The Voice of Chitral since 2004
Friday, 17 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

داد بیداد ……………اداروں کی نا کامی…………. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

جو لو گ عتیق شاہ کے قاتل کو راتوں رات افغانستان کے راستے امریکہ فرار کرانے پر تعجب کا اظہار کر تے ہیں اخبار والوں کو اُن لوگوں پر تعجب ہوتا ہے وہ نہیں سوچتے کہ عتیق شاہ پاکستانی تھا اور اس کا قاتل اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کا ملازم کرنل جوزف تھا اس سے پہلے امریکی کنٹریکٹر بلیک واٹر کا اہلکار ریمنڈ ڈیوس لاہور میں تین پاکستانیوں کو قتل کر کے امریکہ چلا گیا فیض نے کیا بات کہی ؂
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

اگر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (JIT) اور تحقیقاتی کمشین یاعدالتی تحقیقات ہمارے ملک میں ریفرنڈم کی طرح بدنام نہ ہوتے تو ہم کرنل جوزف کے فرار کی تحقیقات کے لئے کمیشن یا جے آئی ٹی کا مطالبہ کر تے لیکن اس طرح کے مطالبے کا کوئی فائدہ نہیں ضیاء الحق کے جہاز کو حادثہ پیش آیاتو اس کی تحقیقات بے نتیجہ ثابت ہوئی کیونکہ حادثہ میں عالمی طاقت ملوث تھی میمو گیٹ کیلئے بڑے طمطراق سے کمیشن بنایا گیا تو نتیجہ صفر رہا پانامہ کیس پر کمیشن اور جے آئی ٹی بنائے گئے 10بکسے لائے گئے نتیجہ صفر کے سوا کچھ بھی نہیں کرنل جوزف کے فرار پر کمیشن بنایا گیا تو اس کا بھی ایسا ہی انجام ہوگا مثلاََ مجرم کے فرار پر تحقیقات کی رپورٹ 4بکسوں میں بھر جائیگی ان میں ایک بکس سے یہ بات بر آمد ہوگی کہ تھانے میں ایف آئی آر درج کرنے والا مقتول کا سگا بھائی یا باپ نہیں تھا اس لئے کرنل جوزف کو تھانے میں بٹھانے، جوڈیشل لاک اَپ میں رکھنے یا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کا جواز نہیں بنتا تھا اور یوں JITکی رپورٹ کو تاریخی دستاویز قرار دی جائے گی کیونکہ اس پر کسی مہینے کی کوئی نہ کوئی تاریخ ضرور درج ہوگی ایک زمانہ تھا جب عدالت پر لوگ بھروسہ کرتے تھے پھر وہ دور آیا جب ملکی سلامتی کے اداروں کو سب سے زیادہ معتبر تسلیم کیا جاتاتھا ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ کے حوالے کرنے کے بعد دونوں پر سے عوام کا اعتبار اُٹھ گیا ٹی وی پر کرائے کے اینکر پرسن آنے کے بعد میڈیا کا اعتبار بھی اُٹھ گیا ریمنڈ ڈیوس کو ایک ہفتے کے اندر سزائے موت ہونی چاہیئے تھی کم ازکم 3مہینے کے اندر اس کی لاش لاہور کے چوراہے پر لٹکنی چاہیئے تھی کلبھوشن یادیو کا مسئلہ بھی ایسا ہی تھا اس کو ڈھیل دینے کی ضرورت نہیں تھی ہم حالت جنگ میں ہیں جنگ کی حالت میں دشمن کو زیادہ ڈھیل نہیں دی جاسکتی 1948ء کی جنگ کشمیر میں کرنل مطاع الملک سکردو کے محاذ پر چترال باڈی گارڈ کے رضا کار فورس کی کمان کر رہا تھا قلعہ کھر پچو فتح ہوا تو جنگی جرائم کے بڑے مجرم کیپٹن گنگا سنگھ کو کرنل تھا پا کے ساتھ زندہ گرفتار کیا گیا کرنل مطاع الملک نے سمر ی ٹرائیل کے ذریعے کیپٹن گنگا سنگھ کو سزائے موت دی اُسے پار لگانے کے بعد اوپر سے حکم آیا کہ ’’ خصوصی جہاز آرہا ہے کیپٹن گنگا سنگھ کو بحفاظت راولپنڈی روانہ کرو‘‘کرنل متاع الملک نے اپنا کام نمٹا دیا تھا اُس نے جواب میں لکھا ’’ گنگا سنگھ اب اس دنیامیں نہیں رہاکرنل تھاپا کو جہاز میں روانہ کیا جائے گا ‘‘ حالت جنگ میں اس طرح کے فیصلے ہوتے ہیں اس طرح کی ہمت اور دلیری کا م آتی ہے اگر ریمنڈ ڈیوس اور کلبھوشن یادیو کو عدالت میں پیش کرکے سزائے موت دی جاتی تو مسئلہ ہی ختم ہوجاتا نہ رہے بانس نہ بجے بانسری مجرم تھا انجام کو پہنچ گیا کرنل جوزف کا معاملہ نیا نہیں ہے یہ پرانے معاملات کا شرمناک تسلسل ہے اس کی تحقیقات کے لئے میڈیا کی کمیٹی بننی چاہیئے اور چار خطوط پر چار زاویوں سے اس واقعے کا میڈیا ٹرائل ہونا چاہیے پہلی بات یہ ہے کہ قاتل کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا مگر پولیس اسٹیشن سے اُس کو چھڑا کر لے جانے والے کون لوگ تھے ؟ کس قومی ادارے کے لوگ تھے ؟ اُن کے مقاصد کیا تھے ؟ اور اُن کو اوپر سے کیا حکم ملا تھا؟دوسر ی بات یہ ہے کہ قاتل کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے اُس کا ریمانڈ لینے میں کیا امر مانع تھا ؟ کس کے دباؤپر قاتل کو چھوٹ دے دی گئی ؟تیسری بات یہ ہے کہ جینوا کنونشن کے تحت سفارت کار کو جو استشنا حاصل ہے وہ استشنا افغانستان کے بے گناہ سفیر عبد السلام ضعیف کو کیوں نہیں ملی ؟ عبدالسلام ضعیف نے کوئی جرم بھی نہیں کیا تھا وہ قانوں کے تحت مطلوب بھی نہیں تھا چوتھی بات یہ ہے کہ پاکستان کے قومی ادارے اور پاکستان کی قومی عدلیہ اپنی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ناکام ہوگئی ہے یا ہمارے اداروں اور ہماری عدالتوں کو ’’ اوپر کے حکم ‘‘نے ناکامی سے دوچار کر دیا ہے ؟ ان چار زاویوں سے کرنل جوزف کے فرار کا جائزہ لینا چاہیئے کرنل جوزف کے فرار میں کس نے معاونت کی ؟ یہ بات سب کو معلوم ہے اس پر تفتیش کی کوئی ضرورت نہیں پاکستان میں اندرونی خانہ جنگی ، سیاسی عدم استحکام ، بد امنی اور دہشت گردی کی وجوہات میں بھی اہم وجہ یہ ہے ہمارے ہاں قومی ادارے اور ہماری عدالتیں اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہوگئی ہیں گذشتہ 8سالوں میں بھارت کی عدالتوں نے 4پاکستانیوں کو پھانسی دی بنگلہ دیش کی عدالتوں نے پاکستان کے ساتھ محبت کے جرم میں اپنے ہی ملک کے6شہریوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا پاکستان نے دو بھارتی مجرموں کو عالمی دباؤ پر جیل سے آزاد کرکے بھارت کے حوالے کیادو امریکی مجرموں کو سزا دینے میں نا کامی کے بعد امریکہ کے حوالے کیا بھارتی شہری کلبھوشن بھی اپنی رہائی کا منتظر ہے اس کو معلوم ہے کہ پاکستان کی عدالتوں میں دم خم نہیں ہے پاکستان کے قومی ادارے ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے دوچار ہیں اوریہ بات ایک ایٹمی طاقت کو ہرگز زیب نہیں دیتی کہ اس کی عدالت مجرم کو سزا نہ دے سکے اس کے ادارے مجرم کو دشمن کے حوالے کردیں ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہماری مجبوری نا قابل برداشت ہے میرتقی میر نے ہمار ے ہی بارے میں کہا ہوگا ؂

ہم مجبوروں پہ ناحق تہمت ہے مختاری کی
جو چاہے سو آپ کرے ہے ہم کو عبث بدنام کیا

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , , ,
10147

دروش، پاکستان زندہ باد فٹ بال ٹورنمنٹ اختتام پذیر، چمرکن فٹبال کلب فاتح رہی

دروش(چترال ٹائمز رپورٹ)ہفت روزہ چترال پوسٹ اور آئیڈیل کلب دروش کے زیر اہتمام کرنل مراد اسٹیڈئم دروش میں منعقد ہونے والا پاکستان زندہ باد جشن بہاران فٹ بال ٹورنمنٹ گزشتہ روز اختتام پذیر ہواجس میں چمرکن فٹ بال کلب نے کامیابی حاصل کی۔کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس و چترال ٹاسک فورس کرنل معین الدین اختتامی پروگرامات کے مہمان خصوصی تھے۔ کرنل معین الدین نے اس موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ چترال سکاؤٹس اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ عوامی فلاحی سرگرمیوں میں بھی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی سرپرستی ہماری اولین ترجیح ہے کیونکہ صحت مند اور مستعد معاشرے کے قیام میں کھیلوں کی سرگرمیوں کا اہم کردار ہے۔ کرنل معین الدین نے کہا کہ پاکستان آرمی اورچترال سکاؤٹس نے دروش میں اوسیک گراؤنڈ کو ایک جدید اسٹیڈئم میں تبدیل کردیا ہے اور انشاء اللہ کرنل مراد اسٹیڈئم کو بھی جدید طرز پر بنایا جائیگا۔ انہوں نے بہترین ٹورنمنٹ منعقد کرنے پر انتظامیہ کی تعریف ہے ۔ کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس نے عوام پر زور دیا کہ وہ چترال کے امن و امان اور تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ مہمان خصوصی نے ٹورنمنٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے والے دونوں ٹیموں کو مبارکباد دی اور اپنی طرف سے ونر ٹیم، رنر ٹیم اور مین آف دی ٹورنمنٹ کو نقد انعامات بھی دئیے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی کوسپاسنامہ پیش کرتے ہوئے معروف شخصیت قاری جمال عبدالناصر نے کھیلوں کی ترقی اور فلاح عامہ کی سرگرمیوں میں پاک فوج اور چترال سکاؤٹس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات سے انکار قطعاً ممکن نہیں ۔انہوں نے اپیل کی کہ چترال سکاؤٹس کھیلوں کی سرپرستی میں اپنے کردار کو جاری رکھے ۔ اس سے قبل جب مہمان خصوصی کرنل معین الدین گراؤنڈ میں داخل ہوئے تو علاقے کے معززین اور بلدیاتی نمائندگان نے انکا والہانہ انداز میں استقبال کیا۔ مہمان خصوصی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور ٹورنمنٹ کے انتظامیہ آئیڈیل کلب کے ممبران سے ملے۔
پاکستان زندہ باد فٹ بال ٹورنمنٹ کے دلچسپ فائنل میچ میں چمرکن فٹ بال کلب نے فالکن کلب چترال کو شکست دی۔ مقررہ وقت میں میچ بغیر کسی گول کے برابر رہا تو میچ کا فیصلہ پنلٹی ککس پر کیا گیا۔ مہمان خصوصی کرنل معین الدین نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔
چمرکن فٹبال کلب کے عطاء الرحمن کو ٹورنمنٹ کے دوران بہترین پرفارمنس پر ’’ مین آف دی ٹورنمنٹ‘‘ قرار دیا گیا جبکہ چمرکن فٹبال کلب کے ہی گول کیپر لیاقت کو مین آف دی میچ قراردیا گیا۔ انڈر 15فٹ بال مقابلوں میں منصف الیون نے کامیابی حاصل کی جبکہ انڈر 12 فٹ بال مقابلوں میں آئیڈیلز جونیئر فاتح رہی۔
اس موقع پر ٹورنمنٹ انتظامیہ کی طرف سے اس ٹورنمنٹ کے انعقاد کو ممکن بنانے اور بھرپور تعاؤن فراہم کرنے پر چترال سکاؤٹس بالخصوص 145ونگ کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل خرم کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ وہ مستقبل میں بھی اپنا تعاؤن جاری رکھیں گے۔
pakistan zinda bad tournament chitral

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , , ,
10120

چترال پبلک سکول اینڈ کالج میں سالانہ تقریب کا انعقاد

Posted on

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ ) چترال پبلک سکول اینڈ کالج میں گزشتہ دن سالانہ تقریب کا انعقاد کیا گیا – جس میں سکول سے فارغ التحصیل سابق طلباء، والدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں شرکت کیں – اس تقریب کے مہمان خصوصی ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ تھے – تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اس کے بعد نبی کریم صل اللہ علیہ والہ و سلم کے حضور عقیدت کے پھول نچھاور کے گیے – سکول کا ترانہ گروپ قومی ترانہ پیش کیا – پرنسپل وجیہہ الدین نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا – اپنے خطاب پرنسپل میں سکول کے سالانہ سرگرمیوں کے حوالے سے حاضرین کو آگاہ کیا اور سکول کی کارکردگی رپورٹ پیش کیا – پرنسپل وجیہہ الدین نے کہا کہ چترال پبلک سکول اینڈ کالج ضلع چترال کا بانی نجی تعلیمی ادارہ ہے یہاں سے فارغ التحصیل ہزاروں کی تعداد میں طلباء طلبات مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں – پروگرام میں سکول کے طلباء طلبات ملی نغمے ، خاکے، تقاریر اور سٹیج شو کا شاندار مظاہرہ کر کے حاضرین کو خوب محظوظ کیا – پروگرام کے آخر میں سالانہ امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات میں انعامات تقسیم کئے گئے – اس پروگرام کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں سکول کے سابق ٹیچر اور استادالآساتذہ سردار کو لائف ٹائم ایچیومینٹ ایوارڈ سے نوازا گیا – آخر میں مہمان خصوصی ضلع ناظم مغفرت شاہ نے خطاب کرتے ہوئے سکول کے انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ چترال میں تعلیم کے میدان میں چترال پبلک سکول اینڈ کالج کا انتہائی اہم کردار رہا ہے یہاں سے فارغ التحصیل ہزاروں سٹوڈنٹس اعلیٰ عہدوں پر فائز ملک و قوم کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں – ضلع ناظم نے سکول کے بانی مرحوم اشرف الدین کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا – مہمان خصوصی نے کہا کہ مرحوم اشرف الدین چترالی قوم کا محسن رہا ہے – انھوں نے جو پودا لگایا تھا وہ آج ایک تناور درخت بن کر پھل دینا شروع کر دیا ہے. یہ رنگارنگ پروگرام رات گئے اختتام کو پہنچا –
chitral public school program 8
chitral public school program 9

chitral public school program 10

chitral public school program 1

chitral public school program 3

chitral public school program 4
chitral public school program 5

chitral public school program 6

chitral public school program 7

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , , ,
10076

دروش بار ایسو سی ایشن کی تقریب حلف برداری ۔سول جج جوہرعلی شاہ نےکابینہ سےحلف لیا

Posted on

دروش(چترال ٹائمز رپورٹ ) دروش بار ایسو سی ایشن کے نو منتخب کابینہ نے حلف اٹھالیا۔ دروش بار روم میں منعقدہ پروقار تقریب میں سول جج ون جو ہر علی شاہ اور سول جج ٹو حسن علی کے علاوہ دروش کے تمام وکلا ء برادران نے شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق دروش بار کے نو منتخب کا بینہ میں صدر اکرام حسین ایڈوکیٹ ، نائب صدر شیر افضل ایڈوکیٹ ، جنرل سیکرٹری شیر بہادر ایڈوکیٹ ، فائنانس سیکرٹری حسین احمد ایڈوکیٹ جبکہ میر اعظم خان ایڈوکیٹ لائبیرین نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی علاقہ قاضی ون جو ہز علی شاہ نے کابینہ سے حلف اٹھالیا۔ تقریب سے نو منتخب صدر اکرام حسین ایدوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بار کے صدارت جیسے اعلیٰ منصب کیلئے مجھ پر اعتماد کرنے پر دروش بار کے وکلاء صاحبان کا مشکور ہوں اور میں اپنی پوری توانائی قانون کی حکمرانی اور بار کی فلاح و بہبود کیلئے صرف کرونگا۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , , ,
10056

“ملکی کپ”پولو ٹورنامنٹ احتتام پذیر، چترال سکاوٹس ٹیم نے ٹائٹل اپنے نام کرلی

Posted on

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام “ملکی کپ”پولو ٹورنامنٹ بدھ کے روز احتتام پذیر ہوا جس میں ضلع بھر سے 52پولو ٹیموں نے حصہ لیا جوکہ دس دن تک جاری رہا جس کافائنل فرنٹیر کور (چترال سکاوٹس ) کی ٹیم نے چترال پولیس کو صفر کے مقابلے میں نو گولوں سے شکست دے کر فاتح قرار پائی۔ اس موقع پر ضلع ناظم مغفرت شاہ مہمان خصوصی تھے جبکہ ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد سودھر، کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کرنل معین الدین، ڈی پی او منصور امان ، نائب ضلع ناظم مولانا عبدالشکور ، شہزادہ فاتح الملک علی ناصر ، عبدالولی خان ایڈوکیٹ نے کھلاڑیوں اور منتظمین میں انعامات تقسیم کئے۔ کالاش تہوار چیلم جوشٹ کے لئے چترال آنے والے سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے پولو ٹورنامنٹ کے میچ دیکھے جوکہ چترال کا منفرد ثقافتی ورثہ ہے۔ مین آف دی میچ کا اعزاز چترال سکاوٹس کے شہزاد احمد کو ملا جبکہ بہترین گھوڑا پالنے پر بیسٹ ہارس کا انعام چترال پولیس کے اشفاق احمد کو دیا گیا ۔ شہزادہ فاتح الملک علی ناصر نے اپنی طرف سے فاتح ٹیم کو 70ہزار روپے اوررنر اپ ٹیم کو 50ہزار روپے انعام دئیے۔ ڈی سی چترال کا کہنا تھاکہ پولو کے اس عظیم ایونٹ کے انعقاد سے جہاں اس علاقے میں سیاحت کو فروع ہوئی وہاں چترال میں مثالی امن وامان کا ایک سافٹ امیچ بھی پوری دنیا میں چلی گئی۔ اپنے خطاب میں ضلع ناظم مغفرت شاہ نے کہاکہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے پولو کے فروع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور چترال میں اس کھیل کا مستقبل بھی تابناک ہے جس کا ثبوت جشن شندور میں گزشتہ کئی سالوں سے چترال ٹیم کی گلگت بلتستان کے خلاف شاندار کامیابی ہے۔ انہوں نے تاہم ڈسٹرکٹ کپ پولو ٹورنامنٹ کا نام ملکی کپ رکھنے پر اپنی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ قیام پاکستان کے سے پہلے چترال میں تعینات پولیٹیکل ایجنٹ کو ملکی کہا جاتا تھا اور چترال کے عوام نے اس کے خلاف جدوجہد کرکے قربانی دی۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے عوام کی ان قربانیوں کے نتیجے میں چترال میں پولیٹیکل ایجنٹ کی بجائے ڈپٹی کمشنر لابیٹھایا جبکہ قبائلی علاقوں کے عوام ا ب بھی ایف سی آر کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں ۔ ضلع ناظم نے کہاکہ لواری ٹنل پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد ہمیں کھیلوں کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو زمانے کی تقاضوں کے ہم آہنگ بنانے اور مسابقت کے لئے تیار رکھنی چاہئے۔

chitral polo tournament 6

chitral polo tournament 4

chitral polo tournament 3

chitral polo tournament 1 chitral polo tournament 2

mulki cup polo torunament chitral final 10
mulki polo chitral1
chitral polo tournamnet 2chitral polo tournamnet 4
mulki cup polo torunament chitral final 14

mulki cup polo torunament chitral final 12

mulki cup polo torunament chitral final 6

mulki cup polo torunament chitral final 4

mulki cup polo torunament chitral final 5
mulki cup polo torunament chitral final 15

mulki cup polo torunament chitral final 2

mulki cup polo torunament chitral final 3

mulki polo chitral

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , , ,
10025

کالاش تہوارچیلم جوشٹ آخری مراحل میں داخل،سیاحوں میں پھل اور گلدستے تقسیم کئے گئے

Posted on

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ) کالاش قبیلے کا مذہبی تہوار چلم جوشٹ اپنے آخری مراحل میں داخل ہوگیا، 14مئی سے شروع ہونے والا یہ تہوار ڈھول کی تھاپ پر رقص کیساتھ منانے کے بعد16مئی کو اختتام پذیر ہوگاجبکہ اختتامی تقریب 16مئی کو بمبوریت میں منائی جائے گی، ہندوکش کے قدیم ترین تہذزیب و ثقافت اور مذہب کے حامل کالاش قبیلے کا یہ تہوار ہر سال مئی کے مہینے میں منایا جاتا ہے ، تہوار کے دوسرے روزکالاش قبیلے کی خواتین نے کالاش کی جانب رخ کرنے والے سیاحوں اور مہمانوں میں مختلف اقسام کے پھل تقسیم کئے جبکہ خواتین نے غیر ملکی سیاحوں میں پھولوں کے گلدستے بھی بطور تحفہ پیش کئے ،اس موقع پر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے چترال آفس کے سٹاف نے کالاش آنے والے سیاحوں میں آخروٹ سمیت دیگر خشک خوراک تقسیم کی، سیاحوں کی کثیر تعداد کے پیش نظر ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا نے سیاحوں کیلئے ٹینٹ ویلیج بھی بنایا کیونکہ سیاحوں کی رش کے باعث تمام ہوٹلز اور ویلیز سیاحوں سے بھر چکے ہیں اور اس سلسلے میں سیاحوں کو تکلیف سے بچانے کیلئے ٹینٹ ویلیج بھی بنایا گیا ہے تاکہ سیاح باآسانی ان ٹینٹوں میں رہائش اختیار کرسکیں، کالاش قبیلے کے لوگ تین وادیوں بمبوریت ، بریر اور رمبور میں آباد ہیں جن کے مجموعی گھرانے 515اور کل آبادی 4165افراد پر مشتمل ہے ، یہ قبیلہ تقریباً ساڑھے چار ہزار سالوں سے اس خطے میں آباد ہے ، جوشی تہوار کا آخری روز بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جب کالاش قوم ایک میدان میں جمع ہوتے ہیں تو تمام خواتین چاہے ناچنا گانا شروع کردیتی ہیں اور پھر اس وقت کچھ مذہبی پیشوا ایک مقام پر اکٹھے ہو کر ہاتھوں میں پودوں کی سبز شاخ اٹھائے میدان کی طرف آتے ہیں اور یہ خواتین انہیں سلامی پیش کرتی ہیں، اس کے بات تہوار کا آخری لمحات اور رسومات منائی جاتی ہیں۔
kalash festival chelum jusht chitral 2nd day 2

kalash festival chelum jusht chitral 2nd day 3

kalash festival chelum jusht chitral 2nd day 4

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , , ,
10014

کالاش قبیلے کی مشہور تہوار چلم جوشٹ کا افتتاح، پولو ٹورنامنٹ کافائنل 16مئی تک موخر

چترال( چترال ٹائمز رپورٹ) ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام چترال کے کالاش میں منعقد ہونے والے چلم جوشٹ (جوشی) فیسٹیول شروع ہوگیا، فیسٹیول 16مئی تک جاری رہے گا تاہم فیسٹیول کے پہلے روز دودھ کی رسم ہوئی ، ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے تعاون سے صوبہ کے سیاحتی مقام کالاش میں منعقد ہونے والے جوشی فیسٹیول کو بھرپور انداز میں منایا جارہا ہے ، اس سلسلے میں سیاحوں کیلئے ٹینٹ ویلیج کیساتھ ساتھ سیاحوں میں سیاحتی مقام میں صفائی برقرار رکھنے کیلئے صفائی مہم کا بھی انعقاد کیاجائے گا مہم کالاش کی تین وادیوں میں امسال کی جائے گی ، تفصیلات کے مطابق چترال کے شہر کالاش میں بہار کی آمد پر منایا جانے والا کالاش قبیلے کا مشہور تہوار (جوشی)چلم جوشٹ 14 مئی سے شروع ہوگیا،پہلے روز کالاشی خواتین نے دودھ پلانے اور تقسیم کرنے کی رسم (چیرک پی پی ) منائی ، ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا نے سیاحوں کی سہولیات اور انہیں کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچانے کیلئے ٹینٹ ویلیج بنائی ہے تاکہ سیاحوں کی کثیر تعداد کی موجودگی میں کسی کو کوئی مشکل درپیش نہ ہوسکے اور سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جاسکیں ،جوشی فیسٹیول کالاش قبیلے کا سب سے اہم تہوار ہے کیونکہ اس تہوار کے اعلان کیساتھ سردیوں کے تکلیف دہ حالات کو رخصت کیا جاتا ہے اور بہار کا استقبال کیا جاتا ہے ۔ مال مویشیوں کو گرمائی چراگاہوں پر لے جانے کی تیاری ہوتی ہے اور مویشیوں کے دودھ کی فراوانی ہوتی ہے ، تہوار میں پچ انجیئک کی رسم ادا کی جاتی ہے اس رسم میں پانچ سے سات سال کے بچوں کو کالاش کے نئے کپڑے پہنا کر ان کو بپتسمہ دیا جاتا ہے جبکہ گل پاریک کی رسم بھی ہوتی ہے جس میں گاؤں کے تمام زچہ و بچہ پر ایک نوجوان دودھ چھڑکتا ہے اور خواتین اس نوجوان کو چیہاری کا ہار پہناتی ہیں ۔
Kalash Festival Chelum jusht18 3

Kalash Festival Chelum jusht18 4
Kalash Festival Chelum jusht18 5 1

Kalash Festival Chelum jusht18 6

Kalash Festival Chelum jusht18 2
kalash festival chelum jusht 3

kalash festival chelum jusht 4

kalash festival chelum jusht 5
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
،دریں اثنا چترال ٹاون میں جاری ملکی پولوٹورنامنٹ بارش کی وجہ سے 16مئی تک موخر کردی گئی ہے ۔ گزشتہ چند دنوں سے چترال میں وقفے وقفے سے بارش کی وجہ سے پولو گراونڈ تالات کا منظر پیش کررہا ہے ۔ اور ساتھ کیچڑ میں گھوڑوں کی پھسلن کے خدشے کے سبب پولو کمیٹی نے آج کے فائنل میچ کو 16مئی تک موخر کردیا ہے ۔
chitral polo groun rain 4

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , , ,
9978

اے کے آر ایس پی کی معاونت سے لاسپور ہرچین میں ہیریٹج میوزیم کا قیام

Posted on

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ)‌آغاخان رورل سپورٹ پروگرام کے WES Project کے تحت سوئس ایجنسی فار ڈویلپننٹ اینڈ کوپریشن کی مالی معاونت سے ہیریٹج میوزیم لاسپور کا قیام عمل میں‌لایا گیا ہے. اس میو‍‌‍زم میں چترالی قدیم زرعی آلات ، جنگی ھتیار، گھریلو آوزار اور چترال کے ثقافتی پوشاک بڑے خوبصورت اندازمیں سجا‎ئے گئیےھیں۔ اس میو‍‌‍زیم میں موجود نودارت امیراللہ یفتالی نے اکٹھے کيے ھیں۔ اس میو‍‌‍زیم سے ضلع چترال کی خوبصورتی میں ایک اور اضافہ ہوا ہے اور سیاحوں کی دلچسپی کیليے AKRSPبھت جلد اس میو‍‌‍زیم کا افتیتاح کرکے عام عوام کیليے کھول دیگا۔
Laspur harchin heritage museum 2

Laspur harchin heritage museum 3

Laspur harchin heritage museum 4

Laspur harchin heritage museum 6

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , , ,
9972

چترال میں بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے….مقرریں کا چترال یونیورسٹی میں‌خطاب

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ ) یونیورسٹی اف چترال میں بین المذاہب ہم آہنگی اور بھائی چارے پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں چترال میں بسنے والے مختلف مذہبی مکاتب فکر کے علماء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، خصوصاً اعلیٰ تعلیم کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات اور اساتذہ کے کردار کے حوالے سے بات کی گئی ، سیمینار سے مولانا سلامت اللہ ، ڈاکٹر اقبال الدین ، پروفیسر صاحب الدین ، مولانا حسین احمد اور حاجی مغفرت شاہ نے خطاب کیا ، مقررین نے چترال میں بین المذاہب ہم آہنگی کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور اس حوالے سے قرآن و حدیث کی روشنی میں دلائل دئیے گئے ، اس سلسلے میں مزید کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ، مقررین نے سوشل میڈیا کے موجود استعمال کو بھی کسی خاص ضابطہ اخلاق کے اندر لانے ،راوداری ، محبت ، بھائی چارے اور اخوت کے جذبات او احساسات کو معاشرے میں عام کرنے اور قدیم چترالی روایات اور بھائی چارے کے ماحول کو مزید بہتر کرنے پر بھی اتفاق کیا۔یونیورسٹی اف چترال کے پراجیکٹ ڈائرایکٹر نے مہمان مقررین کا شکریہ ادا کیا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ چترال کے پرامن ماحول کو بہتر بنانے میں چترال کی لوکل کمیونٹی چترال یونیورسٹی کا ساتھ دے گی اور وہ مستقبل قریب میں اس طرح کی مزید نشستوں کا اہتمام کریں گے تاکہ لوگ آپس میں مل بیٹھ کر آپس کے تنازعات کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے اور صحت مندمعاشرتی روئیوں کو پروان چڑھا سکیں ۔ اس سیمینار کو شعبہ ریلجس سٹڈی نے منعقد کیا تھا ،اور فوکل پرسن ڈاکٹر ضیاالحق نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا ، جلد ہی چترال یونیورسٹی اس سلسلے کا دوسرا سیمینار منعقد کرے گی جس میں پروفیسر ڈاکٹر قبلہ آیاز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل اورپاکستان میں موجودمذہب و فرقوں کے علماء کرام خطاب کریں گے ۔
chitral university interfaith seminar 1

chitral university interfaith seminar 9

chitral university interfaith seminar 7

chitral university interfaith seminar 6chitral university interfaith seminar 3 chitral university interfaith seminar 4

chitral university interfaith seminar 5

chitral university interfaith seminar 2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , , ,
9960

یونیورسٹی اف چترال میں’’ ادب، ثقافت اورہم ‘‘ کے عنوان سے سیمینار کا نعقاد

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ ) یونیورسٹی اف چترال میں ’’ ادب ، ثقافت اور ہم ‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا ، اس سیمینارمیں اکیڈیمی اف لیٹر پاکستان کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر قاسم بگھیو ،لوک ورثہ کے خالق اور مفکر ادیب اور کلچر کے ایکسپرٹ عکسی مفتی نے اپنے مقالے پیش کیے ، ادب اور اس کی ضرورت و اہمیت پر ڈاکٹر قاسم بگھیو نے اپنا مقالہ پڑھا جس میں انہوں نے ادب کی اہمیت اور پڑھے لکھے لوگوں خصوصاً یونیورسٹی کے طالب علموں پر اس کے اثرات اور فوائد کا تذکرہ کیا اور دیگر علوم کی تفہیم اور معاشرہ سازی میں ادب کے کردار پر سیر حاصل بحث کی ، عکسی مفتی جو معروف ادیب ممتاز مفتی کے صاحب زادے بھی ہیں نے کلچر پر اپنا مقالہ پیش کیا جو یقیناًایک ماسٹر پیس تھا ، اس سیمینار میں اساتذہ ،طلبا اور ادب و کلچر سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی ،یونیورسٹی اف چترال کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ، اس موقع پر مدعو مقررین نے چترال یونیورسٹی کی لائبریری کے لیے اپنے کتب بھی پیش کیے ، اس سیمینار کی خاص بات طلبا اور مقررین کا مکالمہ تھا جس سے ادب کی ترقی اور کلچر کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کا موقع پہلی مرتبہ چترال میں میسر آیا ۔

university of Chitral cultural seminar 4
university of Chitral cultural seminar 0
university of Chitral cultural seminar 1
university of Chitral cultural seminar 2
university of Chitral cultural seminar 6

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , , ,
9952

رمضان کی آمد، یوٹیلٹی سٹورزخالی، کاروباری حضرات دونوں ہاتھوں سےعوام کو لوٹنے کیلئے تیار

Posted on

چترال ( محکم الدین ) ماہ رمضان قریب آتے ہی چترال میں اشیاء خوردونوش اور سبزیات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ جبکہ مرغیوں کی سپلائی کم کرکے دانستہ طور پر قیمت بڑھانے اور اسی طرح چھوٹے او ر بڑے گوشت کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ماہ رمضان کے دوران لوگوں کو لوٹنے کی راہ ہموار کی گئی ہے ۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ دوسری طرف چترال کے تمام یو ٹیلٹی سٹورز میں عام آدمی کی ضرورت کی اشیاء جن میں گھی ، چینی ، آٹا ، دالیں ، مشروبات وغیرہ حکومت ماہ رمضان میں رعایتی قیمت پر فراہم کرتی تھی ۔ اب کوئی بھی چیز دستیاب نہیں ہے ۔ اور گذشتہ چار مہینوں سے یوٹیلٹی سٹور برائے نام موجود ہیں ۔ جہاں شیمپو ٹوتھ پیسٹ اور صابن جیسی چیزوں کے علاوہ کوئی کام کی اشیاء دستیاب نہیں ۔ اس سے یہ لگ رہا ہے ۔ کہ امسال لوگ حکومتی سبسڈائزڈ اشیاء سے فائدہ اُٹھانے سے قاصر رہیں گے ۔ کیونکہ ابھی تک یوٹیلٹی سٹور ز کو سامان فراہم نہیں کئے گئے ہیں ۔ اور نہ فراہم کئے جانے کے امکانات نظر آرہے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے ۔ کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور سے اب تک تین حکومتوں میں مجموعی طور پر 27ارب روپے کی سبسڈی کی رقم متعلقہ اداروں کو آدائیگی نہیں کی گئی ہے ۔ اس لئے اس رمضان میں سبسڈی ریٹ پر بنیادی ضروری خوراک کی اشیاء کا یوٹیلٹی سٹورز سے ملنا مشکل ہے ۔ جو غریب عوام کیلئے انتہائی تشویشناک امر ہے ۔ کیونکہ غریب لوگ ماہ رمضان میں رعایتی آٹا ، گھی ، چینی اور دیگر خوراک کی چیزیں بازار سے سستی قیمت پر حاصل کرتے تھے ۔ ماہ رمضان میں عوام کو لوٹنے کا عمل بعض نا عاقبت اندیش کاروباری لوگوں کی روایت بن گئی ہے ۔ اور مسلمانوں کے لبادے میں ناجائز منافع خور اس مبارک مہینے میں عوام کا خون چوسنے سے دریغ نہیں کرتے ، خصوصا مرغی فروش ، قصاب اور سبز ی فروشوں کی طرف سے مختلف حیلوں بہانوں سے چترالی عوام کو لوٹنے کا عمل بہت پرانا ہے ۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے حالیہ اقدامات پہلے کی نسبت نہایت کمزور ہیں ۔ اورمجسٹریٹ و محکمہ فوڈ کی طرف سے رمضان سے پہلے ان چیزوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں کسی قسم کے اقدامات نظر نہیں آرہے ۔ عوامی حلقوں نے انتظامیہ اور محکمہ فوڈ سے مطالبہ کیا ہے ۔ کہ ماہ رمضان سے پہلے قیمتوں میں اضافے اور مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوششوں کا نوٹس لیا جائے ۔ اور مرتکب افراد کے خلاف بلا امتیاز قانونی کاروائی کی جائے ۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9950

بزمِ درویش۔۔۔۔۔۔۔۔رحمت رمضان………تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

ماہِ رمضان تمام مہینوں کا سردار جس میں اللہ تعالی کی رحمتوں کی مو سلا دھا ر برسات جا ری ہے ۔ اللہ تعالی نے روزے رمضان میں فرض کئے ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لا زم ملزوم قرار دیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ان دو برکتوں اور سعادتوں کا اجماع بڑی حکمت اور اہمیت کا حامل ہے اور اِس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا اور گم کردہ راہِ انسانیت کو صبح صادق نصیب ہو ئی اِس لیے یہ عین مناسب تھا کہ جس طرح طلوع صادق روزہ کے آغاز کے ساتھ مربوط کر دی گئی ہے اِسی طرح طویل اور تاریک رات کے بعد جس مہینے میں پو ری انسانیت کی صبح ہو ئی اِس کو پو رے مہینے کے روزوں کے ساتھ مخصوص کر دیا جا ئے خاص طور پر اِس وقت جبکہ اپنی رحمت و برکت روحانیت اور نسبتِ باطنی کے لحاظ سے بھی یہ مہینہ تمام مہنیوں سے افضل تھا اور بجا طور پر اِس کا مستحق تھا کہ اس کے دنوں کو روزوں سے اور راتوں کو عبادت سے آراستہ کیا جائے کو ئی اور مہینہ اِس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتا تھا جس میں قرآن مجید نا زل ہوا ملتِ مصطفوی ﷺ کی بنیاد مستحکم ہو ئی مزید براں یہ کہ شبِ قدر کا امکان بھی زیادہ تر اِسی مہینہ میں ہے ( حجتہ اللہ البالغہ جلد )۔حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں اِس مہینہ کو قرآن مجید کے ساتھ بہت خاص منا سبت ہے اور اِسی مناسبت کی وجہ سے قرآن مجید اِسی مہینہ میں نا زل کیا گیا یہ مہینہ ہر قسم کی خیر و برکت کا جامع ہے آدمی سال بھر میں مجموعی طور پر جتنی برکتیں حاصل کر تا ہے وہ اِس طرح ہیں جیسے اِس مہینہ کی نیکیوں کے سامنے سمندر اور قطرہ اِس مہینہ میں جمعیت با طنی کا حصول پو رے سال جمعیت با طنی کے لیے کا فی ہو تا ہے اور اِس انتشار اور پریشان خاطر بقیہ تمام دنوں بلکہ پو رے سال کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے قابل مبارک باد ہیں وہ لو گ جن سے یہ مہینہ راضی ہو گیا اور نا کام اور بد نصیب ہیں وہ جو اِس کو نا راض کر کے ہر قسم کے خیر و برکت سے محروم ہو گئے ۔ حضرت ابو ہریرہ سے حضور اکر م ﷺ سے روایت کر تے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جا تے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیے جا تے ہیں اور شیا طین کو پا یہ زنجیر کر دیا جا تا ہے رمضان شریف کو ہم نیکیوں کا موسم بہار بھی کہہ سکتے ہیں اِس ماہ میں اللہ تعالی کی رحمتوں کی برسات ایک ہی وقت میں شہروں دیہات کرہ ارض کے چپے چپے پر امیر غریب کے محل اور جھونپڑے پر خوب برستی ہے ماہ رمضان کر ہ ارض کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ایک جشن کا سا سماں ہو تا ہے جب مسلمانوں کے چہرہ پر روزوں کے چاند سورج روشن ہو تے ہیں ایک واضح ملکو تی حسن کا نظارہ کیا جاسکتا ہے گھروں اور مساجد میں خوب اہتمام کئے جا تے ہیں ایسا معلوم ہو تا ہے پو رے اسلامی معاشرہ پر نورانیت کا ایک وسیع شامیانہ سایہ فگن ہے روزہ ایک عالمگیر تہوار کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ یہاں تک کہ جو لوگ سارا سال عبادت اور نمازوں میں سستی کو تا ہی بر تتے ہیں وہ بھی اجتماعی طور پر جب ہر طرف روزے کے فیوض اور برکات کا مشاہدہ کر تے ہیں تو ایسے سست لو گ بھی نور کی اِس بر سات سے بچ نہیں پا تے اور لوگوں کے ہجوم میں وہ بھی شامل ہو جا تے ہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ روزہ ایک عالمی روزہ بن جا تا ہے عالمی طور ہر ایسی روحانی نو رانی فضا بن جا تی ہے کہ روزہ رکھنا اور نبھانا بہت آسان ہو جا تا ہے ۔ یہ ایک اٹل حقیقیت ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے جس کے سامنے کا ئنات کی تمام قوتیں سرنگوں ہیں لیکن بعض اوقات انسان اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہت پستی میں گر جا تا ہے تو اِن حالات میں انسان کا شرف و اعزاز اِس بات میں ہے کہ نفس سرکش کو قابو میں لا کر عبدیت کے اعلی مقام تک پہنچ سکے ۔ معرفت الہی اور رضا ئے خداوندی کسی بھی انسان کی حقیقی منزل ہے اگر کو ئی بھی انسان اِس سے غافل ہے تو وہ اپنے فرض عبدیت سے غافل ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے جس نے اپنے نفس کو پا کیزہ کر لیا اس نے فلاح پا ئی اور جس نے ایسا نہ کیا اس نے خود کو تبا ہ و برباد کر لیا لہذا یہ بات روشن ہو تی ہے کہ بہترین سعادت مند انسان وہ ہے جس نے عبا دت مجا ہدے اور روزے سے اپنے نفس کو قابو کر لیا اپنے نفس کو مغلوب اور پاکیزہ بنا نے کے لیے تین چیزوں کی اشد ضرورت ہو تی ہے اول نفس کو تمام شہوتوں اور لذتوں سے روک دیا جائے کیونکہ جب سرکش گھوڑے کو گھاس چارہ دانہ نہ ملے تو وہ کمزور اور تابع ہو جا تا ہے اِس طرح روزے کے ذریعے نفس کی سرکشی اور بغاوت بھی دور ہو جا تی ہے دوئم اِس پر عبادت کا بہت سارا بو جھ ڈال دیا جا ئے جس طرح سرکش گھوڑے کو گھاس دانہ کم دیا جا ئے اور اس پر بوجھ زیادہ لاد دیا جا ئے تو وہ سرکشی چھوڑ کر نرم ہو جا تا ہے اِسی طرح انسان کا نفس بھی نرمی اختیا ر کر جا تا ہے انسان کی سرکشی اور نفس کی بغاوت دوسرے انسانوں کے لیے تکلیف دہ ہو تی ہے روزہ ہی واحد عبادت ہے کہ انسان کی شرکشی اور بغاوت کو نر می میں ڈھالا جا سکتا ہے اِس لیے کثرت سے عبادات اور استغفار بھی کر نا چاہئے روزے کی افادیت اِس لحاظ سے بھی بہت بڑھ جا تی ہے کہ پریشان بھوکا پیاسا دولت مند ہی کسی دوسرے کی بھوک اور پیاس کا احساس کر سکتاہے روزے کی حالت میں جب سرمایہ دار اور فیکٹریوں کے مالک بھوک پیاس محسوس کر تے ہیں تو انہیں وطن عزیز میں پھیلے ہو ئے کروڑوں غریبوں مسکینوں کی بھوک اور پیاس کا شدت سے احساس ہو تا ہے یہ امیر لو گ جب اہل خانہ اور بچوں کو روزے کی حالت میں بھوکے پیا سے دیکھتے ہیں تو انہیں شدت سے غریبوں کے بچے یا د آتے ہیں تو پھر اِن کے دلوں میں دوسروں کی پیاس اور بھوک کا احساس بیدار ہو تا ہے کہ ملک میں لاکھوں مفلوک الحال بھوکے پیا سوں کی مدد کی جا ئے لوگوں میں صدقہ خیرات بانٹے جا ئیں سرمایہ داروں کو اگر روزے کی حالت میں بھوک پیاس کی شدت کا احساس نہ ہو تو کبھی بھی اِنہیں دوسروں کی بھوک پیاس کا احساس نہ ہو دولت مند سرمایہ دار اونچے شاہی محلوں جیسے گھروں میں رہنے والوں کے سامنے جب کو ئی بھوکا پیا سا ضرور ت مند ہا تھ پھیلاتا ہے تو یہ ان کو نہیں دیں گے کیونکہ یہ بھوک پیاس سے واقف ہی نہیں لیکن روزے کی وجہ سے یہ امیر لوگ بھی بھوک پیاس سے واقف ہو تے ہیں اِس لیے جب کو ئی ضرورت مند اِن کے سامنے سوالی بن کر آتا ہے تو یہ ان کو دیتے ہیں کہ کیونکہ روزے کی بدولت یہ بھوک پیاس سے واقف ہو چکے ہو تے ہیں اللہ تعالی نے انسانوں کی تربیت کے لیے روزے فرض کئے ہیں تا کہ اِس تربیت کے اثرات سال کے باقی مہینوں پر بھی پڑیں اِس کے لیے اللہ تعالی نے مسلمانوں کو بہت زیادہ ترغیب دی ہے تا کہ انعام کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگ روزے رکھیں پیارے آقا ﷺ کا فرمان مبارک ہے جس نے رمضان کے روزے محض اللہ کے لیے تو اس کے سب اگلے پچھلے گناہ صغیرہ بخش دئیے جا ئیں گے سرور کائنات ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ روزے دار کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیا دہ پیا ری ہے قیامت کے دن روزے کا بے حد ثواب ملے گا عبا دات کے مقاصد میں قرب الہی کے علاوہ ایک صالح معاشرے کا قیام بھی ہے رمضان شریف میں ہمیں یہ روح واضح طور پر نظر آتی ہے جب لوگ صدقہ خیرات کر تے نظر آتے ہیں مساجد نمازیوں اور عبادت گزاروں سے بھر جا تی ہیں روزہ صرف بھوک پیاس کا نا م نہیں ہے بلکہ با طنی طہارت کا بھی ذریعہ ہے ۔ محبوب خدا ﷺ کا فرمان ہے کہ تم میں سے کو ئی روزہ سے ہو تو نہ بد کلامی اور فضول گو ئی کر ے اور نہ شور و شر کر ے اگر کو ئی گالی دے اور لڑے جھگڑے پر آمادہ ہو تو یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں (بخاری شریف)آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا جس نے جھوٹ بو لنا اور اس پر عمل کر نا نہ چھوڑا تو اللہ تعالی کواس کی کو ئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑدے حدیث شریف میں آتا ہے کتنے روزے دار ہیں جن کو ان کے روزے کے بدلے سوائے پیاس کے کچھ ہا تھ نہیں لگتا اور کتنے ایسے عبادت گزار ہیں جن کو قیام میں شب بیداری کے سوا کچھ نہیں ملتا ( بخاری شریف )۔ حضرت ابو عبیدہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے جب تک اِس کو پھاڑ نہ ڈالا جا ئے سوال کیا گیا کہ کس چیز سے پھا ڑ ڈالے ارشاد ہوا جھوٹ اور غیبت سے ۔ اگر ہم روزہ رکھتے ہیں سارادن بھوک پیاس بھی برداشت کر تے ہیں عبادت نمازیں قرآن مجید بھی پڑھتے ہیں لیکن جھوٹ غیبت لڑائی جھگڑا کر نے سے باز نہیں آتے تو ہما ری عبادت اور روزہ قبول نہیں ہو گا بلکہ رد کر دیا جا ئے گا روزے کا ثواب کے حق دار ہم تب ہیں ہو گے جب ہم تمام امور کا خیال رکھیں گے ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9948

آزادانہ انتخاب؟ ……….. پیامبر………تحریر: قادر خان یوسف زئی

نواز شریف اور ان کی مشاورتی ٹیم نے اپنے بیانیے میں تبدیلی کے بجائے شدید تنقید کی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے۔ اداروں کے خلاف بیانات کا سلسلہ اُسی شدومد سے جاری ہے۔ اسلام آباد دھرنے میں مظاہرین کو ہزار ہزار روپے تقسیم کرنے کے حوالے سے بیان سامنے آنے کے بعد لگتا ہے کہ نواز شریف اپنے انتخابی بیانیے میں تبدیلی کے خواہاں نظر نہیں آتے۔ عوام میں مجھے کیوں نکالا؟، تحریک بحالی عدل اور پھر ووٹ کو عزت دو کے انتخابی نعرے کی پذیرائی میں بتدریج کمی ہورہی ہے۔ پاکستان میں حکومت کی رِٹ نہ ہونے کا جواب خود میاں نواز شریف کے پاس ہے۔ خلائی مخلوق اور شفاف انتخابات پر شکوک والا بیان سیاسی فرسٹریشن کا اظہار ہے، جس کا واحد مقصد اداروں کے ساتھ تنازعات کو مزید ہوا دینا ہے۔ دوسری جانب صائب مشورہ دیا جارہا ہے، انہیں اپنے ترقیاتی کارناموں کی بنیاد پر انتخابات کی تیاری کرنی چاہیے، اداروں کے ساتھ محاذ آرائی میں شدت کا وقت بیت چکا۔ اب تمام تر توجہ عام انتخابات پر مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دو متضاد موقف سامنے آرہے ہیں جس میں ایک جانب اس کے مرکزی صدر شہباز شریف اداروں کے خلاف بیانات میں محتاط و سیاسی مخالفین کے لیے سخت نظر آتے ہیں تو دوسری طرف سابق وزیراعظم اپنے بیانیے کو تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں۔ (ن) لیگ کے دونوں قائدین کے متضاد بیانات نے کارکنان کی سوچ کو مزید منتشر کردیا ہے کہ وہ اپنے سابق مرکزی صدر کی پالیسی پر چلیں یا پھر موجودہ مرکزی صدر کی پالیسی اپنائیں۔
مسلم لیگ (ن) کی متضاد پالیسیوں نے کارکنان کے جوش و جذبے میں کمی لانا شروع کردی ہے۔ نواز شریف ہر جلسے میں کارکنان سے اپنے ساتھ وفاداری کا حلف لیتے نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب دیگر سیاسی جماعتوں کے عام انتخابات میں حصہ لینے کی تیاریوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی مقدس جنگ کی تیاری میں ہزاروں فدائیوں کو تیار کررہے ہوں۔ ہوش و تدبر سے خالی کھوکھلی تقاریر اور اشتعال انگیزی سیاسی جماعتوں کے کارکنان میں عدم برداشت کا سبب بن رہی ہے۔ گالی، سیاہی، جوتے اور اب گولی کی سیاست نے انتخابی عمل کے پُرامن ہونے پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ممکن نہیں کہ ہر امیدوار کی کارنر میٹنگ اور اس کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کرے۔ ہزاروں امیدواروں کے ساتھ لاکھوں کارکنان بھی مختلف خطرات کا سامنا کررہے ہیں، ذاتی سکیورٹی گارڈ رکھنے پر سوالات کھڑے کردیے جاتے ہیں۔ لیکن اہم بات یہ کہ ہم نے ایسے سیاسی حالات پیدا کیوں نہیں کیے جس میں کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنما یا امیدوار کے لیے بے خوف و خطر اپنی جماعت کے منشور کو پیش کرنے اور ووٹ کے حصول کے لیے پُرامن ماحول میسر ہو۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنے بیانات کا موازنہ کریں تو ان کی تقاریر میں کارکنان میں جوش کے بجائے ہوش کھونے کی ترغیب ہی ملے گی، عدم تشدد کے بجائے عدم برداشت کا سبق ملے گا۔ جب سیاسی قائدین اپنی جذباتی تقاریر میں ہزاروں کے مجمع میں مخالفین کے خلاف سخت رویہ اختیار کریں گے تو اس کے اثرات ہمیں نچلی سطح پر نظر آئیں گے۔(ن) لیگ کے رویوں کے سبب ہی انہیں سیاسی نقصان پہنچ رہا ہے۔ چوہدری نثار کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے بانی اراکین میں صرف نواز شریف کے ساتھ وہ اکیلے رہ گئے ہیں۔ اسی طرح سندھ بلوچستان میں عدم توجہ کے سبب بلوچستان عوامی پارٹی نے (ن) لیگ کو آئندہ انتخابات میں بھی سیاسی نقصان دینے کا ارادہ پختہ کرلیا ہے۔ سب سے اہم جنوبی صوبہ پنجاب کے حوالے سے بننے والے نئے الائنس کا تحریک انصاف میں ضم ہونے کا فیصلہ بھی شریف برادران کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ خیبر پختونخوا، فاٹا میں اصلاحات کے ضمن میں اپنے اتحادیوں کے لیے سست روی کے مظاہرے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو مزید سیاسی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ سندھ کو (ن) لیگ کی سیاسی توجہ بہت تاخیر سے حاصل ہوئی ہے، اس لیے عوام میں اپنا اعتماد پیدا کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب جب سندھ کی بدترین حالت کا اپنے صوبے سے موازنہ کرتے ہیں تو شاید انہیں علم نہیں کہ عوام میں غیر ارادی طور پر غصے کی لہر بھی دوڑ جاتی ہے کہ وفاق میں پانچ برس رہنے کے باوجود اب نت نئے وعدے کرکے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ سندھ کے لیے خصوصی پیکیج پہلے بھی دیا جاسکتا تھا۔ (ن) لیگ اپنے تاریک مستقبل کے اے این پی اور ایم کیو ایم کے کندھوں پر روشن ہونے کی خواہش رکھتی ہے، لیکن سندھ کے دیہی علاقوں میں سندھی قوم پرست جماعتوں اور پی پی پی کے ٹکرائو کے درمیان مسلم لیگ (ن) کو جگہ ملنا مشکل ہے۔سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ جس طرح گزشتہ عام انتخابات میں اے این پی اور پی پی پی کو دیوار سے لگاکر تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔ اسی طرح موجودہ صورت حال بتدریج مسلم لیگ (ن) کے لیے ناخوشگوار بن سکتی ہے اور انتخابی اصلاحات میں دانستہ غلطی کا خمیازہ انہیں مزید بھگتنا پڑسکتا ہے۔ اس وقت تین مذہبی الائنس تشکیل پاچکے ہیں۔ مذہبی الائنس پر عوام کا اعتبار ووٹ دینے کے معاملے میں ہمیشہ دشوار رہا ہے، تاہم جس طرح رجحان بنایا جارہا ہے، اس سے لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو ختم نبوتﷺ کے نامزدگی فارم میں دانستہ غلطیوں کی سزا دینے کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے۔ مذہبی عدم برداشت ہمارے معاشرے کا جزولاینفک بن چکی ہے۔ مسالک، فرقوں اور مذہب کے نام پر کسی بھی وقت کسی کے بھی جذبات کو مشتعل کردینا ایشیائی ممالک میں عام سی بات ہے۔ جلتی پر تیل ڈالنے میں مہارت رکھنے والے سیاست دانوں اور ان کے پیروکاروں نے جس طرح مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے، اس کی کئی مثالیں سامنے آچکی ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے مختلف الائنس بننے کے بعد مذہبی ووٹ تقسیم ہوگا اور اس کا براہ راست فائدہ سیکولر جماعت کو پہنچے گا۔ ایک جانب نواز شریف ذہنی انتشار اور خوش فہمی کا شکار ہیں تو دوسری طرف ماحول اس طرح ترتیب دیا جارہا ہے کہ شکوک و شبہات کو فروغ مل رہا ہے۔ جس کی واضح مثال تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا انتخابات میں تاخیر سے متعلق اظہار خیال ہے۔ حیران کن بات ہے کہ قبل ازوقت انتخابات کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے اور لینے والی جماعت عام انتخابات میں تاخیر کی حمایت میں کمزور موقف کو پیش کررہی ہے تو دوسری طرف پاکستان کو درپیش مشکلات سے نکالنے کی خاطر کسی لائحہ عمل اور حکمت عملی کے فقدان نے آنے والی کسی بھی حکومت کے لیے خطرے کا الارم بجادیا ہے۔ اس وقت ملک کو بیرونی قوتوں سے زیادہ اندرونی خلفشار اور ریشہ دوانیوں سے خطرہ ہے۔ جس کے سدباب کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے سنجیدہ پالیسیوں کا نہ ہونا مایوس کن اور تشویش ناک عمل ہے۔ عوام کو آگاہ نہیں کیا جارہا کہ سیاسی جماعتیں پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے کیا منصوبہ بندی رکھتی ہیں، ہزاروں ارب ڈالر کے قرضوں اور سود سے نجات کے لیے ان کے پاس کون سا معاشی پروگرام ہے۔ توانائی اور پانی کے عظیم بحران سے قوم کو نکالنے کے لیے ان کے پاس کون سے ہنگامی اقدامات ہیں۔ مسلم اکثریتی ممالک، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ساتھ پاکستان کی مسلم آبادی کی مذہبی وابستگی میں ایران و سعودی جنگ کے مضمرات کو روکنے کے لیے کونسا عملی قدم اٹھایا جاسکتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ مسلسل بگڑتے تعلقات اور امریکا کے ڈومور دبائو سے نکلنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اس پر خاموش ہیں۔ اگر سی پیک منصوبہ نہیں ہوتا تو کیا ان کے پاس پاکستان کے روشن مستقبل کا دوسرا خوش نما خواب عوام کو مطمئن کرنے کے لیے موجود تھا؟ عوام مسلسل مسائل میں پس رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیسی آزادی ہے؟ کیا ایسی آزادی کے لیے پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ قیام پاکستان کے مقاصد کیا ہوئے؟ عجیب المیہ ہے کہ آج سیاست دانوں کو اداروں پر اعتماد نہیں تو اداروں کو سیاست دان پر اور عوام کو سیاست دانوں پر اعتماد نہیں۔ غیر ملکی قوتوں سے پاکستانی عوام کب آزاد ہوں گے کوئی نہیں جانتا۔ بس سب کا یہی کہنا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے انہیں وزارت عظمیٰ پر بٹھا دیا جائے تو پاکستان کے سب مسائل چٹکی بجاتے ہی حل ہو جائیں گے۔ اب ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہمارے حق میں کیا بہتر ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9930

ضلعی انتظامیہ اور لیٹریری اینڈکلچرکونسل کے مشترکہ تعاون سے ثقافتی سیمینارکا انعقاد

Posted on

چترال ( جمشید احمد)ملکی کپ پولو ٹورنامنٹ اور جشن چترال کے موقع پر ضلعی انتظامیہ اور لیٹریری اینڈ کلچرکونسل کی مشترکہ تعاون سے کامرس کالج چترال ہال میں ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارات پرنسپل کامرس کالج چترال صاحب الدیں نے کی جبکہ مہماں خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال منہاس الدیں تھے سیمینار میں ادباء شعراء اور مختلف مکاتب فکر کے افراد کی کثیر تعداد شر کت کی نظامت کی فرائیض عطاء حسین اطہر اور ظہور الدیں دانش نے انجام دی ۔قاری فدا کی تلاوت کلام پاک سے سیمنار کا اغاز کیا گیا پروگرام میں مقالے پیش کیے گئے ۔ کہوار موسیقی حال ماضی مستقبل کے حوالے سے خطاب کر تے ہوئے سابق ڈی ای او محکمہ ایجو کیشن مکرم شاہ نے کہا موسیقی عالمی ہو یا ملکی اس کی پیدائیش کے حوالے سے کوئی حتمی رائے قائیم نہیں کی جا سکتی تاہم کھوار موسیقی ان اریوں کی اپنے ساتھ لائی ہوئی موسیقی سے جنم لیتی ہے جس کی تاریخ بہت پرانی ہے مولا نگاہ نگاہ کا مقالہ پیش کر تے ہوئے محبوب الحق حقی نے کہا زمانے کی تبدیلی کے ساتھ موسیقی میں تبدیلی ناگزیر ہے لیکن کہوار موسیقی میں برق رفتار تبدیلی شاعری میں بلاوجہ تبدیلی ہے کہوار موسیقی اور کلچر کے حوالے سے بات کر تے ہوئے ڈاکٹر فیضی نے کہا کسی بھی قوم اور قبیلہ اپنی ثقافت کی وجہ سے مشہور ہوتے ہیں اور موسیقی ثقافت کا ایک حصہ ہے اور چترالی ثقافت اور موسیقی وقت کے ساتھ ساتھ پرورش پاتی ارہی ہے سیمینار کے مہماں خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال منہاس الدیں نے خطاب کر تے ہوئے کہا چترال کی موسیقی دنیا کی کسی بھی موسیقی سے کم نہیں ہے اور ہم ملکر اپنی موسیقی کی فروغ میں کردار ادا کر نی چائیے۔ اس کے علاوہ ایڈوکیٹ عبدالوالی خان عابد، کوثر ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیے اخر میں یہ پروگرام صدرے محفل پرنسپل صاحب الدیں کی صدارتی خطاب کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
cultural seminar chitral 2

cultural seminar chitral 3

cultural seminar chitral 4

cultural seminar chitral 5

cultural seminar chitral 6

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9903

کالاش تہوار چیلم جوشٹ اخری مراحل میں داخل ، اختتامی تقریب 16مئی کو بمبوریت میں منعقد ہوگی

Posted on

چترال (محکم الدین ) ہندوکُش کے قدیم ترین تہذیب و ثقافت اور مذہب کے حامل کالاش قبیلے کا مذہبی تہوار چلم جوشٹ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے ۔ 14مئی سے 16مئی تک تہوار ڈھول کی تھاپ پر رقص کے ساتھ منانے کے بعد اختتام م پذیر ہو گا ۔ تہوار کی کئی رسمیں اب تک ادا ہو چکی ہیں ۔ جبکہ مزید رسمیں آخری دنوں میں ادا کی جائیں گی ۔ ویلیز اپنی خوبصورتی کے آخری حدوں کو چھو رہے ہیں ۔ تو کالاش خواتین اپنی روایتی ملبوسات میں اس منظر میں پریوں کی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں ۔ خوشی اور محبت کا ماحول ہے ۔ اور مہمانوں کا ایک جم غفیر ہے ۔ جو بیرونی دنیا اور پاکستان کے مختلف شہروں سے فیسٹول میں شرکت کرنے اور لطف اندوز ہونے کیلئے یہاں پہنچ چکے ہیں ۔ اس سال غیر ملکی سیاحوں کی بہت بڑی تعداد جہاں ایک طرف اس شعبے سے وابستہ لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ بن گئے ہیں وہاں دوسری طرف اُن کی آمد علاقے میں امن کی بحالی اور تفریحی ماحول کو اُجاگر کرنے کا سبب بن گیا ہے ۔ چترال شہر اور ویلیز سب جگہوں میں ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے ۔ اور اُنہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ چلم جوشٹ میں شرکت کرنے والے سیاحوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہونے کی وجہ سے ویلیز کے ہوٹلز پہلے سے ہی بُک ہو چکے ہیں ۔ تاہم مختلف ہوٹلوں اور ٹوررزم کاپوریشن خیبر پختونخوا کی طرف سے کیمپنگ کے انتظامات کر دیے گئے ہیں ۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ تہوار کے شروع ہونے سے پہلے ہی مقامی ہوٹلوں کے مالکان سے میٹنگ کرکے سیاحوں کو صاف ماحول ، صاف خوراک فراہم کرنے ا ور مناسب قیمت وصول کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ تاکہ سیاحت پر منفی اثر نہ پڑے ۔ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ایک بہتر قدم یہ اُٹھایا گیا ہے ۔ کہ غیر ملکی سیاحوں کو سکیورٹی کے نام پر جس طرح یرغمال بنایا جارہاتھا ۔ اس میں نرمی کی گئی ہے ۔ جس سے غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے ۔ اور ماحول سیاح دوست بن گیا ہے ۔ چلم جوشٹ کالاش قبیلے کا انتہائی معروف تہوار ہے ۔ جو ہر سال ماہ مئی میں منایا جاتا ہے ۔ یہ تہوار دراصل سردیوں کے مشکل ماحول سے نکل کر بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے ۔ اور اس تہوار کے اختتام پر مال مویشیوں کو چرانے کیلئے گرمائی چراگاہوں کی طرف لے جایا جاتا ہے ۔ جہاں چہار مہینے اُنہیں پہاڑوں پر رکھنے کے دوران دودھ سے پنیر دیسی گھی وغیرہ تیار کرکے اُنہیں سردیوں کیلئے سٹور کیا جاتا ہے اور خزان کا تہوار اُچال کے موقع پر مال مویشیوں اور دودھ سے تیا ر شدہ اشیاء کو گاؤں لایا جاتا ہے ۔ چلم جوشٹ اسی خوشی کا اظہار ہے ۔ کہ سردیوں کی مشکلات کے دن گزر گئے ۔ اور راحت و خوشی کے دن موسم گرما کی صورت میں آگئے ہیں ۔ کالاش قبیلے کے لوگ تین وادیوں بمبوریت ، بریر اور رمبور میں آباد ہیں ۔ جن کی مجموعی گھرانے 515اور کل آبادی 4165افراد پر مشتمل ہے ۔ یہ قبیلہ تقریبا ساڑھے چار ہزار سالوں سے اس خطے میں آباد ہے ۔ جو کسی زمانے میں صوبہ کنڑ افغانستان سے چترال کے بالائی علاقوں اور گلگت تک پھیلے ہوئے تھے ۔ تاہم آج یہ تین وادیوں تک محدود ہیں اور اپنے مذہبی تہوار آزادی سے مناتے ہیں ۔ جن میں چلم جوشٹ تہوار کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , ,
9871

شندورکیلئےاس سال سول پول سے بھی کھلاڑیوں کا چناؤ عمل میں لایا جائے۔۔پولو کھلاڑی گلگت بلتستان

Posted on

گلگت(چترال ٹائمز رپورٹ) جشن بہاراں پولو ٹورنامنٹ کے شاندار انعقاد پر ہم صوبائی و ضلعی پولو ایسو سی ایشن کو مبارکبار پیش کرتے ہیں جنہوں نے بغیر کسی لڑائی جھگڑے اور کوئی خاص سیکیورٹی کے اتنی بڑی تعداد میں شائقین پولو کو کنٹرول کیااور ایونٹ کے انعقاد کے لئے بہترین انتظامات کئے۔ان خیالات کا اظہار مختلف اضلاع سے آئے ہوئے پولو کھلاڑیوں جن میں عمران احمد، امتیاز، عامر خان، ندیم ناصر، کامران اشرف، عدنان، اشرف خان ، عبدالقدوس ، عابد اقبال ، مرزہ جان ، تقی علی، سہیل و دیگر نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ پولو واحد کھیل ہے جس میں زیادہ سے زیادہ لوگ موجود ہوتے ہیں جس کے ذریعے سے امن و بھائی چارگی کی فضاء اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے جس پر ڈائریکٹر گلگت بلتستان سپورٹس بورڈ حسین علی صوبائی و ضلعی پولو ایسو سی ایشن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ پولو کھیل کے ترویج کے لئے بھر پور اقدامات کئے جس پر انہیں ایوارڈ سے نوازا جائے ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان و چیف سیکریٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کھیلوں کے بادشاہ اور بادشاہوں کے کھیل پولو کے کھیل کے لئے اقدامات کریں اور شندور کے لئے اس سال سول پول سے بھی کھلاڑیوں کا چناؤ عمل میں لایا جائے۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , ,
9863

جوشی فیسٹیول کیلئے غیر ملکی سیاحوں نے چترال کا رخ کرلیا

Posted on

چترال(چترال ٹائمز رپورٹ) کالاش ویلی میں منعقد ہونے والے چلم جوشٹ (جوشی ) فیسٹیول میں بین الاقوامی سیاحوں نے چترال آنا شروع کردیا، محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا کی جانب سے سیاحوں کو چترال، کالاش ، بونی ،شندور، گرم چشمہ اور دیگر سیاحتی مقامات کے بارے میں معلومات فراہمی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ساتھ ہی جوشی فیسٹیول میں ایڈونچر کے شوقین سیاحوں کیلئے ٹینٹ ویلیج بنائی گئی ہے تاکہ سیاحوں کی کثیر تعداد کی صورت میں انہیں رہائشی سہولیات فراہم کی جاسکیں، تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز فرانسیسی اور آسٹریلین سیاحوں کی فیمیلز نے ٹورازم کارپوریشن کے چترال میں موجود انفارمیشن سنٹر کا دورہ کیا اس موقع پر وہاں موجود ٹی آئی سی انچارج زرین نے تمام سیاحوں کو چترال کے سیاحتی مقامات بارے معلومات فراہم کیں جبکہ ساتھ ہی ان سیاحوں نے کالاش میں 14مئی سے شروع ہونے والے جوشی فیسٹیول میں شرکت کی دلچسپی ظاہر کی، اس موقع پر سیاحوں کا کہنا تھا کہ محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا کی جانب سے چترال میں سیاحوں کیلئے انفارمیشن سنٹر کا قیام احسن اقدام ہے اس سے سیاحوں کو چترال کے سیاحتی مقامات تک رسائی میں اہم معلومات مل رہی ہیں اوریہ معلومات ان مقامات تک پہنچنے میں بھی میسر ثابت ہورہی ہیں، سیاحوں کا کہنا تھا کہ سیاحوں کو اس قسم کی سہولیات کی فراہمی سے خیبرپختونخوا میں سیاحت کو فروغ ملے گا ، ٹی آئی سی انچارج زرین نے سیاحوں کو چترال میں سیاحت سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ چترال سیاحت کے لحاظ سے اہم ترین ضلع ہے اور ہر سال کثیر تعداد میں سیاح ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں جبکہ چترال کی ثقافت ہزاروں سال پرانی ہے ۔
Chitral tourists 2

Chitral tourists 3

Chitral tourists 4

Chitral tourists 5

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9835

ڈھول،ڈھونڈورا اور سیاست…………… شمس الرحمن تاجک

ڈھول پیٹنااگر باقاعدہ فن ہے، تو ڈھونڈورا پیٹنا ایک پروفیشن۔ہمارے پیارے ملک میں یہ دونوں فن ہر پلیٹ فارم خصوصاً سیاسی پلیٹ فارم پر بے تحاشا استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس فن میں مہارت کے لئے چند لوازمات کا ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ ان لوازمات میں بوقت ضرورت جوڑ توڑ کے قابل یعنی لچکدار نظریات، مردہ ضمیر، ٹرک بھر کے بے شرمی، ہٹ ڈھرمی، پرخلوص رشتوں اور تعلقات سے دوری، سندیافتہ چمچے ڈھونڈنا اور پالنا، دوسروں کی تصدیق شدہ چمچوں پر قبضہ کرنا اور ان کو پروٹوکول ایسے دینا جیسے وہ فرشتے ہوں، کسی بھی ڈھونڈرا اور ڈھول پیٹنے والے کے لئے از بس ضروری ہیں۔ جب یہ سب لوازمات پورے ہوجائیں پھر کسی بھی چوراہے اور چوک پر چلے جائیں آپ کے لئے اونچائی پر اسٹیج بنایا جاچکا ہوگا۔ اسٹیج کے سائز سے آپ اندازہ لگالیں کہ عوام کتنے بے وقوف اور کم عقل ہیں جوہرمداری کو مسیحا سمجھتے ہیں۔ لہذا آپ بھی مسیحا ہیں ! مسیحا کے سامنے دست سوال دراز کیے جاتے ہیں ان سے سوال پوچھنے والا کون؟۔ چونکہ بطور انسان جو خوبیاں یا عادتیں ہونی چاہئے اس سے آپ اپنے آپ کو الگ کرچکے ہیں لہذا اسٹیج پر کھڑے ہو کر مارکیٹ میں وائرل ٹرینڈ پر بے تکاں بولنا شروع کردیں۔ آپ کچھ بھی بولیں گے شرطیہ تالیاں بجیں گی۔یہ ہماری تاریخ ہے کہ اسٹیج پر کھڑے ہو کر لوگوں سے ’’مرنے‘‘ کا وعدہ لو آپ سے کوئی نہیں پوچھے گا ۔ وہ تالیاں بجائیں گے۔ حالانکہ آپ کے اسٹیج یا تخت طاوس کے گرد کھڑے چوپائیوں کو پتہ ہوتا ہے کہ آپ غلط بول رہے ہو۔ چونکہ آپ ڈھونڈورا پیٹنے کے ماہر ہیں اس لئے ضروری نہیں کہ آج آپ جس کی تعریف کررہے ہیں کل بھی آپ کی منظور نظر وہی شخص ہو۔دوسرے دن اسی چوک پر مجمع لگا کر آپ کسی اور کو فرشتہ ثابت کریں۔ پوچھنے والا کوئی نہیں۔
17 اگست 1988 کو جنرل ضیاء الحق ہوائی حادثے کا شکار ہوئے۔ اس وقت تک مجھ سمیت پتہ نہیں کتنے لوگوں کو کامل یقین تھا کہ بھٹو زندہ ہیں۔ ضیاء الحق کی موت کے بعد بے نظیر بھٹو کی مقبولیت کا گراف جب اوپر بلکہ بہت زیادہ اوپر جا رہا تھا تو گاوٌں کے تقریباً 90 فیصد لوگوں کو یہ یقین تھا کہ بے نظیر بھٹو کی الیکشن کمپئن بھٹو ہی چلا رہے ہیں ۔ لوگ بھٹو کی مستقبل کی پلاننگ تک بتاتے تھے کہ جیسے ہی بے نظیر انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کریں گے بھٹو اپنی روپوشی کی زندگی ختم کرکے عوام میں آئیں گے ضیاء الحق کے بعد بھٹو کے لئے ایک بار پھر میدان صاف ہوگیا ہے۔ لہذا ہم مزید کئی سالوں تک گاؤں کی ہر گلی کوچے میں بھٹو کو ڈھونڈتے رہے۔ وہ کسی گلی میں موجود نہیں تھے ، بہت عرصے بعد پتہ چلا کہ بھٹو صاحب کے زندہ ہونے کا صرف ڈھونڈورا پیٹا جارہا تھا وہ بذات خود اس دنیاسے کئی سال پہلے یہ کہہ کررخصت ہوچکے تھے کہ ’’ میری پارٹی کو زندہ سے زیادہ مردہ بھٹو کی ضرورت ہے‘‘۔ پھر ڈھول او رڈھونڈورے کا کمال آج تک چل رہا ہے۔ حالانکہ بھٹو کے قتل کو حلال قرار دینے والے افراد آج بھٹو کی پارٹی کا حصہ ہیں اور ، ڈھول اور ڈھونڈورے کے ذریعے بھٹو کو زندہ ثابت کرنے پر اب بھی تلے ہوئے ہیں۔

ڈھول اور ڈھونڈورے کی ایک نئی کہانی پانامہ والی بھی ہے۔ اس کہانی کو غلط ثابت کرنے کے لئے جتنے دن کیس چلا۔ اتنے ہی دن سینکڑوں کے حساب سے ڈھونڈورچی عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا کے سامنے سیاہ کو سفید ثابت کرنے کے لئے جو کچھ کرتے رہے اس کی توقع کیا کسی ہوش و حواس کے مالک انسان سے رکھی جاسکتی ہے۔ عوام نام کے گدھے اب اتنے بھی گدھے نہیں رہے۔ ان کو کچھ اور نہیں تو کم از کم نفرت سے چینل بدلنا تو آتا ہے۔ اگر آپ ہر چینل پر نظر آئیں گے تو پھر دوسر ے ممالک کے چینلز تو موجود ہی ہیں۔ ان سب کے باوجود عدالتی کارروائی کے بعد دونوں فریق اپنے اپنے ڈھول لے کر گھنٹوں بیٹھ جاتے تھے اور اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کیا کیا جھوٹ نہیں بولے، دل کھول کر بولے۔اتنی شدت سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ غریب عوام کنفیوژن کا شکار ہوگئی ان میں سے صحیح کون ہے اور غلط کون۔ وہی کنفیوژن ہے کہ آج بہت کچھ ثابت ہونے کے باوجود ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ بھی ثابت نہیں ہوا۔ یہ سب کچھ ڈھول اور ڈھونڈورے والوں کا ہی کمال ہے۔
ڈھول اور ڈھونڈورا والوں کا ایک نیا بینڈ بھی مارکیٹ میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ جتنی تیزی سے عوام میں مقبول ہوگیا تھا اب اتنی ہی تیزی سے انتخاب جیتنے والوں میں مقبول ہورہا ہے۔ آخر کیوں نہ ہو ۔ آپ پر کوئی بھی کیس بنا ہو۔ کسی بھی سطح کے کرپشن کا غلط یا صحیح آپ حصہ رہے ہوں مگر جیسے ہی اس نئے بینڈ کو جوائن کرتے ہیں ۔ دودھ کے دھلے بن کر نکلتے ہیں۔ فرشتے آپ کی قسمت پر عش عش کراٹھتے ہیں۔

اب چونکہ انتخابات کا موسم شروع ہوگیا ہے اس لئے ڈھول اور ڈھونڈورے والوں کی چاندنی ہوگئی ہے۔ ایسے ایسے ساز دریافت ہورہے ہیں جس سے ڈھول والے گدھے اور گھوڑے کی تمیز کئے بغیر جس کو چاہیں فرشتے ثابت کریں۔ جس کے سر پر چاہیں تاج سجائیں اور جسے چاہیں خاک میں ملا دیں۔ مخلوق خدا پھر سے شش و پنچ میں گرفتار ۔ کہ کس کا ساز صحیح ہے اور کس کے ڈھول کی آواز اچھی۔ اس سارے منظر میں ہمارے نمائندے بھی بہت سارے کام کرتے ہیں ان کو کم از کم اس بات کی شاباشی تو دینی ہی چاہئے کہ وہ کم از کم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ عوام کو زندگی کی ہر سہولت سے جتنی ممکن ہو دور رکھا جائے تاکہ وہ ہر چھوٹے مسئلے کے لئے ان کی طرف دیکھیں اور ان کی ملازمت چلتی رہے۔ رہی بات عوام کی تو عوام نے بھی آج تک ڈھول کی آواز اور ڈھونڈورچی کی مہارات کو ووٹ دیا ہے آئندہ بھی ان سے یہی توقع ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9826

آتھک ہائیڈور پاؤراورایریگشن چینل منصوبے پراکتوبر 2018تک کام شروع کیا جائیگا۔۔شہزادہ افتخار

Posted on

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال سے ممبرقومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین نے کہا ہے کہ موڑکہو کے عوام کا درینہ مطالبہ آتھک منصوبے پر تعمیراتی کام اس سال ستمبر یا اکتوبر کے مہینے شروع کیا جائیگا ۔ جس کیلئے فنڈنگ کے تمام انتظامات کرلئے گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں گزشتہ دن ایم این اے نے ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل ، جنرل آفضل سے ملاقات کے بعد چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آتھک 200MWمیگاواٹ بجلی گھر کیلئے چائنیز بینک فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو فنانس کرینگے ۔ جس کے لئے انتظامات کو حتمی شکل دید ی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل رمضان المبارک کے بعد چترال کا دورہ کرینگے ۔ اور حالات سازگار رہے تو ستمبر یا اکتوبر 2018تک اس اہم منصوبے پر کام شروع کیا جائیگا۔
ایم این اے نے مذید بتایا کہ آتھک منصوبے کے سلسلے میں صوبائی حکومت اور ایف ڈبلیو او کے درمیان مفاہمت میں تقریبا دوسال کا عرصہ لگا ۔ تاہم دیر آید درست آید کے مصداق ایف ڈبلیو او نے سیلف فنانس کے زریعے یہ اہم منصوبے کے تعمیر کیلئے تیار ہے ۔ جس کیلئے چائنیز بینک ایف ڈبلیو او کو 55بلین روپے مہیا کرینگے ۔ جبکہ چینل کیلئے ایشین بینک فنڈز مہیا کریگا۔
شہزادہ افتخار الدین نے مذید بتایا کہ اگست 2015میں سی پیک کے سلسلے میں انھوں نے ڈائریکٹر جنرل ایف ڈبلیو او کے ساتھ چین کے دورے کے موقع پر چترال میں بجلی اور مائننگ منصوبوں پر انوسٹمنٹ کی تجویز دی تھی ۔ جس پر ڈائریکٹر جنرل نے ایم این اے سے صوبائی حکام سے اس سلسلے میں میٹنگ کرانے اور مفاہمت کو حتمی شکل دینے میں مدد کا مطالبہ کیا جس پر ایم این اے نے پیڈ و کے چیف ایگزیکٹیو ،وزیر توانائی وبجلی اور وزیر اعلیٰ تک ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ میٹنگ کا اہتمام کرایا ۔ جس پر عمل ہوتے ہوتے دو سال کا عرصہ لگ گیا تاہم اب تمام انتظاما ت کو حتمی شکل دیدی گئی ہے ۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9801

پبلک سروس کمیشن سے پرنسپل کیلئے چترال سے فرخندہ جبین سمیت صرف دو خواتین نے کوالیفائی کرلیا

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن نے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکشن ڈیپارٹمنٹ میں پرنسپل اور وائس پرنسپل (فیمل ) بی پی ایس 18کے 107 اسامیوں کو حتمی شکل دیکر اپنی سفارشات جمعرات کے دن صوبائی حکومت کو ارسال کردیا ہے ۔ جن میں صوبے کے پانچوں زون کے امیدوار شامل ہیں ۔ جبکہ زون تھری چترال سے صرف دو امیدوار وں نے ٹیسٹ اور انٹرویو پاس کرکے پرنسپل کی اسامی کیلئے کوالیفائی کرلیا ہے ۔ ان میں فرخندہ جبین دختر عبد الکریم ساکن دنین اور حسینہ بی بی دختر عبد الحسین شامل ہیں ۔ واضح رہے کہ فرخندہ جبین کی حال ہی میں سبجیکٹ سپشلسٹ (اکنامکس) بی پی ایس 17کی پوزیشن پر بھی ترقی ہوئی تھی ۔

……………………………………………………………………………………………………………………………….

دریں اثنا خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کی سفارشات پر مجاز اتھارٹی (وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا )نے ڈاکٹر سہیل خان ولد ممتاز علی (جو اس وقت سیدو گروپ آف تدریسی ہسپتال سوات میں بحیثیت ڈسٹرکٹ سپیشلسٹ ای این ٹی خدمات انجام دے رہے ہیں) کی تقرری بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر ای این ٹی ،سیدو گروپ آ ف تدریسی ہسپتال سوات میں فوری اور باقاعدہ طورپر کی ہے ۔وہ ایک برس تک آزمائشی طورپر کام کریں گے،مذکورہ بالا تقرری کے بعد ڈاکٹر سہیل خان ولد ممتاز علی کو سیدو میڈیکل کالج سوات میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر ای این ٹی (بی ایس۔18 ) تعینات کردیاگیاہے۔ انہیں اپنی تقرری کے اعلامیے کے اجراء کے ایک ماہ کے اندر اپنے عہدے کاچارج سنبھالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس امر کااعلان محکمہ صحت حکومت خیبرپختونخوا کے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیاگیا۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9793

انتخابات کی گہما گہمی………………محمد شریف شکیب

الیکشن کمیشن نے 25یا26جولائی کو ملک میں عام انتخابات کرانے کی سمری تیار کرلی۔ حتمی شیڈول کا اعلان موجودہ اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد متوقع ہے۔ سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم پہلے سے شروع کردی ہے۔ تحریک انصاف نے آئندہ انتخابات کے لئے اپنے گیارہ نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کردیا ہے۔پورے ملک میں تعلیم اور صحت کا ایک ہی نظام، کرپشن کا خاتمہ، سیاحت کا فروغ، ٹیکس سسٹم میں بہتری، کم آمدنی والے لوگوں کے لئے پچاس لاکھ سستے مکانات کی تعمیر،زرعی ایمرجنسی کا نفاذ، جنوبی پنجاب کو صوبہ کا درجہ دینا ، فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام اورسرمایہ کاری کا فروغ پی ٹی آئی کے انتخابی منشور میں شامل ہیں۔ جلسے ، جلوس ، ریلیاں، شمولیتی تقریبات اورطوفانی دوروں کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن حیران کن طور پر پی ٹی آئی کے سوا کسی بھی جماعت نے اپنا انتخابی منشور اب تک عوام کے سامنے نہیں رکھا۔ تمام جماعتوں کے لیڈر جلسوں سے خطاب میں اپنی کامیابی کو ہی یقینی قرار دیتے ہوئے دوسری جماعتوں کو تگنی کا ناچ نچانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر نے فلاحی اسلامی ریاست کے قیام کو اپنا منشور قرار دیا ہے لیکن دینی جماعتوں کے انتخابی اتحاد یعنی متحدہ مجلس عمل کی طرف سے اب تک کسی مشترکہ منشور کا اعلان نہیں کیا گیا۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن ، اے این پی ، کیو ڈبلیو پی اور دیگر جماعتیں اپنا منشور پیش کرنے کے بجائے دوسری جماعتوں کو برا بھلا کہنے پر ہی اکتفا کر رہی ہیں۔جنوبی پنجاب کے ناراض مسلم لیگی رہنماوں کی شمولیت سے ملک کے بڑے صوبے میں تحریک انصاف کی پوزیشن دیگر جماعتوں کے مقابلے میں کافی مضبوط ہوئی ہے تاہم خیبر پختونخوا میں اب تک فیورٹ قرار دی جانے والی تحریک انصاف کو بی آر ٹی کی تکمیل میں تاخیر سے اور عوام سے کئے گئے بعض وعدے پورے نہ کرنے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت نے دیرینہ عوامی مطالبے پر اپرچترال کی ضلعی حیثیت بحال کرنے کا اعلان تو گذشتہ سال کیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے پولو گراونڈ میں بڑے جلسہ عام سے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ چند دنوں کے اندر ضلع اپرچترال کا نوٹی فیکیشن بھی ناقدین کے منہ پر مار دیا جائے گا۔ لیکن کئی مہینے گذرنے کے باوجود نئے ضلع کا اعلامیہ جاری نہ ہوسکا۔ جس کا نقصان عوام کو یہ ہوا کہ چترال کی ایک صوبائی نشست ختم کردی گئی۔ اگر حلقہ بندیوں کے اعلان سے چند دن پہلے بھی اعلامیہ جاری کیا جاتا تو اپر چترال کی صوبائی نشست بچ سکتی تھی۔اب شنید ہے کہ آئندہ چند روز میں نئے ضلع کا نوٹی فیکیشن جاری کیا جائے گا تاکہ انتخابی مہم کے دوران لوگوں کی تسلی کے لئے انہیں دکھایاجاسکے۔لیکن یہ نسخہ کارگر ہوتا نظر نہیں آرہا۔ کیونکہ اپرچترال کے لوگ ضلع کا اعلامیہ جاری کرنے میں تاخیر اور ایک صوبائی نشست کے خاتمے پر نالاں ہیں۔ انہیں قائل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر صوبائی نشست بحال نہ ہونے کی صورت میں انتخابات کے بائی کاٹ کا اعلان کیا تھا۔ مگرکوئی بھی دوسروں کے لئے میدان خالی چھوڑنے پر تیار نہیں۔ عین ممکن ہے کہ لوگ خود پولنگ اسٹیشنوں کا بائی کاٹ کریں۔2008کے بعد ملک میں جمہوری عمل بلاتعطل جاری ہے۔ اس دوران دو منتخب حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کرچکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جمہوری عمل جاری رہنے سے سیاسی جماعتوں اور عوام کی جمہوری تربیت ہوتی ہے۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی بدولت ان میں سیاسی شعور آچکا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں اور لیڈروں میں سیاسی شعور اب
تک بیدار نہیں ہوا۔ وہ آج بھی پچاس سال پرانے طرز کی سیاست کر رہے ہیں۔ گالم گلوچ، طعنہ زنی، دشنام طرازی اور الزامات کی سیاست کے باعث لوگوں کا اعتماد جمہوری عمل سے اٹھتا جارہا ہے۔ لوگوں کو گھروں سے نکال کر پولنگ اسٹیشن لانے کا کوئی منشور سیاسی جماعتوں کے پاس نہیں ہے۔ اس لئے آئندہ عام انتخابات میں بھی پولنگ کا ٹرن آوٹ مایوس کن رہنے کا اندیشہ ہے۔ جس کے ذمہ دار سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین ہیں۔سیاسی نظام سے لوگوں کا دل اچاٹ ہونے کی ایک بڑی وجہ موروثی سیاست بھی ہے۔ سیاسی خاندان دوسروں کے لئے جگہ چھوڑنے کو کسی قیمت پر تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان، تعلیم یافتہ اور متوسط طبقے کے قابل لوگوں کے لئے ہماری سیاست میں اب بھی کوئی گنجائش نہیں۔ جو سیاسی انخطاط کا بنیادی سبب ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9791 9787

چترال لیویز کے 23جوانون کو اگلے عہدوں پر ترقی دے دی گئی

Posted on

چترال ( نمایندہ چترال ٹائمز ) چترال لیویز کے 23جوانون کو اگلے عہدوں پر ترقی دے دی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک پُر وقار تقریب گذشتہ روز ڈپٹی کمشنر آفس چترال میں منعقد ہوئی ۔ جس میں ڈپٹی کمشنر وکمانڈنٹ چترال لیویز ارشاد سدھر ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر منہاس الدین ،اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجد نواز اور اسسٹنٹ کمشنر مستوج اون حیدر گندل نے ترقی پانے والے جوانوں کو رینکس لگائے ۔ اور اُنہیں مبارکباد دی ۔ اس موقع پر کمانڈنٹ چترال لیویز ارشاد سدھر نے کہا ، کہ لیویز بھی ایک باقاعدہ فورس ہے ۔ اس لئے اس کے چال ڈھال دیگر فورسز کی طرح تربیت یافتہ فورس کے نظر آ نے چائیں ۔ اور اس سلسلے میں باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے گی ۔ تاکہ لیویز کا ڈسپلن اور مورال بلند ہو ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جو جوان ترقی پاتے ہیں اُن کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں ، اس لئے ذمہ دار افراد کی کوتاہی کسی بھی صورت قبول نہیں کی جائے گی ۔ ہمیں انسانی ضروریات اور مجبوریوں کا بخوبی اندازہ ہے ۔ اور اس کیلئے قانونی طریقہ کار بھی موجود ہے ۔ جس پر عمل کرکے کوئی بھی جوان اپنی عرضداشت اُن تک پہنچا سکتا ہے ۔ لیکن سفارش کسی بھی صورت قبول نہیں کی جائے گی ۔ اور کوئی بھی ادارہ اگر سفارشوں پر چلے تو ادارہ نہیں رہتا ۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا ۔ کہ ترقیوں کے حوالے سے ہائی کورٹ نے ہمارے موقف کے مطابق فیصلہ دیا ہے ۔ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی جوانوں کو ترقی دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا ، کہ قانون ڈسپلن قائم رکھنے کیلئے بنا ہے ۔ معاشرے میں امن قانون کی پاسداری کی وجہ سے ہے ۔ اس لئے ہر جوان کو قانون کا پابند ہونا چاہیے ۔ اور میں انتہائی سختی سے اس پر نظر رکھوں گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ شولڈر پروموشن کا بھی ایک طریقہ کار ہے ، اسی طرح ڈبل پروموشن پر بھی ہم غور کر رہے ہیں ۔ اگلے پانچ ، چھ مہینوں میں مزید رینکس لگائے جائیں گے ۔ تاہم ترقی پانے والے جوانوں کی کارکردگی ضرور دیکھیں گے ۔ ارشاد سدھر نے کہا ، کہ ترقی پانے والوں میں سے ہی صوبیدار اور صوبیدار میجر بنیں گے ۔ اور ایک مرتبہ سسٹم ٹھیک ہونے کے بعد آیندہ لیویز کو کوئی شکایت نہیں ہوگی ۔ جن افراد نے غیر قانونی پروموشن حاصل کی تھی ، اُن کو سپاہی رینک پر ریٹائر کیا گیا ہے ،تاکہ دیگر لوگوں کو یہ پیغام پہنچے کہ غیر قانونی اقدام نہیں چل سکتے ۔ قبل ازین اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجد نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ نئے پروموشن کے حوالے سے جو کمیٹی بنائی گئی تھی ۔ اُس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر منہاس الدین کی خدمات قابل تعریف ہیں ۔ اس حوالے سے انکوائری کی گئی اور سابقہ تمام ریکارڈ دیکھنے کے بعد23جوانوں کی فہرست تیار کی گئی ، جو ترقی پانے کے حقدار ہیں ۔

chitral levies promostion2chitral levies promostionchitral levies promostion22

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9781

بزمِ درویش……….بے بس ارب پتی………تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

دنیا کی مہنگی ترین جہازی سائز کی نہایت پر کشش سیاہ رنگ کی جیپ روشنیوں میں ڈوبے شہر لاہور کی سڑکوں پر سبک رفتاری سے روا ں دواں تھی ‘رات کا پہلا پہر سڑکو ں پر ٹریفک کا اژدھام تھامیرامیزبان اپنی امارت کے دیومالائی قصے لہک لہک کر سنارہا تھا اُس کی باتوں اور رویے سے لگ رہا تھا کہ اُس کا انگ انگ دولت کے نشے میں جھوم رہا ہے اگر آپ دولت مندوں کی نفسیات کا مطالعہ کریں تو جو چیز سب سے نمایاں نظر آتی ہے وہ احساس برتری اور خود کو خلائی مخلوق سمجھنا اِن کی باتوں اور حرکات و سکنات سے واضح طو ر پر لگتا ہے کہ جیسے یہ دنیا بنائی ہی اِن لوگوں کے لیے ہے ‘دولت کے نشے میں غرق یہ لوگ خود کو خدا کی پسندیدہ ترین قوم سمجھتے ہیں ٹیکس بچانے اور معاشرے میں سخاوت کی شہر ت ماتھے پر لگانے کے لیے انہوں نے بہت سار ے ہسپتال خیرات خانے یتیم خانے اور سکول بنا رکھے ہو تے ہیں ‘اپنی اِس سخاوت یا خدمت خلق کو یہ اشتہار کے طور پر استعما ل کر تے ہیں اب میرا میزبان جس کی عمر تقریباً پینتالیس سال کے لگ بھگ تھی اپنی دولت کے معرکے بتانے کے بعد سخاوت کے بازار میںآگیا تھا جب میں اُس کی دولت سے مرعوب نہ ہوا تو اُس نے اپنے تر کش کاآخری تیر میرے اوپر داغنا شروع کیا اُسے سو فیصد یقین تھا کہ اُس کا یہ وار خالی نہیں جا ئے گا ‘اب اُس نے سخاوت اور خدمت خلق کے قصے سنانے شروع کر دئیے کہ کس طرح اُس کا خاندان غریب پر وری کے تمام ریکارڈ تو ڑ رہا ہے ‘کتنے یتیم لاوارث بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جا رہا ہے کتنی یتیم بچیوں کی پڑھائی لکھا ئی کے بعد اُن کی شادیاں اور ہسپتالوں میں کھانے سے ادویات تک وہ خود کو حاتم طائی کا حقیقی جانشین ثابت کر نے پر اُترا ہوا تھا ‘ ساتھ ہی لنگر خانے لوگوں کو فری کھانے کی داستان شروع کر دی آخر میں میرے اوپر سنہری جال پھینکا کہ میں ماڈرن طرز کا یتیم خانہ پلس تعلیمی ادارہ بنا نا چاہتا ہوں جہاں پر یتیم بچوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ انہیں ماڈرن سائنسی بنیادوں پر جدید تعلیم دی جائے گی ‘ذہین بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک اعلیٰ یو نیورسٹیوں میں بھیجا جا ئے گا یہ سب کچھ بتانے کے بعد اُس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہو ئے کہا لیکن سر اِس خواب کو شرمندہ تعبیر کر نے کے لیے مجھے آپ جیسے نیک انسان کی ضرورت ہے اگر اُس نہایت جدید تعلیمی ادارے کی صدارت آپ سنبھال لیں تو میری پریشانی دور ہو جائے گی ‘ میں اعتماد سے بڑی رقم اِس عظیم فلاحی مشن پر لگا سکتا ہوں اسے اُس کے اِس وار کا بخو بی یقین تھا کہ میں جو بے نیازی سے اُس کے ساتھ بیٹھا تھااب بے نیازی کے خو ل کو تو ڑ کر میراثی بن کر اُس کی خو شامد میں لگ جاؤں گا ‘ دن رات اُس کی چاکری کروں گا اُس کی مداح سرائی کروں گا اُس کے قصیدے پڑھوں گا اُس کے غلاموں میں ایک اور غلام کا اضافہ ہو جائے گا ۔ لیکن جب میری آنکھوں اور چہرے پر خو شامد کے رنگ نہ آئے تو وہ تھوڑا سا پریشان نظر آنے لگا اب اُس نے اگلا پتہ پھینکا پروفیسر صاحب اِس کام میںآپ کو مکمل آزادی ہو گی کو ئی آپ کو روکنے ٹو کنے والا نہیں ہو گا آپ مکمل با اختیار ہونگے جو مرضی سیا ہی سفیدی کر یں کو ئی آپ کے کام میں دخل اندازی نہیں کر ے گا ‘میرا سپا ٹ اور بے رنگ چہر ہ اُس کو پریشان کر رہا تھا اُس نے بے پناہ دولت کے بل بو تے پر غلاموں کی ایک بڑی فوج اکٹھی کر رکھی تھی اب وہ اپنی غلاموں کی فوج میں مجھے بھر تی کر نے پر تُلا ہواتھا ‘میں نے اپنا مو بائل دیکھنا شروع کر دیا اور لوگوں کے پیغامات کا جواب دینا شروع کر دیا اُس کی طرف دیکھے بغیر کہا میرا مزاج ایسے کاموں کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی میں اتنا با صلاحیت ہوں کہ اتنے بڑے ادارے کی ذمہ داری نبھا سکوں آپ کسی قابل بندے کو تلاش کریں جو یہ کام احسن طریقے سے کر سکے مجھے معاف کر دیں امیر زادے کو میراجواب اور سپا ٹ لہجہ تو ہین آمیز لگا ‘غصے کا سایہ اُس کے چہرے پر لہرا کر چلا گیا ۔ اِس امیر زادے کا باپ کسی پر اسرار بیما ری میں کئی سال سے مبتلا تھا یہ کئی با ر اپنے نوکروں کو میرے پاس بھیج چکا تھا‘ ساتھ پیسوں کا لفافہ بھی کہ میں اِس کے دولت کدے پر جاکر اُس کے باپ کا روحا نی علا ج کروں میں نے جب لفافہ لینے سے انکار کیا اور جانے سے بھی انکار کیا تو یہ خو د دو تین بار میرے پاس آیا پھر بھی میں نہ مانا ‘ میرے دوست کا تعلق نکال کر میرے پاس آیا کہ میرا باپ شدید بیما ر ہے چل پھر نہیں سکتا آپ پلیز میرے ساتھ چل کراُسے دیکھ لیں ‘ اُس کی کئی کو ششوں پر بھی میں اِس کے ساتھ نہ گیا تو شاید اِسے اپنی تو ہین کا احساس ہوا آج جب میں دوست کے کہنے پر اِس کے ساتھ جا رہا تھا تو یہ میری قیمت پر قیمت لگا رہا تھا ‘شاید مجھے اپنے غلاموں میں شامل کر کے یہ مجھے سزا یا اپنی تسکین چاہتا تھا ۔ ایسے امیر زادے بڑے تیز ہوتے ہیں اِن کا سب سے کامیاب وار عمرہ یا حج ہو تا ہے جس سے یہ بڑے بڑوں کو ذبح کر ڈالتے ہیں ‘ عمرے یا حج پر جا نا ہر مسلمان کی اولین خوا ہش ہو تی ہے ‘میں نے بڑے بڑوں کو اِس جال میں پھنستے دیکھا ہے یا پھر یہ زکوۃ کی شکل میں بڑی رقم دیتے ہیں کہ جنا ب آپ یہ رقم مستحق افراد میں تقسیم کر دیں اِس وار سے بھی میں نے کسی کو بچتے نہیں دیکھا ۔ چالاک دولت مند اپنے دولت کے سنہری جال میں معاشرے کے تمام با اثر افراد کو قید رکھتے ہیں کسی کو عمرہ حج کسی ک�آاپریشن کسی کو گاڑی بچوں کی شادی کا اہتما م ‘ گھر انعام میں دے دینا میں نے بڑے بڑے نام نہاد متو کل انسانوں کو اِن میراثیوں کی فوج کی اگلی صف میں دیکھا ہے یہ متوکل چہرو ں پرخو شامد کا ماسک چڑھائے دن رات اِن کی مداح سرائی کر تے ہیں اِن دولت مند انسانوں کو سرکاری افسروں اوربااثر افراد کو خریدنے کے طریقے آتے ہیں ‘اپنے پر آسائش فارم ہا ؤس یہ ایسے ہی کاموں کے لیے استعمال کر تے ہیں جہاں شراب وکباب کااہتمام سر عام کیا جا تا ہے بڑے بڑے سرکاری افسر نشے میں دھت ایسے فارم ہاؤسوں پر میراثی بنے نظر آتے ہیں‘ انہی سوچوں میں غرق پتہ ہی نہ چلا جب ہم لاہور کے مہنگے ترین علاقے کے محل نما بنگلے میں داخل ہو ئے ‘بڑا جہازی گیٹ غلاموں کی وردیاں وسیع و عریض لان پھل دار ‘پھول دار پودے ‘ریشمی گھاس کے فرش ‘دولت مندی بارش کی طرح بنگلے کے درو دیوار سے ٹپک رہی تھی گا ڑی سے اُتر کر ہم آگے بڑھے غلام بادشاہ سلامت کی طرف عقیدت کے بت بنے نظر آئے آخر ہم تہہ خانے کی طرف بڑھے جہاں پر والد صاحب لیٹے تھے ہمیں آتا دیکھ کروالد صاحب کو ملازمین نے اٹھا کر بٹھا دیا با پ اٹھ تو گیا لیکن حیران کن با ت یہ تھی کہ وہ چھت کی طرف مسلسل دیکھے جارہا تھا میں حیران پاس جا کر کھڑا ہو گیا وہ مسلسل اکڑی گر دن کے ساتھ چھت کی طرف دیکھ رہا تھا اُس نے لکھا ہوا کاغذ میری طرف بڑھا یا جس پر لکھا تھا میری گردن کے پچھلے پٹھے اکڑ چکے ہیں اب میں سامنے نہیں دیکھ سکتا میں دنیا جہاں کی لیبارٹریاں ہسپتال اورڈاکٹروں کے چکر لگا چکا ہوں ‘میری گر دن نیچے نہیں آتی لوہے کا شکنجہ ہے جو میری کمر گر دن پر چڑھا دیا جا تا ہے سکریو دبانے سے وقتی طو رپر گردن سامنے آتی ہے شکنجہ اٹھاتے ہی گردن پھر آسمان کی طرف ہوجاتی ہے‘ میں سامنے اوردائیں بائیں نہیں دیکھ سکتا میری زبان بھی اکڑی ہو ئی ہے نہ میں بو ل سکتا ہوں نہ ہی گردن ہلا سکتا ہوں ‘میں دولت کے نشے میں دھت غریبوں پر تھوک دیا کر تا تھا ‘ٹھو کروں سے ما رتا تھا گالیاں دیتا تھا ‘ایک دن ایک بے گنا ہ کو جب خوب ذلیل کیا تو اُسے کہا میرے سامنے گردن جھکاکر کھڑے ہو جا ؤ اُس نے گردن جھکا ئی ہو ئی تھی لیکن میری طرف دیکھا تو میں نے غصے سے پاگل ہو کر اُس کی گردن تو ڑ دی وہ چند دن بیما ر رہ کر مر گیا اُس کے گھر والوں کو میں نے پیسے دے دیئے لیکن ایک دن سو کر اٹھا تو میری گردن اکڑ چکی تھی مجھے غریب کی آہ لگ چکی تھی ‘پرو فیسر صاحب نو ٹوں کی بو ریا ں بھر کر لے جائیں لیکن میری گردن کو صرف سیدھا کر دیں ‘نو کر زبردستی اُس کی گردن سیدھی کر تے لیکن گردن سپرنگ کی طرح آسمان کی طرف ہو جاتی اُس کی معافی کا دروازہ بند ہو چکا تھا اُ سکا بیٹا میری طرف دیکھ رہا تھا میں نے اُ سکی آنکھوں میں دیکھا اور کہا حقیقی معنوں میں غریب پر وری کرو تو شائد خدا کو تم اور تمہا رے والد پر رحم آئے میں نے رحم بھری نظروں سے بے بس ارب پتی کو دیکھا اور واپس آگیا ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9779

ڈگری برادر نوجوان اور روزگار کے مسائل………….تحریر: نمبردار مفتی ثناء اللہ انقلابی

دنیا کی چھت گلگت بلتستان کے معماران وطن خوبصورت جاذب نظر دلکش و دلفریب و دل آویز آبشاروں کی دھرتی کے غیور ، جفا کش ، با حیا و با کردار پر عزم نوجوانان گلگت بلتستان کے ہاتھوں میں ڈگریاں اور تلاش معاش کے لئے سرگرداں و پریشاں حال معماران وطن قوم کے سپوتوں کے حالت زار پر رحم آتا ہے جب ان کو کسی بھی محکمہ میں مشتہر آسامیوں کے لئے امید و یاس کی کیفیت میں کاغذات جمع کرانے کے پہلے مرحلے سے لیکر ٹسٹ انٹرویو کے آخری مراحل کی تگ و دو اور پھر خوبصورت چہروں پر مایوسی کے شکن دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے مگر حل سجائی نہیں دیتا ۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ روز افزوں بڑھتی آبادی اور حکومت کے پاس موجود وسائل اور روزگار کے بڑھتے مسائل یہ وہ حقائق ہیں جن پر توجہ دینا سینہ اقتدار پر براجمان سیاہ و سفید کے مالکان کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی اشد ضرورت ہے۔نہ ہمارے پاس دستیاب وسائل بے روزگاروں کے جم غفیر کو کھپا سکتے ہیں اور نہ ہی اس بھیڑ کو اطمینان کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے اہل دانش حکومتی سطح پر کچھ ایسے ورکشاپس کا اہتمام کریں کہ ان کے ذریعے ہم اپنی نوجوان نسل کو مقاصد تعلیم سے آگا ہ کریں کہ حصول تعلیم کا مقصد محض حصول معاش نہیں بلکہ شعور و آگاہی کے وہ منازل ہیں جن کی شناسائی کے بعد ستاروں پہ کمند ڈالنے کا حوصلہ نوجوانوں کے اندر پیدا ہو جائے۔ بد قسمتی سے ہمارے نوجوانوں کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی کے بے شمار اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ ہم نے اپنی نسل کو حصول تعلیم کے مقصد اصلی سے تا دم تحریر آگاہ نہیں کیا ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔
یہ ہر گز ضروری نہیں کہ آپ تعلیم حاصل کرنے کے بعد صرف سرکاری ملازمتوں کی تلاش میں عمر عزیز کے قیمتی ماہ و سال گنوا دیں اور بروقت و بموقع ملازمتیں نہ ملنے پر مایوسیوں کے گٹھا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب کر اپنا سفینہ ء حیات کو بیچ منجھدار میں طوفانوں کی نذر کریں بلکہ ہمت مرداں مدد خدا کے تحت زمین کے اطراف میں پھیل جائیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔ ہر نوجوان کے اندر قدرت کی عطا کردہ صلاحیتیں مختلف شکلوں میں ایک درخشندہ مستقبل کے لئے موجود ہیں بس ذرا سوچ کا زاویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس وقت پوری دنیا میں مضبوط معاشی پوزیشن ملازمین کی نہیں بلکہ دنیا کے اندر محنت کرنے والے تاجر زیرو سے اپنی محنت ، لگن اور مستقل مزاجی کی بدولت دنیا کی بڑی کمپنیوں کے مالک بنے ہیں ، دنیا میں سب سے بھاری رقم کے مالک وہ ہیں جو تاجر پیشہ ہیں ، زیرو سے ہیرو بننے کا موقع قدرت نے صبح طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تلک کے درمیانی اوقات میں ہر فرد و بشر کے لئے رکھے ہیں ۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ اپنے آپ کوہنر سیکھنے کا پابند بنائیں ہمارے پڑوس میں چین ہی کی مثال لے لیجئے کہ وہاں بوڑھے ، جوان ، مسلسل محنت کر کے پوری دنیا کے لئے ہر قسم کی چیزیں مہیا کر رہے ہیں ، اسلئے کہ وہاں کے لوگ محنت کے عادی ہیں جبکہ طرفہ تماشا یہاں یہ ہے کہ ہر شخص نوکر اور ملازم بننے کے شوق میں زندگی کے قیمتی اوقات کو مشتہر اسامیوں کے انتظار میں ضائع کر رہا ہے ، ہمیں اس حقیقت کا ادراک بے حد ضروری ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس جو وسائل موجود ہیں وہ نوے فیصد نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں کھپانے کے لئے ناکافی ہیں ، پیش آمدہ مسائل خوفناک اور گھمبیر ہیں اس لئے نسل نو کو اپنے عزائم کو بلند رکھتے ہوئے ہنر مند بننے کی کوشش کرنی چاہئے اور حکموت کے چاہئے کہ ایسا پلان بنائیں اپنا پڑوسی چین کے ماہرین معاشیات سے مشاورت کے بعد ان کو اس بات پر آمداہ کیا جائے کہ مختلف قسم کی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیاں گلگت بلتستان میں انویسٹ کریں ، پوری دنیا کی مارکیٹ میں جو مال تیار ہو کر جا رہا ہے سی پیک کے راستے سے گوادر تک ان صنعتی فیکٹریوں کا جال خطے میں پھیلایا جائے ، قبل ازیں مختلف ٹیکنیکل اداروں کا قیام از حد ضروری ہے یہاں ہمارے یہ نوجوان ہنر سیکھیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں ۔ بد قسمتی سے موجودہ صورت حال نا گفتہ بہ ہے جس میں 80فیصد مزدوروں کو پیدا کر رہے ہیں نہ کہ ہنر مندوں کو،ایسے میں ڈگری بردار نوجوانوں سے میری گزارش ہے کہ خدا را پنا مستقبل تباہ کرنے کے بجائے ذہنی طور پر خود کو آمادہ کریں کہ محنت کر کے ملک و ملت کا نام روشن کریں گے، حکومت کو چاہئے کہ ہنگامی بنیادوں پر بے روزگار ڈگری بردار نوجوانوں کے اعداد و شمار کا اندازہ لگائیں اور ان کو متبادل روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کریں تاکہ اقبال کے شاہیں ہماری اس دھرتی کے لئے بوجھ نہ بن سکیں بلکہ ایک کار آمد شہری بن کر ملک و ملت کے لئے کام کر سکیں اور ملکی تعمیر و ترقی کے لئے معاو ن و مددگار بن سکیں۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9777

جس کھیت سے دھقان کو…….ہماری ثقافت بدل رہی ہے……پروفیسر رحمت کریم بیگ

اپ سب حضرات میری مراد خواتین و حضرات یہ بات مجھ سے بہتر جانتے ہیں اور اس بات کے عینی شاہد ہیں کہ آج سے کوئی پچاس سال پہلے کے چترال کو اپنی زہن میں واپس لاکر آج کل کے چترال سے مقابلہ کریں تو پتہ چلے گا کہ آج ہماری ثقافت کتنی بدل چکی ہے؟ کھوار زبان کے اندر بڑی تبدیلی اگئی شادی بیاہ کے رسم و رواج بدل گئے ، زندگی کے معیار بدل گئے، سماجی تعلقات بدل گئے، مذہبی لحاظ سے بھی بہت تبدیلی اگئی۔ رسل و رسائل کا نظام بدل گیا، لوگوں کی سوچ بدل گئی، جدید تعلیم کی بدولت لوگوں کا طرز عمل،لباس، خوراک عرض کوئی بھی پہلو اپنی پرانی حالت پر نہیں رہی اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان بدل گیا بقول شاعر:
سورج نہ بدلا، چاند نہ بدلا
کتنا بدل گیا انسان
آج ہماری نئی نسل اتنا بدلا ہوا مخلوق ہے کہ آپ اس سے کسی بھی پرانی اقدار کی پابندی کی توقع نہیں رکھ سکتے، کوئی بھی اپنی ماضی کو اپنا کہنے کے لئے تیار نہیں، پرانے رشتوں کو جوڑنے کے لئے تیار نہیں ، اپنی نسلی تشخص کو ماننے کے لئے تیار نہیں، کوئی اپنی پرانی قومیت کو اپنا کہنے کے لئے امادہ نہیں ۔
آج کا نوجوان اپنے بود و باش، خورد و نوش، نشت و برخاست میں نئی راہیں نکال رہا ہے، نشے کا رواج زور پکڑتا جا رہا ہے، نشہ کے نئے نئے زرائع نکالے جارہے ہیں ، ماحول بچوں کو ماں باپ سے بیگانہ کرہا ہے والدین کی نصیحت پر بچے سیخپا ہو کر گھر چھوڑ کر جاتے سنے گئے ہیں بچیاں نصیحت کی تاب نہ لاکر خود کو دریا برد کرہی ہیں ، نوجوان نسل بے راہروی کی طرف روان ہے میر کاروان کوئی نہیں گھر کا سربراہ اپنی زمہ داریوں سے لاپرواہ ہے اس بارے میں کہوار کی یہ کہاوت خاصی وزن رکھتی ہے کہ دیوسو خیال بلاغونو سوری یعنی ایک بے غیرت شخص کا دھیاں ہر وقت اپنے نسوار کے ڈبے کی طرف رہتا ہے اور اسے اپنی بیوی کو قابو رکھنے کا خیال نہیں اتا اسی طرح آج کل کے بڑے بھی اپنی زمہ داریوں سے لا پرواہی برت کر بچوں کی تربیت کا خیال نہیں رکھ رہے۔بچوں کی اور نوجوانوں کی تربیت میں کمی اس حد تک گئی ہے کہ وہ راسترے میں جان پہچان والوں کو، بزرگوں کو، اساتذہ کو سلام کرنے کا خیال تک نہیں اتا اور حد یہ ہے کہ وہ اپنی اس لغزش کو محسوس بھی نہیں کرتا اور کوئی غلطی سرزد ہونے کے بعد اس کو غلطی ماننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا۔ آج کے نوجوں منہ مفلر سے منہ اور ناک ڈھانپ کر صرف انکھوں کو دکھاتا ملتا ہے، اور لڑکیوں کی پردے کے فیشن میں اپ کو ملتا ہے اور ان کی شناخت مشکل ہوتی ہے جبکہ ثقافت کا دوسرا الٹا رخ یہ ہے کہ لڑکیاں دوپٹے میں تھوڑا بھی پردہ کرنے کی بجائے سارا چہرہ ،گلا اور شاملات کھلا چھوڑ کر گھوم پھیر رہی ہیں اور دعوت نظارہ دیتی ہیں گویا ثقافت کا یہ پہلو الٹا ہو گیا ہے جن کو پردہ نہیں کرنا وہ پردہ کرتے ہیں اور جن کو پردہ کرنا ہے وہ نہیں کرتے۔ شمالی افریقہ میں ایسے قبائل بستے ہیں جن کی ثقافت بھی یہی ہے کہ ان کے تمام مرد پردہ کرتے ہیں اور ان کی عورتیں بالکل پردہ نہیں کرتیں ، ہمارے ہاں بھی ثقافت الٹی چلنے لگی ہے، یہ بھی انتہا پسندی کا ایک رخ ہے کہ جس کو جیسا ہونا چاہئے وہ ایسا نہیں ہوتا اور جس کو جہاں نہیں ہونا چاہئے وہ وہاں ہوتا ہے اس طرح ہماری ثقافت کے کئی پہلو زوال پذیر ہیں ۔۔ کیوں نہ ہم بحثیت چترال، بحثیت کھو، اپنی ثقافتی اقدار کو عزیز رکھیں ، اپنی شناخت برقرار رکھیں اور اس کو نئے دور کی خرابیوں سے بچایءں اور چترالی ہونے کا ہمارا جو image بنا ہوا ہے اس کی نگہداری کریں، ہم نے اس ثقافت کو بچا کر اگلی نسل کو منتقل بھی کرنا ہے اور یہ ہمارا قومی فریضہ ہے۔ کچھ دن پہلے ایک دوست نے کہا کہ ہمارے گاؤں کا ایک عمر رسیدہ معمر شخص اپنے گھر سے نکل کر تیز رفتار سے جاتا ہوا ایک اور ہم عمر کا سامنا کیا اور اسنے ان کو جلدی میں دیکھ کر وجہ پوچھی کہ کیا بات ہے زرا جلدی میں ہو تو اس نے جواب میں کہا کہ میں گھر چھوڑ کر جارہا ہوں دوسرے کہا کہ اس کی کوئی وجہ بتاؤ تو کہنے لگا کہ جس گھر میں میں آج تک رہتا تھا آج اس میں میرے رہنے کا ماحول نہیں ہے کہ میری بیگم جو میرے ساتھ کہوار میں بات کرتی تھی وہ اردو بولنے لگی ہے جو میری سمجھ سے بالا تر ہے ، دوسرے نے کہا کہ وہ کیا کہتی ہے؟ جواب دیا کہ وہ طالبان، مجاہدین،کلا شنکوف، دہشتگرد، خود کش، پریشر ککر، پٹواری، جام شیرین،بلڈ پریشر، آب جو وغیرہ الفاظ بولتی ہے تو دوسرے دوست نے کہا کہ ہائے! میری بیگم تو انگریزی بولتی ہے مگر میں کہیں نہیں جاتا اچھا ! پہلے نے حیرت سے کہا، وہ کیا کہتی ہے؟ جواب میں دوست نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور کہنے لگا کہ وہ موبائل، پیکیج، فیس بک، کیو موبائل، ڈاؤن لوڈ،ڈش اور دوسرے جیٹ بیٹ بار بار بولتی ہے، ان کو بولنے دو منع کروگے تو تم کو آزادی اظہار پر پابندی کی سزا دی جائیگی کہ عدالت سوموٹو ایکشن لیتی ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9775

پرائیوٹ سکولزPSRAریگولیشنزاورPHCکی فیصلوں‌کےمطابق اضافی فیسوں کوایڈجسٹ کریں..سید ظفر

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے مینجنگ ڈائریکٹر سید ظفر علی شاہ نے تمام پرائیوٹ سکولزمالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ پی ایس آر اے ریگولیشنز 2018اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت طلبہ و طالبات کو نومبر 2017 کے بعد فیسوں میں اضافہ کی مد میں لی گئی رقم کی اگلے مہینوں میں ایڈجسٹمنٹ کو یقینی بنائیں تاکہ بچوں کے والدین کو فوری ریلیف مہیا ہو سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ اتھارٹی خلاف ورزی کے مرتکب بڑے نجی سکولوں کے آپریشنل اکاؤنٹس بند کرنے کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے جس کیلئے سٹیٹ بنک آف پاکستان کو سفارش کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اتھارٹی کی جانب سے متعدد بار سرکلرز اور میڈیانوٹسز کے باوجود متعدد ادارے نہ تو ایک سے زائد بہن بھائیوں کی فیسوں میں رعایت کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں اور نہ ہی چھٹیوں کی فیسوں میں رعایت دے رہے ہیں اس کے بر عکس مختلف ہتھکنڈوں سے والدین سے اضافی فیس وصول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی شکایات اتھارٹی کو موصول ہو ئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن اداروں نے نومبر 2017کے بعد کسی بھی قسم کی فیسوں میں اضافہ کیا وہ توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں لہٰذا فوری طور پر والدین کو اضافی رقم واپس یا ایڈجسٹ کریں انہوں نے اس سلسلے میں اتھارٹی کے اہلکاروں کو بھی فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وہ پشاور میں اتھارٹی کے ڈائیریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ شرکاء میں ڈائریکٹر آپریشن یاسر حسن، ڈائریکٹر ایڈمن ہدایت اللہ، ڈپٹی ڈائریکٹرز سہیل عزیز، نواز عالم خان، رضوان اللہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہباز خٹک شامل تھے۔سید ظفر علی شاہ نے واضح کیا کہ جن نجی تعلیمی اداروں نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے اور اتھارٹی کے ریگولیشنز پر عمل نہیں کیا ان کے فنانشل اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لئے سٹیٹ بنک آف پاکستان کو پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سفارش کی جائے گی تاکہ جب تک یہ ادارے اتھارٹی کے جاری کردہ سرکلر پر عمل کو یقینی نہیں بناتے تو پہلے اقدام کے طور پر ان کے اکاؤنٹس بند کئے جائیں گے اتھارٹی کے ایم ڈی نے والدین سے بھی درخواست کی کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں نقد فیس جمع نہ کرائیں بلکہ اسے سکولز کے اکاونٹ میں جمع کیا جائے ۔ ابتدائی طور پر جن اداروں کے بنک اکاؤنٹ بند کئے جا رہے ہیں ان میں پشاور ماڈل سکول ، پشاور گرامر، ورسک ماڈل، فرنٹیئر ماڈل ، سرسید سکول، رے سین سکول سسٹم، بیکن ہاؤس سکول سسٹم، سٹی سکولز، روٹس، آئی ایل ایم، اقراء روضتہ ا لاطفال، بلوم فیلڈ، قدیم لومیئر، قائد اعظم پبلک سکول، سمارٹ سکول ، الائیڈ سکولز، سینٹ فرنسس، ایف سی اے، آئی سی ایم ایس، لاہور لائسیم، سینٹ میری اور پاک ترک سکول شامل ہیں۔ اتھارٹی کے زیر اہتمام مزید سروے بھی جاری ہے ۔جس سے صوبے کے دوسرے اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے.

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9675

PMRU نے صوبے کے تمام پلوں‌کے سروے اور خستہ حال پلوں‌کی نشاندہی کی ہدایت

Posted on

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ )‌پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ کے عوامی شکایات سیل سٹیزن پورٹل کو شکایات موصول ہونے پر متعلقہ محکموں کو مراسلہ جاری کیا ہے۔ جس کے مطابق متعلقہ محکموں کو صوبہ بھر میں تمام پلوں کا سروے کرنے اور خستہ حال پلوں کی نشاندہی اور فوری مرمت کے لئے جلد از جلد اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ صوبائی حکومت نے حال ہی میں چھپر برج ہری پور ٹوٹنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے پلوں کے سروے کے لئے تمام محکموں کو مراسلے جاری کئے گئے ہیں جن میں کہا گیاکہ پلوں کا فوری سروے کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوں۔
…………………………………………………………………………………………………
پبلک سروس کمیشن نے محکمہ اعلیٰ‌تعلیم میں‌خاتون لیکچررز کی اسامیوں‌کو حتمی شکل دیدی

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ )‌ خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن نے محکمہ اعلی تعلیم میں خاتون لیکچرار ، شمایارات (BPS-17) ky کی 14 اسامیوں پر اپنی سلیکشن کو حتمی شکل دے دی ہے اور اپنی سفارشات بھی متعلقہ محکمے کو بھجوادی ہیں۔ اس امر کا اعلان انچارج میڈیا سیل خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی جانب سے کیا گیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9673

انجینئرسید ذین اللہ شاہ چیف ایگزیکٹوپیڈوتعینات

Posted on

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخواحکومت نے محکمہ توانائی وبرقیات کے سینئرآفیسر گریڈ19میںPPS گروپ سے تعلق رکھنے والے چیف پلاننگ آفیسرانجینئرسیدذین اللہ شاہ کو فوری طورپر چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او)، پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کا اضافی چارج دینے کے احکامات جاری کئے ہیں۔اس سلسلے میں محکمہ توانائی وبرقیات کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیئے کے مطابق محکمے کے مذکورہ آفیسرنئے سی ای او پیڈو کی بھرتی تک اضافی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔واضح رہے کہ تعیناتی کے بعد انجینئرسیدذ ین اللہ شاہ نے سی ای اوپیڈو کا چارج سنبھال کرباقاعدہ طورپر کام شروع کردیا ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , , , , , ,
9670

ڈپٹی کمشنر پشاور نےعوامی مقامات اور پرائیویٹ عمارتوں پر پوسٹر چسپان کرنے پر پابندی عائد کردی

Posted on

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) ڈپٹی کمشنر پشاور نے دفعہ 144 ضابطہ فوجداری کے تحت عوامی مقامات اور پرائیویٹ عمارتوں پرچسپاں کردہ ہزاروں غیر قانونی پوسٹر ، جن کے باعث ضلع پشاور کی شکل بدنما ہوچکی ہے، پر بعض وجوہات کی بنا پر پابندی عائد کردی ہے تفصیلات کے مطابق یہ پابندی ضلعی انتظامیہ کی منظوری کے بغیر چسپاں کردہ پوسٹرز ،۱ بینرز اور پمفلٹس آویزاں کرنے، کیونکہ جب یہ پوسٹر اتارے جاتے ہیں تو اسے گندگی اور کوڑا کرکٹ پیدا ہوتا ہے۔ جس سے نکاسی کی نالیوں اور نالوں میں رکاوٹ بھی پیدا ہوتی ہے جس کے باعث پشاور کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے جبکہ بعض پوسٹرز پربازاری اور غیر مہذب باتیں مذکور ہوتی ہیں جو نوجوانوں کے ذہنوں کو بری طرح متاثر کرتی ہیں اس کے علاوہ بعض پوسٹرز کسی فرد یا گروپ یا ادارے کے خلاف خیالات اور مواد پر مبنی ہوتے ہیں جن سے تنازعات اور امن وامان کی صورت حال کو نقصان پہنچنے کے خدشات لاحق ہوتے ہیں یہ حکم فوری طورپر ایک ماہ کے لئے نافذ العمل رہے گا جبکہ اس حکم کی خلاف ورزی پرد فعہ 188 تعزیرات پاکستان کے تحت سزا دی جائے گی۔

دریں اثنا ڈپٹی کمشنر پشاور ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے دفعہ 144 ضابطہ فوجداری کے تحت ضلع پشاور میں بھٹہ خشتوں پر ربڑ جلانے پر پابندی عائد کر دی ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈی سی پشاور نے اس امر کا سختی سے نوٹس لیا کہ ضلع پشاور کے مختلف علاقوں میں برکس فیکٹریاں اور بھٹہ خشت باقاعدگی سے ربڑ استعمال کر ہے ہیں جس سے ہوا میں آلودگی پیدا ہو رہی ہے اور اس سے مختلف بیماریاں پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ مریضوں کی تعداد میں بھی ضافہ ہو رہا ہے۔ جس کے باعث عام لوگوں کے مابین بے چینی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ امن ومان اور افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشتہ لاحق رہتا ہے اس لئے وسیع تر عوامی مفاد میں مذکورہ بالا پابندی کا نفاذ ضروری ہوگیا تھا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , , , , , ,
9668

چیف میڈیکل آفیسر/ DTCO ڈاکٹر سعد ملوک مدت ملازمت مکمل کرکے سبکدوش ہوگئے

Posted on

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) پرنسپل میڈ یکل آفیسر /ڈسٹرکٹ ٹی بی کنٹرول آفیسر ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال ڈاکٹر سعد ملوک مدت ملازمت مکمل کرکے پیر کے دن سبکدوش ہوگئے، ڈاکٹر سعدملوک نے اپنی 31سالہ مدت ملازمت میں چترال کے مختلف ہسپتالوں کے علاوہ صوبے کے دوسرے اضلاع میں بھی شاندار خدمات انجام دی ہے۔ ڈاکٹر سعد ملوک کا تعلق موڑکہو کے خوبصورت گاؤں موردیر کے علمی اور سیاسی گھرانے سے ہے ۔آپ سابق ایم پی اے ذین العابدین مرحوم کے بھتیجے ہیں ۔
ڈاکٹر سعد ملوک ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد سے 1985میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ۔ ہاوس جاب مکمل کرنے کے بعد 17اکتوبر1987کو بطور میڈیکل آفیسر ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی سے میڈیکل پروفیشن میں عملی زندگی کا آغاز کیا ۔ جس کے بعد آرایچ سی مستوج ، ایبٹ آباد، ایچ ایم سی پشاور، ڈی ایچ کیو چترال ، ایون، وغیرہ کے علاوہ ڈپٹی ڈیچ او، ای ڈی او ہیلتھ اور ڈسٹرکٹ ٹی بی کنٹرول آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد باعزت طور پر ریٹائر ہوگئے ۔
ڈاکٹر سعد ملوک ایک محنتی اور ایماندارآفیسر ہونے کے ساتھ مریضوں کیلئے مسیحا سے کم نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میرٹ پر کام کرنے کی وجہ سے محکمہ ہیلتھ کے اسٹاف اور عوام میں یکسان طور پر مقبول ہیں۔ آپ ایک خوش گفتار ، ملنسار اور مریضوں سے دوستانہ اورپیار سے ملنے والے ڈاکٹر ہیں ۔
آپ 2012میں ای ڈی او ہیلتھ بھی رہے ۔میرٹ کی پاسداری کرتے ہوئے اُس وقت کے وزیر صحت اور محکمہ ہیلتھ کے اعلیٰ حکام کی غلط سفارشوں کو قبول نہ کرنے پر انھیں ای ڈی او کی پوزیشن سے ہٹاکر ڈسٹرکٹ ٹی بی کنٹرول آفیسر چترال تعینات کردیا گیا ۔ اور یوں 2013سے اب تک ٹی بی جیسی موذی مر ض کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے مدت ملازمت پوری کی ۔ اس دوران انھیں چیف میڈیکل آفیسر کے عہدے پر ترقی بھی دید ی گئی ۔
ڈاکٹر سعد ملوک ایک بہترینENTسرجن بھی ہیں انھوں نے ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں ساڑے سات سال تک ای این ٹی ڈیپارٹمنٹ میں آر ایم او اور رجسٹرار ای این ٹی کے پوسٹ پر بھی فائز رہے ہیں ۔ انھوں نے چترال سے باہر رہ کر بھی چترال کے مریضوں کی حد الامکان خدمات انجام دی ہے ۔ چترال کے مختلف مکاتب فکر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی چترال کے عوام کی خدمات انجام دیتے رہیں گے ۔
dr saad muluk3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9663

چترال کے گورنمنٹ سکولوں‌کی کرکٹ ٹیم ڈویژنل مقابلوں‌میں‌حصہ لینے کیلئے سوات روانہ

Posted on

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے گورنمنٹ سکولوں کی کرکٹ ٹیم زلمی لیگ کے ڈویژنل مقابلوں میں حصہ لینے کیلئے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ آفیسر سپورٹس فاروق اعظم کی قیادت میں سوات کیلئے روانہ ہوگئی ۔چترال سے روانگی کے موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر قاری نور اللہ ، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ آفیسر احمد الدین اوراے ڈی او شہزاد ندیم نے کھلاڑیوں کو رخصت کیا۔ اس موقع پر چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی ڈی ای او اور اے ڈی او سپورٹس نے بتایا کہ زلمی لیگ میں حصہ لینے کیلئے چترال کے مختلف گورنمنٹ سکولوں کے مابین کرکٹ میچ کرائے گئے تھے۔ جن میں سے کارکردگی کی بنیاد پر 16کھلاڑیوں کو سلیکٹ کیا گیا ہے۔ جنھیں لیکر سوات میں ڈویژنل مقابلوں میں حصہ لیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ سوات میں ڈویژنل سطح پرکھلاڑیوں کی چناو کیلئے ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع کے کھلاڑیوں میں مقابلے ہونگے ۔جس کے بعد صوبائی سطح پر مختلف ڈویژن سے سیلکشن کئے ہوئے کھلاڑیوں کے مابین میچ ہونگے ۔ جہاں سے صوبائی ذلمی لیگ کی ٹیم کیلئے کھلاڑی چنے جائیں گے۔ ڈپٹی ڈی او نے بتایا کہ یہ تمام مقابلے پہلی دفعہ ایجوکیشن ڈائریکٹریٹ پشاور کے زیر اہتمام گورنمنٹ سکولوں کے کھلاڑیوں کے مابین ہورہے ہیں جبکہ پرائیویٹ سکولز ان میں شامل نہیں ہیں ۔
chitral govt schools cricket team

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9659

دادبیداد………….. افیسروں کی تربیت………….. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

خبر آئی ہے کہ وفاقی حکومت نے بیرون ملک تربیت کے لئے جانے والے افیسروں کے لئے نیا طریقہ کار وضع کرنے کیلئے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ایک مراسلہ بھیجا ہے نئے طریقہ کار میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ بیرون ملک تربیت کے لئے جانے والے حکام حکومت کے اہم راز ہمارے دشمنوں کے ہاتھوں میں نہ دیں نیا طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ماضی میں ہمارے اہم قومی راز تربیت پر جانے والے افیسروں نے افشا کئے جس کی وجہ سے ملک اور قوم کا بھاری نقصان ہوا پہلے مرحلے میں جس انگریزی مراسلے کا افشا ہوا ہے اس میں وزارت خارجہ ، وزارت داخلہ ، وزارت دفاع اور وزارت خزانہ کا ذکر ہے قومی سلامتی کے اداروں کا ذکر ہے دوسری وزارتوں اور ڈویژنوں کا ذکر ہے انگریزی میں طریقہ کار کو سٹینڈرڈ اوپریٹنگ پروسیجر (SOP) کا نام دیاگیا ہے یہ 1990ء کے عشرے کا ذکر ہے جب ملک کی دو سیاسی جماعتوں کے درمیاں دشمنی چل رہی تھی ملک کا وقار بھی داؤ پر لگا ہوا تھا ملک کی سلامتی بھی داؤ پر لگی ہوئی تھی اُس زمانے میں امریکہ کے ایک سرکاری اٹارنی رمزے کلارک نے اخباری بیان دیا تھا کہ ’’پاکستانی ڈالر کے لئے اپنی ماں کو بھی ہمارے قدموں میں ڈال دیتے ہیں ‘‘ اس بیان پر بہت شدید ردعمل آیا سول سوسائٹی نے بُرا منایا تو ایک دوست نے اس پر کالم لکھا کہ امریکی اٹارنی نے پاکستانی قوم میں سے چند افسروں کو دیکھا ہوگا وہ شاید ایسے ہونگے پاکستانی قوم ایسی نہیں ہے 10سال بعد چند افیسروں نے عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کر کے ڈالر لے لیا تو امریکی اٹارنی کی بات درست ثابت ہوئی سفیر بھی سرکاری افیسر ہوتا ہے امریکہ میں پاکستا ن کے ایک سابق سفیر نے کئی اہم قومی راز افشا کرکے ڈالر کمائے بلکہ ایک سفیر نے دشمن کے لئے لابسٹ (Lobbyst) کا کردار بھی ادا کیا پاکستان کے خلاف کارٹون، پیپر اور کتابیں شائع کیں ایسی بے شمار مثالیں ہیں اب حکومت کو اس کا خیال آگیا ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ خود اس کی نگرانی کرکے SOP تیار کروائیں گے اس ضمن میں دو باتیں قابل غور ہیں پہلی بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں بیرون ملک مقیم محب وطن پاکستانیوں سے مشاورت کی جائے لارڈ نذیر احمد ، چوہدری سرور، اعظم سواتی اور ڈاکٹر سید امجد حسین ، ڈاکٹر اکبر ایس احمد اور دوسرے نمایاں شخصیات کا تعاون حاصل کرنا مفید ہوگا اُ ن کے تجربات سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے نیز وطن کے اندر وکلاء اور صحافیوں سے مشاورت بھی مفید ہوگی محض سرکار ی افیسروں کی رپورٹ پر انحصار کر کے SOPبنائے گئے تو پر نالہ وہیں رہے گافرق کوئی نہیں پڑے گا دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ 1947ء سے اب تک افیسروں کی تربیت کا نظام برطانیہ اور امریکہ سے منسلک ہے مخصوص حالات میں جرمنی اور فرانس کو بھی اس میں شامل کیا جاتا ہے گویا ہمارے افیسروں کو تربیت کے لئے یورپ اور امریکہ کے سوا کسی اور ملک بھیجنے پر بہت کم توجہ دی گئی یا بالکل توجہ نہیں دی گئی اب 71سال بعد SOPبنانے کا خیال آیاہے ’’ بڑی دیر کی مہربان آتے آتے ‘‘اس سلسلے میں افیسروں کے لئے مالی طور پر یقیناََ یورپ اور امریکہ جانے میں زیادہ فائدہ ہے افیسروں کی بیگمات کے لئے بھی یورپ اور امریکہ کا سفر زیادہ پُر کشش ہے لیکن قوم مفاد کے لحاظ سے ایسا سفر یقیناََ نقصان دہ ثابت ہوا ہے اس وجہ سے افیسروں کی تربیت کے لئے نئے ممالک کی فہرست مرتب ہونی چاہیئے بہترین تربیتی ادارے ترکی ، ایران اور انڈونیشیا میں بھی قائم ہیں چین ، کوریا، جاپان اور روس میں بھی افیسروں کی تربیت کے بہترین ادارے موجود ہیں تھوڑی سی محنت کی جائے تو ہر شعبے کیلئے ان ممالک میں بہترین اداروں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے فوجی افیسروں کی تربیت کے لئے ترکی، عوامی جمہوریہ چین اور روس کے تربیتی اداروں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے سول سروس کے افیسروں کیلئے عوامی جمہوریہ چین ، ایرا ن ، کوریا اور جاپان کے تربیتی اداروں کا انتخاب مفید ہوگا قومی رازوں کے افشا کو روکنے کا یہ موثر طریقہ ہوسکتا ہے ساغر صدیقی کی ایک نظم مستزاد میں ٹیپ کا بند ہے ’’ او مست نظر جوگی ‘‘ شاعر ہماری ترجمانی کرتے ہوئے کہتاہے ؂
کب ظلمتِ ہستی میں تقریب سحر ہوگی
اومست نظر جوگی
آفات و الم گھر میں مہمان رہینگے کیا!
جاری یہ قیامت کے سامان رہیں گے کیا!
پابند ستاروں کے انسان رہیں گے کیا!
ذروں کے تصرف میں کب شانِ قمر ہوگی
اومست نظر جوگی

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , , , , , , , ,
9652

سب ڈویژن مستوج کے ہیڈ کوارٹر بونی میں آل پاکستان مسلم لیگ کی ذیلی دفتر کا افتتاح

Posted on

بونی ( چترال ٹائمز رپورٹ ) سب ڈویژن مستوج کے ہیڈ کوارٹر بونی میں آل پاکستان مسلم لیگ, اپر چترال کے لیے زیلی دفتر کا شایان شاں طریقے سے افتتاح ہوا. اس موقع پر ضلعی کابینہ کے ممبراں بشمول صدر سلطان وزیر, فنانس سیکرٹری ایڈوکیٹ وقاص احمد, سیکرٹری انفارمشین جی-کے صریر کے علاوہ اپر چترال کے پارٹی صدر سلطان نگاہ اور سیکرٹری اطلاعات ظہیر الدین بابر اور دیگر معززین و اکابرین علاقہ اور نوجوان کثیر تغداد میں شریک ہوۓ. پرویز مشرف سے انس و محبت رکھنے والے اے-پی-ایم-ایل چترال کے بہت سارے عمائدین بارشوں اور اس کے نتیجے میں کئی ایک صعوبتوں کی پرواہ کیے بغیر میلوں کا سفر طے کرکے تقریب کو زینت بخش دی.

مقررین نے کھل کر اظہار خیال کیا اور اس پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مشرف کے نام پر گذشتہ انتخابات میں ووٹ مانگ کر اسمبلیوں تک پہنچنے والے وفاداریاں تبدیل کرکے اور پارٹی چیرمئین سے بےاعتنائی برت کر چترالی روایات کی دھجیاں بکھیر دیے. انہوں نے آل پاکستان مسلم لیگ, چترال کو نئے سرے سےمنظم و مربوط کرنے کی پارٹی قیادت کی کوششوں کی تعریف کی اور امید کا اظہار کیا کہ اس بار پرویز مشرف کے حقیقی نمائندوں کو جتوا کر چترال کی بھرپور اور پرخلوص خدمت کا موقع دیا جاۓ گا.

اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوۓ مقررین نے پرویز مشرف کی جانب سے اٹھاۓ گئے ٹھوس و عملی اقدامات پر ایک بار پھر انہیں خراج تحسیں پیش کیا کہ انہوں نے بغیر سیاسی غرض و لالچ کے کس طرح چترالی قوم کو لواری کی شکل میں شاندار مستقبل کا تخفہ دیا جبکہ گولین گول پروجیکٹ کی صورت میں گھر گھر روشنیاں پہنچائی.

پارٹی کے صدر سلطان وزیر نے خطاب کرتے ہوۓ عین جمہوری اصول و روایات کے موافق متوقع امیدوار میدان میں لانے کی پارٹی پالیسی پر روشنی ڈالی. ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ امیدواروں میں ابھی تک سلطان محمود, امیر حسنات الدین المعروف شہزدہ گل, ظہیر الدین اور محسن حیات سامنے آۓ ہیں. اے-پی-ایم-ایل صدر نے مشرف کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عبوری سیٹ اپ کے بعد پاکستان تشریف لائیں گے اور چترال کی سیٹ پر انتخابات میں حصہ لیں گے.

پارٹی سرگرمیوں کے متعلق آگاہ کرتے ہوۓ سلطان وزیر نے چترال کے طول و عرض میں کئی ایک دفاتر کھولنے, جلسہ عام اور ورکرز کنونشن منعقد کرنے کے متعلق حکمت عملی پیش کی. موقع پر دیگر اکابرین کے علاوہ اپر چترال کے صدر سلطان نگاہ, ریٹائرڈ صوبیدار میجر خیر بیگ, ایڈوکیٹ محمد ہاشم خان اود ایڈوکیٹ وقاص احمد نے بھی اپنے تاثرات و احساسات کا اظہار کیا. بعد میں فیتہ کاٹ کر دفتر کا رسمی افتتاح و ہوا, میٹھائیاں تقسیم ہوئیں اور شرکاء کی جانب سے پارٹی اور پرویز مشرف کے حق میں زوردار نعروں سے پروگرام کا اختتام ہوا.
AMPL upper chitral 1

AMPL upper chitral 2

AMPL upper chitral 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9628

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اسسٹنٹ حاجی یار خان مدت ملازمت مکمل کرکے سبکدوش ہوگئے

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی چترال کے اسسٹنٹ حاجی یار خان مدت ملازمت مکمل کرکے گزشتہ دن سبکدوش ہوگئے ۔ آ پ کاشمار اوپن یونیورسٹی کے بانی ملازمین میں ہوتا ہے ۔ جنھوں نے چترال جیسے دورآفتادہ علاقوں میں تعلیم کی روشنی پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ فاصلاتی نظام تعلیم کے زریعے انھوں نے چترال کے ہزاروں طلبا و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ انھیں پروفیشنل ٹریننگ تک رسائی میں بھی مدد کی ہے ۔
گزشتہ دن حاجی یار خان کیلئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ریجنل آفس چترال میں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔ جس میں چترال کے مختلف مکاتب فکر کے افراد نے شرکت کی ۔ ریجنل ڈائریکٹر رفیع اللہ ، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ، پروفیسر شمس النظر فاطمی اور ہیڈ ماسٹر ضیا ء الدین و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے انکی گرانقدر خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا ۔ انھوں نے بتا یا کہ حاجی یار کا شمار یونیورسٹی کے بانی ملازمین میں ہوتا ہے ۔ انھوں نے 1987ء میں اوپن یونیورسٹی میں ملازمت اختیار کی تھی۔ اور 32سال سروس کے بعد آج سبکدوش ہورہے ہیں۔ انھوں نے دفتر میں ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ ہر آنے والے کی بلاامتیاز خدمت کی جو آئندہ بھی یاد رکھا جائیگا۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی کے دیگر سٹاف بھی ان کی نقش قدم پر چلتے ہوئے طلباء و طالبات کی خدمات کو اپنا شعار بنائیں گے۔

ڈائریکٹر نے انکی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج ایک انتہائی محسن اور اپنے کام سے کام رکھنے والے ساتھی کو خصت کررہے ہیں جو ہر مشکل وقت میں یونیورسٹی اور طلبا و طلبات کے درمیان بہترین روابط قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ اور اپنی ڈیوٹی کو کما حقہ بہترین طریقے سے انجام دیا ہے ۔ یونیورسٹی کیلئے انکی مثالی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ حاجی یارتمام شرکا، اسٹاف اور ڈائریکٹر کا شکریہ ادا کیا.
haji yar khan aiou retired23
haji yar khan aiou retired

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9579

ایس پی طارق کریم مدت ملازمت مکمل کرکے سبکدوش ہوگئے

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ایس پی انوسٹی گیشن چترال پولیس طارق کریم مدت ملازمت مکمل کرکے جمعہ کے دن سبکدوش ہوگئے ۔جس کے اعزاز میں انوسٹی گیشن آفس اور چترال پولیس لائن میں الگ الگ الودواعی تقریبات منعقد ہوئے ۔ تقریب میں چترال کے مختلف محکمہ جات کے سربراہاں، پولیس کے موجودہ اور ریٹائرڈ افسران کثیر تعداد میں شرکت کی ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈی پی او چترال کیپٹن (ر) منصور آمان نے کہا کہ کسی بھی افسر یا اہلکارکیلئے عزت سے نوکری مکمل کرنا اعزاز سے کم نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ طارق کریم بحثیت سپاہی بھرتی ہوکر ایس پی کے عہدے پر آج سبکدوش ہوئے۔ جو ان کی محنت اور ایماندار ی سے ممکن ہوئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ طارق کریم کیلئے یہ بھی اعزاز ہے کہ انھوں نے اپنے علاقے میں اپنے لوگوں کی خدمت کرکے آج سبکدوش ہورہے ہیں۔ جس پر عوامی حلقے بھی ان کی تعریف کررہے ہیں۔

طارق کریم ڈی پی او اور پولیس کے دیگر افسران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ چالیس سال سروس کے بعد باعزت رخصت ہورہے ہیں جو ان کیلئے انتہائی خوشی کا دن ہے .انھوں نے جوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ احساس ذمہ داری اور محنت سے کام کریں تو کامیابی خود بخود انکی قدم چومے گی ۔ رخصتی کے موقع پر پولیس کے چوق و چوبند دستے نے سبکدوش ہونے والے ایس پی کو گارڈ آف انر پیش کیا ۔انھیں پولیس کے جوانوں اور افسروں کی طرف سے تخائف بھی پیش کئے گئے ۔

sp tariq karim chitral farewell party 17

sp tariq karim chitral farewell party 16

sp tariq karim chitral farewell party 15

sp tariq karim chitral farewell party 7

sp tariq karim chitral farewell party 8

sp tariq karim chitral farewell party 9

sp tariq karim chitral farewell party 10

sp tariq karim chitral farewell party 12

sp tariq karim chitral farewell party 13
sp tariq karim chitral farewell party 2

sp tariq karim chitral farewell party 5

sp tariq karim chitral farewell party 4

sp tariq karim chitral farewell party 3

sp tariq karim chitral farewell party 14

sp tariq karim chitral farewell party 6

sp tariq karim chitral farewell party 18

sp tariq karim chitral farewell party 1

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , , , , , , , , ,
9548

چترال میں ملکی کپ پولو ٹورنامنٹ کا افتتاح، اور کپ کی رونمائی تقریب،

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) جمعہ کے روز چترال پولو گراونڈ میں جشن چترال‘‘ ملکی کپ پولوٹورنامنٹ‘‘ کا افتتاح ڈی پی او منصور آمان نے کیا ۔ اس ٹورنامنٹ میں کل52پولو ٹیمین حصہ لے رہی ہیں۔جن میں چترال سکاوٹس ۔چترال لیویزاورچترال پولیس کے علاوہ چترال کے علا قائی ٹیمیں بھی شامل ہیں ، ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام منعقد ہ یہ جشن 13مئی تک جاری رہے گا۔10مئی کے بعدپولو کے علاوہ جشن چترال کے دوسرے کھیل بھی شروع ہونگے جن میں بزکشی۔رسہ کشی۔گھوڑ دوڑ۔نیزہ بازی۔اور کشتی رانی کے مقابلے ہونگے۔فائنل 13مئی کو ہو گا۔جس کے مہمان خصوصی گورنر کے پی کے اقبال ظفر جھگڑا کی آمد متوقع ہے۔
اس سے قبل ڈپٹی کمشنر آفس میں ملکی کپ کا باقاعدہ رونمائی تقریب منعقد ہوئی۔جس میں ڈی پی او ، صدر پولو ایسوسی ایشن شہزادہ سکند رالملک ، ڈپٹی کمشنر ٹانک فضل خالق راجہ ، اے ڈی سی چترال منہا س الدین و دیگر حکام بھی موجود تھے۔جہاں‌ٹھول کی دھاپ پر ملکی کپ کی رونمائی ہوئی .
Chitral mulki cup polo tournament kicked off 23
Chitral mulki cup polo tournament kicked off22 2
Chitral mulki cup polo tournament kicked off 5
Chitral mulki cup polo tournament kicked off 1

Chitral mulki cup polo tournament kicked off 2

Chitral mulki cup polo tournament kicked off2 2

Chitral mulki cup polo tournament kicked off 3 4

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , ,
9538

آغاخان یونیورسٹی کراچی کا چترال میں قائم ادارہ پروفیشنل ڈیویلپمنٹ سنٹر کے زیر اہتمام ایک روزہ سمپوزیم

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) آغاخان یونیورسٹی کراچی کا چترال میں قائم ادارہ پروفیشنل ڈیویلپمنٹ سنٹر کے زیر اہتمام ایک روزہ سمپوزیم میں شرکاء نے ملک کے اس پسماندہ اور دورافتادہ علاقے میں تدریس کے شعبے میں جدیدیت اورمقصدیت پر مبنی مشاغل اپنانے میں نقیب قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس ادارے نے ضلعے کے طول وعرض میں قائم تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی جدید خطوط پر تربیت کرکے کوالٹی ایجوکیشن کی منزل پر گامزن کردیا۔ ادارے کے پچیس سال پورے ہونے پر سلور جوبلی تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ اس سمپوزیم میں پی ڈی سی کے پروفیسر انجم ہلائی، ڈاکٹر ساجد علی، ڈاکٹر عبدالحق ، ایڈیشنل ڈی سی چترال منہاس الدین، مقامی ماہرین اور منتظمین تعلیم اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مقرریں نے آغا خان یونیورسٹی کی وجہ سے معیشت اور سماج پر پڑنے والی مثبت تبدیلیوں اور ان کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے اس ادارے کو ملکی ترقی کے لئے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ اس یونیورسٹی نے ملک بھر میں پھیلے ہوئے اس کے زیر اثر اداروں نے نئی ٹرینڈ سیٹ کی ہیں جن کی وجہ سے رونما ہونے والی تبدیلیاں سب کو محسوس ہورہی ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ امتحان لینے کی روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر جدید طریقہ اپنانے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی اس ادارے نے لیڈر کا رول ادا کیا ہے جوکہ دوسرے اداروں کے لئے قابل تقلید ہیں۔ اس موقع پر ایک اور نشست میں موثر تدریس میں استاذ کی اہمیت پر ایک محفل مذاکرہ منعقدہو ا جس میں بریگیڈیر (ریٹائرڈ ) خوش محمد، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، ڈاکٹر تاج الدین شرر، محمود غزنوی اور دوسروں نے کہاکہ اس سلسلے میں پی ڈی سی نے جدید طریقے اپنا کراساتذہ کو روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید راہوں میں ڈال دیا ہے۔ پی ڈی سی کے ڈپٹی ہیڈ ڈاکٹر ریاض حسین نے پروگرام کے احتتام پر کراچی سے آنے والے مہمانوں اور مقامی حکام ، ضلعی حکومت اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
aku ied pdcc chitral program 1

aku ied pdcc chitral program 12

aku ied pdcc chitral program 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , , , , , , , , ,
9526

صوبائی سلیکشن بورڈ کا اجلاس، 740افسران کو اگلے گریڈوں میں ترقی دینے کی سفارش کی گئی

Posted on

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے زیرنگرانی صوبائی سلیکشن بورڈ کااجلاس جمعرات کے روز منعقدہوا ۔جس میں مختلف محکموں کے 740افسران کو اگلے گریڈ میں ترقی دینے کی سفارش کی گئی ۔ترقی پانے والوں میں محکمہ عملہ کے 2آئی ٹی افسران کوگریڈ 19 میں،2آئی ٹی افسران کو گریڈ 18 اور24 افسران کو پی ایم ایس گریڈ 17 میں ،محکمہ انفارمیشن کے 2 افسران کو گریڈ 18 میں،فنانس کے ایک افسر کوگریڈ 18 ،محکمہ انرجی اینڈ پاورکے 2 افسران کوگریڈ18 میں ،محکمہ معدنیات کے ایک افسر کو گریڈ18 میں،محکمہ داخلہ کے 25 افسران کوگریڈ 18 میں،محکمہ ایکسائزکے 2 افسران کوگریڈ 18 میں،محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے 3 افسران کو گریڈ 20 میں اوردوافسران کو گریڈ 18 میں،محکمہ سپورٹس کے ایک افسر کو گریڈ19 میں اور ایک افسر کو گریڈ 18 میں،محکمہ ماحولیات کے 3 افسران کو گریڈ 19 اور16 افسران کو گریڈ18 میں،محکمہ ایریگیشن میں ایک افسر کو گریڈ 19 اور13 افسران گریڈ 18 میں،محکمہ پاپولیشن کے ایک افسرکو گریڈ 20 اور6 افسران کو گریڈ 19 میں محکمہ انڈسٹری کے 7 افسران کو گریڈ 20 اور32 افسران کوگریڈ 19 میں،محکمہ زراعت کے ایک افسر کوگریڈ 20 میں،71 افسران کو گریڈ19 اور56 افسران کوگریڈ18 میں ،محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے 48 افسران کو گریڈ 20 میں،183 کو گریڈ 19 میں اور234 افسران کو گریڈ18 میں ترقی دینے کی سفارش کی گئی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , , , , , ,
9516

پبلک سروس کمیشن نے محکمہ اعلیٰ تعلیم میں خاتون لیکچررز کی اسامیوں کو حتمی شکل دیدی

Posted on

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن نے محکمہ اعلیٰ تعلیم میں خاتون لیکچرار انگلش کی 23 آسامیوں ،خاتون لیکچرارزوالوجی کی 17 آسامیوں، خاتون لیکچرار اُردو کی 26 آسامیوں اورکامرس کالجز میں خاتون لیکچرار انگلش کی پانچ آسامیوں پر اپنی سلیکشن کو حتمی شکل دیدی ہے اوراس سلسلے میں اپنی سفارشات 25 اور30 اپریل 2018 کو متعلقہ محکموں کو بھیج دی ہیں۔ اس امر کااعلان انچارج میڈیا سیل خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جاری کردہ دو الگ الگ پریس ریلیززمیں کیاگیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , , , , , , , , ,
9514