Chitral Times

Dec 2, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

“کہانی ایک جہاں گشت کی ” ……… تحریر ۔ ساقیہ کوثر بلقیس

Posted on
شیئر کریں:

مسافر اور سیاح میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے مسافر کسی مجبوری کے تحت رحت سفر باندھ لیتا ہےاور اسے جلد از جلد منزل تک پہنچنے کی فکر ہوتی ہے اس لیےوہ دنیا کی تمام تر حسن سے بےخبر ہوکر حالت سفر میں بھی کچھ نہیں دیکھتا کیونکہ حسن یا خوبصورتی کو دیکھنے کیلیے دل بینا کی بھی ضرورت ہوتی ہے وہ سفر کرتے ہوئے بھی منزل کے بارے میں سوچتا ہے اور راہ میں آنے والی تمام خوبصورتیوں سے بےخبر ہوکر عجیب بے چینی کا شکار رہتا ہے یہی نہیں ایک مسافر جب سفر پہ نکلتا ہے تو اپنی ضرورت کی تمام چیزیں اکٹھا کرکے ایک گھٹھڑی کی صورت میں دوران سفر سر پہ باندھ کر چلتا جاتا ہے اور یوں حالت سفر میں ہوکر بھی سفر کی نفی کرتا ہے جبکہ
” سیاح”جب سفر کا ارادہ کرتا ہے تو نہ صرف ظاہری آنکھیں بھی دیکھنے لگ جاتی ہیں مراد یہ کہ وہ منزل پر انکھیں ٹکائے سفر نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے ہر ہر قدم منزل کی صورت اختیار کر جاتی ہیں اور وہ دنیا کی تمام تر حسن سے لطف اندوز ہوتے ہو ئے آگے بڑ جاتا ہے موسم کی خرابی ہو بارش ہو یا سہولیات کی کمی کوئی چیز اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی وہ خطرات سے کیھلنے میں بھی حظ اٹھاتا ہے وہ گٹھڑی کے بوجھ سے بھی حتیٰ الامکان اپنے وجود کو دور رکھنے کوشیش کرتا ہے ..
.
وادی چترال سیاحوں کی سرزمیں ہےاس میں نہ صرف پاکستان کے مختلف علاقوں سے لوگ سیاحت کی کی عرض سے آتے ہیں بلکہ یہ بیرون ملک سے بھی سیاحوں کو اپنی طرف کھنچتا ہے شہد سے میٹھے اور ریشم کی طرح نرم لوگ اپنی مہمانوازی کے لئے بھی بہت مشہور ہیں سب کے دلوں کو فتح کرنے والے یہ لوگ چترال کے مقامی “سیاح” کو ایک انکھ نہیں بھاتے یہ نرالا سیاح ڈھونڈ ڈھونڈ کر علاقے کے معتبرات کے گھر رات گزارنے کے لیے ٹھہرتا ہے تو اگلی رات تک اسی میزبان کو ہدف تنقید بناتا ہے جب دوسری رات اتی ہے تو پھر پہلا والا میزبان بری ہوجاتا ہے اور نوبت دوسرے میزبان تک پہنچ جاتی ہے ..زیر نظر شخصیت کٹر “چکن” نہیں کھاتا ان کے بقول چکن ذبح کرتے وقت “والدمہ” بسمل کا (حرام خون) صحیح طرح سے باہر نہیں نکالا اور یہ خون جلدبازی کے سبب گوشت کے اندر جمع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے گوشت مکروہ تحریمی بن جاتا ہے اور جس گھر میں خدانخواستہ “آلو” پکےہوتو یہ حضرت پھر کھبی اس گھر کا رخ نہیں کرتے … ایک اور خوبی یہ ہے کہ سردی ہو یا گرمی,اندھی ہو یا طوفان پنجگانہ نماز کھبی قضا نہیں کرتے اور دوران سفر جہاں نماز کا وقت آئے وہی اپنے رب کے حضور سر بسجود ہوجاتا ہے.نہ بھولنے یا حافظے کی بات کی جائے تو بندہ خدا کو ایک ایک گھر یاد ہے کوئی بھی گاؤں بروغل سے ارندو تک مداک لشٹ سے گبور تک بالائی چترال کے سورلاسپور سے تریچ تک بشمول تورکھو کے ساتھ ساتھ گلگت کے پانچوں اضلاع علاوہ سکردو کے علاقوں میں گھوم چکے ہیں اور ان تمام علاقوں میں لوگوں کے مزاج اور رہن سہن وغیرہ کے بارے پورے معلومات فراہم کرتے ہیں وہ جہان گئے ہیں وہاں کونسے قبیلے آباد اور کتنے گھرانے رہتے ہیں سب کے بارے میں کافی خاصی معلومات فراہم کرتے ہیں ۔۔سیاحت کے علاوه ان کو ایک دوسری چیز میں بھی خاصی دلچسپی ہے اور وہ ہے “عورت ” جی ہاں مستورات کے بارے میں اپنا ایک الگ نظریہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ کھانا پھیکا بھی ہو تو اسے بوڑھی عورت سے تشبیہ دیتے ہیں …اس کے علاوه محترم سیاح عدالت اور سیاست کے بحث ومباحثے میں بھی دو ہاتھ آگے ہیں ہر حکومت پر دیرپا تبصره کرتے ہیں لیکن اب وہ ہر آنے والی حکومت کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد حق خودارادیت استعمال کرنے حق میں نہیں کیونکہ جو منشور پہلے پیش کیجاتی ہے اس پر عمل کرنے کی نوبت تک نہیں آتی اور جب انھیں ملک کا خیال نہیں ہم تو شہر تہی دست ہیں ان کا کہنا ہے اب ووٹ اسے ملے گا جو پیسے دےگا .ان حضرت کے کسی زمانے میں بہت بڑی داڑھی تھی اور اب برائے نام وجہ پوچھنے پر بتایا کہ نہ جماعت علما کو ہمارا کچھ خیال ایا اور نہ ہی جماعت اسلامی کو تو پھر اس کو بڑھانے کی ضرورت کیا ہے ..اللّہ لوگ کس کشمکش سے دوچار ہیں خیر یہ تو ان کا اپنا مزاج ہے ہمیں اس سے کیا مطلب ان کی زندگی کی اپنی اک کہانی ہے جو کسی افسانے سے کم نہیں…… شاید آپ بھی یقیناً ان سے ملنے کے مشتاق ہونگے تو ملئیے اپر چترال بریپ کے رہائشی “محترم جناب سید علی شاہ المعروف شوشپہ اوغ جو کہ وادی چترال کی نہ صرف جانی پہچانی شخصیت ہیں بلکہ چترال کی چترال چلتی پھرتی تاریخ بھی ہیں …..


شیئر کریں: