Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کروناوائرس کاخدشہ، دفاتر میں لوگوں‌کی داخلے پرپابندی عائد، ریسٹورنٹس 5اپریل تک بندرہینگے

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) کورونا وائرس کے پھیلاوٗ کو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت 18مارچ 2020کو ہونے ولے اجلاس جس میں صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری اور متعلقہ سیکرٹریوں نے شرکت کی،کے فیصلوں کی تعمیل کی روشنی میں محکمہ ریلیف، بحالی اور آباد کاری حکومت خیبر پختونخوا نے سختی سے عمل درآمد کیلئے مندرجہ ذیل فیصلوں کا اعلامیہ جاری کیا ہے،

احتیاطی اقدامات کے طور پر لوگوں کے تحفظ اور فاصلہ رکھنے کیلئے تمام سیکرٹریٹ، ڈائریکٹوریٹس، ضلعی دفاتر (ماسوائے ضلعی انتظامیہ کے دفاتر) میں تما م لوگوں کے داخلے پر فوری طور پر پاپندی عا ئد کر دی گئی ہے،گھروں کے اندر احاطے اور صحن وغیرہ میں پرائیویٹ تقریبات پر پاپندی ہو گی۔کریانہ، میڈیسن اور ضروری اشیاء کی دکانیں چوبیس گھنٹے ھفتے کے ساتوں دنوں میں کھلی رہیں گی جبکہ دیگر تمام دکانیں صبح دس بجے سے شام سات بجے تک کھلی رہیں گی۔ تاہم عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ان اوقات کے دوران بازاروں میں رش اور ہجوم بنانے سے پرہیز کریں، صوبے کے بالائی حصوں میں دریا کنارے یا دیگر مقامات سمیت تمام سیاحتی مقامات خالی کرائے جائیں گے۔مزید برآں محکمہ اطلاعات میڈیا کے ذریعے سیاحتی مقامات پر آنے کے خواہشمند سیاحوں کو پیشگی آگاہ کریگاجبکہ سماجی فاصلوں میں اضافے کیلئے سکول اور کالجز بند کر دئیے گئے ہیں۔ جو کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے اس کو کم از کم کرنے کہ وہ وقتی طور پر سیاحتی مقامات آنے سے گریز کریں اور اس کی روک تھام کیلئے سب سے بہتر طریقہ ہے۔ تمام دفاتر کے اوقات کار کو تبدیل کیا گیاہے۔ پیر سے جمعرات تک ضروری دفاترصبح دس بجے سے چار بجے تک کھلے رہیں گے۔ جبکہ جمعہ کے روز یہ دفاتر بارہ بجے تک بند کر دئیے جائیں گے۔ سیکرٹریز مذکورہ اوقات کے بعد ضروری عملے کی آن کال دستیابی کو یقینی بنائیں گے،پانچ سے زائد افراد کے تمام سرکاری اجلاسوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ اجلاس ترجیحی طور پر ویڈیو کال، سپیکر فون یا دیگر الیکٹرانک طریقوں کے ذریعے منعقد کئے جائیں گے،مشیر صاحبان، معاونین خصوصی، تمام وزراء کے دفاتر ما سوائے وزیر صحت اور مشیر اطلاعات کے تمام وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی کے دفاتر بند رہیں گے،تمام ریسٹورنٹس، فاسٹ فوڈ اور کھانے پینے کی دیگر دکانیں وغیرہ 5اپریل تک بند رہیں گی۔ جبکہ گھر پہنچانے اور لے جانے کی اجازت ہو گی،حجاموں اور بیوٹی پارلر کی دکانیں بھی اگلے پندرہ دنوں تک بند رہیں گی۔ تمام بینکوں کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ اے ٹی ایم مشینوں پر سینسیٹائزرز کی دستیابی اور تنصیب کو لازمی طور پر یقینی بنائیں۔اس امر کا اعلان ریلیف بحالی اور سیٹلمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے ایک اعلامیے میں کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.
محکمہ صحت کی جانب سے ہیلتھ ایمر جنسی کے اعلان کی پیروی کرتے ہوئے صوبائی ڈیزیز سرویلنس سنٹر تشکیل دیا گیا
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )خیبر پختونخوا پبلک ہیلتھ(سرویلنس اینڈ رسپانس) ایکٹ 2017کی شق 7کے تحت او ر محکمہ صحت کی جانب سے ہیلتھ ایمر جنسی کے اعلان کی پیروی کرتے ہوئے صوبائی ڈیزیز سرویلنس سنٹر تشکیل دیا گیا ہے۔ جس کے سربراہ ڈائریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ہوں گے۔ جبکہ اس کے ممبران میں ڈائریکٹر ڈی ایچ آئی ایس، ڈی جی ایچ ایس، ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے نمائندے، صوبائی این ایس ٹی او پی آفیسر، ٹیکنیکل معاون آفیسر ایف ای ایل ٹی پی پاکستان، کوآرڈینیٹرمربوط ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس سسٹم،محکمہ داخلہ کے نمائندے، محکمہ اطلاعات کے نمائندے، محکمہ تعلیم کے نمائندے، پی ڈی ایم اے کے نمائندے،11Corps/Frontier Corpsکے نمائندے، ہیلتھ ایڈوائزر پبلک ہیلتھ انگلینڈ،نیشنل پروفیشنل آفیسر سرویلنس، ڈبلیو ایچ او، صوبائی آئی ایچ آر فوکل پرسن لائیو سٹاک، اوردیگر کو آپٹیڈممبرشا مل ہوں گے۔صوبائی نگران مرکز برائے امراض (ڈیزیز سرویلنس سنٹر) کے فرائض، خیبر پختونخوا ہیلتھ (سرویلنس اینڈ رسپانس) ایکٹ 2017کی شق آٹھ کے تحت اور کرونا وائرس کے مرض (COVID-19)کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر درج ذیل ہوں گے۔ کرونا وائرس کے پھیلنے سے نمٹنے اور اس کی روک تھام کے سلسلے میں صوبائی سطح پر معاونت، تیاری اور ازالے کی کارروائی (رسپانس) کیلئے اقدامات کرنے کیلئے صوبائی سطح پر ایک مرکزی کوآرڈینیٹنگ آفس کے طور پر کام کرنا،صوبے میں کرونا وائرس (COVID-19) کی ہنگامی صورتحال سے متعلق تازہ ترین ہدایات (Advisories) اور پروٹوکول کے اجراء کرنا،صوبائی انفارمیشن حب کے طور پر کرونا وائرس (COVID-19)سے متعلق درست معلومات کے انتظامات کرنا اور ضرورت کے مطابق انہیں آگے متعلقہ حکام اور اداروں کو بھیجنا،تمام متعلقہ معلومات سے متعلق پبلک ہیلتھ کمیٹی اور ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کو آگاہ کرنا اور جہاں بھی ضرورت ہو مزید اقدامات اور فاصلے قائم کرنے سے متعلق اطلاعات فراہم کرنا،محکمہ صحت اور دیگر سٹیک ہولڈر کو اس صورتحال سے متعلق با قاعدگی سے بریفنگ دینا اور کوآرڈینیشن کرنا،کرونا وائرس (COVID-19)کے خلاف اقدامات کے موٗثر ہونے اور مختلف پہلووٗں کا تجزیہ کرنے کیلئے نگرانی اور ایولوایشن سسٹم کا قیام کرنا،کرونا وائر س (COVID-19)پھیلنے سے روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر اور فوری انتظامات کرنے اور صورتحال کی انتظام کاری میں صوبائی اور ڈسٹرکٹ ریپڈ رسپانس ٹیموں کی معاونت کرنااور متعلقہ محکموں، ڈسٹرکٹ ڈیزیز سرویلنس سنٹر(DDSC) اور ریپڈ رسپانس ٹیموں کو اس سلسلے میں معلومات فراہم کرنا اور اقدامات کی سفارشات بھیجنا مذکورہ سنٹر کے فرائض میں شامل ہے،اس امر کو یقین بنانا کہ ڈی ڈی ایس سی اور ریپڈ رسپانس ٹیمیں لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کیلئے مطلوبہ اشیاء (آلات و سامان) کی موصولی کو یقینی بنانا،میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے عوام اور دیگرسٹیک ہولڈرز کو درست معلومات کے انتظامات، رابطہ کاری اور معاونت کرنا،اس امر کو یقینی بنانا کہ ہسپتال، کرونا وائرس (COVID-19کے مریضوں کی تشخیص اور علاج معالجے کیلئے تیار اور تمام ضروری آلات سے آراستہ ہوں،انفیکشن سے بچاوٗ اور روک تھام کے اقدامات اور کوڑا ٹھکانے لگانے اور احتیاطی اقدامات کرنااور ان پر عمل درآمد یقینی بنانا،پیشگی اقدامات اور ذاتی تحفظ کے آلات اور سامان کی فراہمی،سرویلنس اینڈ رسپانس ٹیموں اور ان کے اہلکاروں کی استعداد کار میں اضافے کیلئے انتظامات کرنا شامل ہیں۔ اس امر کا اعلان محکمہ صحت حکومت خیبر پختونخوا کے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیاگیا۔


شیئر کریں: