Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عذاب الیم۔۔۔۔۔۔۔تحریر ۔۔۔گل عدن چترال

شیئر کریں:

چترال میں  کرونا کے بڑھتے ھوئے کیسیزکی ذمہ دار وہ عظیم مسلمان ھیں جنھوں نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرکے دوسرے علاقوں سے چترال میں داخل ھوۓ  – انہوں نے ناصرف قانون کی دھجیاں اڑادیں بلکے اپنے کمزور ایمان کو بھی بے نقاب کردیا-


اگر باجماعت نماذ کا حکم اللہ نے دیا ھے تو وبا والے علاقے سے باہر نہ نکلنے اور وبا والے علاقہ میں داخل نہ ھونے کا حکم بھی اللہ نے دیا ھے۔میں سلام پیش کرتی ھوں ان سبکو جن پر آزمایش کا وقت آیا تو انھیں نہ خدا یاد رہا نہ خدا کا فرمان۔۔۔۔بس انھیں ھر صورت گھر پہچنا یاد رہ گیا۔


یہ وھی لوگ ھیں جو ایکطرف مسجد نبوی اور حرم کے ویران ھونے کا سوگ بھی مناتے رھے ھیں ۔مسجدوں میں نمازوں پر پابندی کی مذمت بھی کرتے ھیں ( چاھے پورا سال مسجد کی صورت تک نہ دیکھی ھو۔۔۔۔!!)
اور یہی لوگ تھے جو کچھ دن پہلے طارق جمیل صاب کی اک سادہ سی بات پہ چراغ پا ھوۓجارھ تھے ۔
طارق جمیل نے کہا جھوٹ چھوڑ دو
بددیانتی چھوڑ دو
بےحیائی چھوڑد دو۔۔!!


کیا پیسے طاقت ۔تعلقات اور دھوکہ سے چترال میں داخل ھونے والوں نے بد دیانتی نھیں کی ؟جھوٹ نھیں بولا؟
قرنطنیہ سے بھاگنے اور بھگانے والے بد دیانتی نھیں کر رھے ھیں؟؟


پورا سال وکیل ۔ڈاکٹر اور تاجر برادری نے احتجاج کے نام پر جو کیا سو کیا  مگر رمضان سے ٹھیک ایک دن پہلے ہڑتال کرنے والے تاجروں نے بے حیائی نھیں کی ؟؟؟


لاک ڈاؤن کے دوران ڈبل کرایہ وصول کرنے والے ڈرائیور حضرات بے حیائی ۔بد دیانتی نھیں کر رھے ھیں؟؟ یا پھر بے حیائی صرف عورت کی بے پردگی کو سمجھا جاتا رھا ھے۔۔۔!!!


اس کڑے وقت میں جو بھی لوگ گھروں سے دور تھے (اگر وہ سمجھ سکتے)وہ تو خوش قسمت ترین لوگ ھیں جنھیں اللہ نےاس آزمائش کے لیے چنا۔مگر افسوس ان پر جنھوں نے اس مصیبت میں تھوڑا صبر کرنے کے بجاۓ نا صرف انتظامیہ کو دھوکہ دے کر گھروں کو لوٹ آنے لگےبلکے اللہ کے احکامات کی بھی کھلم کھلا نافرمانی کر بیٹھے ۔اور اپنی جان کیساتھ سب کی جان کے دشمن بن گۓ ۔


کیا اسلام صرف اپنی پسندیدہ اور آسان ترین احکامات پر عمل کرنے کا نام ھے؟
دراصل ھم جیسے مومنین ھی اس عذاب الیم کے ذمہ دار ھیں۔


شیئر کریں: