Chitral Times

Oct 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال شہر میں خوفناک آتشزدگی، دو ووکیشنل سنٹرز اوررہائشی مکانات جل کرخاکستر، لاکھوں‌کا نقصان

شیئر کریں:

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز)چترال شہر کے وسط میں پولو گراونڈ کے ساتھ ملحق ایک رہایشی کمرے میں آگ لگنے سے ملحق کمپیوٹر سنٹر اور ووکیشنل سنٹر کی مجموعی طور پر دس کمرے جل کر خاکستر ہو گئے ۔ جس سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ گذشتہ رات تقریبا گیارہ بجے سابق سیکرٹری موسی خان کے کرائے کے مکانات جس میں الفا کریم کمپیوٹر سنٹر , کاروان ووکیشنل سنٹر اور ریشن سے تعلق رکھنے والے میڈیکل ریپ جاوید کا رہائشی کمرہ تھا میں‌آگ لگی ،

عینی شاہدین کے مطابق گذشتہ رات میڈیکل ریپ کے رہائشی کمرے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری بلڈنگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ جس کے نتیجے میں الفا کریم کمپیوٹر سنٹر کے پانچ کمرے, فرنیچر,پینتیس کمپیوٹر , سکینر , جنریٹر اورکاروان ووکیشنل سنٹر کے چھ لیپ ٹاپس،کمپویٹرز،مشینیں، تمام فرنیچر، تیارملبوسات اور دیگر سامان جل کر خاکستر ہوگئے ۔ جس سے ادارے کو لاکھوں‌روپے کا نقصان ہوگیا ہے. آگ لگنے کی وجہ بجلی کی شارٹ سرکٹ بتائی گئی ، تاہم مقامی پولیس واقعے کی مذید تفتیش کررہی ہے.

عینی شاہدین کے مطابق کمپیوٹرسینٹر میں‌موجود گیس سیلنڈر پھٹنے سے آگ مذید تیز ہوگئی . اور آگ اتنی تیزی سے بھڑک اٹھی کہ کسی بھی چیز کو نہیں بچایا جا سکا ۔ کمیپیوٹر سنٹر کے استاد عبدالمنیم نے میڈیا کو بتایا ۔کہ آگ بھڑک اٹھنےکے بعد فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی گئی ۔ جو بروقت ضرور پہنچا ۔ لیکن عملے کی ناتجربہ کاری اور فائر بریگیڈ کے ساتھ پائپ نہ ہونے کے سبب بروقت آگ بجھانے کا کام نہیں کیا جاسکا ۔ اور جب بعد میں پائپ استعمال کرکے فائر فائٹر نے کام شروع کیا ۔ تو ان کی طرف سے بھڑکتے شعلوں پر پانی ڈالنے سے آگ کا رخ بلڈنگ کے اس حصے کی طرف ہوا ۔ جو پہلے آگ سے بچ گیا تھا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ریسکیو کے اہلکار اگر ایک کھلی جگہ میں آگ نہیں بجھا سکتے ۔ تو گنجان علاقوں میں ان سے بہتر کارکردگی کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا,کہ مالک مکان اور کرایہ داروں کے سامان سمیت لاکھوں کا نقصان ہو اہے ۔ اور ان کا چلتا ادارہ برباد ہو گیا ہے ۔ جسے دوبارہ بحال کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے انہوں نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ۔ کہ ان کو دوبارہ اپنے پاؤں کھڑا کرنے کیلئے ان کی مدد کی جائے.

کاروان ووکیشنل سنٹر کے اونرفریدہ سلطانہ فری نے چترال ٹائمز ڈاٹ کام کوبتایا کہ ان کے سنٹر میں‌خواتین کو کمپیوٹر، دستکاری، ایمبرائیڈری ، کوکنگ و دیگر کورسز کاروائے جاتے تھے اور اب تک سینکڑوں‌بچیاں‌ان کے سنٹر سے تربیت حاصل کرکے برسرروزگار ہوگئے تھے.اور ساتھ سینٹر میں‌ ایمبرائیڈری کئے ہوئے ملبوسات، سوئیٹر، کپڑے ودیگر سامان کی اسٹاک، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، مشینیں ودیگرسامان موجودتھیں. انھوں نے بتایا کہ ان کی کئی برسوں‌کی جمع پونجی آگ میں‌جل کر خاکستر ہوگئے جس سے ان کو کم از کم پینتیس لاکھ روپے کا نقصان ہوگیا ہے.

دریں اثنا چترال کے مختلف مکاتب فکر نے ان سنٹرز کی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ ، صوبائی حکومت اور غیر سرکاری اداروں‌سے متاثرین کی دوبارہ بحالی میں مدد کی اپیل کی ہے .


شیئر کریں: