Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر شہزاد خان بنگش کی زیر صدارت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں الخدمت فاونڈیشن کی رسائی اور اقدامات بارے اجلاس کا انعقاد

Posted on
شیئر کریں:

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر شہزاد خان بنگش کی زیر صدارت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں الخدمت فاونڈیشن کی رسائی اور اقدامات بارے اجلاس کا انعقاد

پشاور (چترال ٹائمز رپور ٹ) چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر شہزاد خان بنگش کی زیر صدارت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں الخدمت فاونڈیشن کی رسائی اور اقدامات بارے میں اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر، کمشنر پشاور، ڈائریکٹر جنرل پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر پشاور اور الخدمت فاونڈیشن کے عمائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میں الخدمت فاونڈیشن کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خدمات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر شہزاد خان بنگش نے تمام ضلعی انتظامیہ، سرکاری و نیم سرکاری اداروں سمیت نجی فلاحی تنظیموں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب بھی اس صوبے یا ملک پر کوئی مشکل وقت آیا ہے تمام ضلعی انتظامیہ، متعلقہ اداروں اور پرائیویٹ آرگنائزیشنز نے عوام کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام پرائیویٹ آرگنائزیشنز ضلعی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر عوام کی خدمت کررہی ہے۔ اس موقع پر صدر الخدمت فاونڈیشن نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں الخدمت فاونڈیشن کے رضاکار اشیائے خوردونوش، خیمے، ترپال، ادویات، کمبل اور کپڑے وغیرہ پہنچانے میں مصروف رہیں۔

 

نائب صدر الخدمت فاونڈیشن نے کہا کہ سیلاب کے دوران الخدمت کے رضاکاروں نے 6ہزار 85 افراد ریسکیو کئے اسی طرح متاثرہ افراد میں ایک ہزار 156 کھانے کی پکی دیگیں عوام میں تقسیم کی گئیں جبکہ ایک ہزار 173 ترپالیں اور ایک ہزار 192 ٹینٹس بھی عارضی رہائیش کے لئے تقسیم کئے گئے۔ جنرل سیکرٹری الخدمت فاونڈیشن نے کہا کہ فاونڈیشن کی جانب سے 2ہزار 640 افراد میں کیش رقم تقسیم کرنے کے علاوہ 2لاکھ 93ہزار 760 عدد کپڑے اور جوتے بھی متاثرین کو دیئے گئے۔ اسی طرح مچھروں سے بچنے کے لئے مچھردانیاں، بچوں کے لئے ادویات اور خواتین میں ضروری اشیاء بھی تقسیم کی گئیں۔ صدر الخدمت فاونڈیشن نے کہا کہ موسم سرما کے لئے ابھی سے فاونڈیشن کام کررہی ہیں اور بالائی علاقوں میں متاثرین کے لئے گرم کپڑوں کا بھی بندوبست کررہے ہیں۔ اس موقع پر نشے کے عادی افراد کی بحالی سے متعلق بھی تفصیلی بات چیت کی گئیں.

 

کمشنر پشاور ریاض محسود نے اجلاس کو بتایا کہ پشاور و ملحقہ علاقوں میں نشے کے عادی افراد کو پکڑ کر ان کو علاج معالجہ کے لئے متعلقہ بحالی مراکز لے جانے کا سلسلہ شروع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہزار 126 افراد بحالی مراکز سے صحتیاب ہوکر رخصت ہوچکے ہیں جبکہ اس وقت 606 افراد بحالی مراکز میں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک ہیروئنچی پر ماہانہ 30 ہزار جبکہ 4 ماہ کے دوران ایک لاکھ روپے خرچہ آتا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ پشاور ڈویژن میں ایک بھی ہیروئنچی دکھائی نہ دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشاور میں نشے کی عادی افراد کے خلاف آپریشن میں کامیابی کے بعد اب لوگ، گھروں میں نشے کے عادی لوگوں کو سنٹر لارہے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، کمشنر پشاور اور ان کی ٹیم، ریسکیو 1122 اور الخدمت فاونڈیشن، ایدھی فاؤنڈیشن سمیت دیگر پرائیویٹ آرگنائزیشن جنہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خدمات سرانجام دیں کی کارکردگی کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اسی طرح بہتر معاشرے کے قیام کے لئے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

chief secretary met alkhidmat foundation delegation kp2


شیئر کریں: