Chitral Times

Jan 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیاست کی غیر سیاسی باتیں……..تحریر: شکیل انجم ڈِرو

شیئر کریں:

حالیہ دنوں گلگت بلتستان کے باسیوں  نےجمہوری حقِ رائے دہی کا استعمال کیا جسمیں تقریبا ساٹھ فیصد کے آس پاس ووٹرز نے حصہ لیا۔ 24 جنرل نشستوں پر ہونے والے اس انتخابی دنگل میں 547 اُمیدواروں نے قسمت آزمائی کی جس میں سے صرف 327 امیدوار بشمول4 خواتین کے الیکشن کمیشن کے معیار پر پورا اُترے۔ یعنی ہرانتخابی حلقے سے اوسطاً 13 امیدوار صف آرا رہے۔  11 پارٹیوں اور آزاد امیدواروں نے آپس میں خوب زورِآزمائی کی اور بظاہر تحریکِ انصاف، جو کہ اس وقت وفاق میں حکومتی منصب پر براجماں ہے،  کا پلڑا بھاری رہا ۔

 اب کی بار ہونے والے الیکشن ماضی میں ہونے والے انتخابات سے قدرے مختلف نظر آئے۔ عبوری صوبے کے ںعروں اور قومی اسمبلی اور سینٹ میں ممکنہ نمائندگی کے شوروغل میں ہونے والے انتخابات نےگلگت بلتستان کے عوام کو ایک گہری سیاسی انگڑائی لینے پر مجور کیا ۔ مین اسٹریم پارٹیوں کے نمائندوں،بلخصوص چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، نائب صدر پاکستان مسلم لیگ نون مریم نواز،وفاقی وزیرامورکشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپوراوردیگر کا ان انتخابات میں شرکت، طویل قیام اور تقریباً  ہر جلسے میں پرجوش تقاریر نے انتخابی معرکے کو اور بھی  دلچسپ بنایا۔(کچھ  وزرا ٔ تو “میں نا جاوؑں” کی رٹ لگا کرابھی تک مقامی شہد سے شاید لطف اندوز ہو رہے ہیں۔) یہ الگ بات ہے  کہ نتائج کے بعد گلگت کی خوبصورتی نے سندھ اور پنجاب کا روپ دھار لیا ۔

 میں قارئین کے گوش گزار  کرنے کی جسارت کرتا چلوں کہ ہمارے یہاں انتخابات وفاقی حکومت کے بننے کے تقریبا ڈھائی سال بعد ہوتےہیں۔ ایسا کیوں ہے اس کا جواب تو سیاسی پنڈت ہی دے سکتے ہیں لیکن یہ امر ضرور ہے کہ ہر مرتبہ  ان انتخابات کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کیوں کہ  وفاقی حکومتی پارٹی کو اضافی سہولت “ایڈڈ ایڈوانٹیج” حاصل ہوتا ہے۔  ایڈڈ ایڈوانٹیج کی تشریح قارئیں خود احسن طریقے سے کر سکتے ہیں۔

اب آتے ہیں اس الیکشن کے نتائج کی طرف۔ مرکزی حکومتی پارٹی، یعنی تحریکِ انصاف کا دعویٰ ہے کہ اسے اکثریت حاصل ہے ہے لہٰذا حکومت بنانے میں کوئی رکاوٹ اور دقت نہیں۔  ان انتخابات میں تحریکِ انصاف نے10 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ نوازخان ناجی سمیت کل 7 سیٹیں جیت کر آزاد اُمیدوار دوسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آئے۔ پیپلز پارٹی جو کہ اس الیکشن میں فیورٹس کے طور پر میدان میں اترے تھے صرف تین  اپنی گرفت مظبوط کی ۔ یہ الگ بات ہے کہ دھاندلی کا شور انہی کے کیمپوں سے اٹھا۔ مسلم لیگ کو انتخابات سے پہلے ہی دھچکہ ان کے مظبوط ستونوں کے پارٹی سے بغاوت کی شکل میں لگا تھا، اس پر نواز شریف کا حالیہ فوج مخالف بیانیہ بھی مریم بی بی کی کوششوں کو رنگ نہیں دے سکا یوں نواز لیگ کوصرف 2 ہی سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔

جس نکتے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں وہ میری نظرمیں بہت اہم ہے۔ وہ کیا مضمرات تھے جن کی بدولت آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد جیت کر سامنے آئی۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ دوسرے نمبر پر بھی آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد ہے۔ 6 آزاد امیدوار دوسرے نمبر پر ہیں جو کہ اشاروں کنایوں کی زبان میں بڑٰ ی حد تک معنی خیز ہے ۔ اگر آزاد امیدوار چاہتے تو دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتے تھے؟

آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد میں جیتنے کی ایک وجہ تو شائد پارٹیوں کی طرف سے ٹکٹس کا میرٹ پر تقسیم نہ ہونا ہو سکتا ہے۔ لیکن سب سے بڑی وجہ میرے حساب سے کچھ اور ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے گلگت بلتستان کے عوام مین اسٹریم پارٹیوں پر اب اعتماد نہیں کرتے کیونکہ جنگِ آزادی گلگت بلتستان کے بعد غیرمشروط الحاق کوسات دہائیوں سے زیادہ ہونےکو آیا ہے لیکن  سیاسی لولی پوپ  ہمیں مسلسل کھلائی جار رہی ہے   ۔ اگر ایسا نہں ہے تو مستقبلِ قریب میں پتہ چلے گا کہ زلفوں والے بابا کے اعلانات پر کس حد تک عمل ہوتا ہے، جسمیں بہت سے اضافی حلقے، ڈسٹرکٹس اوردیگرترقیاتی کام شامل ہیں۔

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ لوگوں کی حالیہ روش کو دیکھتے ہوئے آزاد امیدواروں  کو دیگر چیدہ چیدہ سیاستدانوں کو اپنے ساتھ ملا کرایک خودمختارعلاقے کے لیے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک الگ مقامی پارٹی بنانا چاہیے۔ جب نواز خان ناجی علاقائی شناخت کے نام سے الیکشن مسلسل تیسری بار بھی جیت سکتا ہے اور مقبول رہنما بن سکتا ہے تو مقامی پارٹی بھی بن سکتی ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ مقامی پارٹی عوام کی بہتر خدمت کر سکتی ہے۔ صرف چند گزارشات ملحوظِ خاطر رکھنا ہوں گے۔ گلگت بلتستان خوش رنگ باغ میں ایک خوبصورت گلدستے کی مانند ہے جسمیں ہر فرقے کے رنگوں کی موجودگی نے گلدستے کو حسن بخشا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی لحاظ سے جس اہمیت کا حامل ہے وہ کسی طور پر فرقہ وارانہ تفرقات کا متحمل نہی ہو سکتا۔ حالیہ انتخابات میں کچھ ناعاقبت اندیشوں نےتیرا مسلک میرا مسلک کا نعرا لگا کر ووٹ ہتھیانے کی کوشش کی لیکن سلام ہو اہلِ وطن پر کہ جنھوں نے ایسے نعروں کو پنپنے نہیں دیا۔ اگرچہ قدرت نے اس علاقے کو وسائل سے  مالامال کیا ہے لیکن علمی میدان میں ہمیں بہت کٹھن اور  طویل سفر طے کرنا ہے۔ معاشی تنگدستی بہت سے مسائل اور جرائم کی جڑ ہے جس کو اکھاڑنے کیلے مقامی طور پر کاروبار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ ان سب کے لیے امن، انسانی تحفظ کا احساس، بھائی چارہ گئ بنیادی عوامل وہ  ہیں جن کا حصول علاقے کی ترقی ایک یکجہتی کے لیے  بہت اہم ہے۔ اور یہ تب ممکن ہو سکتا ہے جب اس دھرتی سے محبت کرنے کے لئے کوئی سیاسی پلیٹ فارم ہو اور وہ مجھے مستقبل میں گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی کی شکال میں نظر آرہا ہے۔    

نوٹ:  میری کسی پارٹی سے کوئی سیاسی وابستگی نہیں۔ میرا اگر کوئی رشتہ ہے تو وہ  تعلق صرف گلگت بلتستان سے ہے۔

ہے سیاست سے تعلق تو فقط اتنا ہی۔

کوئی کم ظرف میرے شہر کا سلطان نہ ہو۔


شیئر کریں: