Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہجور زیست……. سپاہی کو عزت دو….. تحریر:دلشاد پری بونی

شیئر کریں:

اج کل جہاں بھی دیکھو پولیس اہلکاروں پہ خوب تبصرے ہو رہے ہیں مگر بدقسمتی سے کسی اچھے الفاظ میں نہیں۔صدیوں پرمحیط انسانی تاریخ کا جب مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ حضرت عمر فاروق رض کے رکھے ہوئے اس پاک محکمے نے ہر دور میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔اس ادارے کے پولیس جوانان معاشرے سے جرائم کے خاتمہ،امن کے قیام اور قانون کی بالادستی میں اپنا کردار ادا کرتے چلی ارہی مگر پتہ نہی کیوں لوگوں کی نظر میں ہمیشہ معیوب ٹھہری۔


عوام کو تحفظ فراہم کرنے والی پولیس کو نجانے کیوں لوگ اپنا دشمن سمجھتے ہیں؟عید ہو ،خوشی ہو یا غم پولیس اپنی ڈیوٹی پہ چوکس آپ کو نظر ائے گی۔پولیس معاشرے میں جب کوئی اچھا کام کرتی ہے تب بھی اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔اس وقت جب اسے عوام کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے تب بھی عوام کی حوصلہ افزائی درکنار۔فیس بک میں ایک بھائی نے ایک تصویر اپلوڈ کی تھی جس میں پولیس کسی کی گاڑی کو گھسیٹ کے کھائی سے نکال رہے تھے اور وہ صاحب داد دینے کی بجائے ظنز بھرے تیر چلا رہے تھے۔ایک سپاہی بھاری بھر کم ایس۔ایم۔جی ا رائفل اٹھا کے دن رات ڈیوٹی کرتا ہے ا فسران بالا کے حکم کی تابعداری،گھر کی ذمہ داری،عوام کے طنز کا سامنا کیا کچھ نہی ہوتا۔لوگوں کو تو پویس کے ہاتھ میں موبائل نظر اتا ہے مگر کندھے پہ لٹکا بھاری بندوق اور وزنی بلٹ پروف جیکٹ نہیں۔

افواج پاکستان اور پولیس کے علاوہ کونسے ایسے ادارے ہیں جو دن رات ڈیوٹیاں کرتے ہیں؟اکثر یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ جو نالائق ہوتے ہیں وہ فوج میں بھرتی ہوتے ہیں،میں صرف اتنا کہوں گی کہ اپنی نیندیں حرام کرکے دوسروں کی سکوں بھری نیند اور پورے معاشرے کی حفاظت کے لئے ساری رات جاگناہر کسی کے بس کی بات نہی یہ صرف ایک سپاہی ہے کر سکتا ہے۔راہ چلتا ہر کوئی نہ ملک سعد شہہید بن سکتا ہے اور نہ ہی صفوت غیور۔یہ ایک سپاہی ہے جو مشکل حالات میں عوام کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کا نزرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہی کرتا۔
الیکشن ہو،ہسپتال میں ڈیوٹی یا ٹریفک ڈیوٹی ہو ایک سپاہی ہر جگہ چوکس نظر اتا ہے۔اگر آسان ہے تو تنقید کرنے والوں سے میری درخواست ہے کہ صرف پانچ منٹ کے لئے G S.M.کندھے پر ڈال کے کھڑا رہ کے دیکھا تب احساس ہوگا کہ ایک سپاہی کے کندھے بپہ کتنی بھاری زمہ داری ہے اور اس کی زندگی کتنی کھٹن ہے آپ لوگو ں کو کیا پتہ۔وہ بھی ایک انسان ہے،اس کے بھی احساسات ہیں،دل اس کے پاس بھی ہے،اپنے ماں باپ کی وہ بھی جان ہوتے ہے مگر وہ ان سب کو پیچھے چھوڑ کے عوام کی حفاطت کو ترجیح دیتی ہے۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ پولیس پہ تنقید کرنے والوں میں کثیر تعداد جرائم پیشہ لوگوں کی ہے جن کا کسی نہ کسی طرح پولیس سے واسطہ پڑا ہو۔رشوت خور جیسے القابات سے پولیس کو نوازنے والوں سے صرف اتنا پوچھتی ہوں کیا پاکستان کا ہر ادارہ کسی نہ کسی طرح رشوت خوری میں ڈوبا ہے؟کسی ایک کلینک یا ہسپتال کا وزٹ کرکے دیکھ لے وہاں ایک جان پہچان کے بندے کے ساتھ کیسا سلوک ہو تا ہے اور ایک عام ادمی کے ساتھ بھی رویہ دیکھ۔ایگزام کے دنوں میں ایک استاد اپنے رشتہ دار کے ساتھ کتنی نرمی برتا ہے اور ایک عام شاگرد کے ساتھ رویہ کیسے رکھتا ہے۔کیسے ایک کلرک ایگزام فیس کے بہانے غریب لوگوں سے بھاری رقم بٹورتے ہوتے تھے۔

ایک سپاہی اچھے کام بھی کرے تو ہزار طعنے اس کے حصے میں آتے ہیں جسکی وجہ سے وہ سپاہی نالاں ہو جا تا ہے۔ایک سپاہی کے زندگی کے کانٹے کسی کو بھی نظر نہی آتے۔افسران بالا کا خوف،معاشرے کی عدم تعاون،گھریلو مسائل سب ایک سپا ہی کے حصے میں ہے تو اتے ہیں۔عوام بھی اپنا سارا غصہ اس بچارا سپاہی پہ نکالتا ہے۔حالیہ کرونا وبا میں ایک پولیس والا بھی ڈاکٹر کے شانہ بشانہ فرنٹ صف میں اپنی ڈیوٹی نبھا رہا مگر بھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس کی ڈیوٹی ہے۔پاکستان جب دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا اس وقت کتنے سپاہی جان سے گئے اور اج بھی کسی نہ کسی ڈاکو کے ہاتھ جان سے جاتے ہیں۔کتنی مائیں اپنے بیٹوں سے محروم ہو جاتے ہیں،کتنی خواتین کا سہاگ اجڑ جاتا ہے،کتنے بچے یتیم ہو تے ہیں مگر ہم تو پولیس والے کو شہید ماننے کو بھی تیار نہی۔

آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ جرائم کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے اسلئے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں شفافیت کے لئے مختلف آلات پولیس کے حوالے کی گئی ہے۔تاکہ ٹریفک حادثات میں کمی،جرائم میں کمی شفاف نظام سے عوام مطمئن ہو مگر پھر بھی عوام مطمئن نہی۔اگر کسی پولیس والے پہ ظلم ہو رہا ہوں کوئی ا س کو مارے پیٹے اور اسکی وڈیو وائرل ہو تو کہتے ہیں پولیس کو وڈیو بنانے کی اجازت کس نے دی ہے اگر یہی وڈیو کسی مجرم کی ہو تو عوام کا رونا دھونا شروع کہ پولیس والے نے بڑا ظلم کیا بچارے پہ۔حالانکہ پولیس اور مجرم دونوں اس معاشرہ کا حصہ ہیں۔اگر معمولی جرم کی نوعیت میں پولیس والے کسی کو پکڑ کے لے اتے ہیں تو سفارش کر وا کے اپنے بیٹے کو چھڑوانے اس کا باپ ہے تھانے اجا تا ہے۔اگے اس وقت پولیس والے اس کے ساتھ تعاون نہی کرتا ہے تو اپنے مفاد کو حاصل کرنے اور انتقامی طور پر معاشرہ میں جھوٹی کہانی بنا کر پولیس والے کو بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔

جب تک عوام کا صحیح تعاون حاصل نہ ہو۔کسی مقدمے میں عوام سچ کا ساتھ نہ دے گواہی نہ دے،پولیس کو حقیقت کا نہ بتا دے جرائم میں اضافہ ہوتا جائے گا۔بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو مجرموں کو خود تحفظ فراہم کرتے ہیں پھر الزام پولیس کی کارکردگی پہ لگا دیتے ہیں۔پولیس کا کام کسی جرم کی تفتیش کرنا،شواہد اکھٹا کرنااور ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ہوتاہے اور جزا اور سزا کا اختیار عدالت کو ہے۔ہزاروں قسم کی رکاوٹیں مشلا گواہ کا مکر جا نا۔سچ سے پولیس کو اگاہ نہ کرنا۔ملزم کی نشاندہی نہ کرنا یہ سب پولیس والوں کے شفاف کام میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں پھر بھی پولیس والوں کے سانس لینے پہ بھی عوام کو اعتراض۔۔

خدارا ایک سپاہی کو عزت دیجئے وہ بھی اس معاشرہ کا حصہ ہے۔وہ اپنی نیندیں اس وقت حرام کرکے ڈیوٹی کرتی ہے جب اپ سب لوگ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہو۔

IMG 20200605 WA0005
IMG 20200605 WA0004

شیئر کریں: