Chitral Times

Jan 17, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات کم کرنے کا کوئی قانون زیر غور نہیں۔ بیرسٹر محمد علی سیف

شیئر کریں:

فیصلہ سازی اور ترقیاتی سکیموں کا اختیار بلدیاتی نمائندوں کے پاس ہی ہوگا۔ ڈی ڈی او سرکاری افسران ہوتے ہیں۔ معاون خصوصی اطلاعات

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے نئے بلدیاتی نظام میں منتخب نمائندوں سے اختیارات لے کر انتظامی افسران کو دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی قانون زیر غور نہیں۔ نئی ترقیاتی سکیمیں لانے اور فیصلہ سازی کے تمام اختیارات بلدیاتی نمائندوں کے پاس ہی ہوں گے۔ ہر محکمے اور ادارے میں ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسر ہمیشہ سرکاری افسر ہی ہوتا ہے۔ اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے منظور شدہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت بنائے گئے رولز آف بزنس کا ڈرافٹ جانچ پڑتال کے لیے محکمہ قانون کو ارسال کیا گیا تھا اور تاحال یہ رولز آف بزنس صوبائی کابینہ میں غور اور منظوری کے لیے پیش نہیں کیے گئے ہیں۔

تجویز کردہ رولز آف بزنس میں ایک بھی ایسی شق موجود نہیں جس کے تحت تحصیل، سٹی، ویلیج یا نیبرہوڈ کونسل کے امور و اختیارات کو محدود یا کم کیا گیا ہو بلکہ خیبرپختونخوا حکومت کا موجودہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ پہلے کے بلدیاتی نظاموں کے مقابلے میں زیادہ قانون سازی، ایگزیکٹو اور فنانشل اختیارات کا حامل قانون ہے۔ معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ ہر ادارے اور محکمے میں ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفسر ایک سرکاری افسر ہی ہوتا ہے اور تجویز کردہ رولز آف بزنس میں بھی ڈی ڈی او انتظامی افسر ہی ہیں۔

اس سے یہ نظام مزید مضبوط اور شفاف ہوگا۔ رولز آف بزنس کا یہ مسودہ بلدیاتی انتخابات سے بہت پہلے محکمہ قانون کو ارسال کیا گیا۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں، تحصیل/ سٹی یا ویلیج و نیبرہوڈ کونسلز کے اختیارات کے کم کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے حقیقتی معنوں میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بہترین بلدیاتی نظام بنایا ہے تاکہ صوبہ ترقی کرے اور عوام خوشحال ہوں۔


شیئر کریں: