The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 3 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

گلگت بلتستان؛ انتخابات سے قبل عبوری آئینی سیٹ اپ کی فراہمی کے ساتھ دیگر تسلیم شدہ حقوق کی فراہمی کو یقینی بنا یا جائے۔ قاری غلام اکبر

گلگت بلتستان؛ انتخابات سے قبل عبوری آئینی سیٹ اپ کی فراہمی کے ساتھ دیگر تسلیم شدہ حقوق کی فراہمی کو یقینی بنا یا جائے۔ قاری غلام اکبر

۔

گلگت ( نمائندہ چترال ٹائمز ) گلگت بلتستان کے عوام قبل از انتخابات اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کو 1970 سے سیاسی نا انصافیوں کا شکار کر کے زیادتیاں کی گئی ہیں۔ ان زیادتیوں کے ازالے کا نادر موقع وفاقی اتحادی حکومت کے پاس ہے۔ 2013 میں وفاق میں بننے والی مخلوط حکومت نے وفاقی آئینی کمیٹی تشکیل دیکر 68 سالوں کے بعد اہم قدم اٹھایا تھا۔ سابق وفاقی آئینی کمیٹی نے گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری آئینی سیٹ اپ دینے وفاق کے تمام اداروں میں بھرپور نمائندگی دینے کے سفارشات مرتب کئے ہیں۔ اس سے قبل 12 اضافی حلقے گلگت بلتستان کے عوام کو دینے کے اعلانات سابق حکمرانوں نے اپنے دوروں کے دوران کئے ہیں۔ اعلان شدہ حقوق تسلیم شدہ حقوق کے زمرے میں آتے ہیں تسلیم شدہ حقوق کی فراہمی وفاقی اتحادی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔

صدر پاکستان نے یوم آزادی گلگت بلتستان کے تقریب میں شرکت کر کے گلگت بلتستان کے عوام کو پروموٹ کرنے کی بات کر کے دراصل سابق وفاقی آئینی کمیٹی کے سفارشات کی عملاً منظوری دی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام متنازعہ حیثیت/ خصوصی حالت اور 1970 کے سیاسی فارمولے کے عین مطابق پروموٹ کرنے کے حقدار ہیں، بعد کے گورننس آرڈرز حقائق کے منافی ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کو سابق صدر پی پی پی سید جعفر شاہ مرحوم کے آل پارٹی کانفرنس 2007 گاہکوچ ضلع غذر میں کیا گیا مطالبے کے عین مطابق 65 رکنی اسمبلی دی جائے تاکہ چار نئے قائم کئے گئے اضلاع کھرمنگ/شگر/ہنزہ/نگر اور چار ایڈیشنل اعلان شدہ اضلاع کے لئے ٹیکنو کریٹ اور خواتین کی نشستیں بھی دی جا سکیں۔

1970 میں ضلع غذر کے چار قدیم ریاستوں کے لئے چار نشستیں ایڈوائزری کونسل میں مختص ہوئے تھے۔ الیکشن 1970 کے قریب دو نشستیں کہیں اور منتقل کر کے ضلع غذر کے عوام کو 50 فیصد نمائندگی اور 50 فیصد بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر جو زیادتی کی گئی تھی کا بھی ازالہ ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی رہنما عمائدین گلگت بلتستان سابق مرکزی ترجمان آل یونین کونسلز ضلع غذر قاری غلام اکبر نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شندور سپاسنامہ 2025 کے نکات میں اعلان شدہ حقوق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ فوری طور پر گلگت بلتستان کا دور ہ کر کے عبوری آئینی سیٹ اپ کے فراہمی کے ساتھ دیگر اعلان شدہ تسلیم شدہ حقوق کی فراہمی کو یقینی بنا کر گلگت بلتستان کے عوام کو اعتماد میں لیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, گلگت بلتستانTagged
118180

گلگت بلتستان: چترال کے کھلاڑیوں کا کمال، نلتر ونٹر اسپورٹس میں میڈلز کی برسات

Posted on

گلگت بلتستان: چترال کے کھلاڑیوں کا کمال، نلتر ونٹر اسپورٹس میں میڈلز کی برسات

گلگت بلتستان ( نمائندہ چترال ٹائمز)پاکستان ونٹر اسپورٹس فیڈریشن اور پی اے ایف کے تعاون سے نلتر، گلگت بلتستان میں منعقدہ ونٹر اسپورٹس مقابلہ جات 2026 میں سرائے شندور ہرچین لاسپور کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ چترال کا نام بھی روشن کر دیا۔ آئس ہاکی کے سنسنی خیز مقابلوں میں سرائے شندور ٹیم نے غیر معمولی کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی اور دفاعی چیمپئن جی بی اسکاؤٹس کے خلاف سخت مقابلے کے بعد سلور میڈل اپنے نام کیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ خیبرپختونخوا کی کوئی ٹیم ونٹر اسپورٹس کے اس بڑے ایونٹ کے فائنل تک پہنچی، جسے کھیلوں کے حلقوں میں ایک تاریخی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ سرائے شندور ہرچین لاسپور کی ٹیم نے ہندوکش سنو اسپورٹس کلب کے پلیٹ فارم سے ایونٹ میں شرکت کی اور شاندار کارکردگی کے ذریعے صوبے کی نمائندگی کو ایک نئی شناخت دی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرائے شندور آئس ہاکی ٹیم کے سرپرست انور آصف اقبال یفتالی نے بتایا کہ ٹیم کی عمدہ کارکردگی کے نتیجے میں چھ کھلاڑیوں کو جی بی اسکاؤٹس اور پاکستان ایئر فورس کی جانب سے کھیلوں کی بنیاد پر ملازمتوں کی آفرز موصول ہوئی ہیں، جو نہ صرف ٹیم بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑی کامیابی اور اعزاز ہے۔ انہوں نے ہندوکش سنو کلب کے چیئرمین شہزادہ حسام الملک کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فراہم کردہ سہولتوں اور پلیٹ فارم نے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کیا۔

آصف اقبال یفتالی نے کہا کہ یہ کامیابی لاسپور اور چترال میں آئس ہاکی اور اسکیئنگ کے فروغ کے لیے کی جانے والی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ واضح رہے کہ وہ شندور کی تاریخ میں پہلی بار آئس ہاکی متعارف کرانے اور اس کھیل کی بنیاد رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔

دوسری جانب ونٹر اسپورٹس مقابلہ جات 2026 میں خیبرپختونخوا کی دیگر ٹیموں نے بھی شاندار کارکردگی دکھائی۔ چترال ایڈوینچر اسکول کی ٹیموں نے آصف مراد اور علی نواز کی قیادت میں مختلف مقابلوں میں متعدد میڈلز اپنے نام کیے۔ مردوں کے کرلنگ مقابلوں میں خیبرپختونخوا کی ٹیم نے برونز میڈل حاصل کیا، جس میں ذوالفقار علی، حسنین کریم، آفاق افضل اور شفیق عالم نے نمایاں کردار ادا کیا۔

خواتین کے مقابلوں میں بھی خیبرپختونخوا کی کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کیا۔ آئس ہاکی میں مجموعی طور پر چھ سلور میڈلز جیتے گئے جبکہ اسپیڈ اسکیٹنگ میں ثانیہ حسین نے گولڈ میڈل حاصل کر کے صوبے کا نام روشن کیا۔ ریلے مقابلوں میں طیبہ رحمت اور علینہ بہادر نے سلور میڈل حاصل کیا، جبکہ خواتین کی کرلنگ ٹیم نے برونز میڈل جیتا جس میں مشودہ اکبر، طیبہ رحمت، علینہ بہادر اور علیزہ شامل تھیں۔

ونٹر اسپورٹس مقابلہ جات 2026 میں مجموعی طور پر خیبرپختونخوا کی ٹیم نے ایک گولڈ، آٹھ سلور اور آٹھ برونز میڈلز حاصل کیے، جس پر کھلاڑیوں، کوچز اور منتظمین کو کھیلوں کے حلقوں کی جانب سے بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کامیابی صوبے میں ونٹر اسپورٹس کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔

chitraltimes nalter sports festival chitral team wins medals 3

chitraltimes nalter sports festival chitral team wins medals 5 chitraltimes nalter sports festival chitral team wins medals 4 chitraltimes nalter sports festival chitral team wins medals 7 chitraltimes nalter sports festival chitral team wins medals 1

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
117723

اہم عہدوں پر بدعنوان قیادت، گلگت بلتستان کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ – تحریر: اقبال عیسیٰ خان

اہم عہدوں پر بدعنوان قیادت، گلگت بلتستان کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ – تحریر: اقبال عیسیٰ خان

گلگت بلتستان محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ بے پناہ قدرتی وسائل، اسٹریٹجک اہمیت اور باصلاحیت انسانی سرمائے کا مرکز ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے خطے اگر درست قیادت سے محروم ہو جائیں تو ان کی اہمیت نعمت کے بجائے بوجھ بن جاتی ہے۔ آج گلگت بلتستان اسی نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں اہم اور فیصلہ ساز عہدوں پر بدعنوان قیادت اس کے مستقبل کو سنگین خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔

ایک تجزیہ نگار کی نظر سے دیکھا جائے تو بدعنوان قیادت کا سب سے پہلا نقصان پالیسی سازی میں ظاہر ہوتا ہے۔ پالیسیاں عوامی ضرورت اور طویل المدتی وژن کے بجائے ذاتی فائدے، سیاسی وفاداریوں اور وقتی مفاہمتوں کی بنیاد پر ترتیب دی جاتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ترقیاتی منصوبے محض اعداد و شمار بن کر رہ جاتے ہیں۔ بجٹ تو خرچ ہو جاتا ہے مگر اثرات زمین پر دکھائی نہیں دیتے، اور یوں عوامی اعتماد مسلسل کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔
عالمی تجربات اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے اس وقت ترقی کی راہ اپنائی جب انہوں نے بدعنوان قیادت کے خلاف سخت فیصلے کیے، اداروں کو خودمختار بنایا اور احتساب کو یقینی بنایا۔ اس کے برعکس، وہ ریاستیں جہاں بدعنوانی کو نظر انداز کیا گیا، وہاں سیاسی عدم استحکام، معاشی جمود اور سماجی انتشار نے جنم لیا۔ گلگت بلتستان کے لیے یہ عالمی اسباق محض مطالعہ کا موضوع نہیں بلکہ عمل کی فوری دعوت ہیں۔

بدعنوان قیادت اداروں کو افراد کے تابع کر دیتی ہے۔ میرٹ کمزور پڑتا ہے، سفارش مضبوط ہو جاتی ہے، اور نظام رفتہ رفتہ اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان نوجوانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جب تعلیم، محنت اور صلاحیت کے باوجود دروازے بند نظر آئیں تو مایوسی جنم لیتی ہے، اور یہی مایوسی ہجرت، بے روزگاری اور سماجی بے چینی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس طرح اپنی بہترین افرادی قوت کو ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ایک اور تشویشناک پہلو عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کا بحران ہے۔ جب انصاف طاقتور کے لیے مخصوص اور قانون کمزور کے لیے سخت ہو جائے تو ریاست کی اخلاقی بنیادیں متزلزل ہو جاتی ہیں۔ گلگت بلتستان جیسے حساس اور سرحدی خطے میں یہ عدم اعتماد نہ صرف داخلی استحکام بلکہ قومی مفادات کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔

تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ دنیا کی کامیاب قومیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ تبدیلی کا آغاز ہمیشہ شعور سے ہوتا ہے۔ جب عوام سوال پوچھنے لگیں، شفافیت کا مطالبہ کریں اور قیادت کو جواب دہ بنائیں تو نظام خود کو درست کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کو آج ایسی قیادت درکار ہے جو اختیار کو اعزاز نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھے، جو ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی مستقبل کو ترجیح دے، اور جو اداروں کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بنائے۔
یہ کالم کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ایک طرزِ فکر کے خلاف ہے۔ بدعنوانی کوئی تقدیر نہیں بلکہ ایک رویہ ہے، اور رویے بدلنے کے لیے اجتماعی ارادہ درکار ہوتا ہے۔ اگر آج ہم نے درست سمت کا انتخاب کر لیا تو گلگت بلتستان نہ صرف اپنے چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے بلکہ ایک روشن، باوقار اور مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں، کردار، احتساب اور بااصول قیادت سے بنتی ہیں۔ گلگت بلتستان کے مستقبل کا سوال بھی یہی ہے کہ کیا ہم بدعنوانی کو معمول سمجھ کر قبول کریں گے، یا ایک بہتر کل کے لیے آج کھڑے ہوں گے۔ فیصلہ آج کرنا ہوگا، کیونکہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged ,
116534

 گلگت بلتستان کے عوام کو 30 کروڑ بجٹ کے زمانے کے حلقوں میں رکھنا سراسر زیادتی ہے۔ اعلان شدہ 12 حلقوں پر حلقہ بندیاں مکمل کروانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قاری غلام اکبر

 گلگت بلتستان کے عوام کو 30 کروڑ بجٹ کے زمانے کے حلقوں میں رکھنا سراسر زیادتی ہے۔ اعلان شدہ 12 حلقوں پر حلقہ بندیاں مکمل کروانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قاری غلام اکبر

گلگت ( نمائندہ چترال ٹائمز ) گلگت بلتستان کے عوام2009 اور 2015 میں گلگت بلتستان کے اندر بننے والے حکومتوں کی کارکردگی کے مطئن نہیں تھے اسی بنیاد پر 17 حلقوں میں کامیابی حاصل کرکے عوامی حکومت کے قیام کے لئے بھرپور تگو دو کی تھی۔ سابق وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈاپور نے 9 حلقوں کے عوامی رزلٹ پر سنگین دھاندلی کی تھی۔ 2020 کے بھانک دھاندلی بذریعہ عدالت ثابت ہوچکی ہے۔ 2026 کے الیکشن کو دھاندلی سے بچانا ہوگا۔ 2020 کے دھاندلی کے ذمہ داروں کے ہاتھوں 2026 کے انتخابات کا انعقاد سنگین غلطی ہوگی۔

2013 میں وفاق میں بننے والی مرکزی مخلوط حکومت نے وفاقی آئینی کمیٹی تشکیل دے کر عبوری آئینی سیٹ اپ کے فراہمی کے حوالے سے سفارشات مرتب کروائے تھے۔ گلگت بلتستان کے ارکان اسمبلی کے نااہلی کے باعث ان سفارشات پر عمل درآمد نہ ہوسکا گلگت بلتستان مالاکنڈ ڈویژن اور آزاد کشمیر سی پیک کے لنک روڑوں کے لئے سی پیک فنڈز سے 10ارب ڈالر مختص ہونے کے باؤجود تعین شدہ سی پیک لنک روڑوں پر کام کا آغاز نہ ہونا 27 ارب روپے گلگت بلتستان کے پسماندہ ایریاز کے دیرنہ مسائل کے لئے سابق وفاقی قومی کمیٹی نے 28 دسمبر 2016 کو ہنگامی سطح پر بلایا گیا۔

اجلاس میں مختص کیا گیا تھا اس جانب توجہ نہیں دے کر سابق ارکان اسمبلی نے اپنی کارکردگی بتائی ہے گلگت بلتستان کے عوام کو 1970 کے سیاسی فارمولے کے عین مطابق سابق صدر پی پی گلگت بلتستان سید جعفر شاہ مرحوم کے ڈیمانڈ کے عین مطابق 65 رکنی اسمبلی دینے کی ضرورت ہے۔ ضلع غذر کے چار قدیم ریاستوں کے لئے 1970 میں ابتدائی طور پر چار نشستیں تجویز ہوئے تھے الیکشن کے موقعے پر دو نشتوں سے ضلع غذر کے عوام کو محروم کرکے 50 فیصد نمائندگی اور 50 فیصد بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو 30 کروڑ بجٹ کے زمانے کے حلقوں میں رکھنا سراسر زیادتی ہے۔ اعلان شدہ 12 حلقوں پر حلقہ بندیاں مکمل کروانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے صدر پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان اور نواز شریف کو فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 1970 کے جمہوری راجگی سیٹ اپ سے گلگت بلتستان کے عوام کو نکالا جائے۔ ان خیالات کا اظہار سابق مرکزی ترجمان آل یونین کونسلر ضلع غذر و مرکزی رہنما عمائدین گلگت بلتستان قاری غلام اکبر نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کا کہ اعلان شدہ حقوق ، تسلیم شدہ حقوق ہیں جو کہ فوری طور پر گلگت بلتستان کے عوام کو فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged
115767

یوم آزادی گلگت بلتستان کے موقع پر گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری آئینی سیٹ اپ کے فراہمی اور وفاق کے تمام اداروں میں بھرپور نمائندگی دی جائے۔ قاری غلام اکبر 

یوم آزادی گلگت بلتستان کے موقع پر گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری آئینی سیٹ اپ کے فراہمی اور وفاق کے تمام اداروں میں بھرپور نمائندگی دی جائے۔ قاری غلام اکبر

گلگت ( نمائندہ چترال ٹائمز ) گلگت بلتستان کے عوام 78 ویں یوم آزادی گلگت بلتستان کے موقع پر صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ سابق وفاقی آئینی کمیٹی کے سفارشات کے عین مطابق گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری آئنی سیٹ اپ کے فراہمی اور وفاق کے تمام اداروں میں بھرپور نمائندگی دینے کا اہتمام کریں۔ اعلان شدہ 12 اضافی حلقوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے موجودہ حاجی گلبر خان حکومت کو 6 ماہ کے لئے توسیع دے کر دیگر اعلان شدہ حقوق کے فراہمی کو یقینی بنائے۔ گلگت بلتستان کے عوام ریاست پاکستان اور سابق حکمرانوں کی جانب سے 1999 کے بعد انقلابی سطح پر کئے گئے اقدامات کو انتہائی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ مزید حقوق کے فراہمی سے استصواب رائے کشمیر اور آزادی کشمیر کے م نزل قریب تر ہوکر اپنی منطقی انجام سے ہمکنار ہوگی۔

مقبوضہ کشمیر کے آزادی کے بعد دنیا سے تناؤ کی کیفیت کا خاتمہ ہوگا۔ 2020 میں سابق وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈاپور نے الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسروں سے مل کر دھاندلی کے ذریعے 9 حلقوں کے رزلٹ تبدیل کرکے 9 مئی کے ریاست مخالف پاک آرمی اور شہداء کے اعزازات کے بے حرمتی کے سنگین جرائم پر مبنی احتجاج کا کارنامہ انجام دے کر گلگت بلتستان کے عوام اور مملکت خداداد پاکستان کے مابین عظیم نظریاتی رشتے کو متزلزل کرنے کی گہری سازش کی تھی ان سازشوں کے مرتکبین کے ہاتھوں 2026 کے انتخابات کا انعقاد سے گلگت بلتستان کے عوام کو بچایا جائے۔ حاجی گلبر خان کے ساتھ دیگر ارکان اسمبلی نے 9 مئی کے ناخوشگوار واقعے کی مذمت کرکے گلگت بلتستان کے عوام کے ساکھ کو بچاکر مستحسن اقدام کیا ہے۔ جس طرح پی ڈی ایم کے وفاقی حکومت کو حالات کے پیش نظر 6 ماہ تک توسیع دی گئی تھی اسی طرح گلگت بلتستان کے اندر قائم حاجی گلبر خان حکومت کے مدت مین توسیع دے کر اعلان شدہ 12 حلقوں پر حلقہ بندیاں مکمل کی جائیں۔

ان خیالات کا اظہار مرکزی رہنما عمائدین گلگت بلتستان سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی حلقہ 2 ضلع غذر قاری غلام اکبر نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2020 کے الیکشن میں دھاندلی عدالتی سطح پر ثابت ہوچکی ہے۔ دھاندلی کے مجرموں کے ہاتھوں 2026 کے انتخابات کا انعقاد سراسر ظلم اور زیادتی ہوگی۔ حاجی گلبر خان کی حکومت ویسا ہی ایک قومی سطح کی حکومت ہے گلگت بلتستان کے 80 فیصد پارٹیاں اس حکومت کا حصہ ہیں گلگت بلتستان کے منفی 40 ڈگری کے موسم میں ویسے بھی انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, گلگت بلتستانTagged
115289

گلگت بلتستان: طاقت کا توازن اور پائیدارامن – خاطرات : امیر جان حقانی

گلگت بلتستان: طاقت کا توازن اور پائیدارامن – خاطرات : امیر جان حقانی

ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان ہماری ماں دھرتی ہے۔ یہاں کے پہاڑ، جنگلات ، دریا، وادیاں اور بستیاں ہمارے مشترکہ جذبات، مسائل اور مفادات کی گواہ ہیں۔ میں یہ بات درجنوں نہیں، بلکہ سینکڑوں بار مختلف زاویوں، مکالموں اور تحریروں میں بیان کر چکا ہوں۔ میرے بیشتر کالمز اور کئی تقاریر اسی موضوع پر گواہ ہیں، اور گلگت بلتستان میں قیامِ امن پر میں نے پانچ سو صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالہ بھی تحریر کیا۔

لیکن آج ایک بار پھر، پوری ایمانداری، درد اور خلوصِ نیت کے ساتھ یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ

“اگر گلگت بلتستان میں پائیدار امن مطلوب ہے تو اس خطے میں طاقت کا توازن (Balance of Power) قائم کرنا ناگزیر ہے۔”

طاقت کے توازن کے بغیر یہ خطہ کبھی بھی حقیقی امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔

طاقت کے توازن کی ضرورت

میں نے اس موضوع پر ہر برادری کو نہایت اخلاص کے ساتھ مخاطب کیا ہے،
اسماعیلی بھائیوں کو بھی، اہلِ تشیع کو بھی، اور اہلِ سنت کو بھی۔

اسماعیلی برادری سے میں نے ہمیشہ یہ عرض کیا کہ آپ تعلیم، صحت اور جدید شعبوں میں دوسری برادریوں کو ساتھ لے کر چلیں۔
جب جب تقریر و تحریر کے ذریعے یہ بات کہی تو تعریف ضرور ہوئی، واہ واہ کے تبصرے بھی آئے، لیکن عملی طور پر وہ اپنی کمیونٹی کو ہی آگے لے کر بڑھے۔

انہوں نے تعلیم، صحت، اور جدید سکلز میں نمایاں ترقی تو کی، لیکن دوسرے طبقات کو پروجیکٹ سطح پر شامل نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف ترقی تھی، مگر دوسری طرف فاصلے بڑھ گئے۔

اہلِ تشیع برادری کو، انہیں کالمز میں ، میں نے کئی بار توجہ دلائی کہ 1990ء سے 2017ء تک گلگت بلتستان میں درجنوں امن معاہدے اور ضوابطِ اخلاق طے پائے۔ لیکن افسوس کہ ان امن معاہدات پر عملدرآمد اور ترویج کے لیے وہ برادری، جو سب سے منظم اور بڑی ہے، آگے نہ بڑھ سکی۔ یہی وہ کوتاہی تھی جس نے خطے میں طاقت کا بیلنس بگاڑا اور بدامنی نے جنم لیا۔

اہلِ سنت برادری کو میں نے اپنی بیسیوں تحریروں میں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ترقی، تعلیم، صحت، جدید سکلز، اتحاد و تنظیم اور اجتماعی شعور کے بغیر کوئی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔ لیکن بجائے “لبیک” کہنے کے، مجھے تنقید اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا۔
سچ کہوں تو بعض لوگوں نے مجھے گالی بنا کر رکھ دیا۔
حالانکہ میرا مقصد ہمیشہ اصلاح، توازن اور خیرخواہی رہا ہے۔

میں آج پھر، دکھ، خلوص اور سچائی کے ساتھ اپنی تینوں برادریوں سے مخاطب ہوں

1. میرے اسماعیلی بھائیو!

جنت نظیر خطہ گلگت بلتستان میں طاقت کے توازن اور امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ آپ تعلیم، صحت اور جدید سکلز میں دیگر برادر کمیونٹیز کو عملاً شامل کریں۔ یہ کام آپ کو اپنے پچاسویں امام کی رہنمائی، مشاورت اور سرپرستی میں بڑے پیمانے پر کرنا چاہیے۔

2. اہلِ تشیع کے اکابرین اور نوجوانو!

آپ چونکہ گلگت بلتستان کی سب سے منظم اور بڑی برادری ہیں، لہٰذا امن معاہدات و ضوابط کی ترویج، تنفیذ اور عملی شکل دینے میں پہل آپ کو کرنی چاہیے۔ آپ کو امن کی خاطر جتھوں کی یرغمالیت سے نکل کر ایک بہترین اور منظم کمیونٹی کا ثبوت دینا ہوگا

3. اہلِ سنت کے علماء، نوجوانو اور بزرگو!

آپ تعلیم، صحت اور جدید سکلز میں اسماعیلی کمیونٹی سے سیکھیں، اور اتحاد، سیاسی آگہی اور تجارت کے حوالے سے اہلِ تشیع کا طرزِ عمل اپنائیں۔یہی باہمی سیکھنے اور اشتراک کا راستہ، توازن اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اگر ہم نے تعلیمی، معاشی اور سماجی بنیادوں پر طاقت کا توازن قائم کر لیا، تو گلگت بلتستان میں سیاسی استحکام بھی آئے گا،اور یہی استحکام امن و خوشحالی کی ضمانت بنے گا۔

لیکن اگر ہم نے اس پہلو کو نظرانداز کیا، تو یاد رکھئے یہ خطہ ہمیشہ بدامنی، تقسیم اور عدم استحکام کا شکار رہے گا، اور ہم سب تباہی اور محرومی کے دائرے میں گھومتے رہیں گے۔

لہٰذا، آئیے سنجیدگی سے غور کریں، کیونکہ ہر فیلڈ میں طاقت کا توازن ہی گلگت بلتستان کے امن، ترقی اور بقا کی کنجی ہے۔

میں جانتا ہوں ،آپ سب اس وقت ذہنی و قلبی تناؤ کے دور سے گزر رہے ہیں، یہ ماننا پڑے گا کہ حالات نے اضطراب اور بےچینی کی چادر تانی ہوئی ہے۔
مگر خدارا، کبھی سکون دل سے بیٹھ کر غور کرنے میں کیا مضائقہ ہے؟

یہ خطہ، یہ وقت، یہی موقع شاید ہمیں سوچنے، سمجھنے اور سنبھلنے کا اشارہ دے رہا ہے۔

کیا میرا یہ درد محض الفاظ کا جادو ہے، یا واقعی سچائی کی ایک چمک اس میں موجود نہیں؟

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
114760

گلگت بلتستان میں ٹیکس کا نفاذ، انجمن تاجران سراپا احتجاج، جی بی کے تمام اضلاع میں شدید احتجاج ہوگا، مسعود الرحمن

Posted on

گلگت بلتستان میں ٹیکس کا نفاذ، انجمن تاجران سراپا احتجاج، جی بی کے تمام اضلاع میں شدید احتجاج ہوگا، مسعود الرحمن

گلگت بلتستان (نمائندہ چترال ٹائمز ) مرکزی انجمن تاجران گلگت بلتستان کے جنرل سیکریٹری مسعود الرحمان نے اپنے بیان میں حکومت کی جانب سے ٹیکس نوٹسز کے اجرا کو ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی طویل تحریک کے نتیجے میں حکومت نے ٹیکس معطل کرتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں اسمبلی کے ممبران اور وزراء شامل تھے، لیکن حکومت نے اپنے ہی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔

مسعود الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت اپنی پالیسیوں کو درست نہ کیا تو اس کے خلاف پہلے سے زیادہ شدید احتجاج ہوگا۔ آئندہ ہفتے تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول مرکزی انجمن تاجران، ہوٹل ایسوسی ایشن، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن، اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک جامع لائحہ عمل طے کیا جائے گا، جس میں شٹر ڈاؤن ہڑتال، پہیہ جام، جلسے، جلوس اور ریلیاں شامل ہوں گی۔ یہ احتجاج گلگت بلتستان کے تمام دس اضلاع میں ہوگا۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ فوری طور پر ٹیکس کے نفاذ کو واپس لے، بصورت دیگر شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged
97938

گلگت بلتستان: وفاداری کے بدلے میں انصاف کی ضرورت – خاطرات: امیرجان حقانی

گلگت بلتستان: وفاداری کے بدلے میں انصاف کی ضرورت – خاطرات: امیرجان حقانی

گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے ایک اہم سوال یہ ہے کہ ان کا وطن کہاں ہے؟ اگرچہ وہ خود کو پاکستان کا حصہ تصور کرتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی اور محبت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان ان کا اصل وطن ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں وہ پیدا ہوئے، پلے بڑھے، اور جہاں ان کے آباواجداد کی قبریں ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کی مٹی، دریا، پہاڑ اور ہوائیں ان کی شناخت کا حصہ ہیں۔گلگت اور بلتستان کے لوگوں کا ہزاروں سال سے اپنی وطن مالوف کیساتھ گہرا تعلق اور جذباتی وابستگی ہے۔اور یہ وابستگی کسی مفاد یا معاہدہ کا مرہون منت نہیں، یہ مکمل فطری ہے۔

پاکستان کی ریاست سے ان کا تعلق ایک مفاداتی تعلق ہے، یہ تعلق ریاست پاکستان کے وجود ممیں آنے کے بعد بنا ہے۔ پاکستان ایک قومی ریاست ہے جس کا وجود 1947 کو ممکن ہوا ہے۔اور گلگت بلتستان کا پاکستان کے ساتھ ساتھ تعلق نومبر 1947 اور اگست 1948 کو کچھ امیدوں، مفادات اور ھمدردی اور دینی جذبے کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔

قومی ریاستوں کے ساتھ ان کے شہریوں اور یونٹس کا تعلق آئینی معاہدہ کے تحت طے پاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ریاست اپنے شہریوں کے حقوق تسلیم کرتی ہے، اور بدلے میں شہری اپنی کچھ آزادیاں اور وفاداریاں ریاست کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ تاہم، گلگت بلتستان کی ایک منفرد حیثیت ہے، کیونکہ وہ اب تک پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں شامل نہیں ہے۔ یہ ایک معاہدہ کی غیر موجودگی کا نتیجہ ہے، جو گلگت بلتستان کے لوگوں کو تحریری حقوق سے محروم رکھتا ہے اور ان کی وفاداریوں کو تسلیم کرنے میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔ گلگت بلتستان کا پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں شامل نہ ہونے کی کچھ وجوہات بین الاقوامی ہیں، کچھ انڈیا کی ہٹ دھڑمی ہے اور کچھ اپنوں کی بے رعنائیاں ہیں۔

اس صورتحال میں، یہ ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کے دلوں کو جیتے اور ان کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کرے۔ صرف وفاداری اور قربانیوں کی توقع کرنا اور بدلے میں لولی پاپ دینا ناانصافی ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے لیے جانیں قربان کرتے ہیں، لیکن ان کے بدلے میں ان کے حقوق کی عدم تسلیم، ان کی قربانیوں کو بے وقعت بناتا ہے۔

ریاست پاکستان کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور گلگت بلتستان کے لوگوں کو وہ سہولیات اور مراعات فراہم کرنی ہوں گی جو وہ مستحق ہیں۔ یہ نہ صرف ان کے حقوق کا اعتراف ہوگا بلکہ ان کی وفاداریوں کا صحیح معنوں میں اعتراف بھی ہوگا۔ پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان کا تعلق مضبوط تر تبھی ہوسکتا ہے جب ریاست اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے اور ان کے جذباتی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی ضروریات کا خیال رکھے۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کی دلجوئی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے کہ ان کو قانونی، آئینی اور عملی طور پر پاکستان کے شہری کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ یہ ایک نہایت اہم اقدام ہوگا جو نہ صرف گلگت بلتستان کے لوگوں کو ان کا حق دلائے گا بلکہ ریاست پاکستان کی ساکھ کو بھی مستحکم کرے گا۔ اگر سردست ایسا کرنا ناممکن ہے تو بہترین سہولیات اور گڈ گورننس اور گلگت بلتستان کے لوگوں کی معیار زندگی بہتر بنانے میں تو انڈیا یا بین الاقوامی طاقتیں رکاوٹ نہیں، لہذا اس پر فوکس کیا جائے۔

یہ وقت ہے کہ ریاست پاکستان گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو از سر نو دیکھے اور ان کو وہ مقام دے جو وہ حق رکھتے ہیں۔ صرف زبانی وفاداریوں کی توقع رکھنا اور ان کی خدمات کو نظرانداز کرنا ایک ایسی ناانصافی ہے جو ریاست کی ساکھ اور گلگت بلتستان کے عوام کی عزت نفس کو مجروح کرتی ہے۔ اس کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ دونوں طرف سے ایک مضبوط اور پائیدار رشتہ قائم ہو سکے۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
92247

گلگت بلتستان سے باہر گندم اور اس سے بننے والی مصنوعات کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد کر دی

حکومت گلگت بلتستان نے صوبے سے باہر گندم اور اس سے بننے والی مصنوعات کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد کر دی

گلگت(چترال ٹایمزرپورٹ )  حکومت گلگت بلتستان نے صوبے سے باہر گندم اور اس سے بننے والی مصنوعات کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد گلگت بلتستان کے عوام کو سبسڈی کی مد میں فراہم کئے جانیوالے گندم کی شفاف تقسیم یقینی بنانا اور سمگلنگ کے ذریعے گندم کا بحران پیدا کرنیوالے عناصر کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لانا ہے۔
گلگت بلتستان سے باہر گندم کی غیر قانونی ترسیل روکنے کیلئے داخلی و خارجی راستوں بشمول تھور، بابوسر اور غذر میں واقع چیک پوسٹس پر پولیس اہلکاروں کو گندم کی غیر قانونی اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف گرینڈ آپریشن کی تیاری کیلئے ناکہ بندی و چیکنگ کیلئے جامع حکمت عملی بنانے کیلئے محکمہ پولیس کو ہدایات جاری کی گئی ہیں اور سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت تادیبی کاروائی عمل میں لانے کیلئے محکمہ خوراک کو ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اشتراک سے کریک ڈاون کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔
سیکریٹری خوارک کو ٹارگٹڈ سبسڈی اور گندم کی منصفانہ تقسیم کیلئے جامع سفارشات تیار کرنے کے بھی احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔
صوبائی حکومت نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ گندم کی غیر قانونی ترسیل اور ذخیرہ اندوزی میں شامل عناصر کی نشاندہی کریں اور حکومت کو بروقت مطلع کردیں تاکہ گلگت بلتستان میں گندم کا بحران درپیش نہ ہو۔ سیکریری سبسڈی کی مد میں فراہم کئے جانیوالے گندم کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔

chitraltimes GB notification for ban on transportation of wheat

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, مضامینTagged ,
79014

گلگت بلتستان؛  پچھتر سال کی ترقی دو سال میں -شاہ عالم علیمی 

گلگت بلتستان؛  پچھتر سال کی ترقی دو سال میں . شاہ عالم علیمی

فرماتے ہیں کہ پچھتر سال میں جو ترقی ہوئی تھی وہ ہمارے دو سال میں ہوگئی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ بھوک سے مرنے لگے،  گندم کے دانے دانے کو ترسنے لگے ہیں اور کسی اشیاء ضروریہ کا کیا مذکور۔
دوسری طرف ڈپارٹمنٹل ٹیسٹ کے نام پر نوکریوں کی بندر بانٹ چند بااثر لوگوں کی من مانی سے اسی طرح جاری ہے۔ آج کے ڈیجٹیل دور میں ہارڈ کاپی پر فارم جاری کیے جاتے ہیں،  غریب نوجوانوں سے فیس کے نام پر پیسے لیے جاتے ہیں،  پھر ان کو یا تو ٹیسٹ کے لیے سرے سے بلایا ہی نہیں جاتا یا ٹیسٹ کے بعد انٹرویوز میں ان کا حق مارا جاتا ہے اور حق دار کے کوٹے پر بھی رشوت خوروں اور سفارشی لوگوں کو لگوایا جاتا ہے۔
ان میں اور مہدی شاہ اور حفیظ الرحمان کے دور میں کیا فرق ہے؟  کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ سب لوگ اپنے غیرمقامی باسز کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کے اشارے پر چل رہے ہیں۔
ان کا ذہنی لیول سبھی کا ایک جیسا ہے۔ یہ لوگ ایشیاء کے سب سے غریب خطے کے انتہائی غریب ناچار اور بےدست لوگوں پر بوجھ ہیں۔ یہ ان کی رہنمائی کے قابل نہیں ہیں۔
ان کا بیوروکریسی پر کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے۔ بیوروکریسی جو چاییے کرتی ہے۔ نوکری بانٹے اور پیکیچ یا ٹینڈر اور ٹھیکہ۔ جبکہ یہ لوگ اپنے زاتی مفادات کے پیچھے ہیں،  جہاں ان کا حصہ مل گیا تو ٹھیک بصورت ديگر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرکے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔
سیاست اصول اور زمینی حقائق پر ہوتی ہے ورنہ وہ سیاست نہیں بلکہ فاشزم کہلاتا ہے۔ فاشزم یہ ہے کہ چند لوگ اپنی ذہنی اختراعات عوام پر تھوپے اور ان کا حق مارے۔
اصول کیا ہے؟
بات جب گلگت بلتستان کی ہوتی ہے تو پھر اصول کو دیکھنے کے لئے زمینی حقائق کو دیکھنا بہت ضروری ہوجاتا ہے۔
زمینی حقائق کیا ہیں؟
زمینی حقائق یہ ہیں کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔ گلگت بلتستان ریاست کشمیر کے مسلے کا ایک فریق اور حصہ ہے۔ ریاست کے باشندوں کی مرضی کے بیغیر نہ تو کوئی گلگت بلتستان کو کسی ملک کا حصہ بنا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈال سکتا ہے۔ جب تک ریاست کا مسلہ حل نہیں ہوتا گلگت بلتستان اور اس کے شہریوں کے حقوق کی فراہمی اور ان کی حفاظت  1949ء کے کراچی میں ہوئے معاہدے کے تحت ریاست پاکستان کی زمہ داری ہے۔
آج حالت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کو انسانی اور سیاسی حقوق تو درکنار بنیادی اشیاء ضروریہ بمثل گندم وغیرہ کی فراہمی پاکستانی مقتدر حلقوں نے روک دی ہے۔ دوسری طرف موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس سال پورے گلگت بلتستان میں چھ مہینہ کے لیے مقامی گندم کی پیداوار بارشوں کی نذر ہوکر تباہ ہوچکی ہے۔
منفی دس ڈگری سردی میں لوگ حسرت و یاس سے دیکھ رہے ہیں کہ کوئی ان کی مدد کو آئے۔ بھوک سے بچے اور بوڑھے نڈھال ہیں۔
جبکہ دوسری طرف غیرمقامی سیاسی جماعتوں کے لئے کام کرنے والے مقامی کارندوں کے تین گروپ سیاست سیاست کررہے ہیں اور بے پر کی اڑا رہے ہیں۔
ان کا پچھتر سال کی ترقی دو سال میں ہونے کا دعوی اسی طرح ہی مضحکہ خیز ہے جس طرح حفیظ الرحمان نے 2017ء میں کہا تھا کہ ہم گلگت کو دبئی بنا رہے ہیں۔
گلگت بلتستان کے سیاست دانوں میں تھوڑا سا بھی ایمان باقی ہے تو یکجا ہوکر گلگت بلتستان کے بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق کا مطالبہ کریں۔  1949ء کے معاہدوں کے تحت پاکستان کے مقتدر حلقوں سے بنیادی اشیاء ضروریہ کی فوراً فراہمی کا مطالبہ کریں۔
کشمیریوں پر جموں سے لیکر گلگت بلتستان تک ظلم ہورہا ہے۔ بحثیت انسان کشمیری شہری بھی اتنے ہی انسانی حقوق کے حق دار ہیں جتنے بھارتی اور پاکستانی ہیں۔
آج گلگت بلتستان میں جو کچھ ہورہا ہے انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ گلگت بلتستان کے لوگ بہت برے حالات سے گزر ہیں۔ بھوک افلاس نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے، اشیاء ضروریہ کی ترسیل سیاست کی نذر ہوگئی ہے نوجوان بسوں سے اتر کر خود کو دریا برد کررہے ہیں،  دہشت گرد اسکولوں کو آگ لگا رہے ہیں انتہا پسند ہسپتال چلارہے ہیں جہاں فرقوں کی بنیاد پر سلوک کیا جارہا ہے۔ روزگار کے کوئی مواقع دستیاب نہیں ہیں۔ ذہنی اذیت میں اضافہ نے خودکشی کے رجحان میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے میں غیر منطقی باتیں خالی خولی دعوے عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
68881

گلگت بلتستان کے تمام کالجز میں انعامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا ۔ڈائریکٹرایجوکیشن

Posted on

طلبہ و طالبات کے شاندار مستقبل کے لیے عملی اقدامات بہت ضروری ہیں۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن پروفیسر جمعہ گل
طلبہ و طالبات ہی قوم کا اصل سرمایہ ہیں۔ پروفیسر اویس احمد
گلگت بلتستان کے تمام کالجز میں انعامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ڈپٹی ڈائریکٹرفضل کریم
ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ بہتر تعلیم کے لیے کوشش کریں۔ پروفیسر محمدزمان
یہی پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات ہیں جنہوں نے ملک و ملت کی تعمیر کرنی ہے۔ امیرجان حقانی

گلگت(امیرجان حقانی سے)طلبہ و طالبات کے شاندار مستقبل کے لیے عملی اقدامات بہت ضروری ہیں۔ہماری کوشش ہوگی کہ ڈائریکٹ آف ایجوکیشن میں کام کی رفتار تیز تر کر دیا جائے۔طلبہ و طالبات اور کالجز کے حوالے سے ڈائریکٹریٹ اور ہائی اتھارٹیز کے مراسلات فوری طور پر کالجز کے پرنسپل تک ذاتی طور پر بھی پہنچا دیتا ہوں تاکہ تعلیمی، تربیتی اور کالجز کے دیگر تعمیراتی ایشوز میں تعطل نہ آجائے اور کام سپیڈی چلے۔کالجز کی اصل ترقی اساتذہ، پرنسپل اور طلبہ و طالبات سے ہے۔ تعلیمی اداروں کے اصل اسٹیک ہولڈر، طلبہ وطالبات، اساتذہ اور کالجز کے سربراہان ہیں۔ ہم ڈائریکٹریٹ والے اور دیگر حکومتی آفیشل طلبہ و طالبات اور اساتذہ کی بہتری اور ان کی تعمیر و ترقی کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگ ہیں۔ہمارے سرکاری کالجز انتہائی کمزور بچوں کو بھی تعلیم دیتی ہیں۔ اصل کمال یہی ہے۔ معاشرے سے انتہائی ٹیلنٹ بچوں کو داخلہ دے کر اچھا رزلٹ دینا کمال نہیں بلکہ کمزور اور غریب طلبہ کو داخلہ دے کر انہیں سنوارنا، تربیت کرنا اور کسی مقام تک پہنچانا اصل خدمت اور کام ہے جو الحمد اللہ سرکاری کالجز بہتر انداز میں کررہی ہیں۔اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ کچھ علاقوں میں کمیونٹی کی انوالمنٹ بہت کم ہے اور کچھ علاقوں میں کمیونٹی، ممبران اسمبلی اور دیگر لیڈروں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے انوالمنٹ بہت اچھی ہے۔وہ کالجز میں آکر اپنے حصے کا کام کرنے اور حوصلہ دینے کی کوشش کرتے ہیں جس کے بہترین نتائج بھی آرہے ہیں۔ہماری کوشش ہوگی کہ والدین، کمیونٹی اور دیگر سماجی لوگ ہمارے اداروں میں زیادہ سے زیادہ شراکت دار ہوں تاکہ سب کی رہنمائی، کوشش اور محنت سے کالجز میں تعلیم و تربیت کا سلسلہ بہتر سے بہتر بنایا جاسکے۔جن علاقوں میں تمام کام کالج پر چھوڑ دیے جائے اور مشکل حالات میں خبر تک نہ لی جائے تو وہاں اچھے نتائج بھی نہیں آسکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہارڈائریکٹ آف ایجوکیشن کالجزگلگت میں منعقدہ تقریب بعنوان”ڈسٹری بیوشن آف کیش ایوارڈ اینڈ سبسڈی ٹو نیڈی اسٹوڈنٹ جی بی کالجز” میں ڈائریکٹر ایجوکیشن گلگت بلتستان پروفیسرجمعہ گل نے اپنے صدراتی خطبے میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا آج ضلع گلگت کے جن ہونہار پوزیشن ہولڈرطلبہ وطالبات اور اسپیشل طلبہ کو کیش ایوارڈ، ٹرافی اور تعارفی اسناد دیے گئے ہیں یہ سارے بچے ہمارے اصل ہیرو ہیں ہیں۔ہمارا کل ایسے ہی محنتی طلبہ و طالبات سے وابستہ ہے۔ڈائریکٹر کالجز نے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات اور ان کے پرنسپل و اساتذہ کرام کو بھی مبارک باد دیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اویس احمدنے کہاطلبہ و طالبات ہی قوم کا اصل سرمایہ ہیں۔ ہمارا اصل مرکز و محور طلبہ و طالبات ہیں۔ہم سب ان کی بہتری و بھلائی اور تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔طلبہ و طالبات کو مزید محنت کرنا چاہیے۔پروفیسر محمدزمان نے کہاتعارفی اسناد، ٹرافی اور کیش ایوارڈ سے یقینا ہونہار اور اسپیشل طلبہ کو تعلیمی میدان میں تقویت ملے گی۔یہی طلبہ طالبات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے فخر ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیرجان حقانی نے کہایہی پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات ہیں جنہوں نے ملک و ملت کی تعمیر کرنی ہے۔ یہی کل کو ملک کے سب شعبے سنبھال لیں گے۔

ڈیٹی ڈائریکٹر اکیڈمکس پرفیسر فضل کریم نے کہاگلگت بلتستان کے تمام کالجز میں پوزیشن ہولڈر اور نیڈی طلبہ و طالبات میں کیش ایوارڈ اور سرٹیفکیٹ دیے جائیں گے۔تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔بہت جلد ڈائیریکٹر ایجوکیشن کالجز کی سرپرستی میں تمام اضلاع کے کالجز میں انعامی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔آج صرف ضلع گلگت کی پانچ کالجز جن میں پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت، فاطمہ جناح ویمن کالج گلگت، ڈگری کالج محمود آباد گلگت، رتھ فاو گرلز کالج سلطان آباد گلگت اور انٹرکالج بسین گلگت کے پوزیشن ہولڈر، اسپیشل اور ضرورت مند طلبہ کو انعامات دیے گئے ہیں۔اور ڈگری کالج چلاس کے پرنسپل پروفیسر بلال نے بھی اپنی کالج کے طلبہ کے کیش ایوارڈ اور سرٹیفیکٹ وصول کیے۔جن طلبہ و طالبات کو کیش ایوارڈ، ٹرافی اور تعارفی اسناد دیے گئے ان،پوزیشن ہولڈرزمیں، ضیاء الحق اور علی عباس پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت،محمدنقی ڈگری کالج دنیورگلگت،ارم زہر فاطمہ جناح ویمن کالج گلگت،کامران اللہ انٹرکالج بسین گلگت اونایاب سخی رتھ فاو کالج سلطان آباد شامل ہیں۔جن نیڈی اور اسپیشل اسٹوڈنٹس کو کیش ایوار دیا گیا ان میں پوسٹ گریجویٹ کالج کے داور عباس،ڈگری کالج دنیو ر کے مبین عباس،فاطمہ جناح کالج گلگت کی فریدہ پروین،انٹرکالج بسین کے محمدانس اور رتھ فاو کالج سلطان آباد کی نہا راحت شامل ہیں۔

تقریب میں پروفیسرمحمدعالم،پروفیسر محمدبلال، پروفیسرمحمد اویس، پروفیسر محمد زمان، ڈپٹی ڈائریکٹر جمشیدعلی،پروفیسر میڈم ثیرا،لیکچرار نسرین،ڈپٹی ڈائریکٹر میڈم صدف،پروفیسر اجلال حسین نے شرکت کی۔اسٹیج سیکریٹری کے فرائض امیرجان حقانی نے ادا کیے جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادمہدی الحسن نے حاصل کی۔طالبہ ارم زہرا نے نعت نبی مقبول پیش کی۔ تمام طلبہ وطالبات نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا اور اپنی پرفامنس مزید بہتر بنانے کا عزم کیا۔

chitraltimes gilgit baltistan directorate of colleges program 1 chitraltimes gilgit baltistan directorate of colleges program 2 chitraltimes gilgit baltistan directorate of colleges program 3 chitraltimes gilgit baltistan directorate of colleges program 4

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged
66833

گلگت بلتستان، عوام کے جان ومال کی حفاظت اورمحفوظ مقامات پر منتقلی یقینی بنائی جائے۔وزیراعظم

Posted on

وزیراعظم شہبازشریف کا شیشپر گلیشیئر جھیل سے پانی کے اخراج سے ہونے والی تباہی پر ہنگامی اقدامات کاحکم

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)وزیراعظم شہبازشریف نے شیشپر گلیشیئر جھیل سے پانی کے اخراج سے ہونے والی تباہی پر ہنگامی اقدامات کاحکم دیتے ہوئیکہا ہے کہ عوام کے جان ومال کی حفاظت اورمحفوظ مقامات پر منتقلی یقینی بنائی جائے۔اتوار کو وزیراعظم آفس میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور ضروری ہنگامی سامان پہنچانے کا حکم دیا۔وزیراعظم نے وفاقی اداروں کو گلگت بلتستان کی حکومت کی بھرپور معاونت کا حکم دیتے ہوئینقصانات اور متاثرہ عوام کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعظم نے شاہراہِ قراقرم پر حسن آباد پل گر نے کے سبب متبادل راستہ تیار کرنے، زرعی اور پینے کے پانی کے نظام کی تباہی سے نقصانات، 2 بجلی گھر متاثر ہونے کا تخمینہ لگانے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے 700 اور250 میگاواٹ بجلی گھروں کی جنگی بنیادوں پر بحالی کا حکم دے دیا۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ بجلی گھروں کی بحالی ومرمت پر اخراجات وفاقی حکومت ادا کرے گی،شاہراہ قراقرم کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بھی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ متاثرہ عوام کی بھرپور ہنگامی مدد اور بحالی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔وزیر اعظم نیمتاثرہ خاندانوں سے نقصانات پر اظہار ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر قمرزمان کائرہ کا چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سے ٹیلی فونک رابطہ
، گلیشیئر پگھلنے سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے شہریوں کو بچانے کے لئے اقدامات کی ہدایت

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمرزمان کائرہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئر پگھلنے سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے شہریوں کو بچانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان نے اتوار کو گلگت بلتستان میں گلیشیئر پگھلنے سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے آگاہی بارے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔انہوں نیگلیشیر پگھلنے کے بعد کی سیلابی صورتحال سے ہونے والے نقصان پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام سرکاری وسائل کو بروئے کار لا کر عوام کو فوری ریلیف دیا جائے،شہریوں کو قدرتی آفت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔قمر زمان کائرہ نے زمینی رابطے اور معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دی جائے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, گلگت بلتستانTagged
60995

گلگت بلتستان حکومت اور فوڈ پانڈا کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط

کراچی(چترال ٹائمز رپورٹ) ملک میں صف اول کے فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم اور ای کامرس کمپنی، فوڈ پانڈا نے حال ہی میں گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ مفاہمتی یاد داشت کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس کا مقصد خطے میں معاشی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کے لئے کراچی میں فوڈ پانڈا کے ہیڈ کوارٹرز میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں گلگت بلتستان کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی، حسین شاہ اور فوڈ پانڈا کے سی ای او، نعمان سکندر کے ساتھ ساتھ دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اس مفاہمتی یاد داشت کے تحت دونوں ادارے عوام کے لئے معاشی مواقع پیدا کرنے کے لئے مل کر کام کریں گے۔ فوڈ پانڈا گلگت بلتستان میں ریسٹورنٹس، پانڈا مارٹ، شاپس سمیت مختلف شعبوں میں اپنے آپریشنز میں تیزی لائے گا جبکہ گلگت بلتستان کی حکومت سازگار کاروباری ماحول پیدا کرکے اسکی توسیع میں سہولت فراہم کرے گی۔

فوڈ پانڈا کے سی ای او، نعمان سکندر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “گلگت بلتستان کے لوگوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لئے ہم ریسٹورنٹس، شاپس، ہوم شیفس، پانڈا مارٹ اور پانڈا کچن کے ذریعے اپنی خدمات میں تیزی سے وسعت لارہے ہیں۔ اس سے نہ صرف لوگوں کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ گلگت بلتستان کے لوگوں کے لئے مالی اور ڈیجیٹل سہولیات پیدا ہوں گی۔ ہم اپنے وسیع نیٹ ورک کو استعمال کرکے اس اقدام (#MYGB)کو اجاگر کرکے عوام میں آگہی پیدا کریں گے اور اپنا قابل ذکر کردار ادا کریں گے۔

گلگت بلتستان کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی حسین شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، “
میں فوڈ پانڈا کا مشکور ہوں جو اس بڑے کام کے لئے اپنی خدمات وسعت لارہے ہیں اور معاشی بااختیاری کو فروغ دے رہے ہیں۔ ہمارے لوگ انتہائی محنتی ہیں اور وہ اچھے مواقع کا حق رکھتے ہیں جو انہیں فوڈ پانڈا پیش کررہا ہے۔ ہم اپنی آئی ٹی کی وزارت کے ذریعے کمپنی کے روانی سے پھیلاؤ کو یقینی بنائیں گے اور فوڈ پانڈا کو اراضی کے حصول اور انٹرنیٹ کے انفراسٹرکچر سمیت دیگر مقامی ضروریات کی فراہمی کے لئے اپنا تعاون فراہم کریں گے۔ ہم اس اہم اشتراک کے ذریعے پانڈا مارٹ پر گوشت، خشک میوہ جات، نمکین اشیاء اور ایسی دیگر مصنوعات مقامی سطح پر تیار کریں گے۔”

chitraltimes gov gb and frood panda mou sign 2
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged
57001