Chitral Times

Dec 13, 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ڈپٹی کمشنر چترال ارشار سدھیر کی بروغل کا دورہ ، چترال کی تاریخ میں پہلی دفعہ کھلی کچہری کا انعقاد

    December 6, 2017 at 11:01 pm

    چترال ( نمائندہ چترال :ٹائمز ) ڈپٹی کمشنر چترال ارشار سدھیر نے مختلف محکمہ جات کے سربراہوں کے ساتھ چترال کے سب سے دورآفتادہ علاقہ بروغل اور یارخون ویلی کا دورہ کیا۔ جوکہ چترال سے 250کلومیٹر دورپاک افغان بارڈر کے ساتھ واقع ہے ۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر منہاس الدین، ڈسٹرکٹ آفیسر فنانس حیات شاہ، فوجی و سول افسران کے علاوہ علاقے کی معروف شخصیت کیپٹن شہزادہ سراج الملک بھی ان کے ہمراہ تھے۔ تین روزہ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے یوکم یارخون میں علاقے کے عمائدیں کے ساتھ میٹنگ کی ۔ پاور کے مقام پر اے کے آر ایس پی کی تعمیر کردہ پن بجلی گھر کا معائنہ کیااور ایک کامیاب بجلی گھر کی قیام پر اے کے آرایس پی کی کاوشوں کو سراہا۔ بروغل جاتے ہوئے مختلف مقامات پر ڈپٹی کمشنر نے بچوں میں تخفے اور گرم کپڑے بھی تقسیم کئے۔

    ڈپٹی کمشنر نے یارخون لشٹ میں کھلی کچہری کا انعقاد کرایا،جہاں عوامی مسائل سنی گئی اور بعض مسائل پر موقع پر احکامات جاری کی ۔عوامی حلقوں کی طرف سے جی ایچ ایس یارخون لشٹ کی تعمیر میں تاخیر ، دربند اورژوپو پل کی تعمیر اور سڑک کی ناگفتہ بہہ حالت کے بارے ڈپٹی کمشنرکو اگاہ کیا گیا۔ جبکہ صحت کے سہولیات کی عدم دستیابی کے بارے میں بھی انھیں بتایا گیا۔

     

    ڈپٹی کمشنر نے ایک اور کھلی کچہری کا انعقاد سطح سمندر سے تقریبا تیرہ ہزار بلند لشکر واز بروغل کے مقام پر منعقد کرایا ۔جوکہ علاقے میں اپنی نوعیت کی پہلی کھلی کچہری تھی۔ جہاں لوگوں نے مسائل کے انبار لگادئیے ۔ علاقے کے مسائل میں لشکرواز سے لشکر گاز تک سڑک کی تعمیر کیلئے مذید فنڈ مہیا کرنا ، بروغل میں ڈسپنسری کا قیام، بروغل نیشنل پارک کی حیثیت ختم کرنے ، چترال لیویز میں بروغل کیلئے محصوص کوٹہ ، علاقے میں مواصلات کے نظام کی فراہمی، شفاخانہ حیوانات کی منتقلی اور تمام سٹاف کے تبادلہ ، بروغل ایریا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے این جی اوز کو این او سی کا اجراء، علاقے میں گندم کیلئے گودام اور یوٹیلی سٹور کی قیام کا مطالبہ ، کمیونٹی کیلئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ٹریننگ کا اہتمام و دیگر شامل تھے۔ جن میں بعض کیلئے ڈپٹی کمشنر نے موقع پر احکامات جاری کئے۔ اس موقع پر لوگوں نے بتایا کہ حکومت نے بروغل ایریا کو نیشنل پارک کی حیثیت دے رکھی ہے۔ جہاں لوگ اپنی مویشیوں کو پال کر روزگار کماتے تھے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اکثر اسٹاف غیر متعلقہ علاقوں سے لئے گئے ہیں یہاں تک کے کلاس فور بھی مقامی نہیں ہیں۔ جبکہ اس پارک کی وجہ سے لوگوں کی معاشی زندگی پر بری اثر پڑی ہے۔ لہذا اس نیشنل پارک کی حیثیت کو ختم کیا جائے۔

    چونکہ بروغل کے عوام کا واحد زریعہ معاش مویشی ہیں۔ جن کیلئے ڈپٹی کمشنر نے تقریبا دو لاکھ روپے مالیت کے دوائی بھی اس موقع پر تقسیم کی اور موقع پر مستند ڈاکٹر کے زریعے مویشیوں کی ویکسنیشن بھی کرائے گے۔ ڈپٹی کمشنر نے موقع پر بروغل میں فری میڈیکل کیمپ کا بھی اہتمام کیا ۔ جہاں 135مریضوں کا معائنہ اور مفت ادویات تقسیم کئے گئے۔

    ارشاد سدھیرنے اس موقع پر بروغل کے طلباء میں کھیلوں کا سامان بھی تقسیم کیا تاکہ وہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بروغل کے140 غریب گھرانوں میں اشیاء خوردنی کے پیکیج بھی تقسیم کی ۔ اور ایک ایک گھر جاکر انھوں نے لوگوں کے مسائل سنے انھیں خوراک پیکیج کے ساتھ کمبل و دیگر امدادی سامان بھی مہیا کی۔ ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر سی ڈی ایل ڈی فنڈ سے تعمیر شدہ لشکر واز تا لشکر گاز روڈ کا بھی افتتاح کیا ۔ اور مذید فنڈ مہیا کرنے کی یقین دہانی کی ۔ علاقے کے عوام نے اس ٹھٹھرتی سردی میں بروغل کا دورہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر سمیت تمام حکام کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہا ر کیا ہے کہ ڈی سی اپنے کئے ہوئے وعدوں کو جلد نبھائیں گے ۔

  • error: Content is protected !!