Chitral Times

Oct 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت بلتستان کلچر ثقافتی تاریخی پس منظر اور حیاء داری تحریر: مفتی ثناء اللہ انقلابی

Posted on
شیئر کریں:

گلگت بلتستان کلچر ثقافتی تاریخی پس منظر اور حیاء داری تحریر: مفتی ثناء اللہ انقلابی رہنما نمبردار ایسو سی ایشن جی بی
یکم نومبر 1947کو طویل جنگ و جد ل جہد مسلسل اور ان گنت قربانیوں کی طفیل آزادی کا تمغہ امتیاز اپنے سروں پر سجانے والی گلگت بلتستان کی بہادر قوم روز اول سے اپنی تہذیبی شناخت رکھتی ہے۔ 22لاکھ آبادی پر مشتمل یہ خطہ غیور، جفاکش، مہمان نواز، ملنسار ، نرم خو ، وفا دار ، مہر و محبت کے خو گر، حیاء کے پیکر ، شینا، بروشسکی کھوا ر اور بلتی جیسی مزیدار رسیلی بولیوں کے حامل محبت سے لبریز بے مثال قوم اپنی ثقافتی درخشندہ ماضی رکھتی ہے۔تاریخ کا طالب علم دردستانی قبائل کا کلچر بودوباش، رہن سہن، ثقافتی تاریخی پس منظر کا جب بھی مطالعہ کریگا تو تاریخ کے جھروکوں سے کوہ ہمالیہ، قراقرم، ہندو کش ، انڈس ریور ، کے ٹو ، نانگا پربت، کوہساروں، آبشاروں ، جھیلوں ، مرغزاروں ، بہتی ندیوں اور نالوں ، وسیع و عریض چراگاہوں ، حسین و جمیل وادیوں ، بلند و بالا پہاڑیوں ، گھنے جنگلوں ، صاف و شفاف پانیوں ، دلربا، دلکش اور جاذب نظر نظاروں کے درمیان حیات عارضی کے ایام مستعار گزارنے والی قوم کے قابل تقلید روایات و اقدار کے حسین لباس میں ملبوس قوم حیاء پاک دامنی سے متصف اپنی شاندار و جاندار قابل رشک باعث تفاخر روایات کے امین و پاسباں دکھائی دیگی۔گلگت بلتستان کا قدیم کلچر اور ثقافت اپنا ایک مخصوص رنگ و روپ لئے کائنات کی دیگر اقوام سے مختلف جہت دکھائی دیگا۔
مثال کے طور پر گلگت بلتستان میں بادشاہوں کا کھیل پولو پاکستان کے بلند ترین مقام شندور میں سالانہ میلے کی صورت میں ظہورپذیر ہوتا ہے جو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ یہاں کے باشندے مالی اعتبار سے پسماندہ ترین خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے کے باوجود اپنا الگ تھلگ شاہانہ مزاج رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کھیلوں کا سردار شاہوں کا کھیل پولو پورے ذوق و شوق کے ساتھ کھیلا جاتا ہے ۔ مخصوص موسمی نوعیت کی وجہ سے سرما میں اونی گرم ملبوسات مقامی شینا زبان میں (شوقہ) یعنی اردو میں اونی جبہ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔یہاں کے پشتنی باشندے شوقہ زیب تن کرتے ہیں جس سے پورا جسم ڈھک جاتا ہے ، انتہائی سرد ہواؤں سے بچاؤ کے لئے جسم پر اونی جبہ (شوقہ) کا استعمال اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ فطری طور پر یہ غیور قوم تنگ لباسی سے بیزار کھلا لباس پہننا اپنا شعار رکھتی ہے جبکہ سروں پر مخصوص اونی ٹوپی پہنتے ہیں یہاں کی قدیم روایات میں ننگا سر بے شرمی تصور کیا جاتا رہا ہے۔
یہ ادا بھی یہاں کی حیاء پسندی کی بہترین عکاسی کرتی ہے کہ شادی بیاہ میں باراتیوں کے لئے ان کی گزرگاہوں میں کمسن بچے ہاتھوں میں میٹھے میوہ جات، خوبانی، ڈرائی فروٹ ، اخروٹ اور توت سے بھری پلیٹوں کو اٹھا کر بطور خیر سگالی بلا رنگ و نسل و قوم و مسلک پیش کرتے ہیں جن کو مقامی شینا زبان میں (اشپری)یا (فیال ) کہتے ہیں ۔ یہ مجموعی معاشرے کی وہ حسین تہذیبی ، ثقافتی تصویر تھی جسے جذبہ خیر سگالی اور دوسروں کی خوشیوں میں ساجی و شریک ہونے کا رجحان کا پتہ چلتا ہے جبکہ باراتیوں کی طرف سے پیش کردہ میوہ جات مٹھائیاں پلیٹوں سے اٹھانے کے بعد خالی پلیٹوں میں رائج الوقت کرنسی ڈالی جاتی ہے جو بچوں سے شفقت کی غمازی کرتی ہے یوں جانبین سے جذبہ خیر سگالی کا ظہور ہوتا تھا۔ اسی طرح شادی بیاہ میں بوقت رخصتی دلہن دلہا کی طرف سے آئے باراتیوں کے لئے ضروری تھا کہ دلہن کے قریبی عزیزوں کی طرف سے متعین ٹارگٹ نشانی مقامی زبان میں (تمبوک) کہلایا جاتا تھا کو کسی اونچے مقام یا طویل القامت درخت کے بالائی حصے میں بیضوی شکل کا گولا جو انڈے کے برابر ہوتا تھا رکھا جاتا تھا اور دلہا کی طرف سے باراتیوں میں شامل نشانہ باز نشانہ بازی کرتے جب تک ٹارگٹ کو ہٹ نہ کرتے اس وقت تک مخصوص حد کو کراس نہیں کر سکتے یوں یہ کلچر بآسانی نشانہ بازی اور ملک دشمن کے خلاف عسکری ٹریننگ کا متبادل موقع ہوتا تھا، حکومت کے خرچے کے بغیر بغیر وردی کی پاکستانی فوج تیار ہوتی تھی جو ہنگامی صورتوں میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے جس کی چند جھلکیاں چشم فلک نے کارگل اور دراس کے محاذوں میں دیکھا ہے۔
اس طرح گلگت بلتستان کی ثقافت و کلچر کی ایک حسین تصویر کچھ یوں عیاں ہوتی ہے کہ سال میں ایک دفعہ مکئی کی کٹائی کے بعد موسم سرما میں ہر گاؤں دیہات میں کمسن بچے متفق اور متحد ہو کر ایک پروگرام طے کرتے تھے جس کے تحت ڈور ٹو ڈور شام کے سائے پھیلتے ہی گھروں میں جاتے اور وہاں پر مقامی زبان کے گیت گاتے اور مکینوں سے پیسے یا پیلے رنگ کے سنہرے بیج کارن یعنی مکئی کے دانے وصول کرتے مقامی شینا زبان میں اس مجلس کو (شاپ)کے نام سے جانا جاتا تھا جس میں نمایاں چیز یں یہ ہوتی تھیں، نمبر۱۔ مجموعے میں سے ایک بچہ بڑھیا اور دوسرا بچہ بوڑھا کے لباس میں ملبوس ہو کر چہرے پر مخصوص ماسک پہن کر ناچتے تھے جسے مقامی زبان میں (ٹوکورو) کہتے تھے اور کردار ادا کرنے والوں کو (جری/جرو) کہتے تھے یوں یہ روایات بتاتی ہے کہ کمسن بچے دلہا اور دلہن کے نام سے شرماتے تھے، حیاء کرتے تھے اس لئے طبعی حیاء داری کی وجہ سے عمر رسیدہ کردار ادا کرتے تھے تاکہ بے حیائی کا میلان ختم ہو۔جوان کے مقابلے میں عمر رسیدہ افراد کی زندگی کے تجربات سے گزر کر سنجیدہ، پروقار زندگی کا رول ماڈل ادا کرتے تھے اس سے اس قوم کی مستقبل میں بچوں کو سنجیدہ دیکھنے کی خواہش کا پتہ چلتا ہے ، ماسک پہن کر چہروں کو ڈھک کر کر دار ادا کرنے سے ان کی شرمیلی ، نازک طبیعت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ سال میں ایک دفعہ مہر و محبت سے جمع ہونا ان کی یونٹی کا پتا دیتا ہے مگر صد افسوس دور جدید کے نسل نو کو بے حیاء و بے شرم بنانے کے لئے نت نئی ایجادات کی بھرمار نوجوان نسل انٹرنیٹ کی غلط استعمال سے تباہ ہوتی جارہی ہے۔اس تباہی کے اثرات گلگت بلتستان تک پہنچا کر یہاں کی مخصوص مشرقی روایات و اقدار کی جگہ دشمن ملک بھارت کے مادر پدر آزاد کلچر کو پروموٹ کرنے کی کوششیں جاری ہیں ، گلگت بلتستان کے چند گنے چنے علاقوں میں شادی بیاہ اور تہواروں کے موقع پر اندرون چہاردیواری جدید فیشن زدہ نوجوان نسل ناچ گانے کا جزوی ارتکاب کرتے رہے ہیں، ازروئے شریعت محمد ؐ یہ قابل گرفت عمل ہے مگر حالیہ دنوں میں ثقافت و کلچر کے عنوان سے گلگت بلتستان میں مخصوص ایجنڈے کے تحت مخلوط ڈانس ایک چینل کی حیاء باختہ اداکارہ صنم بلوچ کو بلا کر سرینا لاج میں مارننگ شو کے نام سے لڑکے اور لڑکیوں کی مخلوط ڈانس کو کیمروں میں محفوظ کر کے پوری دنیا کو پیش کرنا حیاء کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے ۔ گلگت بلتستان کی 22لاکھ عوام کی غلط تصویر دنیا کو دکھانے کی گھناؤنی حرکت کی گئی جس پر مقامی صحافیوں، دانشوروں ، علماء کرام ، فنکاروں اور وکلاء برادری نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کر رہے ہیں ۔ اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ اس شرمناک حرکت میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کر کے قوم کے سامنے لائیں ، پوری قوم کی تذلیل کرنے والے شیطانی کردار کو جی بی کی حیاء دار قوم ہر گز معاف کرنے کے حق میں نہیں ہے، مخلوط ڈانس کا پروگرام22لاکھ عوام کی غیرت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے لہٰذا چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اس واقعے کا نوٹس لیں ۔ بے غیرتی اور بے حیائی کا کلچر ہماری ثقافت ہر گز نہیں ان کرداروں کو کڑی سزا دی جائے جنہوں نے مقدس دنوں میں میڈیا کے دیگر ذمہ دار اداروں کو مطلع کئے بغیر خفیہ طور پر مارننگ شو کو کیمروں میں محفوظ کر کے غلط پیغام دنیا کو دیا پوری قوم سراپا احتجاج ہے کہ پروگرام کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ جی بی میں فحاشی کلچر کا جنازہ ہمیشہ کے لئے نکالا جائے۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جائے گی تمہاری تہذیب بام جہان کے باسیو تمہاری داستان تک نہ ہوگی تہذیب کی داستانوں میں


شیئر کریں: