Chitral Times

Dec 7, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپر چترال کے سیلولر کمپنیز کو پابند کیا جائے کہ وہ طلباو طالبات کو انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کریں

شیئر کریں:

اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) اپر چترال کے طلبا و طالبات نے مرکزی وصوبائی حکومتوں سے چترال کے دورآفتادہ علاقوں میں تھری جی اور فورجی انٹرنیٹ کی سہولت فوری مہیا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سہولت نہ ہونے کی صورت میں ان کی قیمتی تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ اپنے مشترکہ اخباری بیان میں مستوج کے نواحی گاوں پرواک، سنوغر، پرکوسپ، بریپ، لاسپور، یارخون ویلی اور تورکہو و موڑکہو کے طلبہ نے اس بات پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایک طرف حکومت تعلیمی اداروں کو بند کردیا ہے اور دوسری طرف انٹرینٹ کے زریعے آن لائن کلاسز لینے کی تاکید کی گئی ہے مگران دورآفتادہ علاقوں میں ٹو جی انٹرنیٹ کی سہولت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے میں وہ کسطرح آن لائن کلاسز یا ہوم ورک کرسکیں گے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیلی نار، جیز اوریوفون موبائل ٹیلی فون کی سہولت تقریبا اکثر علاقوں میں دستیاب ہے ان کو پابند کیا جائے کہ وہ صارفین کیلئے فوری طور پر تھری جی اور فورجی کا اجرا کریں۔

انھوں نے مذید بتایا کہ پی ٹی سی ایل کے زریعے جدید انٹرنیٹ کی سہولت مستوج خاص، بونی، شاگرام اور موڑکہو میں مہیا کی گئی ہے مگر وہ ملحقہ چند گھرانوں تک محدود ہے۔لہذا سیلولر کمپنیز کے زریعے انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کی جائے تاکہ طلبہ کا قیمتی سال ضائع نہ ہو۔ انھوں نے چترال سے منتخب ممبران اسمبلی ایم این اے مولانا عبد الاکبرچترالی، وزیر زادہ اور ہدایت الرحمن سے چترال کے دورآفتادہ علاقوں کے آن لائن کلاسز کا مسئلہ فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یادرہے کہ ان علاقوں کے طلبہ وطالبات کورونا کے شروع کے دنوں لاک ڈاون کے دوران کئی بار احتجاجی مظاہرہ کرچکے ہیں۔

students protest aanist internet service garamchashma chitral 2
students of yarkhoon mastuj protest for internet

شیئر کریں: