چترال کے سیاحتی علاقے گرم چشمہ میں ایک معمر برفانی چیتے کی ہلاکت، ابتدائی رپورٹ کے مطابق طبعی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ سنولیپرڈ فاونڈیشن
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) ایک برفانی چیتاگرم چشمہ کے نواحی گاؤں واخت میں مرد ہ حالت میں پایا گیا جس کی ڈیڈ باڈی کو محکمہ وائلڈ لائف اورسنولیپرڈ فاونڈیشن کے اہلکاروں نے چترال شہر منتقل کردیا جہاں سول وٹرنری ہسپتال میں اس کا پوسٹ مارٹم کیاگیا۔ ڈسٹرکٹ ڈائرکٹر محکمہ حیوانات لویر چترال ڈاکٹر غلام محمد نے بتایاکہ چیتے کی موت گولی لگنے سے نہیں ہوئی ہے جبکہ موت کی وجہ ابتدائی طور پر غلط خوراک کھانے کی وجہ سے نظر آتی ہے۔ ان کا کہناتھاکہ درست خوراک نہ کھانے کی وجہ ان کاپیٹ خراب ہوگیاتھا جبکہ جسم کے کسی حصے سے ضرب یا گولی کے نشانات نہیں ملے۔ ان کے مطابق اس نر چیتے کی عمر 15سال کے لگ بھگ ہے جبکہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ایک ذمہ دار کے مطابق اس کی عمر سات اور آٹھ سال کے درمیان ہے۔ وائلڈ لائف ڈویژن چترال کے رینج افیسر شفیق احمد اور سنو لیپر ڈفاونڈیشن کے ریجنل پروگرام منیجر جمیع شیرازی کو اطلاع ملنے پر واخت گاؤں پہنچ کر ڈیڈ باڈی کو چترال منتقل کیا اور پر اسرار موت کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کی۔
دریں اثنا سنو لیپرڈ فاونڈیشن کیطر ف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چترال کے سیاحتی علاقے گرم چشمہ میں ایک معمر برفانی چیتے کی طبعی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ خیبرپختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن (SLF) کی مشترکہ فیلڈ انکوائری اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق برفانی چیتا قدرتی وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوا اور اس واقعے میں کسی قسم کی انسانی مداخلت، شکار یا زہر دینے کے شواہد نہیں ملے۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق 19 جنوری 2026 کو گرم چشمہ کے نواحی گاؤں وخت کے بالائی جنگلاتی علاقے میں ایک نر برفانی چیتے کی لاش دریافت ہوئی تھی۔ بعد ازاں تجربہ کار ویٹرنری ڈاکٹر کی جانب سے کیے گئے پوسٹ مارٹم میں انکشاف ہوا کہ تقریباً 12 سالہ برفانی چیتا شدید اسہال، پانی کی کمی، بڑھاپے اور طویل عرصے تک خوراک کی قلت کے باعث ہلاک ہوا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جانور کے جسم پر کسی قسم کے تشدد، پھندے یا فائرنگ کے نشانات موجود نہیں تھے۔
ماہرینِ جنگلی حیات کے مطابق دنیا کے بیشتر حصوں میں بڑے گوشت خور جانور عموماً انسانی تصادم کے باعث کم عمری میں ہلاک ہو جاتے ہیں، ایسے میں کسی برفانی چیتے کا طبعی موت مرنا ایک مثبت ماحولیاتی اشارہ ہے جو مقامی آبادی اور جنگلی حیات کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں گرم چشمہ کے بعض علاقوں میں برفانی چیتوں کی آبادی کے قریب نقل و حرکت کے باعث مقامی افراد میں تشویش پائی جا رہی تھی، جس پر خیبرپختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن نے فوری طور پر آگاہی مہم شروع کی، عوام کو اعتماد میں لیا اور مویشیوں کے تحفظ سے متعلق احتیاطی اقدامات متعارف کرائے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مقامی لوگوں نے مویشیوں کے نقصانات پر صرف معاوضے کے مطالبے کے بجائے مستقل اور پائیدار حل پر زور دیا۔ اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن نے مویشیوں کی ویکسینیشن کا عمل شروع کیا اور محفوظ باڑوں (Predator-proof Corrals)، مویشی انشورنس اسکیموں اور تحفظِ فطرت سے متعلق تعلیمی پروگراموں کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
ڈویژنل فاریسٹ آفیسر (وائلڈ لائف) چترال فاروق نبی نے بتایا کہ واقعے کے بعد وائلڈ لائف ٹیموں نے موقع پر جا کر مکمل جانچ کی اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے شواہد نہیں ملے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ مسلسل نگرانی، کمیونٹی تعاون اور شراکت دار اداروں کے ساتھ قریبی رابطے کا نتیجہ ہے۔
اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد علی نواز کا کہنا ہے کہ ایسے علاقوں میں جہاں عام طور پر انسانی عوامل کے باعث برفانی چیتوں کو نقصان پہنچتا ہے، وہاں کسی برفانی چیتے کی طبعی موت بقائے باہمی کی کامیابی کی علامت ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ کمیونٹی پر مبنی تحفظ کے اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
وائلڈ لائف حکام اور اسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ چترال میں برفانی چیتے کے مسکن کے تحفظ، کمیونٹی آگاہی، تنازعات کے حل اور نگرانی کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ انسان اور جنگلی حیات کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
