Chitral Times

Dec 11, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • گزشتہ 22سالوں سے مستوج خاص کے مقام پر پڑے ڈیزل جنریٹرز ورسک منتقل، عوام سراپا احتجاج

    August 11, 2018 at 12:15 am

    مستوج ( نمائندہ چترال ٹائمز ) مستوج خاص میں گزشتہ 22سالوں سے پڑے ڈیزل جنریٹرز ورسک منتقل کردئیے گئے ، علاقے کے عوام سراپا احتجاج بن گئے ہیں. تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی دور حکومت ( 1996)میں مستوج کے عوام کی مطالبے پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرف سے سب ڈویژن مستوج کے تین مختلف مقامات کیلے پانچ ہیوی ڈیزل جنریٹرز مہیا کئے گئے تھے۔ جن میں مستوج خاص کیلئے دو عدد، بریب ، بونی اور تورکہو شاگرام کیلئے ایک ایک عدد جنریٹرشامل تھے۔ جو بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کرنے تھے۔ مگر 22سال گزرنے کے باوجود وہ ان علاقوں میں بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال نہیں ہوئے اور کھلے اسمان تلے زمین بوس ہوتے گئے۔ جمعرات کے دن مستوج تھانہ کے سامنے پڑے جنریٹر ز ورسک منتقل کرنیکیلئے واپڈ کے اہلکار جب مستوج پہنچے تو علاقے کے عوام سراپا احتجاج بن گئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ 1996ء میں مستوج سمیت بریب و دیگر علاقوں کیلئے ٹرک ایبل سڑک تھی اور نہ پل ، علاقے کے عوام نے لاکھوں روپے خرچ کرکے اپنی مدد آپ کے تحت مذکورہ جنریٹرز کو دریا سے پار کرکے اپنے اپنے علاقوں میں پہنچائے تھے ۔ مگر بد قسمی سے جب بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی گئی تو مذکورہ جنریٹر ز تاحال کھلے اسمان تلے پڑے تھے۔ جبکہ علاقے کے عوام تقریبا دو عشروں تک ان جنریٹرووں کی حفاظت کیلئے تر پال اور شیلٹر کا بندوبست کرتے رہے ۔ اور ساتھ ان کیلئے حکومت کی طرف سے بلڈنگ بھی تعمیر کرکے اخری مراحل میں تھے مگر بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم ہونے کے بعد دوسری حکومتوں میں ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ اور قومی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا یا گیا۔
    اب چونکہ ہر ایک علاقے میں کسی نہ کسی ذرائع سے بجلی پہنچ گئی ہے اور ان ہیوی جنریٹرز کی اہمیت اتنی نہیں رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے متعلقہ حکام ان کو یہاں سے اُٹھا کر ورسک منتقل کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مستوج کے بعد ، بریب شاگرام و دیگر مقامات کے جنریٹرز بھی ورسک منتقل کئے جائیں گے ۔
    مستوج کے احتجاجی عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ چونکہ بائیس سال پہلے لاکھوں روپے خرچ کرکے ان جنریٹرز کو مختلف علاقوں میں پہنچائے گئے ہیں اور تاحال عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور اُلٹا انکی حفاظت کیلئے پیسے خرچ کئے گئے ۔ جن کا حکومت یا متعلقہ ادارے کو ازالہ کرنے کے ساتھ علاقے کیلئے چوبیس گھنٹے بجلی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے بعد جنریٹرز منتقل کئے جائیں۔ تاہم مقامی انتظامیہ اورونگ کمانڈر کی مداخلت اور یقین دہانی پر علاقے کے عوام پر امن طور پر منتشر ہوگئے ۔

  • error: Content is protected !!