Chitral Times

May 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مشرقی اُفق ۔ عید الفطر2024 مسلمانوں کاپُروقار سنجیدہ تہوار! ۔ میرافسر امان

شیئر کریں:

مشرقی اُفق ۔ عید الفطر2024 مسلمانوں کاپُروقار سنجیدہ تہوار! ۔ میرافسر امان

عیدالفطر ماہ رمضان کے ۰۳ روزوں کے بعد شکرانے کے طور پر مسلمان مناتے ہیں۔ اس موقعے پر عید گاہوں اور شہر کی بڑی بڑی مساجد میں مسلمان۲ /رکعت نماز عید الفطر ادا کرتے ہیں۔اپنے غریب مسلمان بھائیوں میں فطرانے کے پیسے تقسیم کرتے ہیں تاکہ وہ اور ان کے بچے بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔رمضان میں مسلمان اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اپنے گناہوں کو معاف کرانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں۔ طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش میں مصروف رہتے ہیں۔ اللہ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ روزوں کا ثواب میں خود دوں گا۔ باقی نیکیوں کے لیے اجر تو ۰۷ گنا تک کہا گیا ہے مگر رمضان میں اللہ نے اَجر خود دینے کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تو بے حساب دیتا ہے۔ پھر بھی اس کے خزانے میں کمی نہیں ہوتی۔ اِس لیے مسلمان رمضان میں خوب دل لگا کر عبادت کرتے ہیں۔ قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں زیادہ سے زیاد ہ نوافل ادا کرتے ہیں۔ راتوں کو جاگ کر تہجد پڑھتے ہیں۔ نفلی عبادت تراویح کے لیے مساجد ماشاء اللہ بھر جاتی ہیں۔ جس میں قرآن کے حافظ صاحبان قرآن شریف سناتے ہیں۔انفرادی طور پر ہر مسلمان قرآن شریف کی تلاوت کرتاہے۔

 

مساجد میں قرآن کی تلاوت کی آواز سن کر بے ساختہ دل اللہ کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ بچے،نوجوان،بوڑھے، عورتیں قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں۔ ہر طرف نیکیوں کی ایک بہار ہوتی ہے۔ ہر سال یہ ایک قسم کا تربیتی کورس، جو ہر رمضان کے مہینے میں ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کی بستیوں میں نیکیوں کی بہار کا موسم ہوتا ہے۔ شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے دوسرا عشرہ مغفرت کا اور تیسرا عشرہ عذا ب ِجہنم سے نجات کا ہے۔اسلام کے جتنے بھی خوشی کے تہوار ہوتے ہیں وہ ایک پُرقار سنجیدہ اُمتِ مسلمہ کے شا یان شان ہیں۔ مسلمان اُس روز عید گاہوں اور شہر کی بڑی بڑی مساجد میں اکھٹے ہوتے ہیں۔ دو رکعت نماز عیدالفطر ادا کرتے ہیں۔ اللہ کے سامنے عاجزی سے گڑ گڑا کے دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ رمضان کے مقدس مہینے میں اگر عبادت میں کچھ کمی رہ گئی ہے تو معاف کر دی جائے۔ اے اللہ تو بڑا معاف کرنے والا ہے۔ ایک دوسرے کوعیدالفطر کی مبارک باد دیتے ہیں۔ روزوں کی مقبولیت کے لیے ایک دوسرے کو دعائیں دیتے ہیں۔ نماز کے بعد ایک دوسرے سے گلے مل کر معاف کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے ہیں اپنے اور رشتہ داروں کے بچوں میں عیدی تقسیم کرتے ہیں۔ لذید قسم کی سویاں اور دل پسند کھانے کھاتے ہیں۔ محبت،اخوت اور الفت کا موسم ہوتا ہے۔ بچے، نوجوان،بوڑھے نئے کپڑے پہنتے ہیں

 

ایک دوسرے میں تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے۔ پوری اسلامی دنیا کے ملکوں میں امت ِمسلمہ کے دو ارب سے زائد مسلمان ایک جیسا پُر وقار سنجیدہ عیدالفطر کا دن مناتے ہیں۔ وہ امتِ مسلمہ جسے اللہ نے خیر امت بنایا ہے۔ جو درمیانے راستے پر چلنے والی ہے۔ اس امت کو فریضہ شہادتِ حق کے لیے اُٹھایا گیا ہے۔ یہ دنیا کی دوسری قوموں پر شہادت کا فریضہ ادا کرے گی۔ یہ امت امر با المعروف و نہی المنکر پر عمل کرے گی۔ یعنی نیکی کے کاموں میں تعاون اور بُرائی کے کاموں سے منع کرے گی اس لیے اس کے شایان شان یہ بات ہے کہ اس کے سارے تہوار پُرقار سنجیدہ ہوں جیسے عیدالفطر ہے۔ اس موقعے پر دوسر ے مذاہب کے تہواروں کی طرح کے غل غپاڑہ،آتش بازی،شراب و کباب کی محفلیں اور غٖیر اخلاقی حرکتیں نہیں ہوتیں۔ بلکہ امتِ مسلمہ عیدالفطرایک بارعب،پُروقار سنجیدہ طریقے سے مناتی ہے۔مسلمان عیدالفطر کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ اور شہر کی بڑی بڑی مساجد میں ایک راستے جاتے ہیں۔ سنت کے مطابق واپس دوسرے راستے سے گھر آتے ہیں۔اس سے مسلمانوں کی شان شوکت اور طاقت کے مظہر کی نشان دہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر زکوٰۃ کی ادائیگی فرض کی ہے جس مسلمان کے پاس مال ایک سال تک جمع رہے وہ اس مال سے ڈھائی فی صد زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند ہے۔ یہ ادائیگی مسلمان رمضا ن کے مہینے میں اپنے غریب بھائیوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ وہ اور ان کے بچے بھی عیدالفطر کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں زکوٰۃ کی ۸ مدَات قائم کر دی ہیں

 

ان مدَوں میں زکوٰۃ خرچ کی جاتی ہے۔۱۔ فُقرا:۔ زکوٰۃ فقیروں کے لیے جو تنگ دست ہوں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی بڑی مشکل سے گزار رہے ہوں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلاتے ہوں۔ ۲۔مساکین:۔مساکین وہ ہیں جو اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔ یہ بہت ہی تنگ دست لوگ ہیں جو اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتے کمانے کے قابل ہوں مگر روزگار نہ ملتا ہو۔۳۔ عا ملین علیہا:۔یعنی زکوٰۃ کا مصرف زکوٰۃ وصول کرنے پر جو مامورہوں۔ اسلامی حکومت ان کو جو کچھ تنخواہ کی مد میں دے۔۴۔موٗلفۃالقلوب:۔ زکوٰۃ اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہوں یعنی جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہوں یا جنکی اسلام دشمنی کو کم کرنے میں مدد کی ضرورت ہو۔۵۔ فی الرً قاب:۔اس سے مراد جو شخص غلام ہواسکو آ زاد کرانے میں یعنی غلاموں کی آزادی کے لیے زکوٰۃ کا استعمال جائز ہے۔

 

آجکل جیل کے اندر قیدحقدار قیدیوں کی رہائی کے لیے زکوٰۃ استعمال کیا جا سکتی ہے۔۶۔ الغارمین:۔اس سے مراد جو لوگ قرضدار ہو ں مگر اپنا قرض ادا نہ کر سکتے ہوں ان کا قرض ادا کرنے کے لیے زکوۃ استعمال کی جا سکتی ہے۔ ۷۔فی سبیل اللہ:۔اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے یعنی جہاد کے لیے زکوٰۃ استعمال کی جا سکتی ہے کوئی شخص مال دار ہے مگر اللہ کے دین کو قائم کرنے میں لگا ہوا ہے اس کو بھی ز کوٰ ۃ دی جا سکتی ہے۔۸۔ ابنُ السّبیل:۔ اگر کوئی شخص مسافر ہے اور اسے پیسے کی ضرورت ہے اس کی زکوٰۃ میں سے مدد کی جاسکتی ہے چاہے وہ اپنے ملک میں ما لدار ہی کیوں نہ ہو۔ فطرانے اور زکوٰۃ کی تقسیم کے ساتھ ساتھ سرمضان میں مال دار حضرت اور اسلامی این جی اوزغریبوں، مسافروں اور عام لوگوں کے لیے اجتماعی افطار ی کا اہتمام کرتی ہیں۔مسلمان اپنے اپنے گھروں میں ایک دوسرے کو بُلا کر افطار کا اہتمام کرتے ہیں۔رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف میں بیٹھتے ہیں۔ ان تمام عبادات کو ادا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کہتا ہے کہ اب عید الفطر کی خوشیاں مناؤ۔تم نے پورے رمضان کے مہینے میں اپنے رب کو راضی کرنے کی عام مہینوں سے زیادہ محنت کی ہے۔زکوٰۃ مسلمانوں میں معاشی توازن کے لیے بہت ہی معاون ہے ایک حدیث کا مفہوم ہے۔رسولؐاللہ نے فرمایا تم میری لائی ہوئی شریعت کونافذ کردو تم دیکھو گے کہ تم اپنے ہاتھوں میں زکوٰۃ تقسیم کرنے کے لیے نکلو گے مگر تمہیں کوئی غریب نہیں ملے گا۔ یہی ہوا دنیا نے دیکھا جب مدینے میں اسلامی فلاحی ریاست قائم ہوئی تو کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ تھا سب کو اللہ نے مال دار بنا دیا تھا۔

 

اگر آج بھی اسلامی ملکوں میں صدقِ دل سے اسلامی نظام زندگی رائج کر دیا جائے تو مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست جیسے نتائج نکل سکتے ہیں امن و امان قائم ہو سکتاہے ایک دوسرے کا احترام اور قدر کا ماحول قائم ہو سکتا ہے بیرونی قرضوں اور سودی نظامِ معیشت سے مسلمان ملکوں کی جان چھوٹ سکتی ہے ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے رحمت العالمین بنا کر بھیجا ہے وہ پوری انسانیت کے لیے اللہ کے رسولؐ ہیں۔ کاش یہودی،عیسائی اور دنیا کے تمام مشرکین رسولؐ کی تعلیمات کو اپنالیں تو دنیا جو اُن ہی کی وجہ سے دکھوں میں مبتلا ہے امن کا گہوارہ بن سکتی ہے تمام مصیبتیں ختم ہوسکتی ہیں۔مگر اسدور میں دنیا کے یہود ونصارا جمع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ75 سالوں سے مظلوم فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو فلسطین سے نکال دیا ہے۔ ان کی زمینیوں پر قبضہ کرلیا ہے۔غزہ میں مسلمانوں کو قید کیا ہوا تھا۔ بلآگزشتہ اکتوبر کو غزہ کے مسلمانوں نے قید سے نکل کر یہود پر زمین، ہوا اور سمندر سے حملہ کر دیا۔ ان ناقابل شکست ہونے کے غرور کو توڑ دیا۔ ان کے فوجیوں اور سولین کو حماس کے مجائدین قید کر لیا۔

 

یہود نے اس کا بدلہ حماس کے مجائدین سے لینے کے بجائے غزہ کے عام آبادی پر ہوئی اور زمینی حملہ کیا۔ اب تک پینتیس ہزار شہریوں کو جن میں بچوں اور عورتوں کی تعداد زیادہ پے شہید کر دیا۔ سوا لاھ سے زیادہ مسلمان زخمی اور ملبے تلے دنھے ہوئے ہیں۔ مساجد، ہسپتال اور رہائشی عمارتیں نوے فی صد زمین بوس ہو چکی ہے۔ اکتوبر سے ہر روز بمباری جاری کی ہو ئی ہے۔ اللہ نے غزہ کے مجائدین کی مدد کی اور آج تک ساری دنیا کے یہود اور عیسائی مل کر اپنے قیدیوں کو حماس کی جیل سے رہا نہیں کروا سکے۔اب مصر میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ غزہ سے اسرائیل نے فوج نکال لی ہے۔ ساری دنیا کے انصاف پسند عوام نے اسرائیل کے خلاف اپنے ملکوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف مظاہرے کیے۔ نجوبی افریقہ نے اراسئیل کے کلاف جنگی جراہم پر مقدمہ قائم کیا۔ بیان القوامی عدالت نے اسرائیل کے خلاف فیصلہ دی۔ سلامتی کونسل نے جنگ بندی کی قراداد پاس کی۔ اس اسرائیل پر اقوام متحدہ اپنے قانون کے مطابق پانبدی لگائے گی۔ اس عرسہ میں او آئی سی اورمسلمان حکمران امریکہ کے خوف سے فلسطینیوں کی کوئی مدد نہیں کی۔ صرف زبانی جمع خرچ والی بات ہے۔اگر مسلمان حکومتیں خاس کر جن پڑوسی ملکوں اردن عرواق مصر اور شام کو چاہیے کی اس موقعہ پر اسرائیل پر حملہ کر ایک طرف حماس کی مدد کرتے اور اپنے اپنے مقبوضہ علاقے آزاد کراتے۔ اسرائیل کو تیل اور گیس کی سپلائی مسلمان ملکوں سے ہو رہی ہے۔ یمن کے حوثی قبائل نے ریڈ سی میں اپنی سمندری حدود سے سے گزرنے والے اسرائیل، امریکا اور برطانیہ کے بحری جہازوں پر حملے کر اسرائیل کی تجارت ختم کر دی ہے۔اس سال ان حالات میں عید الفطر آئی ہے۔ ہمیں فلسطینیوں کے مدد کرتے ہوئے سادگی سے عید منانا چاہیے اور مسلمان حکمرانوں عملی مدد پر زور ڈالنا چاہیے۔ عید کی نماز میں فلسطینیوں اور مسجد اقصی کی آزادی کی دعائیں مانگنی چاہیئں۔

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
87394