Chitral Times

May 20, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہجورزیست…ہمیں تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا…ازقلم دلشاد پری چترالی

شیئر کریں:

ادارے کا مرسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں !

مجھے معلوم ہے کہ اس تحریر کو اردو میں لکھنے کے بعد شور مچے گا اردو میں کیوں لکھا۔تو سنو۔جرم جتنا چھپایا جائے اتنا بڑھتا جائے گا۔یہ تحریرچند چترالی دلالوں کے لئے لکھی گئی ہے۔۔چوپانچ لاکھ آبادی کو بدنام کررہے ہیں


چند دن پہلے ایک پوسٹ نظروں کے سامنے سے گزری جس میں ایک بھونا جواکثرفلموں کے مزاحیہ کرداروں میں دیکھایا جاتا ہے بڑے طمطراق کیساتھ سفیدکاٹن میں ملبوس ہوکے چترال کے کسی ہوٹل میں تشریف فرما ہے۔اور چترالی زبان میں لکھے گئے پوسٹ پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ صاحب موصوٖ ٖ ف کسی چترالی دلال کی وساطت سے یہاں پہ شادی رچانے آیا تھا وہ بھی 12 سال کی بچی کے ساتھ۔مجھے اس پنجابی سے کوئی شکوہ نہی بلکہ افسوس اس چترالی دلال پہ ہے کہ نجانے کیا سوچ کر اس نے یہ ڈرامہ رچایا تھا؟کیا اس دلال کو بھاری رقم ملنے والے تھے یا گاڑی، بنگلہ اس دلال کو اس بچی کے بدلے میں ملنے والے تھے؟ایسے دلالوں کی وجہہ سے پاکستان کے کونے کونے میں چترال کا امیچ خراب ہوا ہے۔کسی بچی کی زندگی برباد ہو تو کونسا قیامت آئیگی کیونکہ بدلے میں اس دلال کو اور اس لڑکی کے بے غیرت گھر والوں کو دنیا کی آسائش ملنے والی تھی۔ بر وقت اقدام کرکے اس دلال کے منصوبے ناکام کرنے اور ایک معصوم بچی کی زندگی برباد ہونے سے بچانے پہ دعوت وعزیمت والوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں مگر آ ُ ُپ لوگوں سے درخواست ہے کہ ایسے دلالوں کا نام بھی ظاہر کرے تاکہ ان کے خلاف قانونی ایکشن لی جا سکے۔


آئے روز یہ واقعات ہوتے ہیں اور ان کے وجہ سے ہمارا چترال بدنام ہوتا ہے اور ہم ان کے کرتوتوں پر پردہ ڈال کے ایک طرف سے ہم ان کو ہم مزید ہمت دیتے ہیں۔وہ بچی یہاں سے لے جانے کے بعد پتہ نہی مزید کتنے گھروں اور بھونوں کے ہاتھ چڑھ جاتی ،کتنے کھوٹوں میں اس کو ڈانس کرنا پڑ جاتا،وہ کس کو آواز دیتی اس کو تو خریدا گیا تھا اور خریدا ہوا مال سمجھ کے جو سلوک اس کے ساتھ کیا جاتا وہ تو سب کو پتہ ہے۔ کتنی بار چترالی بیٹیوں کو سر عام قتل کرکے پھینک دیئے گئے۔ بیجھنے والے اس کے اپنے سگے تھے جن کو دلال نے پیسے کی خوب لالچ دی ہوگی۔میں حیران ہوں کیا سگے ماں باپ اتنے ظالم ہو سکتے ہیں؟اپنی ہی اولاد کے لئے اتنا برا چاہنے والے کیا ماں باپ کہلانے کے حقدار ہیں؟ اس کا کوئی بھائی یا بہن نہی تھا جو اگے اکے اپنی بہن کو بچاتے۔پولیس والوں کو اطلاع دیتے۔نہ صرف نابالغ لڑکی کی شادی جرم ہے بلکہ یہ 52 C.P.A کے تحت بچوں کی سمگلنگ ہے اور اس کی کم سے کم سزا 14 سال ہے۔اس کے علاوہ تعزیرات پاکستان کے زیل دفعات کے تحت قابل مواخذہ جرم ہے۔


۱A…۔PPC 364 چودہ سال سے کم عمر شخص کو لے بھاگنا یا بھگا لے جا نا. عمر قید یا سزائے موت۔
۲۔PPC 366A نابالغ لڑکی کا مہیا کرنا۔دس برس تک سزائے قید
۳۔PPC 370 کسی شخص کو بطور مول لینا یا بیجنا۔سات برس قید
۴۔PPC 366 عورت کو لے بھاگنا یا بھگا لے جا ناتاکہ اس کے ساتھ زبردستی شادی کی جائے۔عمر قید


اسلئے دعوت وعزیمت والوں سے درخواست ہے کہ اس دلال کا نام اور اس بچی کے گھر والوں کا نام بھی منظر عام پہ لے آئے اور ساتھ میں میں قانونی کاروائی کے لئے مستغیث بن جائے۔ہم سب نے مل کے اس وڈیروں جیسے ظلم کو روکنا ہے۔ان دلالوں کی وجہ سے ہم کالج،یونیورسٹی سے طعنے سنتے آرہے ہیں کہ چترالی لوگ اپنی بیٹیاں بیجتے ہیں اور ایسے دلال ہمیں سر اٹھانے کے قابل نہی چھوڑتے۔

bona jamar and dawat e azimat 1
bona jamar 1

شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامین
38195