Chitral Times

Feb 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شرپسندوں کوقانون اورانصاف مطابق سزاضرورملیگی،وزیراعظم شہباز شریف کی ریڈیو پاکستان پشاور کے دورہ کے موقع پرگفتگو،عمارت کی مرمت کاکام فوری شروع کروانیکی ہدایت

شیئر کریں:

شرپسندوں کوقانون اورانصاف مطابق سزاضرورملیگی،وزیراعظم شہباز شریف کی ریڈیو پاکستان پشاور کے دورہ کے موقع پرگفتگو،عمارت کی مرمت کاکام فوری شروع کروانیکی ہدایت

پشاور(چترال ٹایمز رپورٹ )وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہاہے کہ 9 اور 10 مئی کے دلخراش واقعات نے پاکستانی عوام کو رنجیدہ کیا، 9 مئی کے شرپسندوں اور دہشت گردوں و وطن دشمنوں میں کوئی فرق نہیں، ان شرپسندوں کو قانون اور انصاف مطابق سزا ضرور ملے گی تاکہ کوئی دوبارہ ایسی جسارت نہ کر سکے، تاریخی اور قومی ورثے کو جلا دینا حب الوطنی نہیں، ریڈیو پاکستان کے ملازمین کے حوصلے کی داد دیتا ہوں، وزیراطلاعات ریڈیو پاکستان کی متاثرہ عمارت کو فوری بحالی کے لئے اقدامات اٹھائیں۔وہ جمعرات کو ریڈیو پاکستان پشاور کے دورہ کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔اس موقع پر وزیراطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب، ڈی جی ریڈیو پاکستان طاہر حسن نے بھی خطاب کیا اور ریڈیو پاکستان کو 9 اور 10 مئی کوبلوائیوں کے ہاتھوں پہنچنے والے نقصان اور بحالی کے کاموں پر بریفنگ دی۔اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی، نگران وزیراعلیٰ اعظم خان، وفاقی وزرا رانا ثنا اللہ، اسحاق ڈار، احسن اقبال، مشیر امیر مقام اور دیگر بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم سب ریڈیو پاکستان کی تاریخی عمارت کو دیکھ کر دکھی ہیں۔ اس عمارت میں پاکستان بننے سے پہلے ریڈیو کاسیٹ اپ موجود تھااور یہیں سے لاہور کی طرح 13 اور 14 اگست 1947 کی درمیانی شب آزادی کی صدائیں بلند ہوئیں اور پوری دنیا کو اس تاریخی مرکز سے قائد اعظم کی عظیم جدوجہد اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے کی نوید سنائی گئی۔ 9 اور 10 مئی کے دوران جو دلخراش واقعات رونما ہوئے اس نے پاکستان میں بسنے والے 23 کروڑ عوام کو شدید دلی صدمہ پہنچایا اور غم و غصہ کی ایک شدید لہر پورے پاکستان میں دوڑ گئی۔

 

انہوں نے کہاکہ جس سنٹر سے پاکستان بننے کی نوید سنائی گئی اس سے راکھ کاڈھیر بنادینا،اس سے بڑھ کر ملک دشمنی نہیں ہوسکتی۔ا س کے ساتھ چاغی کی یادگار کو تباہ کر دیا گیا، یہ یادگار پاکستان کی دفاعی طاقت کا شاہکار تھا جس کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو نے کیا اور اس کی انتہا 28 مئی 1998 کو ہوئی۔ اس دوران تمام حکومتوں نے اس عظیم دفاعی پروگرام کے لئے اپنا حصہ ڈالا۔ وسائل اور توانائیاں مہیا کیں۔ ایک عزم اور عرق ریزی کے ساتھ اس منصوبے کی تکمیل کی اور ان تمام اجتماعی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان ایٹمی طاقت بنا اور قیامت تک دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ اس یادگار کو تباہ کر دیا گیا۔ یہ ملک دشمنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان پشاورسے پاکستان کی نوید سنانے والے ظہور اظہر، مصطفیٰ ہمدانی جیسے لوگ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔یہاں پر موجود آرکائیوز کو جلا دیا گیا۔دنیا اپنی شناخت اورتاریخی ورثوں کو جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتی ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے فیض یاب ہوں اور یہاں پر اس ورثے کو جلا دیاگیا۔ کاش وہ ڈیجیٹائز ہوچکی ہوتی لیکن وقت نے ساتھ نہیں دیا۔ صو القرآن کا حصہ بچ گیا جس پر اللہ کے شکر گزار ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ 100 سالہ ریکارڈ کا تباہ ہونا افسوسناک ہے۔اس ادارے کے ملازمین کے حوصلے کی داد دیتے ہیں۔ عبداللہ اور نصیر نے جس طرح بلوائیوں کو روکتے ہوئے زخم کھائے ان کی جرات اور شجاعت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہماری مسلح افواج اور عام شہریوں نے ہمیشہ پاکستان کی حفاظت کی ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر فی الفور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگیوں کے احکامات جاری کئے جس کاانتظام آج ہی ہو جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کا دورہ نمائشی نہیں۔ ان دلخراش واقعات کے بعد ہمیں اندازہ ہونا چاہیے کہ جن لوگوں نے یہ انتہائی شرمناک کام کیا ان میں اور دہشت گردوں اور دشمنان پاکستان میں کوئی فرق نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔ دشمن بھی اتنی جسارت نہیں کر سکتا۔ اس شرپسندی میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق ضرور سزا ملے گی۔ وزیراعظم نے وزیراطلاعات سے کہا کہ وہ ریڈیو کی عمارت کی مرمت کا کام فوری شروع کروائیں تاکہ یہ ادارہ دوبارہ پاکستان اور دنیا بھر میں ہمارے عزم اور ولولے کا ذکر کر سکیکہ مشکلات کے باوجود ہم قائد اعظم کے پاکستان کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر کریں گے۔

 

radio station pakistan peshawar
مسلح جتھوں نے ریڈیو پاکستان کی عمارت پر مکمل منصوبہ بندی سے حملہ کیا، ہمارا قیمتی آرکائیو جلایا گیا جس کا ازالہ ممکن نہیں، شرپسندوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا تقریب سے خطاب

پشاور(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ شرپسندوں اور مسلح جتھوں نے ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر مکمل منصوبہ بندی سے حملہ کیا، ہمارے قیمتی آرکائیو کو جلایا گیا جس کا ازالہ ممکن نہیں، شرپسندوں اور مسلح جتھوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کویہاں وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ریڈیو پاکستان پشاور کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا، وفاقی و صوبائی وزراء، مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات، ضلعی انتظامیہ کے افسران، ڈائریکٹر جنرل ریڈیو اور دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 2014ء میں جس طرح ان لوگوں نے پی ٹی وی پر حملہ کیا تھا، اسی طرح مکمل منصوبہ بندی سے 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملہ کیا، 9 مئی کو گارڈز اور عملے نے شرپسندوں کو روکنے کی پوری کوشش کی لیکن 10 مئی کو یہ شرپسند اور مسلح جتھے مکمل منصوبہ بندی سے دوبارہ ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملہ آور ہوئے، ان کے پاس ڈنڈے اور پٹرول تھا، ضلعی انتظامیہ اور ریڈیو پاکستان کے عملے نے عمارت کو بچانے کی بہت کوشش کی، اس دوران عملے کے متعدد افراد بھی شدید زخمی ہوئے۔ واقعہ کی ایف آئی آر بھی اسی روز درج کی گئی۔

 

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ عمارت بھی دوبارہ بن جائے گی اور ٹرانسمیٹرز بھی لگ جائیں گے لیکن ہمارے تاریخی آرکائیو کو جلایا گیا جس کا ازالہ ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی پر حملہ کے بعد ہم نے آرکائیو کو ڈیجیٹل کر دیا تھا، یہی پراسیس ریڈیو پاکستان میں بھی جاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مجرموں اور مسلح جتھوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، اگر یہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی احتجاج کا لبادہ اوڑھ کر وہ اس جرم سے بری الذمہ ہو جائیں گے تو ایسا ممکن نہیں، 9 مئی دوبارہ نہیں دوہرائی جا سکتی، مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان طاہر حسن نے ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت، ریکارڈ اور نشریات کو پہنچنے والے نقصان اور بحالی کے کاموں سے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ برصغیر میں ریڈیو کا سفر 1927ء میں شروع ہوا، 1935ء میں خیبر پختونخوا میں ریڈیو کا پہلا ٹرانسمیٹر لگایا گیا، 1947ء میں اسی ریڈیو نے پاکستان کے وجود کا اعلان کیا۔ریڈیو پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت افغان وار میں بھی اپنی خدمات انجام دیں، ریڈیو پاکستان اس وقت 23 مقامی اور 11 عالمی زبانوں میں اپنی نشریات پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اس تاریخی ورثے کو صرف چھ گھنٹے میں جلا کر ختم کر دیا گیا، ہمارے ٹرانسمیٹرز جلائے گئے۔ 9 مئی کو چاغی کی یادگار کو جلایا گیا، اس سے اگلے روز 10 مئی کو مکمل منصوبہ بندی سے یہ لوگ یہاں آئے اور عمارت کو آگ لگائی اور لوٹ مار کی، ہمارے عملہ کو زخمی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان نے ضلعی انتظامیہ، پاک فوج کے ساتھ مل کر 26 گھنٹے میں اپنی نشریات کو بحال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت نے ہر سطح پر جس طرح ریڈیو پاکستان کا ساتھ دیا، ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


شیئر کریں: