گلگت بلتستان؛ انتخابات سے قبل عبوری آئینی سیٹ اپ کی فراہمی کے ساتھ دیگر تسلیم شدہ حقوق کی فراہمی کو یقینی بنا یا جائے۔ قاری غلام اکبر
۔
گلگت ( نمائندہ چترال ٹائمز ) گلگت بلتستان کے عوام قبل از انتخابات اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کو 1970 سے سیاسی نا انصافیوں کا شکار کر کے زیادتیاں کی گئی ہیں۔ ان زیادتیوں کے ازالے کا نادر موقع وفاقی اتحادی حکومت کے پاس ہے۔ 2013 میں وفاق میں بننے والی مخلوط حکومت نے وفاقی آئینی کمیٹی تشکیل دیکر 68 سالوں کے بعد اہم قدم اٹھایا تھا۔ سابق وفاقی آئینی کمیٹی نے گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری آئینی سیٹ اپ دینے وفاق کے تمام اداروں میں بھرپور نمائندگی دینے کے سفارشات مرتب کئے ہیں۔ اس سے قبل 12 اضافی حلقے گلگت بلتستان کے عوام کو دینے کے اعلانات سابق حکمرانوں نے اپنے دوروں کے دوران کئے ہیں۔ اعلان شدہ حقوق تسلیم شدہ حقوق کے زمرے میں آتے ہیں تسلیم شدہ حقوق کی فراہمی وفاقی اتحادی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔
صدر پاکستان نے یوم آزادی گلگت بلتستان کے تقریب میں شرکت کر کے گلگت بلتستان کے عوام کو پروموٹ کرنے کی بات کر کے دراصل سابق وفاقی آئینی کمیٹی کے سفارشات کی عملاً منظوری دی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام متنازعہ حیثیت/ خصوصی حالت اور 1970 کے سیاسی فارمولے کے عین مطابق پروموٹ کرنے کے حقدار ہیں، بعد کے گورننس آرڈرز حقائق کے منافی ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کو سابق صدر پی پی پی سید جعفر شاہ مرحوم کے آل پارٹی کانفرنس 2007 گاہکوچ ضلع غذر میں کیا گیا مطالبے کے عین مطابق 65 رکنی اسمبلی دی جائے تاکہ چار نئے قائم کئے گئے اضلاع کھرمنگ/شگر/ہنزہ/نگر اور چار ایڈیشنل اعلان شدہ اضلاع کے لئے ٹیکنو کریٹ اور خواتین کی نشستیں بھی دی جا سکیں۔
1970 میں ضلع غذر کے چار قدیم ریاستوں کے لئے چار نشستیں ایڈوائزری کونسل میں مختص ہوئے تھے۔ الیکشن 1970 کے قریب دو نشستیں کہیں اور منتقل کر کے ضلع غذر کے عوام کو 50 فیصد نمائندگی اور 50 فیصد بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر جو زیادتی کی گئی تھی کا بھی ازالہ ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی رہنما عمائدین گلگت بلتستان سابق مرکزی ترجمان آل یونین کونسلز ضلع غذر قاری غلام اکبر نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شندور سپاسنامہ 2025 کے نکات میں اعلان شدہ حقوق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ فوری طور پر گلگت بلتستان کا دور ہ کر کے عبوری آئینی سیٹ اپ کے فراہمی کے ساتھ دیگر اعلان شدہ تسلیم شدہ حقوق کی فراہمی کو یقینی بنا کر گلگت بلتستان کے عوام کو اعتماد میں لیں۔
