Chitral Times

May 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوید ِسحر……. ذہنوں میں ذہربھرتاسوشل میڈیا…….ڈاکٹرحمزہ گلگتی

Posted on
شیئر کریں:

سوشل میڈیا کی قباحتوں سے انکار اب کسی کے لئے بھی ممکن نہیں رہا۔مگر اس کے اچھے پہلوؤں کو بھی نظر انداز کرناممکنات میں سے نہیں۔اس کی قباحتوں کے مشاہدات کے بعد اچھی نیت سے منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنا اب معاشرے کی ایک کلیدی ضرورت بن گئی ہے۔میرااپناخیال ہے کہ اب یہ ذاتی سے زیادہ اجتماعی اور سماجی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بن چکاہے۔ان کے برے پہلوؤں اور نوجوانوں کے وقت اور اخلاقیات کوروندنے والی ذرائع پر آنکھیں بند نہیں کیاجاسکتا۔فائدے۔۔بہت۔۔لامحدود۔۔ناقابلِ بیاں۔۔ البتہ معاشرہ زیادہ تر اس کی قباحتوں کا شکار نظر آرہاہے۔کیا کہا جائے جب نئی نسل غلاظتوں بھرے اذہان اور زبان کیلئے اس کو ایک اہم پلیٹ فارم سمجھنے لگے ہوں؟ کون سمجھائے کہ یہ اختلافات کو ہوا دینے اور(معمولی)بات کے بتنگڑ بنانے کیلئے کب بنایا گیاتھا؟
.
اس سلسلے میں گورنمنٹ سوشل میڈیا رولز بنانے کیلئے اب فعال ہونے لگی ہے، اگرچہ اس پر تنقید بھی کیا جاتا ہے مگر کسی بھی چیز کو ایک حد تک رکھنا اور اس سلسلے میں قومی مفادات کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ہے۔اس لئے ان رولز کے بھی مثبت اور منفی پہلوؤں ہونگے مگر ملکی مفاد میں اگر یہ ناگزیر ہے تو اس کڑوے گھونٹ کو پینے میں کوئی امر مانع نہیں۔ مگر سوال یہ کہ۔۔ کیا ایسے رولز بنانے سے۔۔صرف ایسے رولز بنانے سے۔۔اس کی حماقتی استعمال سے بچا جانا ممکن ہے؟کیا وہ قوانین عملی طور پر نافذ بھی ہونگے؟ کسی خاص مفاد کیلئے استعمال نہ ہونے کی کیا گارنٹی دی جاسکتی ہے؟ ان سوالات کا جواب کسی اور موقع پر۔۔۔
.
کیا یہ نہیں معلوم کہ اس سوشل میڈیاکا مثبت استعمال معاشرے میں اچھائی کے در آنے کا ذریعہ بن سکتا ہے؟ ہم میں اس کے برے پہلوؤں کا اثر کچھ زیادہ ہی سرایت کرچکا ہے بنسبت اچھے پہلوؤں کے۔ اس بات کا رونا پہلے ہی ہمارے بڑے رو چکے ہیں کہ یہ آج وقت کے ضیاع کا ایک گھناؤنا ذریعہ بنا ہے، اس نے خودنمائی کا زہر ذہنوں میں بھردیاہے، ناچاقی ونااتفاقی کے زہر کاپیالہ معاشرے میں انڈیل دیاہے، اجازت کے بغیردوسروں کی پرائیویٹ چیزوں کو مشتہر کرنے کاوسیلہ بناہے وغیرہ۔مگر ان سب کے علاوہ میری نظر میں اس کی سب سے بڑی گندگی جانے انجانے میں گند اور خرافات کومعاشرے کے چہرے پر ملنا،اور اپنی ذاتی پرائیویسی سے بے خبر رہ کر اپنے رازرکھنے والی معاملات یا چیزوں کو پبلک کرنابھی ہے۔ہمارے پڑھے لکھے نوجوان اور دوسرے احباب،جو صرف وقت گزاری کے لئے اس کا استعمال کرتے ہیں،(خاص طور پر فیس بک)ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی ایک غلطی سے انکی پرائیویٹ چیزیں پبلک ہوسکتی ہیں۔آنجانے میں وہ ایسے عمل کا شکار ہوکر معاشرے میں لعن طعن کا نشانہ بنتے ہیں۔ہمارا معاشرہ ابھی اس حد تک جدت اختیار نہیں کرچکا کہ ہم ذاتی فعل کہہ کر چیزوں کو نظر انداز کرسکیں۔مغرب تو اس میں کمال کو پہنچا ہے کہ وہاں ایسے معاملات میں کوئی دخیل ہوتا اور نہ ہی کوئی ٹانگ اڑاتا، مگر پھر بھی وہ ایسی چیزیں سوشل میڈیا کے ذریعے پرائیویٹ کبھی نہیں کرتے۔ بلکہ یوں کہئیے کہ وہ تو فیس بک کو بھی افیشلی یوز کرتے ہیں، غیر ضروری چیزوں سے جتناہوسکے پرہیز کرتے ہیں،مگر ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے،یہی ذہنوں میں ڈالا گیا ہے کہ فیس بک تو انٹرٹینمنٹ۔۔صرف انٹرٹینمنٹ۔۔کیلئے ہے اس سے کوئی مثبت کام لیا جانا ممکن ہی نہیں۔
.
ایک اچھے پڑھے لکھے دوست،سے ایک عرصہ پہلے اس طرح کی غلطی میں نے نوٹ کی تھی۔مجھے اس کی یہ جسارت حیرت میں مبتلا کرکے رکھا اورر تعجب کے مارے میں اپنی جگہ بت بنے کھڑا رہا البتہ اگلے ہی لمحے مجھے خیال آیا کہ وہ ایسی حماقت کا مرتکب جان کر نہیں ہوسکتا۔ فوراً ان سے رابطہ کیا تو واقعی اس کو پتہ نہیں تھا اورلاعلمی کے اظہار کے ساتھ شرمندگی اورمعذرت بھی کررہاتھا۔وہ انجانے میں، غیرارادی طور پر اس فعل کے ہاتھوں ایسے نازیبا تصویرپبلک کرکے رسوا ہوچکاتھا۔
.
آج پھر دوران سفر بیٹھے کسی کام میں لگاتھا توایسی قبیح چیز پر نظر پڑی جسکا ہماری اسلامی تہذیب اور علاقائی روایات سے کوئی تعلق نہیں۔گوشہئ ذہن میں خیال آیاکہ ہم کس پگڈنڈی پر نکل پڑے ہیں کہ نہ اپنے تہذیب کا ہمیں علم اورخیال ہے اور نہ ہی ورثے میں ملیں روایات کا پتہ۔مجھے نہیں معلوم کی جان بوجھ کر کیسے، ایسی قبیح کاموں کا ہم ارتکاب کرسکتے ہیں۔اگر پرائیویٹلی ایسے کام کرے تو ہم جانے ہمارا رب، مگر ایسی چیزوں کو پبلکلی کرنا ایک بڑی جسارت ہے جو کسی طور مناسب ہے اور نہ ہی اسلامی اور علاقائی روایات سے یہ میل کھاتاہے۔اس تباہی کا ذکر کیسے نہ ہو، جس سے نوجوان متاثر ہورہے ہیں اور ان کا اخلاق برباد ہورہا ہے، ایسے نوجوان لڑکیوں کیساتھ ویڈیو چیٹ اپلوڈ کرنا، نہ صرف اپ لوڈ کرنا بلکہ ان کو بار بار شیر کرنا۔شیر کرنے سے یہ ایک چین بن جاتا ہے اور لاکھوں لوگوں کی نظر نہ چاہتے ہوئے بھی ان پر پڑتی ہیں۔ ان بچیوں کا کام پیسے کمانا ہوتا ہے یا کچھ اور مجھے نہیں معلوم مگر اپنی نیم برہنہ جسم کیساتھ ویڈیو چیٹ آن ائیر کرتے ہوئے ان کو شرمندگی کا احساس نہ ہوتا ہوگا۔اس دوران قبیح انداز سے وہ ایسی حرکتیں بھی کر رہی ہوتیں ہیں کہ بات کرنے اور دیکھنے والوں کی جنسی خواہشات کو ابھارا جاسکے۔ایسے میں اس طرح کی برائیوں کے تدارک کے لئے اداروں کو اپنے حصے کی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونا چاہیے۔ ورنہ نوجوان نسل اپنا قیمتی وقت ان خرافات میں گزار کر بانجھ بن جائے گی۔ اور قوت تخلیق بھی کھودے گی اگرچہ روایات تو کب کے کھوئے گئے ہیں۔
social media logos26


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
32155