Chitral Times

May 28, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حکومت یکم جون تک تمام تعلیمی اداروں کو کھولنے کااعلان کرے ۔ وجیہ الدین صدر پیما چترال

شیئر کریں:

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ ) وجیہ الدین صدر پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیو شن مینجمنٹ ایسوسی ایشن ( پیما) چترال نے کہا ہے کہ پاکستان میں جب سے کرونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ہوا تو سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو 15 دن تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور بعد میں آہستہ آہستہ ان چھٹیوں میں توسیع کی گیی لیکن اب جبکہ حکومت 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ کر چکا ہے اس سے تمام نجی تعلیمی اداروں میں ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گیی ہے ۔اور تمام حکومتی و نجی ادارے ،بازار ،مارکیٹ اور ٹرانسپورٹ کھلنے کے بعد اب صرف سکولوں کو بند رکھنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔

ایک پریس رییز میں انھوں نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران حکومت نے نجی تعلیمی اداروں سے بچوں کے فیسوں میں رعایت کی درخواست کی اس پر تمام نجی اداروں نے متفقہ طور پر 6ہزار سے زاید فیس دینے والے طلبہ کیلیے 20 فیصد اور اور6 ہزار سے کم فیس دینے والوں کیلیے 10 فیصد رعایت کا اعلان کیا۔باوجود اس کے تمام سکولوں میں فیس جمع کرنے کی تناسب 20 فیصد سے بھی کم ہے اس کے نتیجے میں نجی سکولز بری طرح مالی خسارے کا شکار ہوگیے ہیں اور اس حالت میں بلڈنگ کا کرایہ ادا کرنا ،اساتذہ کی تنخواہیں اور دوسرے اخراجات برداشت کرنا نجی اداروں ک بس باہر ہوگئی ہے۔

WHO کے حالیہ اعلامیے کے مطابق ہمیں اس وائرس کے ساتھ ہمیشہ رہنا ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہویےہمیں اپنی کاروبار زندگی کو چلانا ہے۔حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی جامع پلان موجود نہیں ہے اس کے نتیجے میں طلبہ کی پڑھایی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ لاکھوں کے تعداد میں اساتذہ بے بیروزگار ہو رہے ہیں۔ اس حقیقت سے حکومت اچھی طرح واقف ہے کہ حکومت کی تعلیمی ذمہ داری کا 60 فیصد حصہ نجی تعلیمی ادارے اچھی طرح نبھا رہے ہیں اور ملک میں معیار تعلیم کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ہم وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محترم محمود خان اور وزیر تعلیم اکبر ایوب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ SOPs کے ساتھ عید کے فورا بعد اسکولوں کو کھولنے کا فیصلہ کریں جس طرح باقی دنیا میں بھی تعلیمی اہمیت کو مد نظر رکھ کر تعلیمی اداروں کو کھولے جا رہے ہیں ۔
دکانیں، مارکیٹ ،شاپنگ مالز،ٹرانسپورٹ،ایر پورٹس اور ریسٹورینٹس وغیرہ کھولے جا سکتے ہیں اس سے بہتر SOPs کے ساتھ اور منظم انداز میں تعلیمی اداروں کو بھی کھول کر تعلیمی سرگرمیاں شروع کی جاسکتی ہیں۔ حکومت نجی تعلیمی اداروں کیلیے فوری طور پر ریلیف پیکچ کا اعلان بھی کرے۔


شیئر کریں: