Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عالمی یوم آبادی اور چترال…… ماہم رحمن

شیئر کریں:

1989 میں پہلی بار اقوام متحدہ کی طرف سے  گیارہ جولائی کو عالمی یوم ابادی کے طور پر منایا گیا اور تب سے ہر سال دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی  گیارہ جولائی یوم ابادی کے طور پر منایا جاتا ہے ۔اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کی طرف توجہ دلانا ہے ۔ہر سال کی طرح اس سال بھی ڈ سٹرکٹ ویلفئر پاپولیشن آفس چترال نے بھی بھرپور انداز سے ورلڈ پاپولیشن ڈے منایا ۔۔اور انتہائی خوش آئند بات یہ ہے کہ عالمی وباء سے پیدا ہونے والے سنگین حالات کے باوجود  مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایس او پیز کے تحت اس پروگرام میں شرکت کی۔۔۔

پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔۔ضلعی آفیسر بہبود ابادی خورشید علی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس دن کو منانے کے مقاصد پر اپنے خیا لات  کا اظہار کیا۔۔۔

اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ہمیں پہلے سے ذیادہ عزم وہمت کے ساتھ کورونا جیسی وباء کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی ابادی کو بھی کنٹرول کرنا ہے اسکے لیے ہمیں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی اشتراک و تعاون کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوکر عوام کے دہلیز تک اپنی خدمات پہنچانی چاہیے۔۔۔

انکے علاؤہ فیلڈ ٹیکنکل آفیسرز زمرد بی بی ، آسیہ بی بی اور پروگرام کے مہمان خصوصی سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حلیمہ بی بی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ آفس کے اس اقدام کو سراہا۔۔

مقررین نے  اپنے خطاب میں بڑھتی ہوئی آبادی  اور محدود وسائل  جیسے مسائل پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات میں آبادی کے ساتھ بڑھتی ہوئی وبائی امراض سے بھی نمٹنے اور علاقے میں اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کے لیے اپنی خدمات مزید بہتر کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ۔۔

پروگرام کے مہمان خصوصی محترمہ حلیمہ بی بی نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس طرح کے سیمینارز اور پروگرامز یقیناً معاشرے اور عوام الناس کے ذہنوں میں فیملی پلاننگ کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیاں دور کرنے میں معاون ثابت ہونگی۔ اور آ نے والے وقت میں لوگوں میں اس حوالے سے مثبت سوچ اجاگر ہوگی ۔۔۔

پروگرام کے آ خر میں ڈسٹرکٹ آفیسر خورشید علی نے ایک بار پھر تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے پورے اسٹاف کو خاص ہدایت کی کہ موجودہ حالات میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور عوام کی خدمت کو اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھیں۔۔۔

اس پروگرام کے حوالے سے سب سے زیادہ مثبت چیز جو سامنے آ ئی وہ موجودہ حالات کے باوجود عوام کی کثیر تعداد میں شرکت تھی۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ عوام میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے جو تعصب پایا جاتا تھا وہ اب کسی حد تک کم ہوگیا ہے لوگ تعاون کر رہے ہیں۔لیکن ایک بات جو ہر سال جب بھی یوم آبادی منایا جاتا ہے تو سامنے آ تی ہے وہ یہ ان سیمینارز میں ہمشہ مرد حضرات کی تعداد خواتین کے نسبت ذرا کم پائی جاتی ہے ۔۔حالانکہ یہ عنوان ایسا ہے کہ اسمیں خواتین سے ذیادہ مردوں کی ذہن سازی کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ابادی بڑھانے کی خواہش ہمیشہ مردوں کی طرف سے ذیادہ ہوتی ہے  خواتین تو چاہتی ہیں کہ کم بچے ہوں۔۔ بحرحال دوسری طرف اگر اس حوالے سے ہم  ملکی صورتحال پر ایک نظر ڈالیں تو    2017میں پاکستان کی کل ابادی بیس کڑوڑ تھی اور پاکستان آبادی کے لحاظ سے چھٹے نمبر پہ تھا جبکہ حالیہ رپورٹ کے مطابق آبادی بائس کڑوڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان  آبادی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پہ آچکا ہے یہی نہیں بلکہ ایک اندازے کے مطابق آئیندہ چند ماہ میں پاکستان میں پچاس لاکھ بچوں کی پیدائش متوقع ہے اور یومیہ شرح پیدائش کے حوالے سے پاکستان کا عالمی سطح پر چوتھے نمبر میں آ نے کے واضح امکانات بتا یا جارہا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو آپ خود سوچیں کہ ہمارا ملک جو پہلے ہی بے روزگاری ۔غربت صحت اور تعلیم کے بد ترین صورتحال سے دوچار ہے ۔۔۔اسکا مستقبل کیا ہوگا؟

اسلیے موجودہ وقت میں یہ بہت ضروری ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدہ لیا جائے اور اپنے وسائل کے مطابق آبادی رکھی جائے۔۔اور یہ محض ایک ادارے کی زمہ داری نہیں کہ وہ گھر گھر جائے اور ہمیں ہمارے مسائل سے آگاہ کرتی رہے بلکہ ہر شخص کی انفرادی اور اجتماعی زمہ داری ہے کہ وہ کبوتر کی طرح آنکھ بند کرنے کے بجائے مسائل سے نمٹنے کے لیے صیحح حکمت عملی کرے۔۔۔بالخصوص علماء کرام کی یہ زمہ داری ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی ابادی کے مسائل پر بات کریں اور ان اداروں کا ساتھ دیں۔ اور عوام میں اس حوالے سے آگاہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اسکے علاؤہ حکومت اس سلسلے میں کیا اقدامات کر رہی ہے ہمارے ملک میں دہائیوں سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ زمین ۔جغرافیہ یا وسائل کے بجائے قومی نشستوں کی سیٹوں سے لیکر فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ملازمتوں تک حتی کہ فوج میں نمائندگی سے لیکر پانی کی تقسیم تک سب کچھ آبادی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔۔ حالانکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ابادی کہ بجائے غربت ۔مسسئل اور پسماندگی  کو میعار بنا ئیں ۔۔یہ بڑی دلچسپ بات ہے آپ خود سوچیں کہ ان حالات میں کون پاگل چاہے گا کہ اسکے علاقے یا صوبے کی ابادی کم ہو ؟اور یہی وجہہ ہے کہ ہمارے سیاستدان آبادی کم کرنے کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات  اٹھانا تو دور کی بات آواز تک نہیں اٹھاتے ہیں۔اسلیے جب تک حکومتی پالیسی  تبدیل نہیں ہوگی ہم محض ڈے منانے سے  بڑھتی ہوئی ابادی کو کنٹرول نہیں کرسکتے ہیں۔۔۔

یہ حقیقت ہے کہ جب تک حکومت خود اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لے گی پاکستان بھر کے بہبود آبادی کے اداروں کی اس تمام محنت کا کوئی  خاطر خواہ فایدہ نہیں ۔۔اسلیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہر فرد ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اور بالخصوص حکومت اس مسئلے کو سنجیدہ لیں ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ ہمیں  معاشرتی و معاشی بد حالی غربت اور نفسیاتی امراض اور خودکشی جیسے معاملات میں خاطر خواہ اضافے سے دوچار ہونا پڑ جائے۔۔۔۔۔


شیئر کریں: