Chitral Times

Nov 18, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • پختونخوا میں مذید3 پولیوکیسزرپورٹ، ملک بھرمیں‌پولیو کیسز کی تعداد58ہوگئی

    August 26, 2019 at 11:58 pm

    پشاور / حیدرآباد(سی ایم لنکس)خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز کا سلسلہ نہ رک سکا، صوبے میں مزید 3 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ سندھ سے بھی 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک بھر میں پولیو کی تعداد 58 ہوگئی ہے۔حیدرآباد میں فراہمی و نکاسی آب اور صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات اور متعلقہ محکموں محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد، واسا و ایچ ڈی اے کے درمیان روابط نہ ہونے، متعلقہ افسران کی لاپرواہی اور سستی کے باعث 8 سال کے بعد حیدرآباد میں ایک ساتھ اچانک پولیو کے 2 کیسز ظاہر ہوگئے ہیں جس سے انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔پچھلے7 ماہ سے حیدرآباد میں پولیو وائرس کی موجودگی ظاہر ہونے کے باوجود 5 سال سے کم عمر کے ہزاروں بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہے اور ضلعی انتظامیہ و متعلقہ افسران سب ٹھیک ہے کا راگ الاپتے رہے، ڈی جی ہیلتھ کا کہنا ہے کہ جن بچیوں میں پولیو کا وائرس موجود پایا گیا ہے ان میں ایک بچی کو والدین نے کبھی پولیو کے قطرے ہی نہیں پلوائے، متاثرہ بچوں میں ہالا ناکہ کے علاقے کوئٹہ ٹاؤن کے رہائشی محب آ پٹھان کی ایک سالہ بیٹی میمونہ اور لطیف آباد یونٹ11کے رہائشی و سرکاری ملازم محمد فاروق کی 10 سالہ بیٹی رباب فاطمہ شامل ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بنوں ڈویڑن شدید طور پر پولیو کی زد میں آگیا ہے جہاں اب پورے ملک کے مقابلے میں پولیو کیسز کی تعداد بڑھ کر 32 ہوگئی ہے، محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں بنوں، شمالی وزیرستان اور ہنگو سے نئے 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، ان میں ضلع ہنگو کے علاقے تحصیل ٹل کی 18 ماہ کی بچی کے نمونے قومی ادارہ صحت اسلام آباد کو بجھوائے گئے جن میں پولیو وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقے تحصیل میر علی کے رہائشی ڈھائی سالہ بچے کے علاوہ ضلع بنوں کی تحصیل وزیر غوڑا بکاخیل کی رہائشی17ماہ کی بچی کے بھیجے گئے نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو بابر بن عطا کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پولیو وائرس کی صورتحال خطرناک ہے۔اس وقت بچوں کو اس موذی مرض سے بچاؤ کیلیے انسداد پولیو قطرے واحد حل ہیں جو ہر بچے کو لازمی پلائے جائیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے 26 اضلاع میں پولیو مہم شروع ہوگئی ہے جس میں 46 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں جبکہ 16ہزار 800 ٹیمیں آج (پیر سے) پولیو مہم میں حصہ لے رہی ہیں، ان میں 13ہزار 884 موبائل ٹیمیں، ایک ہزار 222 فکسڈ ٹیمیوں کے علاوہ 792ٹرانزٹ اور 902 رومنگ ٹیمیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔

    ………………..

    مہم کے دوران صوبے کے29اضلاع میں47لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو قطرے پلائے جائیں گے۔ محمود خان
    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کی صاحبزادی کو پولیو کے قطرے پلا کر صوبے میں انسدادپولےو مہم کا باضابطہ افتتاح کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیو ویکسین ہر لحاظ سے محفوظ ہے ، عوام ویکسین کے خلاف پروپیگنڈے پر دیہان نہ دیں، اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر صوبے اور ملک کو پولیو فری بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں۔ ریاست اور حکومت اپنی قوم کے لئے باپ کی حیثیت رکھتی ہے ، حکومت کبھی بھی اپنے بچوں کو غلط ویکسین نہیں پلائے گی۔ پولیو ویکسین کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو رد کرنے کے لئے وزیراطلاعات کی بیٹی کو قطرے پلائے گئے اور وزیر صحت ہشام انعام اللہ نے خود بھی پولیو کے قطرے پیئے۔ پولیس ہسپتال پشاور میں انسداد پولیو کی افتتاحی تقریب میں وزیر صحت ہشام انعام اللہ خان، وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی ،وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد پولیو بابر بن عطاء، سیکرٹری محکمہ صحت فاروق جمیل ، کوآرڈینیٹر ای او سی کیپٹن (ر) کامران احمد آفریدی ،ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر ارشد خان اور دیگر اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔صوبے کے 29 اضلاع میں 47 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کیلئے 16800 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں 13884 موبائل ٹیمیں ، 1222 فکسڈ ٹیمیں ،1792 ٹرانزٹ ٹیمیں اور902 رومنگ ٹیمیں شامل ہیں۔ 3922 ایریا انچارج تعینات کئے گئے ہیں جو مہم کی نگرانی کریں گے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علماءکرام ، عوامی نمائندوں ،میڈیا اورتمام سٹیک ہولڈرزسے درخواست کی ہے کہ اس مہم میں اپنا کردار ادا کریں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پولیو کے قطرے جو ہم اپنے بچوں کو پلاتے ہیں اس میں کوئی غلط چیز شامل نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کو اپنے بچوں کے مستقبل سے نہیں کھیلنا چاہئیے، انسداد پولیو کی ہر مہم میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے ضرورپلانے چاہئیے تاکہ اس قسم کے موذی مرض کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے صوبے میں جتنے بھی پولیو کیسز سامنے آتے ہیں یہ والدین کے غفلت کیوجہ سے آتے ہیں۔ والدین کو چاہئیے کہ بچوں کے مستقبل اور صحت کے ساتھ نہ کھیلیں اور ان کو ہر مہم میں پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔ پولیو ویکسین ہر لحاظ سے محفوظ ہے اس سے انسانی جسم کوکوئی نقصان نہیں ہوتا،اسی ویکیسن کے ذریعے دنیا کے باقی تمام ممالک سے پولیو کا خاتمہ کیا جا چکا ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان اور افغانستان میں اب بھی یہ وائرس موجود ہے،ملک میں اس وائرس کو ختم کرنا حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔محمود خان نے کہا کہ پولیو ہمارے بچوں کا دشمن ہے اس کو مل کر شکست دیں گے۔
    ……………………………………………………………

    انسداد پولیو ویکسین موذی مرض سے بچاؤ کا واحد حل ہے، بابر بن عطا
    اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد پولیو مہم بابر بن عطا کا کہنا ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچانا ہر شہری کی قومی ذمے داری ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد پولیو مہم بابر بن عطا نے کہا کہ قومی ذیلی انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو گیا ہے، انسداد پولیو مہم ملک کے 46 مخصوص اضلاع کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ مہم میں 85 لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسی نیشن کا ہدف مقرر کیا ہے، کے پی کے 29 اضلاع میں 46 لاکھ بچوں کی پولیو ویکسی نیشن کی جائے گی۔بابربن عطا کے مطابق پنجاب کے 4، سندھ کے 6 اضلاع میں انسداد پولیو مہم شروع کی گئی ہے جبکہ بلوچستان میں 9 لاکھ سے زائد بچوں کی پولیو ویکسی نیشن کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو ویکسین موذی مرض سے بچاؤ کا واحد حل ہے، اپنے بچوں کوپولیو سے بچانا ہر شہری کی قومی ذمے داری ہے۔وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد پولیو مہم بابر بن عطا نے کہا کہ ہر شہری انسداد پولیو مہم کی کامیابی میں کردارادا کرے، والدین بچوں کوپولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

    <><><><><>

  • error: Content is protected !!