Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دیر چترال سی پیک متبادل روٹ حوالے تمرگرہ میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری

شیئر کریں:

دیر پائیں (نمائندہ چترال ٹائمز)جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چکدرہ دیر چترال سی پیک روٹ کی بحالی کے لیے تیمرگرہ میں آل پارٹیز کانفرنس سابق سینئر وزیر عنایت اللہ خان کے صدارت میں ہوا۔ کانفرنس میں پانچ اضلاع سے تعلق رکھنے والے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، قومی مشران، فلاحی، وکلاء، تاجرتنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سابق گورنر شوکت اللہ، سابق ممبران قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ، صاحبزادہ یعقوب خان، ملک عظمت خان، اخونزادہ چٹان،شہزادہ افتخارالدین، سابق ضلعی ناظمین حاجی محمد رسول، صاحبزادہ فصیح اللہ،حاجی مغفرت شاہ، سابق تحصیل ناظمین، ممبرقومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی، ممبران صوبائی اسمبلی ثناء اللہ، باچا صالح، بہادر خان، سیراج الدین خان، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر اعزاز الملک افکاری پی پی پی کے نوابزادہ محمود زیب خان، اے این پی کے بہادر خان، مسلم لیگ (ن) ملک جہانزیب خان، قومی وطن پارٹی باچاحسین، آل پاکستان مسلم لیگ کے سلطان یوسف، جماعت اسلامی کے سابق ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون الرشید، سابق صوبائی وزیر مظفرسید، امیر جے یو آئی (ف) مولانا سراج الدین اور کثیر تعداد میں قومی مشران کے علاوہ چترال سے سابق صوبائی وزیر سلیم خان، صدرتجاریونین شبیراحمد، صدر پریس کلب ظہیرالدین، صدر بار ایسوسی ایشن اورصدرڈرائیوریونین چترال اور مختلف پارٹیوں اور سول سوسائٹی کے صدور ودیگر نے بھی کثیرتعداد میں شرکت کی۔

اعلامیہ آل پارٹیز کانفرنس بمورخہ 8اگست 2020ء؁


انتہائی اہمیت کے حامل اضلاع:
دیر پائین، دیر بالا، چترال پائین، چترال بالا اور باجوڑ کا سیاسی، قومی اور سماجی قیادت پورے خلوص کے ساتھ سمجھتی ہیں کہ


پوراملاکنڈ ڈویژن اپنی پس منظر، وسائل اورحدود اربعہ کی وجہ سے الگ اہم حیثیت کا حامل ہے۔ یہاں کی تعمیر و ترقی ہم سب کی خواہش بھی ہے اور اس ضمن میں ہونے والی کوئی بھی پیش رفت ہماری خوشی کا باعث بھی۔


یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ اضلاع چترال بالاو پائین، دیر بالا، پائین اور باجوڑ اپنی جغرافیہ، انسانی و قدرتی وسائل، سیر و سیاحت کی و سیع تر مواقع، اقدار و روایات اور تاریخ کیوجہ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت اپنی آزادی، خودمختاری اور شناخت کے ساتھ یہ علیحدہ ریاستیں تھیں۔لیکن یہاں کی عوام نے غیر مشروط پر پاکستان کے ساتھ بخوشی الحاق کو تسلیم کیا اور پاکستان کے ساتھ وفاداری کو عملًاثابت کر کے دکھایا بھی۔ بہت سارے نامساعد حالات اور نشیب وفراز کے باوجود اس مملکت خداداد کے ساتھ محبت میں نہ کوئی کمی آئی اور نہ عزم و ہمت اور استقامت میں کوئی تزلزل ایا۔
یہ سنجیدہ قیادت سمجھتی ہے کہ ریاست کی جانب سے مخصوص پس منظر کی حامل اس اہم علاقے کی تعمیر وترقی اور فلاح و بہود کیلئے جو خصوصی منصوبہ بندی اور ترجیحی بنیادوں پر جو اقدامات اٹھانی چاہیے تھی اس کا نہ ہونا ایک تلخ حقیقت ہے۔


پاکستانی سیاسی تاریخ یہ ہے کہ جب بھی کسی علاقے سے وزیراعظم یا وزیر اعلی آتا ہے تو وہ وہ خوش قسمت ٹھرتا ہے اور پورا خزانہ وہاں پہ لٹایا جاتا ہے اور وہاں ہمہ پہلوں ترقی ہوتی ہے اسی باب میں بھی ہمارا یہ علاقہ محروم چلا آرہا ہے اور خصوصی رحم و کرم اور انعامات و اکرامات کا مستحق نہیں ٹھرا۔
یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ یہ اضلاع سیاسی شعور، تہذیب، روداری اور باہمی احترام کے حوالے سے قابل فخر اور قابل تقلید ہے۔
یہاں کی سیاسی قیادت نے اپنی کیپسیٹی میں دستیاب مواقع اور وسائل کا درست استعمال کرکے یہاں کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔


خاص کر ضلع دیر پائین اور بالا باوجود ہارڈ ایریا کے اور اس حقیقت کے کہ یہ ریاست بعد میں پاکستان کا حصہ رہا اور عملا سیاسی سفر 1971 سے شروع ہوا۔ یہاں کی بیدار مغز، بالغ نظر، سنجیدہ اور تجربہ کار قیادت نے اچھی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے ذریعے نمایاں ترقی دلائی۔
تعلیم، صحت، مواصلات میں واضح ترقی اور دور دراز علاقوں تک بجلی کی ترسیل اسی قیادت کی اہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس تناظر اور حقائق کی روشنی میں یہ آل پارٹیز کانفرنس متوجہ کرتی ہے اور تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ موجودہ حکومت کو ان اضلاع سے جو مینڈیٹ ملا ہے نہ وہ اس کی قدر کرسکی اور نہ یہاں کے ممبران اسمبلی اس سے بھرپور فائدہ اٹھاسکی۔


وزیر اعظم پاکستان کی عدم توجہی اور وفاقی وزیر مواصلات اور وزیراعلی خیبر پختونخواہ کا متعصبابہ اور ہتک آمیز رویہ انتہائی قابل افسوس اور یہاں سے ممبران اسمبلی کی بے بسی قابل رحم ہے۔
یہ آل پارٹیز کانفرنس سابقہ ممبران قومی اسمبلی کی کاوشوں کو خرج تحسین پیش کرتی ہے اور اس وقت کے وزیراعظم جناب نواز شریف اور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی خصوصی دلچسپی اور وزیراعلی خیبر پختونخواہ پرویز خٹک کی معاونت کا اعتراف بھی کرتی ہے اور شکریہ بھی ادا کرتی ہے کہ اگرچہ سی پیک میں مغربی روٹ کی صورت ہمارے صوبے کو وہ حصہ نہیں ملا جس کا وہ حقدار تھا لیکن چکدرہ ٹو چترال شاہرہ کی تعمیر بتعاون ایگزیم بینک اور بعد ازاں چکدرہ، چترال، گلگت موٹروے سی پیک متبادل روٹ کی منظوری دلانا تعمیر وترقی کے نئے دور کی نوید تھی۔


یہ آل پارٹیز کانفرنس اس علاقے کیلئے اس اہم ترین اہمیت کے حامل پروجیکٹ کو موجودہ حکومت کی PSDP سے نکالنے پر غم وغصے کا اظہار کرتی ہے۔
باوجود اس کے کہ
ان دی ریکارڈ یہ پروجیکٹ 6JCC کا منظور شدہ اور مینٹس کا حصہ ہے اور2017-18 PSDP میں شامل اور اس وقت کے وزیر اعلی پرویز خٹک کا اعلان کردہ ہی کیا موجودہ وزیراعلی محمود خان کی بجٹ 2019-20سپیچ کا حصہ رہا ہے، وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید اور وزیراعلی محمود خان کا یہ انکار کہ اس پروجیکٹ کا وجود ہے ہی نہیں اور مسلسل تواتر اور ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولنا قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔


یہ آل پارٹیز کانفرنس مکمل سنجیدگی کے ساتھ سمجھتی ہے کہ یہ پروجیکٹ کئی حوالوں سے پورے ملک اور ملاکنڈ ڈویژن و مزکورہ اضلاع کیلئے انتائی اہمیت کا حامل ہے۔
1۔یہ پوہ علاقہ معدنیات سے مالا مال ہے۔
2۔یہاں سیاحت کے وسیع ترین مواقع اور امکانات موجود ہیں۔
اور
3۔ یہ سٹریٹیجک اور معاشی اہمیت کا حامل محفوظ ترین اور مختصر روٹ ہے کہ یہ نہ صرف چائنہ اور افغانستان سے لنک کرتا ہے بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی کا بھی بہترین اور شارٹ روٹ ہے۔
اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کہ یہاں کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور ورغلانے کی بجائے ترجیحی اور ہنگامی بنیادوں پر وعدوں کے مطابق اس پروجیکٹ کو اپنی اصل حثیت اور شناخت کے مطابق PSDP کا حصہ بنادیا جائے اور فوری رقم مختص کرکے کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے۔
یہ آل پارٹیز کانفرنس یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ
اول: پچیسویں ترمیم یعنی قبائل کا صوبہ خیبر پختونخواہ کے ساتھ انضمام کے وقت جو فیصلہ ہوا ہے کہ سالانہ سو ارب روپے یہاں کی تعمیر وترقی پر لگائے جائیں گے کو عملی جامہ پہنایا جائے اور پشاور سے براستہ ضلع مہمند، ضلع باجوڑ اور ضلع دیر پائین ایکسپریس وے بنا کے سی پیک روٹ سے لنک کیا جائے۔
دوم: چکیاتن تا کمراٹ ایکسپریس وے بنایا جائے اور کالام سوات کے ساتھ لنک کیا جائے اور یعنی اسے دیر چترال سی پیک روٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے۔

یہ آل پارٹیز کانفرنس پوری زمہ داری اور اخلاص کے ساتھ حکومت اور یہاں کے ممبران اسمبلی کو پیش کش کرتی ہے کہ اس علاقے کی تعمیر وترقی کیلئے ہم ہرقسم کی تعاون کیلئے تیار ہیں۔

مروجہ سیاسی نفسیات کے مطابق تو ہمیں خاموش رہنا چاہئیے تھا تاکہ الیکشن کے وقت حکومت اور ممبران اسمبلی کی ناکامیوں، کوتاہیوں اور غلطیوں کو لیکر الیکشن مہم چلاتے لیکن اپنے علاقے کی ترقی اور آئندہ نسلوں کی بقا اور خوشحالی کی خاطر سیاسی اور پارٹی وابستگی اور کسی سیاسی سکورنگ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے موجودہ حکومت کو متوجہ کرتے ہیں اور ممبران اسمبلی کو احساس دلا کر تعاون کا بھر پور یقین بھی دلاتے ہیں کہ وہ باہمی کوارڈنیش، تیاری اور سیاسی اپروچ اور حکمت عملی کے ساتھ اس علاقے کا حق لانے کی ہمت اور جدوجہد کرلے۔


یہ آل پارٹیز کانفرنس مکمل اتفاق رائے کے ساتھ یہ واضح کرتی ہے کہ کسی عام شاہراہ کی تعمیر ہرگز ہرگز سی پیک روٹ کا متبادل نہیں سکتا اس لئے ہمارا اول و اخر مطالبہ چکدرہ، چترال، گلگت موٹروے، سی پیک متبادل روٹ کی تعمیر ہی ہوگا۔(چترال ٹائمزڈاٹ کام رپورٹ )۔۔


شیئر کریں: