Chitral Times

May 14, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کی بیٹیاں…گل عدن چترال

شیئر کریں:

پچھلے کچھ عرصہ سے چترالی بیٹیوں کے قتل جیسی افسوس ناک واقعات میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے تو دوسری طرف صوبائی حکومت اور چترال عوام کی مسلسل خاموشی کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے چترالی بیٹیوں کی بوری بند لاشیں وصول کرنا چترالی والدین کی مجبوری اور معاشرے کی روایت بننے جارہی ہے ۔اور ملک کے کسی بھی حصے میں طرح طرح کے واقعات کا آئے روز رونما ہو نا پھر ہمارا سوشل میڈیا پر کچھہ دنوں کے لیئے واویلا کرنا بھی ایک ٹرینڈ بن چکا ہے ۔ہماری معاشرتی بے حسی کا یہ عالم ہے کے ہم بڑے سے بڑے واقعے کو بھی جب تک خدا نخواستہ خود پر نا بیتے سنجیدہ نہیں لیتے ۔یہی ہمارا المیہ ہے اور یہی بنیادی وجہہ ہیں ان واقعات میں اضافے کی ۔میری کم علمی مجھے اجازت نہیں دیتی کے میں ان واقعات کی وجوہات اور سدباب پر بات کرسکوں لیکن ایسے واقعات پر جو بیانات سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں میں اس پر ضرور بات کرنا چاہوں گی ۔بےشک اظہارِ رائے کا حق سبکو حاصل ہے اور سوشل میڈیا اسکا بہترین زریعہ ہے ۔مگر بدقسمتی سے ہم وہ لوگ ہیں جو ہر شے کا نوے فیصد غلط فائدہ اٹھاتے ہیں ۔یا غلط استعمال کرتے ہیں ۔سوشل میڈیا میں ان واقعات کے حوالے سے جو شور اٹھتا ہے اس شور میں بھی کچھہ آوازیں قابلِ شرم اور افسوس ناک ہیں ۔

اظہارِ رائے کی آزادی اپنی جگہ مگر سوشل میڈیا ہمارے ہاں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور ایک دوسرے کو ٹارچر کرنے کا بہترین اور آسان زریعہ بن چکا ہے ۔ جب جب ایسے واقعات سامنے آتے ہیں عوام کی ایک جماعت اس مظلوم بیٹی کی والدین پرلعنت بیھجنے کا ٹھیکہ اٹھاتی ہے ۔ وہ والدین جو پہلے ہی بیٹی کے غم سے نڈھال ہوں ان پر دلالی کا الزام لگا کر مزید تضحیک کا نشانہ بنانا کسی مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتا ۔اور ویسے بھی واقعہ کوئی بھی ہو اسکا ذمہ دار فردِ واحد نہیں ہو تا ۔ہر کہانی کے پیچھے بہت سارے کردار ہوتے ہیں ۔شادی کے وقت اگر ان مظلوم بیٹیوں کی عمر گیارہ سال کی ہو تب والدین کے کردار پر سوال اٹھتا ہے لیکن اگر خاتون نے بیس پچیس تیس سال کی عمر میں اپنی خوشی اور رضا مندی سے شادی کی ہے تو پھر اس شادی کی پچاس فیصد ذمہ دار تو وہ بیٹی خود بھی ہو تی ہے ۔اور اس بیٹی کو اس فیصلہ پر مجبور کون کرتا ہے ؟ہمارہ عظیم معاشرہ ۔جو شادی نہ ہو نے کی صورت میں عورت پر اسکے باپ کے گھر کو اس پر تنگ کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے ۔


اور وہ عظیم معاشرہ جو ایک بڑے گھر میں بیاہی ہوئی بیٹیوں کو جھک کر سلام کرتی ہے جبکہ ایک غریب گھر کی بہو بیٹیوں کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے ۔معاشرے کی اسی تفریق نے چترال کی سادہ لوح بیٹیوں کو ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ایسے میں کسی بھی بیٹی کے والدین پر دلالی کا لیبل لگانے والوں کو میں اتنا کہوں گی کہ کسی ںیٹی کا باپ دلال نہیں ہو سکتا البتہ دلال وہ معاشرہ ہے جو پیسے کو سلام کرتی ہے۔دلال وہ رشتہ دار ہیں جن کے طنز و طعنہ ‘الزام تراشی بدسلوکی اور تفرقاتی رویے کی وجہ سے چترال کی بیٹاں چترال سے دور بنا سوچے سمجھے کسی سے بھی رشتہ کرنے پر مجبور ہو جاتےہیں ۔اور سب سے بڑے دلال وہ لوگ ہیں جو ان رشتوں کو کروانے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ان بیٹیوں کے اصل قاتل بھی یہی عظیم رشتہ دار ہیں جو محلے یا خاندان کے کسی گھر میں چار بیٹیوں کو دیکھ لیں تو ان کی شادی کروانا خواہمخواہ اپنی ذمے داری سمجھ کر چترال سے باہر کسی بھی چار پیسوں والے بوڑھے بدمعاش نفسیاتی مریض کو ڈاکٹر جرنیل یا بزنس مین کا نام دے کر ایک بیٹی اور بیٹی کے باپ کی مجبوریاں خریدنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔یہ رشتہ کروانے والا ٹولہ ہی دراصل اصل سزا کی مستحق ہیں ۔بلکہ نا صرف سزا کی یہ مخلوق ذہنی علاج کی بھی مستحق ہیں ۔لیکن شاید ان کا علاج مکافاتِ عمل سے ہی ہو سکے گا ۔انشاءاللہ
لیکن
میں اپنے سوشل میڈیا کے پر عزم اور غیور عوام کو اتنا کہوں گی کہ میں بحثیت ایک چترالی بیٹی کے اس الزام تراشی کا ساتھ نہیں دے سکتی ہوں کے چترالی والدین دلال ہیں ۔نہیں چترال میں بیٹیوں کو جو عزت مقام اور جو آزادی حاصل ہے وہ پاکستان کے کسی کونے میں بھی شاید ہی کسی بیٹی کو حاصل ہو ۔افسوس ہے ان لوگوں پر جو ایک غلطی کو سدھارنے کے بجائے میڈیا میں آکر اپنے ہی علاقے کے والدین کو دلال دلال پکار رہے ہیں ۔آخری بات قاتل کی تصویر پر لعنت بھیج کر دس اور لوگوں کے ساتھ شئیر کرنے سے نا تو اس مظلوم بیٹی کی روح کو ثواب پہنچے گا نا ہی قاتل کو کوئی فرق پڑے گا ۔بہت بہتر ہو گا کے اس سنگین مسئلہ کو تھوڑا سا سنجیدہ لیں کوئی عملی کوشش کوئی قانون بنائیں ۔ایسے رشتے کروانے والے دلالوں کو کوئی انجام دکھائیں۔ کیونکہ بیٹیاں تو سب کے آنگن میں ہیں ۔ ۔!!


شیئر کریں: