Chitral Times

Apr 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال اور بنوں میں دارالامان اورپشاورمیں زمونگ کور کی طرز پرادارہ قائم کیا جائیگا..ادریس

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) محکمہ سماجی بہبود خیبرپختونخوا کی جانب سے وومن ایمپاورمنٹ پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے پشاور میں مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسانی رخشندہ ناز، ممبران صوبائی اسمبلی عائشہ بانو، ساجدہ حنیف، زینت بی بی اور مختلف محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ورکشاپ سے خطاب میں صوبائی محتسب رخشندہ ناز کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے بنائی گئی اس پالیسی سے خواتین کو معاشرے میں اپنا جائز مقام حاصل ہوگا، اور ائین میں ان کے لئے دئے گئے حقوق کی پاسداری ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اداروں میں خواتین کی شراکت داری یقینی بنانے سے ادارے اور بھی مضبوط ہونگے۔ رخشندہ ناز کا کہنا تھا کہ ورکشاپ کا مقصد پالیسی میں موجود خامیوں کو ختم کرنا اور اسے مزید بہتر بنانا ہے تاکہ کام کی جگہوں پر خواتین کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکے۔
.
ورکشاپ کے شرکاء پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی جس میں کہا گیا کہ پالیسی کے نفاذ سے خواتین کے حقوق کے حوالے سے اگاہی مہم ترتیب دئے جائینگے، اور تعلیمی اداروں میں اس حوالے سے مضامین شامل کئے جائینگے۔ اسی طرح خواتین کو تفریح، کھیل کود اور سفری سہولت کی فراہمی کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھائیں جائیں گے، شرکاء کواگاہ کیا گیا کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی، پالیسیز اور دیگر اقدامات سے عوامی اگاہی کے لئے بھی اقدامات اٹھائیں جائینگے، جبکہ سیاسی جماعتوں کو کم از کم پانچ فیصد سیٹس پرخواتین کو نمائیندگی دینے کا پابند کیا جائیگا۔ سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود محمد ادریس کا کہنا تھا کہ پالیسی کا مقصد خواتین کو معاشی، معاشرتی، سیاسی اور قانونی طور پر بااختیار بنانا ہے۔ پالیسی کے تحت چترال اور بنوں میں نئے دارالامان اور پشاور میں زمونگ کور کی طرز پر لڑکیوں کے لئے الگ ادارہ قائم کیا جائیگا، جس کا پی سی ون مکمل ہوچکا ہے۔ اسی طرح کام کرنے والی خواتین کے لئے ہاسٹلز کا قیام،انڈسٹریل ٹرینگ سنٹر سمیت مردان اور ایبٹ آباد میں خواتین کے لئے الگ سفری سہولیات دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں خواتین کی سہولیت کے لئے وومن فیسیلٹیشن سنٹر کے قیام کے لئے بھی پی سی ون منظور ہوچکا ہے۔ جنڈر سپیشلسٹ محکمہ سماجی بہبود سیدہ ندرت کا کہنا تھا کہ مشاورتی ورکشاپ میں خواتین کو با اختیار بنانے کی پالیسی پر عملدرامد کے حوالے سے ایک باقاعدہ لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔ پالیسی کے تحت متعلقہ سرکاری اداروں سے جینڈر فوکل پرسنز کا انتخاب مکمل کیا جاچکا ہے، جبکہ اب مرحلہ وار نفاذ کے حوالے سے ٹائم لائن پر کام جاری ہے۔
KP Population workshop scaled


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
32173