پشاور میں تاریخی فری اسٹائل پولو مقابلہ: گلگت بلتستان کی ٹیم نے چترال کو تین کے مقابلے میں سات گول سے شکست دیکرٹائٹل اپنے نام کرلیا
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) پشاور میں چترال پولو ٹیم اور گلگت بلتستان کی پولو ٹیموں کے درمیان فری اسٹائل پولو کا شاندار مقابلہ منعقد ہوا، جس نے پولو شائقین کو جوش و خروش سے بھر دیا۔ اس تاریخی میچ کو دیکھنے کے لیے چترال اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے پولو کے شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
میچ کا پہلا ہاف انتہائی سخت اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد تین تین گول سے برابر رہا، تاہم دوسرے ہاف میں گلگت بلتستان کی ٹیم نے میدان میں مکمل برتری حاصل کر لی۔ گلگت کی ٹیم نے یکے بعد دیگرے چار مزید گول اسکور کیے اور میچ کے اختتام تک اپنی برتری برقرار رکھی، جبکہ چترال کی ٹیم دوسرے ہاف میں کوئی بھی گول اسکور کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
خیبر پولو فیسٹیول کے فائنل کے مہمانِ خصوصی کمانڈر الیون کور پشاور تھے، جنہوں نے میچ کے اختتام پر کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ میچ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شائقین پولو صبح سات بجے سے ہی گراؤنڈ میں داخل ہونے کے لیے قطاروں میں کھڑے رہے، جبکہ سینکڑوں تماشائی مقررہ وقت پر گراؤنڈ میں داخل نہ ہو سکے۔
پندرہ سال بعد گلگت بلتستان کی ٹیم نے چترال کو شکست دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی، جس پر گلگت بلتستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور نوجوانوں نے بھرپور جشن منایا۔ گلگت پولو ٹیم کے کھلاڑیوں اور شائقین نے اس شاندار کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ سال شندور پولو فیسٹیول میں بھی اسی جذبے اور عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور کامیابی اپنے نام کریں گے۔
دوسری جانب چترال پولو ایسوسی ایشن کے صدر اور لیجنڈری پولو کھلاڑی شہزادہ سکندرالملک کے بیان پر تنازع کھڑا ہو گیا، جنہوں نے گلگت کی اس فتح کو گلگت بلتستان کی نہیں بلکہ این ایل آئی کے نام اور شکست کو چترال کی بجائے چترال سکاوٹس کے نام سے منسوب کیا۔ اس بیان پر گلگت بلتستان کے پولو شائقین اور منتظمین نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہزادہ سکندرالملک کو چیلنج دیا ہے کہ وہ تین دن تک پشاور میں انتظار کریں گے اور وہ اپنی ٹیم کے ساتھ میدان میں اتر کر مقابلہ کریں۔
دریں اثنا نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ریٹائرڈ) یار محمد نے گلگت بلتستان پولو ٹیم کے کپتان شاہ اعظم اور پوری ٹیم کو خیبر پولو فیسٹیول کا فائنل جیتنے پر خصوصی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ٹیم نے ایک تاریخی فتح حاصل کی ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو نئے سال کا بہترین تحفہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ گلگت بلتستان کی پولو ٹیم کامیابیوں کا یہ سلسلہ جاری رکھتے ہوئے شندور پولو فیسٹیول میں بھی فتح اپنے نام کرے گی۔
