Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی کابینہ کا اجلاس، پولی تھین بیگز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد, سختی عملدرآمد کی ہدایت

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبہ بھر میں پولی تھین بیگز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے اور تمام ضلعی انتظامیہ کو فیصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اور واضح کیا ہے کہ اس سلسلے میں مزید کسی نرمی یا رعایت کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ انہوں نے صوبے میں اشیائے خوردنوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پرعید الاضحی کے دوران صفائی ستھرائی کے لئے متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے جبکہ عید سادگی سے منانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ کورونا وبا کے پھیلاو ٗکے ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔ ہم موثر اقدامات اور عوام کے تعاون سے کورونا وبا کے وسیع پیمانے پر پھیلاو کوروکنے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں تاہم اس سلسلے میں ہم کسی غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں صوبائی وزرا،وزیر اعلیٰ کے مشیرومعاونین خصوصی کے ساتھ ساتھ چیف سیکرٹری و انتظامی سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں 6 ایجنڈا آئٹمز اور 12 ایڈیشنل ایجنڈا آئٹمز زیر بحث آئے اور اہم فیصلے کیے گئے وزیراعلیٰ نے منتخب عوامی نمائندوں کو خصوصی طور پرہدایت کی کہ وہ عید کے دوران سادگی کا مظاہرہ کریں اور اپنے حجروں میں بیٹھنے سے گریز کریں تاکہ لوگوں کا رش جمع نہ ہو۔ ہم سب نے کورونا وائرس کے پھیلاو کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ محمود خان نے کورونا وبا کی وجہ سے متاثر ہونے والی عوامی فلاح کی سرگرمیوں پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنے خصوصی طور پر مالی امور سے متعلق عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ریونیو دربار دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت کی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ہم نے ایک طرف وبا کے پھیلاوکو روکنا ہے تو دوسری طرف عوام کو درپیش مسائل کا ازالہ بھی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے پریس کلبوں کے لئے اعلان شدہ امدادی گرانٹ کا اجراء یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر صوبائی کابینہ کے اراکین کو صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اور کہا ہے کہ تمام صوبائی محکموں سے کم از کم ایڈیشنل سیکرٹری کی سطح کا ایک افسر بھی بمعہ مطلوبہ معلومات اسمبلی اجلاس میں موجود ہونا چاہئیے۔

محمود خان نے ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں شوگر کے مریضوں کی بینائی چلی جانے کے واقع کی آزادانہ اور شفاف انکوائری کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ صوبائی حکومت متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرے گی۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے کہا کہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ محمود خان کی خصوصی ہدایت کی روشنی میں عید الاضحی انتہائی سادگی سے منانے کے لیے حکمت عملی وضع کی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں کورونا وائرس سے بچاوکے لیے 199 مخصوص مقامات پر منڈیوں کے قیام کی اجازت دی گئی ہے۔جن میں بچوں اور پچاس سال سے زائد عمر افراد کے داخلے پر پابندی ہے۔عید گاہوں میں بھی سماجی دوری کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے۔سیکورٹی کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ پولیس نے سیکورٹی پلان تشکیل دیا ہے اسکے علاوہ ہسپتالوں میں تمام تر انتظامات کیے گئے ہیں اور عید الاضحی کی چھٹیوں کے دوران ہسپتال کھلے رہیں گے۔صفائی کے انتظامات یقینی بنانے کے لیے ڈبلیو ایس ایس پی کو متحرک کیا گیا ہے اور محکمہ بلدیات کو عیدلاضحی کے دوران صفائی کی صورتحال یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔کامران بنگش نے کہا کہ اجلاس میں کورونا وبا میں کمی، حکومتی کوششوں اور عوام کے بھرپور تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا لیکن اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا وباء بھی ختم نہیں ہوئی اور زیادہ رش یا بے احتیاطی کی وجہ سے یہ دوبارہ بھی پھیل سکتی ہے۔اسلیے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ احتیاط جاری رکھیں تاکہ صورتحال اس طرح قابو میں رہے۔

عیدالاضحی اور محرم الحرام کے دوران عوام اسی طرح ذمہ داری کا ثبوت دیں جس طرح انہوں نے کوروناوبا کے آغاز سے اب تک بھرپور تعاون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے شاپنگ بیگز پر پابندی پر عمل درآمد کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ پابندی پر عمل درآمد نہ ہونے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھر پور کاروائی کریں۔کامران بنگش نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈیننس 2020 کی صوبائی اسمبلی سے باقاعدہ توسیع لینے کی بھی منظوری دی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ آرڈیننس کے اجراء سے ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں واضع استحکام آیا اور ضلعی انتظامیہ نے اس سلسلے میں تمام بازاروں اور مارکیٹس کی دن رات چیکنگ کی تاہم اس سے باقاعدہ قانون کی شکل دینے کے لئے اسمبلی سے اسکی منظوری ضروری تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا اور گڈ گورننس یقینی بنانے کے لئے کسی سے کسی قسم کی رعایت نہ کی جائے۔کامران بنگش نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے ٹرانس پشاور کے لئے فیاض احمد خان کی بطور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تعیناتی اور وقف املاک آرڈیننس 1979 میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ ترامیم کا بنیادی مقصد وقف پراپرٹی کا بہتر انتظام وانصرام کرنا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے کوآپریٹیو سوسائٹیز ایکٹ 1925 میں ضروری ترامیم کی منظوری دی۔ ترامیم کا مقصد کوآپریٹیو سوسائٹیز کے انتظام میں شفافیت لانا اور بہتر مالی منیجمنٹ یقینی بنانا اور خلاف ورزی کرنے والی سوسائٹیز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا ہے۔ کامران بنگش نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے لوکسٹ کنٹرول اور فشریز پراجیکٹس کے لئے 4258.975 کا قرضہ لینے کی منظوری دے دی ہے۔ فشریز کے پراجیکٹ کو پرائیوٹ سیکٹر کے اشتراک سے چلایا جائیگا اس پراجیکٹ کے تحت 300 ٹراوٹ فش فارمز، زراعت توسیع کے محکمہ کی استعداد کار بڑھانا سوات میں فشریز ٹریننگ اینڈ ریسرچ سنٹر کا قیام، مانسہرہ میں ٹراوٹ ہیچری کا قیام، دوبیر ٹراوٹ ہیچری کوہستان کی اپرگریڈیشن اور بحالی، علاوہ ازیں لوکسٹ کے مستقبل میں تدارک کے لئے مشینری، افرادی قوت اورسپرے آئی ٹی کا مانیٹرنگ سسٹم جیسے اقدامات شامل ہیں۔ کامران بنگش نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختون خوا ڈرافٹ ایکٹ 2020 کی منظوری دے دی ہے۔

ایکٹ کا بنیادی مقصد ٹرسٹ کی ریگولیشن، مانیٹرنگ رجسٹریشن کا طریقہ کار اور دیگر امور کو باضابطہ بنانا ہے۔ ایکٹ کے تحت ڈسٹرکٹ اینٹیلیجنس کوارڈینیشن کمیٹی، فنانشل مانیٹرنگ کمیٹی، ٹرسٹ کی تجدید کا طریقہ کار، ٹرسٹ کے فرائض و ذمہ داریاں، ٹرسٹ اکاونٹ، ٹرسٹ کی سرمایہ کاری جیسے امور کو قانونی شکل دی گئی ہے۔اس کے علاوہ قرآن بورڈ کی تشکیل نو اور اس میں تمام ڈویژن سے اراکین شامل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ نے سوات سیرینہ ہوٹل کا انتظام محکمہ سیاحت کے حوالے کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ سوات سیرینہ ہوٹل کی اوٹ سورسنگ کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو کابینہ کو اس سلسلے میں اپنی سفارشات پیش کریگی۔معاون خصوصی اطلاعات وبلدیات کامران بنگش نے کہا کہ معیشت کی بحالی کے لئے خیبر پختون خوا حکومت نے عزم نو پروگرام شروع کیا ہے جسکا باقاعدہ افتتاح آج وزیراعلی خیبر پختون خوا محمود خان نے کیا۔ پروگرام کا مقصدصحت کے شعبے میں بہتری لانا، نئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا، مزدور طبقے کو تحفظ فراہم کرنا، جدید اصلاحات، گڈ گورننس اور بہتر طرز حکمرانی ہے.وزیراعلی نے عزم نو پروگرام کے لئے 29 ارب روپے کی خطیر رقم کی فراہمی کا اعلان بھی کیا ہے۔


شیئر کریں: