Chitral Times

Oct 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ضلع اپر و لوئر چترال، دیر اپر و لوئر اور مینگورہ میں متاثرہ خاندانوں میں ریلیف پیکجز کی تقسیم کا عمل جاری ہے،.کمشنر ملاکنڈ ڈویژن

Posted on
شیئر کریں:

ضلع اپر و لوئر چترال، دیر اپر و لوئر اور مینگورہ میں متاثرہ خاندانوں میں ریلیف پیکجز کی تقسیم کا عمل جاری ہے،.کمشنر ملاکنڈ ڈویژن

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے احکامات کی روشنی میں ملاکنڈ ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں انتظامیہ ریسکیو اور ریلیف اقدامات کررہے ہیں
،صوبائی ہیلی سروس کے ذریعے کمراٹ سے 30 افراد اور کالام سے 143 افراد کو بالترتیب شرینگل یونیورسٹی اور سیدوشریف منتقل کیا گیا
، لنک روڈ اور پلوں کی بحالی پر کام کا آغاز کیا جاچکا، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی

سوات (نمائندہ چترال ٹائمز) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے احکامات کی روشنی میں ملاکنڈ ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ضلعی انتظامیہ ریسکیو اور ریلیف اقدامات کررہے ہیں، تحصیل سطح پر ٹیمیں فیلڈ آپریشن میں مصروف عمل ہیں، ضلعی اور ڈویژنل سطح پر ریسکیو اور ریلیف اقدامات کی نگرانی کی جارہی ہے، ضلع اپر و لوئر چترال، دیر اپر و لوئر اور مینگورہ میں متاثرہ خاندانوں میں ریلیف پیکجز کی تقسیم کا عمل جاری ہے، دن بھر صوبائی ہیلی سروس کے ذریعے کالام اتروڑ و دیگر منقطع علاقوں میں امدادی سامان پہنچائے گئے، ہیلی سروس کے ذریعے کمراٹ سے 30 افراد اور کالام سے 143 افراد کو بالترتیب شرینگل یونیورسٹی اور سیدوشریف منتقل کیا گیا، صوبائی ہیلی سروس سے بچوں اور خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ریلیف و بحالی سرگرمیاں ضلع شانگلہ، چترال لوئر و اپر، دیر لوئر و اپر اور سوات میں جاری ہیں جس میں فوڈ و میڈیسن و دیگر اشیاء ضروریہ کے ساتھ ساتھ مین و لنک روڈز کی بحالی پر کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے احکامات کی روشنی میں مدین، خوازہ خیلہ، مٹہ اور مینگورہ میں وئیرہاوسسز بنائے جارہے ہیں جہاں امدادی سرگرمیوں کے لئے فوڈ و نان فوڈ ائٹمز مہیاء ہونگے تاکہ منقطع اور دور دراز پہاڑی علاقوں تک امداد کی رسائی میں رکاوٹ نہ آئے۔کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ رابطہ پلوں کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لئے پاک آرمی انجینئرنگ کور سے مدد مانگی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ پاک آرمی کے جوانوں،ریلیف کے دیگر اداروں ریسکیو 1122, پولیس اور لیویز کی خدمات بھی قابل تحسین ہے۔


شیئر کریں: