The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 11 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیراعلیِ کی دیر اور سوات موٹروے فیز ٹو سمیت دیگر روڈ سیکٹر منصوبوں پر پیش رفت کو یقینی بنانے کی ہدایت 

وزیراعلیِ محمود خان کی دیر اور سوات موٹروے فیز ٹو سمیت دیگر روڈ سیکٹر منصوبوں پر پیش رفت کو یقینی بنانے کی ہدایت

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سوات موٹروے فیز ٹو پر کام کی رفتار تیز کرنے جبکہ دیر موٹروے، ڈی آئی خان موٹروے اور دیگر روڈ سیکٹر منصوبوں پر ٹائم فریم کے مطابق پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کل بروز جمعرات خیبرپختونخوا انٹگرییٹڈ ٹورازم پراجیکٹ کے تحت صوبائی حکومت کے میگا پراجیکٹ ایبٹ آباد تا ٹھنڈیانی روڈ پر کام کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں کی معیاری اور بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے جس کا منصفانہ اور کار آمد استعمال یقینی بنانا تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وہ بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں سڑکوں کے مختلف منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیف سیکریٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، ایڈیشنل چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کو خیبرپختونخوا انٹگرییٹڈ ٹورازم پراجیکٹ(کائیٹ) کے تحت جاری منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 24.377 کلو میٹر طویل ایبٹ آباد تا ٹھنڈیانی روڈ منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ تقریباً تین ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اسی طرح کائیٹ پراجیکٹ کے تحت 22 کلومیٹر طویل منکیال۔بڈہ سرائے جابئی روڈ منصوبے کی سائیٹ پر مشینری پہنچا دی گئی ہے۔ تاہم اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے کی مجوزہ الائنمنٹ کا پہلے چار کلومیٹر حصہ حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوا جس کی ری الائنمنٹ کی جا رہی ہے۔ مستقبل میں سیلاب کے ممکنہ خطرات سے بچاﺅ کے لیے متعلقہ سائیٹ پر 85 میٹر طویل ایک پل بھی تجویز کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ 5.7 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اجلاس کو مختلف موٹرویز منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سوات موٹروے فیز ٹو منصوبے پر کام شروع ہے جبکہ دیر موٹر وے منصوبے کی تعمیر کے بیشتر تقاضے مکمل ہیں جبکہ منصوبے کے فنانشل ماڈل کی ریویژن کا عمل بھی آئندہ چند دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔

اسی طرح 46 کلو میٹر طویل بونیر موٹروے کا منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ میں زیر غور ہے۔ یہ منصوبہ 25 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے سوات موٹروے پر اسماعلہ انٹرچینج سے پیر بابا سواڑی روڈ نزد امبیلا تک تعمیر کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں پراونشل روڈز امپروومنٹ پراجیکٹ کے تحت سڑکوں کے نو مختلف منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں جبکہ مردان صوابی روڈ کو دورویہ کرنے کے منصوبے پر 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں 34 کلو میٹر طویل کالام- مٹلتان- مہوڈنڈ روڈ منصوبے کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ 57 کلومیٹر طویل شموزئی-کبل-کانجو- باغ ڈھیری روڈ کا جوائنٹ سروے شروع ہے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے روڈ سیکٹر کے جاری میگا منصوبوں پر کام تیز کرنے جبکہ نئے منصوبوں پر کام کا بروقت اجراءیقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی کے لیے خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی فلاح کے منصوبوں کی معیاری تکمیل یقینی بنائی جائے تا کہ عوام ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے مختلف ریجنز میں روڈ سیکٹر کے میگا منصوبوں کی تکمیل سے ایک بہترین اور مربوط مواصلاتی نیٹ ورک سامنے آئے گا جو صوبے میں تجارتی، معاشی اور سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

chitraltimes cm kp mahmood khan chairing road development projects

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
68647

سوات موٹروے فیز ٹو کی تعمیر کیلئے پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اور نجی تعمیراتی کمپنی کے مابین معاہدے پر دستخط

سوات موٹروے فیز ٹو کی تعمیر کیلئے پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اور نجی تعمیراتی کمپنی کے مابین معاہدے پر دستخط

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا حکومت کے فلیگ شپ منصوبے سوات موٹروے فیز ٹو کی تعمیر کے سلسلے میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اور نجی تعمیراتی کمپنی کے مابین معاہدے پر دستخط کر دیئے گئے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان تھے۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے مواصلات و تعمیرات ریاض خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش کے علاوہ محکمہ منصوبہ بندی ، مواصلات اور پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے متعلقہ حکا م نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ 80 کلومیٹر طویل سوات موٹروے کی تعمیر پر 58 ارب کی تخمینہ لاگت آئے گی جس میں زمین کی خریداری کے لئے رقم بھی شامل ہے ۔

یہ موٹروے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چکدرہ انٹرچینج سے مدین فتح پور تک تعمیر کیا جائے گا۔ یہ موٹروے ابتدائی طور پر چار لینز پر مشتمل ہو گا تاہم مستقبل میںاس کو چھ لینز تک توسیع دینے کی گنجائش موجود ہو گی ۔اس موٹروے پر 9 انٹرچینجز تعمیر کئے جائیں گے جن میں چکدرہ انٹر چینج ، شموزئی انٹر چینج ، بری کوٹ انٹر چینج ، مینگورہ انٹر چینج ، کانجو انٹر چینج ، مالم جبہ۔یونیورسٹی آف سوات انٹر چینج، شیر پالم انٹر چینج ، مٹہ خوازہ خیلہ انٹر چینج اور مدین فتح پور انٹر چینج شامل ہیں۔ اس کے علاوہ منصوبے کے تحت دریائے سوات پر مختلف مقامات پر آٹھ پل تعمیر کئے جائیں گے ۔ مختلف مقامات پر چار ریسٹ ایریاز کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے جبکہ ضرو رت کی بنیاد پر لنک ہائی ویز بھی تعمیر کی جائیں گی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سوات موٹروے کو علاقے کی پائیدار بنیادوں پر ترقی کیلئے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوات موٹروے فیز ٹو کی تعمیر سے علاقے میں سیاحتی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملنے کے علاوہ لوگوں کو آمدورفت کی معیاری سہولیات میسر ہوں گی اور مقامی لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے ۔ اُنہوںنے کہاکہ سوات موٹروے فیز ٹو پر عملی کام کا آغاز کرنے کیلئے زمین کی خریداری کا عمل جاری ہے اور بہت جلد اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت صوبے کے تمام اضلاع کو شاہراہوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک کرنے کرنے کیلئے موٹرویز کے کئی اہم منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور ان موٹرویز کی تعمیر سے یہ صوبہ ملکی اور غیر ملکی تجارت کا مرکز بن جائے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں موٹرویز کی تعمیر کے سلسلے میں ایک اور اہم پیشرفت کے طور پر دیر موٹروے کی تعمیر کیلئے اشتہار جاری کر دیا گیا ہے ۔ اس موٹروے کی تعمیر سے دیر، چترال اور باجوڑ کے عوام کو بہتر سفری سہولیات دستیاب ہوں گی اور علاقے میں ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
57753

سوات موٹروے فیز ٹو کی تعمیر کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل کے تحت ایگریمنٹ کی منظوری

سوات موٹروے فیز ٹو کی تعمیر کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل کے تحت ایگریمنٹ کی منظوری

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا حکومت نے فلیگ شپ پراجیکٹ سوات موٹروے فیز ٹو کی تعمیر کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل کے تحت کنسیشن ایگریمنٹ کے مسودے کی منظوری دے دی ہے ۔ یہ منظوری گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی خیبرپختونخوا کے اجلاس میں دی گئی ۔ صوبائی وزراءتیمور سلیم جھگڑا، فضل شکور ، معاون خصوصی ریاض خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کے علاوہ کمیٹی کے دیگر اراکین اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔

اجلا س کے شرکاءکو سوات موٹروے فیز ٹو منصوبے کی تعمیر کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ایگر یمنٹ کے مسودے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ کمیٹی نے مجوزہ مسودے میں دی گئی سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے کامیاب بڈر کے ساتھ معاہدے پر باضابطہ دستخط کرنے کی اجازت دی ۔ شرکاءکو مجوزہ معاہدے کی تفصیلات اور منصوبے کے اہم پہلوﺅں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 80 کلومیٹر طویل سوات موٹروے فیز ٹو منصوبہ چکدرہ انٹرچینج سے مدین فتح پور تک تعمیر کیا جائے گا۔ یہ موٹروے ابتدائی طور پر چار لینز پر مشتمل ہو گا تاہم مستقبل میں چھ لینز تک توسیع کی گنجائش موجود ہو گی ۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ چکدرہ سے فتح پور تک 9 انٹرچینجز تعمیر کئے جائیں گے جن میں چکدرہ انٹر چینج ، شموزئی انٹر چینج ، بری کوٹ انٹر چینج ، مینگورہ انٹر چینج ، کانجو انٹر چینج ، مالم جبہ۔یونیورسٹی آف سوات انٹر چینج، شیر پالم انٹر چینج ، مٹہ خوازہ خیلہ انٹر چینج اور مدین فتح پور انٹر چینج شامل ہیں۔ اس کے علاوہ منصوبے کے تحت دریائے سوات پر مختلف مقامات پر آٹھ پل تعمیر کئے جائیں گے ۔

اس موقع پر مزید بتایا گیا کہ مختلف مقامات پر چار ریسٹ ایریاز کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے جبکہ ضرورت کی بنیاد پر لنک ہائی ویز بھی تعمیر کی جائیں گی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تعمیر کیلئے مطلوبہ زمین کے حصول پر پیشرفت جاری ہے ۔ اب تک 48 کلومیٹر پر سیکشن فور لگا دیا گیا ہے اور مقررہ ٹائم لائن کے مطابق زمین کے حصول کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کو علاقے کی معاشی ترقی اور سیاحت و تجارت کے فروغ کیلئے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہاکہ منصوبے پر عملی کام کا بروقت اجراءترجیح ہونی چاہیئے جس کے لئے باقی ماندہ تمام لوازمات تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ منصوبے کی مجوزہ ٹائم لائن کے اندر تکمیل ممکن ہو سکے ۔

وزیراعلیٰ نے منصوبے کیلئے درکار زمین کا جلد سے جلد حصول ممکن بنانے سمیت ری سیٹلمنٹ اور کوریڈور کے احاطہ میں موجود یوٹیلیٹیز کو ہٹانے پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ منصوبے کی تعمیر میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیئے ۔ تمام سٹیک ہولڈرز اپنی ذمہ داریاں بروقت پوری کرنے کے پابند ہو ں گے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر دیر موٹروے منصوبے کا ایکسپریشن آف انٹرسٹ بھی بلا تاخیر جاری کرنے کی ہدایت کی ۔ اُنہوںنے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت کی کہ سوات موٹروے فیز ٹو کی تعمیر میں رہائشی آبادی اور زرعی زمینوں کے تحفظ کو ہر ممکن حد تک یقینی بنایا جائے ۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
57286

دیرموٹروے ودیگرمیگاترقیاتی منصوبوں بارے وزیراعلی کے زیر صدارت اجلاس

دیرموٹروے ودیگرمیگاترقیاتی منصوبوں بارے وزیراعلی کے زیر صدارت اجلاس

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبے میں مواصلات کے شعبے میں میگا ترقیاتی منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک اہم اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا، جس میں پشاور ڈی آئی خان موٹروے اور دیر موٹروے کے علاوہ دیگر منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کو ان منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 365 کلومیٹر طویل پشاور ڈی آئی خان موٹروے کے پی سی ون کی سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے منظوری ہو چکی ہے اور اس منصوبے کو سی پیک میں شامل کرنے کیلئے آئندہ جے سی سی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرلیا گیا ہے ۔

مزید بتایا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بھی اس منصوبے پر عملدرآمد کے لئے کمرشل اور فنانشل فیزیبلیٹی کی منظوری ہو چکی ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری مواصلات اعجاز انصاری،ایم ڈی پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو دیر موٹروے پر پیشرفت کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس منصوبے کے پی سی ون کی منظوری بھی سنٹر ل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے ہو چکی ہے ، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت منصوبے پر عملدرآمد کے لئے کمرشل اور فنانشل فیزبیلیٹی پر کام جاری ہے۔

سوات موٹروے فیزٹو کے حوالے سے بتایا گیا کہ منصوبے کیلئے زمین کی خریداری کے ساتھ ساتھ منصوبے کے دیگر پہلوﺅں پر بھی پیشرفت جاری ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ان تمام منصوبوں کو صوبے کی مستقل بنیادوں پر ترقی اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ان منصوبوں کو بروقت شروع کرنے کیلئے سنجیدہ ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف لوگوں کومعیاری سفری سہولیات میسر ہونگی بلکہ صوبے میں تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی یہ منصوبے معاون ثابت ہو ں گے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مواصلات کے شعبے کے ان اہم مجوزہ منصوبوں پر مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان منصوبوں پر بروقت عملی کام کا آغاز کیا جاسکے۔

نوجوان ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور ملکی تعمیر وترقی میں نوجوان طبقے کا کردار اورا ہمیت مسلمہ ہے ۔وزیراعلی

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے نوجوانوں کو قوم کا سرمایہ اور قوم کے روشن مستقبل کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور ملکی تعمیر وترقی میں نوجوان طبقے کا کردار اورا ہمیت مسلمہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں نوجوان طبقے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اُن کی فلاح و بہبود ہماری حکومت کے منشور کا ایک ہم حصہ ہے ۔


نوجوانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے یہاں سے جاری اپنے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہاہے کہ عالمی سطح پر آج کا دن نوجوانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد قومی زندگی اور ملکی تعمیرو ترقی میں نوجوانوں کی اہمیت کا اعتراف کرنا اور اس حوالے سے شعور اُجاگر کرنا ہے ۔ محمود خان نے کہاہے ہمارے ملک کی آدھی سے بھی زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس اعتبار سے نوجوان طبقے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ ہمارے نوجوان بھر پور صلاحیتوں کے مالک ہیں اور اُن کی صلاحیتوں سے صحیح طریقے سے استفادہ کرکے پاکستان کو دنیا کا ایک عظیم اور ترقی یافتہ ملک بنایا جاسکتا ہے۔


انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ملکی سطح پر وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے نوجوانوں کی اس اہمیت کے پیش نظر اُنہیں قومی دہارے میں آگے لانے اور اُن کی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نوجوانوں کو مکمل طور پر بااختیار بنانے کیلئے نہ صرف پر عزم ہے بلکہ اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی اُٹھارہی ہے ۔

نوجوانوں کی فلاح و بہبود کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات کے حوالے سے اُنہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت شروع دن سے نوجوانوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور پارٹی قائد عمران خان کے وژن کے مطابق نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے عملی طور پر گامزن ہے ۔ صوبائی حکومت کی طرف سے نوجوانوں کوبا اختیار بنانے کیلئے خیبرپختونخوا کی پہلی یوتھ پالیسی تشکیل دی گئی جس کا مقصد نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے ایک سازگار ماحول اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے ۔

صوبے میں جوان مراکز کا قیام عمل میں لایاجا رہا ہے تاکہ حکومت کی ترجیحات کے مطابق عملی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے ۔ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے نہ صرف نصاب تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں بلکہ نوجوانوں کی فنی اور پیشہ وارانہ تربیت کیلئے ادارے بھی قائم کئے گئے ۔ نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل بنانے کیلئے معالی معاونت کے پروگرام کا اجراءکیا گیا جس کے تحت بلاسود قرضے فراہم کئے گئے ۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
51362