Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ تعلیم کے پانچ سالہ پلان کیلئے ذمہ داریاں سونپ دی گئیں،ماہانہ رپورٹ طلب

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )مشیرتعلیم خیبر پختونخواہ ضیاء اللہ خان بنگش کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کے پانچ سالہ پلان کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف صوبوں کے بہترین نئے منصوبوں کے اجراء جاری منصوبوں پر کام کی رفتار اور مختلف کاموں کے لیے مقررہ معیاد کا تعین اور ذمہ دار افسران کا انتخاب کیا گیا۔جائزہ اجلاس میں سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے افسران بشمول صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے خصوصی شرکت کی اس موقع پر ضیاء اللہ خان بنگش نے کہا کہ تمام افسران کو پانچ سالہ پلان کے تحت مقرر کردہ اہداف کے حصول کے لئے ذمہ داریاں سونپ دی گئیں ہیں اور وہ ماہانہ کی بنیاد پر رپورٹ جمع کریں گے جبکہ میں خود محکمانہ کارکردگی سے ہر چھ ماہ بعد وزیراعظم کو آگاہ کروں گا اور ہر 3 ماہ بعد پراگریس رپورٹ وزیر اعلیٰ کو دونگا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خالی 5000 پوسٹوں پر بہت جلد تعیناتی کی جائیں گی جب کہ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے پرائمری سطح پر مزید آسامیاں بھی تخلیق کی جائے گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ مختلف ضلعوں کا انتخاب کرکے ماڈرن پرائمری سکول بنائے جائیں گے اور ہماری کوشش ہوگی کہ ہم کچی کی تعلیم پر خصوصی توجہ دے کر 10 ہزار ماڈل پرائمری سکول بنائے۔ضیاء اللہ خان بنگش نے ہدایت کی کہ ماہانہ بنیادوں پر اہداف کے حصول کے لئے ٹاسک ٹیک کے اجلاس ہر مہینے منعقد ہوگا۔وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے محکمہ تعلیم کے جاری منصوبوں اور نئے کاموں بشمول ہر قسم کے منصوبوں کے لیے محکمہ خزانہ کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ گریٹ دوم اور چہارم کے لیے سیمپل بیسٹ اسسٹمنٹ جبکہ گریٹ پنجم کے لئے سکول بیسٹ یونیورسل اسسٹمنٹ ہوگی اور نئے بھرتی شدہ اساتذہ کی ٹریننگ شروع کرنے کا فیصلہ بھی ہوا جن کو ٹیبلٹس پر تربیت دی جائے گی اور اس کام کے لئے ڈائریکٹریٹ اور ای ایم ای ایس کو زمہ داری حوالہ کی گئی ضیاء اللہ خان بنگش نے کہا کہ پرائمری سکولوں کی بہتری کے لیے 21 ہزارپرائمری سکولوں میں سے 10000 پرائمری سکول ماڈل سکول ہونگے جو کہ پانچ سالہ پلان کے تحت مکمل ہوگئے۔ انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ماڈرن پرائمری سکولز میں سے دو سو سکولوں کا انتخاب آج سے شروع کر دیا جائے اور ایک ہفتے کے اندر اندر رپورٹ دی جائے ضیاء اللہ خان بنگش نے کہا کہ پانچ سالہ پلان کے تحت پانچ لاکھ اور بچوں کو سیکنڈری سکولوں میں بھی داخلہ دیا جائے گا اور آئندہ پرائمری سکولوں کے حساب سے سیکنڈری سکول منظور کیے جائیں گے اور نئے سکولوں کے لئے پرائمری اور سیکنڈری کے درمیان تناسب برقرار رکھا جائے گا تاکہ پرائمری سکولوں سے فارغ التحصیل طلبا کو نزدیک کے علاقوں میں آگے تعلیم کے مواقع مل سکیں۔مشیر تعلیم نے سکولوں کا حساب رکھنے اور نئے سکولوں کی منظوری کیلئے متعلقہ افسران کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی کہ انہیں ہر سکول کی منظوری کے ساتھ ساتھ نئے داخلے والے طلبہ کی لسٹ بھی ضرور فراہم کرنا ہوں گی ۔اجلاس میں مشیر تعلیم نے یہ بھی ہدایت جاری کی کہ اپریل کے مہینے اور نئے تعلیمی سال سے ضلعوں کا انتخاب کرکے سیکنڈ شفٹ بھی شروع کر دیا جائے۔اجلاس میں محکمہ ایلمینٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے عملے کی کمی پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ضیاء اللہ خان بنگش نے کہا کہ نئے ضم شدہ اضلاع تک انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کو وسعت دی گئی ہے جب کہ اساتذہ کی آن لائن ٹریننگ پی سی بی بی بہت جلد شروع کر دی جائے گی انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی بہتری کے لیے عملی اقدامات کویقینی بنایا جاسکے اور صوبے کے تمام اضلاع کو تعلیم کی یکساں سہولیات میسر ہوں۔


شیئر کریں: