Chitral Times

May 28, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عید الفطر اور خدا کی رضا کا حصول…..تحریر: سردار علی سردار اپر چترال

شیئر کریں:

اسلامی تہواروں میں عیدالفطر بہت ہی اہم تہوار شمار ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان ہر سال رمضان المبارک کے اختتام پر عیدالفطر مناتے ہیں ۔ اس سے انسان کو نہ صرف ظاہری خوشی حاصل ہوتی ہے بلکہ روحانی راحت بھی ملتی ہے ۔ظاہری خوشی اس وجہ سے کہ اس دن تمام مسلمانانِ عالم اپنی ثقافتی،لسانی اور اُمتِ مسلمہ کے تشریحی  تنوع کے ساتھ عید مناتے ہیں ۔ خدا کے حضور نہ صرف دو رکعت نماز شکرانے کے طور پر ادا کرتے ہیں بلکہ اپنے دوستوں ، رشتہ داروں اور دیگر احباب سے ملکر اپنی خوشیوں کو بھی بانٹتے ہیں۔ عید سے فارع ہوکر تمام دوستوں اور رشتہ داروں کے گھر اُن سے ملنے جاتے ہیں، مختلف مشاغل میں بھر پور حصّہ لیکر ایک دوسرے سے تخفے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔

آج کا یہ عظیم دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنے قول و فعل اور فکرو عمل سے اپنے اندر طہارت اور پرہیزگاری پیدا کرنا ہے۔ اور مذہب پر عمل کے ذریعے سے اپنے نفس پر قابو پاکر اپنے اندرتقویٰ اور خوفِ خدا کا شعور پیدا کرنا چاہئیے کیونکہ یہ اس بات کے اظہار کا ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ خداوندتعالیٰ نے جو کچھ بھی ہمیں دیا ہے ہمیں اُس کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔

گویا عیدالفطر جو مسلمانوں کی خوشی کا تہوار ہے  معاشرے کے تمام طبقات اپنے اپنے طریقے کے اندر اپنی دلچسپیوں کے مطابق اُسے مناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولﷺ خود اپنی اُمت کو عید کے دن مختلف مشاغل میں شرکت کی ہدایت کی ہے ۔روایت بیان کی جاتی ہے کہ “حضورﷺ کی حیاتِ طیبہ میں عیدالفطر بہت ہی عزّت و احترام کے ساتھ شہر سے باہر عید گاہ میں میں ادا کی جاتی تھی جس میں مختلف رنگ و نسل کے لوگ کثرت سے شرکت کرتے تھے ۔آپ ﷺ اس عید کو سادگی کے ساتھ مناتے اور خود پیدل چل کر عید گاہ پہنچتے۔ آپﷺ کو دیکھ کر دوسرے  لوگ بھی پیدل چل کر عیدگاہ پہنچتے ۔ اس موقع پر آپﷺ ہمیشہ ایسا لباس زیب تن فرماتے تھےجسے ہر فرد ِ معاشرہ  خرید سکتا تھا”۔

 (اسلامی تہوار اور رسومات ، پروفیسر رفیع اللہ شہاب۔  1995)

آج کا یہ دن ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم بھی نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر چل کر عید کو نہ صرف عزّت و احترام اور سادگی کے ساتھ منائیں بلکہ خدا کی عظمت و کبریائی کو واضح کرتے ہوئے اُس کے بھیجے ہوئے رسولﷺ اور اُس کے نظامِ حیات کو اپنے لئے مشغلِ راہ بنائیں۔

آج پوری دنیا میں وبا پھیلی ہوئی ہے ہزاروں جانیں ضایع ہوچکی ہیں نیز کل پی آئی اے کا طیارہ لاہور سے کراچی جاتے ہوئے  ائیرپورٹ کے قریب  لینڈنگ سے ایک منٹ قبل گر کر تباہ  ہوا جس سے کئی لوگوں کے گھروں میں خوشیاں غم میں تبدیل ہوچکی ہیں ۔ہمیں اُن تمام خاندانوں سے ہمدردی ہےاور دعا ہےکہ  اللہ تعالیٰ اس عظیم سانحے کو برداشت کرنے کی انہیں صبرو تحمل عطا فرمائے  اور تمام شہداء کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ غم ذادہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے عید الفطر کو سادگی کے ساتھ منائیں۔ زیادہ موج مستیاں نہ ہوں  اور پرُہجوم  جگہوں پر جانے سے گریز کرتے ہوئے اپنی جان کی خود  حفاظت  کریں۔اسی میں ہماری نجات ہے اور دینِ اسلام کی تعلیمات کا تقاضا بھی یہی ہے۔

نیز عیدالفطر کی خوشیوں کو سمیٹتے ہوئے ہم اپنے اندر سادگی،نظم و ضبط اور اعلیٰ اخلاقی اصول پیدا کرلیں۔کیونکہ عیدالفطر اسلامی معاشرے میں ہم سے مذکورہ اصولوں پر عمل کے لئے تاکید کرتی ہے اور دنیائے انسانیت کو محبت، امن اور بھائی چارے کی تعلیم دیتی ہے۔غرض یہ کہ دینِ اسلام ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی نیکیوں کے حصول کے بعداپنے عملی کردار کے ذریعے دوسروں کو رواداری، احترامِ انسانیت، عفوو درگزر، باہمی تعاون ، ہمدردی،تقویٰ اور صبرو تحمل کا عملی درس دیں۔یہ ہیں وہ زرّین اصول جن  پر عمل کرکے ہم عید الفطر کی خوشیاں حاصل کرسکتے ہیں۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے یہ خوشیاں ہمیں رمضان کے مبارک مہینے میں  عنایت کی ہیں اگر اس مہینے کے تقدس اور برکات کو سمجھ لیا جائے  تو سال کے دیگر گیارہ مہینے ہم پر اُس کی رحمتیں نازل ہوتی رہیں گی اور خداوندِ تعالیٰ سے ہمارا تعلق مسلسل جاری رہے گا۔ یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہئیے کہ ماہِ رمضان  عید کے بعد ختم ہوگا لیکن خدا سے ہمارا رشتہ اور تعلق  کبھی بھی ختم نہیں ہوسکتا اگر ہم ظاہری اور باطنی طور پر اس کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوچکے ہیں؟۔خداوندِ تعالیٰ بےحد رحیم اور مہربان ہے  اُس کی رحمانیت کی انتہا نہیں  وہ جب چاہے  جس طرح چاہے اپنے خزانۂ غیبی سے ہزاروں  گناہگاروں کو بھی  اپنی رحمت اور مہربانی سے  کچھ نہ کچھ عنایت فرماتا ہے پھر بھی اُس کے خزانے میں کبھی بھی کمی نہیں آتی  تاہم وہ  اپنے دوستوں کو اپنی بےشمار  نعمتوں  اور نوازشات سے محروم نہیں رکھتا۔ جیسا کہ شیخ سعدی ؒ جس کو ادب کی دنیا میں شہرت  حاصل  ہے اپنے پرحکمت اشعار میں یوں گویا ہیں ۔

اے کریمی! کہ از خزانہ ٔ غیب ۔۔۔۔۔گبرو ترسا وظیفہ خور  داری

دوستان را کجا کنی محروم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو کہ بہ دشمنان نظر داری

ترجمہ: اے مہربان بادشاہ ، خداوند تعالیٰ  !تیری رحمت کا یہ عالم ہے کہ تیرے غیب کے خزانے سے گبر اور ترساء یعنی ہندو اور آتش پرست  دونوں  وظیفہ خوار ہیں ۔اے پروردگار ! تو ایسا مہربان بادشاہ ہے کہ تو اپنے دوستوں کو اپنی رحمت سے کیسے محروم رکھ سکتا ہے جبکہ تیری رحمت کی نگاہ ہمیشہ دشمنوں پر بھی ہوتی رہتی ہے۔

جیسا کہ بتایا گیا کہ عید الفطر کی خوشیاں ہر سال آتی رہتی ہیں لیکن اس سال عید کی نوعیت گذشتہ سالوں کی عید سے مختلف ہے کیونکہ اس سال پوری دنیا میں کورونا کی مہلک بیماری کئی انسانوں کو متاثر کرچکی ہے اور کئی انسان اس سے  لقمۂ اجل بن چکے ہیں اور  پوری دنیا  کی معیشت پر گہرا  ا ثر پڑا ہے،ہمارے پیارے ملک پاکستان بھی  مسلسل لاک ڈاوں کی وجہ سے  معاشی طور پر کمزور ہوچکا ہے بہت سارے غریب  لوگ فاقے کی وجہ سے کسم پرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور وہ رمضان کے ان مقدس ایام میں بےسہارا ہوکر  سہارے کی تلاش میں  تگ و دو کررہے ہیں۔ایسے ناگفتہ بہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عید الفطر کی ان  گنت خوشیوں کو سمیٹنے کے لئے ایسے لوگوں کو اپنی خوشی میں شامل کیا جائے  جنہیں ہر لمحہ مدد اور تعاون کی  ضرورت ہے۔یاد رہے کہ خدا کو صرف دو رکعت  نفل یا واجب نماز یا  رات بھر کی  شب خیزی سے خوش نہیں کیا جاسکتا  بلکہ  رات بھر کی عبادت و بندگی کے ساتھ ساتھ بےسہارا بندوں کا سہارا  بن کر خدا کو راضی کرنا اسلامی تعلیمات کا بنیادی جز ہے کیونکہ  خدا اونچےاُونچے  اور بلند و بالا  محلوں میں نہیں ہوتا بلکہ وہ  جونپڑیوں اور غریب بستیوں میں رہنے والے ان ناتوان لوگوں کے دلوں میں ہوتا ہے جنہیں بھی اُسی پروردگار نے پیدا کیا  جس نے عالیشان بلڈنگوں میں عش وعشرت سے رہنے والے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ ایک حدیثِ قدسی ہے جس کو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے روایت کی ہےکہ رسولِ خدا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا” اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو توُ نے میری عیادت نہیں کی” انسان کہے گا ” اے میرے ربّ میں تیری کس طرح عیادت کرتا جبکہ توُ ربّ العالمین ہے۔” خداوند تعالیٰ فرمائے گا “کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلان بندہ بیمار ہوا تو توُ نے اُس کی عیادت نہ  کی تجھے معلوم نہیں کہ اگر توُ اُس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا “۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو توُ نے مجھے کھانا نہ دیا ۔” انسان کہے گا ” اے میرے ربّ  میں تجھے کھانا کیسے دیتا جبکہ تو ربّ العالمین ہے” خدا فرمائے گا ” کیا تجھے علم نہیں کہ میرے فلان بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تو توُ نے اُسے کھانا نہ دیا کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر اُسے کھانا دیتا تو اِسے میرے پاس پاتا “۔ اے آدم کے بیٹے میں نے تجھ سے پانی مانگا تو  توُ نے مجھے پانی نہ پلایا ” انسان کہے گا ” اے میرے ربّ میں تجھے کیسے پانی پلاتا جبکہ تو ربّ العالمین ہے ” خدا فرمائے گا ” میرے فلان بندے نے تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے اُسے پانی نہ پلایا کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اُسے پانی پلاتا تو اِسے میرے پاس پاتا”۔ (عقائد اسلام بحوالہ صحیح مسلم ۔ از ڈاکٹر عبدلحلیم )

اس پرُحکمت حدیثِ قدسی سے ہر اہلِ دانش کو یہ حقیقت معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ کتنا مہربان ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ضروریات کو اپنی ضروریات بتا رہا ہے حالانکہ خدا بے نیاز ہے اُسے کسی چیز کی بھی  ضرورت نہیں ہے اور پوری کائنات کو پالنے ولا وہی ہے ۔ اُس نے یہ خوبصورت کائنات اور اُس کے اندر بہت سی نعمتیں  اپنے بندے کے لئے پیدا کی ہیں تاکہ انسان خدا کی موجودگی کا  احسان کرتے ہوئے  اُس کا شکر بجا لائے۔ کیونکہ یہ خدا  کا حسین قانون ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ہر وقت احسان کرتا  رہتا ہے تو اُس کا بندہ اُسی کا احسان مند رہےاور وہ بھی اسی طرح اُس کے بندوں پراحسان کرتا رہے۔ ارشاد خداوندی ہے۔  وَأَحْسِن  َکَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ ۖ۔ (28.77) ترجمہ:” اور احسان کر جس طرح کہ اللہ نے تجھ پر احسان کیا “

اس آیت سے یہ واضح ہے کہ اللہ کے احسانات کا بدلہ اور عملی تشکر اُس کے بندوں کے ساتھ حسنِ سلوک ،رواداری، ہمدردی،مساوات ، مدد اور تعاون کی صورت میں بجالایا جاسکتا  ہے اور یہی  مذکورہ بالاحدیثِ قدسی میں بھی اسی کی عکاسی ہے۔

آج پاکستان میں وبائی مرض کورونا کی صورت میں پھیل چکا ہے  ۔ایک  اندازے کے مطابق اس وقت ایک ہزار سے زیادہ افراد اس وبا میں وفات پاچکے ہیں جبکہ تیس ہزار سے زائد لوگ ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں ۔ ملک میں مسلسل دو مہینے سے لاک  ڈاوں کی وجہ سے کاروبارِ زندگی متاثر ہوچکی ہے لوگ فاقے کی وجہ سے مدد کے لئے پکار رہے ہیں ۔یہی وہ لمحہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نےآزمائش کی صورت میں اپنے بندوں کے لئے نیکیوں کے دروازے رمضان المبارک کی برکتوں کے طفیل کھول دئیے ہیں ۔ ہے کوئی ایسا نیک بندہ جو اگے آئے اور خدا کے ان بےسہارا بندوں کی خبر گیری کرکے رمضان کی برکات کو ہمیشہ کے لئے سمیٹ لے؟ اس سے دوہرے فائدے حاصل ہونگے ایک رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی برکات کا صلہ ملے گی جبکہ دوسری طرف وبا کے دنوں میں ناتوان لوگوں کی مدد سے خدا کی قربت حاصل کی جاسکتی ہے   کیونکہ آج خدا کے بندوں پر وبا کی صورت میں سخت تکلیف آئی ہے لہذا انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ اس مصیبت کو پوری انسانیت کی تکلیف سمجھی جائے ۔ شیخ سعدی ؒ نے بھائی چارے کی اس رشتے کو کس خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے۔

بنی آدم اعضائے یک دیگرند۔۔۔۔۔۔ کہ در آفرینش ز یک جوہرند

چو عضوی بدرد  آورد  روزگار۔۔۔۔   دیگر عضوہارا  نماند قرار

ترجمہ: “بنی نوعِ انسان ایک دوسرے  کے اعضاء کی مانند ہیں کیونکہ اُن کی پیدائش ایک ہی جوہر سے ہوئی ہے جب کبھی کسی عضو میں درد ہوتا ہے تو دوسرے اعضاء کو بھی سکون نصیب نہیں ہوتا”     

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مقدس کتاب میں حقوق و فرائض کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے جس میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کو بنیاد بنایا گیا ہے گویا اُن کا آغاز فرد کی زات سے ہوتا ہے اور اختتام اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔خدا کے بندوں کے ساتھ خوشگوار رشتہ استوار کرنا اور اُن کے حقوق فرائض  کا خیال رکھنا ہی اللہ تعالیٰ کے حقوق کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔خدا کے بندوں کو ٹھکراکر ، اُن کو دھکے دیکر اپنے دربار سے نکال  کر  اور ان کی ضروریات کو پوری کئے بغیر کوئی بھی انسان خدا کی رضامندی حاصل نہیں کرسکتا ۔دینِ اسلام ہم کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر وقت غریب کی خبر گیری کی جائے اُسی میں دینِ اسلام کی حقیقت کا راز  پوشیدہ ہے جیسا کہ خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہےکہ أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ٘ فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ   ٘ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ  ٘  (107.3 )

ترجمہ: اے رسولﷺ! کیا تو نے اُس شخص کو دیکھا جو روزِ جزا کو جھٹلاتا ہے پس یہی وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھلانے کے لئے ترغیب نہیں دیتا۔

گویا اس آیت میں قیامت کو جھٹلانے کی بات کی گئی ہے گویا قیامت کا تعلق موت کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور پرنور میں حاضری سے ہے۔یہاں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خداوند تعالیٰ اپنے بندوں سے سوالیہ  انداز میں کیوں  پوچھ رہا ہے ؟ کیا وہ انسان واحدانیت کا منکر ہے  یا دینِ اسلام کے احکامات سے روگردانی کر تاہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ خدا کے غریب  بندوں کے ساتھ تعلق نہ ہونا  قیامت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔  اگر اس نظریے پر یقین ہے تو نیکی کا حصول اصل میں خدا کے بندوں  یعنی یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور اُن کی ضروریات کو پوری کرنے کی صورت میں  ہی ممکن ہے۔قرآن پاک سے اشنا انسان اس فلسفے کو بخوبی جان سکتا ہے کہ حقوق العباد کے فرائض انجام دینے کی صورت میں حقوق اللہ کا تصّور پائہ  تکمیل کو پہنجتا ہے ورنہ یتیم اور مساکین کی ضروریات سے نابلد انسان خدا کی معرفت حاصل کرنے سے قاصر رہے گا اور وہ قیامت کو جھٹلانے کے برابر ہے۔ درحقیقت انسان کی پیدائش کا مقصد بھی دوسرے انسانوں کے ساتھ تعاون، ہمدردی اور غریبوں کی مدد سے پورا ہوسکتا ہے علامہ محمد اقبالؒ نے  کیا خوب کہا ہے

کیا وہ انسان ہے جو انسان کا غمخوار نہ ہو

بھائی پر آئی مصیبت تو مددگار نہ ہو

مصیبت اور تکلیف کے وقت دوسروں کا سہارا بننا خدا کی رضا کا حصول ہے جس انسان کے دل میں دوسروں کے لئے محبت کا جذبہ نہ ہو، مصیبت میں غمخواری نہ ہوتو  وہ صحیح انسان کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔صحیح انسان وہ ہے جو محتاجوں کی ضرورت پوری کرے،بھوکے کو کھانا کھلائے، ننگے کو کپڑا پہنائے،بیمار کی تیمارداری کرے اور یتیموں اور مساکین کے سر پہ ہاتھ رکھے۔ان تمام حقوق و فرائض کی انجام دہی سے ہی عید الفطر کی خوشیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔

 خلاصہ ء کلام یہ ہے کہ یہ دن ہمیں دعوت فکر دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو خدا کی مشیت کے مطابق گزاریں۔خدا کے بندوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں ،ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کریں اور احترامِ انسانیت کے فلسفے کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے سے مدد اور تعاون کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں ۔آئیے سب مل کر خدا کی رحمت سے امید رکھیں  اور اپنے آنے  والے کل کے لئے ہمت اور صبرو تحمل سے مسائل کا مقابلہ کرتے ہوئے  اگے بڑھنے کی جستجو رکھیں اسی میں ہم سب کی کامیابی ہے۔علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا ہے کہ

تندی ِبادِ مخالف سے نہ گھبرا   اے عقاب!۔۔۔ یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا  اُڑانے کے لئے۔


شیئر کریں: