شمالی علاقوں میں 06 اور 07 مارچ اور 09 سے 11 مارچ کے دوران بارش/تیز ہواؤں اور گرج چمک کا امکان ، محکمہ موسمیات
اسلام آباد ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ملک کےمیدانی علاقوں میں موسم خشک اور درجہ حرارت میں اضافے کا رجحان آئندہ چند دنوں تک جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ شمالی علاقوں میں 06 اور 07 مارچ اور 09 سے 11 مارچ کے دوران بارش/تیز ہواؤں اور گرج چمک کا امکان ہے،
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علا قوں میں غیر معمولی درجہ حرارت اور خشک موسم کی صورتحال جاری ہے۔ تازہ ترین موسمی حالات کے مطابق ملک کے میدانی علاقوں میں کسی قابلِ ذکر بارش کا امکان نہیں، جبکہ آئندہ ہفتے ملک بھر میں دن کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کی توقع ہے۔
خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں، اسلام آباد، پنجاب اور شمالی بلوچستان میں دن کا درجہ حرارت معمول سے 06 سے 08 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں بھی درجہ حرارت معمول سے 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ اس دوران رات کے درجہ حرارت میں بھی اضافے کا امکان ہے۔
گلگت بلتستان اور کشمیر: (دیامیر، استور، غذر، سکردو، ہنزہ، گلگت، گوانچے، شگر)،کشمیر (وادی نیلم، مظفرآباد، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی، سدھانوتی، کوٹلی، بھمبر، میرپور) میں 09 (رات) اور10 فروری کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور برفباری متوقع ہے ۔ اس دوران کشمیر میں چند مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے۔
06 ، 07 مارچ اور 09 سے 11 مارچ کے دوران چترال، دیر، سوات، کرم، خیبر، مہمند، کوہستان، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، مالاکنڈ ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں مطلع جزوی ابر آلود سے ابر آلود رہنے کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش/ تیز ہواؤں اور گرج چمک کا امکان ہے۔
اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، مری، گلیات اور گردونواح میں 10 اور 11 مارچ کو بارش/ تیز ہواؤں اور گرج چمک کی توقع ہے۔
ممکنہ اثرات اور احتیاطی تدابیر
طویل خشک موسم کے باعث آبی وسائل اور موسمی فصلوں خصوصاً بارانی علاقوں میں گندم کی فصل پرپا نی کی کمی کا شدید دباؤ ۔
درجہ حرارت میں اضافے کا رجحان ، تبخیر کی شرح اور پانی کی طلب میں اضافہ کا باعث ہے ۔
جہاں ممکن ہو بروقت آبپاشی کو یقینی بنایا جائے اور پانی کا دانشمندانہ استعمال کیا جائے۔
کاشتکاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ موجودہ موسمی حالات کے مطابق اپنی فصلوں کا انتظام کریں۔
عوام الناس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی جا تی ہے کہ وہ آبی وسائل کے مؤثر انتظام اور بارانی علاقوں میں زراعت پر ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

