Chitral Times

Dec 14, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • باکمال انسان کی لاجواب آنکھیں……………..فہمیدہ ارشد

    March 24, 2018 at 11:33 pm

    آنکھیں خد ا کی عطا کردہ نعمتوں میں ایک بہترین نعمت ہیں۔ انسانی جسم میں سب سے حسین اور جاوداں اعضاء اور دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز آنکھیں ہیں۔ ایک ادیب ان پر لکھنے کے لئے جب قلم اٹھاتا ہے تو سیاہی کم پڑ جاتی ہے اور ایک سائنسدان جب ان پہ تخقیق شروع کرتا ہے تو اس کی عمر لگ جاتی ہے۔ آنکھیں بولتی ہیں وہ سب کچھ جسے زبان کہنے سے قاصر ہے۔ آنکھیں کرتی ہیں وہ سب کچھ جنہیں دوسرے جسمانی اعضاء نہیں کر پاتے۔ کسی کا دل پگلانے کے لئے ایک قاتل نگاہ کافی ہے، کسی کو سبق سیکھانے کے لئے ایک گھورتی ہوئی نظر کافی ہے، کسی کو حوصلہ دینے کے لئے ایک پلک جھپک کافی ہے۔ زبان کو آپ جھوٹا کہ سکتے ہیں لیکن آنکھوں کو نہیں کیوں کہ آنکھوں کا کام سچائی کی نمائندگی کرنا ہے۔ یہ جھوٹ کو شیر و شکر بنا کر پیش نہیں کر سکتے البتہ سچائی کو بلا خوف آپ کے سامنے پیش کردیں گے۔ یہ خوبصورت آنکھیں خدا نے ہر انسان کو عطا فرمائی ہے اور وہ لوگ جو آنکھوں کی روشنی سے محروم ہیں وہ بھی بینائی کے علاوہ آنکھوں کے دوسرے افعال سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گویا کہ آنکھیں ایک جادوئی آلہ ہیں جو انسان کی ہر طرح سے مد د کرتی ہیں۔

     

     

    حال ہی میں دنیا سے ایک ا یسی شخصیت رخلت کر گئے جن کی بہت ہی منفرد آنکھیں تھیں ۔ یہ ساخت او ر فنکشن میں تو ہماری آنکھوں کی طرح تھیں البتہ بصیرت میں ہم سے بہت ہی اعلی تھیں۔ جب جسم کے ہر حصے نے ان کا ساتھ چھوڑ د یا تب آنکھوں نے ہی انھیں سہار ہ دیا اور ان کے ہر اس خواب کو سچ کر دکھا یا جو ان آنکھوں سے اس نے دیکھے تھے۔ اس لئے و ہ کہتا ہے انسان بھی عجیب مخلوق ہے اسکی پلک بھی بچ جائے تو ا پنا خواب پوری کرتا ہے۔ یہ الفاظ دنیا کے معروف سائنسدان، ریاضی دان ، عالم طبیعات او ر مصنف اسٹیفن ہاکنگ کے ہیں۔ اسٹیفن ہاکنگ کو آئن اسٹائن کے بعد سب سے بڑا سائنسدان مانا جاتا ہے۔ انھوں نے کائنات میں بلیک ہولز دریافت کیں جو کائنات میں تبدیلی کی وجہ ہیں اور ان سے نکلنے والی شعاؤں سے سیارے وجود میں آتے ہیں۔ ان کی مشہو ر تصانیف میں A brief history of time, A universe in a Nutshell اور The grand design شامل ہیں۔

     

     

    اسٹیفن ہاکنگ ۲۱ سال کی عمر میں ایک مہلک مرض جیسے Amyotrophic lateral sclerosis کہتے ہیں ، میں مبتلا ہوئے ۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان کا پورا جسم مفلوج ہوجاتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ موت کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس مرض کا کوئی علاج نہیں۔ بیماری کی تشخیص کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ وہ مزید دو سال تک زندہ رہ سکتے ہیں مگر قدرت کا کرشمہ یہ ہوا کہ وہ دو سال بعد فوت نہیں ہوئے بلکہ جسمانی طور پر مفلوج ہوکر وھیل چئیر پہ آگئے اور مزید پچپن سال تک زندہ رہے۔ ان کا جسم تو حرکت کرنے سے قاصر تھا لیکن دماغ اسی طرح توانا اور تندرست۔ جب جسم کے ہر حصے نے کام کرنا چھوڑ دیا اور گردن بھی مڑ گئی اور سیدھی نہ ہوئی تو اس وقت صرف آنکھوں نے اس چاقو چوبند دماغ کا ساتھ دیا اور اسٹیفن نے وھیل چئیر پہ کائنات کے رموز کھولنا شروع کئے اور درجہ بلا کتابیں بھی انھوں نے اس خطرناک بیماری کےAttack کے بعد لکھیں۔

     

     

    ْٓٓقاسم علی شاہ اسٹیفن ہاکنگ کی دلیرانہ زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دن اسٹیفن کی بیگم ان کے پاس آئی اور ان کی آنکھوں میں زندگی کی ادھوری تمناؤں کو محسوس کر کے کہا کہ اسٹیفن ہم آج بھی کتاب لکھ سکتے ہیں تو آنکھ کی پلک ہلی ۔ بیگم فور دوڑتی ہوئی گئی اور ایک کاپی لیکر آئی جس کے ۲۶ صفحے نکال لئے اور پہلے صفحے پہ A لکھا پھرB اور اسی طرح Z تک لکھا ۔ اس نے اسٹیفن کو A دکھایا،B دکھایا او Z تک دکھایا ۔ جہاں پر آنکھوں نےVibrate کیا اس نے لکھا ۔ اس طرح اسٹیفن کا ایک نامور مصنف بننے کا خواب بھی سچائی میں بدلنے لگا ۔ ان کے لئے ایک Equalizer system بنایا گیا جس کی مدد سے و ہ پلکوں سے بولتا تھا اور اسی کی مدد سے انھوں نے کتابیں لکھیں۔ ۱۹۸۸ میں اسٹیفن نے اپنی جادوئی پلکوں کی حرکت، تیز رفتار دماغ کی حرارت اورSensor computer کی مدد سے A brief history of time تحریر کی جس کی ۱۰ ملین کاپیاں فروخت ہوئیں۔ یہ کتاب سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں کی فہرست میں صفحہ اول پہ آگئی او ر ۴۰ زبا نوں میں اس کا ترجمعہ ہو چکا ہے۔ جس شخص کے بارے میں ڈاکٹروں نے ۱۹۶۳ میں کہا تھا کہ د و سال بعد مر جائے گا انھوں نے ۲۰۱۳ میں My brief history کے نام سے ایک کتاب لکھ کر دنیا والوں کو بتایا کہ کس طرح وہ طالب علمی کے زمانے سے جب دوست انھیںEinstein کہا کرتے تھے لیکر Einstein کے بعد دوسرا عظیم سائنسدان بننے تک کا فاصلہ طے کیا اور ان کے راستے میں نہ ہی ان کا مفلوج جسم حائل ہوا اور نہ ہی موت انھیں آغوش میں لے سکی جب تک کہ انھوں نے اپنے تمام خواب سچ نہیں کئے۔ اسٹیفن نے اپنی جسمانی کمزوری کو اپنی سوچ پہ کبھی حاوی نہیں ہونے دیا ۔ ان کا دماغ تو کائنات کے کونے کونے کا کھوج لگاتا تھا اور اپنے بے حس جسم کو بھی انھوں نے کائنات کی سیر کروائی ۔ ان تمام کاموں کو انجام دینے تک آنکھیں ان کے ساتھ رہیں اور بلاخر ۱۴ مارچ ۲۰۱۸ کو یہ آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہوگئیں۔

     

     

    اس عظیم سائنسدان نے اپنی کامیابیوں کا لوہا منوا کر ہم تمام دنیا والوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ انسان چاہے جسما نی طور پر معزور و ناتواں کیوں نہ ہو، لیکن اس کا مصمم ارادہ ، اٹل جستجو ، محنت او ر لگن مرکوز ہو تو وہ اس دنیا کے اند ر رہتے ہوئے ہر وہ عمل انجام دے سکتا ہے جسے وہ اکثر مشکل اور نا ممکن سمجھتا ہے۔

  • error: Content is protected !!