Chitral Times

17th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے این ٹی ایس کے تحت بھرتی شدہ اساتذہ کی ریگولرائزیشن ڈیزائن کی منظوری دیدی

    October 31, 2017 at 7:26 pm

    پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے محکمہ تعلیم میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی شدہ تدریسی عملے کو ریگولرائز کرنے سے اصولی اتفاق کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری محکموں میں این ٹی ایس ، آئی ٹی اوردوسرے ذرائع سے بھرتی شدہ تمام عارضی ملازمین کو ریگولرائزیشن اور اپ گریڈیشن پلان میں شامل کیا جائے وزیر اعلیٰ نے ریگولرائزیشن ڈیزائن کی منظوری وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی۔ صوبائی سینئر وزیر برائے بلدیات عنایت اللہ، چیف سیکرٹری اعظم خان، انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود اور دیگر متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔اس موقع پر ملازمین سے متعلق دو نکاتی ایجنڈے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جس میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی شدہ اساتذہ اور دیگر ملازمین کی ریگولرائزیشن، پولیس اور دیگر ملازمین کی اپ گریڈیشن ، اس میں حائل مالی ضروریات اور درکار قانون سازی شامل ہیں جبکہ اس ضمن میں بعض ضروری فیصلے بھی کئے گئے وزیر اعلیٰ نے تمام سرکاری محکمہ جات اور اداروں میں مختلف اسامیوں کی اپ گریڈیشن اور کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن کے مراحل خوش اسلوبی سے طے کرنے کیلئے ضروری ہدایات جاری کیں انہوں نے ملازمین کی ریگولرائزیشن اور اپ گریڈیشن دونو ں معاملات میں ایک متوازن اور منصفانہ طرز عمل اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ صوبائی حکومت ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے تاہم حکومت بھی ملازمین سے یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہے کہ وہ عوام کو بہتر سے بہتر سہولیات کی فراہمی میں زیادہ جذبے اور اخلاص کا مظاہرہ کریں گے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کو انکے حقوق سے زیادہ وسائل دے رہی ہے اور اسکاثمر عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی اور حسن کارکردگی کی صورت میں چاہئے۔انہوں نے ہدایت کی کہ اساتذہ اور دیگر ملازمین کی ریگولرائزیشن کا مشترکہ کیس صوبائی کابینہ کو بھیجا جائے تاکہ اگلے اجلاس میں اس پر حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔پولیس اور دوسرے محکموں کے ملازمین کی اپ گریڈیشن سے متعلق وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس کا جامع کیس بھی صوبائی کابینہ کے اگلے ایجنڈے میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ تمام محکموں میں اپ گریڈیشن کا جامع کیس تیار کریں جس میں محکمہ عملہ کے او اینڈ ایم لیول کو بطور خاص مد نظر رکھا جائے اور تمام ملازمین کی اپ گریڈیشن کیلئے متوازن فارمولہ کی منظوری دی جائے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کیس کی تیاری دس دن کے اندر مکمل کی جائے اور واضح کیا کہ وہ ملازمین کی سطح پر تفاوت کو ہر قیمت پر دور کرنا چاہتے ہیں پرویز خٹک نے مزید واضح کیا کہ وہ ملازمین سے متعلق ایسا ملازمتی ڈھانچہ اور فارمولہ چاہتے ہیں جس میں سرکاری ملازمین کو زیادہ سے زیادہ فوائد ملیں اور وہ عوامی خدمت کی بطریق احسن بجا آوری میں کشش محسوس کر سکیں انہوں نے کہا کہ اس اقدام کی بدولت سرکاری اداروں اور ملازمین کے فرائض اور امور میں بھی واضح تبدیلی آئے گی اور انکی کارکردگی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سہولت ہو گی وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ کابینہ کو اس سلسلے میں ایک مکمل کیس پیش کرنے کیلئے تمام امور خوش اسلوبی سے نمٹائے جائیں تاکہ کابینہ کو فیصلہ سازی میں آسانی ہو اور صوبائی اسمبلی سے قانون سازی کی صورت میں بھی بہتر اور غیر مبہم کیس تیار کیا جا سکے انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اورمستقل نوعیت کے پراجیکٹس میں کام کرنے والے ملازمین کی ریگولرائزیشن کو بھی حتمی شکل دی جائے انہوں نے مزید واضح کیا کہ اپ گریڈیشن کے مجموعی پلان میں تمام محکموں کو اعتماد میں لینا بھی ضروری ہے تاکہ حکومت کو یک بار قانون سازی میں آسانی ہو اور بعد میں کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ملازمین کا مناسب سروس سٹرکچر ہونا چاہئے تاکہ انہیں انصاف اور تحفط پر مبنی ملازمتی ڈھانچہ میسر ہو انہوں نے پولیس ملازمین کے مختلف گریڈز اور اپ گریڈیشن سے متعلق ڈیزائن سے بھی اتفاق کرتے ہوئے اس سلسلے میں انسپکٹر جنرل پولیس کو چیف سیکرٹری کے ساتھ بیٹھ کر کیس نمٹانے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ اپ گریڈیشن کا یہ کیس فوری نمٹائے گی ۔

  • error: Content is protected !!