Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے میں ایک لاکھ نوجوانوں کو ڈیجیٹل سکلز اور ٹریننگ فراہم کی جائے گی،عاطف خان

شیئر کریں:

ایک لاکھ نوجوانوں کو تربیت دینے سے صوبے کی معیشتکو سالانہ تقریباً 21 ارب روپے کا فائدہ ہو گا، صوبائی وزیر
خیبر پختونخوا یوتھ ایمپلائیمنٹ پروگرام کے تحت 11700 نوجوانوں کو ڈیجیٹل سکلز میں تربیت دی گئی ہے۔ صوبائی وزیر عاطف خان
خیبر پختونخوا یوتھ ایمپلائیمنٹ پروگرام انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس سے 3,300 خواتین کو ڈیجیٹل سکلز پروگرام کے تحت با اختیار بنا دیا گیا ہے، صوبائی وزیر برائے ایس ٹی اینڈ آئی ٹی

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا کے وزیر برائے سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور محکمہ خوراک عاطف خان نے کہا ہے کہ صوبے میں نوجوانوں کو ڈیجیٹل سکلز سکھانے اور ٹریننگ دینے کے لیے 8 ارب روپے مختص کیے ہیں جس سے ایک لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبے میں ابتدائی، درمیانی اور ایڈوانسڈ ڈیجیٹل مہارت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ نوجوانوں کی ٹریننگ سے سالانہ صوبے کی معیشت میں تقریباً 21 ارب روپے کا اضافہ ممکن ہو سکے گا جو کہ صوبے کی معیشت کیلئے نیک شگون بھی ہے اور ان ڈیجیٹل ٹریننگ سے گھر بیٹھے نوکریاں پیدا ہو جائے گی ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں کوڈیڑھ سال میں مذکورہ ڈیجیٹل تربیت مہیا کی جائے گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزخیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ میں تقریباً 3000 خواتین کی کامیاب ڈیجیٹل ٹریننگ کی تکمیل اور ڈیجیٹل سکلز انٹرنشپ پروگرام کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں ارکان صوبائی اسمبلی، سیکرٹری ایس ٹی و آئی ٹی ڈاکٹر عنبر علی خان، ڈی جی سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر صاحبزادہ علی محمود اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل سکلز اور آئی ٹی کے شعبے نے پوری دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا ہے اس لئے نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لئے ہماری حکومت نے کئی اہم منصوبے شروع کر رکھے ہیں انھوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جتنا آپ سکلز سیکھنے کی کوشش کرینگے اتنی ہی زیادہ ترقی کرینگے آئی ٹی فیلڈ کی ضروریات ڈیجیٹل سکلز اور ٹریننگ سے پورا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ خیبر پختونخوا یوتھ ایمپلائیمنٹ پروگرام انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس سے تقریباً 11700 گریجویٹس کو مختلف ٹریننگ دی گئی صوبائی وزیر کہنا تھا اس منصوبے میں 3,300 خواتین کو ڈیجیٹل سکلز پروگرام کے تحت با اختیار بنا دیا گیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ 2000 نوجوانوں کو ڈیجیٹل انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے تربیت دی گئی ہے۔۔انکا کہنا تھا کہ آئی ٹی سیکٹر میں مزید بہتری اور کامیابی کیلئے چار نئے آئی ٹی زونز بنا رہے ہیں انھوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی کام نا ممکن نہیں ہر کام کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے ڈیجیٹل سکلز سیکھنے سے نوکری ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ خود آپ نوکری دینے کے مقام پر آجاتے ہیں، اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے اپنے تقریر میں کہا کہ ڈیجیٹل سکلز ہمارا فلیگ شپ پروگرام ہے اور اس کی کامیابی ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اکانومی میں بہت مواقع ہے کووڈ 19 کی وجہ سے ڈیجیٹل سکلز کی اہمیت زیادہ ہو گئی۔ ایم ڈی نے مزید کہا کہ خواتین کو ڈیجیٹل سکلز میں برابر مواقع بھی دے رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ صحت کے اجلاس کا انعقاد


پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ صحت کا اجلاس بروز منگل کو اسمبلی کانفرنس ہال پشاور میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کی چیئرپرسن و رکنِ صوبائی اسمبلی رابعہ بصری نے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کی ساخت و ذمہ داریاں، صوبہ بھر میں ڈاکٹر ز کے اپنے ذاتی کلینک چلانے اور اس ضمن میں عوام کو درپیش مسائل، ڈسٹرکٹ ہسپتال ہنگو میں کام و فعالیت کی نوعیت، ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت بھرتی شدہ کمیونٹی مڈ وائیوز کی مستقلی و تنخواہوں کی بندش کے بشمول پی پی ایچ آئی کے ملازمین سے متعلق بھی تفصیلی بحث مباحثہ ہوا۔اس موقع پر ایم پی اے شگفتہ ملک نے فرید خان شہید ڈسٹرکٹ ہسپتال ہنگو میں عملہ کے تعیناتی کے باوجود ابھی تک ان کا چارج نہ سنبھالنے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ جس پر چیئرپرسن رابعہ بصری نے انتظامیہ کو فوری اقدامات اٹھانے اور ایم پی اے شگفتہ ملک کو رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کی۔

قائمہ کمیٹی اجلاس میں ایم پی ایز شگفتہ ملک و ریحانہ اسمعیل نے صوبہ بھر میں ڈاکٹرز کے اپنے ذاتی کلینکس چلانے جبکہ نجی لیبارٹریز، فارمیسی اور دیگر امراض کی تشخیص کے لئے مہنگے داموں ٹیسٹ کرانے کو بھی عوام کے لئے باعث پریشانی قرار دیتے ہوئے نجی کلینکس اور پریکٹسز سے متعلق باقاعدہ پالیسی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ایم پی اے ریحانہ اسمعیل نے خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن انتظامیہ کو صوبہ میں موجود تمام ہئیر ٹرانسپلانٹ و بیوٹی پارلرز مراکز کو باقاعدہ مانیٹر کرنے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر لیڈی ریڈنگ، خیبر ٹیچنگ اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹرز کی ادویات ساز کمپنیوں کے خرچ پر بیرون ملک دوروں کے حوالے سے ایم پی اے شگفتہ ملک کے سوال پر محکمہ صحت کے جواب کو ناکافی قرار دے کر آئندہ کمیٹی اجلاس میں ممبران کو تفصیلات سے اگاہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں ایم پی اے میاں نثار گل نے ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت بھرتی ہونے والی تقریباً 1400 کمیونٹی مڈ وائیوز کی تنخواہیں فوری جاری کرنے کی سفارش کرنے سمیت ان کو مستقل کرانے سے متعلق ممکنات و آئینی چارہ جوئی پر کمیٹی ممبران کو اگلے اجلاس میں بریف کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔اجلاس میں ممبرانِ قائمہ کمیٹی و اراکینِ صوبائی اسمبلی لیاقت علی خان، وقار احمد خان، خوشدل خان اور عنایت اللہ کی شرکت کرنے سمیت سیکرٹری و ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت، ڈائریکٹر ایم این سی ایچ اور ڈائریکٹر ہیلتھ کیئر کمیشن خیبر پختونخوا کے علاوہ اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل اور دیگر متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے۔


شیئر کریں: