Chitral Times

Apr 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عورت ۔۔۔۔۔ تحریر:میرسیما آمان

شیئر کریں:

کہتے ہیں کہ عورت ماں بننے کے بعد مکمل ہوتی ہے لیکن میں نہیں مانتی ۔ایک ماں جو بیٹی کی پیدائش سے ہی خائف ہو جو بیٹی کو بوجھ سمجھتی ہو یا بیٹیاں جننے کو شرمندگی تصور کرتی ہو وہ مکمل کیسے ہو سکتی ہے ؟؟

عورت مکمل تب ہوتی ہے جب وہ اپنی عورت ہونے پر شرمندہ نہ ہو ۔احساس کمتری میں مبتلا نہ ہو ۔جب وہ بیٹیوں کی ماں ہونے پر خود کو معاشرے کا کمزور ترین فرد تصور نہ کرے ۔۔عورت تب مکمل ہوتی ہے۔۔ وومن ڈے درحقیقت انہی خواتین کے نام منایا جانا چاہیے جو اپنی عورت ہونے پر شرمندہ نہیں جو عورت ہوکر کسی دوسری عورت کی بربادی کا سبب نہیں جو اپنی مثبت کردار سے معاشرے میں اصلاح کا ذریعہ ہیں جو اپنی حقوق و فرائض کے ساتھ اپنا وقار بھی جانتی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں وومن ڈے کو بھی غلط رنگ دے دیا گیا بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وومن ڈے کو بھی لفظ عورت ہی کی طرح گالی بنادیا گیا جو کہ افسوس ناک ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ معاشرے میں عورت کے حوالے سے سو دکھڑے ہیں جنکا رونا رویا جانا چاہیے لیکن ہم سادہ اور آسان الفاظ میں مختصر اً بات کریں تو اس دن کو منانے کا مقصد بھی یہی ہے اور خواتین کا اپنے معاشرے سے تقاضا بھی محض یہی ہے کہ اسلام نے عورت کے لیے جو عزت و مقام مقرر کیا وہ اسے دیا جائے۔۔ تعلیم سے لیکر وراثت حتیٰ کہ نکاح تک کے لیے جو اصول اسلام نے متعین کیے ان پر عمل کیا جائے ۔

ایک اسلامی معاشرے میں عورت اگر بحالت مجبوری روزگار کے لیے باہر نکلتی ہے تو اس پر روزگار کی سہولت کو آسان کیا جائے ۔بحالت مجبوری اگر عورت سوداسلف لینے باہر نکلتی ہے وہ سبزی کے دکان میں کھڑی ہو یا تندور میں وہ پبلک ٹرانسپورٹ کا سہارا لے یا بینک میں کھڑی ہو آپ اسے بری نظر سے دیکھنے اس پر جملے کسنے کے بجائے۔ آ پ عورت کو راستہ دینا سیکھیں اس پر راستے تنگ نہ کریں ۔ عورت سے ہمدردی ہے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہے تو پنجاب سندھ بلوچ میں ونی اور سوارہ ہونے والی بچیوں کی آواز بنیں ۔ رشتہ نہ دینے پر آ ہے روز بھیڑیوں کے ہاتھوں تیزاب گردی کا شکار ہونے والی بچیوں کی آ واذ بنیں۔

شادی کے نام پر ہونے والی سودا بازیوں کی روک تھام کریں ۔ سالہا سال بچیوں کی ہونے والی خودکشیوں پر نظر ڈالیں درندگی کا شکار ہونے والی بچیوں کا سوچیں ۔۔دیکھا جائے تو عورت اپنے ان حقوق کے سوا آ پ سے اور کچھ نہیں مانگتی جو پہلے سے اسلام متعین کر چکا ہے جن پر روز محشر ہماری پکڑ ہے ۔ وومن ڈے کسی دوسرے صنف کی تذلیل کے لیے نہیں بنایا گیا یہ انہی حقوق کی نشاندھی اور یاد دہانی کے لیے بنایا گیا ہے جو انکا بنیادی حق ہے ۔اس دن کا مقصد اپنی حق تلفیوں پر آ واذ اٹھانا ہے ۔اور ان فرسودہ رسومات اور خیالات کو ختم کرنا ہے جنھوں نے انسانی زندگیوں کو جہنم بنا یا ہوا ہے۔

اس دن کا مقصد ان رویوں کی مذمت ہے جنھوں نے لفظ عورت کو معاشرے میں گالی بنایا ہوا ہے ۔اس دن کا مقصد اس سوچ کا خا تمہ ہے لیکن یہ تب ممکن ہے جب مردوں کو جنم دینے والی قوم کی تربیت کرنے والی ایک عورت یعنی ایک ماں خود اپنی عورت ہونے پر احساس کمتری کا شکار نہ ہو ۔۔اپنے وجود پر شرمندہ نہ ہو ۔ بلکہ اسکو احساس ہو کہ وہ معاشرے کو تشکیل دینے والی ایک قوم کو تربیت دینے والی ایک عظیم فرد ہے کسی کے پیروں کی خاک نہیں بلکہ خود جسکے پیروں میں جنت رکھنے کی بشارت اس عظیم جہاں کے مالک نے خود دی ہے ۔۔۔۔۔


شیئر کریں: