The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 14 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیراعلیِ کی دیر اور سوات موٹروے فیز ٹو سمیت دیگر روڈ سیکٹر منصوبوں پر پیش رفت کو یقینی بنانے کی ہدایت 

وزیراعلیِ محمود خان کی دیر اور سوات موٹروے فیز ٹو سمیت دیگر روڈ سیکٹر منصوبوں پر پیش رفت کو یقینی بنانے کی ہدایت

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سوات موٹروے فیز ٹو پر کام کی رفتار تیز کرنے جبکہ دیر موٹروے، ڈی آئی خان موٹروے اور دیگر روڈ سیکٹر منصوبوں پر ٹائم فریم کے مطابق پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کل بروز جمعرات خیبرپختونخوا انٹگرییٹڈ ٹورازم پراجیکٹ کے تحت صوبائی حکومت کے میگا پراجیکٹ ایبٹ آباد تا ٹھنڈیانی روڈ پر کام کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں کی معیاری اور بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے جس کا منصفانہ اور کار آمد استعمال یقینی بنانا تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وہ بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں سڑکوں کے مختلف منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیف سیکریٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، ایڈیشنل چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کو خیبرپختونخوا انٹگرییٹڈ ٹورازم پراجیکٹ(کائیٹ) کے تحت جاری منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 24.377 کلو میٹر طویل ایبٹ آباد تا ٹھنڈیانی روڈ منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ تقریباً تین ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اسی طرح کائیٹ پراجیکٹ کے تحت 22 کلومیٹر طویل منکیال۔بڈہ سرائے جابئی روڈ منصوبے کی سائیٹ پر مشینری پہنچا دی گئی ہے۔ تاہم اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے کی مجوزہ الائنمنٹ کا پہلے چار کلومیٹر حصہ حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوا جس کی ری الائنمنٹ کی جا رہی ہے۔ مستقبل میں سیلاب کے ممکنہ خطرات سے بچاﺅ کے لیے متعلقہ سائیٹ پر 85 میٹر طویل ایک پل بھی تجویز کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ 5.7 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اجلاس کو مختلف موٹرویز منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سوات موٹروے فیز ٹو منصوبے پر کام شروع ہے جبکہ دیر موٹر وے منصوبے کی تعمیر کے بیشتر تقاضے مکمل ہیں جبکہ منصوبے کے فنانشل ماڈل کی ریویژن کا عمل بھی آئندہ چند دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔

اسی طرح 46 کلو میٹر طویل بونیر موٹروے کا منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ میں زیر غور ہے۔ یہ منصوبہ 25 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے سوات موٹروے پر اسماعلہ انٹرچینج سے پیر بابا سواڑی روڈ نزد امبیلا تک تعمیر کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں پراونشل روڈز امپروومنٹ پراجیکٹ کے تحت سڑکوں کے نو مختلف منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں جبکہ مردان صوابی روڈ کو دورویہ کرنے کے منصوبے پر 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں 34 کلو میٹر طویل کالام- مٹلتان- مہوڈنڈ روڈ منصوبے کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ 57 کلومیٹر طویل شموزئی-کبل-کانجو- باغ ڈھیری روڈ کا جوائنٹ سروے شروع ہے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے روڈ سیکٹر کے جاری میگا منصوبوں پر کام تیز کرنے جبکہ نئے منصوبوں پر کام کا بروقت اجراءیقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی کے لیے خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی فلاح کے منصوبوں کی معیاری تکمیل یقینی بنائی جائے تا کہ عوام ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے مختلف ریجنز میں روڈ سیکٹر کے میگا منصوبوں کی تکمیل سے ایک بہترین اور مربوط مواصلاتی نیٹ ورک سامنے آئے گا جو صوبے میں تجارتی، معاشی اور سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

chitraltimes cm kp mahmood khan chairing road development projects

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
68647

وزیراعلیٰ محمود خان  نے باجوڑ میں 18 ترقیاتی منصوبوں جبکہ تیمرگرہ میں 8 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا

 وزیراعلیٰ محمود خان  نے باجوڑ میں 18 ترقیاتی منصوبوں جبکہ تیمرگرہ میں 8 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ریجن کے عوام نے جمہوریت کی بقاءاور امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اب کی بار بھی حقیقی آزادی مارچ میں بھر پور کردار ادا کریں گے ۔ اُنہوںنے کہاکہ وہ ملاکنڈ ڈویژن سے مارچ کی قیاد ت خود کریں گے ۔ یہ ایک پر امن مارچ ہوگا جس کا مقصد ملک و قوم کو حقیقی معنوں میں آزادی دلانا ہے کیونکہ ہم 72 سالوں میں آزادی کا وہ مقصد حاصل نہیں کر سکے جس کے تحت پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ ملک اسلام اور شریعت کے نام پر بنا تھا ، ہم یہ مقصد عمران خان کی قیادت میں حاصل کرکے رہیں گے۔بدھ کے روز باجوڑ اور تیمر گرہ میں حقیقی آزادی مارچ کے سلسلے میں عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ عمران خان کی قیادت میں آزادی مارچ کرپٹ سسٹم اورمفاد پرست سیاسی مافیا کے خلاف حتمی اقدام ثابت ہو گا، عوام کو ملک و قوم کی حقیقی آزادی اور اپنی نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے باہر نکلنا ہو گا۔

وزیراعلیٰ نے بدھ کے روز ضلع باجوڑ اور سب ڈویژن تیمرگرہ کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں اُنہوں نے اربوں روپے مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا ۔ وزیراعلیٰ نے باجوڑ میں 18 ترقیاتی منصوبوں جبکہ تیمرگرہ میں 8 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ نے ضلع باجوڑ میں چھ مختلف مقامات پر 52.5 کلومیٹر طویل رابطہ سڑکوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا جبکہ 12 پرائمری سکولوں کے قیام ، 6 پرائمری سکولوں کی مڈل تک اپگریڈیشن، 17 مڈل سکولوں کی ہائی تک اپگریڈیشن، اور 17 ہائی سکولوں کی ہائیر سیکنڈری تک اپگریڈیشن کا افتتاح کیا۔ انہوں نے سپورٹس کمپلیکس خار میں مکمل ہونے والے ہاکی ٹرف ، فٹبال گراو¿نڈ اور ہاسٹل جبکہ مامند میں سپورٹس اسٹیڈیم اور ناواگئی میں مکمل ہونے والی ریسکیو 1122 کی عمارت کا بھی افتتاح کیا۔بعد ازاں انہوں نے تیمر گرہ میں بلامبٹ چلڈرن پارک کے قیام ، کٹیگری ڈی ہسپتال میدان کی کٹیگری سی میں اپگریڈیشن ، کمبر بائی پاس روڈ ، میدان تا براول ٹنل ، جھیل چوک سے تیمر چوک تک روڈ اور دو پلوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔

وزیراعلیٰ نے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کثیر تعداد میں شرکت یقینی بنانے پر عوام کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ خیبرپختونخوا کے غیور عوام حقیقی آزادی کے حصول کیلئے مارچ میں بھر پور شرکت کریں گے۔اُنہوںنے صوبے کے تمام علاقوں کی یکساں بنیادوںپر ترقی کو اپنی حکومت کا ایجنڈا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے صوبے کے پسماندہ اضلاع خصوصاً ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت نے مسائل کے باوجود قبائلی اضلاع کا بجٹ 24 ارب روپے سے بڑھا کر 64 ارب روپے کر دیا ہے اورقبائلی عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لئے اپنی استعداد سے بڑھ کر اقدامات اٹھا رہی ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ امپورٹڈ حکمرانوں کا صوبے خصوصاً قبائلی اضلاع کے ساتھ رویہ نہایت افسوسناک ہے، امپورٹڈ حکومت کے آتے ہی صوبے کے حقوق کی ادائیگی معطل ہوگئی اور ضم اضلاع کے فنڈز روک دئیے گئے ہیں یہاں تک کہ امپورٹڈ حکومت نے ضم اضلاع میں غریب پرور اقدام صحت کارڈ کے پیسے بھی ختم کر دئیے۔ اب صوبائی حکومت اپنے وسائل سے صحت کارڈ کا خرچہ برداشت کر رہی ہے۔بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کے 62 ارب روپے بھی وفاق کے ذمہ ہےں۔ امپورٹڈ حکمرانوں کوصوبے باالخصوص قبائلی عوام کی حق تلفی کا حساب دینا ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن تھا اور آئی ایم ایف کا کشکول ٹوٹنے کے قریب تھا کہ ہماری جمہوری طور پر منتخب حکومت کو سازش کے تحت گرا کر ڈاکوو¿ں کو مسلط کیاگیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں ایک ہی لیڈر ہے اور وہ عمران خان ہے ۔ امپورٹڈ حکمران کسی صورت بھی غیور عوام کے نمائندے نہیں ہوسکتے۔محمود خان نے کہا کہ ہم ملک کو چوروں اور ڈاکوو¿ں کے تسلط سے آزاد کرکے صحیح ٹریک پر ڈالنے کیلئے صاف و شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ موجود الیکشن کمشنر کے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات نا ممکن ہے کیونکہ یہ امپورٹڈ حکومت کا بندہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کے فیصلے پاکستان میں ہونے چاہئےے ، لندن میں بیٹھا مفرور شخص اس ملک کے مقدر کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر موٹر وے پر دیر لوئیر کے پارٹی ورکر کے شہادت کے حوالے سے کہاکہ اس افسوسناک واقعہ میں ملوث ایک شخص پکڑا جا چکا ہے اور باقی 3 افراد بھی بہت جلد قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ شہید کے ورثاءکو امدادی چیک دے دیا گیا ہے اور اس کے خاندان میں ایک فرد کو نوکری بھی دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع میں حکومتی اقدامات اور ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کے بچوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کرنا صوبائی حکومت کی پہلی ترجیح ہے اور اس مقصد کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد باجوڑ میں یونیورسٹی کاسنگ بنیاد رکھیں گے۔

chitraltimes cm kpk mahmood khan addressing timergira dir lower

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
68050

وزیراعلیٰ محمود خان کا دورہ سوات، عوامی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبوں کا افتتاح – تحریر : زار ولی ذاہد

اشاعت خصوصی


وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اضلاع کے دوروں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جمعہ کے روز اپنے آبائی ضلع سوات کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں انہوں نے عوامی فلاح و بہود کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا جن میں سیدو میڈیکل کالج میں ہاسٹل، لیکچر تھیٹرز،لیبارٹریز، آڈیٹوریم، سیدو کالج آف ڈینٹسٹری میں ہاسپٹل بلاک، کالج بلاک اور باو ¿نڈری وال کی تعمیر کے علاہ سیدو ٹیچنگ ہسپتال میں کیتھرائزیشن لیب اور ریجنل بلڈ سنٹر کا قیام شامل ہیں۔ سیدو میڈیکل کالج میں ہاسٹل، لیکچر تھیٹرز، لیبارٹریز اور آڈیٹوریم سمیت دیگر تعمیرات کے اس منصوبے پر مجموعی طور پر 1.1 ارب روپے لاگت آئے گی۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت ایناٹومی، پیتھالوجی، فزیالوجی، بائیوکیمسٹری، کمیونٹی میڈیسن اور فارماکالوجی پر مشتمل اکیڈمک بلاک اور مین ایڈمنسٹریشن آفس، سٹوڈنٹس آفیئرز سیکشن، اسٹیبلشمنٹ سیکشن اور اکاونٹ سیکشن پر مشتمل ایڈمنسٹریشن بلاک کی تعمیر مکمل کی گئی ہے جس کا وزیراعلیٰ نے باضابطہ افتتاح کیا۔

chitraltimes cm kpk mahmood khan swat visit 1

منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت بوائز ہاسٹل، ڈاکٹرز ہاسٹل، پیرامیڈیکس ہاسٹل، آڈیٹوریم، نرسنگ ہاسٹل اور کیفے ٹیریا کی تعمیر کی جائے گی۔ نو قائم شدہ سیدو کالج آف ڈینٹسٹری میں ہاسپٹل بلاک، کالج بلاک، اندرونی سڑکوں کی تعمیر اور باو ¿نڈری وال کی تعمیر کے منصوبے پر 71 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی کوششوں سے سیدو میڈیکل کالج کے لئے 1.3 ارب روپے مالیت کے جدید طبی آلات کی خریداری کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔ میڈیکل کالج میں اس وقت بارہ مختلف شعبوں میں ایف سی پی ایس اور ایم سی پی ایس ٹریننگ کی سہولت موجود ہے۔ میڈیکل کالج میں افتتاح کئے جانے والے دو لیکچر تھیٹرز، لیبارٹریز اور آڈیٹوریم سے کالج کی نشستیں 100سے بڑھ کر 150 ہو جائےں گی۔ اور میڈیکل کالج کی نئی عمارت میں جلد کلاسوں کا اجرا ءکیا جائے گا۔


سیدو میڈیکل کالج میں اس وقت طلبہ کی تعلیم و تدریس کے لئے 97 فیصد سرٹیفائیڈ اساتذہ دستیاب ہیں ۔ سوات میں جدید سہولیا ت سے آراستہ ڈینٹل کالج اور ہاسپٹل کا قیام بلاشبہ ایک تاریخی اقدام ہے جس کا کریڈٹ موجودہ صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ محمود خان کو جاتا ہے ۔ اس کالج کا قیام علاقے کے عوام کی دیرینہ خواہش اور وقت کی ایک اہم ضرورت تھی جسے موجودہ صوبائی حکومت نے پورا کردیا۔ اس کالج کے قیام سے نہ صرف سوات بلکہ پورے ملاکنڈ ڈویژن کے طلبہ مستفید ہونگے۔ڈینٹل کالج میں اسی سال اکیڈیمک سیشن کا آغاز کیا جائے گا اور پہلے سیشن میں 50 طلبہ کو داخلہ دیا جائے گا۔

chitraltimes cm kpk mahmood khan swat visit 3


وزیراعلیٰ نے سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال میں کیتھ لیب کا بھی افتتاح کیا جس پر 17کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال ملاکنڈ ڈویژن کا واحد تدریسی ہسپتال ہے جو ملاکنڈ ڈویژن کی تقریباًایک کروڑ آبادی کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات فراہم کر رہا ہے ۔ ہسپتال میں دل کے مریضوں کو علاج معالجے کی بروقت اور معیاری سہولیات کی فراہمی کے لئے کیتھ لیب کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جارہی تھی جسے موجودہ حکومت نے پورا کر دیا ۔ سیدو گروپ آف ہسپتال میں کیتھ لیب نے سال 2021 کے آخر میں کام شروع کیا تھا اور اب تک یہاں پرا مراض قلب کے351 مریضوں کا مفت علاج کیا جاچکا ہے۔ روزانہ کی بنیادوں پر اس لیب میں چھ مریضوں کی انجیوگرافی، انجیو پلاسٹی اور سٹنٹ کئے جاتے ہیں۔ اس لیب میں انجیوگرافی کے 179، انجیو پلاسٹی کے 139 اور پیس میکر کے چار کیسز کامیابی سے کئے جا چکے ہیں، اور علاج معالجے کی ساری سہولیات صوبائی حکومت کے غریب پرور پروگرام صحت کارڈ اسکیم کے تحت مفت فراہم کی جارہی ہیں۔


اسی طرح وزیراعلیٰ نے سوات میں نو قائم شدہ ریجنل بلڈ ٹرانسفیوژن سنٹر کا بھی باقاعدہ افتتاح کیا۔ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں اس سنٹر نے سال 2020 سے کام کا آغاز کیا تھا تب سے اب تک اس سنٹر کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی ہے۔ اب تک اس سنٹر نے مختلف ہسپتالوں اور تھیلیسمیا فاو ¿نڈیشن کو ساڑھے اڑتالیس ہزار خون کے تھیلے مفت فراہم کئے ہیں۔ ریجنل بلڈ سنٹر نے اب تک سیدو گروپ آف ہسپتالوں کو37,392، وجیہہ تھیلیسمیا فاو نڈیشن کو 3363 ، میاں گل جہانزیب کڈنی ہسپتال کو 669 ڈی ایچ کیو ہسپتال تیمر گرہ کو 303، ڈی ایچ کیو ہسپتال اپر دیر کو 479 ، ٹی ایچ کیو ہسپتال چکدرہ کو 301، ڈی ایچ کیو ہسپتال شانگلہ کو 510، ڈی ایچ کیو ہسپتال بونیر کو 404، الفجر تھیلیسمیا فاو نڈیشن کو 513، مردان میڈیکل کمپلیکس اور نوشہرہ میڈیکل کمپلیکس کو 1,444، ٹی ایچ کیو ہسپتال درگئی کو 542 اور حیات میڈیکل کمپلیکس کو 444 خون کے تھیلے فراہم کئے ہیں۔

chitraltimes cm kpk mahmood khan swat visit 2

اس موقع پر سیدو میڈیکل کالج میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحت کا شعبہ شروع دن ہی سے پاکستان تحریک انصاف حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے اور حکومت اس شعبے کو جدید عصری تقاضوں کے مطابق مستحکم اور عوامی توقعات کے مطابق بنانے کے لئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھا رہی ہے۔ صحت کارڈ پلس اسکیم کو اپنی حکومت کا ایک غریب پرور اور فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکیم کے تحت صوبے کی سو فیصد آبادی کو ملک بھر کے منتخب نجی و سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کی جارہی ہےں ۔ صوبائی حکومت نے اس اسکیم کو مزید جامع بنانے کے لئے گردوں کے مفت علاج معالجے کو بھی اس میں شامل کردیا ہے۔ جبکہ جگر کی پیوند کاری اور کینسر کے مہنگے علاج کو بھی اس میں شامل کرنے پر کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس اسکیم کی افادیت کو سامنے رکھتے ہوئے مفت اوپی ڈی سروسز کو بھی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔


محمود خان نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران صوبے کے میڈیکل کالجوں کی نشستوں کو 1300سے بڑھا کر 1750 کردیا گیا ہے جو صوبے کے میڈیکل کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے موجودہ صوبائی حکومت کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ سوات میں صحت کے شعبے کی ترقی کے لئے اپنی حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے محمود خان کا کہنا تھا کہ 300 بستروں پر مشتمل پیڈز ہسپتال کا قیام ، سیدو گروپ آف ہاسپٹل میں کارڈیالوجی اور گائنی یونٹس کا قیام، ٹراما ، ایکسیڈنٹ اینڈ ایمر جنسی سنٹر کا قیام، سکول آف نرسنگ کا قیام، متعدد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں ، دیہی مراکز صحت اور بنیادی مراکز کی صحت کی اپگریڈیشن سمیت دیگر منصوبے موجودہ صوبائی حکومت کے اہم اقدامات ہیں جن کی تکمیل سے علاقے کے لوگوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات مقامی سطح پر میسر ہونگی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے سیدو میڈیکل کالج کے انتظامی ، تدریسی، اور طبی امور کو ڈیجیٹائز کرنے اور کالج میں بجلی کی فراہمی کے لئے کالج کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا۔


اپنے ایک روزہ دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے سوات پریس کلب کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے سوات پریس کلب اور سوات یونین آف جرنلسٹس کی نومنتخب کابینہ سے حلف بھی لیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر سوات کے صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے موقع پر موجودہ متعلقہ حکام کو ضروری اقدمات کی ہدایت کی۔

میڈیکل کالجوں
chitraltimes cm kpk mahmood khan swat visit 4


Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
57362

صوبے میں امن وامان حوالےوزیراعلیٰ محمود خان کے زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس


پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبے میں امن و امان کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منگل کے روز منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے علاوہ امن و امان سے متعلق گذشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔اجلاس کو صوبے میں امن و امان کی تازہ صورتحال، امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے پولیس اور انتظامیہ کے اقدامات اور پڑوسی ملک افغانستان کی بدلتی صورتحال کے صوبے پر پڑنے والے ممکنہ اثرات اور ان سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تیاریوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز اور آئی جی پی معظم جاہ انصاری کے علاوہ ڈویژنل کمشنرز، آر پی اوز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کے واقعات کے تدارک کے ساتھ ساتھ بدامنی کے دیگر واقعات اور جرائم کی روک تھام پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ گزشتہ روز دیر میں جنازے اور جرگے میں رونما ہونے والے واقعات افسوسناک،قابل مذمت اور پشتون روایات کے منافی ہیں۔اُنہوںنے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ


جرگوں، جنازوں اور اس طرح کے دیگر اجتماعات میں آئندہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے موثر میکنزم تیار کیا جائے اوراس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسے اجتماعات میںکوئی اسلحہ لے کر نہ جائے ۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ جرائم اور قتل کے واقعات کی روک تھام کے لیے تھانوں کی سطح پر پولیس کو مزید متحرک اور فعال کیا جائے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبہ بھر میں شرپسند اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف منظم انداز میں کاروائیاں جاری ہیں، پچھلے 35 دنوں کے اندر نیشنل ایکشن پلان کے تحت 2631 کیسز درج کئے گئے ہیں، 6133 غیرقانونی اسلحہ پکڑا گیا، لینڈ مافیا کے خلاف کاروائیوں میں 250 کیسز درج کئے گئے جبکہ اس دوران منشیات کے خلاف کاروائیوں میں 2695 کلوگرام منشیات پکڑی گئیں ۔ مزید بتایا گیا کہ خاندانی اور زمین کے تنازعات حل کرنے کے لئے تمام اضلاع میں مصالحتی کونسلز کو فعال کیا گیا ہے،روایتی تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کیلئے تھانوں میں آسان انصاف مراکز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی سکیورٹی کے لئے پولیس کی خصوصی فورس قائم کی گئی ہے۔


اجلاس میں پولیو ٹیموں کی سکیورٹی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر اگلی پولیو مہم کی سکیورٹی کے لئے ایف سی کے دستے تعینات کرنے کے سلسلے میں وفاق سے رابطہ کیا جائے گا۔ مزید برآں اجلاس میں تعلیمی اداروں اور بڑے طبی مراکز کی سکیورٹی کا دوبارہ سے جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ شرکاءاجلاس کی تجاویز پر سی آر پی سی میں بعض ضروری اصلاحات اور ترامیم کے سلسلے میں وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کرنے کے لئے تمام شراکت داروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اسی طرح خاندانی اور جائیداد سے متعلق تنازعات کے حل کے لئے نچلی سطح پر مصالحتی کونسلز کو مزید فعال بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ صوبے میں امن و امان کو اپنی حکومت کی اولین ذمہ داری قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی استعداد اور وسائل سے بڑھ کر اقدامات کو یقینی بنائے گی اور اس سلسلے میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی ۔
<><><><

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
52677

وزیراعلیٰ نے مکھنیال میں جنگلاتی زمینوں کی خریدوفروخت اورغیرقانونی تعمیرات کا نوٹس، دفعہ 144نافذ

وزیراعلیٰ نے مکھنیال میں جنگلاتی زمینوں کی خریدوفروخت اورغیرقانونی تعمیرات کا نوٹس،دفعہ 144نافذکرنیکی ہدایت

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے متصل ضلع ہری پور کے علاقہ مکھنیال میں جنگلاتی رقبے پر زمینوں کی خرید وفروخت اور وہاں پر غیر قانونی تعمیرات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس طرح کی تمام سرگرمیوں پر فی الفور پابندی عائد کرنے اور اس مقصد کے لئے دفعہ 144نافذ کرکے اس پر موئثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔


یہ ہدایات انہوں نے پیر کے روز مکھنیال میں جنگلات کے تحفظ اور وہاں پر کمرشل بنیادوں پر تعمیراتی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ قائم مقام چیف سیکرٹری ظفرعلی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں، کمشنر ہزارہ، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او ہری پور، ڈائریکٹرجنرل گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او ہری پور کو مکھنیال کے جنگلات اور ان کے گرد و نواح میں تعمیراتی سرگرمیوں پر دفعہ 144 پر موئثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرے اس کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ188 کے تحت سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

وزیراعلیٰ نے مکھنیال کے گزارا فارسٹ میں تجارتی عمارتیں تعمیر کرنے کے لئے غیر قانونی این او سی جاری کرنے والے متعلقہ تحصیل میونسپل آفیسر کو فوری طور پر ملازمت سے فارغ کرنے جبکہ فرائض سے غفلت برتنے والے محکمہ جنگلات کے متعلقہ چیف کنزر ویٹر کو معطل کرنے اور دیگر عملے کو اپنے عہدوں سے ہٹانے کے احکامات جاری کئے۔

اجلاس میں مکھنیال کے جنگلات کی باقاعدہ درجہ بندی اور حد بندی کا فیصلہ کرتے ہوئے گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو تین مہینوں میں ان جنگلات کی درجہ بندی اور حد بندی کا سارا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی اور اس مقصد کے لئے محکمہ جنگلات، ریو نیو اور گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک کمیشن بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔


اجلاس میں ان جنگلات کی درجہ بندی اور حد بندی کا عمل مکمل ہونے تک علاقے میں زمینوں کے انتقالات اور رجسٹریوںں کے اجرائپر پابندی کا فیصلہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں محکمہ مال اور ضلعی انتظامیہ کو ضروری کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی۔ اسی طرح مکھنیال اور خانپور میں جنگلات اور قدرتی ماحول کو درپیش خطرات کے پیش نظر معدنیات کے جاری کردہ لیزز کو بھی فی الوقت منسوخ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

وزیر اعلی نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو مکھنیال میں غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے اور ان کی روک تھام کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں روزانہ کی بنیادوں پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔جنگلات کے تحفظ کو اپنی حکومت کی سب سے اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مکھنیال کے جنگلاتی رقبے کی زمینوں کی خریدو فروخت اور وہاں پر غیر قانونی تعمیرات میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی کتنا بھی بااثر ہو اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
51275

وزیراعلیٰ کا لیکچرزاورپروفیسرز کی دیگرمحکموں میں انتظامی عہدوں پر تعیناتی کا نوٹس، واپس بھیجنے کی ہدایت

وزیراعلیٰ کا لیکچرزاورپروفیسرز کی دیگرمحکموں میں انتظامی عہدوں پر تعیناتی کا نوٹس، واپس بھیجنے کی ہدایت


 پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے لیکچرز اور پروفیسرز کی دیگر محکموں میں انتظامی عہدوں پر تعیناتی کا نوٹس لیتے ہوئے ایسے تمام لیکچرز اور پروفیسرز کو فوری طور پر محکمہ اعلیٰ تعلیم واپس بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ نے اس سلسلے میں محکمہ اعلیٰ تعلیم اور اسٹیبلشمنٹ کو مراسلہ جاری کر دیا جس میں دیگر محکموں میں انتظامی عہدوں پر تعینات لیکچرز اور پروفیسرز کو تین دنوں کے اندر محکمہ اعلیٰ تعلیم واپس بھیج کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روزوزیر اعلیٰ کی زیر صدارت جنوبی اضلاع کے عوامی مسائل کے حل کے سلسلے میں منعقدہ ایک اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی نے کالجوں میں اساتذہ کی عدم دستیابی کا مسئلہ اٹھایا تھا جس پر وزیر اعلیٰ نے موقع پر ہی دیگر محکموں میں ڈیپیوٹیشن پر تعینات محکمہ اعلیٰ تعلیم کے تدریسی عملے کو فوری طور پر واپس محکمہ اعلیٰ تعلیم واپس بھیجنے اور انہیں کالجوں میں تعینات کرنے کے احکامات جاری کئے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ لیکچرز اور پروفیسرز درس و تدریس کے لئے بھرتی کئے گئے ہیں، انتظامی عہدے چلانے کے لئے نہیں، ان سے وہی کام لیا جائے جس کے لئے وہ بھرتی کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ لیکچرز اور پروفیسرز کی دیگر محکموں میں انتظامی عہدوں پر تعیناتی سے کالجوں میں درس و تدریس کا عمل متاثر ہو رہا ہے اس لئے ان کی دیگر محکموں میں انتظامی عہدوں پر تعیناتی کا عمل مستقل طور پر بند کیا جائے۔
<><><><><><><>

وزیراعلیٰ کا پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل آسامیوں پر بھرتی کے سارے عمل کوصاف اور شفاف بنانے کے لئے بھرتیاں ایٹا کے ذریعے کروانے کی ہدایت


پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل آسامیوں پر بھرتی کے سارے عمل کوصاف اور شفاف بنانے کے لئے بھرتیاں ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی (ایٹا) کے ذریعے کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے پی ڈی اے کو اس سلسلے میں ایٹا کی خدمات حاصل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے پی ڈی اے حکام کو مجوزہ بلڈنگ بائی لاز اور ہائی رائز ریگولیشنز کو سرمایہ کاروں کے لئے آسان سے آسان بنانے اور انہیں ایک مہینے کے اندر حتمی شکل دے کر منظوری کے لئے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبے کی طرف نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئیے سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنا موجودہ حکومت کا وژن ہے جس کے لئے تعمیراتی شعبے کے قواعد و ضوابط میں پیچیدگیوں کو دور کرکے انہیں سرمایہ کاروں کے لئے سہل بنانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ وہ گزشتہ روز پی ڈی اے کے چھٹے بورڈ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، ممبران صوبائی اسمبلی ملک آصف، فضل الہٰی، پیر فدا محمد، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، پی ڈی اے کے اعلیٰ حکام اور دیگر بورڈ ممبرا ن نے اجلاس میں شرکت کی۔


اجلاس میں بورڈ کے سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور متعدد نئے امور کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں حیات آباد فیز تھری اور سیکٹر اے ون فیز فائیو میں دستیاب اراضی کی کمرشل پلاٹنگ کے حوالے سے مجوزہ پلان کی منظوری دی گئی ہے۔ پلان کے مطابق دو کنال سے لیکر آٹھ کنال تک مختلف سائز کے پلاٹس کمرشل مقاصدکیلئے تجویز کئے گئے ہیں جن میں کارپارکنگ کی سہولت بھی رکھی گئی ہے۔


اجلاس میں ناردرن بائی پاس اور موٹر وے کے سنگھم پر نیا جنرل بس سٹینڈ پی ڈی اے کے اپنے وسائل سے تعمیر کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ موٹر وے ، جی ٹی روڈ اور بی آر ٹی سے منسلک ہونے کی وجہ سے مجوزہ جنرل بس سٹینڈتک عوام کی رسائی آسان ہوگی۔ پشاور کے تمام بس ٹرمینل، اڈے اور سٹینڈز مجوزہ جنرل بس سٹینڈ میں منتقل کردئیے جائیں گے۔ یہ بس سٹینڈ، ٹرمینل کے جدید ترین تصور کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جائے گا جس میں سولر پلاننگ ، گرے واٹرری سائیکلنگ سسٹم ، کمرشل شاپس ، کیفے ٹیریا، مسجد، ٹائلٹس، پٹرول پمپ، سروس سٹیشن، ورکشاپ، ڈرائیورز کیلئے ریسٹ ایریاز، کارپارکنگ، رکشوں اور ٹیکسیوں کے لئے سٹینڈز سمیت دیگر تمام سہولیات دستیاب ہوں گی۔ اجلاس میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو خیبرپختونخوا ڈیلیگیشن آف فنانشل پاورز رولز 2018 اختیار کرنے کی منظوری دی گئی۔


علاوہ ازیں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اپنی ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل آسامیوں پر بھرتی ایٹا کے ذریعے عمل میں لانے کے لئے ایٹا کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ اسی طرح گندھارا ویلی سٹی کے منصوبے پر عملدرآمد کیلئے پراجیکٹ منیجمنٹ یونٹ کی تخلیق اور اس مقصد کیلئے مجوزہ آرگنوگرام کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو مجوزہ یونٹ کیلئے ماڈیلیٹیز کو حتمی شکل دے گی۔ مزید برآں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 2017 میں ترامیم کے مطابق لینڈ شیئرنگ کی بنیاد پر زمین کے حصول کے سلسلے میں مجوزہ ریگولیشنز کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں پی ڈی اے کیلئے سروس ڈیلیوری یونٹ قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح اجلاس میں حیات آباد فیز ٹو میں 41 کنال اراضی پر پارک بنانے کی منظوری دی گئی۔ بورڈ نے ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی حدود میں تجاوزات کرنے اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر جرمانوں کی نئی شرح کی بھی منظوری دیدی۔
<><><><><><>

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
51209

کم سے کم ماہانہ اجرت 21 ہزار روپے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے احکامات جاری

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کم سے کم ماہانہ اجرت 21 ہزار روپے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں کو احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب سے تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریز کو تحریری ہدایت نامہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں صوبائی حکومت کی اعلان کردہ کم سے کم ماہانہ اجرت پر یکم جولائی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس ضمن میں یہاں سے جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری محکموں میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے عملے کو ماہانہ 21 ہزار روپے اجرت کی ادائیگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ممتاز روحانی شخصیت اور مبلغ پیر رحمت کریم آف ڈاگ اسماعیل خیل کی وفات پر گہر ے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعلیٰ نے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کااظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دُعا کی ہے ۔ اُنہوںنے مرحوم کی وفات کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاءپر نہیں ہو سکے گا۔ مرحوم کی دینی اور علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی گراں قدر علمی و دینی خدمات عرصہ دراز تک یاد رکھی جائیں گی ۔
دریں اثناءوزیراعلیٰ نے سابق ایم پی اے عبد الرزاق مجددی کے انتقال پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے ۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعلیٰ نے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دُعا کی ہے ۔
<><><><><><>

آزاد جموں کشمیر انتخابات میں سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور پاک فوج کے اہلکاروں کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے پروزیراعلیٰ کا اظہار افسوس


پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے آزاد جموں کشمیر انتخابات میں سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور پاک فوج کے اہلکاروں کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے میں چار فوجی اہلکاروں کی شہادت پر تعزیت کی ہے ۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعلیٰ نے شہداءکے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداءکے درجات کی بلندی اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دُعا کی ہے ۔دریں اثناءوزیراعلیٰ نے سوات کے دو نوجوانوں کے دریائے پنجکوڑہ میں ڈوب کر جاںبحق ہونے کے واقعہ پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔اُنہوںنے غمزدہ خاندانوں سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی بخشش اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دُعا کی ہے ۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
50770

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری کے منصوبے پر عملی پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری کے منصوبے پر عملی پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے تمام متعلقہ حکام کو صوبے کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری کے منصوبے پر مقررہ ٹائم لائن کے مطابق عملی پیشرفت یقینی بنانے کی ضروری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ دو سالوں میں صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی تجدید کاری کا عمل ہر لحاظ سے مکمل کرلیا جائے۔ انہوں نے اس مقصد کیلئے منصوبے کے پہلے مرحلے میں شامل ہسپتالوں پر طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق عملی کام کا اجراءکرنے جبکہ نومبر تک تمام پیکجز کی ڈیزائننگ کا عمل مکمل کرنے اور ٹینڈر ڈاکومنٹس کی تیاری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ عوامی فلاح کے اس منصوبے کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جا سکے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سیکرٹری محکمہ صحت امتیاز حسین شاہ، وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکریٹری مواصلات و تعمیرات اعجاز حسین انصاری اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر نیاز کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کو منصوبے پر عملدرآمد کے طریقہ کار، اب تک کی پیشرفت اور دیگر مختلف پہلوو ¿ں کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت آئندہ دو سالوں میں صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ منصوبے کا کل تخمینہ لاگت 14.9 ارب روپے ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے چار مختلف فیزز بنائے گئے ہیں۔بندوبستی اضلاع کے25 ہسپتالوں پر مشتمل پہلے تین فیز ز کو سات پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں چارسدہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور کرک کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کے علاوہ مولوی جی ہسپتال پشاور اور نصیر ﷲ بابر ہسپتال پشاور شامل ہیں جن کودو پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے۔


وزیراعلیٰ نے پہلے فیز میں شامل ہسپتالوں پر عملی کام کا بروقت اجرا کرنے جبکہ دیگر پیکجز کی ٹینڈر دستاویزات ، ڈیزائننگ اور پی سی ونز سمیت دیگر تمام ضروری لوازمات آئندہ نومبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کیلئے اس منصوبے کو آئندہ دوسالوں کے اندر بہر صورت مکمل دیکھنا چاہتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس مقصد کیلئے محکمہ صحت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جس کی تکمیل سے صوبے کے دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو مقامی سطح پر یقینی بنانے اور صوبے کے تدریسی ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
50182

سوات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا جلسہ ایک ناکام شو تھا۔ وزیراعلیٰ محمود خان

سوات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا جلسہ ایک ناکام شو تھا۔ وزیراعلیٰ محمود خان

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سوات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے کو مکمل طور پر ایک ناکام شو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جلسے میں لوگوں کی عدم دلچسپی اور عدم شرکت اپوزیشن کی ناکامی اور حکومتی پالیسیوں پر عوام کے بھر پور اعتماد کا مظہر ہے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایک دوسرے کے بدترین سیاسی مخالفین، ایک دوسرے کو ملک کی بربادی کا ذمہ دار اور ایک دوسرے کو کرپشن کے بے تاج بادشاہ قرار دینے والے سیاسی بے روزگاروں کا ٹولہ اپنی کرپشن چھپانے کے لئے اس طرح کی شوبازیوں میں مصروف ہے لیکن صوبے کے باشعور عوام نے پہلے بھی انہیں مسترد کردیا تھا اور اس بار بھی مسترد کردیا اور یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا بہت پہلے ہی نکل چکی تھی جب کہ اس میں شامل دو بڑی پارٹیاں الگ ہوگئی تھیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت اور وزیر اعظم عمران کے بے لاگ احتساب کے عمل نے گزشتہ سات دہائیوں سے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے عناصر کو اکٹھا کر دیا ہے لیکن پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے نام پر یہ اکٹھا ہونا اصل میں کرپشن بچاو تحریک ہے جس کا مقدر ناکامی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن والے کچھ بھی کر لیں مگر ان سے لوٹی ہوئی ملکی دولت کی پائی پائی کا حساب لیا جائے گا۔

محمود خان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ عام انتخابات میں عوام نے انہیں سبز باغ دکھا کر باری باری اس ملک کے وسائل لوٹ کر اپنی جیبیں بھرنے والوں کو یکسر مسترد کردیا اور انشاءاللہ آنے والے عام انتخابات میں بھی عوام انہیں مسترد کریں گے کیونکہ کہ اب قوم کو عمران خان جیسے نڈر، مخلص اور ایماندار لیڈر کی قیادت مل گئی ہے جس کے دل میں اس قوم کا درد ہے اور وہ نہ صرف اس قوم کو ایک عظیم قوم بنانے کی خواہش رکھتے ہیں بلکہ صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سوات جلسے میں عوام کی عدم دلچسپی اور عدم شرکت کے بعد اپوزیشن والوں نے جلسہ گاہ بھرنے کی ناکام کوشش میں مدرسوں کے کمسن طلبہ کو جلسے کے لئے استعمال کیا جو ان طلبہ کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کے ساتھ بھی زیادتی ہے، مدرسوں کے طلبہ سیاسی جلسوں میں شرکت کے لئے نہیں بلکہ حصول علم کے لئے مدرسوں میں داخلہ لیتے ہیں انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged , ,
49957