Chitral Times

May 14, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود…..بانجھ معاشرہ….شہزادی کوثر

شیئر کریں:

انسان کی نفسیات میں رچ بس جانے والا پہلہ جذبہ اور اس کی شخصیت کے خدوخال متعین کرنے والی سب سے طاقت ورچیز محبت ہے،جو رحم مادر کے اندر ہی اسے اپنی مٹھاس کا احساس دلاتی اور دنیا میں آنکھ کھولتے ہی اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔ انسان زندگی بھر اس کومل جذبہ کے طلسم سے نہیں نکل پاتا، وقت کی بہتی دھارا میں اس کے متنوع رنگوں اور لطف سے بھرے ذائقوں سے محظوظ ہوتا ہے۔ جو  پیار کی دیوی بن کر ماں کا روپ دھارے تو ہڈیوں کے گودے تک اپنے وجود کی مہک سے معطر کر دیتا ہے۔ بہن کے طور پراپنی نٹ کھٹ شرارتوں سے زندگی کو جنت کا نمونہ بناتا ہے،بھائی کی شکل میں ناقابل تسخیرطاقت بن کر مجسم ہوتو بہنوں کی آنکھوں کا تارا بنتا ہے،باپ کی حیثیت سے ایسا مضبوط سائبان بن جاتا ہے جس کی چھاوں میں بیٹیاں راج کرتی ہیں،

عمر بھرکے ساتھی میں متشکل ہو توتقدیس ووفا داری کے ایسے اٹوٹ بندھن میں بدل جاتا ہے جس کی موجودگی عورت کو شیرنی بناتی ہے اور بچوں کے چہروں پہ نمودار ہو تووالدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتا ہے ۔کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ رب العالمین نے ایک چیز کے کئی پہلو اور کئی خصوصیات پیدا کی ہیں کہ عقل انسانی انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔سماج میں ایک دوسرے سے تعلقات ہوں یا حیوانات سدھار کر  اپنے مقصد کے مطابق ان سے فائدہ اٹھانے کا پیچیدہ عمل خلوص ومحبت کے بغیر نا ممکن لگتا ہے لیکن اس بات کا بطور خاص جائزہ لینا ضروری ہے کہ محبت سے وہ معنی مراد نہ لیے جائیں جو شرعی حدود پھلانگ کر قانون کی گرفت میں اسیر ہونے کی وجہ بنے بلکہ اس کا مطلب انسانوں کے درمیان پنپنے والی وہ رشتہ مندی اور انسانیت ہے جو مشت خاک کو مسجود ملائک بناتا ہے۔

اس کی ہی وجہ سے بڑے بڑے معرکے سر کیے جاتے ہیں اور سخت دلوں کو موم کیا جا سکتا ہے ۔سماج میں ایک دوسرے سے جڑے رہنے کی وجہ یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو برداشت کریں،کسی کی کامیابی کو ہضم کریں اور کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو درگزر کرنے کا حوصلہ خود میں پیدا کریں ۔آپس کی نفرتیں اور عداوتیں اس وقت ماند پڑ جاتی ہیں جب  محبت اور ہمدردی کو اپنی عادت بنا لیا جائے یہ انسان کی فطرت کا حصہ ہونے کے باوجود دیکھنے کو کم ہی ملتا ہے ۔اس کے استعمال میں ہم بڑے کنجوس ہو گئے ہیں حلانکہ محبت بانٹنے سے محبت ملتی بھی زیادہ ہے۔مگر انسانی طریقہ کاریہ ہے کہ جس چیز میں اپنی غرض دیکھتے ہیں اس پر ہی محبت نچھاور کریں گےیعنی جس سے کچھ حاصل کرنے کی امید ہو ،جو ضرورت کے وقت مدد کر سکے یا جس کی سفارش کام آئے، باقی لوگوں کے لیے بھنویں تنی ہوئی اور تیوری چڑھی رہتی ہے۔ شاید ہمارے دلوں میں لالچ اور غرض کے علاوہ کچھ اور نہیں اور اگر محبت ہے بھی تو دولت، اقتدار ،شہرت کی۔۔

باقی جو اصل محبت کے حقدار ہیں بھی وہ ہماری نگاہ میں ثانوی درجہ رکھتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ محبت سے خالی دل اس غار کی مانند ہے جس میں انسان ہی نہیں جنات بھی رہنے سے خوف کھا جاتے ہیں۔ یہ مقدس جزبہ اپنی وقعت کھو چکا ہے ،ہوس زر کے عنکبوت نے اس کے گرد اپنا جالا بُن لیا ہے  یا شاید لوگ زیادہ عملی ہو گئے ہیں جو محبت کو صرف زبانی جمع خرچ کہتے ہیں اور جذبوں کو بھی کلو اور لیٹر میں تولتے ہیں ۔جب تک سر پہ بڑی سی گٹھڑی اور ہاتھ میں بڑا سا شاپنگ بیگ لے کر گھر نہ جائیں کوئی آپ کو سر آنکھوں پر نہیں بٹھائے گا ۔یہ بات کافی پریشان کن ہو کہ معاشرے میں صرف ان چیزوں کو اہمیت دی جاتی ہے جن سے پیسہ کمایا جاسکے چاہے وہ اجناس ہوں ،صلاحیت یا پھر رشتے۔۔

اگر کسی انسان کی طرف ہمارا جھکاو زیادہ ہے تو سب سے پہلے خود کوٹٹولنے کی ضرورت ہے کہ میری کونسی غرض اس انسان سے وابستہ ہے کیونکہ جھکاو کے پیچھے ہمیشہ مقصد ہوتا ہے اخلاص نہیں لیکن نام محبت جیسے مقدس جذبے کا لے کر اسے ذلیل کیا جاتا ہے۔ آج کل کی رغبت کی بنیاد  محبت نہیں ہوس ہے۔ جس کی ابتدا سے انتہا تک کا دورانیہ جھوٹ اور مکاری پر مبنی ہوتا ہے،اس میں صداقت ،ادب و احترام جیسے اعلی اقدار کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔دور جدید کا بڑا المیہ  یہ ہے کہ یہ جذباتی طور پر بانجھ ہو گیا ہے ایسے معاشرے کے افراد سے کس طرح مقدس جذبوں کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔۔۔                                                                                 


شیئر کریں: