Chitral Times

Aug 18, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • بنام ڈی ایچ او، ڈی سی، کمانڈنٹ، ناظم چترال….تحریر۔شہزدہ مبشرالملک

    August 10, 2018 at 11:02 pm

    * ڈینگی بادشاہ کی افزائش۔
    کیا نئے پاکستان میں ہمارے ’’بچوں‘‘ کا وہ خواب پورا ہوگا جو جناب عمران خان صاحب انہیں دیکھا رہے ہیں؟ کیا صرف ایک شخص کی کاوئشوں سے یہ ’’ملک‘‘ ٹھیک ہوسکتا ہے؟ کیا یہ سب کچھ ’’ٹھیک ‘‘ کرنا ہماری بھی ذمہ داری نہیں ہے؟ بحیثیت ’’ ملک ‘‘ اس دھرتی ماں نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے کیا بحیثیت شہری ہم بھی اس ملک کو کچھ دے پائے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہمیشہ ’’ نفی ‘‘ ہی میں ملاہے۔ دو کام ایسے درپیش ہیں جو ’’ فوری ‘‘ توجہ چاہتے ہیں۔ سیاست ، جمہوریت اور حکومت سازی کے گھماگھمیوں کو پس پشت ڈال کر اس جانب توجہ کی خاص ضرورت ہے۔ضلع کے حالات اور ختیارات کس شخص کے پاس ہیں اس کا مجھے علم نہیں جوبھی اس کار خیر میں حصہ ڈالے بلکہ اپنی ’’ ڈیوٹی ‘‘ انجام دے تو اس قوم پہ احسان نہیں ہوگا۔

    حالیہ موسم گرما میں چترال بھر میں پانی کی شدت قلت کے باوجود گاؤں گاؤں آبی گزرگاہوں ، نالوں اور آبادی کے درمیان نہروں میں روان پانی نہ ہونے کے سبب جابجا گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں صفائی کی ناقص انتظام اور کمیٹی والوں کے لیے ٹرالی نہ ہونے یا فنڈ کی کمی کے سبب اور کوڑاکرکٹ جمع کرنے کے لیے مناسب جگہ دستیاب نہ ہونے کے سبب بھی مختلف ’’ جراثمی ‘‘ امراٖض پھیلنے کے خطرات لاحق ہیں۔ دنین کے درمیاں موجود نہر جو کئی سال پہلے… نیردیت گول سے گہتک تک کے اراضی کے لیے آپاشی کا بہترین ذریعہ تھا اس کے علاوہ علاقے کی صفائی ستھرائی اور خوبصورتی میں بھی اضافے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کے نہانے او رصحت مندانہ تفریح کا سبب بھی اب مدتوں سے وہ دنین لشٹ کے مکینوں کے ہاتھوں یلغمار بناہوا ہے اور نصف دنین اس کے فوائد سے محروم ،مقامی حکومت اور ہمارے اداروں کی اس جانب کوئی دلچسپی نہ ہونے کے سبب ۔ علاقے کے مکینوں نے مذید … ظلم … اپنے گھروں کے تمام گندے پانی کو اس خشک نہر میں ڈال کر اسے علاقے کے لیے … جراثمی… آماجگاہ … بنا دیا ہے۔اب جابجا آپ کو غلاضت کے ڈھیر نظر آئیں گے جہاں۔بیکٹریاز، کی فراوانی سے افزائش جاری ہے۔ مستقبل میں دنین کا یہ نہر لشٹ ، شنجال ، گجاندہ ، گولوغ تک ، ڈھینگی ، ملیریا، ڈڈٹو، کچرارانی، جیسے شہکار شکاریوں کا مرکز بن کر کسی وبائی مرض کا ذریعہ نہ بن جائے ۔ اس میں گاوءں کے لوگوں کو پابند کرنے کی سخت ضرورت ہے اور مقامی حکومتوں کو بھی اس پر سخت توجہ اور ختیارات دینے کی ضرورت ہے۔ہم اپیل کریں گے اپنے اداروں کے سربراہان سے کہ وہ فوری ان نالوں کی صفائی ، پانی کی بحالی اور اسپرے کرانے کا بندوست کریں ۔ میرے پاس اگر کمرہ اور ٹسٹ کی سہولت ہوتی تو آپ سب کے سامنے وڈیو ز پیش کرتا کہ علاقے کے باسی ناک میں رومال رکھ کر گزر تو جاتے ہیں مگر اپنے کیے ہوئے گند کو صاف کرنے کے لیے دوسروں کی راہ تکتے ہیں۔ بڑوں کے لیے ناصحی مستقبل کے معماروں کے لیے … کچھ اقدم تواٹھائیے۔

    * زہر کا سوال ہے بابا۔
    جب سے ٹرانسپورٹ کے ذرایعے بڑے ہیں … کتوں کا کاربار بھی زوروں پہ ہے اس… وفادار جانور … کے ساتھ بالائی چترال کے ہمارے بھائیوں کی … بے وفائی… سمجھ میں نہیں آتی۔ روز درجن کے حساب سے … لینک کے پارک اتارے جاتے ہیں تاکہ کچھ دیر جولا جول کے یہ شہر آشنا ہوسکیں۔اگر حساب لگایا جائے تو اس سال اتنی … مرغابیاں … چترال میں داخل نہیں ہوئے جتنے… یہ وفادار … جانور… معلوم نہیں ان … جانوروں … کے خلاف یہ میرا کتنے واں … وائٹ پیپر ہے ۔ بازار کے بازار اتالیقی اور چیوپل کی راتوں کی ٹھنڈ بھری ہوائیں ہیں کہ انہیں مست کر کے علاقے میں پھلاانے کا ذریعہ بنتے ہیں یا… قصاب خانے کی … لذت کہ جس کے سبب دنین والوں پہ یہ مہربا نیاں جاری وساری ہیں ۔ کسی زمانے میں ڈی ایچ او آفس کا ملازم مرحوم شیر بنی ماما شاہانا قہقہ مار کے ایک …. سو’ٹا … مارنے کے دیر میں دس … کتے… مار دیتے تھے۔ اب دنین کے باغات انکے افزائش کے پوشیدہ مراکز ہیں۔ اور چیوپل اور اتالقی پل اور قصاب خانہ ان کے … محافل مشاعرہ کے اعلانیہ مراکز۔ نجانے یہ ہمارے سرکاری اداروں کے ذمہ داروں کو نظر کیوں نہیں آتے۔ یہ سکول جاتے ہوئے بچوں کے لیے بھی خطرے کا سبب بن رہے ہیں اور کھتوں اور باغات میں کام اور تفریح کرنے والوں کے لیے بھی۔معلوم نہیں اب ڈی ایچ او … آفس میں یہ کام نہیں ہورہا یا اس کے … زہر… کے فنڈ بھی نواز کھاگئے یا نئے پاکستان میں … کتے مارنے … کی اجازت نہیں ۔ کیونکہ میری طرح … خان صاحب کو بھی کتے بہت پسند ہیں۔۔۔۔ اگر کتوں کو مارنے والے زہر دستیاب نہیں …. تو انسانوں کے لیے تو مہیا کیجیے کم از کم وہ خود ہی یہ کار خیر انجام دے سکیں۔

    shmubashir99@gmail.com

  • error: Content is protected !!