Chitral Times

17th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • تجھ سا تو نہیں ہوں…. ( خصوصی افراد حکمرانوں کی توجہ کے منتظر ) …میر سیما آمان چترال 

    October 31, 2017 at 8:49 pm

    چترال ٹاؤن کے علاقے گو لدور کے ر ہائشی (شکہور) سے تقریبا سبھی واقف ہیں. ا سکا تعلق اس قبیلے سے ہے جسے کھوار میں (غو ٹ) اور اردو میں خصو صی ا فراد کہا جا تا ہے.عا م طور پر خصو صی ا فراد اُن لو گوں کو کہا جا تا ہے جو یا تو ذہنی معذور ہو تے ہیں یا جسما نی..لیکن میں ذاتی طور پر شکہور کو اس کیٹگری میں ر کھنے کے حق میں نہیں بحیثیت انسان شُکہور میں وہ تمام اوصاف بدر جہ اتم مو جود ہیں جو کسی تندرُست دما غ کے ادمی میں ہو نی چا ہیے..ا خلا قی طور پر شکہور کو د یکھا جا ئے تو علا قے میں کسی بھی گھر میں خو شی کا مو قع ہو یا غم کا شکہور کی مو جو دگی لا ز می ہو تی ہے .خو شیو ں پر مبار کباد دینے ،غم پر تعز یت کر نے اور بیمار کی عیادت کر نیو الوں میں بلا شبہ شکہور کی شرکت پہلے نمبر پے ہوتی ہے،،شُکہور کے اندر یہ خدا داد صلا حیت بھی مو جو د ہے کہ وہ روئے ہووں کو بھی ہنسانے کا فن خوب جا نتا ہے.. اردو ا خباروں کو ا نگلش میں پڑھنے کا مخصو ص انداذ ،سیا سی شخصیات سے تصّوراتی ملاقاتوں کے ا حوال،بی بی کے فون کا لز اور مخالف پا رٹیز کے خلاف جذ باتی تقا ریر آپکو ہنسنے پر مجبور کر دیتے ہیں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ شُکہور کے محفل میں مسکر ا ہٹ اور قہقہوں کے علاوہ تیسری کسی چیز کی گنجا ئش نہیں ہو سکتی۔۔۔شکہور کی شخصیت کا ا یک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ کئی سالوں سے ایک ہی سیاسی پا ر ٹی کا جیالہ ہے،،میں جب ہر الیکشن کے دنوں میں بڑے بڑے لو گوں کو ذاتی مفاد کی خاطر پا ر ٹیاں بد لتے ہوئے د یکھتی ہوں توسو چتی ہوں کہ ان لو گوں میں تو شکہور جتنا بھی ضمیر نہیں جو ذ ہنی کمزوری کے با و جود نہ صرف سیاسی لو ٹا بننا نا پسند کر تا ہے بلکہ جھوٹ،بے ا یمانی،وعدہ خلافی اور د ھوکہ با ذی سے بھی شد ید نفرت کر تا ہے۔شکہور جیسے لوگ پوری دنیا کے کونے کو نے میں مو جود ہیں انکے نام ،انکی صورتیں اور انکی صنف مختلف ہو سکتی ہیں مگر انکا کام ایک ہی ہے بلا تفر یق لوگوں میں احترام اور محبت با نٹنا۔۔یہ لوگ اس مُعاشرے کے لئے ایک نعمت ہیں انکی جتنی بھی قدر کی جائے کم ہے ۔ میں اِن لو گوں کے حوالے سے اتنا کہونگی کہ میں جب بھی انکے بہترین ا خلاق،انسا نیت سے بھر پور انکے کردار اور بلا امتیاذ محبت بانٹنے والے اِن فر شتوں کو د یکھتی ہوں تو مجھے اس مُعاشرے کے نا مور افراد،بہتر ین ڈ گری ہو لڈرز،ا علیٰ عہدوں پر فائز نہایت بڑے بڑے لوگ بھی (شُکہور جیسی شخصیت) سے ہا رتے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ حکو مت کی طرف سے ان معصوم فر شتہ صفت لوگوں کے لئے کوئی قا بل قدر انتظام مو جود نہیں حا لا نکہ یہ حکو مت کی ذمہ داری ہو نی چا ہیے کہ وہ ہر علاقے میں ان خصوصی افراد کے لئے کو ئی ا یسا ادارہ ضرور مُہیا کرے جو ان ا فراد کی ضرو ر یات پوری کر ے،انکی شکا یات سُنے،اور ان سے متعلق مسائل پر کام کرے۔قا بل غور بات ہے کہ ایک ذہنی کمزوری میں مبتلا شخص دو سروں کی ضرور یات کا خیال رکھ سکتا ہے انکے خو شیوں اور غمّوں میں شرکت کا ادراک رکھ سکتا ہے تو ا علیٰ د ما غی توازن کے حامل ہمارے حکمران،ا نتظا میہ اور عوام کو ان (چند ا فراد) کے خیال ر کھنے کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم مُہیا کرنے کا خیال کیوں نہیں آتا؟؟؟؟؟ ْ ْ

  • error: Content is protected !!