Chitral Times

Dec 13, 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ’’’’’’’’’’ 7دسمبر‘‘‘‘‘‘ …………میر سیما آمان چترال

    December 6, 2017 at 11:22 pm

    7دسمبر چترال کی تاریخ کا ا نتہائی تاریک تر ین دن ہے 2016کی اسی شام طیارہ حادثہ میں 47 افراد کو لقمہ ا جل ہوتے دیکھنا ہم چترالی عوام کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔آج اس سانحے کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔سب جانتے ہیں کہ ایک سال کے اندر 365دن ہوتے ہیں۔لیکن اُن ماؤں کے لیے یہ دن یقیناً 365صدیوں سے کم نہیں لگے ہونگے جن کے ’’لختِ جگر‘‘ اِس حادثہ سے ہمیشہ کے لیے ان سے جُدا ہو گئے۔۔اِس بھیانک حادثے میں 47افراد شہید ہوئے جن میں31افراد کا تعلق چترال سے تھا باقی PIA کا عملہ اور غیر ملکی سیاح سمیت چترال کے DC سامہ وڑائچ اور ماضی کے معروف گلوکار اور وقت کے بڑے مذہبی سکالر جُنید جمشید بھی شامل تھے ۔ جبکہ باقی شہدائے حویلیاں میں فرحت عزیز، طیبہ عزیز، تکبیر خان، عمرا خان، سلمان زین العابدین، عابد قیصر، احسن، عائشہ، اکبر علی، اختر محمود، عامر شوکت، آمنہ احمد، ماہ رخ، عاصم وقاص، عتیق محمد، فرح ناز، گوہر علی، گل حوران، حاجی نواز، حسن علی ، جنید نانیا، محمود عاطف، میرزاگل، فرحان علی،محمد علی، خالد محسود، محمد خان، محمد خاور، نعمان شفیق،، نگارالدین،،رانی مہرین، سمیع، ثمینہ گل، شمشاد بیگم، تیمور ارشد اور زاہدہ پروین، شامل تھے ۔ بات اگر جنید جمشید کی کی جائے تو میں ذاتی طور پر یہ سمجھتی ہوں کہ اُن کی تعریف کے لئے اُنکا وہی اقدام کافی ہے جو انہوں نے محض اﷲ کی خوشنودی کی خاطر بہت پہلے اُٹھایا۔۔جنید جمشید وہ نوجوان تھے جس نے مو سیقی کو اُس وقت ترک کیا جب وہ اِس حوالے سے شہرت کے عروج پر تھے۔۔ ہمارے درمیاں کتنے ایسے نوجوان ہیں جو ایسی شہرت کو لات مارنے کا ظرف رکھتے ہوں جو ’’’موسیقی‘‘‘ کے حوالے سے جنید جمشید کو حاصل تھا۔ایسا معا شرہ جہاں شہرت کے ہوس نے ہی انسان کو پاگل بنا رکھا ہو و ہاں جنید جمشید جیسے لوگ تو خواب لگتے ہیں۔J’J کو جو عزت اور شہرت موسیقی کے حوالے سے حاصل تھی اس سے کہیں بڑھ کر موسیقی کی قربانی سے حاصل ہوئی۔مُخالفین J’J پر الزامات لگاتے رہے انکے خلاف پرو پیگنڈے کرتے رہے ہیاں تک اُن پر جوتے بھی برسائے گئے قتل کی ساذیشیں تک کی گئیں لیکن اﷲ کی شان کے جنید جمشید کو تو موت بھی وہی نصیب ہوئی جسکی خود اُنہیں شدید خواہش تھی یعنی شہادت ۔(سبحان اﷲ)۔۔پھر جب بات اُسامہ احمد وڑائچ شہید کی ہو تو اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ پبلک سر ونٹس کی تعداد اس وقت سینکڑوں یا ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے لیکن اُسامہ شہید جیسے با ضمیر اور ا یماندار آفیسرزکی تعداد اُنگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔بلاشُبہ قوم ایک مخلص آفیسر سے محروم ہو گئی ہے۔۔۔پھر چترال کے معروف پیرا گلا ئڈر فرہاد عزیز سے کون وا قف نہیں۔جو لینگ لینڈ سکول کے سینئر اُستاد بھی تھے۔فرہاد عزیز کا تعلق جس روئل فیملی سے ہے رعونت یا فخر کا ایک خاموش رویہ اس فیملی کی خاصیت سمجھی جاتی ہے مگر فر ہاد عزیز کی شخصیت اس رویہ کے بالکل متضاد تھی۔۔وہ عجز و انکساری کا پیکر ایک بہترین انسان تھے بے شک اُنکا اپنی بیٹی سمیت اس حادثے کا شکار ہونے سے ’’شاہی قلعہ‘‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گوار ہو گیا ہے۔۔باقی جتنے بھی لوگ اس حادثے کا شکار ہوئے ان تمام افراد کے لئے چترال کا ہر دل سوگوار تھا ،ہے اور رہے گا۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ ایڈمنسٹریشن کی سیٹ پر ایک کے بعد ایک نیا آفیسر آجاتا ہے۔سکول ہو کوئی تجارتی مرکز ہو یا کوئی سرکاری و غیر سرکاری ادارہ۔۔ہر ’’اسامی‘‘‘ کسی نئے آفیسر سے پُر ہوتے رہیں گے لیکن اِس cycle of replacement میں اُن رشتوں کا کیا بنے گا جو اب کبھی بھی پُر نہیں ہوسکتے ہیں۔۔کس قدر تلخ حقیقت ہے کہ اسامہ شہید کے بے بس والدین ہوں یا آمنہ احمد کے ،، اِدھر عائشہ عثمان کے ہوں یا سلمان العا بدین کے ،،جنید جمشید کی معصوم اولاد ہوں یا فرہاد عزیز کے،،یہ۴۷ خاندان اپنے ان پیاروں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سگوار رہیں گے ۔۔آج اس حادثہ کو ایک برس ہوچکا ہے۔چترال کے دُشوار گزار اور طویل سفر کے بناء پر جہاز کا سفر اج تک چترالی عوام کے لئے طمانیت بھرا احساس ہوا کرتا تھا مگر گزشتہ ایک سال سے پی آئی اے کی فلا ئٹس ہمیں دہشت میں مبتلا کر دیتی ہیں ۔آج کتنے ہی لوگ ہیں جو بائی ائر سفر سے مکمل با ئکاٹ کر چکے ہیں،کتنے لوگ ہیں جو جہاز کو آتا دیکھ کر ہی منہ پھیر لیتے ہیں،کانوں میں انُگلیاں ڈال دیتے ہیں تا کہ اسکی اواز تک نہ سُنیں۔۔۔جی ہاں قارئین آج ہم چترال کی بے بس عوام اِس جہاز نامی ’’بے جان مشینری‘‘‘ سے نفرت کر نے پر مجبور ہیں جس نے ہم سے ہمارے پیاروں کو ہمیشہ کے لیے چھین لیا ہے۔۔۔ہاں ہم بحثیتِ مسلمان اِن بے قصور جانوں کے ضیاع کو شہادت مانتے ہوئے اس اعزاز پر چُپ تو رہ سکتے ہیں لیکن کیا پاکستان کی ذندہ عدالتیں ایسے المناک حادثوں کو ازخود نوٹس کے بجائے ایسی مردہ تحقیقاتی کمیٹیوں کے سپرد کرتے رہیں گے جن کی رپورٹ آنے کے بعد بھی اس پر کوئی عملد درآمد نہ ہو ؟کیا چترالی عوام PIA کی ایسی بد ترین غفلت کا دوبارہ شکار ہونے کا خود میں حو صلہ رکھتی ہے؟آفسوس کہ ہماری حکمرانو ں نے ا تنے بڑے حادثے کو بہت جلد فراموش کر دیا۔۔۔!!!

  • error: Content is protected !!