Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عیدالاضحی کے سائنسی اور نفسیاتی پہلو پروفیسرعبدالشکورشاہ …..

شیئر کریں:

اللہ تعالی نے انسان کو حواس خمسہ کی نعمت سے نوازہ ہے۔انسانوں کے علاوہ جانور بھی ان حواس کو استعمال کر کے نہ صرف معلومات حاصل کر تے ہیں بلکہ ان کے زریعے حالات کا اندازہ بھی لگاتے ہیں۔انسانوں کی نسبت جانور حواس خمسہ کو زیادہ موثر انداز میں استعمال کر تے ہیں۔ بعض جانور ان کے زریعے مستقبل میں آنے والے خطرے کو بھی بھانپ لیتے ہیں۔ عید الاضحی کا تہوار اپنی ساری سعادتوں اور مذہبی فوائد کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی طرف سے ہمیں اپنے حواس خمسہ کو، متحرک، طاقتور اور تروتازہ کرنے کا ایک زریعہ بھی ہے۔ تحقیق یہ بات ثابت کر چکی ہے کہ ہمارے حواس خمسہ معلومات جمع کرنے اور کسی صورتحال میں مکمل طور پر شامل ہونے کے لیے بہترین زریعہ ہیں۔عید کے موقعہ پر تمام مسلمان دل، دماغ، روحانیت، بصارت، سمعات، چکھنے اور سونگھنے کی صلاحیتوں کو نہ صرف تروتازہ کر تے ہیں بلکہ ان سب کو پاک صاف رکھ کر اپنے حواس خمسہ کو جلا بخشتے ہیں۔

عید الاضحی ہماری سونگھنے کی صلاحیت کو دوبالا کر دیتی ہے۔خوشبو اور عید الاضحی لازم و ملزوم ہیں۔دین اسلام کے ہر حکم کے پیچھے ہماری بہتر ی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی کوئی نہ کوئی سائنسی وجہ بھی ہوتی ہے۔ خوشبو اور یادداشت کا گہرا تعلق ہے۔کچھ سکولوں میں اساتذہ تعلم کو موثر بنانے کے لیے بھی خوشبو کا استعمال کرتے ہیں۔اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو مختلف مذاہب میں خوشبو کا استعمال ملتا ہے۔یونانی چرچ میں حواس خمسہ کو جلا بخشنے کے لیے خوشبو کا استعمال کیا جاتاتھا۔ سبت کے دن بھی خوشبو استعمال کی جاتی تھی۔خوشبو کے زریعے ماضی کی یادداشتوں کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔ادوار کے بدلنے کے ساتھ ساتھ خوشبو کے زرائع بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں 1920سے 1940 کے عرصہ کے دوران پیدا ہونے والوں کو قدرتی خوشبو میسر رہی ہے جبکہ اس کے بعد کے عرصہ میں پیدا ہونے والوں نیم قدرتی یہ غیر قدرتی خوشبو سونگھنے کو ملی۔ عید کا تہورا ہماری سونگھنے کی حس کے لیے اللہ تعالی کا بیش بہا خزانہ ہے۔ قسم قسم کے پکوان، انواع و اقسام کی خوشبو، مختلف اقسام کی پرفیومز کے جھونکے، بھنے اور روسٹ کیے ہوئے گوشت کی خوشبو، روسٹ ہوتی کلیجی، مٹن، بیف، اونٹ کے گوشت کی کڑاہیوں کی بھوک لگانے والی خوشبوں، چھتوں اور صحن میں بنائی جانے والے تکے، ملائی بوٹی، پھر دوسرے اور تیسرے دن گوشت پلاؤ، نہاری اور دیگر پکوان ہمارے سونگھنے اور چکھنے کے حواس کو تروتازہ اور توانا بنا دیتے ہیں۔ ہم اپنی سونگھنے کی حس کی مدد سے بہت سے واقعات کو یاد رکھتے ہیں۔سونگھنے کی حس دیگر حسیات کی نسبت سب سے زیادہ موثر ہے۔ سونگھنے سے پیغام یا اثر فورا دماغ تک منتقل ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بیہوشی  کے لیے سونگھائی جانے والی اشیاء بیہوشی کے انجکشن سے زیادہ جلدی اثر کرتی ہیں۔ بصری پہلو، یعنی دیکھنے کی حس کا بھی عید الاضحی سے بہت گہرا تعلق ہے۔ دیکھنے کی حس دوسری اہم حس ہے۔ انسان کے جسم کے اندر موجود تمام حواس کا 70% تعلق انسان کی بصری حس سے ہے۔عید الاضحی کے موقعہ پر ہرکسی کو زرق برق لباس پہنے دیکھنا ہماری دیکھنے کی حس کے لیے انتہائی مفید ہے۔ نئے کپڑوں کی خریداری نہ صرف ہماری آنکھوں کی  تروتازگی کو دوبالا کرتی ہے بلکہ ہماری خریداری سے ملکی معیشت کو بھی استحکام ملتا ہے۔عمومی طور پر والدین اپنے بچوں کے کپڑے بھی اپنے لباس سے ملتے جلتے یا یکساں رنگ کے بناتے ہیں۔

عید کے موقعہ پر مختلف رنگوں کی مختلف ٹولیاں ایک عجیب نظارہ پیش کرتی ہیں۔ سرمہ لگانا بھی عید کا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ سرمہ آنکھوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ہر طرف چمکتے چہرے اور نئے کپڑوں کا نظارہ ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک اور تازگی فراہم کر تا ہے جو ہماری دیکھنے کی حس کے لیے خوراک کی طرح ہے۔ معدے کی طرح باقی اجزاء کو بھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ آنکھوں کی خوراک صفائی، طہارت، تروتازگی اور خوبصورتی ہے۔ عید الاضحی ہمیں یہ تمام لوازمات فراہم کرتی ہے۔ عید کا موقعہ ہمیں حسد ،جلن ، نفرت، حقارت، برتری، کم تری اور دیگر بری نظروں سے دیکھنے سے روکتا ہے۔ تمام مسلمان صرف محبت،پیار اور خلوص کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ عید الاضحی بصری اور سونگھنے کی حسیات کے ساتھ ساتھ چھونے کی حس کے لیے بھی اللہ تعالی کی طرف سے تفویض کر دہ گراں قدر نعمت ہے۔چھونے کی حس سونگھنے اور دیکھنے کی حس کے بعد تیسری اہم حس ہے۔ اگرچہ اس کا احاطہ کرنا قدرے مشکل ہے کیونکہ جلد دیگر حسیات کی نسبت زیادہ وسیع ہے۔

انسانی جسم کی جلد کا وزن تقریبا6سے10پونڈ تک ہوتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ لمس یا چھونا بچوں کی نشونما میں اہم کر دار ادا کر تاہے۔چھونے کی حس شاید ہماری بقاء کی ضامن ہے۔ عید الاضحی کے موقعہ پر کپڑوں کی خریداری اور ان کو چھونے کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ قربانی کے جانوروں کی خریداری اور ان کو پیار و محبت سے چھونا اور عید کے ایام میں ایک دوسرے سے گلے ملنے اور ہاتھ ملانے سے ہماری چھونے کی حس کو بیش بہا توانائی ملتی ہے۔ عید کے موقعہ پر ملنے والے تحائف، عیدی، مساجد میں صاف ستھرے قالینوں، صفوں اور جائے نمازوں کو خوشبوؤں سے معطر کیا جاتا ہے۔ انہیں چھو کر ہم اپنی چھونے کی حس کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ کھانے پینے اور سجاوٹی اشیاء کو چھو کر بھی دیدنی خوشی حاصل ہوتی ہے۔عید کا تہوار باقی حسیات کے ساتھ ساتھ ہماری سمعی حس کو بھی متحرک کرتا ہے۔ عید کی تسبیحات کا ورد، عید کے واعظ، خطبہ اور دعائیں ہماری سننے کی حس کو جلا بخشتی ہیں۔ متذکرہ حسیات کے علاوہ عید الاضحی کا تہوار ہمارے دلوں میں ایک عجیب خوشی پیدا کر نے کا باعث بنتا ہے۔ روحانی ماحول اور تزکیہ نفس کے لیے بھی عیدا لاضحی کا تہوار باقی تمام تہواروں کی نسبت زیادہ پر اثر اور مفید ہے۔ عید کے تہوار کے موقعہ پر ہم ماضی کی عیدوں اور ماضی کی روایات سے بھی آراستہ ہوتے ہیں۔ عید کے موقعہ پرمختلف پروگرامات اور بزرگوں کی زبانی سنی جانے والی باتیں ہماری سمعی، بصری، روحانی اور تخیلاتی صلاحیتوں کی نشوونما اور ہماری معلومات میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ عید الاضحی انسانی نفسیات کے مطابق ہے جو انسان کی زندگی میں نہ صرف ایک تبدیلی لاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ انسان کی حسیات کے لیے انتہائی مفید ہے۔عید الاضحی کا تہوار سائنسی اور نفسیاتی فوائد سے بھرا ہے جس کا ایک کالم میں احاطہ کرنا مشکل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسلامی تہواروں کو مذہبی تشریحات کے ساتھ ساتھ جدید سائنس اور نفسیاتی نقطہ نظر سے بیان کریں تا کہ روائیتی طرز تبلیغ کی بجائے ہم نئی نسل کو جدید سائنس اور نفسیات کی مدد سے اسلامی تہواروں اور احکامات خداوندی کی طرف راغب کرسکیں۔


شیئر کریں: