بیوی سے محبت کرنے والا ہو،اس کی ضروریات زندگی پورا کرنے ولا ہو،شریعت کو مد نظر رکھ کر اپنی حیثیت کے مطابق بیوی کی جائز خواہشات اور فرمائشوں کو پورا کرنے والا ہو،ایک سے زائد بیویوں میں حقوق کی عادلانہ تقسیم کرنے والا ہو، ان خوبیوں کو مد نظر رکھ کر آ پ ﷺ کی ازدواجی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو شرط اول یعنی ’’ محبت‘‘ کے بارے میں سوچنا ہی ایک سعی لاحاصل ہے۔کیوں کہ آپ ﷺ تو سراپا محبت تھے،آپ ﷺ کی محبت تو باد صرصر کی طرح بحر و بر کے چپے چپے ، کونے کونے میں پھیلی ہوئی ہے۔جاندار تو کیا بے جان بھی آپ ﷺ سے محبت کرتے تھے۔

ایک دفعہ جب آپ ﷺ حضرت عمر ؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ حضرت عثمانؓ کے ساتھ احد پہاڑ پر تشریف لے گئے تو احد پہاڑ آپ ﷺ کی آمد کی خوشی میں تھرتھرانے لگا۔مسجد نبوی میں جب محراب بن گیا تو کھجور کے تنے سے آپ ﷺ کی جدائی میں سسکیوں اور آہوں کی آوازیں آنے لگیں ۔آپ ﷺ کا پیغام اور مشن محبت تھا ۔اسی محبت کی وجہ سے آپ ﷺ نے پوری انسانیت کو اپنا گرویدا بنالیا تھا ،جو اپنو ں سے نہیں ،دشمنوں سے بھی محبت کرتے تھے ،ایسی محبت کرنے والی ہستی کا ازواج مطہرات کے ساتھ محبت کا کیا ٹھکانہ ہوگا ۔آپ ﷺ نے عرب جیسے جاہل اور انسانیت سے عاری معاشرے میں جو محبت کر کے دیکھائی اور سکھائی،اس کے لئے حضرت عمرؓ کا قول ہی کافی ہے:’’ ہم لوگ اسلام سے پہلے عورت کو کچھ نہیں سمجھتے تھے،اسلام نے عورت کے لئے احکام نافذ کئے اور ان کے حقوق مقرر کئے‘‘۔

آپ ﷺصحابہ کرامؓ کو بار بارمتوجہ فرمایا کرتے تھے۔بشریت کی بنا پر ازواج مطہرات کبھی کبھار آپ ﷺ سے نارضی کا اظہار کرتی تھیں ،یا یہ ایک ’’ناز‘‘کا انداز ہوتا تھا ۔یہ اظہار کس طرح ہوتا تھا یہ بھی سنئے۔آپ ﷺ نے حضرت عائشہ سے فرمایا :’’ جب تم مجھ سے ناراض ہو تی ہو تو میں سمجھ جاتا ہوں ،حضرت عائشہ نے فرمایا یا رسول اللہ وہ کیسے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کسی بات پر قسم کھاتی ہو تو محمد کے رب کی قسم کھا کر کہتی ہو ،اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو ابراہیم کے رب کی قسم کھا کر کہتی ہو۔حضرت عائشہؓ نے عرض کیا :’ ’ جی ہاں یا رسول اللہ (ناخوشی میں) میں آپ کا نام چھوڑ دیتی ہوں ‘‘۔ آپ ﷺ کی عمر مبارک اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کی عمر میں بہت زیادہ فرق تھا۔حضرت عائشہؓ کمسن اور بچگانہ ذہن تھیں ،جب کہ آپ ﷺ ذہین اور سنجیدہ مزاج تھے ۔آپ ﷺ پربار نبوت کی بھاری ذمہ داری ، امت کی دن رات فکر تھی،اسی لئے آپ ﷺ بہت کم ہنستے تھے،لیکن اس کے باوجود حضرت عائشہؓ کے ہر ناز وادا اٹھاتے،ان کی دلجوئی کرتے،اور سیرو تفریح میں کوئی کثر نہیں چھوڑتے تھے۔

ایک دفعہ عید کے موقع پر چند حبشی نوجوان مسجد نبوی کے قریب تماشہ دکھا رہے تھے،حضرت عائشہؓ نے بھی تماشہ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔آپ ﷺ دروازے میں کھڑے ہوئے اور عائشہ ؓ نے اپنی ٹھوڑی آپ ﷺ کے کاندھے مبارک پر رکھ کر کھیل دیکھا ۔آپ ﷺ اس وقت تک نہیں ہٹے جب تک حضرت عائشہ ؓ خود تھک کر نہیں ہٹیں۔ایک دفعہ آپ ﷺ اور حضرت عائشہ ؓ کے درمیان دوڑ کا مقابلہ ہوا ،عائشہ ؓ دبلا پتلا ہونے کی وجہ سے آگے نکل گئیں،کچھ عرصہ بعد دوبارہ مقابلہ ہوا تو آپ ﷺ جیت گئے ،اور عائشہ ؓ پیچھے رہ گئیں ،آپ ﷺ نے پہلے والا مقابلہ یاد دلایا، کہ اس کا بدلہ ہے۔ایک سفر میں ازواج مطہرات بھی ساتھ تھیں ،ساربانوں نے اونٹوں کو دوڑانا شروع کیا ، جب آپ ﷺ کو خواتین کا خیال آیا تو فرمایا :’’ دیکھ کر ! آب گینیں (عورتیں ) بھی ساتھ ہیں ۔آپ ﷺ گھر کا ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرتے۔گھر میں جھاڑو لگاتے ،اپنے پھٹے ہوئے پکڑے خود سیتے،بکری کا دودھ دوہتے،آٹا گوندتے، غرض ہر کام میں ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹا کر ان کی دل جوئی اور حوصلہ افزائی ٖفرمایا کرتے تھے۔بے شک آپ ﷺ ایک مثالی شوہر تھے۔
گر سنت نبوی کی پیروی کرے امت….
طوفانوں سے نکل جائے گا پھر اس کا سفینہ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
2470

ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے زیر تعمیر گرڈ اسٹیشن کا دورہ کیا، کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخار الدین نے بدھ کے روز چترال میں زیر تعمیر گرڈ اسٹیشن کا دورہ کیا اور کام کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی تاکہ اگلے ماہ کے وسط تک وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ چترال تک اس کی تکمیل کو یقینی بنایاجاسکے ۔ انہوں نے اس موقع پر علاقے کے معززین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سب ڈویژن مستوج کو گولین گول ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ سے بجلی دینے کے لئے انہوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے تمام تر انتظامات مکمل کرالیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کے زیر انتظام ادارہ پیڈو کے ساتھ معاہدے کا عمل باقی ہے کیونکہ اس علاقے میں بجلی کی سپلائی پیڈ و کے ساتھ رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ حال ہی میں چترال کے اندر وفاقی حکومت کی فنڈز سے سڑکوں کی تعمیر کے لئے این ایچ اے نے ٹینڈ ر بھی طلب کرلیا ہے جس کے بعد ان منصوبوں کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں کو ختم ہونا چاہئے۔ اس موقع پر ممبر ضلع کونسل شہزادہ خالد پرویز بھی موجود تھے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged ,
2457

محکمہ تعلیم میں ڈسٹرکٹ پرفارمنس ایولیویشن سسٹم کے نام سے نیا سسٹم متعارف کرایا جائے۔۔چیف سیکریٹری

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس چیف سیکرٹری کے دفتر میں منعقد ہواجس میں محکمہ تعلیم کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ ڈسٹرکٹ پرفارمنس ایولیویشن سسٹم کے نام سے نیا سسٹم متعارف کرایا جائے جو کہ ہر ڈسٹرکٹ کی کارکردگی کو جانچے گا اور تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بنانے کیلئے جو اہداف رکھے گئے ہیں اس کی رینکنگ ہرماہ چیف سیکرٹری کے دفتربھجوائی جائے۔انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں خالی 17342اسامیوں کی این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی مکمل کی جائے۔انہوں نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو خصوصی ہدایت کی کہ اخلاقی،سماجی اور معاشرتی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ تعلیم،صحت،صفائی ستھرائی،خواتین،بچوں بزرگوں اور اساتذہ کا احترام،ماحولیات اور روزمرہ تمدن پر مبنی اخلاقیات نصاب میں شامل کئے جائیں۔اس موقع پر سیکرٹری تعلیم نے چیف سیکرٹری کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اس سال 100فیصد بجٹ بہتر تعلیم کی فراہمی پر خرچ کیا جائے گا۔محمد اعظم خان نے کہا کہ نئے طریقہ کار کے تحت ناقص کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے طریقے انہیں بتائے جائیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ جون 2018تک تمام سکولوں کو بنیادی سہولیات سے آراستہ کیا جائے اور کہا کہ ایجوکیشن واوچر سکیم کے تحت 75000بچوں کو سکولوں تک رسائی دی جائے۔چیف سیکرٹری نے ہدایات دیں کہ گرلز کمیونٹی سکولز کے تحت 50000بچیوں کو سکولوں میں داخل کیا جائے، نصابی معیار کو بہتر بنانے کے لئے تمام انسانی وسائل بروئے کار لائے جائیں اور معیاری نصاب کیلئے ٹیکسٹ بک بورڈ ایبٹ آباد کے تجربات سے استفادہ کیا جائے۔سیکرٹری تعلیم نے چیف سیکرٹری کو سکول بیسڈبجٹنگ اورٹریکنگ سسٹم کے نئے اقدامات سے آگاہ کیا جس پر چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ سکولوں میں جدید سائنسی،آئی ٹی،ٹیکنالوجی،انجینئرنگ اور ریاضی علوم پر مشتمل عملی تجربات کے لئے لیبارٹریز قائم کی جائیں اور کہا کہ یہ لیبارٹریز سیکنڈ شفٹ کے لئے بھی زیر استعمال لائی جائیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ طلباء کی ہچکچاہٹ دور کرنے اور تعلیمی معیار بہتر کرنے کے لئے بھی نئے تجربات کئے جائیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , ,
2429

صدا بصحرا …………. حزب اللہ کے خلاف مہم ……….. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

خبر آئی ہے کہ عرب لیگ کا اہم اجلاس ہنگامی طور پر مصر کے دار لحکومت قاہرہ میں بلایا گیا مصر کے فوجی صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنی وزارت خارجہ کو میزبانی کا حکم دیا سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے اجلاس کی صدارت فرمائی گئی اجلاس میں عراق اور لبنا ن کے نمائیندے شریک نہیں ہوئے شام اور یمن کو دعوت نہیں دی گئی 20 ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اتفاق رائے سے فلسطینی مسلمانوں کی حریت پسند تنظیم حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد منظور کر کے اپنا فرض ادا کیا حسن نصر اللہ کی تنظیم حزب اللہ دنیائے اسلام کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ہے لبنان کے عیسائی بھی اس تنظیم پر اپنی جان قربان کرتے ہیں جو لائی اگست 2006 ؁ ء میں 50 دنوں کی لڑائی کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل کے توپوں ،راکٹوں اور میزائلوں کو خاموش کر دیا تھا اب بھی اسرائیل کو حزب اللہ کی طاقت سے شدید خطرہ ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی حزب اللہ کو دھمکی دی تھی امریکی وزیر دفاع نے سینٹ کی خارجہ کمیٹی میں کہا تھا کہ ہم اسرائیل کی راہ میں کوئی ناگوا ر رکاوٹ باقی نہیں رہنے نہیں دینگے لیکن ایسی بے شمار وجوہات ہیں جن کی بنا پر امریکہ یہ کام خود نہیں کرتا سعودی عرب اور مصر سے کام لیتا ہے کویت ،بحرین ،اردن اور متحدہ عرب امارات سے کام لیتا ہے اومان ،مسقط اور دیگر عرب ملکوں سے کام لیتا ہے معمر قذافی کو شہید کرنے کے بعد لیبیا پر امریکہ نے قبضہ کیا تھا اب لیبیا سے کام لے رہا ہے ۔
تیر کھاکے دیکھا جو کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

اب کیا ہوگا ؟اسرائیل اور امریکہ کے وزرائے خارجہ عر ب لیگ کی قرار داد کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں لے جائینگے جب قرار داد پیش ہوگی تو روس اس کو ویٹو کر رے گا دوسری بار قرار داد آئیگی تو چین ویٹو کر رے گا ’’پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ‘‘یہ 100 سال پہلے کا قصہ ہے 1917 میں برطانوی وزیر خارجہ بالفور نے شریف مکہ اور آل سعود کے جدّا مجد شیخ سعود کیساتھ معاہدہ کیا یہ پہلی جنگ عظیم کا زمانہ تھا معاہدہ میں تین باتیں تھیں پہلی بات یہ تھی کہ جنگ میں ہٹلر کو شکست دینے کے بعد سلطنت عثمانیہ کو ختم کر کے ترکی کو چار ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے گا چاروں ٹکڑے برطانیہ کے غلام ہونگے عربوں کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا دوسری بات یہ تھی کہ شریف مکہ کو اردن میں بادشاہت دی جائیگی اور شیخ سعود کی اولاد کو حجاز مقدس کا بادشاہ تسلیم کیا جائے گا تیسری بات یہ تھی کہ فلسطین سے عربوں کو بے دخل کر کے یہاں یہودی ابادکاروں کی بستیاں تعمیر کی جائینگی اور 32 سالوں کے اندر یہاں ایک یہودی ریاست قائم کی جائے گی شریف مکہ اور شیخ سعود نے معاہدے پر دستخط کئے بالفور (Balfour) نے اس کا اعلامیہ جاری کیا تاریخ میں 100سال پرانی اس دستاویز کو بالفور ڈیکلریشن کہا جاتا ہے 1919 ؁ ء میں پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تو بالفور ڈیکلریشن پر عملد رآمد شروع ہوا شریف مکہ اور شیخ سعود کو باد شاہت ملی سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا علامہ اقبال نے کہا؂
اگر عثمانیوں پہ کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

سلطنت عثمانیہ کے حق میں پاک و ہند کے مسلمانوں نے تحریک چلائی اُسے تحریک خلافت کہا جاتا ہے مولانا محمد علی جوہر ؒ ،مولانا شوکت علی ،مولانا عبیداللہ سندھی ؒ اور ترکستانی مسلمانوں کے لیڈر امام موسیٰ جار اللہ کے نام آج بھی عزت اور احترام سے لئے جاتے ہیں ریشمی رومال تحریک کا ذکر آج بھی ہوتا ہے ترکی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا مرحلہ آیا تو مصطفی کمال اتاترک دشمن کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑا ہوا مگر اردن اور سعودی عرب کے بادشاہوں کی مدد سے فلسطنیوں کو فلسطین سے بے دخل کیا گیا یہودیوں کو وہاں بسایاگیا لبنان کے صابرہ اور شتیلہ کیمپوں میں فلسطینی مہاجرین پر امریکہ نے کئی بار بمباری کی حزب اللہ انہی فلسطینی مسلمانوں کی تنظیم ہے حسن نصراللہ ان کا لیڈر ہے 1917 ؁ ء میں ایک ریڈ انڈین واشنگٹن گیا تو ٹکٹ چیکر نے ان سے پوچھا ’’میرا شہر تمہیں کیسا لگا ؟ریڈ انڈین نے سوال کیا ،پہلے یہ بتاؤ میر ا ملک تمہیں کیسا لگا ؟2017 ء میں ایک فلسطینی سیاح یروشلم گیا تو اسرائیلی سپاہی نے یہی سوال پوچھا ،فلسطینی سیاح نے یہی جواب دیا آج بھی فلسطینی اپنے وطن کی آس لگائے بیٹھے ہیں حزب اللہ ان مہاجرین کی اولاد نے قائم کی ہے کتنے دکھ کی بات ہے کہ ان کو اسرائیل اور امریکہ سے اتنا خطرہ نہیں جتنا خطرہ سعودی عرب ،مصر اور عرب لیگ سے ہے یہ بھی دکھ کی بات ہے کہ مظلوم فلسطینی مہاجرین آج مدد کیلئے روس اور چین سے اُمید لگائے بیٹھے ہیں حزب اللہ کے خلاف مہم 100 سالہ تاریخ کا تسلسل ہے

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
2349

انسانی تہذیب و تمدن میں عورتوں کا کردار …………….. ڈاکٹر ساجدخاکوانی

(25نومبر،خواتین پرزیادتی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)

[email protected]
مرد جب مردانیت میں اپنی حدود پھلانگتاچلاجائے اور عورت کی کمزوری سے فائدہ اٹھاکراسے ظلم و تعدی کا شکار بنادے،اسے اس کے حقوق سے محروم کرتے ہوئے اس کے ساتھ ناجائزرویہ روارکھے،اسکے ساتھ وہ سلوک کرے کہ جس کی اجازت اسے کسی نے نہ دی ہو،مذہب،معاشرت،قانون اور اخلاقیات سب کی دھجیاں بکھیر دی جائیں اورعورت کو اپنی دست درازیوں کا نشانہ بنایاجانے لگے،اور پھر کوئی اس مرد کا ہاتھ روکنے والا بھی نہ ہو اور نہ ہی کوئی چوکھٹ عورت کی آہ و بکا کی شنوائی کے لیے مہیاہوتو ایسے میں عورت کی حیثیت اور جانور کی حیثیت کی بھلا کیا فرق رہ جائے گا؟؟؟وقت کے ساتھ ساتھ عورت پر تشدد کے طریقوں نے بھی نت نئے روپ تلاش کرلیے ہیں۔گھرمیں عورتوں سے عورتوں کاکام لینااور بازارمیں عورتوں سے مردوں کاکام لینا،گھرمیں عورتوں سے بچوں کی پرورش کروانا اور دفتروں میں دولت کی پرورش کے لیے عورتوں کااستحصال کرنااورگھرمیں سسرال اورمیکے کی سیاست میں عورتوں کومرکزومحوربنانااور اقتدارکے ایوانوں کے لیے گلی محلے کی سیاست میں عورتوں کی نسوانیت کوبالوں سے پکڑکرمٹی پرگھسیٹنااوران کی عزت و عصمت کو میڈیاکے بازاربے وقارکے اندر تبصروں کے غلظ جوہڑمیںآلودگیوں سے لت پت کردینادراصل عورت پرتشدداورزیادتی کی بڑی ہی بے ہودہ تصاویرہیں۔

قدرت نے مرداورعورت دونوں کے درمیان خوبصورت توازن برقرار رکھا ہے،طاقت ایک کو دی ہے توحسن وکشش دوسرے کو دے دی ہے،ایک کی گود میں اولاد رکھی ہے تو دوسرے کے ہاتھ میں رزق کی باگ دوڑ تھادی ہے،ایک کوچاہنے کی خواہش دی ہے تودوسرے کوچاہت کی مرکزیت عطا کر دی ہے اوردونوں کے درمیان ایسی کشش رکھی ہے کہ جدا ہوتے ہوئے بھی باہم ایک ہی ہوتے ہیں اگرچہ ان کے درمیان کوسوں دورکے فاصلے ہی کیوں نہ حائل ہو جائیں۔قدرت کا یہ عطا کردہ توازن جب تک معاشرے میں حقوق و فرائض کی ادائیگی صور ت میں موجود رہتا ہے انسانی معاشرہ بگاڑ سے محفوظ رہتا ہے مگر جہاں جہاں اس توازن کو چھیڑ دیا جائے وہاں انسانی معاشرہ بھی عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔دنیا کے کتنے ہی معاشرے ہیں جہاں عورت کو اسکے اصل مقام سے ہی نہیں بلکہ اسے مقام انسانیت سے بھی نیچے گرا دیا جاتا ہے۔اسکے مقابلے میں جانور کی زیادہ قدر کی جاتی ہے بلکہ بعض مذاہب میں تو جانوروں کی پوجا تک کی جاتی ہے جبکہ عورت کو جنس بازار سے بھی کم تر اہمیت دی جاتی ہے۔ہندومعاشرہ اسکی سب سے بدترین مثال ہے جہاں عورت کو جہیز کے پیمانے میں تولا جاتا ہے ۔کتنے دکھ کی بات ہے کہ سیرت و صورت ،تعلیم و تربیت،سلیقہ و طریقہ اور اخلاق و برباری جونسوانیت کے تاریخی وحقیقی جوہر ہیں جن کاوزن عورت کی نسوانیت میں بڑھوتری کا باعث ہوتا ہے ان سب کی بجائے ہندومت میں عورت کو اس کے لائے ہوئے جہیزمیں تولا جاتا ہے ،اگرجہیز زیادہ ہو تو عورت قیمتی ہے بصورت دیگرعورت کی قبولیت کے امکانات کم سے کم تر ہیں۔ہندؤں کے ساتھ صدیوں تک رہتے ہوئے مسلمانوں کے ہاں بھی ہندؤں کے رسوم و رواج جاری رہنے لگے۔اگرچہ دوقومی نظریہ اسی تاثر سے ارتقاء پزیر ہوا کہ ہندواورمسلمان دو الگ الگ اقوام ہیں لیکن آزادی کے بعد بھی بہت سی ہندوانہ رسمیں مسلمانوں کے معاشروں میں جگہ پاتی گئیں اور اب رہی سہی کسرہندوستان سے درآمد کی گئی اس ثقافت نے پوری کردی ہے جوفلموں کے ذریعے آئی۔چنانچہ مسلمانوں کے ہاں بھی جہیز ضروری سمجھاجانے لگااور شادی کی بے پناہ رسومات اور کثرت سے تحائف کے لین دین نے شادی کو جہاں مشکل تر بنا دیاوہاں لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جانے لگا جو یقیناََ ہندومت کے رسوم کا منطقی نتیجہ تھا۔

ان بے جا رسومات کے بہت برے اثرات معاشرے پر پڑتے گئے اوربیٹی کو بوجھ سمجھنے والوں نے بیٹی کی پیدائش پر کھل کر ناپسندیدگی کا اظہار شروع کیااور آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے لڑکی کی چھوٹی عمر سے ہی اسکا جہیز بنانا شروع کر دیاتاکہ اسے عزت کے ساتھ رخصت کیا جا سکے گویاپہلے دن سے ہی بیٹی والدین کے بجٹ پر ایک اضافی ذمہ داری بن گئی۔اس ذمہ داری کو نارواسمجھنے والے باپ اور بھائی کا رویہ بھی بیٹی اور بہن کے لیے ناقابل برداشت ہوتا گیااور جیسے جیسے شادی کا وقت قریب آتا گیاذمہ داران کے ذہنی تناؤ میں اضافہ ہوتا گیااور ایسا رشتہ تلاش کیا جانے لگا جہاں کم سے کم جہیز دینا پڑے اور ظاہر ہے ان پڑھ،جاہل،معذور،رنڈوا،پسماندہ یااسی قبیل کا ہی کوئی مرد کم جہیزپرراضی ہو سکتا ہے جس کے ساتھ عورت کو ساری عمر کے لیے باندھ کراسے جیتے جی یوں دوزخ میں ڈال دیا کہ وہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر بھی ہمیشہ غیرمطمعن رہے،اسکے خواب چکنا چور ہوجائیں اور شوہر بھی ساری عمر اسے کم جہیزلانے کی پاداش میں جوتے کی نوک پر رکھے۔کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اسکی اولاد جسے وہ اپنے سینے کے چشموں سے سیراب کرتی ہے،اسکی گیلی کی ہوئی جگہ پر خود سوتی ہے اور اور اپنے گرم بستر پر اسے سلاتی ہے،اسکی خاطر اپنی جوانی تج دیتی ہے ۔وہی اولاد بڑی ہوکر اسے جوئے میں ہار دیتی ہے اور گھر بیٹھی ماں کسی دوسری کی ملک ہوجاتی ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو توشادی کے بعد ساس بہو کے جھگڑوں میں کتنے فیصدنوجوان ماں کی مامتا کو اسکی حقیقی روپ میں دیکھتے ہیں اور کتنے ہی ہیں جواپنی جورو کو لیے کسی نئے گھروندے میں حوا کی بیٹی پر ظلم و ستم کی ایک نئی داستان رقم کرنے کے لیے چل نکلتے ہیں۔شوہر فوت ہوجائے تو عورت کا حق زندگی ہی باقی نہیں رہتا اور’’ ہندومذہب‘‘کہتا ے کہ اسے شوہر کی چتا کے ساتھ نذرآتش کردو۔باپ فوت ہوجائے یا بیٹاہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے جائے یا شوہر جیسا جیون ساتھی چل بسے عورت کو کسی کے ترکے میں سے کچھ نہیں ملنے والا وہ ہمیشہ سے محروم رہی اور اب بھی محروم ہی رہے گی۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نسوانیت کے بغیر انسانیت کی تکمیل ممکن ہی نہیں۔انسان ایک عورت کے پیٹ میں ہی اپنے آغازکی ابتدا کرتا ہے اس کی گود میں پرورش پاتاہے اس کے سینے سے سیراب ہوتا ہے اوراسی ماں کی لوریاں اسکی تعلیم کا پہلا سبق ہوتی ہیں وہی اسکی پہلی استاد ہوتی ہے اور نہ جانے قدرت والے نے اور کتنے ہی کردار اس ماں کی ذات میں جمع کر رکھے ہیں۔نسوانیت سے مستعار ماں کا یہ مقام اتنا بڑا منصب ہے کہ جنت جیسی جگہ بھی اسکے قدموں کے تلے آن ٹہرتی ہے۔اﷲ تعالی نے اپنے اقتدار کے لیے،اپنے خزانوں کے لیے،اپنی طاقت کے لیے یا اپنے غضب کے لیے کوئی مثال پیش نہیں کی ہے سوائے اس کے کہ اﷲ تعالی نے اپنی رحمت کے لیے ماں کی محبت کو مستعار لیا کہ ماں سے ستر گنا زیادہ محبت کرنے والا۔جنت سے بڑھ کر کوئی خوبصورت اور دلنشین مقام اس کائنات میں نہیں ہے۔اﷲ تعالی نے جب حضرت باباآدم علیہ السلام کو اس مقام پر جگہ عطا کی توانہوں نے بارالہ میں تنہائی کی شکایت کی جس کے بعد انہیں ایک خاتون،اماں حوا کی معیت عطا کی گئی،گویا جنت جیسی جگہ پر بھی بغیر عورت کے انسان کا دل نہ لگا۔یہ نظام قدرت ہے کہ مرد عورت کے بغیر اور عورت مرد کے بغیر نامکمل ہے،دونوں کے اختلاط سے ہی جہاں نسل انسانی کی بقا ممکن ہے وہاں تہذیب و تمدن کے ارتقاء کے کیے بھی دونوں کا اشتراک کار بے حد ضروری ہے گویا کہ مرد اور عورت ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں۔

عورت کی محرومیاں ہمیشہ سے سنجیدہ انسانوں کا موضوع رہی ہے اور ہر مفکروفلسفی اور موسس اخلاق نے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔قدیم یونان میں صدیوں یہ بحث چلتی رہی کہ عورت انسان بھی ہے کہ نہیں اور اس دور کی کتنی ہی کتب آج بھی اس بحث کو پیش کرتی ہیں،قدیم عرب معاشرے میں عورت کی حیثیت کسی سے ڈھکی ثھپی نہیں ہے اور ماضی قریب تک میں عورت کے دو ہی روپ سامنے آتے ہیں یا تو وہ ظلم کی چکی میں پستا ہواایک بے حقیقت دانہ ہے یا پھر اس بازار کی زینت ہے جہا ں صبح و شام گاہگ اسکی طلب میں آسودگی حوس نفس کے لیے آتے ہیں اور وہ انہیں ناچ کر دکھاتی ہے اور گا کر سناتی ہے یاپھر راتوں کو روزانہ ایک نئے مرد کا بستر گرم کر کے تو اپنے پیٹ کے لیے دو وقت کے ایندھن کا انتظام کرتی ہے۔لکھنو کے نواب ہوں یا دہلی کا دربارکلیسا و دیر ہوںیااسمبلی و پارلیمان یا دنیا بھر کے مشرق و مغرب کے مہذب و غیرمہذب معاشرے ہوں عورت کی کہانی ہر جگہ یکساں ہی رہی ہے۔

ہمیشہ کی طرح آج کی پورپی تہذیب کے انسانی عالی دماغوں نے بھی عورت کے مسانئل کا حل تلاش کیا اور پیش بھی کیا۔کم و بیش تین سو سالوں سے یورپی تہذیب نے عورت کو حقوق نسواں کے نام سے ایک آزادی دے رکھی ہے تاکہ اسکے مسائل حل ہو جائیں،لیکن یہ آزادی بھی چونکہ ’’مردوں‘‘نے ہی دی ہے اس لیے اسکی حقیقت بھی اس سے زیادہ نہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دہرا رہی ہے۔عورت کو سرمیدان لا کر اسکی ذمہ داریوں میں کمی تو نہیں کی گئی لیکن معاش کا ایک اور بوجھ بھی اسکے کندھوں پر ضرور ڈال دیا گیا ہے۔پہلے وہ صرف شوہر کی دست نگر تھی تو اب اسے شوہر کے ساتھ ساتھ اپنے باس اور اپنے رفقائے کار کا بھی’’دل لبھانا‘‘پڑتا ہے۔اس نام نہاد جدید لیکن غیرفطری تہذیب نے عورت کی فطری ذمہ داریاں جو اسکی گود ،اسکی اولاد،اسکا خاندان اور اسکے گھر سے عبارت تھیں انکی بجائے عورت کو سیاست،دفاع،معاش اورانتظامی امور کی طرف دھکیلنے کی بھونڈی کوشش کی ہے،جس کے نتیجے میں خاندانی نظام اور اخلاقی معیارات اپنے تنزل کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔

اس غیر فطری سلوک کا نتیجہ ہے کہ عورت سے اسکانسوانی حسن چھن گیا ہے،لفظ’’عورت ‘‘جس کا مطلب ہی چھپی ہوئی چیز ہے اسکو عریاں سے عریاں تر کیا جا رہاہے۔عورت کی اس غیرفطری آزادی سے نسلیں مشکوک ہوتی چلی جا رہی ہیں اور یورپ کے مفکرین اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ انکے معاشرے سے آہستہ آہستہ باپ آشنا بچے اور باپ ناآشنا بچوں کا فرق مٹتاچلا رہا ہے۔عورت کی آزادی کا منطقی نتیجہ معاشرے کی وہ آشنائیاں ہیں جو صدیوں کے قائم کیے ہوئے تاریخی انسانی اخلاقی اقدار کو داغدار کرتی چلی جا رہی ہیں اور پھر کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہے کہ اس غیرفطری آزادی نے جو یورپ نے عورت کو تھوک کے حساب سے فراہم کر دی ہے تقدیس کا دامن بھی کس کس طرح تار تار کر دیا ہے؟اور مقدس رشتوں کے درمیان بھی حوس نفس کس طرح در آئی ہے۔اور پھر کیا اس طرح اس معاشرے کو آسودگی حاصل ہو گئی ہے؟اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم جنسیت اور جانوروں تک سے تعلقات استوار کرنے والے اب اس دلدل میں اندر سے اندر دھنستے چلے جا رہے ہیں۔

عورت کی اس آزادی کے خلاف اگر چہ ہمیشہ سے ایک دبی دبی آوازاٹھتی رہی ہے لیکن اب تو عورتوں ہی کی کتنی نجی تنظیمیں خود یورپ کے اندر قائم ہو چکیں ہیں جن کے مطالبات میں سے سرفہرست یہی ہے انہیں انکی فطری ذمہ داریاں لوٹا دی جائیں اور دنیا کے کاروبارمعیشیت وسیاست وغیرہ سے انہیں سبکدوش کر دیا جائے،حال ہی میں جاپان میں عالمی مقابلہ حسن کے موقع پر جن خواتین نے اپنے فطری حقوق کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کیا اسکی قیادت کرنے والی ہالی وڈ جیسے عالمی شہرت یافتہ فلمی ادارے کی سابق ہیروئن تھی۔
اﷲ تعالی خالق نسوانیت ہے اور خاتم النبیینﷺ محسن نسوانیت ہیں اور اﷲ تعالی کے بھیجے ہوے دین سے بڑھ کر کوئی نظام انسانوں کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔اسلام نے فرائض کے مقام پرمعاشرے کے سب طبقوں کو جمع کیا ،سیکولریورپی تہذیب نے حقوق کے نام پر سب طبقوں کو باہم لڑا دیا ہے۔ایشیا کے پرامن مشرقی روایات کے حامل معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے نام پر جنس متضاد کے درمیان ایک غیراعلانیہ جنگ اس معاشرے کو تباہ کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔عورتوں کے مسائل سمیت کل انسانوں کے کل مسائل کاحل صرف دین اخروی کے اندر ہی پنہاں ہے اور خطبہ حجۃ الوداع سے بڑھ کر اور کوئی دستاویزانسانوں کے حقوق کی علمبردار نہیں ہو سکتی۔عالم انسانیت کوآسودگی ،راحت ،امن و آشتی،پیارومحبت اورحقوق وفرائض کے درمیان توازن کے لیے بالآخر اسی چشمہ فیض کی طرف ہی پلٹنا ہوگاجوانبیاء کی دعوت کا خلاصہ اور اﷲ تعالی کااس دنیا میں آخری پیغام ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
2297

پبلک سروس کمیشن نے محکمہ اعلیٰ تعلیم میں خاتون پروفیسرکی اسامیوں کیلئے سیلکشن کو حتمی شکل دیدی

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن نے محکمہ اعلیٰ تعلیم میں خاتون اسسٹنٹ پروفیسر اردو(بی ایس۔18)کی آٹھ اسامیوں کیلئے سیلکشن کو حتمی شکل دے دی ہے اور اس سلسلے میں اپنی سفارشات 22نومبر2017کو متعلقہ محکمے کو بھیج دی ہیں۔اس امر کااعلان انچارج میڈیا سیل خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے ایک اعلامیے میں کیا گیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
2285

بجلی شیڈنگ کے خلاف خواتین کی احتجاجی مظاہرہ کے خلاف درج مقدمہ کافیصلہ عوام کی جیت ہے۔خدیجہ

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) عوامی نیشنل پارٹی ملاکنڈ ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری اور صوبائی کونسل کے ممبر خدیجہ سردار نے کہا ہے کہ انھوں نے پہلی مرتبہ خواتین کو لیکر چترال کے عوام کی حقوق کیلئے آواز اُٹھائی تھی ۔ جو حق او ر سچ کی آواز تھی یہی وجہ ہے کہ آج چترال کی عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ دیکر یہ ثابت کردیا کہ ہم حق پر تھے۔ چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ دو سال پہلے انھوں نے دیگر خواتین کو لیکر جغورکے مقام پر بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ جبکہ ان کے مخالفین نے ان کے خلاف پولیس میں سڑک بند کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کروائے تھے۔ جو کہ انسانی حقوق کے خلاف ورزی تھی جبکہ ہم نے انسانی حقوق پامال ہونے کی وجہ سے احتجاج کئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ آٹھارہ دنوں سے اسلام آباد میں سینکڑوں افراد سڑک بلاک کرکے دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں مگر ان کے خلاف ابھی تک کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوئی ہے ۔ جبکہ ہم نے صرف ایک گھنٹہ روڈ پر احتجاج کیا تو قانون کے گرفت میں آئیے۔ تاہم ہمیشہ حق اور سچ کی جیت ہوتی ہے۔ یہی ہوا کہ آج ہم سول جج کی عدالت سے باعزت طور پر بری ہوگئے۔ جوکہ ہمارے مخالفین کی ناکامی اور چترال کے عوام کی جیت ہے۔ انھوں نے مذید کہا کہ میں چترال کے عوام کی حقوق کیلئے آئندہ بھی لڑتی رہونگی ۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , ,
2280

“چترال اور اقدام خودکشی”………..دلشاد پری بونی

چترال میں آئے روز خود کشی اور اقدام خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ زیادہ تر واقعات گھریلو ناچاقی، کسی لڑکے کا لڑکی کے ساتھ فراڈ کرنے یا شادی شدہ مرد کا غیر شادی شدہ بن کے لڑکی کے ساتھ پیار کی پینگین بڑھانے کی وجہ سے ہیں ۔ عورت کو اپنے ہاتھوں کھلونہ بنانے والے مرد وں سے میں صرف اتنا پوچھتی ہوں کہ آپ کی کوئی ماں، بہن ، بیٹی نہیں ہے؟؟ایک ایریا میں اگر کوئی شادی شدہ مرد جو کہ چالیس سال سے بھی زیادہ کا ہوتا، کالج کی معصوم کم عمر یعنی اپنی بیٹی کی عمر کے لڑکی کو رانگ کالر اور غیر شادی شدہ بن کے برباد کرتا ہے اور درندگی کی انتہاکرتا ہے تو دوسری طرح کوئی مردشادی شدہ عورت کو اپنے جھال میں  پھنسا کے اس کے شوہر کو قتل کرتا ہے ۔انسانیت کے قاتلوں یاد رکھنا تاریخ اپنے آپ کو دھراتی ہے ۔ کل آپ کی اپنی بہن اور بیٹی کے ساتھ بھی یہی ہونے والا ۔ درندگی کی انتہا کرنے والے بے ضمیر مرد چترل جیسے  پرامن اور پاکیزہ ماحول کو مزید اپنے ناپاک ارادوں سے گندگی اور غلاظت کا ڈھیر مت بنانا۔
قتل لفظ کا تصور بھی چترال میں نہیں تھا ۔مگر آج کل تو پرندوں کے شکار سے بھی آسان ہوگئی ہے ۔معشوقہ اپنے معشوق کے ساتھ مل کر  اپنے شوہر کو قتل کرتی ہے ۔ ایک مرد کے بہکاوے میں آکر عورت اپنی پوری زندگی برباد کرتی ہے ۔ کیا یہ لوگ  ایک دوسرے سے وفا کر پائیں گے ؟؟ اپنے آپ سے نظرین ملا ائیں گے؟؟
عورت کو کھلونہ سمجھنے والے مردوں سے صرف اتنا پوچھتی ہوں کہ ایک عورت اپنا گھر بار رشتے ناطے آپ کے لئے چھوڑ کر ایک پاک رشتہ نکاح میں بندھ کے آپ کے گھر آتی ہے آپ کے لئے ۔ آپ پرائے لڑکیوں سے تعلق رکھ کر کتنے لوگوں کی زندگی برباد کرتی ہو؟رانگ کالر بن کر ٹائم پاسنگ کرنے والے بے ضمیر مردوں آپ کے ایک غلط کال سے کتنی لوگوں کی زندگیاں برباد ہوجاتی ہے کبھی سوچا؟؟
درندگی کی انتہا ہوتی جارہی ہے اور انسانیت تو بالکل ختم۔ ایسے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے ۔ والدین سے بھی گزارش ہے کہ اپنے کم عمر لڑکیوں کو ہوسٹل کالج چھوڑنے کے بعد کڑی نظر رکھیں ان پر۔ کم عمر لڑکیوں کے ہاتھ میں موبائیل نہیں دینا چاہئے اورگھناونا کھیل کھیلنے والے ان حیوان نما مردوں کو سخت سزا ملنی چاہئے تاکہ ہر کسی کی ماں،، بیٹی ،بہن کی عزت اور زندگی محفوظ رہے ۔اپنے بیٹیوں کو ضرورت سے زیادہ آذادی نہیں دینی چاہئے اور مردوں پر اتنی جلدی بھروسہ کرنے والے خواتین سے التجا ہے کہ خدارا اپنے والدین کی عزت دو ٹکے کے لڑکے کے لئے برباد مت کر۔ ماں باب آپ پر بھروسہ کرکے آپ کو تعلیم کے لئے بھیجتی ہے تو ان کی اعتماد اور بھروسسہ کو مت توڑنا جو شادی شدہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ وفا نہیں کرتی وہ آپ کے ساتھ کیا خاک وفا کرپائے گا؟ خدا کا واسطہ ہمارے پاک پرامن ماحول کو غلاظت کا ڈھیر مت بنانا۔
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged , , ,
2278

ایڈیشنل آئی جی اشرف نور شہید کیلئے چترال میں تعزیتی اجلاس و اجتماعی دعا

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ایڈیشنل آئی جی خیبر پختونخوا اشرف نور کی حیات آباد کے قریب خود کش دھماکے میں شہادت پر چترال میں بھی انتہائی افسوس کا اظہار کیا گیا ۔ دھماکہ میں شہید ایڈیشنل آئی جی اشرف نور ودیگر شہدا کے درجات کی بلندی کیلئے چترال پولیس لائن کے مسجد میں جمعہ کے نماز کے بعد اجتماعی دعا کی گئی ۔ اور شہید ایڈیشنل آئی جی کی خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا گیا ۔ یاد رہے کہ شہید اشرف نور چترال میں بحثیت ایس پی ( ڈی پی او) تعیناتی کے دوران چترال کے تقریبا گیارہ مقامات پر مساجد تعمیر کروائے تھے۔ اور وہ چترال میں ایس پی نوربخشی کے نام سے مشہور تھے۔

دروش میں اہالیان دروش کی جانب سے شہید ایڈیشنل آئی جی اشرف نور کی لیے ہنگامی تعزیتی اجلاس منعقد ہوا اور ایڈیشنل آئی جی  کو ایک شریف النفس اور پیش اؤر پولیس آفیسر کی حیثیت سے خراج تحسیں پیش کیا گیا اور اس کے ساتھ دوسرے شھید ہونے والے افراد کی بلند درجات کے لیے دعا کی گئ ۔۔
تعزیتی اجلاس سے قاری جمال عبدلناصر مولانا محمد شاہ قاضی قصور اللہ قریشی قاری فضل الحق حاجی سلطان صدر تجار یونین حاجی شاد محمد نے خطاب کیۓ ۔ تعزیتی اجلاس میں ایس ڈی پی او دروش اقبال کریم خان اور ایس ایچ او دروش بلبل حسن سیکٹری تجار یونین قاری ضیاءالدین اور دوسرے عمائیدیں دروش نے شرکت کی ۔۔

drosh police taziati ijlas drosh police taziati ijlas2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , ,
2275