Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مختصرسی جھلک….. خود اعتما دی ….. فریدہ سلطا نہ فَرِی

شیئر کریں:

قسط نمبر ۱
بچھلے دنوں بچوں کے حوالے سے ایک مفید ویڈ یودیکھنے کا موقعہ ملا جسے دیکھ کرکچھ لکھنے کودل چاہا ہم میں سے بہت سے والدین کواکثر یہ شکا یت رہتی ہے کہ میرا بیٹا کلاس میں خا موش رہتا ہے میری بیٹی زیا دہ لو گوں کے سامنے بو لنے سے گھبرا جاتی ہے یا مرا بچہ ٹسیٹ کا نام سنتے ہی خو ف زدہ ہونے لگتا ہے یہ سب بچے کے اندرخود اعتما دی کی کمی کو ظا ہر کرتی ہیں ہما رے ہا ں بدقسمتی سے نہ گھروں میں بچو ں کے اندرخوداعتما دی کوفروغ دینے والی عناصرپرتوجہ دی جاتی ہے اور نہ ہی تعلیمی اداروں میں، عموما ہم سب ہی کا خیا ل یہی ہے کہ کتابیں پڑھ کے ہی بچے ایک کامیا ب اورمطمین زندگی گزار سکتے ہیں جو ما ہرین کے مطابق انتہا ئی غلط نظریہ ہے خصوصا چترال کے والدین کا تواس طرف توجہ ہی نہیں کیونکہ یہا ں زیا دہ تروالدین ان پڑھ ہیں اورجو پڑھے لکھی بھی ہیں تو ان کواس حوا لے سے اگاہی ہی نہیں ہے کہ بچوں کو ایک کا میاب اورمثبت زندگی گزارنے کے لیے خود اعتمادی کا ان کے اندرہونا کتناضروری ہے خود اعتمادی یہ نہیں کہ بچہ اسٹیچ پہ جا کے گا سکے یا تقریر کرسکے بلکہ خود اعتمادی تو یہ ہے کہ بچہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی مشکلا ت کا سامنا کر سکے اورلوگو ں سے اچھا تعلق بنا سکے اورلوگو ں کو اپنی رائے سے اگا ہ کر سکے اور لڑائی جھگڑوں کی صور ت میں اسے خو ش اسلوبی سے حل کرسکے یہی سب علا مات خود اعتما دی کی ہیں جس کا ہو نا بچے کی زند گی کو خو شگوار بنا دیتا ہے


بچو ں میں خود اعتمادی پیدا کرنے اور پڑھا نے کے لیے چند چیزیں بہت ہی ضروری ہیں مثا ل کے طور پر
۱ سب والدین فطری طور پراپنے بچوں سے بغیر کسی غرص اور لالچ کے محبت کرتے ہیں بچو ں کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے ا ور بڑھانے کے لیے بچو ں کو اس با ت کا احسا س دلا نا بہت ضروری ہے کہ اپ بحثیت والدین ان سے بغیر کسی غرص کے غیر مشروط محبت کرتے ہیں اورہرحا ل میں کرتے ہیں اپنے بچو ں سے اس وقت بھی پیار کیجئے جب وہ امتحا ن میں کم نمبر لے لیں یا کو ئی اوربڑی غلطی کرے تا کہ بچوں کے اندراس بات کا احسا س پیدا ہوکہ ان کے والدین ان کی غلطیو ں سے چیھڑتے ہیں اورناراض ہو تے ہیں نہ کہ ان کی ذات اور شخصیت سے تا کہ وہ اپنی ذات کی تنقید کر نے کے بجا ئے اس غلطی کو ٹا رگٹ کرے اوراسے دوبارہ نہ کر نے کا اراداہ کرلے


۲ما ڈل رویہ: والدین اوراسا تذہ ہمیشہ بچو ں کے لیے ایک رول ما ڈل کا درجہ رکھتے ہیں شعوری یا لا شعوری طور پر بچے اپنے اساتذہ اور والدین کو ہی کا پی کرتے ہیں والدین جو بولتے ہیں جو کرتے ہیں اورجو رویہ دیکھا تے ہیں وہ سب بچوں میں منتقل ہو جاتے ہیں کیونکہ اپ کے بچے اپ کو سب سے قریب سے مشا ہدہ کر رہے ہو تے ہیں اس لیے روزمرہ زندگی میں والدین اگر خود اعتما دی کا مظا ہرہ کریںگے تو والدین کو دیکھآ دیکھی یہی بچے بھی انہی کے راستے پر چلیں گے


۳ کسی بھی مواقع، رویہ اور عادات میں حتی کہ کسی بھی چیز میں اپنے بچو ں کا موازنہ دوسرے بچوں سے ہرگزمت کریں اس سے بچوں کے اندر احساس کمتری کا رجحان ہیدا ہو سکتا ہے اورنہ ہی اپنے بچوں کا اپس میں موازانہ کریں اس سے ان کے درمیا ن اختلافات پیدا ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں


۴ والدین کو چاہیے کہ وہ بچو ں کو کم عمری سے ہی چھوٹی چھوٹی زمہ داریا ں اور کام دے دیں تا کہ ان کے اندرکسی بھی کا م کوزمہ داری سے کرنے کا جذبہ پیدا ہو سکے اوران کو اس کی عادت پڑ جائے جب اپ ایسا کریں گیں تو بچوں کولگے گا کہ وہ بھی مفید ہیں اورکو ئی کام کرنے کے قا بل ہیں تبھی تو ان کے والدین نے ان پر اتنا اعتما د کیا اسطرح سے بچوں میں خوا اعتمادی بڑ جائیگی اورساتھ ہی بچو ں میں بنیا دی لایف سکیل کے حوا لے سے اگاہی بھی پیدا ہوگی اسطرح یہی بچے اگے جا کر اپنا کام خود کرنے کی عا دی ہو جائیں گے اوران کو لگے گا کہ زندگی گزارنا کو ئی مشکل کا م نہیں ہے اپنے چھوٹے موٹے کا م انسا ن خود بھی کرسکتا ہے


۵ ہمیشہ بچو ں کے کام کی تعریف کریں نہ کہ اس کے ررلٹ کی تا کہ بچو ں کوحوصلہ افزائی مل سکے کہ اس نے محنت کی جس کی وجہ سے ایک اچھا رزلٹ آیا ہے اس سے بچوں میں یہ احسا س پیدا ہو گا کہ انسا ن محنت کرکے ایک اچھے رزلٹ تک پہنچ سکتا ہے


۶ بچو ں کومسائل کا سامنا کرنے کا موقعہ بھی فراہم کریں تا کہ وہ اس کی عادی ہوجائیں ہم اکثراوقات بچو ں کو ایسے بچوں سے دور رکھتے ہیں جو جھگڑتے اور چھیٹرتے ہیں حلانکہ یہ ٹھیک نہیں ہے اسکی جگہ بچوں کو ایسے موقعوں اور بچو ں سے مثبت طریقے سے نپٹنے کا طر یقہ سمجھانا چاہیے تا کہ اگے جا کر عملی زندگی میں یہی طریقہ کاراختیار کریں اس کے ساتھ ہی بچوں کو یہ بھی بتا نا چاہیے کہ ہر بات اورعمل پرجلدی ری ایکٹ نیہں کرنا چاہیے کچھ باتو ں کو نظرانداز بھی کرنا چا ہے ان سب باتوں سے بچے ایک اچھا تعلق استوار کرنے کا طر یقہ سیکھ جا ییں گیں اوران میں برداشت کا ما دہ بھی پیدا ہو جائیگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے


شیئر کریں: