Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کورونو وائرس اور عالمی عدم استحکام …….محمد آمین

Posted on
شیئر کریں:

علمی وباو کورونو وائرس (novel coronoviurs 2) نے دینا کو انتہائی پریشانی اور گہری آزمائیش میں ڈال رکھا ہے۔اور آقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی وباو (pandemic) کا نام دیا ہے جو ابھی تک دینا کے لگ بھگ 162 ممالک تک پیھلاہوا ہے جس سے ابھی تک 8500سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں اور دو لاکھ 90 ہزار سے ذائد لوگ متاثر (infect) ہوچکے ہیں اور دینا کے کئی اہم ممالک میں ایمرجنسی نافذ ہو چکی ہے تاکہ اسے کم سے کم لوگ متاثر ہو سکیں۔
.
حیرات کی بات یہ ہے کہ ابھی اتک اس جان لیوا بیماری کا صحیح تشضیص بھی نہیں ہو سکی ہے اور باوثق زرائع کے مطابق تین سے چھ مہینے تک اس کے لئے کوئی ویکسن بھی دریافت نہیں ہو سکتی ہے ایک امریکی کمپنی نے کچھ والنٹرز پر اس مہلک بیماری کے خلاف ویکسن کا تجربہ شروع کیے ہیں اور ماہرین کے مطابق اگر یہ ویکسن کامیاب ہو تو مارکیٹ انے میں بارہ مہینے لگے گا ور جرمنی بھی ویکسن کی تیاری کے قریب ہیں۔مزے کی نات یہ بھی ہے کہ بہت سے طب کی دینا سے تعلق رکھنے والے ماہریں اس جراثم کے بارے میں مختلف قیاس ارائیان پیش کرتے ہیں تاہم اکثریت کی متفقہ رائے کے مطابق کوورونو وائرس ایک مضر لگنے والی جراثم ہے جو نہایت تیزی سے منتقل ہوسکتی ہے۔
.
اس بیماری کا پہلا واقعہ چین کے علاقے ووہان (Wuhan)میں دسمبر 2019 کے اخری دنوں میں واقع ہوا اور تحقیق کے مطابق یہ موشیوں کے مارکیٹ سے پھیلا اور بھی کہا جارہا ہے کہ یہ سانپ اور چمگاڈر کے کے جنز کے ملاپ سے واقع ہوتا ہے اور پھر یہ جانواروں سے انسانوں میں منتقل ہو ا۔اس جراثم سے پیدا ہونے والے بیماری کو SARS-2 ٰٰؑیعنی (severe acute respiratory syndrome) یا مختصرا COVID-2کا نام دیا یا گیا ہے اور اسے لگنے والی بیماری کو (COVID-19) کہتے ہیں کیونکہ یہ ایک سخت قسم کی نمونیا کے طرح بیماری ہوتی ہے۔اسے پہلے بھی (Middle Eastern SARs) جو کہ اونٹوں سے پھیلا تھا اور دوسری قسم کی (SARS)جو ایک قسم کی بلی سے پھیلی تھی دونوں بیماریوں نے دینا کے پریشانی کا موجب بنے تھے لیکن یہ دونوں قسم کے وائرس اتنے مہلک ثابت نہیں ہوئے۔
کورووائرس سانس کے نالیون کے زریئے انسان کے اندر داخل ہوتی ہے اور اس وائرس کی اینکیوبشن کا دورانیہ 2سے14دن ہیں پھر یہ پھپڑوں میں داخل ہوتی ہے
.
اس بیماری کے علامات میں کھانسی، بخار،سانس لینے میں دقت،پھٹوں میں درد اور تھکاوٹ شامل ہیں۔یہ بیماری زیادہ ان لوگوں کو لگنے کے خدشات ہیں جو کہ بوڑھے،بچے،
ہیں اور جن کے قدرتی مدافتی نظام کمزور ہیں یا وہ لوگ جو ہائی بلڈپریشر،دل،زیابیطس،جگر اور پھپڑون کے مریض ہیں۔
کورونا وائرس نے دینا کو مکمل طور پر لاک ڈاوں (lock down) کرنے والی ہے اور کئی ممالک اس مرحلے سے گزر رہے ہیں جو کہ اب چین سے نکل کر دینا کے تمام برآعظموں میں پھیل چکی ہے ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیش نے یورپ کو اس وبا کا مرکز (epicentre) قرار دیا ہے کیونکہ سب سے زیادہ ابادی یورب میں متاثر ہوتے ہیں اور اٹلی سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے اور ہر دن بڑے پیمانے پر نئے کیسز دریافت ہو تے ہیں۔ایشیا میں ایران اور جنوبی کوریا کورونا سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
.
کورونو وایئرس سے دینا کی معاشیت بہت بری طرح متا ثر ہوچکی ہے حالیہ دنوں امریکہ،یورپ اور ایشیاء کے اسٹاک مارکیٹ کریش کرچکے ہیں دنیامیں سیاحت کے صنعت بھی بری طرح متاثر ہو چکی ہے اس کے علاوہ دینا کے ممالک کے درمیاں ہوائی رابطے بھی تقریبا منقطع ہوئے ہیں اور حال ہی میں امریکہ نے یورپ کے ممالک کے ساتھ ہوائی رابطہ منسوخ کردیا ہے جس سے اس انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصاں پہنچے گا دینا کے بہت سے ممالک اپنے بارڈرز بھی بند کئے ہیں کورونو وائرس نے دینا کے لوگوں کے درمیاں میل جول کو بھی تقریبا ختم کردیا کیونکہ ہر کوئی اپنی ذندگی کے بارے میں فکر مند ہے جس سے اقوام کے مابین باہمی تجارات بھی تعطل کا شکار ہیں۔کھیل جو انٹرٹنمنٹ کا ایک اہم زریعہ ہے یہ بھی اس بھیانک بیماری سے محفوظ نہ رہا اور دینا کے تمام ایونٹ مثلا انگلش پریمیر لیگ،فارمولا ون میراتھوں اور انڈیں پریمیر لیگ وغیرہ منسوخ ہوچکے ہیں دوسری طرح اسٹیڈیم تماشایوں سے بالکل خالی پڑے ہیں جیسا کہ پاکستان میں پی ایس ایل کے میچز ہیں۔ اس جراثم کے بناء خلائی مشن بھی منسوخ ہوئے ہیں اور روس اور یوروپین یونین کے مشترکہ خلائی مشن کا تاریخ معطل کی گئی۔مختصر کورونو وائرس نے سارے دینا کو ایک تعطل اور عدم استحکام میں تبدیل کر دیا ہے اور دینا کے تمام لیڈرز ملکی اور غیر ملکی معاملات کو ایک طرف رکھ کر اپنے شہریوں کو اس جان لیوا بیماری سے بچانے میں مصروف عمل ہیں کیونکہ دور عصر میں انسانیت کو اس سے کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہوا ہے۔
.
چونکہ پاکستان میں بھی کورونو وائرس کے مریض فروری سے تشخیص ہو ئے ہیں اور ابھی تک ایسے مریضوں کی تعداد 58 وفاقی حکومت کے ترجمان کے مطابق 96تک پہنچ گئی ہے جن میں اکثریت صوبے سندہ سے ہیں اور سب سے زیادہ متاثرہ ضلع سکھر ہے سندہ حکومت کے مطابق اس وقت پاکستان میں مریض 245 دریافت ہوچکے ہیں اور تین لوگ اس بیماری سے مچونکہ کورونو وایئرس ایک عالمی وباء بن چکی ہے اور زیادہ متاثر ریاستیں پاکستان کے ہمسایے چین اور ایران ہیں اور ان خطرات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے حال ہی میں نیشنل سکیوریٹی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کیا گیا جن میں تمام اسکولوں کی غیر معین مدت چھٹی اور پاک افغان اور ایران بارڈرز کی بندش اور احتیاطی پرو ٹوکولز شامل ہیں۔لیکن شکر کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں دوسرے ملکوں کے بنسبت اموات واقع نہیں ہوئے ہیں اور ریاستی ادارے اس مہلک مرض سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں ا اور وزیر اعظم خود اس تمام معاملے کی نگرانی کررہاہے وائرس کی روک تھام کے لئے سارک سطح پر ایک رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے پاکستان میں مختلف شہروں میں چودہ لیب میں اس وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت موجود ہیں دوسرے طریقہ کار میں ماسک کی استعمال،کھانسی یا چھینکی کی صورت میں رومال یا ٹشو پیپرز کا استعمال،کھانسی،بخار اور سانس لینے میں دشواری کی حالت میں نمبر 1166 رابطہ کریں، اجتمات اور رش سے پرہیز شامل ہیں نئے ضوابط کے مطابق غیر ضروری حالت میں زیادہ لوگوں کا ایکدوسرے کے ساتھ ملنا اور ھاتھ ملانا بھی منع ہے اس کے علاوہ حکومت نے مختلف ہسپتالوں اور دوسرے جہگوں پر قرنطینہ کے مراکز بھی بنائے ہیں جہاں اس بیماری میں مبتلا مریضوں کی علاج ہو سکیں یہ تما مسہولتیں اس وقت مفید ثابت ہونگے جب شہری ان پر صحیح معنوں میں عمل کریں۔یہ وہ تمام احتیاطی تدابیر ہیں جن پر عمل کرکے چین نے اس بیماری میں بہت کمی لائی ہے۔
.
عالمی ادارہ صحت W.H.O) (نے کورونو وائرس سے نمٹنے کے لئے مندجہ زیل طریقہ کار (protocols)بتائے ہیں جن پر عمل کر کے اس وائرس سے چھٹکارہ حاصل کی جاسکتی ہے جو کہ زیل ہیں
اس بیماری کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے جبکہ احتیاطی تدابیر اور قرنطینہ (quarantine) بہتریں علاج ہیں۔اور ٹیسٹ سب سے بہتریں طریقہ کار ہے۔
بیمار لوگوں سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے گریز کریں۔عام حالت میں مال مویشوں کے مارکیٹ جانے سے بھی گریز کریں۔خوراک اور ہائجین (hygiene)اصولوں کا خاص خیال رکھیں ہاتھوں کو کم از کم دن میں تین دفعہ بیس سکینڈ تک دھویں جبکہ ماسک اور ٹشو پیپر کا استعمال کریں۔
عالمی ادارہ یونیسف (UICEF)کے مطابق کورونو وائرس سائز میں بڑا ہے جسکا سیل ڈائیامیٹر 400-500مائیکرو ہے اس وجہ سے کوئی بھی ماسک اسانی سے اسے روک نہیں سکتاہے۔
جب یہ وائرس دھاتی چیزوں پر پڑتا ہے تو بارہ گھنٹے تک زندہ رہتا ہے اس لئے صابن سے ہاتھ دھولیں یا پانی بھی اس کے لیے کافی ہے۔
جب یہ وائرس کپڑے پے گرتا ہے تو تقریبا نو گھنٹے تک زندہ رہتا ہے اس لیے کپڑوں کو دھولیں یہ سورج کی روشنی میں دو گھنٹے تک رکھیں تاکہ اسکے جراثم مر سکیں۔
.
جب کورونو وائرس ہاتھوں پر پڑتا ہے تو دس منٹ تک وائرس رہتا ہے لہذا ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھویں یا اسپرٹ (الکوحل سنیرلائزر) جیب میں رکھیں تاکہ اس کی روک تھام ہو سکی
کورونووائرس جب 27سے 26 ڈگری تک لایا جائے تو یہ،رجاتا ہے کیونکہ گرم علاقوں میں یہ جراثم مر جاتاہے۔مذید ائس کریم اور ٹھنڈی چیزیں کھانے سے پرہیز کریں .
.
گرم اور نمکین پانی سے غراریکرنے سے ٹانسلز کے جراثم مر جاتے ہیں اور یہ جراثم کو پھیپڑوں میں جانے سے روکتی ہے اس کے علاوہ لیموں کے ٹکڑوں کو نیم گرم پانی میں ملا کے استعمال کرنے سے بھی یہ جراثم روک سکتی ہے۔
اس وائرس کو شکست دینے کے لئے ضروری ہے کہ سوشل فاصلہ (Social distance) رکھیں اپنے ہاتھوں کو دن میں کم از کم تین دفعہ دھولیں جن کا دورانی بیس سکینڈ ہونا چاہئے۔علامات کی صورت میں 1166 پر رابطہ کریں،جو لوگ ان علاقوں سے ائے ہوئے ہیں جہان اس وائرس موجود ہیں یا علامات کے خدشات ہیں تو ان سے دور رہیں۔صرف کھانسی اور زکام کی صورت میں ٹیسٹ کرنے سے گریز کریں۔سوشل میڈیا میں خوف (panic) پھییلانے کی کوشش نہ کریں۔اس کی شکست اس وقت ممکن ہوسکتی ہے جب لوگ اور ریاستی ایک پیج پر ہو جب تک عوام مکمل تعاوں نہ کریں کا میابی حاصل نہیں ہو سکتی ہے۔


شیئر کریں: