Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت کا یونیورسٹیوں میں ہراسانی کی روک تھام کیلئے موبائل ایپ متعارف کرنے کا فیصلہ

شیئر کریں:

‘پیپر چیکینگ کے طریقہ کارمیں بھی تبدیلی لائی جائے گی’، معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کہا ہے کہ نوجوانوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سامنے رکھتے ہوئے یونیورسٹیوں کا قیام ناگزیر ہے اسلئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی طرف سے خصوصی احکامات ہیں کہ یونیورسٹیوں کو مالی امور میں خود کفیل ہونا چاہیے تاکہ وہ انتظامی اور تدریسی امور بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔ سوات میں انجینئرنگ یونیورسٹی اس وژن کے تحت ایک مثال بنے گی۔ یونیورسٹی میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لئے حال ہی میں یونیورسٹی کی امریکی یونیورسٹی کے ساتھ ایک مفاہمتی یاداشت طے پائی ہے جس سے یونیورسٹی کو تکنیکی مدد فراہم ہوگی اور دونوں یونیورسٹیوں کے طلباء ایک دوسرے کی تعلیمی سرگرمیوں میں شریک ہوسکیں گے۔یونیورسٹیوں میں طلباء و طالبات کو استحصال اور ہراساں ہونے سے بچانے اور ماحول کی بہتری کے لئے موبائل ایپ متعارف کررہے ہیں اور پیپر چیکینگ کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی لارہے ہیں۔ کالجوں میں ایوننگ کلاسز کا اجراء ہوچکا ہے اور اگلے سال ایسے کالجوں کی تعداد 9 سے بڑھ کر 24 ہوجائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات کے ایک روزہ دورے کے موقع پر پختونخوا ریڈیو سوات کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ اس موقع پر ایم این اے سلیم الرحمان بھی موجود تھے۔ریڈیو ہوسٹ فضل خالق کے ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کا کہنا تھا کہ سوات میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ وادی کی قدرتی خوبصورتی کو ہر قسم کے چیلنجز سے بچانے کے لیے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ دریائے سوات وادی کی پہچان ہے اور اس کی قدرتی ساخت کو برقرار رکھنے کے لیے غیر قانونی مائننگ اور تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اس ضمن میں سخت احکامات جاری کئے ہیں اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔ کامران بنگش کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں خصوصاً سوات موٹروے فیز ٹو کی تکمیل سے سوات سیاحتی اور معاشی ترقی کے نئے دور میں داخل ہو جائے گا۔پورے صوبے میں معاشی زونز بنائے جارہے ہیں جن سے نوجوانوں کو روزگار کے بہترین مواقع میسر آئیں گے۔


شیئر کریں: